Baaghi TV

Tag: چین

  • چین نے امریکا کی 7 فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    چین نے امریکا کی 7 فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    بیجنگ: نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصب سنبھالنے سے قبل ہی چین نے امریکا کی 7 فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں کیا۔

    چین کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ ان 7 امریکی فوجی کمپنیوں کے چین میں تمام اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں جن 7 امریکی کمپنیوں اور اِن کی اعلیٰ انتظامیہ پر پابندی عائد کی گئی ہیں انہوں نے تائیون کو ہتھیار فروخت کر کے چین کی سلامتی کے منافی کام کیا تھا امریکا نے تائیوان کی فوجی مدد کرکے چین کی خود مختاری میں مداخلت کی ہے۔

    دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اہم پیش رفت

    واضح رہے کہ جن 7 کمپنیوں پر پابند عائد کی گئی ہےان میں انسیٹو انکوپوریٹ، ہڈسن ٹیکنالوجیز، سرانک ٹیکنالوجیز، رائتھن کینیڈا، رائتھن آسٹریلیا، ایئر کوم انکوپوریٹ اور اوشی نرنگ انٹرنیشنل ہیں، گزشتہ ہفتے ہی امریکی صدر جوبائیڈن نے تائیوان کی مدد کے لیے فوجی تربیت کی مد میں 895 بلین ڈالر خصوصی طور پر مختص کیے ہیں۔

    کُرم:گرینڈ قبائلی جرگہ دو روز کیلئے ملتوی،معاہدے کےاہم نکات سامنے آ گئے

  • این ایل سی چین سےامارات تک  سامان پہنچانے لگی

    این ایل سی چین سےامارات تک سامان پہنچانے لگی

    این ایل سی نے چین سے دبئی تک پاکستان کے راستے بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ نظام کے تحت تجارتی سامان کی ترسیل کا آغاز کر دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ تاریخی سنگِ میل پاکستان چین اقتصادی راہداری کی فعالیت میں ایک بڑا قدم ہے جو چین سے خلیجی ممالک تک نقل و حرکت کا مختصر اور مؤثر راستہ فراہم کرتا ہے۔الیکٹرانک آلات سے لدا این ایل سی کا ٹرک کاشغر سے جبل علی پورٹ دبئی کی جانب روانہ ہوا، ٹرک نے اپنی پہلی منزل این ایل سی ڈرائی پورٹ سوست پر مکمل کی۔یہ ترسیل خنجراب پاس کو سال بھر فعال رکھنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔سوست میں اس تاریخی ترسیل کے آغاز کو منانے کے لیے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں گلگت بلتستان حکومت کے اعلیٰ عہدیداران، کسٹمز حکام اور تاجر برادری نے شرکت کی۔کاشغر سے کراچی تک این ایل سی کے ٹرک کے ذریعے سامان کی ترسیل 8 دنوں میں کی جائے گی، کراچی سے کنٹینر سمندری راستے سے جبل علی بندرگاہ 2 دن میں پہنچے گا۔کاشغر سے دبئی تک سامان کو بذریعہ سمندر پہنچنے میں 30 دن لگتے ہیں جبکہ روڈ کے ذریعے یہ ترسیل صرف 10 دنوں میں مکمل ہوگی۔چین سے دبئی براستہ پاکستان ترسیل تاجر برادری کے لیے بے پناہ فوائد فراہم کرنے کا سبب بنے گا۔ٹی آئی آر سروس سے خلیجی ممالک تک سامان کی ترسیل کم وقت اور لاگت میں ممکن ہو سکے گی۔تیز رفتار نقل و حرکت کی سہولت برآمد اور درآمد کنندگان کے لیے تجارت کے نئے مواقع پیدا کرے گی، اس قدم سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، تجارتی تنوع کو فروغ اور خطے کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

    جسٹس ر اعجاز حسن وفات پا گئے

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

  • 35 افراد کو کچلنے والے شخص کو سزائے موت

    35 افراد کو کچلنے والے شخص کو سزائے موت

    چین کی ایک عدالت نے جنوبی شہر ژوہائی میں تیز رفتار گاڑی لوگوں پر چڑھا کر 35 افراد کو ہلاک کرنے جرم میں ایک شخص کو سزائے موت دے دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ے مطابق 12 نومبر کو 62 سالہ فین نامی کار ڈرائیور نے جان بوجھ کر ایک ایس یو وی اسپورٹس سینٹر کے باہر ورزش کرنے والے لوگوں پر چڑھا دی تھی۔چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق آج (جمعہ) کے روز عدالت میں ان پر درج کیس کی سماعت ہوئی اور آج ہی انہیں سزا سنائی گئی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم کے عزائم بہت زیادہ خوفناک اور جرم کی نوعیت انتہائی سنگین تھی، واقعے کے سنگین نتائج ہیں جس سے معاشرے کو شدید خطرہ لاحق ہوا ۔واقعے کے بعد پولیس نے مجرم کو اپنی کار سے زخمی حالت میں حراست میں لیا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دوران سماعت حادثے میں چل بسنے ہونے والے افراد کے اہل خانہ، عہدیداروں اور شہریوں کے سامنے فین نے جرم قبول کیا۔سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ فین نے یہ اقدام طلاق، اس کے بعد جائیداد کی تقسیم سے مطمئن نہ ہونے کے بعد اٹھایا۔واضح رہے کہ 12 نومبر کو چین کے جنوبی شہر ژوہائی میں ایک تیز رفتار گاڑی اسپورٹس سینٹر کے باہر لوگوں پر چڑھ دوڑی تھی، جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے ایک جاری بیان میں کہا تھا کہ 62 سالہ فین نامی مشتبہ کار ڈرائیور اپنی کار میں چاقو سے خود کو زخمی کرنے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    وزیراعظم نے اہم فصلوں سے متعلق 8 رکنی کابینہ کمیٹی بنا دی

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

  • وزیراعظم  سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم   کی ملاقات

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں چیئرمین ماؤ زے تنگ کی بھتیجی مادام ماؤ شیاؤ چنگ بھی موجود تھیں،ماسٹر یوآن کے بنائے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح اور چیئرمین ماؤ زے تنگ کے اسکلپچرز کے حوالے سے خصوصی تقریب ہوئی،یہ تقریب 25 دسمبر کو قائد اعظم اور 26 دسمبر کو ماؤ زے تنگ کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی،وزیراعظم نے پاکستان آمد پر ماسٹر یوآن کو خوش آمدید کہا،وزیراعظم نے قائد اعظم اور چیئرمین ماؤ کا شاندار اسکلپچرز بنانے پر ماسٹر یوآن کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کی یہ تقریب تاریخی ہے،دونوں لیڈرز کے اسکلپچرز ماسٹر یوآن کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ،قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے نئی اسلامی مملکت پاکستان کی بنیاد رکھی،جدید چین کی بنیاد رکھنے میں چئیرمین ماؤ کا کلیدی کردار تھا،چیئرمین ماؤ زے تنگ کی عزت و احترام ہر پاکستانی کے دل میں ہے ،پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات کی بنیاد مشترکہ عزت و احترام اور بھروسے پر مبنی ہیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ چین اور پاکستان دونوں قدیم تاریخی ورثوں کے امین ہیں،اس سال جون میں اپنے دورہء چین کے دوران شیان میں ٹیرا کوٹا واریئرز میوزیم جانے کا اتفاق ہوا جو کہ انتہائی متاثر کن تاریخی ورثہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ،پاکستان وادیء سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا مسکن ہے ؛ موہنجو دڑو اور ہڑپہ میں ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ پنہاں ہے ،اس سال چین کے وزیراعظم عزت مآب لی کی چیانگ کے پاکستان کے دورہ سے دونوں ممالک کے مثالی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ،پاکستان اور چین کی آل -ویدر اسٹریٹجک پارٹنر شپ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے،چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے لے کر دفاع اور دفاعی پیداوار اور زراعت کے شعبوں میں تعاون میں مزید بہتری آ رہی ہے،پاکستان سے زراعت کے شعبے کے گریجوئیٹ کا پہلا بیچ چینی زرعی یونیورسٹیوں میں تربیت اور تحقیق کی غرض سے جلد چین روانہ ہو گا ،

    تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات ، نشریات و ثقافت عطاء اللہ تارڑ ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ،پاکستان میں تعینات چینی سفیر عزت مآب جیانگ زی ڈونگ ، چین میں تعینات پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی اور سرکاری افسران موجود تھے۔

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

  • امریکی سابق لڑاکا پائلٹ پر چینی فوج کو تربیت دینے کا الزام، امریکہ حوالگی کی منظوری

    امریکی سابق لڑاکا پائلٹ پر چینی فوج کو تربیت دینے کا الزام، امریکہ حوالگی کی منظوری

    آسٹریلیاکے اٹارنی جنرل نے پیر کو تصدیق کی کہ ایک سابق امریکی میرین کو جس پر چینی فوج کے پائلٹس کو تربیت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، امریکہ کے حوالے کیا جائے گا تاکہ وہ وہاں الزامات کا سامنا کر سکے۔ اس فیصلے کے بعد ان کے حمایتیوں کو شدید دھچکا لگا ہے، جو ان کی آزادی کے لیے عوامی مہم چلا رہے تھے۔

    ڈینیئل ڈوگن، جو ایک قدرتی آسٹریلوی شہری ہیں، کو 2022 میں ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر 2017 میں امریکہ کی گرینڈ جیوری کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے چینی فوج کے پائلٹس کو تربیت دی، جو کہ امریکی ہتھیاروں کی پابندی کی خلاف ورزی تھی۔ڈوگن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام ان کی سرگرمیوں سے باخبر تھے اور وہ صرف چینی شہری پائلٹس کو تربیت دے رہے تھے کیونکہ چین کا فضائی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل مارک ڈریفس نے پیر کو کہا کہ ڈوگن کو "ان جرائم کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کیا جانا چاہیے جن کا ان پر الزام عائد کیا گیا ہے۔” ڈریفس نے یہ بھی بتایا کہ ڈوگن کو اس بات کا موقع دیا گیا تھا کہ وہ یہ وضاحت فراہم کریں کہ کیوں انہیں امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے۔ڈوگن کی حوالگی کی درخواست کے حق میں مئی میں عدالت سے منظوری مل چکی تھی۔

    ڈوگن کی اہلیہ سیفریں ڈوگن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اور ان کے چھ بچے "اس بے رحم اور انسانیت سوز فیصلے سے صدمے میں ہیں جو کرسمس سے کچھ دن پہلے بغیر کسی وضاحت یا جواز کے دیا گیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم آسٹریلیا کی حکومت سے مایوس ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک آسٹریلین خاندان کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکامی کا سامنا کیا ہے۔ ہم اب اپنے اختیارات پر غور کر رہے ہیں۔”

    اگر ڈوگن پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں 65 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ڈوگن کو اکتوبر 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ چھ سالہ چین میں قیام کے بعد اپنی فیملی کے ساتھ آسٹریلیا واپس آئے تھے۔ ان کی گرفتاری امریکی حکام کی درخواست پر آسٹریلوی پولیس نے کی تھی۔

    2017 میں دائر کی گئی ایک فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ "2008 کے اوائل میں” ڈوگن کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی، جس میں انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ غیر ملکی فضائی افواج کو تربیت دینے کے لیے دفاعی تجارت کے کنٹرول ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ رجسٹر ہوں اور اجازت نامہ حاصل کریں۔الزامات کے مطابق، ڈوگن نے دوسرے افراد کے ساتھ سازش کرتے ہوئے چینی فوج کے لیے دفاعی خدمات فراہم کیں، جو کہ چین پر عائد امریکی ہتھیاروں کی پابندی کی خلاف ورزی تھی۔

    ٹیسٹ فلائنگ اکیڈمی آف ساؤتھ افریقہ نے 2023 میں سی این این کو ایک بیان میں کہا کہ وہ اس ملک کے قوانین کی پابندی کرتی ہے جہاں وہ کام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈوگن نے 2012 کے نومبر اور دسمبر کے دوران جنوبی افریقہ میں ایک ٹیسٹ پائلٹ کے طور پر ایک معاہدہ کیا تھا، لیکن "چین میں اس کی تربیتی ذمہ داریوں میں کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیا۔”ڈوگن نے 2013 میں چین منتقل ہو کر 2016 میں بیجنگ میں امریکی شہریت چھوڑ دی تھی، حالانکہ ان کے وکیل کے مطابق یہ دستاویزات 2012 میں آسٹریلین شہریت حاصل کرنے کی تاریخ سے پیچھے کی گئی تھیں۔ڈوگن کے وکیل برنارڈ کولآری نے اگست میں ایک 89 صفحوں پر مشتمل دستاویز میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق امریکی فوجی اہلکار چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کا شکار بن گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا، "حوالگی کی درخواست ایک وحشیانہ ردعمل ہے جو امریکہ کے چین فوبیا کو ظاہر کرتا ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا، "اگرچہ ڈوگن کو قربانی بنانے سے کچھ لوگوں کو سکون مل سکتا ہے، لیکن ان کی حوالگی ایک سیاسی ماحول اور نیم قانونی جیل نظام میں ہوسکتی ہے جو آسٹریلیا کی ایک گہری اخلاقی اور خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔”

    ڈوگن کی گرفتاری اس وقت ہوئی جب امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیشیا نے 2021 میں AUKUS معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد چین کی بڑھتی ہوئی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بحرالکاہل میں مشترکہ فوجی تعاون کو مزید مستحکم کرنا تھا۔اس کے بعد، برطانیہ اور آسٹریلیشیا نے اپنے سابق فوجی اہلکاروں کے لیے قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ ان کے بعد کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔

    روس میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں سزا

    جاپان میں کرسمس ویلنٹائن ڈے کی طرح،نوجوان جوڑے رومانس کیلئے تیار

  • چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024منعقدہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ،وفاقی وزیر اوور سیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب میں شرکت کی۔ سیکریٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احسان بھٹہ ،سیکریٹری ٹرانسپورٹ احمد جاوید قاضی،انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور،صنعتکاروں،کالم نگاروں اور سینئر صحافی بھی تقریب میں شریک تھے۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین ،سابق نگران صوبائی وزیر عامر میر اور دیگر کو فرینڈشپ ایوارڈ دیئے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پر محیط تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں گے۔چین مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ہر گزرتے لمحے پاکستان اور چین کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے قائد اعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں گارمنٹ سٹی بنایا ہے جو سولر انرجی پر ہوگا۔چین کی کمپنیاں پنجاب میں سولر،ٹیکسٹائل،زراعت ،لیتھیئم بیٹریاں بنانے اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔چین کی آئکو سولر انرجی کمپنی کے ساتھ پنجاب میں سولر پینلز مینوفیکچرنگ کا کارخانہ لگانے کا معاہدہ پہلے ہی ہوچکاہے۔چین کی بڑی موبائل فون کمپنی فیصل آباد میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کا پلانٹ لگائے گی۔صوبائی وزیرصنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہاکہ میں نے اپنے دورہ چین کے دوران الیکٹرک وہیکلز بنانے والے گروپ کے علاوہ متعدد کمپنیوں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔بہت سی کمپنیوں نے پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں آمادگی ظاہر کی۔پنجاب کے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات حاصل ہیں۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوچکا اب دوسرے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور گیم چینجر ثابت ہوگا۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے کہاکہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور دونوں ممالک کے مابین دوستی اور تجارتی تعاون کی اعلیٰ مثال ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کے حالیہ دورہ چین سے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔چینی قونصل جنرل نے کہاکہ پنجاب میں بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام سے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کی سہولت ملی ہے۔چین کے سرمایہ کاروں کو بہترین سکیورٹی کی فراہمی پر حکومت کے مشکور ہیں۔

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری
    اسٹیل ملز سے قیمتی دھاتیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار

  • گوادر تا نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر کا فیصلہ

    گوادر تا نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر کا فیصلہ

    پاکستان اور چین کے درمیان گوادر سے نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس منصوبے کے حوالے سے وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کی چین کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ سے ملاقات ہوئی۔احسن اقبال نےمواصلات کےشعبےمیں چین کےتعاون کوسراہا، ملاقات میں گوادر بندرگاہ اور نئے ائرپورٹ کے مابین ایکسپریس وے کی تعمیر پر بھی اتفاق کیا گیا۔وفاقی وزیر کی چین کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی صدر سے بھی ملاقات ہوئی، ملاقات میں احسن اقبال نے کہا کہ روڈ انفرا اسٹرکچر سے ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔حکومت توانائی، ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن ہے، احسن اقبال نے خلائی سیٹلائٹ منصوبے کی فنانسنگ پر چینی تعاون کا شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ترقی کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کا حصول ناگزیر ہے۔اس موقع پر چین کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی صدر مس ونگ شوننگ نے پاکستان میں معاشی بحالی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مضبوط رشتے میں بندھے ہیں اور پاکستان کی ترقی کے لیے چین ہمیشہ تعاون کرتا رہے گا۔

    بلاول بھٹو سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    صدر مملکت سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور وفد کی ملاقات

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ چین،13 ارب کی سرمایہ کاری کا وعدہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ چین،13 ارب کی سرمایہ کاری کا وعدہ

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کا چین کا حالیہ دورہ ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا ہے، جس کے دوران چین کی کمپنیوں نے صوبے میں 13 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

    اس دورے کے دوران آئی ٹی، سبز توانائی، اور ماحولیاتی شعبوں میں چینی کمپنیوں کے ساتھ متعدد اہم معاہدے کیے گئے۔اس دورے کی سب سے بڑی کامیاب پیش رفت گوبی پارٹنرز کی جانب سے 50 ملین ڈالر (تقریباً 13.88 ارب روپے) کے سرمایہ کاری فنڈ کا اعلان تھا۔ اس فنڈ کا مقصد پنجاب میں نئے کاروباروں (اسٹارٹ اپس) اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی حمایت کرنا ہے۔ گوبی پارٹنرز کا یہ فنڈ پنجاب میں کاروباری ماحول کو مزید فروغ دینے اور صوبے کو کاروباری ترقی کے حوالے سے ایک مضبوط مقام دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    ایک اور اہم معاہدہ سولر این پلس اور پنجاب حکومت کے درمیان ہوا، جس کے تحت صوبے میں شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے تحت، سولر این پلس پنجاب میں جدید ترین شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور مقامی سطح پر توانائی کے شعبے میں صلاحیت بڑھانے کے لیے کام کرے گا۔

    گوبی پارٹنرز اور بینک آف پنجاب کے درمیان بھی ایک شراکت داری کا معاہدہ ہوا ہے، جس کا مقصد پنجاب میں اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مالیاتی حل فراہم کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت کاروباری اداروں کو قرضوں، ایکویٹی سرمایہ کاری، مالی حل، اور رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بہتر بنا سکیں۔

    اس دورے کے دوران پنجاب حکومت نے چین کی کمپنیوں کو صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے دستیاب معاشی ترغیبات اور خصوصی صنعتی زونز کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان ترغیبات میں ٹیکس کی چھوٹ، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، اور خصوصی اقتصادی زونز شامل ہیں، جنہوں نے پنجاب کو چین کی کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا ہے۔

    پنجاب حکومت نے چینی کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی اور پائیدار شراکت داری کے فروغ کے لیے بھی مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات میں یہ طے پایا کہ چینی کمپنیاں پنجاب میں جدید شمسی توانائی کے منصوبوں کی ترقی میں تعاون کریں گی، جس سے صوبے کے سبز توانائی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

    مریم نواز کا چین کا دورہ پنجاب کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے، جس نے نہ صرف صوبے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ اس نے پنجاب کو عالمی سطح پر ایک اہم سرمایہ کاری اور کاروباری مرکز کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اس دورے سے پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی، سبز توانائی اور ماحولیاتی شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھلے ہیں، اور یہ صوبے کو ایک مضبوط اقتصادی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگا۔

    سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

  • سیکیورٹی حادثات سے سی پیک کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں،چینی ڈپٹی مشن

    سیکیورٹی حادثات سے سی پیک کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں،چینی ڈپٹی مشن

    اسلام آباد: چینی سفارتخانے کے ڈپٹی مشن شی یوآن چھنگ نے کہا ہے کہ سی پیک متوازن ترقی میں لانگ ٹرم منصوبہ ہے۔

    باغی ٹی وی : چینی سفارتخانے کے ڈپٹی مشن چھنگ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے 10 سال مکمل ہونے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ اس وقت بہتر انداز سے آگے بڑھ رہا ہے، چینی صدر شی جن پنگ اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے اس منصوبے پر دستخط کیے۔

    انہوں نے کہا کہ توانائی سمیت دیگر شعبوں میں دونوں ممالک نے اپنا تعاون بڑھایا اور اورنج لائن منصوبہ سی پیک کا اہم منصوبہ ہے خنجراب پاس کو تمام موسموں کےلیے قابل استعمال بنایا گیا ہے گوادر ائیرپورٹ سمیت گوادر پورٹ کا منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اقتصادی زونز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

    چینی سفارتخانے کے ڈپٹی مشن نے کہا کہ رشکئی اقتصادی زون صنعتی تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور سی پیک متوازن ترقی میں لانگ ٹرم منصوبہ ہے ترقی کے لیے تحفظ ضروری ہے اور بغیر تحفظ کے سی پیک منصوبہ مکمل نہیں ہوسکتا سیکیورٹی حادثات سے سی پیک کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں چینی صدر نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ پانچ ایز فریم ورک پر کام کریں گے اور چینی صدر نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر شعبے میں تعاون کا یقین دلایا۔

    شی یوآن نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن سمیت ایم ون کی ری الائمنٹ کی جائے گی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے چین کا دورہ کیا اور تفصیلی ملاقاتیں کیں جبکہ مریم نواز نے چینی اعلی حکام سمیت کاروباری افراد سے بھی ملاقاتیں کیں پنجاب کی ترقی کے حوالے سے مختلف منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    جبکہ چیئرمین ایریڈ زاہد لطیف خان نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور اس خطے کے لیے اہم منصوبہ ہے اور یہ منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی کے لیے پاکستان سے وفود چین گئے ہیں جبکہ چینی کیپیٹل مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین اسٹاک مارکیٹ ہے دونوں ممالک کی کرنسی میں کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس سے امریکی ڈالر پر دونوں ممالک کا انحصار کم ہو گا کئی چینی کمپنیاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہیں اور چینی کمپنیوں کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں،سی پیک منصوبہ دونوں ممالک کے اتحاد کا مظہر ہے۔

    علاوہ ازیں سیکرٹری خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل جمیل قریشی نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کے مستقبل کا ویژن ہے اور ہمارے اقتصادی تعلقات ایک نئے انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں سی پیک کے تحت منصوبوں سے ہماری اگلی نسل کو فوائد پہنچیں گے خصوصی اقتصادی زونز میں چینی صنعتوں کو لانے کے لیے کام کرنا ہو گا اور پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز پر کام ابتدائی مراحل میں ہے اس میں صنعت، بزنس اور نجی شعبے کا کردار بڑا اہم ہے حکومت کا کام تعاون و تحفظ، کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔

  • پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب بزنس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے مہمان نوازی کی بے حد مشکورہوں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے دہائیوں پرانے مضبوط اور برادرانہ تعلقات ہیں۔چین کی ترقی کرتی ہوئی معیشت ہمارے لئے قابل تقلیدہے۔چینی حکومت کی سیاسی بصیرت اور ترقی سب کے لیے مشعل راہ ہے۔صدرشی جن پنگ کی مدبرانہ اور باصلاحیت قیادت کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔چین کی لیڈرشپ اور مختلف کمپنیوں سے سیرحاصل گفتگوہوئی۔آئی ٹی ،زراعت،مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری پر گفتگوہوئی۔چینی تاجروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کےلیے سہولت فراہم کریں گے۔پنجاب بزنس کونسل دونوں ملکوں کےد رمیان اہم کرداراداکرے گی۔چینی سرمایہ کار اور تاجرپنجاب میں سرمایہ کاری کریں ۔پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے۔چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط شراکت داری کے خواہاں ہیں۔موسمیاتی تغیرسےنمٹنے کیلئے چین کی پالیسیاں بہت اہم ہیں۔ماحولیات کی بہتری کےلئے تربیتی پروگرام کے بارےمیں گفتگو ہوئی،

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف دورہ چین مکمل کرکے لاہور پہنچ گئیں،سینیٹر پرویز رشید، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری ،وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان ،وزیر زراعت عاشق کرمانی بھی وطن واپس پہنچ گئے ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے چین میں آٹھ روزرہیں اور اہم ملاقاتیں کیں

    جیسن گلیسپی نے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ چھوڑنے کی وجوہات بتا دیں

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن