Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ ملنے پر توہین عدالت کی درخواست خارج

    پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ ملنے پر توہین عدالت کی درخواست خارج

    اسلام آبادہائیکورٹ،پی ٹی آئی جلسے کا این اوسی معطلی سے متعلق توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آبادہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی، پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں کہا کہ پولیس نے ڈپٹی کمشنر دفتر سے عامر مغل کو گرفتار کیا، عامر مغل کو اٹھانے کے پورے دن تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ہے تو متعلقہ فورم پر جائیں، یہ توہینِ عدالت تو نہیں بنتی،

    وکیل شعیب شاہین نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری آرڈر پڑھ کرسنایا اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں نوٹیفکیشن پیش کیا، ڈپٹی کمشنر نے جلسے کی پچھلی رات ڈیڑھ بجے مجھے جلسہ معطلی کا نوٹیفکیشن بھیجا، ہم پھر آج ہی رٹ پٹیشن دائر کرینگے، یہ لوگ بدنیتی کر رہے ہیں اور ہمیں کچھ نہیں کرنے دے رہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ دِلوں کاحال اللہ جانتا ہے، ہم نے تو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں،ڈپٹی کمشنر نے ایک آرڈر کیا چیف کمشنر نے اسے ختم کر دیا، آپ چیف کمشنر کے آرڈر کے خلاف درخواست دائر کریں، سیاسی معاملہ طریقہ کار کو تبدیل تو نہیں کر دے گا،

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    تحریک انصاف نے ڈیجیٹل دہشت گردی کا اہتمام کیا، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام اور افراتفری پیدا کرنا تھا جسے سیاسی سرگرمی کے نام پر کیا گیا۔ جذباتی استحصال اور برین واشنگ کے ذریعے، پی ٹی آئی نے ایک سیاسی فرقہ پیدا کیا ہے ، ایک جدید قسم کی عوامیت پسندی جہاں رہنماؤں کا اپنے پیروکاروں پر اثر عقل سے بالاتر ہے۔

    پی ٹی آئی کی فرقہ پرستی کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی
    مذہبی فخر کو ابھار کر پیروکاروں میں برتری کا احساس پیدا کرنا۔
    مظلومیت کا احساس پیدا کرنا ، مظلومیت کا بیانیہ پی ٹی آئی کے حامیوں کو ایک مظلوم گروہ کے طور پر پیش کرتا ہے، جس سے ہمدردی اور حمایت ملتی ہے۔
    حریفوں سے تباہی یا لوٹ مار کا خوف پیدا کرنا ، جس کا مقصد عوام کا دوسرے جماعتوں پر اعتماد کم کرنا ہے۔
    پی ٹی آئی کے رہنما کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کر کے، پی ٹی آئی خود کو ملک کے مسائل کا واحد حل قرار دیتی ہے۔

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا نیٹ ورک دو اہم سیٹ اپس پر مشتمل ہے: “ایک مرکزی سیٹ اپ اور ایک پھیلاؤ (پرولیفریشن )کا سیٹ اپ جو دنیا بھر کے رضاکاروں پر مشتمل ہے” اور بیرون ملک سے مالی مدد حاصل کرتا ہے۔

    مرکزی سیٹ اپ: جبران الیاس، اظہر مشوانی، عمران لالیکا، اور سالار سلطانزی کے زیرِ قیادت
    ▪️ مقام – امریکہ
    ▪️ کام: –
    ▫️ مواد کی تخلیق / پروڈکشن۔
    ▫️ جذباتی تجزیہ۔
    ▫️ بیانیہ بنانا۔
    ▫️ جذباتی تجزیے کے مطابق کورس کی اصلاح۔

    سرکاری مواد کے تخلیق کار
    ▪️ اروبا کمال فیس بک لیڈ ہیڈ
    ▪️ اے جے شفقت کریٹو ٹیم ہیڈ

    علاقائی سربراہان
    ▪️ موسی ورک پنجاب لیڈ
    ▪️ اکرام کھٹانہ کے پی لیڈ

    پھیلاؤ کا سیٹ اپ
    ▪️ دنیا بھر کے رضاکاروں پر مشتمل
    ▪️ ایکٹیو انصافین
    ▪️ ٹیم پاکستان پاور

    بیرون ملک کے ارکان
    ▪️ احمر مراد امریکہ
    ▪️ مدیحہ حمید برطانیہ
    ▪️ کام: –
    ▫️ مرکزی سیٹ اپ سے ہدایت یافتہ مواد کو پھیلانا۔
    ▫️ ابھرتے ہوئے مواقع کا فائدہ اٹھا کر مواد بنانا۔
    ▫️ حریف مواد کو دبانا/جواب دینا۔
    ▫️ بوٹ نیٹ ورکس کا استعمال کر کے مطلوبہ رسائی/رجحانات حاصل کرنا۔

    پی ٹی آئی کی حکمت عملی کی مہم
    ▪️ ٹویٹر:* تعلیم یافتہ اور اعلیٰ طبقے کے لوگوں کو ہدف بنانا۔
    ▪️ واٹس ایپ چینلز، فیس بک، اور انسٹاگرام: پاکستانی عوام کے مختلف طبقوں اور درمیانی طبقے کے لوگوں کو ہدف بنانا۔
    ▪️ ٹک ٹاک: نچلے متوسط ​​طبقے کو متاثر کرنے کے لئے حکمت عملی کے تحت استعمال کرنا۔

    اے آئی ذرائع/حکمت عملی برائے بڑے پیمانے پر حمایت حاصل کرنا
    ریلیاں : ایکس (ٹویٹر اسپیس) اور ٹک ٹاک (لائیو اسٹریمنگ) جیسے پلیٹ فارمز پر۔
    جنریٹیو اے آئی: عمران خان کے پیغامات کو مصنوعی آوازوں کے ذریعے پھیلانا۔
    ویب سائٹس اور چیٹ بوٹس: خان کے فیس بک پیج پر قائم کیے گئے۔
    آن لائن سروے اور پولز : ڈیٹا جمع کرنے کے لئے کئے گئے۔
    ذاتی ایس ایم ایس مہمات: قومی اداروں کو کمزور کرنے والی ضد ریاستی بیان بازی کو پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے بیرونی تعلقات
    پاکستان اور اس کے اداروں کو نشانہ بنانے والی سوشل میڈیا مہم کو پی ٹی آئی اور بھارت کے مفادات کے درمیان تعاون کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ٹویٹر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مطابق پی ٹی آئی نے "امپورٹڈ حکومت” مہم کو ایک دن میں 924 اکاؤنٹس کے ذریعے شروع کیا، جن میں سے صرف 177 انسانی طور پر منظم تھے اور 532 جعلی اکاؤنٹس تھے۔ 2022 کی ایک تحقیقات نے مزید انکشاف کیا کہ 529 پاکستانی اکاؤنٹس، 18 بھارتی اکاؤنٹس، اور 33 دیگر ممالک کے اکاؤنٹس شامل تھے۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلقات
    را، سی آئی اے، صہیونی لابی، اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں جیسے ٹی ٹی پی اس مواد کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گزشتہ سال 9 مئی کے فسادات میں، ٹی ٹی پی کے کلیدی کمانڈر سربخاف محمند نے پی ٹی آئی کی ملک گیر احتجاج کی تائید کی۔ محمد اقبال، جو مولانا صوفی محمد کے سابق ترجمان تھے، کی پی ٹی آئی کے ساتھ شمولیت اس ہم آہنگی کی مثال ہے۔

    مالی معاونت اور بیرونی مداخلت
    پی ٹی آئی کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو غیر ملکی اداروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے، جس میں سی آئی اے، صہیونی لابی، را، اور دیگر دشمن انٹیلی جنس ایجنسیز شامل ہیں ۔ایف آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ ​​کے ذریعے پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف قابلِ ذکر لابنگ کر رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کا بھی دعویٰ ہے کہ انہیں امریکی ایوان نمائندگان میں بھارت اور اسرائیلی ذرائع کے ذریعے پاکستان کے خلاف قراردادیں جمع کرانے کے ثبوت ملے ہیں ۔ عاطف خان (امریکہ): انکشاف کیا کہ پارٹی نے فروری 2023 میں ایک پی آر فرم کے ساتھ تین ماہ کا معاہدہ کیا ہے۔ رابرٹ لارینٹ گرینیئر (2021) : پی ٹی آئی نے پہلے اسلام آباد میں سابق سی آئی اے اسٹیشن چیف رابرٹ لارینٹ گرینیئر کی خدمات حاصل کی تھیں۔

    ▪️ فینٹن/آرلوک (اپریل 2022): پی ٹی آئی نے اپریل 2022 میں ایک اور لابنگ فرم، فینٹن/آرلوک کو 25,000 ڈالر ماہانہ کے حساب سے عوامی تعلقات کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے مشغول کیا۔
    ▪️ پرائیہ کنسلٹنٹس ایل ایل سی (فروری 2023) : فروری 2023 میں، پی ٹی آئی نے اپنے لابنگ کوششوں کو وسعت دی اور واشنگٹن کی ایک فرم، پرائیہ کنسلٹنٹس ایل ایل سی کو 8,333.00 ڈالر ماہانہ کے حساب سے چھ ماہ کے لئے ہائر کیا۔

    عمران خان حقیقی قوتوں سے بے خبر ہیں جب کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں، جنہیں دشمن ایجنسیز کے ایجنڈے سے تقویت ملتی ہے۔ جب پاکستان ان چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ بیرونی اثرات کو پہچانا اور ان کا مقابلہ کیا جائے ۔

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

  • بانی پی ٹی آئی نے جے یو آئی اور  پی ٹی آئی گٹھ جوڑ کمیٹی کی منظوری دیدی

    بانی پی ٹی آئی نے جے یو آئی اور پی ٹی آئی گٹھ جوڑ کمیٹی کی منظوری دیدی

    اسلام آباد: سربراہ جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے سیاسی اتحاد کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تحریری ضمانت مانگ لی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے گٹھ جوڑ کمیٹی کی منظوری دے دی ہے، جو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹر شبلی فراز، چئیرمین بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر پر مشتمل ہوگی،مولانا فضل الرحمان نے مجلس شوریٰ سے مشاورت کے بعد سیاسی گٹھ جوڑ کمیٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرائی۔

    ذرائع جے یو آئی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان چار نکات پر اتفاق ہوگیا ہے، ملک کی سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے خاتمے پر دونوں جماعتوں پر اتفاق ہوا،آئین کی بالادستی، صوبائی وسائل اور مسائل مل کر حل کرنے پر بھی اتفاق ہوا، دو نو ں جماعتوں کا افغانستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات پر اتفاق بھی سیاسی گٹھ جوڑ کا حصہ ہے۔

    ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ، اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن

    کے الیکٹرک نے 7 سال کیلئے فی یونٹ ٹیرف میں 10 روپے کا اضافہ مانگ …

    کراچی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

  • حکومت کے پاس دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، عمران خان

    حکومت کے پاس دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، عمران خان

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران دہشت گردی میں بڑی کمی آئی، ہم نے خیبرپختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اداروں کو مضبوط کیا –

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل راولپنڈی سے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہمیشہ سے تحریک انصاف کی پالیسی رہی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران دہشت گردی میں بڑی کمی آئی، ہم نے خیبرپختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اداروں کو مضبوط کیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور اس کے بعد پورے ملک میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی، ہم نے خطے میں امن قائم کرنے کی خاطر افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی حکومت کے ساتھ بات چیت کی، ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور قیام امن کے لیے خود بھی افغانستان کا دورہ کیا۔

    بنوں : صوبائی وزیر کے اسکواڈ کی گاڑی پر بم حملہ، 3 راہ گیر زخمی

    عمران خان نے کہا کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغانستان میں سول وار کا شدید خدشہ تھا، جسے نہایت حکمت سے ہینڈل کیا گیا، افغانستان میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد اس حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمیدکا کلیدی کردار تھا، خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میری حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل نہ کیا جائے اور یہی ہدایات جنرل باجوہ کو دی گئیں جس پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ انہیں تبدیل نہیں کیا جائے گا مگر اس کے باوجود انہیں تبدیل کر دیا گیا جس کی وجوہات بعدمیں سامنے آئیں جو کہ واضح طور پر جنر ل باجوہ اور نواز شریف کے مابین جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو لے کر کی جانے والی ڈیل تھی۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    بانی پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ جنرل باجوہ نے محض اپنے ذاتی فائدے کے لیے ملک کو بے حد نقصان پہنچایا، آئی ایس آئی جس نے ملک کو دہشت گردی سے بچانا تھا، اسے دہشت گردی کے انسداد سے ہٹا کر تحریک انصاف کو کچلنے پرلگا دیا گیا اسی طرح پی ڈی ایم حکومت کے وزیر خارجہ نے پوری دنیا کا چکر لگایا لیکن افغانستان نہیں گیا کیونکہ ان لوگوں کو پاکستان کے امن ، ہمارے لوگوں کے جان و مال اور ہمارے سیکیورٹی اداروں کی قطعاً کوئی پرواہ نہ تھی، آج بھی ان کے پاس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ملک و قوم نقصان اٹھا رہے ہیں۔

    حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور میں ریاست کے اداروں کو سیاست سے پاک کر کے قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح بنایا تو ملکی اور غیر ملکی ناقدین نے ہائبرڈ سسٹم کی اصطلاح ایجاد کی اور ہمیں ہدفِ تنقید بنایا، آج صورتحال یہ ہے کہ ضمیر اور قلم فروشوں کے ایک نہایت چھوٹے سے گروہ کے علاوہ ماضی میں ہمیں ہائبرڈ سسٹم کا طعنہ دینے والے ہمارے ناقدین بھی کھل کر ملک پر بدترین شخصی آمریت کے غلبے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل عوام کے مینڈیٹ کے احترام ، قانون کی حکمرانی اور سیاست کے استحکام سے وابستہ ہے، اپنے لوگوں کے خلاف ننگی فسطائیت یا لشکر کشی کے ذریعے دہشت گردی کا تدارک ممکن ہے نہ ہی پاکستان کو استحکام نصیب ہونے کے امکانات ہیں قوم کی مرضی کے برعکس فیصلے کرنے اور طاقت اور بندوق کے زور پر انہیں عوام سے منوانے کی کوششوں نے ہمیشہ منفی نتائج پیدا کیے ہیں۔

    بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 247 میگا واٹ تک پہنچ گیا

  • ٹی ٹی پی کو پی ٹی آئی کی حکومت میں پناہ گاہیں اور عام معافی دی گئی،وزیر دفاع خواجہ آصف

    ٹی ٹی پی کو پی ٹی آئی کی حکومت میں پناہ گاہیں اور عام معافی دی گئی،وزیر دفاع خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی )کو پاکستا ن تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں پناہ گاہیں اور عام معافی دی گئی۔

    باغی ٹی وی :وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی خبر رساں ادارے سے بات کر تے ہوئے کہا کہ فوج دہشتگردوں کی صفائی کا آپریشن کر دیتی ہے لیکن اس علاقے کی سویلین حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے دہشتگردی کی سرغنہ جماعتیں ہیں، 5.6 ہزار ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پی ٹی آئی کی حکومت میں لائے گئے ، ٹی ٹی پی کو پی ٹی آئی کی حکومت میں پناہ گاہیں اور عام معافی دی گئی،جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے ان کے ساتھ معاملات طے کیے اور ہمیں سرسری سا بریف کیا۔

    غزہ میں حماس کی حکومت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،نیتن یاہو

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہم سے ایسے منظر کشی کی جیسے سب ٹھیک ہے اور سوات میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، اس بریفنگ میں سیاستدانوں نے سوال اٹھائے، سب سے زیادہ علی وزیر اور محسن داوڑ نے فیصلے کو چیلنج کیا لیکن ان کو بولنے نہیں دیا گیاافغانستان کے وزیروں و رہنماؤں سےملاقات ہوئی ، ان کی طرف سےکوئی سخت رویہ یا پاکستان کے لیے مخالفانہ جذبات محسوس نہیں کیے۔

    جوبائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان صدارتی مباحثہ ہوگا

    انہوں نے کہا کہ جنرل ضیا اور جنرل مشرف نے جو جنگ لڑی وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے لڑی، جنرل ضیا نے مذہب ،سوشل اسٹرکچر اور معاشرہ برباد کر دیا پیسے لے کر افغانستان جنگ کا حصہ بنے رہے، ہمیں خود بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کیوں ہم دو جنگوں کا حصہ بنے، کیا ہمارے فوجی جوان اس طرح ہماری غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔

    پاکستان کرکٹ اور سایہ کارپوریشن کی ہائی جیکنگ

  • نواز شریف کی جنرل باجوہ سے ملاقات کے بیان پر محمد زبیر کو کافی الجھن آ سکتی ہے،ملک احمد خان

    نواز شریف کی جنرل باجوہ سے ملاقات کے بیان پر محمد زبیر کو کافی الجھن آ سکتی ہے،ملک احمد خان

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ سابق ن لیگی رہنما محمد زبیر کی نواز شریف کی جنرل باوجوہ سے لندن ملاقات کی بات جھوٹی ہے۔
    میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کاکہنا تھا کہ زبیر صاحب نے نواز شریف سے متعلق جو بات کی ہے اس کو مسترد کرتا ہوں، وہ ایسی بات کر گئے ہیں جس سے ان کو کافی الجھن آسکتی ہے،جنرل باجوہ کی نواز شریف سے ملاقات تو کیا بات چیت بھی نہیں ہوئی، محمد زبیر نے بے بنیاد بات کی ہے، اس کے قانونی نتائج ہوسکتے ہیں،محمد زبیر بتائیں کب ملاقات ہوئی، کب باجوہ یہاں سے گئے، وہ اس ملاقات کی تفصیلات سامنے لائیں، مجھے ان سے اس بات کی توقع نہیں تھی، پی ٹی آئی والوں نے کہا کہ محمد زبیر کی بات پر جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے، جوڈیشل کمیشن پر جانے سے پہلے محمد زبیر بتائیں کہ کب یہ ملاقات ہوئی۔

    ہمیں حکومت میں پیپلز پارٹی کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، ملک احمد خان
    ملک محمد احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی ملک کو خطرات ہوئے، پوری قوم یکجا ہوئی ہے، نیشنل ایکشن پلان منظور کیا گیا اور اس کےخاطر خواہ نتائج نکلے، دہشت گردی سے نارمل پروسیجر سے ہٹ کر نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، آپ کا آج کے رویہ کا فیصلہ تاریخ کرے گی، آپریشن عزم استحکام کامیاب ہو گا، یہ قوم کی سلامتی اور بقاء کا معاملہ ہے، اسد قیصر کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا، مجھے یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور علی محمد خان دلیل سے بات کر سکتے ہیں، عدلیہ کا ادارہ ایک باوقار ادارہ ہے، دیکھیں کس جماعت کے ساتھ کیا برتاؤ کیسے کیسے ہوتا گیا، ہم نے آئینی عہدوں پر پیپلز پارٹی کو سپورٹ کیا ہے، ہمیں حکومت میں پیپلز پارٹی کی مکمل سپورٹ حاصل ہے،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے سابق رہنما، سابق وفاقی وزیر، محمد زبیر کے بھائی اسد عمر کا کہنا ہے کہ محمد زبیر کو نواز شریف اور جنرل باجوہ کی ملاقاتوں کا علم تھا تو 2 سال پہلے کیوں نہیں بتایا؟۔

    ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ محمد زبیر غلط کہہ رہے ہیں۔ جنرل باجوہ کی کوئی ملاقات میاں نواز شریف سے نہیں ہوئی۔ ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ اسوقت جب ان سے پوچھا جاتا تھا تو وہ انکار کرتے تھے اور آج اندازوں سے شاید اگر مگر میں بات کررہے ہیں

    واضح رہے کہ محمد زبیر نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کی جنرل باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی، مریم نواز نے ان ملاقاتوں کے حوالہ سے بات کرنے سے منع کیا تھا،تحریک عدم اعتماد سے صرف دو ماہ پہلے جنرل باجوہ اور نواز شریف کی ملاقات ہوئی

  • بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر  فریقین کو نوٹسز جاری

    بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے پی ٹی آئی پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی ، لارجر بینچ میں جسٹس شاہد کریم، جسٹس شہرام سرور چوہدری ، جسٹس جواد حسن اور جسٹس رسال حسین شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لینے کا اقدام غیر قانونی تھا،درخواست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائےالیکشن ایکٹ کےسیکشنز 215 ،209 اور 208 سمیت دیگر کو آئین سےمتصادم قرار دیا جائے۔

    ریٹائرڈ ججز کی بطور الیکشن ٹربیونل تعینات کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکا جائے، پاکستان تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان دوبارہ الاٹ کیا جائے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن ایکٹ کی پارٹی کا انتخابی نشان واپس لینے والی شقیں چیلنج کریں، وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 17 کہتا ہے سیاسی جماعت پر دو حوالوں سے پابندی لگائی جا سکتی ہے، پاکستان کی سالمیت اور بقا کی بنا پر کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے سپریم کورٹ میں تقرری پر الوداعی تقریب

    بعدازاں عدالت عالیہ نے بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتےہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

  • محمود اچکزئی کو  سیاسی قیادت سے مذاکرات بارے مکمل اختیارات دینے کا فیصلہ

    محمود اچکزئی کو سیاسی قیادت سے مذاکرات بارے مکمل اختیارات دینے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کے اتحادی محمود اچکزئی کو پی ٹی آئی نے سیاسی قیادت سے مذاکرات بارے مکمل اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا ہے

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی حالیہ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے اتحادی بنے، انہوں‌نے قومی اسمبلی میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا بعد ازاں تحریک انصاف کے جلسوں سے بھی خطاب کیا،اب تحریک انصاف کی سینئر قیادت کی جانب سے اپوزیشن لائنس کے پلیٹ فارمز سے مذاکرات کا مشورہ دیا گیا ہے اور اس ضمن میں محمود خان اچکزئی کو سیاسی قیادت سے مذاکرات کے لئے مکمل اختیار دیا جائے گا،سیاسی قیادت سے روابط سے قبل مذاکرات کی شرائط اور طریقہ کار پر مشاورت ہوگی ،محمود خان اچکزئی مذاکرات کے لئے روابط کا سلسلہ آگے بڑھائیں گے، تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک میثاق پر اتفاق رائے ڈائیلاگ کی بنیاد ہوگا رہنماؤں اور ورکرز کی رہائی کے ساتھ انتخابی عمل کی شفافیت بھی مذاکرات ایجنڈے کا حصہ ہونگے۔عدلیہ، پارلیمان اور ریاستی اداروں کی آئینی حدود مذاکراتی کے نکات میں شامل ہونگی۔پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی قیادت مذاکراتی عمل میں شامل ہوگی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی مذاکرات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور مذاکرات کے لیے اپنے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیں گے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • 9مئی واقعات :پی ٹی آئی کے سابق وزرا سمیت 115 کارکنوں پر فرد جرم عائد

    9مئی واقعات :پی ٹی آئی کے سابق وزرا سمیت 115 کارکنوں پر فرد جرم عائد

    پشاور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9مئی واقعات پر پی ٹی آئی کے سابق وزرا سمیت 115 کارکنوں پر فرد جرم عائد کر دی۔

    باغی ٹی وی :9مئی کو توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے کیس میں عدالت نے سابق وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش پر فرد جرم عائد کردی، ملزمان نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی تھی، ملزمان نے نجی اور سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچایا تھا، ملزمان کے خلاف تھانہ خان رازق شہید میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    عدالت کی جانب سے رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب اور آصف خان سمیت 115 ورکرز پر بھی فرد جرم عائد کی گئی، سابق وزرا اور ممبران اسمبلی سمیت تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 26 جون تک ملتوی کردی۔

    قبل ازیں راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے موٹر وے پر ہنگامہ آرائی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی عبوری ضمانت میں 5 جولائی تک توسیع کر دی اور ملزم کو آئندہ تاریخ پر ہر صورت پیش ہونے کا حکم دے دیا ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی راجہ فیصل رشید نے علی امین گنڈا پور کے خلاف راولپنڈی موٹروے چوک پر ہنگامہ آرائی، کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

    دورانِ سماعت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور مصروفیت کے باعث آج بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے، ان کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ محمد فیصل ملک پیش ہوئے،اس موقع پر علی امین گنڈاپور کے وکیل نے ان کی ایک روز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے دی، جس پر عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی استثنیٰ کی درخواست منطور کرلی، عدالت نے علی امین گنڈا پور کی عبور ی ضمانت میں 5 جولائی تک توسیع کر دی اور ملزم کو آئندہ سماعت پر ہر صورت عدالت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور کے خلاف موٹروے ٹول پلازہ پر گھیراؤجلاؤ کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ نصیر آباد میں مقدمہ درج ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کو مذاکرات کے لیے کوئی خط نہیں لکھا،بیرسٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کو مذاکرات کے لیے کوئی خط نہیں لکھا،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کو مذاکرات کے لیے کوئی خط نہیں لکھا، سپریم کورٹ کے مذاکرات کے آپشن کا جواب بھی پی ٹی آئی دے گی۔

    باغی ٹی وی:اڈیالا جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا آج وکلاء کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی جس میں عمران خان نے کہا بیٹوں سے ان کی بات نہیں کروائی جا رہی بانی پی ٹی آئی کئی بار کہہ چکے میرے ساتھ جو ہوا معاف کرنے کو تیار ہوں، مذاکرات کے راستے کھولے جائیں، آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی سے بات کرکے مذاکرات کا آغاز کریں گے، مذاکرات کرنا پی ٹی آئی کا اپنا فیصلہ ہے لیکن محمود خان اچکزئی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحادہے انھیں اعتماد میں لیں گے، مذاکرات الائنس کی سطح پر بھی ہوں گے، پی ٹی آئی خود بھی آغازکر سکتی ہے۔

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ چیئرمین منتخب

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا مذاکرات کے سوا کوئی آپشن نہیں ہم نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، برف پگھل رہی ہے ہم چاہتے ہیں حالات بہتر ہو جائیں، ہماری مذاکرات کی پیشکش کو کسی ڈیل سے تعبیر نہ کیا جائے۔

    ہم اپنی معیشت کی بحالی اور استحکام چاہتے ہیں،عطا تارڑ