پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کارپوریٹ پوسٹ پیڈ سمز کے اجرا، تصدیق، ایکٹیویشن اور نگرانی سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں پر پاکستان موبائل کمیونیکیشن لمیٹڈ (جاز) پر 3 کروڑ 89 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
پی ٹی اے کے مطابق کارروائی ٹارگٹ مارکیٹنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی شکایت پر کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ تقریباً 400 کارپوریٹ سمز کمپنی کی درخواست، منظوری، رضامندی یا اجازت کے بغیر اس کے نام پر جاری کی گئیں۔
شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بعد ازاں اسے تھرڈ پارٹی ریکوری ایجنسی کے ذریعے 6 لاکھ 26 ہزار 360 روپے سے زائد کے واجبات کی وصولی کا نوٹس بھی موصول ہوا،کمپنی کے مطابق مذکورہ سمز اس کی لاعلمی اور منظوری کے بغیر ایک طویل عرصے تک فعال رہیں۔
پی ٹی اے نے شکایت پر جاز سے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا، تاہم اتھارٹی کے مطابق کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ نامکمل تھا اور اس میں لازمی کارپو ریٹ اجازت ناموں اور اینڈ یوزر کی اسناد سے متعلق دستاویزات موجود نہیں تھیں،جاز نے این ٹی این سرٹیفکیٹ، ایک پرانا کاروباری معاہدہ، ایک رابطہ شخص کی تفصیلات اور 400 سمز کی فہرست فراہم کی-
تاہم پی ٹی اے کے مطابق یہ ریکارڈ کارپوریٹ سمز کے صارفین کی مکمل تصدیق اور ان کی شناخت سے متعلق لازمی تقاضوں کی تکمیل ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھا، کارپوریٹ سمز کے اجرا کے بعد بھی آپریٹر پر تصدیق، نگرانی اور صارفین کی شناخت کو قابلِ سراغ رکھنے کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے،یہ ذمہ داری کارپوریٹ صارفین، فرنچائزز، سیلز چینلز یا مجاز نمائندوں کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔
پی ٹی اے نے جاز کا یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ معاملہ بنیادی طور پر بلنگ یا تجارتی تنازع ہے،معاملہ کارپوریٹ سمز کے اجرا، تصدیق اور بعد از اجرا نگرانی سے متعلق لازمی ریگولیٹری تقاضوں کی عدم تعمیل کا ہے۔
پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ جاز متعلقہ سبسکرائبرز ریگولیشنز اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کے تحت کارپوریٹ سمز کے اجرا، تصدیق، ایکٹیویشن اور نگرانی سے متعلق تقاضوں کی پابندی یقینی بنانے میں ناکام رہااتھارٹی نے جاز کو 3 کروڑ 89 لاکھ روپے جرمانہ 30 روز کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، مقررہ مدت میں رقم جمع نہ کرانے کی صورت میں قانون کے تحت مزید کارروائی کی جائے گی۔
