Baaghi TV

Tag: پی پی پی

  • پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

    پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

    کراچی:پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔

    حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے واقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ جنہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیا گیا جس کے بعد مسلم لیگ ن نے ان کے بھائی ملک امیر حیدر سنگھا کو ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ملک امیر حیدر سنگھا کی فیملی سیاسی بیگ گراؤنڈ رکھتی ہے۔ وہ خود بھی ماضی میں چیئرمین ضلع کونسل خوشاب بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی ملک امیر مختار سنگھا بھی چیئرمین ضلع کونسل خوشاب رہ چکے ہیں۔اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

    ملک حسن اسلم اعوان کی الیکشن مہم میں پی ٹی آئی کے علی محمد خان اور زرتاج گل پیش پیش دکھائی دے رہی ہیں۔ اس حلقے میں آزاد امیدوار بھی اپنی جیت کے لیے پرعزم ہیں۔ ان آزاد امیدواروں میں ملک محمد آصف قابل ذکر ہیں۔ ان کا انتخابی نشان مٹکا ہے۔ملک محمد آصف بھاء تین بار صوبائی اسمبلی کے رُکن رہ چکے ہیں۔ ملک محمد آصف نے 2013ء میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر مسلم لیگ ن کے دورِ اقتدار میں مختلف صوبائی وزارتوں کا قلمبند سنبھالے رکھا، البتہ 2018ء کے انتخابات میں ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    ملک محمد آصف نے اس حلقے سے شیر کے نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کی خواہش ظاہر کی تاہم مسلم لیگ ن کی جانب سے منحرف ایم پی اے کے بھائی غلام رسول سنگھا کو ٹکٹ ملنے کے بعد ملک محمد آصف بھاء نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے ضلع خوشاب میں مسلم لیگ ن کے ووٹرز کی بھی ان کو سپورٹ حاصل ہے۔ ایک اور آزاد امیدوار ملک حامد محمود ڈھل کا شمار حلقے کے بااثر سیاسی گھرانے اور بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔ ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ پی ٹی آئی ضلع خوشاب کے اہم کارکن تھے، اور بلے کے نشان پر انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند تھے، تاہم پارٹی کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ناراض کارکن ملک حامد محمود ڈھل کے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کے باعث حلقہ پی پی 83 خوشاب میں اب پی ٹی آئی دو حصوں میں تقسیم ہے، جس کا فائدہ دیگر امیدواراں کو ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک میں جاری مہنگائی کی لہر ہے جو آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سےگیارہ امیدواروں نے حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کاٹکٹ ملک گل اصغر کو دیا گیا، البتہ وہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتےتھے اس لئے وہ ٹکٹ لینے کے بعد عین اس وقت الیکشن لڑنے سے انکاری ہو گئے جب نشانات بھی الاٹ ہو چکےتھے،جس کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف نے معروف بزنس مین ملک امیر مختار سنگھاا عوان کے بھائی اور سابق تحصیل ناظم ملک غلام رسول سنگھا اعوان کی سپورٹ کی جس کے باعث وہ بھاری مارجن سےجیت گئے۔ انہوں نے 68 ہزار 959 ووٹ لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ان کےمدمقابل ملک محمدآصف بھا جن کاتعلق پاکستان مسلم لیگ ن سےتھااوروہ صوبائی وزیربھی رہے47 ہزار 684 ووٹ لیکر رنراپ رہے۔
    اس حلقے سے تحریک لبیک پاکستان کےامیدوار دلدار حسین رضوی نے9 ہزار 563 اور ایک آزادامیدوارملک ظفرا للہ خان بگٹی نے 10 ہزار 863 ووٹ لئے۔ پی پی کےٹکٹ پر نثار احمد خان نے ایک ہزار 899 ووٹ لئے۔ اس حلقہ میں ہڈالی، مٹھہ ٹونہ،بوتالہ و دیگر علاقے شامل ہیں،

    2013تک مسلم لیگ ن کا ڈنکا بجتا رہا لیکن عمران خان نے بالآخر 2018 میں یہ نشست ایک آزاد امیدوار کی حمایت کرکےجیتی ن لیگ نےسنگھاگروپ کوٹکٹ کنفرم کردیاہےتووہیں ملک آصف بھاءنےآزادالیکشنلڑنےکااعلان کردیاہے،جبکہ پاکستان تحریک انصاف ملک حسن اسلم اعوان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    حلقہ 83 پی پی کے مسائل کی بات کی جائے تو اس حلقے میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ حلقے کی عوام کو پینے کے پانی سے لیکر اراضی سیراب کرنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں صحت کے حوالے سے بنیادی صحت کے مراکز میں زچہ و بچہ کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے۔سابقہ دور حکومت میں پی پی 83 میں تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی گئی اور یہاں ایک بڑی بین الصوبائی شاہرہ کی بھی تعمیر کی گئی جو حلقہ پی پی 83 سے گزرتی ہے۔

    گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں ہار بیٹھی تھی۔ حلقہ پی پی 83 خوشاب میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 93 اور این اے 94 آتا ہے۔ حلقہ این اے 93 میں پاکستان تحریک انصاف کے عمر اسلم خان ایم این اے ہیں، جن کے بھائی ملک حسن اسلم اعوان پی پی 83 خوشاب سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں جبکہ حلقہ این اے 94 سے پی ٹی آئی کے ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ ایم این اے ہیں ۔

    سندھ میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پیپلزپارٹی کی خالدہ سکندر میندھرو نے اپنے نام کرلی ۔

     

     

    ڈاکٹر سکندر میندھرو کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی سندھ میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پولنگ سندھ اسمبلی میں ہوئی، مرحوم ڈاکٹر سکندر میندھرو کی اہلیہ خالد ہ سکندر میندھرو پیپلزپارٹی کی جانب سے امیدوار تھیں اور مقابل میں پی ٹی آئی کے نور الحق قریشی میدان میں تھے البتہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا جبکہ ایم کیوایم پاکستان اور دیگر جماعتوں نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

     

     

    پیپلزپارٹی کی جانب سے 99 میں سے 94 ارکان بشمول وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سمیت پی ٹی آئی کے تین منحرف ارکان اسلم ابڑو، شہریار شر اور کریم بخش گبول نے بھی ووٹ کاسٹ کیا ۔ذاتی مصروفیات کے باعث پیپلزپارٹی کے پانچ ارکان شرمیلا فاروقی،اعجاز شاہ بخاری، عذرا پیچوہو، اسماعیل راہو اور علی نواز مہر نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

  • پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیشرفت نہیں ہوئی:وزیراعظم مداخلت کریں، وسیم اختر

    پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیشرفت نہیں ہوئی:وزیراعظم مداخلت کریں، وسیم اختر

    کراچی :متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما وسیم اختر نےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیش رفت نہیں ہوئی، آصف زرداری ہماری باتوں کو سنجیدہ لیں، وزیراعظم مداخلت کریں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اخترکا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے ساتھ معاملات آگے نہیں بڑھ رہے، وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے، آصف زرداری ہماری باتوں کو سنجیدہ لیں، معاہدے پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم مداخلت کریں۔وسیم اختر نےکہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شہری اور دیہی مسائل حل ہوں، آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی کہہ چکے ہیں کہ بلدیاتی نظام با اختیار ہو، مگر حکومت بن گئی اور سب مزےسےبیٹھ گئے لیکن معاہدے پرکوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

    کراچی ضمنی الیکشن ،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کو ہوش آ گیا

    نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیا بلدیاتی ایکٹ نہیں بنتا تو حکومت کے ساتھ کسی چیز میں حصہ نہیں لیں گے، سندھ حکومت ابھی بھی اختیارات نیچے دینے میں ہچکچا رہی ہے، بلدیاتی نظام کا مسودہ بن گیا ہے تو اسے فوری طور پر قانون بنا دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے وعدوں پر اعتبار ہے اور یقین ہے کہ بلدیاتی نظام کےمعاملے پر سپریم کورٹ کے احکامات پربھی مکمل عملدرآمد کیا جائےگا۔

    اب ہماری جنگ سڑکوں پر ہو گی، ایم کیو ایم کا بڑا اعلان

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ٹرن آؤٹ کم ہے، فائرنگ ہوئی، ووٹرز خوف کا شکار ہیں ، بیلٹ پیپروں سے امیدواروں کے انتخابی نشانات غائب ہیں، الیکشن کمیشن کو اپنی کارکردگی دیکھنی چاہیے۔

    ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ چھوڑ دی

    سابق میئر کراچی کا کہنا تھا اندرون سندھ میں ڈاکو بیلٹ بکس اٹھا کرلےگئے ، سندھ کے 14 اضلاع میں دھاندلی کا بازار گرم ہے۔ پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے لیکن الیکشن کمیشن کے ساتھ ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے گذارش کرتے ہیں کہ سندھ میں جاری بلدیاتی انتخابات فوری روکے جائیں، الیکشن کمشنر بہت اچھے افسر ہیں، ان سے درخواست ہے کہ ووٹرز لسٹوں اورحلقہ بندیوں کو درست کردیں۔

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • سندھ بلدیاتی الیکشن:پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

    سندھ بلدیاتی الیکشن:پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

    کراچی: سندھ میں مار دھاڑ سے بھرپور بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے تحت 14 اضلاع میں پولنگ کے دوران دوران صوبے میں سکیورٹی سخت کی گئی، پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھاری نفری تعینات رہی، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے چالیس ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، بیالیس ایس ایس پیز اور 82 ڈی ایس پیز بھی نگرانی کر رہے ہیں، کوئیک رسپانس کیلئے رینجرز کو اسٹینڈ بائی رکھا گیا، حلقوں میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کی گئی، صورتحال خراب کرنے والوں کیخلاف فوری مقدمہ درج کئے جانے کے احکامات جاری کئے گئے۔

    پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں دنگے فساد کے واقعات بھی پیش آئے، نوشہرو فیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا، پولنگ کچھ دیر کیلئے روکی گئی جبکہ پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا۔

    ادھر اس سے پہلے متحدہ قومی مومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما وسیم اختر نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین ہنگاموں میں ملوث ہیں۔

    کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن وسیم اختر نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اراکین ملوث ہیں، فوج کو ایسے حالات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جاسکے۔

    آئیندہ الیکشن کے لیے فریم ورک پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، فواد چوہدری

    وسیم اختر نے کہا کہ کہیں پولنگ کے دوران کچے کے ڈاکو عملے کو اغوا کرکے لے جارہے ہیں تو کہیں ہنگامے ہورہے ہیں، ادارے سیکورٹی کو مزید سخت کریں تاکہ انتخابات پر سوالیہ نشان نہ لگے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران بتایا کہ سندھ حکومت کے ساتھ معاہدے پر پیش رفت نہیں کررہی، جب تک بلدیاتی ایکٹ پر کام نہیں ہوگا ایم کیو ایم حکومت میں اور کوئی عہدہ نہیں لے گی۔

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی…

    ادھرسندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں متعدد پولنگ اسٹیشنز پر ہنگامہ آرائی، پولنگ بوتھ غائب کرنے، دھاندلی اور پولنگ عملے کو اغوا کرنے کی اطلاعات ہیں جب کہ ٹنڈو آدم میں پی ٹی آئی کے امیدوار کا بھائی جاں بحق ہوگیا۔

    سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، 5331 نشستوں پر 21298 امیدوار مدمقابل ہیں جب کہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب قرار پاچکے ہیں۔

    منظور وسان کی آئندہ انتخابات میں عمران خان کے بارے میں پیشگوئی

    سکھر، لاڑکانہ، شہید بے نظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن کے جن 14 اضلاع میں پولنگ ہوگی ان میں جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ، شکار پور، لاڑکانہ، کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی، خیر پور، شکارپور، نوشہرو فیروز، شہید بے نظیر آباد، سانگھڑ، میرپور خاص، عمر کوٹ اور تھر پارکر شامل ہیں۔
    الیکشن کمیشن کی جانب سے 1985 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 3448 کو حساس قرار دیا گیا ہے، بلدیاتی انتخابات کے لیے 1 لاکھ 2 ہزار 682 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ خدمات انجام دے رہا

  • بے نظیر بھٹو کی 69 ویں سالگرہ: ان کا جرات مندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    بے نظیر بھٹو کی 69 ویں سالگرہ: ان کا جرات مندانہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    شہید بے نظیر بھٹو بانی پیپلزپارٹی اور نامورشخصیت ذولفقار علی بھٹو اور ایران کے بااثر اصفہانی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون بیگم نصرت بھٹو کے گھر 21 جون 1953 کو پیدا ہوئی۔ بے نظیر نے سیاست میں قدم رکھا تو بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں جس میں ان کی سب سے بڑی کامیابی مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیرعظم بننا تھا۔ آج 21 جون2022 کو انکی 69 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

    اسلام آباد میں مقیم سینئر صحافی محمد نواز رضا نے باغی ٹی وی کو بتایا: بےنظیر ایک بہادر خاتون تھی جن کا کردار پاکستانی سیاست کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ ان کی جرات کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کارساز میں ان پر دھماکہ ہوا جس میں بیسیوں کارکنان شہید ہوگئے لیکن بی بی شہید واپس نہیں گئیں بلکہ یہ جانتے ہوئےبھی کہ انہیں قتل کردیا جائے گا مگر وہ پاکستان میں رہیں۔
    نواز رضا مزید بتاتے ہیں: کارساز کے بعد وہ لیاقت باغ آئیں جہاں وہ زندگی کی بازی ئیں لیکن انہوں نے سیاست میں تاریخ رقم کردی کہ ہمیشہ سیاست میں بہادر زندہ رہتے ہیں ناکہ وہ بزدل جو گھروں سے باہر ہی نہیں نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کا سیاست میں کوئی مقام نہیں ہوتا۔

    محمدنواز کے مطابق: بے نظیر بھٹو بہادری کا ایک استعارہ تھیں اور انہوں نےہمت کے ساتھ ناصرف اپنے سیاسی مخالفین بلکہ ان قوتوں کا بھی مقابلہ کیا جو انہیںپاکستانی سیاست اور ملک دونوں سے باہر کرنا چاہتے تھے۔ اگر بے نظیر زندہ رہتی تو تیسری بار بھی وزیراعظم پاکستان رہتی لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔

    نوجوان بلاگر : رجب علی فیصل نے باغی ٹی کو بتایاکہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ بینظیر بھٹو ایک بہادر خاتون تھی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بی بی کے قتل کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت رہی مگر افسوس صد افسوس انکے اصل قاتل آج بھی آزاد ہیں۔

    رجب علی فیصل کہتے ہیں کہ: بے نظیر بھٹو کا مقدمہ لاوارثوں کی طرح لڑا گیا جس میں کوئی گواہ بھی پیش نہیں کئے گئے مثال کے طور پر امین فہیم اور ناہیدخان اس وقت بی بی کے ساتھ موجود تھے جب انہیں قتل کیا گیا لیکن بے نظیر کے خاندان کی طرف سے نہ کوئی صحیح پیروی کی گئی اور نہ ہی ان گواہوں کو پیش کیا گیا۔
    علی فیصل کے مطابق: بے نظیر کے قتل میں ٹھیک ویسا ہوا جیسا ذولفقار علی بھٹو کے قتل میں ہوا تھا۔ بھٹو کے قتل کے بعد بے نظیر نے نعرہ لگایا "جمہوریت بہترین انتقام ہے” لیکن ایسی جمہوریت کا اچار ڈالیں گے جس میں مجرمان کو بجائے پھانسی پر لٹکانے کےانہیں اقتدار کی خاطر معاف کردیا جائے۔

    رجب فیصل نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ: بھلے ہمیں بنگلہ دیش سے سو اختلافات ہوں مگر یہ بات ماننی پڑے گی کہ شیخ حسینہ واجد نے اقتدار میں آنے کے فورا بعد اپنے باپ شیخ مجیب الرحمان کے قاتلوں کے خلاف مقدمات چلا کر انہیں پھانسیاں دلوئیں اور اگر دیکھیں تو ہم سے علیحدگی اختیار کرنے والا ملک آج ہم سے کتنا آگے ہے۔ نہ وہاں مذہبی شدت پسندی ہے اور ناہی دہشتگردی ہے۔ اور نہ کبھی کسی غیرسویلین کی یہ جرات ہوئی کہ وہ غیرآئینی طریقے سے وہاں کی حکومت خلاف کوئی ذرا برابر بھی حرکت کرسکے۔

    رجب علی فیصل کا خیال ہے کہ: جیسے بے نظیر نے اپنے والد کے قتل پر سمجھوتہ کیا اسی طرح انکے خاندان اور بالخصوص آصف علی زرداری نے بھی دانستہ نادانستہ بے نظیر کے قتل پرسمجھوتہ کیا اور اقتدار کو ترجیح دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج تک پاکستان میں غیرجمہوری قوتیں ملکی حکومتوں پر حاوی رہتی ہیں۔ تو جہاں بے نظیر کی بہت ساری خوبیاں ہیں وہی یہ بڑی بڑی خامیاں بھی ہیں لیکن ہمارے ہاں چونکہ غلطیوں کی نشاندہی ہی نہیں کی جاتی جسکے سبب آج تک پوری قوم کی آنکھوں پر پٹی پڑی ہوئی ہے لیکن تاریخ کبھی بھی چھپ نہیں سکتی اور ایک نہ ایک دن تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہراتی ہے پھرسچ چاہے کتنا ہی کڑوا ہو سامنے آ ہی جاتا ہے۔

    آج نیوز کے گروپ چیف شہاب زبیری نے مرحومہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر انکی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ: وہ قوم کا فخر اور آئیکون تھیں۔ جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


    ‏پیپلزپارٹی کے سوشل میڈیا سیل سے جاری ایک پیغام میں بینظیر بھٹو کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا: "بینظیر بھٹو نے عوام کے حقوق کی بحالی، معاشی و اقتصادی ترقی، پاکستان میں جمہوریت کے قیام، جمہوری اداروں کی بحالی، عدلیہ کے استحکام، خواتین کی خودمختاری اور عوام کو بنیادی حقوق کی رسائی کیلئے انتھک جدوجہد کی۔‎”
    https://twitter.com/MediaCellPPP/status/1539095766240833538
    پیپلزپارٹی کی رہنماء سینیٹرسحر کامران نے اپنے ایک پیغام میں کہا: "بینظیر بھٹو ایک شخصیت کا نام نہیں، ایک نظریہ کا نام ہے، ایک نقطہ نظر کا نام ہے، ایک فکری سوچ کا نام ہے۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے والی بینظیر، کھیت میں کپاس چنتی عورت کی ترقی کی بات کرنے والی بینظیر اپنی سوچ اور فکر میں بھی بینظیر تھی‎۔”


    بینظیر بھٹوکے صاحبزادے اور وزیرجہ خارجہ بلاول بھٹو زداری نے اپنی والدہ کی سالگرہ پر ایک پیغام میں کہا کہ: بینظیر شہید نے تیس سال سے زائد جمہوریت کی بقاء، اور معیشت و غریبوں کی بہتری سمیت اسلام کے امن کے پیغام کیلئے جدوجہد کی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • پیپلز پارٹی کے وکلاء پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت میں داخل ہو گئے

    پیپلز پارٹی کے وکلاء پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت میں داخل ہو گئے

    مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ کچھ دیر میں سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی جائے گی-

    باغی ٹی وی : مریم اورنگزیب نے کہا کہ زاہد حامد،اعظم تارڑ،فاروق نائیک اور کامران مرتضیٰ پٹیشن تیار کررہے ہیں، کچھ دیر میں سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی جائے گی-

    عمران خان پر غداری کا مقدمہ ہو گا ، شہباز شریف

    ذرائع کا کا کہنا ہے کہ عدالتی عملہ سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گیا ہے ذرائع کے مطابق مصطفیٰ نواز کھوکر نے کہا ہے کہ سینیٹر فاروق نائیک اور رضا ربانی پٹیشن تیار کر رہے ہیں ہم ساڑھے3 بجے سپریم کورٹ پہنچیں گے-

    دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ امید ہے سپریم کورٹ غیر آئینی قدم کالعدم قرار دے گی-

    سابق صدر آصف علی زرادری کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی کام ہوا ہے،عدالت اس اقدام کو اٹھا کر پھینک دے گی،وستوں کی خواہش تھی ان کے سوچ پر چلنا پڑتا ہے ،دیکھتے ہیں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے،ہم الیکشن اور ہر صورت حال کے لیے مکمل تیار ہیں-

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنیٹرینز کی طرف سے درخواست تیارکرلی گئی درخواست کچھ دیر بعد سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی درخواست نیئر بخاری کی توسط سے دائر کی جائے گی-

    اپوزیشن کو بڑا جھٹکا عدم اعتماد کی تحریک مسترد

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے دی گئی رولنگ کو کالعدم قرار دیا جائے،اسپیکر او رڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد تحریک پر دوبارہ ووٹنگ کی ہدایت کی جائے-

    درخواست کے متن میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر کا اقدام آئین کے مختلف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے علاوہ ازیں درخواست میں کہا گیا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لئے آج ووٹنگ کرانے کی ہدایت کی جائے-

    ادھر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی آئینی صورت حال کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ پہنچ گئے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے ساتھی ججز کو مشاورت کے لیے بلایا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ساتھی ججز کو مشاورت کے لیے اپنےگھر پر بلایا ہے کیونکہ اتوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ کورٹ کو تالے لگے ہوئے ہیں تاہم اب اطلاعات ہیں کہ سپریم کورٹ کے تالے کھول دیے گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اور عدالتی عملہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے وکلاءبھی پٹیشن دائر کرنے کیلئے عدالت عظمیٰ میں داخل ہو گئے ہیں۔ وکیل شہباز کھوسہ سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست دائر کریں گے ۔

    دوسری جانب شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ جائیں یا کسی اورعدالت ، سپریم کورٹ اسپیکرکےخلاف فیصلہ نہیں دے گی، میری معلومات کے مطابق ریاستی ادارے بھی انتخابات چاہتے ہیں غیر ملکی مداخلت پر پاکستان کی سالمیت کا سوال پیدا ہو جائے تو سب متحد ہیں،لڑائی گلی محلے تک پہنچ چکی ہے۔

    نئے الیکشن کے لیے آصف زرداری کے سوا سب تیار ہے،جب تک سپریم کورٹ کا کیس ہوگا، انتخابات کےدن آچکےہوں گے وزیراعظم نے کوئی سرپرائزنہیں دیا،میں تواشاروں میں سمجھارہا تھا، لیکن آپ لوگوں کوسمجھ نہیں آئی، اب عمران خان کودوتہائی کی اکثریت دلانی ہے۔

    صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی

  • عمران خان پر غداری کا مقدمہ ہو گا ، شہباز شریف

    عمران خان پر غداری کا مقدمہ ہو گا ، شہباز شریف

    قومی اسمبلی کا اجلس ملتوی کرنے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل دیا گیا ہے،‏اپوزیشن نے فوراً سپریم کورٹ جانے اور قومی اسمبلی میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اب سپیکر اور وزیراعظم پر آرٹیکل سکس لگے گا کیونکہ انہوں نے قانون توڑا ہے اب بغاوت کا مقدمہ ہو گا آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا،عمران خان اور ان کے حواری جمہوریت کا چہرہ مسخ کرنا چاہتے ہیں،ڈپٹی اسپیکر نے آئین کی دھجیاں اڑا دیں-

    عامرلیاقت نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا

    ماہر قانون حامد خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو عدالت جانا چاہیے جبکہ ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آئین توڑا ہےاسپیکر نے غیر آئینی رولنگ دی،یہ بڑا معاملہ ہے جو سپریم کورٹ کے سامنے آئے گا –

    بلاول کا کہنا ہے کہ سپیکر نے آئین توڑا اپوزیشن کا تعداد مکمل تھا ہم شکست دے رہے تھے آخری موقع پر سپیکر نے غیر آئینی کام کیا آئین کو توڑنے کی سزا واضح ہے اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم دھرنا دیں گے اور وکلا ابھی ہی سپریم کورٹ پہنچیں گے تا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ آج ہی ہو وزیراعظم پارلیمان تحلیل نہیں کر سکتا انہیں عدم اعتماد کا مقابلہ کرنا پڑے گا جب کہ اسپیکر کے خلاف بھی عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔

    چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ اب سپریم کورٹ نے فیصلہ دینا ہے، یہ بچگانہ حرکت ہے، یہ میدان سے بھاگنا ہے، عمران خان اپنے آپ کو ایکسپوز کرچکا ہے، عوام سے اپیل کرتا ہوں وہ جمہوریت اور آئین کا ساتھ دیں، ہم کسی غیر جمہوری شخص کو آئین پر ڈاکا مارنے کی اجازت نہیں دیں گے-

    ڈپٹی اسپیکر نے الیکشن کا شیڈول بدل دیا،پرویز الہٰی

    بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے آئین اور قانون توڑا ہے،وزیراعظم عمران خان نے آج بغاوت کی ہے،ہم نے پوری دنیا کو دکھایا کہ ہمارے پاس 190 سے زیادہ ارکان ہیں-

    انہوں نے کہا کہ عمران خان آرٹیکل 6 کے تحت پھنس گئے ہیں، انہوں نے جو الزام لگایا وہ کیس سپریم کورٹ نے بھی نہیں سنا، عمران خان کے پاس عالمی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ہے سپریم کورٹ نے اتوار کے روز از خود نوٹس لیا


    مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ توئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپنی کرسی کو بچانے کی خاطر آئینِ پاکستان کا حلیہ بگاڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اس جرم پر اگر اس پاگل اور جنونی شخص کو سزا نا دی گئی تو آج کے بعد اس ملک میں جنگل کا قانون چلے گا!

    اللہ کا شکر ہے کہ غیر آئینی کام کرنے سے بچ گیا،چوہدری سرور

    قمر زمان قائرہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم کہتا ہے کہ میں اقتدار نہیں چھوڑوں گا، میں آخری بال تک کھیلوں گا انہوں نے پورے پاکستان کی اسٹرکچر کو چیلنج کرنےکی کوشش کی تحریک انصاف والوں نے بد تمیزی کی انتہا کردی،آپ پاکستان کے اندر کون سا انارکی کا نظام لانا چاہتے ہیں،اب ان کو کان سے پکڑ کر ٹھیک کریں گے-

    واضح رہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اسمبلی اجلاس میں بدترین ہنگامہ آرائی کو جواز بناتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6 اپریل تک ملتوی کر دیا تھا پنجاب اسمبلی کا اجلاس صرف 6 منٹ ہی چل سکا جس کے باعث نا تو آج نئے وزیراعلیٰ کے چناؤ کے لیے ووٹنگ ہو سکی اور نا ہی پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا سکی-

    اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے اور شدید نعرے بازی کی اپوزیشن ارکان نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف ایوان میں دھرنا دے دیا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد : ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا رد عمل

  • ناظم جوکھیو قتل کیس کے ملزم ایم این اے جام عبدالکریم پاکستان پہنچ گئے

    ناظم جوکھیو قتل کیس کے ملزم ایم این اے جام عبدالکریم پاکستان پہنچ گئے

    کراچی: پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور ایم ا ن اے ناظم جوکھیو قتل کیس میں ملوث جام عبدالکریم پاکستان پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ناظم جوکھیو قتل کیس میں ملوث رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم پاکستان پہنچ گئے، صوبائی وزیر امتیاز شیخ رہنما پیپلز پارٹی سہیل سیال اور شبیر بجارانی نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا جام عبدالکریم سندھ ہائیکورٹ سے 3 اپریل تک حفاظتی ضمانت پر ہیں-

    فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا، اپنے ساتھ چھوڑ گئے،ناظم جوکھیو کی بیوہ نے قاتلوں کو معاف…

    رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم کو امیگریشن کے بعد ایف آئی اے حکام نے ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے حوالے کیا، وہ جام عبدالکریم کو پولیس سیکیورٹی میں ایئر پورٹ سے اپنے ہمراہ لے گئے-

    ذرائع کے مطابق جام عبدالکریم وزیر اعظم کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد میں اپنا ووٹ استعمال کرنے کے لئے اسلام آباد جائیں گے-

    واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی ناظم جوکھیو کی بیوہ نے اپنے شوہر کے قتل میں ملوث تمام افراد کو معاف کرنے کا ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اپنے شوہر ناظم جوکھیو کے قاتلوں کو معاف کرتی ہوں۔

    شیریں جوکھیو نے کہا تھا کہ میرے چھوٹے بچے ہیں اور مزید کسی سے لڑ نہیں سکتی، اکیلی ہوں کوئی ساتھ نہیں ہے اور سب نے مشورہ دیا کہ کیس سے الگ ہو جاؤ۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں نے فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔

    جمعیت نےاسلام مخالف اور”ہم جنس پرستی” کو فروغ دینےکےخلاف مرکزی دروازے…

    واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی جام عبد الکریم ناظم جوکھیو قتل کیس میں نامزد ہیں، ناظم جوکھیو کو نومبر 2021 میں قتل کیا گیا تھا مقتول ناظم جوکھیو نے غیر ملکیوں کو شکار سے روکنے کی ویڈیو بنا کر اپنا ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا اور ناظم جوکھیو کے لواحقین کے مطالبے پر پیپلزپارٹی رکن اسمبلی جام اویس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا لواحقین کے احتجاج کے بعد جام اویس نے اپنی گرفتاری پیش کی تھی۔ مقتول ناظم جوکھیو نے اپنے آخری ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ اسے دھمکیاں دی گئیں۔

  • جمہوریت بچانے کیلئے صبر سے کام لیا، ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں

    جمہوریت بچانے کیلئے صبر سے کام لیا، ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں

    کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات عاجز دھامرا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی فنڈنگ کیس میں ختم ہو جائے گی-

    باغی ٹی وی : پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر عاجز دھامرا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نےجمہوری طریقہ سے تبدیلی کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں-

    پی ٹی آئی منحرف اراکین کو ہم نے زبردستی نہیں رکھا،سعید غنی

    انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے تیاریاں مکمل ہیں، حکومت کل اجلاس طلب کر لے اسپیکر نااہل حکومت کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں وزیراعظم نے بھارت کی خارجہ پالیسی کی تعریف کرکے پاکستانی عوام کے دل دکھائے ہیں۔

    عاجز دھامرا نے کہا کہ جمہوریت بچانے کے لیے بہت صبر سے کام لیا ہے، ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں جو اراکین ووٹ ڈالنے پہنچے ہیں ان کا تحفظ کرنا قانونی حق ہے، ایم کیو ایم نے سندھ تقسیم کا کوئی مطالبہ نہیں رکھا ہے۔

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا چاہیے تھا،25مارچ کو اجلاس بلا کر اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی پارلیمنٹ کی تزئین و آرائش کے باعث اجلاس میں تاخیر غیر آئینی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کے وضاحت ناقابل قبول ہے-

    وزیراعظم سے کراچی کے اراکین پارلیمنٹ کی ملاقات،عامر لیاقت بلانے کے باوجود نہ آئے

    انہوں نے کہا تھا کہ ریکوزیشن سے پہلے وزرا اپوزیشن کو عدم اعتماد لانے کا چیلنج دیتے رہے ،ریکوزیشن کے بعد وزیراعظم نے کہا ان کی دعا قبول ہو گئی،وزیراعظم نے اپنے ہی ارکان پر پیسے لینے کا الزام لگایا اور دھمکی دی،وزیراعظم اب ارکان کو واپس آنے کی منت سماجت کر رہے ہیں آئین میں یہ نہیں ہے ارکان پارٹی لیڈر کی مرضی کے بنا ووٹ نہیں دے سکتے،حکومت ارکان پارلیمنٹ سے ووٹ کا حق نہیں چھین سکتی-

    سازش نہیں مکافات عمل،نوازشریف نے باہر بیٹھ کو آپکو گھر میں گھس کرمارا،مریم نواز

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے، اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس طلب کر لیا ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ، 2022 بروز جمعہ المبارک دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا۔اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کی شق 54 (3) اور شق 254 کے تحت تفویض اختیارات کو بروے کارلاتے ہوئےطلب کیا ہےاجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے اجلاس موجودہ قومی اسمبلی کا 41 واں اجلاس ہو گا قومی اسمبلی کا اجلاس صرف ایک گھنٹہ جاری رہے گا اور پیر تک ملتوی ہو جائے گا۔ 12 بجے جمعہ کا وقفہ ہو گا اور ہفتہ اتوار کو اجلاس نہیں ہوگا-

    انسانیت کی خدمت میری حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم

  • وزیراعظم گھبرا چکے ہیں اور گالیاں دینے پر اتر آئے ہیں،بلاول زردای

    وزیراعظم گھبرا چکے ہیں اور گالیاں دینے پر اتر آئے ہیں،بلاول زردای

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم گھبرا چکے ہیں اور گالیاں دینے پر اتر آئے ہیں-

    باغی ٹی وی : پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ عدم اعتماد معاشی بحران کے خلاف ہے اور عدم اعتماد اس خارجہ پالیسی کے خلاف ہے جس نے پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کیا ہے اس تحریک کے پیچھے عوام کی طاقت ہے، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی-

    روسی صدر اور ٹرمپ نے عزت دی کیونکہ ان کو پتہ تھا میں دونمبر نہیں ، وزیراعظم

    بلاول زرداری نے وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم گھبرا چکے ہیں اور گالیاں دینے پر اتر آئے ہیں ہارا ہوا شخص گالی دینا اور بال ٹیمپرنگ کرنی شروع کردیتا ہے وزیراعظم سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اپنی تقریر میں کس کو جانور کہہ رہے تھے-

    انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر جمہوری آدمی ہیں اور جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے ہیں عمران خان صرف فکس میچ میں یقین رکھتے ہیں وزیراعظم اپنی گنتی پوری کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔

    کیا وزیراعظم عمران خان کویقین دہانی کروا دی گئی ہے؟اگلے6 ماہ عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گے

    بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں ،آنے والا وقت بہت مشکل ہے،ہمیں مل کر محنت کرنا ہو گی،ایک دوسرے کو گالی نہیں مشورے دینے ہیں، عمران کی سیاست ہمیں بحرانوں سے نہیں نکال سکتی، ہر اس شخص سے رابطہ کیا جو سلیکٹڈ سے نجات دلانے میں مدد کر سکتا تھا-

    چیئرمین پی پی نے کہا کہ یہ ملک کسی ایک شخص کا نہیں ہم سب کا ہے،اگر ہمارے نمبر پورے نہ ہوتے تو کیا عمران اتنا پریشان ہوتا، اگر ہمارے نمبر پورے نہ ہوتے تو کیا وزیراعظم گالیاں دیتے-

    میرےوفادارتیاررہیں:ملک کوجام کرسکتےہیں:فضل الرحمن کا اپنی ملیشیا کے نام پیغام

    ،عدم اعتماد لائے ہی اس لئے تھے کہ یہ سڑکوں پر آئے، عمران خان کو گالی دینا گالی کی توہین ہو گی، ہم خوش ہیں کہ ہمارا مخالف اتنا پریشان ہے،وزیراعظم اس وقت صرف دھاندلی کی کوشش کر رہے ہیں ان کے پاس سوائے دھاندلی کے الیکشن جیتنے کا کوئی آپشن نہیں ہم اسے کسی صورت دھاندلی نہیں کرنے دیں گے-

    پاکستان کےسیاسی منظرنامےپرکچھ ہورہا ہے:دعا ہے کہ اللہ پاکستان کے لیےبہتر ہی کرے:مبشرلقمان