Baaghi TV

Tag: پی سی بی

  • چیمپئنر ٹرافی،پاکستان کا مائنس انڈیا فارمولے پر غور

    چیمپئنر ٹرافی،پاکستان کا مائنس انڈیا فارمولے پر غور

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کے لیے اپنی ٹیم نہ بھیجنے کے بھارتی فیصلے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے مائنس انڈیا فارمولے پر غور شروع کیا ہے

    پی سی بی نے اس ضمن میں بھارت کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، پی سی بی نے اپنے مؤقف میں 1996 اور 2003 کے ورلڈ کپ کی مثال بھی دینے کا فیصلہ کیا ہے،1996 میں دو ممالک ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا نے سری لنکا میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، 2003 میں کینیا اور انگلینڈ نے زمبابوے میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا، جس پر آئی سی سی نے کھیلنے سے انکار کرنے والی ٹیموں کے میچز میں حریف ٹیموں کو پوائنٹس دے دیے تھے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئی سی سی میں مؤقف ہو گا کہ ” ماضی میں ٹیموں کے نہ آنے پر وینیو تبدیل نہیں کیا گیا، ان مثالوں کی بنیاد پر پاکستان ایک سخت مؤقف اپنائے گا”،اسی بنیاد پر پاکستان کی جانب سے مائنس انڈیا چیمپئنز ٹرافی کی تجویز بھی دی جا سکتی ہے، پی سی بی آئی سی سی میں اس بات پر زور دے گا کہ بھارت تمام مؤقف تحریری طور پر پیش کرے۔

    قبل ازیں پاکستان اگلے ایک دو روز میں حکومتی گائیڈ لائنز کی روشنی میں آئی سی سی کو خط لکھے گا جس کے لیے بورڈ نے قانونی مشاورت بھی مکمل کر لی ہے، پی سی بی آئی سی سی سے بھارت کے پاکستان نہ آنے کی ٹھوس وجوہات کا پوچھے گا، پی سی بی حکومتی تجویز کے مطابق سخت ترین جواب دے گا اور اپنا مؤقف پیش کرے گا،بھارتی بورڈ نے زبانی آئی سی سی کو چیمپئینز ٹرافی کے لیے پاکستان نہ آنے کا بتایا، پی سی بی مطالبہ کرے گا کہ بھارتی بورڈ انکار کی وجہ لکھ کر دے، پاکستان کرکٹ بورڈ دیگر بورڈز سے بھی رابطے کر کے اپنا مؤقف سامنے رکھے گا۔

    چیمپئنز ٹرافی،بھارت کا انکار،پاکستان کیا کرے گا؟

    چیمپئینز ٹرافی:ایونٹ کی منسوخی کی اطلاعات پر پی سی بی کا موقف سامنے آ گیا

    چیمپئنزٹرافی: بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما کا بیان سامنے آگیا

    چیمپئنز ٹرافی،بھارت کا پاکستان آنے سے انکار،محسن نقوی کا ردعمل

    پاکستان نے کئی سالوں بعد اپنے میدانوں میں عالمی کرکٹ کو واپس لانے کی کوشش کی ہے اور اس طرح کے فیصلے پاکستان کے لیے ایک چیلنج بن سکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے یہ وقت بہت اہم ہے کیونکہ ان کے لیے اپنی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنا اور عالمی کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کو ایک محفوظ مقام فراہم کرنا ضروری ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل قذافی سٹیڈیم کی تکمیل کا چیلنج پورا کرنا ہے،محسن نقوی

    آئی سی سی اجلاس: چیمپئنز ٹرافی 2025 کی تیاریوں پر اطمینان، پاکستان دورے کی دعوت

    چیمپئنز ٹرافی:بھارتی ٹیم میچ کھیلنے کے بعد پاکستان میں رات نہیں گزارے گی

    چیمپئنز ٹرافی 2025ء : قذافی سٹیڈیم کی گنجائش میں 160 فیصد اضافہ

    چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہی ہو گی،محسن نقوی

    پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں،پاکستان نے کروڑوں روپے خرچ کر کے گراؤنڈ کی مرمت کا منصوبہ بنایا تھا،پی سی بی نے بھی اس کے لیے کام شروع کر دیا ہے

    چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم انڈیا اور پاکستان گروپ اے میں ہیں۔ اس کے ساتھ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش بھی اس گروپ میں شامل ہیں۔ گروپ بی میں انگلینڈ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور افغانستان کو رکھا گیا ہے

    آخری مرتبہ چیمپئنز ٹرافی 2017 میں کھیلی گئی تھی جو پاکستان نے بھارت کو شکست دیکر جیتی تھی،بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ بھارتی حکومت کرے گی، چیمپئنز ٹرافی کے لیے ہائبرڈ ماڈل پر کام ہو رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایشیا کپ کی طرح بھارت اپنے میچز دبئی یا پھر متحدہ عرب امارات میں کھیلے۔

    دوسری جانب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پاکستان کو ملی ہے اور پورا ٹورنامنٹ پاکستان میں ہی کھیلا جائے گا، 

    محسن نقوی سے سابق کرکٹر کی ملاقات، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی پر گفتگو

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

  • چیمپئنز ٹرافی،بھارت کا انکار،پاکستان کیا کرے گا؟

    چیمپئنز ٹرافی،بھارت کا انکار،پاکستان کیا کرے گا؟

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے بھارتی کرکٹ بورڈ کے پاکستان آنے سے انکار کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟

    ذرائع کے مطابق، بھارتی کرکٹ بورڈ کے انکار کے بعد چیمپئنز ٹرافی کے تنازعہ کو پہلے آئی سی سی کی بورڈ میٹنگ میں زیر بحث لایا جائے گا، آئی سی سی کی بورڈ میٹنگ میں فیصلے کے بعد پاکستان اور بھارت میں سے کوئی بھی فریق اس تنازعہ کے حل کے لیے تنازعہ حل کمیٹی میں جا سکتا ہےذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو عالمی ثالثی عدالت میں لے جانے کا آپشن صرف اس صورت میں استعمال ہو سکتا ہے جب آئی سی سی کے متعلقہ فورمز پر کوئی فیصلہ کیا جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے قبل تمام معاملات کرکٹ کے عالمی فورم پر ہی طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔پی سی بی کے ابتدائی ردعمل کے مطابق، آئی سی سی کو جواب دینے سے پہلے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

    یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے میدان پر موجود کشیدگی اور تنازعات ایک بار پھر منظر عام پر آ گئے ہیں۔ آئی سی سی کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح اس تنازعے کو حل کرتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف کرکٹ کی عالمی سیاست متاثر ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین کی امیدوں پر بھی اثر پڑے گا۔ اگر معاملہ عالمی ثالثی عدالت تک پہنچتا ہے تو اس سے کرکٹ کے کھیل کی ساکھ پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دونوں بورڈز کو اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے جلد اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ کھیل کی بہتری اور عالمی سطح پر امن کا پیغام دیا جا سکے۔

  • چیمپئینز ٹرافی:ایونٹ کی منسوخی کی اطلاعات پر  پی سی بی کا موقف سامنے آ گیا

    چیمپئینز ٹرافی:ایونٹ کی منسوخی کی اطلاعات پر پی سی بی کا موقف سامنے آ گیا

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکام کا آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کا شیڈول جاری کرنے کے بارے میں ایونٹ کی منسوخی کی اطلاعات پر موقف سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی : پی سی بی حکام کا موقف ہے کہ 11 نومبر کو لاہور میں حتمی شیڈول کے اعلان کا کوئی پروگرام تھا ہی نہیں اور ہی اس کا کوئی اعلان کیا گیا تھا، ایونٹ کا پلان ہی نہیں تھا تو منسوخ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میڈیا میں آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کے شیڈول کے اعلان کی منسوخی پر ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واضح کیا کہ آئی سی سی کی جانب سے ایسا کوئی ایونٹ ترتیب ہی نہیں دیا گیا تھا۔

    بورڈ کی جانب ذرائع نے مزید کہا کہ اگر ایسا کوئی پروگرام فائنل ہوتا تو پی سی بی سے ضرور مشاورت کی جاتی اور پی سی بی ہی اس کا انتظام کرتا، ہوسکتا ہے کہ کسی موقع پر ایسی کوئی بات زیر غور لائی گئی ہو لیکن ایسا کوئی ایونٹ فائنل نہیں ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ چیمپئنز ٹرافی فروری 2025 میں پاکستان میں شیڈول ہے تاہم ابھی تک بھارتی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں شرکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے جبکہ میڈیا رپورٹس سے خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ انڈین ٹیم پاکستان نہیں آئے گی۔

  • سمیر احمد سی او او پی سی بی، سلمان نصیر چیف ایگزیکٹو پی ایس ایل مقرر

    سمیر احمد سی او او پی سی بی، سلمان نصیر چیف ایگزیکٹو پی ایس ایل مقرر

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے گورننگ بورڈ نے نئے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی تجویز پر سید سمیر احمد کے نام کی منظوری دی گئی ہے۔سلمان نصیر کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا ہے اور وہ پی سی بی کے چیئرمین ایڈوائزر بھی ہوں گے، سید سمیر احمد نے پی سی بی میں اپنے نئے عہدے پر سی او او کے فرائض سنبھال لیے ہیں۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سمیر احمد سید کو بورڈ آف گورنرز کے 75ویں اجلاس میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) کے طور پر تقرری کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ اجلاس ہفتہ کی دوپہر نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔سمیر احمد سید ایک تجربہ کار سول سرونٹ ہیں جن کے پاس وسیع انتظامی تجربہ ہے۔ انہوں نے حال ہی میں وزیراعظم آفس میں جوائنٹ سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ سمیر احمد سید نے سلمان نصیر کی جگہ چیف آپریٹنگ آفیسر کا عہدہ سنبھالا ہے، جنہوں پی سی بی کے چیئرمین کے مشیر اور ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ سلمان نصیر نے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر اپنے پانچ سالہ عہدے کی تکمیل کے بعد دوبارہ معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو فروری 2025 میں مکمل ہو گا۔

    پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے سمیر احمد سید کا خیرمقدم کرتے ہوئے سلمان نصیر کی خدمات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا،”سمیراحمد ایک بہترین پیشہ ور ہیں جن کے پاس انتظامی مہارت اور گہری صنعت کا علم ہے۔ ہم انہیں پی سی بی کے خاندان میں خوش آمدید کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ان کی قیادت میں ہم اپنی انتظامی ساختوں کو مزید مضبوط اور بہتر کریں گے، اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی جانب بڑھیں گے جس کا مقصد ایک اعلیٰ کارکردگی والا ادارہ بننا ہے۔

    "سلمان نصیر نے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر شاندار قیادت فراہم کی اور ان کی خدمات انتہائی قیمتی رہیں۔ ان کے تجربے اور بصیرت نے پی سی بی کو ایک اثاثہ فراہم کیا ہے۔ چونکہ ہمارا منصوبہ پی ایس ایل کو ایک خودمختار ادارہ کے طور پر قائم کرنا اور 2026 میں دو اضافی ٹیموں کے ساتھ لیگ کو توسیع دینا ہے، ہم نے انہیں پی ایس ایل کا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا ہے۔ وہ پی سی بی کے چیئرمین کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے، تاکہ ان کی مہارت ہماری اسٹریٹجک منصوبوں کی رہنمائی کرے۔”

    سمیر احمد سید نے اپنی تقرر ی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کرکٹ کا ایک طویل المدتی پیروکار اور حمایتی ہونے کے ناطے، یہ میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ میں اس متحرک تنظیم میں چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر شامل ہو رہا ہوں، خاص طور پر ان اہم اور دلچسپ لمحوں میں۔ میں پی سی بی کے چیئرمین اور بورڈ آف گورنرز کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔ اپنے ساتھیوں کے تعاون سے، میں یہاں پی سی بی میں ایک معنی خیز کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔”اس تنظیم میں بے پناہ صلاحیت ہے اور کرکٹ پاکستان کے عوام کو یکجا کرنے والی قوت ہے۔ میرے دور میں، میں چیئرمین کی پاکستان کرکٹ کے لیے وژن کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کروں گا۔ یہ وژن قومی ٹیموں کی کامیابی، انفراسٹرکچر کی بہتری، کرکٹرز کے لیے مواقع کی توسیع اور اچھے حکمرانی پر مرکوز ہے۔ میں اس سفر میں اپنا کردار ادا کرنے اور اس کھیل پر دیرپا اثر ڈالنے کے لیے پرجوش ہوں جسے ہم سب دل سے چاہتے ہیں۔”

    سلمان نصیر نے سمیر احمد سید کے لیے اپنی حمایت اور شکریہ کا اظہار کیا اور کہا کہ "یہ میرے لیے ایک اعزاز اور فخر کی بات تھی کہ میں نے پی سی بی کی انتظامی ٹیم کی قیادت کی اور چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ سفر بہت فائدہ مند رہا کیونکہ ہم نے مل کر قابل ذکر ترقی کی اور متعدد چیلنجز کا سامنا کیا۔”میں پی سی بی کے چیئرمین کا شکر گزار ہوں اور اپنے ساتھیوں کا بھی، جن کی حمایت کے بغیر ہماری کامیابیاں ممکن نہ ہوتیں۔ میں بورڈ آف گورنرز کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور سمیر احمد سید کی کامیابی کے لیے اپنا مکمل تعاون پیش کرتا ہوں۔ ان کے تجربے اور عزم کے ساتھ، مجھے یقین ہے کہ پی سی بی مزید مستحکم ہوگا اور نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔”

    پی سی بی کی انتظامیہ میں یہ تبدیلی ایک نیا باب شروع کر رہی ہے، اور کرکٹ کے میدان میں نئے اہداف کے حصول کے لیے ایک نیا عزم اور جذبہ دکھا رہی ہے۔

  • حارث رؤف نے ثقلین مشتاق،شاہد آفریدی کا ریکارڈ توڑ دیا

    حارث رؤف نے ثقلین مشتاق،شاہد آفریدی کا ریکارڈ توڑ دیا

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں اپنے کیریئر کا ایک اور اہم سنگ میل عبور کیا ہے

    آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں حارث رؤف نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 8 اوورز میں صرف 29 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی ہیں،لاہور قلندرز کے پلیئر ڈیولپمنٹ پروگرام سے ابھرنے والے حارث رؤف نے 30 اکتوبر 2020 کو اپنے ون ڈے کیریئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سے انہوں نے 39 میچز میں 77 وکٹیں حاصل کی ہیں، جو اس عرصے میں کسی بھی فل ممبر ٹیم کے فاسٹ بولر کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔ اس دوران صرف عمان کے بلال خان 83 وکٹوں کے ساتھ حارث سے آگے ہیں، جبکہ عمان آئی سی سی کی ایسوسی ایٹ ممبر ٹیم ہے۔حارث کی یہ کارکردگی پاکستان کے کسی بھی بولر کے ابتدائی 39 میچز میں سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ ہے۔ آج ایڈیلیڈ میں 5 وکٹیں لے کر انہوں نے اسپنر ثقلین مشتاق اور فاسٹ بولر شاہین آفریدی کا ریکارڈ توڑ دیا، جنہوں نے اپنے ابتدائی 39 میچز میں 76، 76 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

    دنیا کے دیگر فاسٹ بولرز میں آسٹریلیا کے مچل اسٹارک نے 39 میچز میں 79 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عمان کے بلال خان کی بھی 39 میچز میں 83 وکٹیں ہیں۔ اسی طرح نیپالی اسپنر سندیپ لمیچانے نے اپنے ابتدائی 39 ون ڈیز میں 93 وکٹیں حاصل کیں، افغانستان کے راشد خان نے 90، اور بھارت کے کلدیپ یادو نے 77 وکٹیں حاصل کیں۔

  • چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل قذافی سٹیڈیم کی تکمیل کا چیلنج پورا کرنا ہے،محسن نقوی

    چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل قذافی سٹیڈیم کی تکمیل کا چیلنج پورا کرنا ہے،محسن نقوی

    لاہور: قذافی اسٹیڈیم اپ گریڈیشن پروجیکٹ کا مجموعی طور پر تقریباً 50 فیصد کام مکمل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: قذافی اسٹیڈیم لاہور کے انکلوژرز اور مین بلڈنگ کے فلورز کا کام تیزی سے ہورہا ہے مین اور افس بلڈنگ کے فلورز تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے،مین بلڈنگ میں کرکٹ میوزیم اور سوونیر شاپ بھی بنے گی، چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے قذافی اسٹیڈیم کے تعمیراتی منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے تعمیراتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بھارتی ٹیم پربڑا الزام عائد

    بعد ازاں چئیرمین پی سی بی کی زیر صدارت ایف ڈبلیو او کے کیمپ آفس میں اجلاس ہوا جس میں ڈرائنگز کے ذریعے پراجیکٹ کے خدوخال کا جائزہ لیا گیا محسن نقوی نے پارکنگ ایریا کو کشادہ رکھنے کیلئے ہدایات دیں، مین بلڈنگ کے بیرونی آؤٹ لک کو خوبصورت بنانے کی ہدایت کی علاوہ ازیں انہوں نے ایف ڈبلیو او اور متعلقہ حکام کو کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے حوالے سے ہدایات دیں اور کہا کہ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل قذافی سٹیڈیم کی تکمیل کا چیلنج پورا کرنا ہے یہ سٹیڈیم اب عالمی معیار کا بننے جا رہا ہے، کھلاڑیوں اور شائقین کرکٹ کے لئے سہولتوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

    آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ کیلئے پلئینگ الیون کا اعلان

  • آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ کیلئے  پلئینگ الیون کا اعلان

    آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ کیلئے پلئینگ الیون کا اعلان

    لاہور: آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے میچ کیلئے پلئینگ الیون کا اعلان کردیا گیا-

    باغی ٹی وی :پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سلیکشن کمیٹی نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے کے لیے پاکستان پلیئنگ الیون کا اعلان کردیا ہے،پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ون ڈے 4 نومبر کو کھیلا جائےگا۔

    آسٹریلیا کے خلاف میلبرن میں شیڈول سیریز کے پہلے ون ڈے میچ کیلئے بابراعظم، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کی واپسی ہوئی ہے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان بطور کپتان ٹیم کی قیادت کے فرائض نبھائیں جبکہ آغا سلمان نائب کپتان ہوں گے،میچ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8:30 بجے شروع ہوگا۔
    pak
    پلئینگ الیون میں کپتان محمد رضوان، عبداللہ شفیق، صائم ایوب، بابراعظم، کامران غلام، سلمان آغا، محمد عرفان خان، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف اور محمد حسنین شامل ہیں۔

  • ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی بہت ہیں،وسیم اکرم نے ایسا کیوں کہا؟

    ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی بہت ہیں،وسیم اکرم نے ایسا کیوں کہا؟

    کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی بہت ہیں-

    باغی ٹی وی : وسیم اکرم نے میلبرن میں آن لائن پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ فخر زمان امپیکٹ پلئیر ہے، مجھے یقین ہے کہ سوشل میڈیا بیان فخر زمان نے نہیں لکھا، جس نے بھی لکھا اسے بتانا چاہیے تھا کہ سینٹرل کنٹریکٹ کی وجہ سے آپ کو مسئلہ ہو سکتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ فخر زمان کے لیے ایک سبق ہے، سوچ سمجھ کر سوشل میڈیا پر لکھنا چاہیے، پی سی بی کا اس معاملے پر اپ سیٹ ہونا بنتا تھا،محسن نقوی کرکٹ کے لیے بہت اچھا کام کر رہے ہیں، وہ کرکٹ بورڈ کو پروفیشنل انداز میں چلا سکتے ہیں، مجھے جاب کی آفر ہوئی لیکن میں 9 سے 5 جاب کرنے والا بندہ نہیں ہوں۔

    انہوں نے ہوم ایڈوانٹیج کے لیے پچز بنانے پر تنقید کرنے والوں کے حوالے سے کہا کہ ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی بہت ہیں، ہوم ایڈوانٹیج پر تنقید سمجھ سے باہر ہے، میں 5، 6 سال سے کہہ رہا ہوں کہ ٹرننگ پچز بناؤ، چاہے ہار جاؤ، شکر ہے کسی کو تو خیال آیا اور ہم نے مسلسل تین ٹیسٹ میچز ہارنے کے بعد مسلسل دو ٹیسٹ میچز جیتے۔

    سلمان خان کو قتل کی دھمکی اورتاوان مانگنے والا ایک اور ملزم گرفتار

    سابق کرکٹر نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھارت سے اچھے اشارے مل رہے ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی بورڈ کو کئی آفرز کی ہیں، بھارت کو پاکستان آنا چاہیےویرات کوہلی، ہاردک پانڈیا اور سوریا کمار یادیو کے پاکستان میں بہت فینز ہیں، فینز کو شدت سے بھارتی کھلاڑیوں کا انتظار ہے،میں 6، 7 سال سے بھارت نہیں گیا، میں وہاں کے کھانے اور لوگوں کو مس کرتا ہوں، بھارتی کھلاڑی پاکستان آئیں، انجوائے کریں گے۔

    ملک بھر میں 2 ماہ کے لیے سی این جی اسٹیشنز بند کر نے کا …

    وسیم اکرم نے محمد رضوان کی کپتانی کے حوالے سے کہا کہ محمد رضوان کو کپتانی کا تجربہ ہے، وہ اچھی چوائس ہے وہ بس کھیل پر فوکس کرے، آسٹریلیا میں کنڈیشنز مشکل ہوتی ہیں، پاکستان کی یہاں سیریز آسان نہیں ہو گی، ایک بھی ون ڈے جیت جاتے ہیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے جبکہ ٹی ٹوئنٹی سیریز اچھی ہو گی،شاہین آفریدی، نسیم شاہ سمیت دیگر کرکٹرز کھیل پر فوکس کریں، سوشل میڈیا کو چھوڑ دیں،کرکٹ کھیل کر گھر جائیں اور انجوائے کریں، بابر اعظم کو بھی کپتانی بھول جانی چاہیے، وہ کرکٹ کھیلیں اور رنز کریں۔

    خواجہ سرا سے برہنہ ڈانس کروانے کا واقعہ،کے پی حکومت کی پراسرارخاموشی

  • پی سی بی سے دو استعفے آ گئے

    پی سی بی سے دو استعفے آ گئے

    پاکستان کرکٹ بورڈ سے دو استعفے سامنے آ گئے ہیں

    پاکستان کرکٹ بورڈ سے پی ایس ایل کے ڈائریکٹر صہیب شیخ نے استعفیٰ دیا ہے،پاکستان ویمن ونگ کی سربراہ تانیہ ملک بھی مستعفیٰ ہو گئی ہیں،دونوں نے استعفیٰ کیوں دیا، وجوہات سامنے نہیں آ سکیں، پی سی بی سے دو استعفوں کے بعد نئی تقرریوں کا امکان ہے، پی سی بی سے دو استعفوں کی خبرپی ایس ایل کے شائقین اور کرکٹ کے حلقوں میں تیزی سے پھیلی ہے اور اب سب کی نظر نئی تقرری پر ہے۔

    صہیب شیخ کو ستمبر 2023 میں پی ایس ایل کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا،صہیب شیخ کو 2019 میں پی سی بی کے سینئر جنرل منیجر مارکیٹنگ کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا، وہ پی ایس ایل میں نجم سیٹھی کی ٹیم کا اہم حصہ بھی رہ چکے ہیں،

  • غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف نے پاکستانی ٹیم کے لئے غیر ملکی کوچز لگائے جانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ملین ڈالر دے کر ہم ان سے کیا حاصل کرتے ہیں، جب پالیسی نہ ہو تو ریزلٹ زیرو رہتا ہے،

    سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف نے باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کی ہے،ایک ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کرنے والے غیر ملکی کوچ بمقابلہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کا کیا مطلب ہے ،سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف نے وضاحت کی ،باغی ٹی وی کے مظہر شیخ نے سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف سے سوال کیا کہ جب آپ نے ٹیسٹ کرکٹ کی، پاکستانی کیپ آئی تھی اور پہنی تھی ا س وقت جب آپ کے جذبات تھے کیا فارنر کوچ جب ملین ڈالر لے کر پاکستان کے لئے کنٹریکٹ سائن کرتاہے تو کیا اس کے بھی وہ جذبات ہوتے ہیں، جس کے جواب میں سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ ایک ملین کا کنٹریکٹ سائن کر کے پاکستان کے لئے بالکل بھی اموشنل نہیں ہوتے،یہ بڑی ہارڈ ارننگ کیپ ہوتی ہے جو آپ سر پر پہنتے ہیں کسی بھی ملک کی ہر چیز کو سیکریفائز کرنا پڑتا ہے،اپنی ہر چیز کی قربانی دینی پڑتی ہے، پھر اس کے بعد پاکستان کی نیشنل کیپ پہننے کا موقع ملتا ہے جب دوسرے ملک کا کوئی بندہ آئے گا تو اسکا اتنا انٹرسٹ یا آؤٹ پٹ نہیں ہو گی جتنی آپ کی اپنی افلی ایشن ہوتی ہے پاکستان کے ساتھ، وہ جو لوگ باہر سے آتے ہیں وہ کمانے کے لئے آتے ہیں،

    عبدالرؤف کا مزید کہنا تھا کہ اصل چیز یہ ہےکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی کوچنگ کو جب ہائیرکرنا ہوتا ہے، اور وہ ہائی کوالیفائیڈ فارنر کوچز کو ہائر کرتا ہے،اس میں بھی ایک ویژن ہوتا ہے، اسکا مینو فیسٹو ہونا چاہئے کہ کیوں انکو ہائر کیا جا رہا، جس طرح انڈیا نے کیا،انڈیا نے شروع میں جس طرح ہائیر کئے،انکے کوچنگ میں ایجوکیٹڈ لوگ آئے، بڑے بڑے نام آئے، انہوں نے فارنر کوچز سے سیکھا اب انڈیا نے آئی پی ایل میں ،جونیئر ٹیم میں اپنے کوچز لگانا شروع کر دیئے ہیں اور انہوں نے اچھا ریزلٹ دینا شروع کر دیا ہے،ہمارے ہاں یہ ہے کہ کوئی لانگ ٹرم پالیسی نہیں ہے، جب کسی فارنر کوچ کو ہائر کرتے ہیں تو کوئی پالیسی نہیں ہوتی کہ ہم اس سے کیا لیں گے اس کا مقصد کیا ہے،کیا اچیو کریں گے اس لئے فارنر کوچ ٹائم پاس کر کے چلا جاتا ہے، ریزلٹ پھر زیرو ہوتا ہے نہ ہی کوئی لوکل کوچ ان سے کچھ سیکھ سکتا ہے نہ اکوئی ایسا بندہ بٹھایا جاتا ہے جو سیکھ کر بچوں کو سکھائے،

    گیری کرسٹن کے استعفیٰ پر سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف نے کیا کہا؟
    گیری کرسٹن کے استعفیٰ کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ قصور پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہے جب کسی کے ساتھ کنٹریکٹ طے کرتے ہیں تو شرائط طے کرنی پڑتی ہیں کہ جونیئر ،سینئر کو دیکھنا پڑے گا، ہم یہاں تک پہنچنا چاہتے ہیں،اس طرح کام کرنا پڑے گا،یہ کیمپ اٹینڈ کرنا پڑے گاایک کو مکی آرتھر کو لگایا تھا تو وہ انگلینڈ جا کر آن لائن کوچنگ کرتے رہے،انڈیا کے ساتھ ورلڈ کپ ہونے والا تھا ایشیا کا تو توتین دن پہلے وہ ایشیا کپ میں آئے اور جوائن کیا،پھر دو پہلے ورلڈ کپ جوائن کیا،اسی طرح گیری کو ورلڈ کپ سے دو دن پہلے بلوا کر جوائن کروا دیا گیا،ستر سال سے پی سی بی اپنی ترجیحات کاتعین نہیں کر سکا،کہ انکو بلا رہے ہیں تو کیسے کام لینا ہے، سپورٹس سائیکالوجسٹ کا کسی کو پتہ ہی نہیں، مین فیکٹر ہے کرکٹ کا سپورٹس سائیکالوجسٹ،یہ نہیں ہو سکتاکہ آپ کہیں سے اٹھا کر سپورٹس سائیکالوجسٹ کو لے آئیں،اس طرح کبھی سپورٹس سائیکالوجی چلی ہے، اس میں سارا قصور پی سی بی کا ہے، انکو شرائط پہلے طے کرنی چاہئے اور ویژن کو سامنے رکھنا چاہئے.

    فخر زمان کو بابر کے حق میں بولنا پڑا مہنگا،بابر اعظم فخر کونکالے جانے پر خاموش کیوں؟

    نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے سے نتیجہ جیت کی صورت میں آیا۔محسن نقوی

    جیت کا سارا کریڈٹ پاکستانی عوام کو ملنا چاہیے۔شان مسعود

    پاکستان پنڈی ٹیسٹ جیت گیا، ساڑھے تین سال بعد سیریز میں فاتح

    بابر اعظم ،شاہین آفریدی اور نسیم شاہ ڈراپ یا آرام دیا ؟

    بابر اعظم: پاکستانی ٹیم پر بوجھ، اوقات یاد دلا دی گئی

    بابر اعظم ضدی،بات نہیں مانتے تھے،محمد وسیم کا انکشاف

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے