Baaghi TV

Tag: چین

  • 68 سالہ شخص نے اپنی ہونے والی بہو سے شادی رچا لی

    68 سالہ شخص نے اپنی ہونے والی بہو سے شادی رچا لی

    بیجنگ: چین میں 68 سالہ شخص نے اپنے بیٹے کی منگیتر سے ہی شادی رچالی، اپنے بیٹے کی سابقہ منگیتر سے یہ اس کی چوتھی شادی ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق بینک آف چائنا کے سابق چیئرمین لیو لیانج نے اپنے بیٹے کا رشتہ ختم کروا کر اس کی منگیتر سے شادی کرلی ہےلیولیانج کی عمر 68 سال ہے جب کہ وہ پہلے بھی تین بار شادی کرچکا ہے لیو لیانج نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور اس کے بعد مزید 2 شادیاں کم عمر خواتین سے کی تھیں۔

    میڈیا کے مطابق لیو لیانج کے بیٹے نے اپنے والد کو گرل فرینڈ سے ملوا کر بتایا تھا کہ وہ اس لڑکی سے شادی کا خواہشمند ہے لیکن لیو اپنے بیٹے کی منگیتر پر دل ہار بیٹھا اور اس سے شادی کرنے کےلیے سازشیں کرنے لگاسازش کے تحت لیو لیانج نے جھوٹے الزاما ت لگا کر پہلے گرل فرینڈ کے خلاف اپنے بیٹے کو بھڑکایا اور پھر بیٹے کی دوستی اپنے دوست کی بیٹی کے ساتھ کروا دی بعد ازاں بیٹے کی سابقہ گرل فرینڈ کو مہنگے ترین تحائف دے کر اپنی محبت کے جال میں پھنسا لیا۔

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    لیو کے بیٹے کو چھ ماہ بعد علم ہوا کہ اس کی سابقہ منگیتر اس کی تیسری سوتیلی ماں بن چکی ہے، جس کے بعد نوجوان شدید ڈپریشن کا شکار ہوگیا لیولیانج کی بدقسمتی کہ وہ اپنی چوتھی شادی کے بعد مشکلات میں پھنس گیا، اور اس پر رشوت اور بدعنوانی کے مقدمات سامنے آنے کے بعد عدالت سخت سزا سناچکی ہے۔

    سویڈن ، بھیڑیوں کی آبادی کا تقریباً 10% شکار کرنے کی اجازت

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس نومبر میں لیو لیانج کو 17 ملین ڈالر رشوت لینے اور 450 ملین ڈالر سے زائد غیر قانونی قرضے جاری کرنے پر 2 سال کی مہلت کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن غیر قانونی کاموں کے ساتھ لیو لیانج کا کردار بھی سرخیوں میں رہا-

  • چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    اسلام آباد: قومی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے-

    باغی ٹی وی: چین میں حالیہ دنوں میں ہیومین میٹا پینو وائرس (ایچ ایم پی وی) کے پھیلنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں یہ وائرس 14 سال اور اس سے کم عمر کی عمر کے بچوں میں پھیل رہا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ اس سے بیمار ہونے والوں کو کتنا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    اب اس وائرس کے حوالے سے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کا بیان سامنے آیا ہے قومی ادارہ صحت کے مطابق چین میں پھیلنے والا ایچ یم پی وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے، ایچ ایم پی وی کی پاکستان میں پہلی دفعہ تشخیص 2001 میں ہوئی تھی،2015 میں اس وائرس کے پمز اسلام آباد میں 21 کیس سامنے آئے تھے۔

    چین میں نئی وبا،پاکستان الرٹ،نگرانی بڑھا دی

    این آئی ایچ حکام نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے فی الحال ایچ ایم پی وی کے حوالے سے کوئی ایڈوائزری جاری نہیں کی،چین میں ایچ ایم پی وی کی صورتحال پر این سی او سی کا اجلاس 7 جنوری کو ہوگا پاکستان میں اس وقت موسمی انفلوئنزا خاص طور پر انفلوئنزا اے اور بی کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

    ٹھیکیدار کیخلاف خبریں،لاپتہ صحافی کی لاش پانی کے ٹینک سے برآمد

    دوسری جانب طبی ماہرین کا بھی کہنا تھا کہ ایچ ایم پی وی کے کیسز اکثر اوقات سامنے آتے رہتے ہیں یہ وائرس پہلی بار 2000 میں سامنے آیا تھا اور بیماری کی شدت میں اب تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوئی امریکا میں ہر سال 5 سال سے کم عمر 20 ہزار بچے اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں اور وہاں وائرس سے بچاؤ کیلئے کورونا والی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    داعش کے دہشتگرد اب بھی عالمی سطح پر خطرہ

  • ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کا عروج ایک غیر معمولی کہانی ہے، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں ہم جنس پرست کمیونٹی کے افراد کے لیے کھل کر جینا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ 57 سالہ جن ژنگ چینی شو بز کی ایک نمایاں شخصیت ہیں اور ان کا شمار ٹرانسجینڈرز کے لیے چین میں کامیابی اور قبولیت کی ایک نایاب مثال کے طور پر کیا جاتا ہے حکومتی سطح پر بھی۔

    جن ژنگ نے نہ صرف اپنی محنت اور لگن سے ایک طویل کیریئر بنایا ہے بلکہ ان کی کامیابیوں کو کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ وہ کنسرٹس کرتی ہیں، ٹی وی ٹاک شوز کی میزبانی کرتی ہیں اور ان کے ویبو پر 13.6 ملین فالوورز ہیں۔ اس کے علاوہ، چینی ریاستی میڈیا نے انہیں "چینی جدید رقص کی 10 عظیم شخصیات” میں شمار کیا ہے اور ان کے بارے میں مسلسل تعریفی پروفائلز شائع کیے ہیں۔لیکن حالیہ دنوں میں جن ژنگ کے شو کو مقامی حکام کی جانب سے اچانک اور غیر وضاحتی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے کچھ افراد یہ خوف ظاہر کر رہے ہیں کہ چینی رہنما شی جن پنگ کے اقتدار کے مضبوط ہونے کے بعد حکومت ملک کی سب سے مشہور کھل کر ٹرانسجینڈرز شخصیت کے ساتھ سختی کر سکتی ہے۔

    چین میں ٹرانسجینڈرز اکثر سماجی دباؤ اور ادارہ جاتی امتیاز کا سامنا کرتے ہیں، خاص طور پر کام کی تلاش یا سڑکوں پر چلتے ہوئے نظر آنے کے حوالے سے ان پر شدید توہین کی جاتی ہے۔ جن ژنگ نے اس معاشرتی حقیقت کے باوجود ایک کامیاب کیریئر بنایا ہے جو تمام تر روایات کے برخلاف ہے۔ ان کی کامیابی اور مسلسل فعالیت ایک امید کی کرن بنی ہوئی ہے کہ شاید ایک دن چین اپنے ہم جنس پرست کمیونٹی کے اراکین کو بھی اتنی ہی قبولیت دے گا جتنی جن ژنگ کو ملی ہے۔لیکن حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر جن ژنگ کی پذیرائی اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ جنوبی چین کے شہر گوانگ ژو میں گزشتہ سال کے آخر میں جن ژنگ کے ڈانس تھیٹر کے شو کو مقامی حکام نے "نامکمل دستاویزات” کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا، اس کے بعد مختلف شہروں میں بھی ان کے شو منسوخ کیے گئے،

    چین میں ہم جنس پرست کمیونٹی کے مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ژنگ کی مقبولیت اور کامیابی نے انہیں حکومتی سطح پر حمایت فراہم کی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں چینی حکومت کی طرف سے مغربی اقدار کے اثرات کے خلاف کریک ڈاؤن اورہم جنس پرست کمیونٹی کے خلاف سخت موقف اپنانے کے باعث ان کی پذیرائی میں کمی آئی ہے۔پروفیسر سیم ونٹر، جو کرٹین یونیورسٹی میں ایشیائی ٹرانسجینڈرز مسائل کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ "جن ژنگ کی حمایت انہیں ان کی طویل کامیابیوں کی وجہ سے حاصل ہوئی، جسے حکام نظرانداز نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں، اور شاید یہ لبرل ماحول کی طرف پیش رفت ہی مسئلہ بن گئی ہے۔”

    چین میں ہم جنس پرستی کو 1997 میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اسے 2001 میں ذہنی بیماریوں کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔ کچھ سال پہلے تک ہم جنس پرست کمیونٹی کو شنگھائی میں سالانہ پرائیڈ پریڈ منانے کی اجازت تھی اور وی چیٹ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے کی آزادی تھی۔ تاہم، شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ تمام اقدامات اور آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔جن ژنگ کے حکام کے ساتھ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گوانگ ژو کے کلچرل، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سیاحت کے بلدیاتی ادارے نے ان کے شو کو "دستاویزات کی کمی” کے سبب منسوخ کر دیا۔ جن ژنگ نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ویبو پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے حکام سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ "براہ کرم عوامی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں!”

    چین میں حکام کے خلاف براہ راست چیلنجز کرنا نایاب اور خطرے سے بھرا ہوا عمل ہے۔ جن ژنگ کی اس پوسٹ کے بعد ان کے شو چینی شہروں فوشان، سوژو اور شنگھائی میں بھی منسوخ کر دیے گئے، جن میں سے کچھ کو کسی وضاحت کے بغیر ختم کر دیا گیا۔چینی حکام نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ان کے شو کی منسوخی دستاویزات کی کمی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ تاہم، جن ژنگ کی حالیہ ویبو پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ اس فیصلے سے خاصی پریشان ہیں، کیونکہ انہیں 40 سالوں سے چین میں پرفارم کرنے کی اجازت تھی۔

    ویبو پر کچھ صارفین نے قیاس کیا کہ جن ژنگ نے شاید کسی ناپسندیدہ لکیریں عبور کر لی ہوں، خاص طور پر جب وہ ایک پچھلے شو کے دوران ایک رنگین پرچم اٹھائے ہوئے نظر آئیں جس پر "محبت محبت ہے” کا نعرہ لکھا تھا، جو کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کا عالمی علامت ہے۔چینی حکام کے لیے رنگین پرچم کی یہ علامت ایک حساس موضوع بن چکی ہے، اور ان کے لیے یہ کسی بھی قسم کی آزادی یا اختلاف رائے کی علامت سمجھا جاتا ہے جو حکومت کی پالیسی کے خلاف ہو۔

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

    ہم جنس پرست جوڑے کو گود لیے بچوں سے جنسی زیادتی پر 100 سال قید کی سزا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

  • چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    چین میں کورونا کے 5 سال بعد کووڈ 19 جیسا نیا وائرس تیزی سے پھیلنے کی اطلاعات ہیں.جس کا نام ہیومن میٹا پینو وائرس (ایچ ایم پی وی) ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارےکی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نئے وائرس سے متاثرہ لوگوں میں نزلہ اور کورونا جیسی علامات کی شکایات پائی گئی ہیں. ایچ ایم پی وی سمیت سانس کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا، سوشل میڈیا کی رپورٹس اور پوسٹس سے پتا چلتا ہے کہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے. کچھ نے دعویٰ کیا کہ مریضوں سے اسپتال بھرے پڑے ہیں. کئی لوگ جانیں کھو چکے ہیں۔چین میں آن لائن ویڈیوز میں مریضوں سے بھرے ہوئے اسپتالوں کو دکھایا گیا ہے.سوشل میڈیا صارفین انفلوئنزا اے، ایچ ایم پی وی، مائیکوپلازما نمونیا اور کووڈ 19 سمیت متعدد وائرسوں کی موجودگی کو اجاگر کر رہے ہیں۔چین میں ہنگامی حالت کے غیر مصدقہ دعوے بھی موجود ہیں۔ایکس پر سارس کوو-2 (کووڈ-19) ہینڈل کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کو انفلوئنزا اے، ایچ ایم پی وی، مائیکوپلازما نمونیا، اور کوویڈ-19 سمیت متعدد وائرسز میں اضافے کا سامنا ہے. بچوں کے اسپتال خاص طور پر نمونیا اور ’پھیپھڑوں‘ کی بیماری کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔چائنا ڈزیز کنٹرول اتھارٹی نے نامعلوم نسل کے نمونیا کے لیے پائلٹ مانیٹرنگ سسٹم کا اعلان کیا ہے. برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے گزشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ موسم سرما کے دوران سانس کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے. جس کی وجہ سے حکام نے نامعلوم جراثیموں سے نمٹنے کے لیے ’پروٹو کول‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہیومن میٹا پینو وائرس ایک سانس کا وائرس ہے، جو بنیادی طور پر بچوں ، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو متاثر کرتا ہے۔یہ اکثر عام زکام یا فلو کی علامات ظاہر کرتا ہے، جیسے بخار ، کھانسی ، اور ناک بند ہونا، اس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ابتدائی طور پر اس وائرس سے متعلق زیادہ آگاہی نہیں ہے. تاہم چین میں عوام کو کچھ ہدایات دی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ صابن اور پانی سے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں، اکثر چھوئی جانے والی سطحوں کو جراثیم سے پاک رکھیں. متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں۔ہجوم والی جگہوں پر خاص طور پر ماسک پہننے سے کسی حد تک احتیاط کی جاسکتی ہے۔نئی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے دستیاب ویکسین کے بارے میں اپ ڈیٹ رہیں، صحت مند غذا، قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور غذائیں شامل کریں۔تمباکو نوشی سے گریز کریں، کیوں کہ تمباکو نوشی نظام تنفس کو نقصان پہنچاتی ہے.جس سے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔مناسب ہائیڈریشن مجموعی صحت اور بحالی کے لیے اہم ہے. ان وائرسوں کو سمجھنا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتا ہے۔

    صائم ایوب جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر

    کراچی :پولیس موبائل میں شہری اغوا ، 9 کروڑ روپے لوٹ لیے

    پاراچنار میں امن معاہدے کے باوجود مظاہرین کا دھرنا جاری

    اسلام آباد: تھانہ آئی 9 کے باہر دھماکے کے بعد راکٹ برآمد

  • چین نے امریکا کی 7 فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    چین نے امریکا کی 7 فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    بیجنگ: نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصب سنبھالنے سے قبل ہی چین نے امریکا کی 7 فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں کیا۔

    چین کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ ان 7 امریکی فوجی کمپنیوں کے چین میں تمام اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں جن 7 امریکی کمپنیوں اور اِن کی اعلیٰ انتظامیہ پر پابندی عائد کی گئی ہیں انہوں نے تائیون کو ہتھیار فروخت کر کے چین کی سلامتی کے منافی کام کیا تھا امریکا نے تائیوان کی فوجی مدد کرکے چین کی خود مختاری میں مداخلت کی ہے۔

    دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اہم پیش رفت

    واضح رہے کہ جن 7 کمپنیوں پر پابند عائد کی گئی ہےان میں انسیٹو انکوپوریٹ، ہڈسن ٹیکنالوجیز، سرانک ٹیکنالوجیز، رائتھن کینیڈا، رائتھن آسٹریلیا، ایئر کوم انکوپوریٹ اور اوشی نرنگ انٹرنیشنل ہیں، گزشتہ ہفتے ہی امریکی صدر جوبائیڈن نے تائیوان کی مدد کے لیے فوجی تربیت کی مد میں 895 بلین ڈالر خصوصی طور پر مختص کیے ہیں۔

    کُرم:گرینڈ قبائلی جرگہ دو روز کیلئے ملتوی،معاہدے کےاہم نکات سامنے آ گئے

  • این ایل سی چین سےامارات تک  سامان پہنچانے لگی

    این ایل سی چین سےامارات تک سامان پہنچانے لگی

    این ایل سی نے چین سے دبئی تک پاکستان کے راستے بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ نظام کے تحت تجارتی سامان کی ترسیل کا آغاز کر دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ تاریخی سنگِ میل پاکستان چین اقتصادی راہداری کی فعالیت میں ایک بڑا قدم ہے جو چین سے خلیجی ممالک تک نقل و حرکت کا مختصر اور مؤثر راستہ فراہم کرتا ہے۔الیکٹرانک آلات سے لدا این ایل سی کا ٹرک کاشغر سے جبل علی پورٹ دبئی کی جانب روانہ ہوا، ٹرک نے اپنی پہلی منزل این ایل سی ڈرائی پورٹ سوست پر مکمل کی۔یہ ترسیل خنجراب پاس کو سال بھر فعال رکھنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔سوست میں اس تاریخی ترسیل کے آغاز کو منانے کے لیے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں گلگت بلتستان حکومت کے اعلیٰ عہدیداران، کسٹمز حکام اور تاجر برادری نے شرکت کی۔کاشغر سے کراچی تک این ایل سی کے ٹرک کے ذریعے سامان کی ترسیل 8 دنوں میں کی جائے گی، کراچی سے کنٹینر سمندری راستے سے جبل علی بندرگاہ 2 دن میں پہنچے گا۔کاشغر سے دبئی تک سامان کو بذریعہ سمندر پہنچنے میں 30 دن لگتے ہیں جبکہ روڈ کے ذریعے یہ ترسیل صرف 10 دنوں میں مکمل ہوگی۔چین سے دبئی براستہ پاکستان ترسیل تاجر برادری کے لیے بے پناہ فوائد فراہم کرنے کا سبب بنے گا۔ٹی آئی آر سروس سے خلیجی ممالک تک سامان کی ترسیل کم وقت اور لاگت میں ممکن ہو سکے گی۔تیز رفتار نقل و حرکت کی سہولت برآمد اور درآمد کنندگان کے لیے تجارت کے نئے مواقع پیدا کرے گی، اس قدم سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، تجارتی تنوع کو فروغ اور خطے کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

    جسٹس ر اعجاز حسن وفات پا گئے

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    احتجاج کی آڑ میں کسی کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،میئرکراچی

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ کے لاہور پریس کلب کے لیے کروڑوں کے ریکارڈ کام

  • 35 افراد کو کچلنے والے شخص کو سزائے موت

    35 افراد کو کچلنے والے شخص کو سزائے موت

    چین کی ایک عدالت نے جنوبی شہر ژوہائی میں تیز رفتار گاڑی لوگوں پر چڑھا کر 35 افراد کو ہلاک کرنے جرم میں ایک شخص کو سزائے موت دے دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ے مطابق 12 نومبر کو 62 سالہ فین نامی کار ڈرائیور نے جان بوجھ کر ایک ایس یو وی اسپورٹس سینٹر کے باہر ورزش کرنے والے لوگوں پر چڑھا دی تھی۔چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق آج (جمعہ) کے روز عدالت میں ان پر درج کیس کی سماعت ہوئی اور آج ہی انہیں سزا سنائی گئی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم کے عزائم بہت زیادہ خوفناک اور جرم کی نوعیت انتہائی سنگین تھی، واقعے کے سنگین نتائج ہیں جس سے معاشرے کو شدید خطرہ لاحق ہوا ۔واقعے کے بعد پولیس نے مجرم کو اپنی کار سے زخمی حالت میں حراست میں لیا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دوران سماعت حادثے میں چل بسنے ہونے والے افراد کے اہل خانہ، عہدیداروں اور شہریوں کے سامنے فین نے جرم قبول کیا۔سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ فین نے یہ اقدام طلاق، اس کے بعد جائیداد کی تقسیم سے مطمئن نہ ہونے کے بعد اٹھایا۔واضح رہے کہ 12 نومبر کو چین کے جنوبی شہر ژوہائی میں ایک تیز رفتار گاڑی اسپورٹس سینٹر کے باہر لوگوں پر چڑھ دوڑی تھی، جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے ایک جاری بیان میں کہا تھا کہ 62 سالہ فین نامی مشتبہ کار ڈرائیور اپنی کار میں چاقو سے خود کو زخمی کرنے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    وزیراعظم نے اہم فصلوں سے متعلق 8 رکنی کابینہ کمیٹی بنا دی

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

  • وزیراعظم  سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم   کی ملاقات

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں چیئرمین ماؤ زے تنگ کی بھتیجی مادام ماؤ شیاؤ چنگ بھی موجود تھیں،ماسٹر یوآن کے بنائے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح اور چیئرمین ماؤ زے تنگ کے اسکلپچرز کے حوالے سے خصوصی تقریب ہوئی،یہ تقریب 25 دسمبر کو قائد اعظم اور 26 دسمبر کو ماؤ زے تنگ کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کی گئی،وزیراعظم نے پاکستان آمد پر ماسٹر یوآن کو خوش آمدید کہا،وزیراعظم نے قائد اعظم اور چیئرمین ماؤ کا شاندار اسکلپچرز بنانے پر ماسٹر یوآن کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کی یہ تقریب تاریخی ہے،دونوں لیڈرز کے اسکلپچرز ماسٹر یوآن کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ،قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے نئی اسلامی مملکت پاکستان کی بنیاد رکھی،جدید چین کی بنیاد رکھنے میں چئیرمین ماؤ کا کلیدی کردار تھا،چیئرمین ماؤ زے تنگ کی عزت و احترام ہر پاکستانی کے دل میں ہے ،پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات کی بنیاد مشترکہ عزت و احترام اور بھروسے پر مبنی ہیں.

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ چین اور پاکستان دونوں قدیم تاریخی ورثوں کے امین ہیں،اس سال جون میں اپنے دورہء چین کے دوران شیان میں ٹیرا کوٹا واریئرز میوزیم جانے کا اتفاق ہوا جو کہ انتہائی متاثر کن تاریخی ورثہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ،پاکستان وادیء سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا مسکن ہے ؛ موہنجو دڑو اور ہڑپہ میں ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ پنہاں ہے ،اس سال چین کے وزیراعظم عزت مآب لی کی چیانگ کے پاکستان کے دورہ سے دونوں ممالک کے مثالی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ،پاکستان اور چین کی آل -ویدر اسٹریٹجک پارٹنر شپ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے،چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے لے کر دفاع اور دفاعی پیداوار اور زراعت کے شعبوں میں تعاون میں مزید بہتری آ رہی ہے،پاکستان سے زراعت کے شعبے کے گریجوئیٹ کا پہلا بیچ چینی زرعی یونیورسٹیوں میں تربیت اور تحقیق کی غرض سے جلد چین روانہ ہو گا ،

    تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات ، نشریات و ثقافت عطاء اللہ تارڑ ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ،پاکستان میں تعینات چینی سفیر عزت مآب جیانگ زی ڈونگ ، چین میں تعینات پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی اور سرکاری افسران موجود تھے۔

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

  • امریکی سابق لڑاکا پائلٹ پر چینی فوج کو تربیت دینے کا الزام، امریکہ حوالگی کی منظوری

    امریکی سابق لڑاکا پائلٹ پر چینی فوج کو تربیت دینے کا الزام، امریکہ حوالگی کی منظوری

    آسٹریلیاکے اٹارنی جنرل نے پیر کو تصدیق کی کہ ایک سابق امریکی میرین کو جس پر چینی فوج کے پائلٹس کو تربیت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، امریکہ کے حوالے کیا جائے گا تاکہ وہ وہاں الزامات کا سامنا کر سکے۔ اس فیصلے کے بعد ان کے حمایتیوں کو شدید دھچکا لگا ہے، جو ان کی آزادی کے لیے عوامی مہم چلا رہے تھے۔

    ڈینیئل ڈوگن، جو ایک قدرتی آسٹریلوی شہری ہیں، کو 2022 میں ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر 2017 میں امریکہ کی گرینڈ جیوری کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے چینی فوج کے پائلٹس کو تربیت دی، جو کہ امریکی ہتھیاروں کی پابندی کی خلاف ورزی تھی۔ڈوگن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام ان کی سرگرمیوں سے باخبر تھے اور وہ صرف چینی شہری پائلٹس کو تربیت دے رہے تھے کیونکہ چین کا فضائی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل مارک ڈریفس نے پیر کو کہا کہ ڈوگن کو "ان جرائم کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کیا جانا چاہیے جن کا ان پر الزام عائد کیا گیا ہے۔” ڈریفس نے یہ بھی بتایا کہ ڈوگن کو اس بات کا موقع دیا گیا تھا کہ وہ یہ وضاحت فراہم کریں کہ کیوں انہیں امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے۔ڈوگن کی حوالگی کی درخواست کے حق میں مئی میں عدالت سے منظوری مل چکی تھی۔

    ڈوگن کی اہلیہ سیفریں ڈوگن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اور ان کے چھ بچے "اس بے رحم اور انسانیت سوز فیصلے سے صدمے میں ہیں جو کرسمس سے کچھ دن پہلے بغیر کسی وضاحت یا جواز کے دیا گیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم آسٹریلیا کی حکومت سے مایوس ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک آسٹریلین خاندان کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکامی کا سامنا کیا ہے۔ ہم اب اپنے اختیارات پر غور کر رہے ہیں۔”

    اگر ڈوگن پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں 65 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ڈوگن کو اکتوبر 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ چھ سالہ چین میں قیام کے بعد اپنی فیملی کے ساتھ آسٹریلیا واپس آئے تھے۔ ان کی گرفتاری امریکی حکام کی درخواست پر آسٹریلوی پولیس نے کی تھی۔

    2017 میں دائر کی گئی ایک فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ "2008 کے اوائل میں” ڈوگن کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی، جس میں انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ غیر ملکی فضائی افواج کو تربیت دینے کے لیے دفاعی تجارت کے کنٹرول ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ رجسٹر ہوں اور اجازت نامہ حاصل کریں۔الزامات کے مطابق، ڈوگن نے دوسرے افراد کے ساتھ سازش کرتے ہوئے چینی فوج کے لیے دفاعی خدمات فراہم کیں، جو کہ چین پر عائد امریکی ہتھیاروں کی پابندی کی خلاف ورزی تھی۔

    ٹیسٹ فلائنگ اکیڈمی آف ساؤتھ افریقہ نے 2023 میں سی این این کو ایک بیان میں کہا کہ وہ اس ملک کے قوانین کی پابندی کرتی ہے جہاں وہ کام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈوگن نے 2012 کے نومبر اور دسمبر کے دوران جنوبی افریقہ میں ایک ٹیسٹ پائلٹ کے طور پر ایک معاہدہ کیا تھا، لیکن "چین میں اس کی تربیتی ذمہ داریوں میں کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیا۔”ڈوگن نے 2013 میں چین منتقل ہو کر 2016 میں بیجنگ میں امریکی شہریت چھوڑ دی تھی، حالانکہ ان کے وکیل کے مطابق یہ دستاویزات 2012 میں آسٹریلین شہریت حاصل کرنے کی تاریخ سے پیچھے کی گئی تھیں۔ڈوگن کے وکیل برنارڈ کولآری نے اگست میں ایک 89 صفحوں پر مشتمل دستاویز میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق امریکی فوجی اہلکار چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کا شکار بن گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا، "حوالگی کی درخواست ایک وحشیانہ ردعمل ہے جو امریکہ کے چین فوبیا کو ظاہر کرتا ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا، "اگرچہ ڈوگن کو قربانی بنانے سے کچھ لوگوں کو سکون مل سکتا ہے، لیکن ان کی حوالگی ایک سیاسی ماحول اور نیم قانونی جیل نظام میں ہوسکتی ہے جو آسٹریلیا کی ایک گہری اخلاقی اور خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔”

    ڈوگن کی گرفتاری اس وقت ہوئی جب امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیشیا نے 2021 میں AUKUS معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد چین کی بڑھتی ہوئی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بحرالکاہل میں مشترکہ فوجی تعاون کو مزید مستحکم کرنا تھا۔اس کے بعد، برطانیہ اور آسٹریلیشیا نے اپنے سابق فوجی اہلکاروں کے لیے قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ ان کے بعد کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔

    روس میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں سزا

    جاپان میں کرسمس ویلنٹائن ڈے کی طرح،نوجوان جوڑے رومانس کیلئے تیار

  • چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024منعقدہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ،وفاقی وزیر اوور سیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب میں شرکت کی۔ سیکریٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احسان بھٹہ ،سیکریٹری ٹرانسپورٹ احمد جاوید قاضی،انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر عثمان انور،صنعتکاروں،کالم نگاروں اور سینئر صحافی بھی تقریب میں شریک تھے۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین ،سابق نگران صوبائی وزیر عامر میر اور دیگر کو فرینڈشپ ایوارڈ دیئے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین کے مابین دہائیوں پر محیط تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں گے۔چین مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ہر گزرتے لمحے پاکستان اور چین کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے قائد اعظم بزنس پارک شیخوپورہ میں گارمنٹ سٹی بنایا ہے جو سولر انرجی پر ہوگا۔چین کی کمپنیاں پنجاب میں سولر،ٹیکسٹائل،زراعت ،لیتھیئم بیٹریاں بنانے اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔چین کی آئکو سولر انرجی کمپنی کے ساتھ پنجاب میں سولر پینلز مینوفیکچرنگ کا کارخانہ لگانے کا معاہدہ پہلے ہی ہوچکاہے۔چین کی بڑی موبائل فون کمپنی فیصل آباد میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کا پلانٹ لگائے گی۔صوبائی وزیرصنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہاکہ میں نے اپنے دورہ چین کے دوران الیکٹرک وہیکلز بنانے والے گروپ کے علاوہ متعدد کمپنیوں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔بہت سی کمپنیوں نے پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں آمادگی ظاہر کی۔پنجاب کے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات حاصل ہیں۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوچکا اب دوسرے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور گیم چینجر ثابت ہوگا۔چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرن نے کہاکہ چین اور پاکستان کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے۔چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور دونوں ممالک کے مابین دوستی اور تجارتی تعاون کی اعلیٰ مثال ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کے حالیہ دورہ چین سے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔چینی قونصل جنرل نے کہاکہ پنجاب میں بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام سے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو کی سہولت ملی ہے۔چین کے سرمایہ کاروں کو بہترین سکیورٹی کی فراہمی پر حکومت کے مشکور ہیں۔

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری
    اسٹیل ملز سے قیمتی دھاتیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار