Baaghi TV

Tag: پی پی پی

  • خاتون اول آصفہ بھٹو   شعبہ صحت میں تعاون پر چینی حکومت  کی مشکور

    خاتون اول آصفہ بھٹو شعبہ صحت میں تعاون پر چینی حکومت کی مشکور

    راولپنڈی: خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کا دورہ کیا-

    باغی ٹی وی : دورے کے دوران خاتون اول کو پروفیسر ڈاکٹر پین شیانگ بن کی سربراہی میں چینی ماہرین ِامراض قلب کی ٹیم نے بریفنگ دی ،بریفنگ میں کہا گیا کہ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں الٹراساؤنڈ رہنمائی کے تحت دل کی پیدائشی اور ساخت سے متعلق بیماریوں کا جدید طبی طریقہ کار سے چینی تعاون سے پہلی بار علاج کیا جا رہا ہے-

    اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زئے ڈونگ اور کمانڈنٹ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میجر جنرل نصیر احمد سامور بھی موجود تھے-

    چینی سفیر نے کہا کہ چین امراض قلب کی جدید طبی خدمات کا دائرہ بلوچستان تک بھی بڑھائے گا،چین پاکستانی ڈاکٹروں کو امراض قلب کے جدید طریقہ علاج بارے تربیتی مواقع بھی فراہم کرے گا، چین پاکستان کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھائے گا-

    خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے شعبہ صحت میں تعاون پر چینی حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا،خاتون اول نے دل کے مریضوں کو جدید ترین علاج فراہم کرنے پر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی انتظامیہ کو بھی سراہاخاتون اول نے اے ایف آئی سی میں مختلف وارڈز کا دورہ کیا، مریضوں سے بات چیت کی اور انہیں پھول پیش کئے،آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے کمانڈنٹ نے خاتون اول کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی-

  • پیپلز پارٹی کا حکومتی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

    پیپلز پارٹی کا حکومتی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

    وفاق میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مرکزی حکومت کی جانب سے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانیوں کی پیش رفت کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت کراچی میں پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزرائے اعلیٰ بلوچستان اور سندھ سرفراز بگٹی، مراد علی شاہ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے گورنرز فیصل کریم کنڈی اور سردار سلیم حیدر نے شرکت کی۔اجلاس میں پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر بھی موجود تھے، اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کی روشنی میں اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے شرکا نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو آئندہ دنوں میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی مجوزہ قانون سازی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اجلاس میں شرکا نے وفاقی حکومت کی یقین دہانیوں کی پیش رفت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اس پر بلاول بھٹو نے ہدایت کی کہ حکومت کے ساتھ اپنے رابطوں کو مزید تیز کیا جائے، تاکہ جب پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس ہو تو اس میں ان رابطوں کا مثبت نتیجہ سامنے رکھا جاسکے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کو نظرانداز کر رہی ہے، طے تھا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے انتظامی معاملات میں حصے دار ہوں گے، (ن) لیگ ہمارے گورنرز سے مشاورت نہیں کر رہی ہے۔16 نومبر کو بلاول ہاؤس کراچی میں گفتگو کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وعدوں سے انحراف کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ ناراضی کا سوال ہی نہیں ہے، ناراض ہونے پر سیاست نہیں کی جاتی، سیاست تو عزت کے لیے کی جاتی ہے، معذرت کے ساتھ اس وقت وفاق میں نہ عزت کی جاتی ہے، نہ سیاست کی جا رہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ دنیا میں جہاں اقلیتی حکومت ہو اور ان کا اتحاد ہے کسی جماعت کے ساتھ تو اس معاہدے پر عمل درا?مد ہوتا ہے، ہم اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے لیے حکومتی بینچ پر بیٹھے ہیں، ہم ضرور چاہیں گے کہ طے شدہ معاہدے پر عمل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان سے احتجاجاً علیحدہ ہوئے، آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی۔انہوں نے آئندہ ماہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مرکز میں حکومتی اتحاد پر ممکنہ نظر ثانی کا بھی اشارہ دیا تھا۔لاول بھٹو نے وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ووٹرز اور صوبائی حکومتوں کی مسلم لیگ (ن) سے شکایات ہیں۔اس بیان کے بعد 17 نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کو سونپ دی تھی۔وزیر اعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے اراکین میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام، مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب شامل تھے۔اس کے علاوہ سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، گورنر بلو چستان جعفر خان مندوخیل اور بشیر احمد میمن بھی کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    مبینہ نفرت پھیلانے پرلطیف کھوسہ کیخلاف مقدمہ درج

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

  • فیض حمید نے آرمی چیف کی تقرری کیلئے آصف زرداری سے رابطہ کیا تھا، شہلا رضا کا دعویٰ

    فیض حمید نے آرمی چیف کی تقرری کیلئے آصف زرداری سے رابطہ کیا تھا، شہلا رضا کا دعویٰ

    اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے دعویٰ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے آرمی چیف بننے کے لئے صدر آصف علی زرداری سے رابطہ کیا تھا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ فیض حمید اور زرداری نے مبینہ طور پر طویل المدتی سیاسی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا ہے جس میں آرمی چیف کی تقرری بھی شامل ہےیہ کہا گیا تھا کہ فیض حمید نے دوسروں کے ساتھ مل کر طویل حکمرانی کا منصوبہ بنایا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید نے آرمی چیف کی تقرری پر بات کرنے کے لیے زرداری سے بھی رابطہ کیا تھا۔

    انہوں نے موجودہ سیاسی ماحول پربات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پارٹی نے 26ویں آئینی ترمیم کے بارے میں اپنے خدشات کی پشت پناہی کی ،انہوں نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) پر کارروائی نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا،ہم نے نوٹ کیا کہ تین اجلاس ہونے چاہیے تھے، ایک بھی نہیں بلایا گیا،ان کا کہنا تھا کہ ”ہمیں کلیدی مسائل پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، جیسے کہ دریائے سندھ سے پانی نکالنا،انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ متاثرہ افراد کے نام فراہم کرے۔

  • پی پی اور ن لیگ کی رابطہ کمیٹی کی اہم بیٹھک،پی پی وفد کے گلے شکوے

    پی پی اور ن لیگ کی رابطہ کمیٹی کی اہم بیٹھک،پی پی وفد کے گلے شکوے

    اسلام آباد: پیپلزپارٹی اور حکومتی کمیٹیوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی –

    باغی ٹی وی: پاکستان پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پی پی کی رابطہ کمیٹی کے درمیان اہم بیٹھک ہوئی ہے،دونوں سیاسی جماعتوں کے وفود کی اہم بیٹھک پنجاب ہاؤس کی گورنر انیکسی میں ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں حکومتی کمیٹیوں سے طویل ملاقات میں پی پی وفد نے لیگی کمیٹی کے سامنے خوب گلے شکوے کئے،ملاقات کے دوران پیپلزپارٹی کے وفد نے مسلم لیگ ن کو مختلف امور پراپنے تحفظات سے آگاہ کیا، پی پی نے پنجاب میں کمیٹیوں کی سفارشات پر بھی عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے موقع پر لیگی کمیٹی نے پیپلزپارٹی کے تحفظات پر اعلیٰ سطح پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، حکومت وفد نے پی پی تحفظات دور کرنے کیلئے مزید وقت مانگ لیا، اجلاس میں تحفظات کے خاتمے کیلئے ایک اور نشست پراتفاق کیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کی جانب ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ ، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، احد چیمہ اور امیر مقام ملاقات میں موجود تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کا9 رکنی وفد راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں موجود ہے، جس میں نوید قمر، شیری رحمان، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ ،وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر، گورنر خیبرپختنخوا فیصل کریم کنڈی، سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود اور علی حیدر گیلانی بھی شریک ہیں۔

  • بلاول بھٹو کی سربراہی میں پی پی  کمیٹی کا ورچوئل اجلاس

    بلاول بھٹو کی سربراہی میں پی پی کمیٹی کا ورچوئل اجلاس

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پارٹی کی کمیٹی برائے قومی ایشوز کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم ملکی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغٰی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے مختلف قومی امور پر بات چیت کی اور حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے حوالے سے اہم فیصلے کیے۔اجلاس میں پی پی پی کمیٹی برائے قومی ایشوز کے ارکان شامل تھے، جن میں راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، مخدوم احمد محمود، نوید قمر، سید مراد علی شاہ، سردار سلیم حیدر، فیصل کریم کنڈی، میر سرفراز بگٹی اور علی حیدر گیلانی نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کل حکومتی کمیٹی سے ملاقات کرے گی، جس میں دونوں جماعتوں کے درمیان ملک کے اہم مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔پی پی پی کی کمیٹی برائے قومی ایشوز کے اجلاس میں ملکی سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور تمام ارکان نے ان مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔واضح رہے کہ یہ اجلاس پی پی پی کی طرف سے قومی سطح پر اہم فیصلوں میں مشاورت کی ایک کڑی ہے، جو پارٹی کے سیاسی ایجنڈے کے مطابق کی گئی۔

    مریم نواز چین پہنچ گئیں، پرتپاک استقبال

  • بختاور زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش

    بختاور زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش

    دبئی: صدر مملکت آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو شہید کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کے ہاں تیسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام پر بختاور بھٹو اور ان کے شوہر محمود چوہدری نے یہ خوشخبری دی اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کیا،بختاور بھٹو نے فی الحال اپنے تیسرے صاحبزادے کا نام نہیں بتایا لیکن انہوں نے بتایا ہے کہ تیسرے بیٹے کی پیدائش گزشتہ روز 20 اکتوبر 2024 کو ہوئی ہے۔

    بختاور بھٹو زرداری کے تیسری بار ماں بننے اور بیٹے کی پیدائش کی خبر پر مبارک باد اور نیک خواہشات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بختاور بھٹو زرداری کی 31 جنوری 2021 کو محمود چوہدری کے ساتھ شادی ہوئی تھی اور تیسرے بیٹے سے بڑے دو بیٹے میر حاکم محمود چوہدری اور میر سجاول محمود چوہدری ہیں ان کے پہلے بیٹے میر حاکم محمود چوہدری کی پیدائش 11 اکتوبر 2021 کو اور دوسرے بیٹے میر سجاول محمود چوہدری کی پیدائش 05 اکتوبر 2022 کو ہوئی تھی۔

  • بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    بانی پی ٹی آئی سیاسی رویہ اختیار کرے تو مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں،وزیربلدیات سندھ

    وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ 18 اکتوبر 2007 سانحہ کارساز دنیا بھر میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ تھا۔ شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ آئینی ترامیم سب کی مشاورت سے ہوں گی، کوئی ایک جماعت کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ اگر بانی پی ٹی آئی سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام مسائل چند ہفتوں میں حل ہوسکتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےسانحہ کارساز کے اعظم بستی قبرستان میں مدفون 7 شہدا کی قبروں پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدر اقبال ساندھ، ٹائون چیئرمین چنیسر ٹائون فرحان غنی، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری آصف خان و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ آج ہم نے سانحہ کارساز میں شہید کارکنان کی قبروں پر حاضری دی ہے، اس قبرستان میں سات شہیدوں کے قبریں ہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں جہاں جہاں سانحہ کارساز کے شہید دفن ہیں انکی قبروں پر حاضری دیں۔ سعید غنی نے کہا کہ 18 اکتوبر کو دہشت گردی کا واقعہ دنیا کا بڑا واقعہ تھا۔ اس سانحہ میں ہمارے 170 سے زائد کارکن شہید ہوئے اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے شہیدوں کی قربانی پاکستان میں جب جب جمہوریت کی بحالی کی تاریخ لکھی جائے گی، ان شہیدوں کے ذکر کے بغیر جمہوریت کی کہانی اور تاریخ اس سانحہ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ جب 18 اکتوبر کو بم دھماکہ ہوا ہمارے جو کارکن تھے، جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ محترمہ کی گاڑی کے ساتھ جن کی ڈیوٹی تھی، وہ پہلے دھماکہ کے بعد بھاگتے وہ وہاں موجود رہے اور بی بی کے ٹرک کو مزید پروٹیکٹ کیا تو اس میں دوسرا دھماکہ ہوا، جس کے نتیجہ میں اتنی بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئی۔
    سعید غنی نے کہا کہ یہ بھی ایک انوکھی اور عجیب مثال ہے، کہ بم کا دھماکہ ہوتا ہے اور کارکنان بھاگتے نہیں ہیں، یہ واقعہ ہمارے کارکنان کی اپنی قیادت کے ساتھ عزم ہے، محبت ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کو کتنی محبت تھی کہ بم دھماکے کے بعد بھی لوگ بھاگے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پیپلز پارٹی اس ملک کی جمہوریت کے لئے قربانیں دے رہی ہیں، ہم نے اپنے کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں سوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے کوئی ایسی جماعت نہیں کہ جس کے قائدین اور کارکنان نے جمہوریت کی بحالی کے لئے اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، پرامن سیاسی طریقے سے کام کرتے ہیں اور ہم نے اپنے قائدین اور کارکنان کی لاشیں اٹھائی ہیں اور دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لئے آئین میں طریقے کار موجود ہے، کوئی جماعت اپنی مرضی کی تجاویز مسلط نہیں کر سکتی۔
    اس ہے لئے دو تہائی اکثریت لازمی ہے اور جب دو دھائی اکثریت تو سب کی مشاورت سے آئینی ترمیم ہوگی۔ یہ اچھی بات ہے کہ سب مل جل کر بیٹھیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جب سے بنی ہے وہ تضادات کا شکار رہی ہے، ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں اور آج بھی وہ تضادات کا شکار ہیں۔ ایک طرف وہ آج بھی کہتے ہیں کہ ہم احتجاج کریں گے دوسری طرف وہ مولانا فضل الرحمن سے بات کرکے ان کے ذریعے حکومت سے بات کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
    پی ٹی آئی والے ترمیم چاہتے ہیں لیکن کھل کر نہیں بول رہے۔ احتجاج کی بات شاید ان کے دوسرے گروپ نے کی ہوگی اور ڈائیلاگ کی بات دوسرے گروپ سے کی ہوگی۔ اس سے پی ٹی آئی میں واضح گروپ بندی ثابت ہورہی ہے۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنایا۔ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ملک میں مسائل کی جڑ بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔
    پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے ججز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ سعید غنی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا رویہ غیر سیاسی ہے۔ وہ آج بھی کسی سیاسی جماعتوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ آج تک اس ملک میں ان کے آنے کے بعد جتنے بھی کرائسیس ہوئے ہیں، یہ سب عمران نیازی کی ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اس ہے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی، جو ایک آئینی عمل ہے اور اس آئینی عمل کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تھی تو دنیا تو ختم نہیں ہوگئی تھی۔
    عمران خان اسمبلی میں راہ کر بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرسکتا تھا، عمران خان کے پاس اس وقت پنجاب اور خیبر پختون خواہ دونوں کی حکومت تھی، وہ دو صوبے میں حکومت کرکے جو نئی پی ڈی ایم کی حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتا تھا، لیکن اس نے جمہوری طر عمل اختیار نہیں کیا بلکہ جمہوریت اور ملک کے خلاف سازشیں شروع کردی کہ کسی طرح سے یہ حکومت نہ چل سکے،کسی طرح یہ ملک نہ چل سلے، کسی طرح سے یہ ملک کی تباہ و برباد ہوجائے، کسی طرح سے عوام مشکلات کا شکار ہوجاییں۔اس میں زیادہ مسائل جو پیدا کئے اس میں عدالتوں کے کچھ فیصلے بھی ہیں، جس کی وجہ سے یہ کرائسس مزید بڑھ گئے۔ اگر وہ سیاسی اور جمہوری رویہ اختیار کرے تو تمام کرائسز چند ہفتوں میں حل ہو سکتے ہیں۔

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    جنرل سیکریٹڑی پی پی پی کراچی و صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی جاوید ناگوری کی زیر صدارت 18 اکتوبر شہدائے سانح? کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمعہ 18 اکتوبر کو حیدرآباد میں منعقد کئے جانے والے جلسے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سینیٹر سید وقار مہدی نے خصوصی شرکت کی –

    اجلاس میں سینئر نائب صدر پی پی پی ضلع جنوبی حاجی عبدالمجید ، جنرل سیکریٹری پی پی پی ضلع جنوبی و پیپلز انجنیئرنگ فورم سندھ تیمور سیال ، سیکریٹری اطلاعات پی پی پی ضلع جنوبی و پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کرچی ڈویڑن فرید میمن ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول صدر پیپلز لیبر بیورو کراچی اسلم سموں ، صدر پیپلز یوتھ ضلع جنوبی فضل بلوچ ، جنرل سیکریٹری پی پی پی خواتین ونگ ضلع جنوبی عالیہ بیگم ، ٹاؤن چیئرمین لیاری ناصر کریم ، پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے سٹی ایریا اور یونین کمیٹیوں کے صدور جنرل سیکریٹریز سیکریٹری اطلاعات لیاری و صدر ٹاؤن میں پی پی پی کے منتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین نے شرکت کی – اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری پی پی پی سندھ سینیٹر وقار مہدی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز کی شہید چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹع کی 2007 میں وطن واپسی پر جیالوں نے تاریخی استقبال کیا جو کہ ملک دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہ بھایا ایک آمر کے دور حکومت میں شہید بی بی پر حملہ کیا گیا اور ہم سمیت ساری دٴْنیا اس بات کی شاہد ہے کہ جیالوں نے اپنی جانیں قٴْربان کرکے شہید بے نظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کو ناکام بنایا قٴْربانی کی یہ مثال رہتی دنیا تک یاد رکھی جا? گی ہر سال ہم 18 اکتوبر کو شہدائے کارساز کے حذبے ہمت اور بے لوث قٴْربانی پر اٴْن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں اس سال چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی ہدایت کے مطابق شدائے سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پی پی پی کارکنان اور عوام 18 اکتوبر جمعہ کے روز حیدرآباد میں ہٹری بائی پاس کے مقام پر جلسے میں شرکت کریں گے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی پی پی ضلع جنوبی جاوید ناگوری کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے جمہوری نظام لازم ہے پاکستان میں جمہوریت 18 اکتوبر 2007 کو سانحہ کارساز میں شہید ہونے والوں کی مرہون منت ہے 2007 میں کارساز کے مقام پر دٴْنیا نے یہ منظر دیکھا پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان دھماکے کی جگہ سے دور ہٹنے کے بجائے اٴْس ہی جانب بھاگتے ہوئے گئے اور اپنی رہبر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قٴْربان کی اور آمر اور اٴْس کے آلہ کاروں کو یہ باور کروایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان بے خوف و خطر ملک کی خاطر جان قٴْربان کرسکتے ہیں جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی تیمور سیال نے اجلاس کے شرکاء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی اور ذیلی تنظیموں کے تمام عہدیداران و کارکنان حیدرآباد جلسے میں بھرپور شرکت کرکے شہدائے سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کریں گے ۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترکمانستان کا دو روزہ دورہ، اشک آباد پہنچنے پر پرتپاک استقبال

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    ایف آئی اے کراچی زون میں تقرریاں و تبادلے

  • دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو بلیک میلنگ سے روکا نہیں جا سکتا،شازیہ مری

    دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو بلیک میلنگ سے روکا نہیں جا سکتا،شازیہ مری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے پی پی کی جانب سے عزم استحکام آپریشن کی حمایت کی تصدیق کی ہے-

    ترجمان پیپلزپارٹی شازیہ مری نے عزم استحکام آپریشن کی حمایت کی تصدیق کی کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں عزم استحکام آپریشن پر بات ہوئی، پیپلزپارٹی دہشتگردی و انتہا پسندی کے خلاف ہے اور ہم نے دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں۔

    شازیہ مری نے کہا کہ عزم استحکام آپریشن پر سیاسی فریقین کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، ہم اس معاملے پر سیاسی ڈائیلاگ چاہتے ہیں اور خواہش ہے کہ حکومت سیاسی فریقین کو عزم استحکام آپریشن پر آن بورڈ لیا جائے تاکہ سیاسی فریق آپریشن کی ذمہ داری لیں،ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کو جواب دینا ضروری ہے، بلاول بھٹو عزم استحکام آپریشن کو وقت کی ضرورت سمجھتے ہیں، دہشتگردی کے خاتمے تک شہری خود کو محفوظ تصویر نہیں کر سکتے، اس لیے دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضروری ہے۔

    اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے،یورپی یونین

    ترجمان نے کہا کہ دہشتگردی ،انتہا پسندی کے خاتمے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا، عزم استحکام آپریشن پر فریقین کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے، عزم استحکام آپریشن کے پلان پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت ضروری ہے، ہم سب کو مل کر ملک کو امن کا گہوارہ بنانا ہے کیونکہ قوم نے امن کیلئے 80 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا، امن ملک کی ترقی کا ضامن ہے اور اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، پیپلزپارٹی دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہے، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، اور دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو بلیک میلنگ سے روکا نہیں جا سکتا۔

    آپریشن عزم استحکام پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے، بیرسٹر …

  • لگتاہےگنڈاپور کو شاید غنڈہ بننا تھا اور وہ غلطی سےوزیر اعلیٰ بن گئے،شرجیل میمن

    لگتاہےگنڈاپور کو شاید غنڈہ بننا تھا اور وہ غلطی سےوزیر اعلیٰ بن گئے،شرجیل میمن

    کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو دھمکیاں دینا بند کریں اور غنڈے نہ بنیں بلکہ وزیر اعلیٰ رہیں۔+

    باغی ٹی وی: سندھ کے سینئرصوبائی وزیر اور رہنما پیپلزپارٹی شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو دھمکیاں دینا بند کریں اور غنڈے نہ بنیں بلکہ وزیر اعلیٰ رہیں، ہم گنڈاپورکو کےپی کا نہیں، صرف پی ٹی آئی کا وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں،لگتاہےگنڈاپور کو شاید غنڈہ بننا تھا اور وہ غلطی سےوزیر اعلیٰ بن گئے۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ گورنر کو دھمکی دینا محض ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ ہمارے آئینی نظام پرحملہ ہے، فیصل کریم کنڈی اہم آئینی عہدے پر فائز ہیں، ان کو دھمکی ناقابل قبول اور دہشتگردی کی زمرے میں آتی ہےاعلیٰ عوامی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے دھمکیاں سنگین نوعیت کامعاملہ ہے، لہذا علی امین گنڈا پور کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے، ہماری پارٹی نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا ہے۔

    واضح رہے کہ ،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں وفاق کو پھر دھمکی دی، اور گورنر خیبرپختونخوا کو سرعام گالیاں دیں-

    حزب اللہ کا اسرائیلی بستی پر حملہ 2 افراد ہلاک 9 زخمی

    علی امین گنڈاپور اگر گورنر کو پھینک سکتے ہیں تو انھیں بھی پھینکا جاسکتا ہے،رانا …

    بھارت نے آئرلینڈ کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی