Baaghi TV

Tag: پی ٹی اے

  • ٹک ٹاک کا  پی ٹی اے کے تعاون سے مقابلہ منعقد کرانے کا اعلان

    ٹک ٹاک کا پی ٹی اے کے تعاون سے مقابلہ منعقد کرانے کا اعلان

    اسلام آباد:ویڈیو شئیرنگ ایپ ٹک ٹاک نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے تعاون سے نوجوانوں کیلئے ایک مقابلہ منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے تعاون سے نوجوانوں میں ڈیجیٹل سیفٹی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل حفاظت (DigitalHifazat#) نامی مقابلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ،اس مقابلے کے تحت ٹک ٹاک صارفین کو ایسی مختصر ویڈیوز تیار کرنی ہوں گی جن میں 6 موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہو-

    ان موضوعات میں سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال، آن لائن ہراس کا مقابلہ، آن لائن دھوکہ دہی کی روک تھام، نوجوانوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا، ٹک ٹاک کے سیفٹی ٹولز کو سمجھنا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کا تدارک شامل ہیں-

    پاکستان میں سب سے پہلے آصفہ بھٹو کو پولیو ویکسین پلائی گئی،بلاول بھٹو

    ٹک ٹاک پر مقابلے کے آفیشل ہیش ٹیگ پیج پر فارم بھر کر ویڈیوز کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہے 20 اکتوبر سے 5 نومبر 2024 تک جاری رہنے والے مقابلے کے نتائج کا اعلان آفیشل ہیش ٹیگ پیج پر کیا جائے گا اور 3 افراد کو انعامات بھی دئیے جائیں گے۔

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں وکلا کی ملاقات کا فیصلہ

  • پی ٹی اے کا سموں کے غیر قانونی اجراء پر  کریک ڈاؤن جاری

    پی ٹی اے کا سموں کے غیر قانونی اجراء پر کریک ڈاؤن جاری

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زونل آفس لاہور کی جانب سے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سائبر کرائم سرکل، لاہور کے تعاون سے سموں کے غیر قانونی اجراء پر چھاپوں کا تسلسل کامیابی سے جاری ہے ۔

    لاہور کے مختلف مقامات پر لگاتار چار کامیاب چھاپے مارے گئے جن میں فیروز پور روڈ اور جوہر ٹاؤن پر زونگ کی دو فرنچائزز بھی شامل ہیں۔ چھاپوں کے دوران ایف آئی اے سی سی آر سی ٹیم نے ثبوت کے طور پر 7 مشتبہ بی وی ایس ڈیوائسز، 3 موبائل فونز، 50 مشکوک سمیں اور 1 لیپ ٹاپ برآمد کر کے قبضے میں لے لیا ۔ایف آئی اے نے فنگر پرنٹ سکین کرنے والے گروہ کے اہم کارکن کو بھی گرفتار کر لیا۔ فرنچائزز کے منیجرز، زونگ بزنس ڈویلپمنٹ آفیسر (BDO) اور DSO سمیت چار دیگر افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ایجنسی کی جانب سے دو ایف آئی آر درج کی گئیں نیز ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے کیس کی مزید تحقیقات تاہم جاری ہیں ۔

    واضح رہے کہ کریک ڈاؤن کا یہ تسلسل پی ٹی اے کی سموں کے غیر قانونی اجراء کی روک تھام کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہیں جس سے اتھارٹی کا عزم ظاہر ہوتا ہے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

    بچوں کی دینی تعلیم کے نام پر نازیبا ویڈیو بنانے والا گرفتار ، 497 ویڈیوز برآمد

    خواتین اداکاروں کی کپڑے بدلنے کے دوران نازیبا ویڈیو بنائے جانے کا انکشاف

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

  • سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق رپورٹ جمع

    سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق رپورٹ جمع

    پشاور: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پشاور ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر غیر اخلاقی مواد سے متعلق رپورٹ جمع کرادی۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے کے مطابق 2020 سے اب تک 1 لاکھ 14 ہزار 15 غیر اخلاقی مواد ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ہوئے، ایک لاکھ 13 ہزار 133 اکاؤنٹس بلاک کیےگئے، 2 ہزار 463 مواد مذہب کے خلاف اپ لوڈ ہوئے جنہیں بلاک کیا گیا، رواں سال 25 ہزار 267 غیر اخلاقی مواد ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ہوئے، رواں سال 24 ہزار 800 اکاؤنٹس کو بلاک کیا گیا-

    فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ایکس(ٹیوٹر) اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 13 لاکھ 89 ہزار 181 غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ ہوا جس میں سے 13 لاکھ 3 ہزار 578 لنکس بلاک کئے گئےفیس بک کے 1 لاکھ 47 ہزار 579، انسٹاگرام پر 22 ہزار 357، اسنیک ویڈیو پر 6 ہزار 728 268، ٹک ٹاک کے 1 لاکھ 25 ہزار 600، یوٹیوب کے 53 ہزار 162، ایکس پر 53 ہزار 842 لنکس بلاک کے گئے۔

    واضح رہےکہ ٹک ٹاک بندش سے متعلق کیس میں عدالت نے پی ٹی اے سے جواب طلب کیا تھا۔

    بہت ہو گیا،اب سر پر کفن باندھ کر نکلیں گے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    شاہ رخ خان کی سالگرہ،مداحوں کے پیغام،زندگی بارے دلچسپ واقعات

    مسجد پڑھنے جانیوالی 13 سالہ بچی قاری کی جنسی زیادتی کے بعد ہوئی حاملہ

  • سیکیورٹی ایجنسیاں ہمیں نہیں کہتی سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ بند کیا جائے،چئیرمین پی ٹی اے

    سیکیورٹی ایجنسیاں ہمیں نہیں کہتی سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ بند کیا جائے،چئیرمین پی ٹی اے

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں جس دن حکومت کہے گی ہم ایکس کو کھول دیں گے،ہر ملک کے سیکیورٹی تحفظات ہوتے ہیں، قومی سلامتی ایک ضرورت ہوتی ہے جس کو حکومت دیکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین پی ٹی اے ن میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت یا وزارتِ داخلہ اگر ایکس بند کرنے کی ہدایت دے تو ہم اس سے سوال نہیں اٹھاسکتے، ہدایت پر ہم ایکس بند کرنے کے پابند ہیں، ہمیں جس دن حکومت کہے گی ہم کھول دیں گے۔

    میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا کہ لوگ گوگل پر سرچ کرکے دیکھ لیں کہ ایشیاء میں انٹرنیٹ کب کب اور کتنا بند ہوا، 2022 میں انڈیا میں 24مرتبہ جبکہ پاکستان میں ایک بار انٹر نیٹ بند ہوا، 2023میں انڈیا میں 116بار انٹر نیٹ بند ہوا، فرانس میں جو واقعہ پیش آیا اس وقت کتنے دن انٹرنیٹ بند رہا، بنگلہ دیش کے آخری انتخابات میں کیا انٹرنیٹ بند نہیں ہوا، ہم اس کی حمایت نہیں کرتے مگر ہر ملک کے سیکیورٹی تحفظات ہوتے ہیں، قومی سلامتی ایک ضرورت ہوتی ہے جس کو حکومت دیکھتی ہے۔

    میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا کہ پنجگور میں اس وقت ڈیٹا بند ہے، مجھ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو میں نے کہا متعلقہ کورکمانڈر اور وزارت داخلہ سے پوچھیں ،ہمیں جب کہیں گے ہم کھول دیں گے، قومی سلامتی سے متعلق فیصلے حکومت اور وزارت داخلہ کو کرنے ہوتے ہیں ہمارے پاس شکایات کا میکنزم ہے، یومیہ شکایات موصول ہوتی ہیں، جہاں سوشل میڈیا پر خلاف ورزی ہوتی ہے تو ہم پیکا قانون سمیت دیگر متعلقہ قوانین دیکھتے ہیں، سوشل میڈیا ویب سائٹس ہمارے ساتھ مکمل تعاون کرتی ہیں اور اس کا 93 فیصد کمپلائںس ہے۔

    چئیرمین پی ٹی اے نے کہا کہ آج تک کسی سیکیورٹی ایجنسی نے ہمیں کوئی خط نہیں لکھا، سیکیورٹی ایجنسیاں ہمیں نہیں کہتی سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ بند کیا جائے، ہمیں عدالت حکم دیتی ہے یا وزارت داخلہ کہتی ہے، ابھی ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ ہوئے تو ہمیں کہا گیا کہ انٹر نیٹ سروس بند کریں ہم نے انکار کردیا، اسی طرح ایف پی ایس سی کے سربراہ نے انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا کہا ہم نے انہیں بھی انکار کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے سم بلاک کرنے کا کہنا بطور ریگولیٹر ہم نے اس سے بھی انکار کردیا، اس پر وزیر خزانہ نے ہمیں بلایا وہاں بھی ہم نے اپنا مؤقف انہیں بتایا اس پر وہ ناراض بھی ہوئے، بعد میں ایف بی آر اور ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان کوئی ارینجمنٹ ہوا تو اسکے مطابق وہ خود سے کام کررہے ہیں، ابھی چند دن قبل موبائل سم شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک کرنے کا کہا اس سے بھی انکار کردیا، پی ٹی اے کا مؤقف واضح ہے۔

    میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا کہ اپریل میں جب فائیو جی کی نیلامی ہوجائے گی تو اس سے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے، اسی طرح جب فائبرائزیشن مکمل ہو جائے گی تو اس سے بھی مسائل حل ہو جائیں گے، پچھلے پانچ سال میں انڈیا نے فائبر بچھانے پر تیرہ ارب ڈالر خرچ کئے ہیں، پاکستان بھی اب نیشنل فائبرائزیشن پلان تیار کررہا ہے، چائنیز کمپنی پاکستان آئی ہوئی ہے، توقع ہے کہ اگلے سال فائبرائزئشن مین بہتری آئے گی، فائیو جی پر کام ایڈوانس مرحلے میں ہے۔

  • پی ٹی اے کا مزید سمیں بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی اے کا مزید سمیں بند کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے فوت شدہ لوگوں کے شناختی کارڈز پر جاری سمیں 15 اکتوبر سے بلاک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فوت شدہ لوگوں کے شناختی کارڈز پر جاری تمام سمیں استعمال کرنے والوں کو فوری طور سمیں اپنے نام منتقل کروالیں مقررہ معیاد کے بعد کے بعد ایسی تمام سمیں بند کردی جائیں گی جو فوت شدہ لوگوں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبر پر جاری ہوئی تھیں۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایسی سمیں استعمال کرنے والوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ یہ سمیں اپنے نام منتقل کروالیں، یہ سمیں اپنے نام ٹرانسفر کروانے کیلیے صارفین کو فوت شدہ اپنے عزیز کے اصل ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور فوت شدہ کے ساتھ رشتے کے سرکاری ثبوت کی کاپی کے ہمراہ قریبی فرنچائز سے رابطہ کرنا ہوگا، متعلقہ فرنچائز دستاویزات کی تصدیق کے بعد سم فوت شدہ شخص کے سی این آئی سی پر جاری شدہ سم اس کے عزیز کے نام منتقل کرے گی۔

    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر

    ایرانی ہیکرز نےجو بائیڈن کو ٹرمپ کی انتخابی مہم سے چوری شدہ مواد بھیجا

    توشہ خانہ ٹو کیس :عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواست کا …

  • پی ٹی اے کا ایکس بندش نوٹیفکیشن پر یوٹرن

    پی ٹی اے کا ایکس بندش نوٹیفکیشن پر یوٹرن

    پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایکس (ٹوئٹر) کی بندش کے نوٹیفکیشن پر یوٹرن لے لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے عدالت سے حکم نامہ واپس لینے یا ترمیم کی استدعا کردی، ڈپٹی ڈائریکٹر لا پی ٹی اے علی اکبر، وکیل احسن امام نے حلف نامے جمع کروادیے۔واضح رہے کہ 12 ستمبر کو پی ٹی اے وکیل نے بیان دیا تھا کہ ایکس پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جاچکا ہے۔تاہم اب ڈپٹی ڈائریکٹر لا نے مؤقف اپنایا کہ وزارت داخلہ نے بندش سے متعلق نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا، ایکس کی بندش سے متعلق نوٹیفکیشن تاحال موجود ہے۔علی اکبر نے کہا کہ نوٹیفکیشن کی واپسی سے متعلق 12 ستمبر کا بیان غلط فہمی پر جاری ہوا تھا، اسی بینچ کے روبرو ایک اور کیس بھی زیر سماعت ہے، کیس میں اسٹیرنگ کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن واپس لیا گیا ہے۔

    پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی درخواست دائر کرئے گا

    انہوں نے بتایا کہ غلطی سے دونوں کیسز مل گئے اور اس کیس میں نوٹیفکیشن واپس لینے کا بیان جاری ہوا، مذکورہ بیان حقائق کے برخلاف ہے اس کے نتائج بہت اہم ہوسکتے ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے کئی مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے لیے مقرر ہوتے ہیں، مقدمات کے دباؤ کے باعث غیر ارادی طور پر غلطی ہوئی۔علاوہ ازیں پی ٹی اے نے عدالت سے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا بھی کردی۔

  • انٹرنیٹ مٰیں سست روی، وزیر مملکت نے تسلیم کر لیا

    انٹرنیٹ مٰیں سست روی، وزیر مملکت نے تسلیم کر لیا

    وزیر مملکت شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ سست روی کا شکار ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی اے ویب مینجمنٹ سسٹم آپریٹ کررہا ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ سائبر پرائیویسی کو یقنیی بنائیں گے، ڈیٹا پروٹیکشن قانون لارہے ہیں جس سے صارفین کو تحفظ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی ہدایت پر ایکس بند ہے، اس وقت دہشت گردی یا قومی سیکیورٹی کے چیلنجز ہیں، ابھی آئی پیز، وی پی این کو رجسٹر کرنے کی مہم شروع کی ہے، اس سیکیورٹی سے بزنس پر اثر نہ ہو اس کا خیال رکھا جاتا ہے۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ مالی فراڈ کی وجہ سے باہر سے بزنس نہیں آرہا کیونکہ وہ کہتے ہیں یہاں ڈیٹا کا تحفظ نہیں ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ پی ٹی اے نے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی ہے کہ سیکٹر کےلیے درآمدی پابندیاں نرم کی جائیں اور ٹیلی کام سیکٹر کے آلات کو ترجیحی ضروری اشیاء قرار دیا جائے۔

    جنسی زیادتی کرنے والے ہالی ووڈ پروڈیوسر پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز وزیرمملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ کے حوالے سے عوام میں بےچینی پائی جا رہی ہے لیکن ’ملک میں انٹرنیٹ کو سرکاری سطح پر بند کیا گیا نہ ہی اس کی رفتار سست کی گئی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’جب وی پی این آن کرتے ہیں تو لوکل سی بی این کو بائی پاس کر کے آپ لائیو سرور پر چلے جاتے ہیں اور وی پی این آن کرتے ہیں تو دور کے سرور سے ڈائریکٹ کنیکٹ ہوتے ہیں۔ لوگوں کے اتنی زیادہ تعداد میں لائیو سرور پر جانے سے لائیو انٹرنیٹ پر پریشر پڑتا ہے تو انٹرنیٹ سلو ہو جاتا ہے۔‘

    فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان کی اپیلوں پر سماعت ملتوی

  • پاکستان میں انٹرنیٹ اکتوبر تک ٹھیک ہونے کا امکان

    پاکستان میں انٹرنیٹ اکتوبر تک ٹھیک ہونے کا امکان

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست روی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، پی ٹی اے نے نیا بیان جاری کر دیا

    ترجمان پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں جاری انٹرنیٹ کی سست روی کی بنیادی وجہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جوڑنے والی سات بین الاقوامی سب میرین کیبلز میں سے دو (SMW4، AAE-1) میں خرابی ہے .واضح رہے کہ ایس ایم ڈبلیو4 سب میرین کیبل میں خرابی اکتوبر 2024 کے اوائل تک ٹھیک ہونے کا امکان ہے۔ جب کہ سب میرین کیبل اے اے ای – 1 کی مرمت کر دی گئی ہے جس سے انٹرنیٹ کی موجودہ صورتحال میں بہتری آئے گی۔

    دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں ایکس اور انٹرنیٹ کی بندش کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ وکیل درخواست گزار عبد المعیز جعفری ،جبران ناصر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ضیاء مخدوم ایڈووکیٹ اور دیگربھی عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار وکیل نے کہا کہ ایکس کی غیر قانونی بندش کو چیلنچ کیا گیا ہے، عدالتی احکامات کے باوجود ایکس بند ہے۔ توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے جج کو کہا کہ عدالت نے درخواست گزار وکیل کو مطمئن کرنے کا کہا تھا جس پر درخواست گزار کے وکیل عبد المعیز جعفری ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کو تیار ہیں۔ جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے کہا کہ ریگولر بینچ ہی اس کیس کو سنے گا اور کیس کی مزید سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔

    50 فیصد سے زیادہ آبادی اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہے،یوسف رضا گیلانی

    انٹرنیٹ سست روی،3 ستمبر تک تفیصلی رپورٹ طلب

    انٹرنیٹ سروس سب میرین کیبل میں فالٹ کی وجہ سے متاثر ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کی وارننگ

    انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستانی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: پی ایس ایچ اے

    انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز کے شدید تعطل نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، سوشل میڈیا صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق، واٹس ایپ سمیت دیگر مقبول سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بھی سست روی کا شکار ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز کے اس تعطل نے شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ پر پیغامات ڈاؤن لوڈ نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

  • ٹویٹر کی بندش،سیکرٹری آئی ٹی کی بھرتی کیلئے اشتہار،قائمہ کمیٹی برہم

    ٹویٹر کی بندش،سیکرٹری آئی ٹی کی بھرتی کیلئے اشتہار،قائمہ کمیٹی برہم

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے ٹویٹر کی بندش پر سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری آئی ٹی کی بھرتی کے لیے اشتہار پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو طلب کرلیا، فائر وال پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ نہ دینے اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دینے پر کمیٹی نے چیئرمین پی ٹی اے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ،سینیٹر انوشہ رحمان نے کہاکہ وزارت داخلہ کے احکامات کے باوجود ٹویٹر بند نہیں ہے ایک دو یا دس فائر وال بھی لگانی پڑیں تو لگائیں اور ٹویٹر کو بند کریں

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت ہوا۔ وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ اور چیئرمین پی ٹی اے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،اجلاس میں قائمہ کمیٹی میں پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا 7 ممبران پر مشتمل بورڈ ہوتا ہے۔ سی ای او کا عہدہ خالی ہے ۔75ہزار آئی ٹی گریجویٹ ہر سال نکلتے ہیں 5کھرب ڈالر کی دنیا کی آئی ٹی مارکیٹ ہے۔ پاکستان کا صفر عشیاریہ صفر 4فیصد پاکستان کا حصہ ہے ۔پچھلے چار سالوں میں ایک ارب ڈالر آئی ٹی کی برامدات بڑھی ہیں۔بھارت کی 194ارب ڈالر جبکہ پاکستان 3.2ارب ڈالر کی برآمدات سالانہ ہوئی ہیں۔ 10فیصد ٹریننگ خواتین کو دے رہے ہیں ۔26 ہزار پاکستان میں آئی ٹی کمپنیاں ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں گلوبل آئی ٹی مارکیٹ 5 ٹریلین ڈالر ہے، پاکستان 0 عشاریہ 04 فیصد سے بھی کم درجہ پر ہے،رواں سال آئی ٹی مصنوعات کی 24 عشاریہ 16 فیصد آئی ٹی گروتھ ہے،گزشتہ سال پاکستان کی آئی ٹی گروتھ 24 فیصد تھی،پاکستان کی ایکسپورٹ مارکیٹ 54 فیصد امریکا، 21 فیصد یورپ، 10 فیصد خلیجی ممالک، 14 فیصد ایشیا پیسیفک ریجن میں ہے،ویب ڈیزائننگ سروسز کی پاکستانی 2124 کمپنیاں سروسز دے رہی ہے،نیٹ ورک سیکورٹی کی 452، ڈیٹا سٹوریج اینڈ مینجمنٹ کی 616 کمپنیاں ایکسپورٹ کررہی ہیں،آئی ٹی کنسلٹنٹنگ کی پاکستان میں سب سے زیادہ کمپنیاں3463 کمپنیاں سروسز دے رہی ہیں، سوشل میڈیا کنسلٹنٹنگ کی 870 کمپنیاں بیرون ممالک سروسز دے رہی ہیں،ای میل مارکیٹنگ کی 465 جبکہ آئی ٹی ہیلپ ڈیسک کی 664 کمپنیاں کام کررہی ہیں،کلاوڈ سروس کی 940 اور ریپئیر سروس کی 81 کمپنیاں سروسز فراہم کررہی ہیں۔چیئرپرسن پلوشہ خان نے آئی ٹی کی تربیت دینے والے تمام اداروں کے تعلیم کے معیار پر رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت طلبا کو ملنے والی انٹرن شپ اور وظائف کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں۔

    اسلام آباد آئی ٹی پارک اتنا تاخیر کا شکار کیوں ؟ انوشہ رحمان
    حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق 19 ہزار طلباء کو ہم سرٹیفیکیشن کروانے جارہے ہیں،سینیٹر انوشہ رحمن نےپاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے اعدادوشمار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آئی ٹی وزارت 2002 میں بنی تھی اور ان کی گنتی 2018 سے شروع ہورہی ہے، آپ کو مکمل ڈیٹا لانے کا کہا تھا آپ 3 سال کا ڈیٹا لے آتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام اسکے طریقہ کار اور موجود طلبا کی تعداد کی تفصیلات طلب کرلیں۔قائمہ کمیٹی نے ایس ٹی پیز اور پی ایس ای بیز سینٹرز کو ملنے والی گرانٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی کراچی آئی ٹی پارک پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی آئی ٹی پارک پر 187 ملین ڈالر کی لاگت آئی گی جس ایگزم بنک سے گزشتہ سال معاہدہ ہوا ہے، کراچی آئی ٹی پارک کا ڈیزائن مکمل کرلیا گیا ہے، سینیٹر انوشہ رحمن نے کہاکہ اسلام آباد آئی ٹی پارک اتنا تاخیر کا شکار کیوں ہے؟اسلام آباد آئی ٹی پارک کا ایگزم بینک کے ساتھ معاہدہ تو 2018 میں ہوگیا تھا مکمل کیوں نہ ہوا؟ حکام نے بتایا کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تکمیل کا وقت جون 2025 ہے کوشش ہے فروری 2025 میں منصوبہ مکمل ہو جائے، کورین فنڈنگ کمپنی کی وجہ سے اسلام آباد آئی ٹی پارک کا منصوبہ تاخیر ہوا، کنسٹرکٹر نے کچھ ایشو پیدا کئے ہیں جسکی وجہ سے التوا ہے، اسلام آباد آئی ٹی پارک کی تکمیل کا سال 2025 ہی ہے، سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ سی ڈی اے نے زمین تاخیر سے دی جسکی وجہ سے آئی ٹی پارک کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا، سیکرٹری نے کہاکہ اسلام آباد آئی ٹی پارک کے منصوبہ میں کوئی التوا نہیں ہے۔

    چھ سالوں میں چھ آئی ٹی سیکرٹری تبدیل،ہمیں کوئی ماہر بندہ نہیں ملا،حکام،
    وفاقی سیکرٹری وزارت آئی ٹی نجی شعبہ سے لینے کے لئے اشتہار دیئے جانے کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں زیر غور آیا۔سیکرٹری آئی ٹی کی بھرتی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ جولائی 2019 سے جولائی 2024 تک وزارت آئی ٹی میں 6 وفاقی سیکرٹری کے تبادلے تقرری کئے گئے ہیں، سینیٹر افنان اللہ نے کہاکہ ہر 6 ماہ میں ایک سیکرٹری تبدیل ہورہا ہے، چئیرپرسن قائمہ کمیٹی پلوشہ خان نے کہا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ حکام نے بتایا کہ ہمیں ان 6 سالوں میں کوئی آئی ٹی ٹیلی کام کا ماہر افسر نہیں مل سکا۔ پلوشہ خان نے کہا کہ 21 اور 22 کے افسران میں راشد لنگڑیال تو انجنئیر ہیں اور ایف بی آر میں ہیں۔آپکے پاس قابل افسر نہیں ہے؟آپکا فیڈرل پول کہاں ہے؟ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ یہ تو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اپنا کیس خود خراب کررہی ہے،کیا سی ایس ایس کرنے والا اس عہدے کے قبل ہی نہیں؟سینیٹر پلوشہ نے کہاکہ آپ 20 لاکھ روپے تنخواہ پر کس کو سیکرٹری لانا چاہتے ہیں؟سیکرٹری آئی ٹی کے لئے ایس پی پی ایس سے کس نے کہا بھرتی کی جائے، گزشتہ اجلاس میں آئی ٹی منسٹر نے کہا تھا کہ یہ مشورہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا ہے،حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم کی منظوری سے اشتہار دیا گیا ہے،۔سینیٹر افنان اللہ نے کہاکہ عجیب صورتحال ہے کہ کوئی افسر ہی اس قابل نہیں کہ سیکرٹری آئی ٹی لگایا جاسکے، انوشہ رحمان نے کہاکہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی صرف آئی ٹی نہیں بلکہ ٹیلی کام بھی ہے،وزارت آئی ٹی کے پاس 8 اہم آسامیاں ہیں، جو اسپیشلسٹ ہیں،اگر یہ سب قابل نہیں تو کیا گزشتہ 4 سال سفارشی بھرتی ہوتے رہے ہیں،اپنے عزیز و اقارب کو بھرتی کیا جاتا رہا ہے؟ افنان اللہ نے کہاکہ اب بھی کوئی سفارشی ہی بھرتی ہوگا جسے فائنل کیا ہوا ہوگا،قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو تمام تفصیلات کے ساتھ طلب کرلیا۔

    ٹویٹر ہمارے شکایات پر بہت کم عمل درآمد کرتا ہے،وزارت داخلہ بتا سکتی ہے کہ ایکس کیوں بند ہے،حکام
    ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے پر پی ٹی اے حکام نے بریفنگ دی ۔چیئرمین پی ٹی اے کی عدم موجودگی پر قائمہ کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا. سینیٹر افنان اللہ نے کہاکہ ہمیں گزشتہ اجلاس میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے پر بریفنگ نہیں دی گئی، کل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں چیئرمین پی ٹی اے نے پوری بریفنگ دے دی، حکام نے بتایا کہ 18 جون کو ایک سب میرین کیبل میں فالٹ آیا تھاٹوٹل سب میرین کیبل 7 پاکستان کو لنک کرتی ہیں،تمام مجموعی ڈیٹا 3 عشاریہ 5 ٹیرابائیٹ فی سیکنڈ کیپسٹی ہے،1 عشاریہ 5 ٹیرابائیٹ کیپسی ایک کیبل میں خرابی کی وجہ سے کمپرومائز ہے، لوگ جب وی پی این استعمال کرتے ہیں تو اسکا اثر بھی آتا ہے، پے لوڈ بڑھنے سے انٹرنیٹ سروس میں خلل آیا ہے، پی ٹی اے خود سے بند نہیں کرتا بلکہ وزارت داخلہ کی ہدایت پر بند کیا جاتا ہے،ویب مینجمنٹ سسٹم کی اپگریڈیشن پر کام چل رہا ہے، سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ یہ اپگریڈیشن کب مکمل ہوگی تاریخ دیدیں،ٹوئیٹر پر پابندی کیوں لگی؟ حکام نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم باہر ہیں جب کوئی سیکورٹی ہائی نفرت انگیز مواد کی شکایت آتی ہے تو مسائل ہوتے ہیں،ٹویٹر ہمارے شکایات پر بہت کم عمل درآمد کرتا ہے، ٹوئیٹر مکمل بند ہم نے نہیں وزارت داخلہ کی ہدایات پر کیا، انوشہ رحمان نے کہاکہ پی ٹی اے بتائے کہ ایکس بند ہوا تو کیا ایکس بند ہوگیا ہے؟ حکام نے بتایا کہ وی پی این کا استعمال کیا جاتا ہے،اکثریت لوگوں کے پاس ایکس کی رسائی مشکل ہے، جو وی پی این لگاتے ہیں انکی رسائی ایکس تک ہوتی ہے، انوشہ رحمان نے کہاکہ وی پی این کو انسٹال کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ حکام نے بتایا کہ وزارت داخلہ بتا سکتی ہے کہ ایکس کیوں بند ہے، قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ٹوئیٹر کی بندش پر تفصیلی طلب کرلی ایل ڈی آئی معاملے پر متعلقہ حکام کی عدم شرکت کے باعث ایجنڈا آئندہ اجلاس تک موخر کردیا گیا

    خدارا وی پی این مت بند کیجیے گا ،سینیٹر افنان اللہ کی پی ٹی اے حکام سے درخواست
    سینیٹر افنان اللہ نے پی ٹی اے حکام سے درخواست کی کہ وی پی این بلاک مت کیجئے گا، سینیٹر افنان اللہ کی بات پر قائمہ کمیٹی میں قہقہے لگ گئے ، انوشہ رحمان نے کہاکہ ٹویٹر جب چل رہا ہے تو ایسے اقدامات کا کیا فائدہ ہے؟ اگر حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرنا ہے تو 10 فائر وال بھی لگانا ہوں تو لگائیں، کیا پی ٹی اے نے کبھی وزارتِ داخلہ کو یہ بتایا ہے کہ ہم ایک ایپ بند نہیں کر سکتے ، کیا دُنیا میں کسی اور مُلک میں ایسا ہے کہ کوئی ایپ بند کر دیں ، حکام نے بتایا کہ یو اے ای میں وٹس ایپ کال بند ہے وہاں بھی لوگ وی پی این استعمال کر کے کال کرتے ہیں ، انوشہ رحمان نے کہاکہ آپ کی انھیں حرکتوں کی وجہ سے ایکس آپ کی بات نہیں مانتا ۔چئیرپرسن کمیٹی پلوشہ خان پی ٹی اے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میں نے اکیس کسلٹنٹس کے نام اور تنخواہیں پوچھی تھیں ،آپ ہمیں بے وقوف نہ بنائیں ، آپ ہمیں یہ کیا دکھا رہے ہیں ، نام کیوں نہیں لاۓ ؟

    رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کی سعودی سفیر نواف سے ملاقات

    خواہش ہے پاکستان اور امریکہ کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ شزہ فاطمہ

    وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ سے سی ای او تاون، وطین کی ملاقات

    سیکرٹری آئی ٹی قائمہ کمیٹی سے گئے تو کل تبادلہ کر دیا گیا،امین الحق

    قومی خزانے کو 42 ارب سے زیادہ کا نقصان ، وزارت آئی ٹی سےرپورٹ طلب

    انٹرنیٹ سروس سب میرین کیبل میں فالٹ کی وجہ سے متاثر ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کی وارننگ

    انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستانی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: پی ایس ایچ اے

    انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    فائر وال منصوبہ کی پی ٹی آئی حکومت نے منظوری دی تھی،چیئرمین پی ٹی اے

  • انٹرنیٹ سروس سب میرین کیبل میں فالٹ کی وجہ سے متاثر ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ سروس سب میرین کیبل میں فالٹ کی وجہ سے متاثر ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا،

    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے کہا کہ 27 اگست تک کا وقت ہے وہ کیبل ٹھیک ہوجائے گی، اس صورتحال پر وی پی این کے استعمال سے مقامی انٹرنیٹ ڈاؤن ہوا، بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ دنیا میں دیگر ممالک میں بھی زیر سمندر کیبل متاثر ہے یا صرف پاکستان کی کیبل متاثر ہے؟چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پاکستان کی سب میرین کیبل متاثر ہے، ٹیلی کام سیکٹر کو 6 روز میں 300 ملین روپے کا نقصان ہوا،وفاقی حکومت نے حکم دیا کہ فائر وال لگائی جائے، پی ٹی اے عمل کررہا ہے، قائمہ کمیٹی ٹیکنالوجی نے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری آئی ٹی سے فائر وال پر تکنیکی بریفنگ طلب کرلی.

    قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران راکین نے وی پی این کے استعمال کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے،چیئرمین پی ٹی اے نے اجلاس میں کہا کہ دنیا بھر میں وی پی این بند نہیں کیے جاتے، تاہم پاکستان میں ان کی رجسٹریشن کروانے کا کہا گیا ہے، ارباب عالمگیر نے چیئرمین پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ فائر وال پر اتنا ابہام پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی، اتنا نقصان اُٹھایا گیا، اور ابھی تک ہمیں واضح جواب نہیں ملا، چیئرمین پی ٹی اے کے بیانات میں تضاد ہےایک طرف کہتے ہیں کہ ان کا تعلق صرف ٹیلی کام سیکٹر سے ہے، دوسری طرف سوشل میڈیا کی بندش کے حوالے سے بھی وہی وضاحت دے رہے ہیں، فائر وال کا اسکوپ کیا ہے؟ ایکس سروس کا تعلق ٹیلی کام سے نہیں ہے، مگر اسے بھی بند کیا گیا،پیکا ایکٹ میں واضح ہے کہ سوشل میڈیا کو مینیج کرنا پی ٹی اے کی ذمہ داری ہے اور چیئرمین پی ٹی اے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں مواد ہٹانے یا بند کرنے کا اختیار حاصل ہے،

    فائر وال کی جزیات کیا ہیں اور عوام کو اس کے نقصانات سے کیوں آگاہ نہیں کیا جا رہا؟ارباب عالمگیر
    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فائر وال ہم چلا رہے ہیں اور اس کا حکم وفاقی حکومت نے دیا ہے، فائر وال کی مکمل وضاحت وفاقی حکومت دے سکتی ہے،ارباب عالمگیر نے کہا کہ فائر وال کی جزیات کیا ہیں اور عوام کو اس کے نقصانات سے کیوں آگاہ نہیں کیا جا رہا؟چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ فائروال کا تصور 1990 کی دہائی میں آیا تھا، مینجمنٹ سسٹم کو نیشنل فائروال سسٹم کے ذریعے اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ مارچ 2019 میں کیا تھا،چیئرمین کمیٹی سید امین الحق نے اس معاملے پر آئندہ اجلاس میں مکمل بریفنگ کی ہدایت کی جبکہ وزارت آئی ٹی کی تکنیکی تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں.

    اجلاس کے دوران وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ممبر آئی ٹی نے بتایا کہ آئی ٹی کی صنعت بڑی حد تک غیر منظّم ہے، کمپنیوں اور فری لانسرز کا اتنی جلدی نقصانات کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا،چیئرمین کمیٹی سید امین الحق نے وزارت آئی ٹی کے ممبر جنید امام کو ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں آئی ٹی سیکٹر، ٹیلی کام سیکٹر اور انڈسٹری کو پہنچنے والے نقصانات کا مکمل تخمینہ پیش کیا جائے،اراکین نے زور دیا کہ وی پی این کے استعمال سے انٹرنیٹ ڈاؤن ہونے کی وضاحت کو عوام تسلیم نہیں کر رہی اور اس مسئلے پر مزید تفصیلی بریفنگ کی ضرورت ہے۔

    انٹرنیٹ ایک قومی مسئلہ ، اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، ذوالفقار بھٹی
    اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے فون ٹیپنگ کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ایسی صلاحیت موجود ہے تو اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں،جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اس سوال کا جواب وفاقی حکومت یا متعلقہ ادارے دے سکتے ہیں،رکن کمیٹی ذوالفقار بھٹی نے عمر ایوب کی گفتگو پر اعتراض کیا اور کہا کہ انٹرنیٹ ایک قومی مسئلہ ہمیں اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں خفیہ ایجنسیوں کے پاس انٹرنیٹ بندش یا فون ٹیپنگ نظام کی موجودگی پر تفصیلی جواب طلب کیا۔

    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمن نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائر وال گرے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے،فائر وال کا لفظ کہیں نہیں ہے یہ آپ نے خود بنایا ہوا ہے،کس نے کہا ہے یہ فائر وال ہے یہ ویب مینجمنٹ سسٹم ہے،اس کا صرف سوشل میڈیا سے تعلق نہیں ہے

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کی وارننگ

    انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستانی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: پی ایس ایچ اے

    انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز کے شدید تعطل نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، سوشل میڈیا صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق، واٹس ایپ سمیت دیگر مقبول سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بھی سست روی کا شکار ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز کے اس تعطل نے شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ پر پیغامات ڈاؤن لوڈ نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔