Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی نے تحریک چلائی ہے تو وہ بانی پی ٹی آئی نے چلائی ہے، تحریک شروع ہو چکی ، حکومت میں رہیں یا نہ رہیں ، 90 دن میں آر یا پار کریں گے۔

    لاہور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی کیخلاف بوگس اورسیاسی کیسز ہیں ، ہمارے خلاف کیسز میں انہیں کچھ نہیں ملا،ہمارے خلاف ابھی بھی کارروائیاں جاری ہیں، پی ٹی آئی کو احتجاج کرنے کے آئینی حق سے روکا جا رہا ہے، پاکستان کے ہر شہر اور محلے سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے، تحریک کو آگے کیسے لے کرجائیں گے اس حوالے سے لائحہ عمل دیں گے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کے لیے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، مذاکرات فیصلہ سازوں سے ہوں گے ، ملک میں آئین اور قانون کی عملداری ہونی چاہیے ،ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو سزا کے لیے تیار ہیں، اگر سازش ثابت ہو جائے تو مجھے چوک میں لٹکا دیں، اگر سزا پر بات آئے تو پھر سب کو سزا ہو گی،تحریک کا اعلان بانی نے کیا وہی لیڈ کریںگے ، ہماری گزارش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، عوام دیگر سیاسی جماعتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    انہوں نے کہ میں نے اپنی غیرموجودگی میں مولانا فضل الرحمان کو ہرایا ،میرے بھائی نے بھی مولانا فضل الرحمان کو شکست دی، مولانا فضل الرحمان اپنے حلقے میں الیکشن نہیں لڑ سکتےمجھے کہا گیا فضل الرحمان کے بارے میں بات نہ کریں، مولانا فضل الرحمان اور پورے صوبے میں ان لوگ فارم 47 پر آئے، مولانا اندر سے اب بھی ملے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، بانی پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردی پر قابو پایا گیا، امن قائم ہوا اور ملک کی معیشت نے بہتری کی راہ پکڑی۔ موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، لیکن وقت آنے پر ہمارے سیاسی مخالفین خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

    علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا، حکومت نے ہمارے خلاف درجنوں مقدمات بنائے لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا ’ہم نے ہمیشہ آئینی راستہ اپنایا، سڑکوں پر احتجاج کرنا میرا قانونی اور جمہوری حق ہے جسے کوئی طاقت مجھ سے نہیں چھین سکتی، موجودہ سیاسی و معاشی بحران کا حل صرف اور صرف شفاف انتخابات اور آئینی بالادستی میں ہے، اور اس کیلئے پی ٹی آئی کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریاتی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے۔ ’آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘

    تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھولے جارہے ہیں، دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ، ایڈوائزری جاری

  • 90 روزہ تحریک  لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مطالعاتی دورے پر لاہور آئے ہیں ، 90 روزہ تحریک حکومت بچانے کا بہانہ ہے،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں-

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ علی امین گنڈاپور بطور وزیر اعلیٰ آئیں تو ان کی مہمان نوازی کریں گے، اگر اسلحے کیساتھ آئیں گے تواس کی اجازت نہیں ہو گی کسی کو پنجاب میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، پنجاب کی ترقی کو آگ نہ لگائیں تو ہمیں وزیراعلیٰ کے لاہور آنے پر کوئی اعتراض نہیں،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں ، جن پر تنقید کرتے ہیں انہی لوگوں کو ہی مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں ،ایک اور 90 دن کا پلان آیا ہے، لگتا ہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اب تحریک باقاعدہ طور پر شروع کی جا رہی ہے پاکستان میں صرف بانی پی ٹی آئی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں تحریک چلائی اور ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، ان میں کچھ بھی نہیں، اور دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں کسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کے باوجود پی ٹی آئی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ’ہم ہر گلی، کوچے، اور قصبے سے عوام کو جمع کریں گے، ہم سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں ملک کو قانون کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں،سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریا تی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے،آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘

  • پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی ارکان کی نااہلی ریفرنس ، اپوزیشن کا آج مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی ارکان کی نااہلی ریفرنس ، اپوزیشن کا آج مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 26 ارکان کی نااہلی ریفرنس کے معاملے پر آج ہونے والے مذاکراتی سیشن میں اپوزیشن نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے کہا ہے کہ ہم نے ارکان کی کوئی لسٹ نہیں بھیجی نہ ہی مذاکراتی کمیٹی پر کوئی مشاورت کی ہے۔ میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ساتھ مصروف ہوں ان کے جانے کے بعد اس معاملے کو دیکھیں گے۔

    واضح رہے کہ 11 جولائی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اپوزیشن کے معطل ارکان کی نااہلی ریفرنس کے معاملے پر دونوں طرف سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا،28 جون کو پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقریر کے دوران احتجاج کرنے پر اسپیکر ملک احمد خان نے اپوزیشن کے 26 ارکان کو معطل کرکے ان کی نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

  • پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان کی نا اہلی، حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی مذاکرات آج

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان کی نا اہلی، حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی مذاکرات آج

    پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 ارکان کی نااہلی ریفرنس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈرز کے مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا۔

    مذاکرات کے لیے دوسرے سیشن کی صدارت اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کریں گے، پارلیمانی لیڈرز کی ملاقات آج سہ پہر 4 بجے پنجاب اسمبلی میں ہوگی اپوزیشن کی جانب سے کمیٹی کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کو ابھی تک نام نہیں بھجوائے گئے اور اپوزیشن کے معطل ارکان کے خلاف ریفرنس کے معاملے پر حکومت کی کمیٹی بن چکی ہے۔

    حکومت کی کمیٹی میں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن، خواجہ سلمان رفیق، سمیع اللہ خان، رانا ارشد، شافع حسین، علی حیدر گیلانی، افتخار چھچھر، راحیلہ خادم، امجد جاوید، احمداقبال، شعیب صدیقی بھی کمیٹی میں شامل ہیں،حکومت کی کمیٹی کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

    حسینہ واجد کی بیٹی پر کرپشن کے الزامات،عالمی ادارہ صحت کا بڑا فیصلہ

    واضح رہے کہ 28 جون کو پنجاب اسمبلی میںوزیر اعلیٰ پنجاب کی تقریر کے دوران احتجاج کرنے پر اسپیکر ملک احمد خان نے اپوزیشن کے 26 ارکان کو معطل کر دیا تھا، اور ان ارکان کی نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    کراچی: ڈرم سے ایک نامعلوم خاتون کی پرانی مسخ شدہ لاش برآمد

  • بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

    بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کے لیے کی گئی۔

    نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا کہ پارٹی اس وقت شدید اختلافات اور تقسیم کا شکار ہے، موجودہ حالات میں تحریک انصاف کا کامیاب ہونا ممکن نہیں، حقیقت میں نہ وہ آئیں گے اورنہ یہ فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے کیا ہے، پارٹی اجلاسوں میں بات گالم گلوچ سے شروع ہو کرگالم گلوچ پر ختم ہوتی ہے،اگرموجودہ قیادت احتجاج میں کامیاب ہوئی تو وہ معذرت کریں گے اورناکامی کی صورت میں وہ خود قیادت سنبھال کرعوام کو نکالنے کا مظاہرہ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اگرہمارے اپنے پاؤں نہ کاٹتے تو ہم بانی پی ٹی آئی کو مئی 2024 میں رہا کروا چکے ہوتے، علیمہ خان نے مجھے میڈیا پرغدارکہا اور پارٹی سے نکلوایا، خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کیلئے منڈی لگی ہوئی ہے اور صوبے میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ عمران خان کیا چاہتے ہیں، جو بھی جیل میں مل کر آتا ہے وہ مختلف بات کرتاہے ، میرا نہیں خیال کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آ کر تحریک کی قیادت کر سکیں گے اور اس سے کوئی فرق پڑے گا تحریک کی تو ہر وقت ضرورت ہو تی ہے ، جو ہمارے ملک کے حالات ہیں جہاں کوئی نظام نہیں چل رہا، ملکی ترقی نہیں ہو رہی ، ہر پاکستانی ہر سال غریب ہوتا جارہاہے ، ہماری کوئی پالیسی اور ڈائریکشن نہیں ہے ، ہر قسم کے مسائل ہیں، پی ٹی آئی کی تحریک کا مجھے نہیں پتا کہ مقصد کیاہے ، ماضی میں ان کا مقصد انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عمرا ن خان کو جیل سے نکالنا ہے ، اگر یہ مقصد ہے تو یہ تحریک کامیاب نہیں ہو گی، آپ ملک کی بات کریں ۔

  • پی ٹی آئی سمیت 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی سمیت 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کے یو ٹیوب چینل سمیت 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی، عدالت نے 2صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا،عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ ریاست مخالف مواد پرایف آئی اے نے 2 جون کوانکوائری شروع کی،عدالت نے انکوائری افسر کے دلائل سنے اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا شواہد کی بنیاد پرمعاملہ پیکا ایکٹ اور تعزیرت پاکستان کے تحت قابل سزا جرم ہے،عدالت نے کہا کہ یوٹیوب کے افسرانچارج کو حکم دیا جاتا ہے کہ 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کیا جائے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ حیدر مہدی، صدیق جان، صبیح کاظمی، اوریا مقبول جان ،آرزو کاظمی، راعنا عزیر سپیکس بھی بلاک لسٹ میں شامل کی گئی ہیں ساجد گوندل، حبیب اکرم، مطیع اللہ جان (ایم جے ٹی وی ) عمران خان ریاض، نیا پاکستان، صابر شاکر ،عمران خان، آفتاب اقبال انٹرٹینمنٹ ٹی وی کے یو ٹیوب چینلز کو بھی بلاک کیا جائے۔

    ایف بی آر پاکستان کے مالیاتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،محمد اورنگزیب

    اسی طرح ڈیلی قدرت، عبدالقادر، چار سدہ جرنلسٹ، نائلہ پاکستانی ری ایکشن، وجاہت سعید خان یوٹیوب، احمد نورانی، نظر چوہان یوٹیوب، معید پیرزادہ اور مخدوم شہاب الدین کے چینلز بھی فہرست کا حصہ ہیں۔

    یوٹیوبرز آفتاب اقبال اور فلک جاوید کے خلاف مقدمات درج

  • مخصوص نشستیں صرف اور صرف پی ٹی آئی کا حق ہیں،بیرسٹر سیف

    مخصوص نشستیں صرف اور صرف پی ٹی آئی کا حق ہیں،بیرسٹر سیف

    ترجمان پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ مخصوص نشستیں صرف اور صرف پی ٹی آئی کا حق ہیں، مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن جماعتیں اخلاقی جرات دکھائیں اور مخصوص نشستیں لینے سے انکار کریں۔

    اپنے بیان میں مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں میں ذرا بھر بھی اخلاقی جرأت ہو تو مخصوص نشستیں لینے سے انکار کر دیں گی قانون اور عدالت تو 26ویں آئینی ترمیم میں جکڑی ہوئی ہیں لیکن اخلاقی جرات 26ویں آئینی ترمیم سے آزاد ہےمخصوص نشستیں صرف اور صرف پی ٹی آئی کا حق ہیں، جنہیں عدالتی فیصلے نے نیلامی پر لگا دیا ہے پہلے فارم 47 کے ذریعے پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چرایا گیا، اب مخصوص نشستیں بھی دوسروں میں بانٹی جا رہی ہیں۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ جعلی حکومت نے پی ٹی آئی کے خاتمے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا، مگر ناکام رہی پی ٹی آئی کو دبانے کی کوشش میں پارٹی مزید مضبوط ہو کر ابھری ہے امیر حیدر خان ہوتی کا مخصوص نشستیں نہ لینے کے حوالے سے بیان خوش آئند ہےمولانا فضل الرحمان نے 26ویں آئینی ترمیم کے وقت پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا فضل الرحمان کو بھی امیر حیدر خان ہوتی کی طرح اسلامی کردار اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    مناسب وقت پر ایران سے پابندیاں ہٹائیں گے، امریکی صدر

    غزہ: حماس سے جھڑپ کے دوران 5 صہیونی فوجی ہلاک اور 14 زخمی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار

  • پی ٹی آئی کے الزامات،الیکشن کمیشن کا ردعمل سامنے آگیا

    پی ٹی آئی کے الزامات،الیکشن کمیشن کا ردعمل سامنے آگیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے الزامات پر الیکشن کمیشن نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں، پی ٹی آئی کے بھی کئی رہنما ان سے ملتے رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سےاعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چند مفاد پرست عناصر اور گروہ الیکشن کمیشن ، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن پر بے بنیاد الزامات لگاتے رہتے ہیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں یہا ں پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنراور ممبران ہر فیصلہ بغیر کسی کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، آئین و قانون کے مطابق کرتے ہیں اور کسی قسم کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آتے اور نہ ہی ان او چھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہوں گے۔

    اعلامیے کے مطابق حال ہی میں اسپیکر پنجاب اسمبلی سے چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات پر جو حقائق کے برعکس تبصرے ہوئے، ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے مختلف اوقات میں الیکشن کمیشن سے کئی آئینی اور انتظامی عہدے دار سرکاری معاملات کے سلسلے میں ملتے رہتے ہیں، سابق صدر عارف علوی سے چیف الیکشن کمشنرکی اور کمیشن کے ممبران کی متعدد ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں اور خاص طور پرای وی ایم اور انٹرنیٹ ووٹنگ جو کہ صدرِ مملکت کے مینڈیٹ میں بھی نہیں آتا، کے سلسلے میں میٹنگز میں چیف الیکشن کمشنر شریک رہے ہیں۔

    ایف بی آر میں اے آئی پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر اُن سے ملتے رہے ہیں، جس میں وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، اُس وقت کے جنرل سیکرٹری اسد عمر، پرویز خٹک، محمود خان وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا شامل ہیں، اسی طرح کچھ معاملات پر اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بھی چیف الیکشن کمشنر کی وزیر اعلیٰ کے دفتر میں ملاقات ہوئی ممبران الیکشن کمیشن بھی باقی وزرائےاعلیٰ سے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں ملتے رہے ہیں کیا اُس وقت یہ درست تھا اور اب غلط ہے، الیکشن کمیشن کا کوئی بھی عہدے دارکسی ذاتی کام کے لیے اورذاتی حیثیت میں کسی بھی شخصیت سے نہیں ملا سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کا الیکشن کمیشن کو اپروچ کرنا کسی طور پربھی خلاف ضابطہ نہیں ہے۔

    کراچی میں قبرستانوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ، قبر کی قیمت کتنی ہو گی؟

    الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق صاحبزادہ محمد حامد رضا کا یہ الزام کہ ریٹرننگ آفیسر نے اسے سنی اتحاد کونسل کا امیدوار ڈکلیئر نہیں کیا سراسر غلط ہے۔ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی پر اپنا تعلق سنی اتحاد کونسل الائنس پی ٹی آئی لکھا جب کہ الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 215 (2) اور رول 162(2) کے تحت دونوں جماعتوں ( پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل) نے نہ تو الیکشن کمیشن کو الائنس کی درخواست دی اور نہ ہی کوئی ایک نشان دینے کے لیے کہا۔

    اعلامیے کے مطابق موصوف نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جو ڈیکلریشن جمع کروایا وہ پی ٹی آئی نظریاتی کا تھا اور اس کے ساتھ مذکورہ بالا پارٹی کا ٹکٹ بھی جمع نہیں کروایا۔ ریٹرننگ آفیسر نے انہیں ضابطہ کے تحت آزاد امیدوار کے طورپر مینار کا نشان دیا۔

    ہم نے پاسپورٹ ریکنگ کے نظام پر کام کیا ہے تاکہ عوام کو سہولت ہو ،وزیر داخلہ

    الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اگر صاحبزادہ محمد حامد رضا کا مؤقت اتنا ہی درست ہے تو کم از کم کاغذات نامزدگی کے ساتھ اپنی ہی پارٹی کا ٹکٹ لگاد یتے اور کہتے کہ میں سنی اتحاد کونسل کا امیدوار ہوں۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے جب سنی اتحاد کونسل سے پوچھا کہ اس نے الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 206 کے تحت کتنی خواتین امیدواروں کو نامزد کیا تو صاحبزادہ حامد رضا نے الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر اپنے دستخطوں سے مطلع کیا کہ جنرل الیکشن 2024 میں کسی امیدوار نے بھی سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ لہذا خواتین امیدواروں کی لسٹ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

  • لاہور ہائیکورٹ میں صنم جاوید کی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ میں صنم جاوید کی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے ریاست مخالف مواد اپ لوڈ کرنے کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کارکن صنم جاوید کی ضمانت منظور کرلی-

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کی ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی، عدالت نے 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض صنم جاوید ضمانت منظور کرلی –

    صنم جاوید کی جانب سےمیاں علی اشفاق ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ ایف آئی اے نے صنم جاوید کے خلاف مقدمہ درج کررکھا ہے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صنم جاوید نے ریاست مخالف بات نہیں کی، عدالت صنم جاوید کی ضمانت منظور کرے ایف آئی اے لاہور نے ضمانت کی مخالفت کی جبکہ عدالت نے ضمانت منظورکرتے ہوئےصنم جاوید کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی ڈیٹنگ کی افواہیں

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر متحرک پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید اور ان کے شوہر کو لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا تھا، جوڑے کو 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں انویسٹی گیشن پولیس تھانہ اسلام پورہ نے گرفتار کیا، اس سلسلے میں گرین ٹاؤن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نے کارروائی کی، جس کے نتیجے میں صنم جاوید کے ساتھ ان کے خاوند کو بھی حراست میں لیا گیا۔

    بھارت پاکستان ہاکی کو ایونٹس سے محروم کرنے کیلئےسرگرم

  • مائنس عمران خان ہی ہوگیا ہے،علی امین بوجھ نہیں اٹھا سکتا تو گھر جائے،علیمہ خان

    مائنس عمران خان ہی ہوگیا ہے،علی امین بوجھ نہیں اٹھا سکتا تو گھر جائے،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ میرا خیال ہے مائنس عمران خان ہی ہوگیا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں صحافی نے سوال کیا کہ کیا مائنس عمران خان ہوچکا ہے؟ عمران خان نے کہا تھا کہ میری منظوری ہوگی؟ اس پر علیمہ خان نے کہا کہ میرا خیال ہے مائنس عمران خان ہی ہوگیا ہے کے پی کے ارکان اسمبلی کہتے ہیں کہ علی امین گنڈاپور بہت طاقتور ہیں ہم اس کو ناں نہیں کہہ سکتے؟ سوال پر علیمہ خان کا کہنا تھاکہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو گھر جائیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ کے پی بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا-

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گف گو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 25 مارچ کے بعد عمران خان سے میری صرف دو ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتیں نہ کرانا سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے، بانی کے بنیادی حقوق کا کسی کو کوئی پاس نہیں ہے، عدالتی احکامات کا بھی کسی کوئی پاس نہیں، عدالتیں خود اپنے احکامات پر عمل کرانے سے گریزاں ہیں۔

    کے پی اسمبلی کے بجٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کے پی بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا، آج امکان تھا بانی سے کوئی واضح ہدایات مل جاتیں، جب تک ممکن تھا ہم بجٹ روک سکتے تھے ہمارے پاس 30 جون تک وقت تھا تب تک بانی کی ہدایات بھی آجاتیں ہم سمجھتے ہیں بجٹ پر ہمیں مشاورت جاری رکھنی چاہیے تھی، پارٹی میں سوالات اٹھتے ہیں بجٹ کیوں 23 تاریخ کو پاس ہوا؟ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا جتنا ممکن ہوسکے 30 تاریخ تک مشاورت ہونی چاہیے مگرکے پی اسمبلی نے بظاہر عجلت سے کام لیا۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے وزیراعلیٰ گنڈاپور کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر ہی بجٹ منظور کر لیا نئے مالی سال کے لیے صوبائی بجٹ کی منظوری گزشتہ شب دی گئی بجٹ کی منظوری سے پہلے تقریر میں علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے جب بھی ملاقات ہوئی ان کی ہدایت کے مطابق بجٹ میں تبدیلیاں لائیں گے۔