Baaghi TV

Tag: چین

  • چین : شدید دھند کے باعث سینکڑوں گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں

    چین : شدید دھند کے باعث سینکڑوں گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں

    چین میں موسم سرما کے دوران چھائی دھند کی وجہ سے 200 گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق موسم سرما کے باعث چین کا شہر ژینگژو ان دنوں شدید دھند کی لپیٹ میں ہے جس وجہ سے حد نگاہ کم ہونے کے سبب شہر کی ایک مصروف شاہراہ پر متعدد گاڑیوں کو حادثہ پیش آیا۔

    ترکیہ کے جنگی طیاروں کی عراق کے صوبے دہوک پر بمباری

    سرکاری میڈیا کے مطابق، بدھ کے روز وسطی چینی شہر ژینگ زو میں 200 سے زائد گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑے ڈھیر کے دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

    سرکاری خبررساں ادرے دی گلوبل ٹائمز کے مطابق، یہ حادثہ ایک پل پر ہوا جو صبح کی شدید دھند میں گھرا ہوا تھا، جس کی وجہ سے متعدد گاڑیاں ٹکرا گئیں۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ ژینگژو کی شاہراہ پر 200 گاڑیاں آپس میں ٹکرائیں جس میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ سیکڑوں شہری حادثے کی وجہ سے گاڑیوں میں ہی محصور ہوکر رہ گئے ایمرجنسی رسپانس ورکرز اور فائر ریسکیو کو جائے وقوعہ پر تعینات کیا گیا، جن میں ٹریفک اور محکمہ صحت کے اہلکار بھی شامل تھے۔

    ازبکستان میں بھی بھارتی کمپنی کا تیار کردہ سیرپ پینے سے 18 بچے جاں بحق

    میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے 11 فائر ٹرک اور 66 فائر فائٹرز کو امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کیلئے بھیجا گیا جنہوں نےگاڑیوں میں پھنسے شہریوں کی مدد کی-

    مقامی موسمیات کی ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے، رائٹرز نے بتایا کہ کچھ علاقوں میں، اس صبح صرف 200 میٹر (تقریباً 656 فٹ) تھی۔ کئی گھنٹے بعد، پولیس نے دھند کی وجہ سے کاروں کو پل سے گزرنے کی وارننگ جاری کی تھی۔

    یہ اوور پاس ژینگ ژو کو سنکیانگ شہر سے جوڑتا ہے۔ پولیس نے امدادی کارروائیوں کے دوران پل کو بند کر دیا، اس دوپہر کے بعد ٹریفک دوبارہ شروع ہو گئی-

    ہاردک پانڈیا بھارت کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان مقرر

  • چین میں کرونا  کی نئی لہر، این سی او سی سے بروقت اقدامات کی سفارش

    چین میں کرونا کی نئی لہر، این سی او سی سے بروقت اقدامات کی سفارش

    چین میں کورونا وائرس کی نئی لہر، محکمہ صحت سندھ نے این سی او سی سے بروقت اقدامات کی سفارش کر دی

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا ویکسینیشن کو قومی اور بین الاقوامی سفر کے لیے لازمی قرار دیا جائے،بڑے پیمانے پر لوگوں کے اجتماع سے گریز کیا جائے، عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا جائے،نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر چین سے آنے والی پروازوں کے تمام مسافروں کا کورونا ٹیسٹ لازمی کرانے کی ایڈوائزری جاری کرے ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت مریض کو قرنطینہ میں رکھا جائے، کورونا کے نئے ویرینٹ میں فالس نیگیٹیو نتائج کا امکان ہے، کورونا کی علامات والے اشخاص کو علیحدہ رکھا جائے اور پی سی آر کیا جائے، تصدیق شدہ مثبت کیسز کے حامل لوگوں کے سیرولوجی ٹیسٹ کیے جائیں کورونا ویکسین کی بوسٹر خوراک لازمی فراہم کی جائے،آئسولیشن سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے، کورونا منفی آنے کی صورت میں سینے کا ایکسرے کرکے نمونیا کا تشخیص کی جاسکتی ہے،

     چین کے صنعتی صوبے ژجیانگ میں کورونا کے ایک دن میں 10 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے ہیں

    چین کے ایک صوبے کا یہ حال ہے کہ کورونا کے یومیہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ تک جا پہنچی

    چین میں نیا کورونا ویرئنٹ؛ جسکا پاکستان میں بھی خطرہ. حکام این سی او سی

    دوسری جانب حکومت نے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کی جانب سے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوبارہ اسکریننگ کا فیصلہ دنیا بھر میں کورونا وباء کے پھیلاؤ کے تناظر میں کیا گیا۔

  • چین میں پھرکورونا کا قہرجاری وطاری،لاکھوں ہلاکتوں کا خدشہ

    چین میں پھرکورونا کا قہرجاری وطاری،لاکھوں ہلاکتوں کا خدشہ

    بیجنگ:چین کو اس وقت دنیا میں کورونا کی بدترین لہر کا سامنا ہے۔چین سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق رواں ماہ دسمبر کے ابتدائی ہفتوں کے دوران چین میں پچیس کروڑ افراد کو کورونا وائرس کا سامنا ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین میں کورونا پابندیاں نرم کرنے کے بعد کورونا کیسز کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق چین میں آئندہ کچھ ماہ میں کورونا سے دس لاکھ افراد کے جانی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔بعض ذرائع نے امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ دسمبر کے دوران چین میں تقریبا پچیس کروڑ افراد کورونا کی زد پر ہیں۔

    چین کے ایک صوبے کا یہ حال ہے کہ کورونا کے یومیہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ تک جا پہنچی

    ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال پر اپنے بیان میں چینی صدر چی جن پنگ کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں کورونا کی روک تھام کے حوالے سے نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کورونا کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ چین میں بیرون ملک سے آنے والے افراد کے لیے کورونا وائرس کے حوالے سے لازمی قرنطینہ پابندی آٹھ جنوری سے ختم کی جا رہی ہے۔بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے دوہزار بیس میں قرنطینہ لازمی کیا گیا تھا اور پچھلے ماہ اس کی مدت پانچ روز کر دی گئی تھی۔

    تائیوان اور امریکا کے عسکری تعاون کے جواب میں چین کا اپنی ’جنگی‘ طاقت کا مظاہرہ

    واضح رہے کے تقریبا تین برس قبل شروع ہوئی عالمی وبا کے حوالے سے امریکہ اور چین ایک دوسروں پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو کووڈ۔۱۹ نامی اس وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔

    یاد رہےکہ کل عالمی ادارے کی طرف سے وارننگ جاری کی گئی تھی کہ چین کے صنعتی صوبے ژجیانگ میں کورونا کے ایک دن میں 10 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اس تعداد کے دگنا ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں زیرو کورونا ٹالیرنس پالیسی کے باوجود مہلک وائرس کی نئی لہر انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

    چین میں نیا کورونا ویرئنٹ؛ جسکا پاکستان میں بھی خطرہ. حکام این سی او سی

    شنگھائی کے نزدیک واقع صوبے ژجیانگ میں کورونا کیسز میں اضافے کے باعث لاک ڈاؤن کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاہم حالات کنٹرول سے باہر ہیں۔چین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صوبے ژجیانگ میں زیادہ مریضوں میں معمولی علامات ہیں وہ گھر پر قرنطینہ میں ہے جب کہ 13 ہزار 583 اسپتال میں داخل ہیں۔

  • بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر”خاص”میزائل نصب کردیئے

    بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر”خاص”میزائل نصب کردیئے

    نئی دہلی :چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہوتے حالات میں بھارت نے چینی اور پاکستانی سرحدوں پر ’’پرالے بلیسٹک میزائل‘‘ نصب کرنے کی منظوری دے دی ہے، پرالے کا معنی قیامت یا بہت شدید تباہی بتایا جارہا ہے۔

    ہند چین حالیہ سرحدی تنازعے کے بعد بھارت نے پرالے بلیسٹک میزائل چینی پاکستانی سرحدوں پر نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا یہ میزائل 100سے 120 کی تعداد میں بھارتی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

    بیرونی اشاروں پر آنیوالی حکومت کے نتائج سے پہلے خبردار کیا تھا،عمران خان

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اعلی سطحی وزارت دفاع کے اجلاس میں پرالے میزائل فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پہلے مرحلے میں یہ میزائل بھارتی فضائیہ کے حوالے کئے جائیں گے۔ گزشتہ سال اس میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔

    بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے بلیسٹک میزائل کو ٹیکٹکل امور میں استعمال کرنے کی دی جانے والی منظوری کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ میزائل 150سے 500 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ بھارت، پاکستان اور چین تینوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ہیں اور تینوں ممالک کے پاس ایک دوسرے پر حملہ، جوابی کاروائی کے لئے فضائی، بحری اور میزائل صلاحیت موجود ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے ان ممالک کے تعلقات میں کشیدگی چلی آرہی ہے اور کسی ایک فریق کی جانب سے چھوٹی سی غلط فہمی خطے کے اربوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

    پاکستانی لالہ چمن لعل کا منفرد اعزازبین الاقوامی فیلوشپ کی ڈگری لینے والے پہلے…

    کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس 165، بھارت کے پاس 160 اور چین کے پاس 350 ایٹم بم موجود ہیں جو نہ صرف ان ممالک بلکہ آس پاس کے ممالک کو بھی ناقابل برداشت تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں۔

  • تائیوان اور امریکا کے عسکری تعاون کے جواب میں چین کا اپنی ’جنگی‘ طاقت کا مظاہرہ

    تائیوان اور امریکا کے عسکری تعاون کے جواب میں چین کا اپنی ’جنگی‘ طاقت کا مظاہرہ

    تائیوان اور امریکا کے عسکری تعاون کے جواب میں چین نے اپنی ’جنگی‘ طاقت کا مظاہرہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق چین نے 71 جنگی طیاروں اور 7 بحری جہازوں تائیوان کی حدود میں داخل کرکے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا ہے۔

    روس ایران کو 24 جنگی طیارے فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے،مغربی انٹیلی جنس

    https://twitter.com/MoNDefense/status/1607180600355721217?s=20&t=10UqQsJIGAroiDiRjMGmTwرپورٹ کے مطابق 47 چینی طیاروں نے ابنائے تائیوان کی حدود کو عبور کیا اور 24 گھنٹے تک ’اشتعال انگیزی’ کا مظاہرہ کرتے رہے اور ان جنگی طیاروں میں جے 16، جے 18، جے ون اور جے 11 سمیت 6 ایس یو 30 فائٹر اور ڈرون بھی شامل تھے۔


    وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے اپنے زمینی میزائل سسٹم کے ساتھ اپنی بحریہ کے جہازوں کے ذریعے چین کی نقل و حرکت کی نگرانی کی۔

    تائیوان کو اپنا حصہ ماننے والے چین نے کہا کہ اس نے خود مختار جزیرے کے ارد گرد سمندر اور فضائی حدود میں “مشترکہ جنگی تیاری کے گشت اور مشترکہ فائر پاور اسٹرائیک مشقیں” کی ہیں۔

    چینی فوج ،پیپلز لبریشن آرمی کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان شی یی نے کہا کہ یہ مشقیں “موجودہ امریکا-تائیوان کشیدگی اور اشتعال انگیزی کا سخت ردعمل” ہیں۔

    تائیوان نے کہا کہ اس کی فوج طیاروں، بحری جہازوں اور زمینی میزائل سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ چینی مشقیں تائیوان کے لوگوں کو ڈرانے کی کوشش تھی، جو بیجنگ کے خودمختاری کے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

    پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے،روسی نائب وزیراعظم

    امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ وائٹ ہاؤس "تائیوان کے قریب عوامی جمہوریہ چین کی اشتعال انگیز فوجی سرگرمی سے پریشان ہے، جو عدم استحکام کا باعث ہے، غلط اندازوں کا خطرہ ہے، اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”

    ترجمان نے مزید کہا کہ "ہم اپنے دیرینہ وعدوں کے مطابق اور اپنی ایک چائنہ پالیسی کے مطابق خود دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں تائیوان کی مدد جاری رکھیں گے۔”

    858 بلین ڈالر کا امریکی دفاعی بل پانچ سالوں میں تائیوان کو 10 بلین ڈالر تک کی فوجی گرانٹ امداد کی اجازت اور اس جزیرے کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کے عمل کو تیز کرتا ہے، جس کے ساتھ واشنگٹن کے غیر سرکاری تعلقات ہیں۔ تائیوان نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ چین نے کہا کہ اس کی کچھ دفعات سے آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کو شدید نقصان پہنچے گا۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

    چین نے حالیہ برسوں میں تائیوان کو ہراساں کرنے کی اپنی عسکری کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، تقریباً روزانہ اس جزیرے کی طرف طیارے یا بحری جہاز بھیجتے ہیں۔ اگست میں پیلوسی کے دورے کے بعد سے اس کے طیاروں نے زیادہ باقاعدگی سے اور زیادہ تعداد میں درمیانی لائن کو عبور کیا ہے۔ جیسا کہ اس کے غیر ملکی حکام کے دوسرے دورے ہیں، بیجنگ نے اس دورے کو تائیوان کی آزادی کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے طور پر دیکھا، اور چینی حکومت نے بڑے پیمانے پر لائیو فائر فوجی مشقوں کے ساتھ جواب دیا۔

  • این ای او سی اجلاس،کورونا کے نئے ویرینٹ کا پاکستان میں کوئی کیس نہیں

    این ای او سی اجلاس،کورونا کے نئے ویرینٹ کا پاکستان میں کوئی کیس نہیں

    چیئرمین این ڈی ایم اے کی زیرصدارت این ای او سی کا اجلاس ہوا

    قومی ادارہ برائے صحت اور این سی او سی نے کورونا کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کورونا کے نئے ویرینٹ کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، متعلقہ ادارے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں،پاکستان کی 90 فیصد آبادی کو کورونا ویکسین لگ چکی، لوگ محفوظ ہیں، این ڈی ایم اے نے کورونا سے متعلق ترمیم شدہ ایڈوائزری جاری کرنے کی ہدایت جاری کی،ہنگامی صورتحال میں کورونا کیسز سے نمٹنے کیلئے اسپتالوں میں ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی

    حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کورونا کے کسی بھی نئے ویریئنٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ماضی میں بھی کورونا کے نئے ویرینئٹ آئے جنہیں بروقت کنٹرول کیا۔ این سی او سی حکام کے مطابق پاکستان میں انسداد کورونا ویکسین لگنے کے باعث خطرہ کم ہے۔ حکام کا بتانا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کی اہل 90 فیصد آبادی کی ویکسی نیشن مکمل ہے اور 95 فیصد آبادی کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگ چکی ہے۔

    واضح رہے کہ چین میں کورونا کے نئے ویریئنٹ کے کیسز میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔  چین کے صنعتی صوبے ژجیانگ میں کورونا کے ایک دن میں 10 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اس تعداد کے دگنا ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں زیرو کورونا ٹالیرنس پالیسی کے باوجود مہلک وائرس کی نئی لہر انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    تحریک انصاف کا احتجاج، راستے بند، شہریوں کی زندگی اجیرن

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

  • چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز دریافت

    چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز دریافت

    چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا وائرس کے بہت زیادہ متعدی نئی قسم کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اومیکرون بی ایف 7 نامی کوویڈ ویرینٹ کے باعث چین کو وبا کی تباہ کن لہر کا سامنا ہے کوویڈ کی اسی قسم کے 4 کیسز اب تک بھارت میں بھی سامنے آچکے ہیں-

    بھارتی دوا ساز کمپنی پرگیمبیا میں 69 بچوں کی ہلاکت کا جرم ثابت،انکوائری کمیٹی کا…

    بھارتی میڈیا کے مطابق مجموعی طور پر ملک میں کورونا وائرس کے10 ویرینٹس موجود ہیں، جس کے باعث بھارتی میڈیکل ایسوسی ایشن نے عوام کو کوویڈ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اب تک، دو کیس گجرات سے، دو اڈیشہ سے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بی ایف 7 قسم کا پتہ چلا ہےامریکہ اور برطانیہ اور یورپی ممالک جیسے بیلجیئم، جرمنی، فرانس اور ڈنمارک سمیت کئی دوسرے ممالک میں پہلے ہی اس کا پتہ چل چکا ہے۔

    کورونا کی اس نئی قسم کے کیسز دریافت ہونے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے اسی طرح کورونا کی نئی اقسام کی مانیٹرنگ کو بھی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو کورونا کے مثبت کیسز کیے جینیاتی تجزیے کاحکم دیا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے 22 دسمبر کو ایک اجلاس میں کوویڈ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اسی طرح اترپردیش اور پنجاب سمیت متعدد ریاستوں میں کورونا کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کیے گئے ہیں۔

    چین میں کوویڈ 19 کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا،ڈبلیو ایچ او

    22 دسمبر سے بیرون ملک سے بھارت پہنچنے والے مسافروں کےکورونا ٹیسٹ کیےجائیں گے، یہ پابندی پہلے ختم کردی گئی تھی بھارت کی جانب سے 22 دسمبر کو 185 نئے کووڈ کیسز کو رپورٹ کیا گیا تھا۔

    حکومت، اگرچہ لوگوں کو ہجوم والی جگہوں پر ماسک پہننے کا مشورہ دے رہی ہے، لیکن کہا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے – یہ تجویز ویکسین بنانے والے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (SII) کے ادار پونا والا نے دہرائی ہے-

    بدھ کو ایک جائزہ میٹنگ کے بعد، وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے ٹویٹ کیا کہ کوویڈ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ میں نے تمام متعلقہ اداروں کو چوکس رہنے اور نگرانی کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

    مرکزی حکومت نے ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جینوم کی ترتیب کے لیے نمونے لیبارٹریوں کو بھیجیں، جس سے مختلف یا ذیلی قسم کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔

    یوکرین کو اب بھی بردار ملک کے طور پردیکھتے ہیں،روسی صدر

    جاپان، ریاستہائے متحدہ امریکہ، جمہوریہ کوریا، برازیل اور چین میں کیسوں میں اچانک اضافے کے پیش نظر، مختلف حالتوں کو ٹریک کرنے کے لیے مثبت کیسوں کے نمونوں کی پوری جینوم ترتیب کو تیار کرنا ضروری ہے-

    بدھ کو وزیر کی زیر صدارت کوویڈ جائزہ اجلاس میں، ماہرین نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان میں ابھی تک کوویڈ کیس لوڈ میں مجموعی طور پر کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، لیکن موجودہ اور ابھرتی ہوئی مختلف حالتوں پر نظر رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔

    خیال رہے کہ کورونا کی اس نئی قسم میں ایسی جینیاتی تبدیلی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں یہ لوگوں میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے ایک تخمینے کے مطابق بی ایف 7 سے متاثر فرد اپنے اردگرد 10 سے 18 افراد کو اس بیماری کا شکار بناسکتا ہے۔

    بازو میں شدید درد کی شکایت، وجہ لبلبے کا سرطان قرار

  • چین میں کوویڈ 19 کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا،ڈبلیو ایچ او

    چین میں کوویڈ 19 کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا،ڈبلیو ایچ او

    چین میں ایک مرتبہ پھر عالمی وبا کورونا وائرس سر اٹھانے لگی ہے۔

    باغی ٹی وی: دارالحکومت بیجنگ سمیت چین کے مختلف شہروں میں کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے ملک میں اموات بڑھنے سے شمشان گھاٹوں میں ایک کے بعد دوسرا مردہ لایا جانے لگا۔

    دوسری جانب چین میں کئی عرصے سے لگا لاک ڈاؤن ایک دم ہٹائے جانے کے سبب لوگوں میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت میں کمی کیسز میں اضافے کی اہم وجہ قرار دی جارہی ہے۔

    دوسری جانب کئی سرکردہ سائنسدانوں اور عالمی ادارہ صحت کے مشیروں کے مطابق، چین میں ممکنہ طور پر تباہ کن لہر آنے کی وجہ سے کوویڈ 19 وبائی امراض کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔

    دی گارڈین کے مطابق جب سے چین نے انفیکشن میں اضافے اور بے مثال عوامی مظاہروں کے بعد گذشتہ ہفتے اپنی صفر کوویڈ پالیسی کو ختم کرنا شروع کیا تھا۔ تخمینوں نے تجویز کیا ہے کہ چانک تبدیلی کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کو 2023 میں دس لاکھ سے زیادہ اموات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے زیرو کوویڈ اپروچ نے 1.4 بلین کی آبادی میں انفیکشن اور اموات کو نسبتاً کم رکھا، لیکن قوانین میں نرمی نے عالمی تصویر بدل دی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا آپ اسے وبائی بیماری کے بعد کا نام دے سکتے ہیں جب دنیا کا اتنا اہم حصہ حقیقت میں صرف اس کی دوسری لہر میں داخل ہو رہا ہے ،” ڈچ وائرولوجسٹ ماریون کوپ مینس ، جو ڈبلیو ایچ او کی ایک کمیٹی میں بیٹھی ہیں جنہیں کوویڈ کی ایمرجنسی حیثیت کے بارے میں مشورہ دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہیں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ہم وبائی بیماری کے ایک بہت ہی مختلف مرحلے میں ہیں، لیکن میرے ذہن میں، چین میں زیر التواء لہر ایک وائلڈ کارڈ ہے۔

    جیسا کہ حال ہی میں ستمبر میں، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ، ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے کہا تھا کہ وبائی مرض کا "ختم نظر میں ہے”۔ پچھلے ہفتے، انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ 2023 میں کسی وقت ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے "پُرامید” ہیں۔

    2022 کے دوسرے نصف میں وائرس کی خطرناک نئی شکلوں یا انفیکشن کے دوبارہ سر اٹھانے کے خطرات کے طور پر زیادہ تر ممالک نے کوویڈ پابندیوں کو ہٹا دیا۔

    ٹیڈروس کے ابتدائی تبصروں نے امید پیدا کی کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی جلد ہی کوویڈ کے لیے سب سے زیادہ الرٹ لیول کو ہٹا دے گی، جو جنوری 2020 سے نافذ ہے۔

    کوپ مینز اور ڈبلیو ایچ او کی مشاورتی کمیٹی کے دیگر ارکان جنوری کے آخر میں الرٹ کی سطح پر اپنی سفارشات پیش کرنے والے ہیں۔ ٹیڈروس حتمی فیصلہ کرتا ہے اور کمیٹی کی سفارش پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے۔

    منگل کے روز، چین بھر کے شہروں میں اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی، کیونکہ حکام نے مزید پانچ اموات کی اطلاع دی ہے اور بیجنگ کے وائرس کو آزاد کرنے کے حیران کن فیصلے کے بارے میں بین الاقوامی تشویش بڑھ گئی ہے-

    چین کے لیے خطرات کے ساتھ ساتھ، کچھ عالمی صحت کے اعداد و شمار نے متنبہ کیا ہے کہ وائرس کے مقامی طور پر پھیلنے سے اسے تبدیل ہونے کا موقع بھی مل سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک خطرناک نئی شکل پیدا کر سکتا ہے۔

    اس وقت، چین کا ڈیٹا ڈبلیو ایچ او اور وائرس ڈیٹا بیس GISAID دونوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں گردش کرنے والی مختلف قسمیں عالمی سطح پر غالب اومیکرون اور اس کی شاخیں ہیں، حالانکہ مکمل ڈیٹا کی کمی کی وجہ سے تصویر نامکمل ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے ماہر وائرولوجسٹ ٹام پیکاک نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ چین میں لہر مختلف قسم کی ہے، یا یہ صرف کنٹینمنٹ کی خرابی کی نمائندگی کرتی ہے۔

    ریاستہائے متحدہ نے منگل کے روز اشارہ کیا کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے وباء میں مدد کرنے کے لئے تیار ہے، اور خبردار کیا کہ وہاں بے قابو پھیلاؤ عالمی معیشت پر مضمرات کا باعث بن سکتا ہے۔

  • شوہرکی مچھلی کےشکارکی عادت سے پریشان بیوی علیحدگی کیلئےعدالت پہنچ گئی

    شوہرکی مچھلی کےشکارکی عادت سے پریشان بیوی علیحدگی کیلئےعدالت پہنچ گئی

    ایک چینی خاتون نے نے کاؤنٹی پیپلز کورٹ (صوبہ شانڈونگ) میں دعویٰ کرتے ہوئے اپنی 10 سالہ طویل شادی کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا کیوں کہ شوہر کی مچھلی کے شکار کی عادت اس کی لت بن گئی تھی جبکہ شوہر نے بھی خوشی خوشی اہلیہ کی خواہش کی توثیق کر دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کی خبر کے مطابق خاتون اپنے شوہر کی مچھلی کے شکار کی عادت سے تنگ آچکی تھی اور اب اس عادت کو مزید برداشت نہیں کر پا رہی تھی جس کے بعد اس نے علیحدگی کیلئے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

    بھارتی حکومت چین کیجانب سےجنگ کے خطرے کو نظراندازکرکے سورہی ہے،راہول گاندھی

    درخواست میں اختیار کردہ مؤقف کے مطابق اس نے اپنے شوہر سے بار بار گھر اور بچوں کو وقت دینے کا مطالبہ کیا تاہم مثبت جواب نہ ملنے پر وہ علیحدگی کے نتیجے پر پہنچی ہے۔

    خاتون کا کہنا تھا کہ میں روزانہ صبح 6 بجے اٹھ کر ناشتہ بناتی ہوں، اپنے دو بچوں کو تیار کرکے اسکول بھیجتی ہوں، ہر روز مجھے ہی برتن بھی صاف کرنے پڑتے ہیں، لیکن میرے شوہر صرف اور صرف مچھلیوں کا شکار کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو رات رات بھر گھر نہیں لوٹتے۔

    عدالت میں داخل اپنی د رخواست میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گھر کی تمام ذمہ داریوں سمیت بچوں کا خیال بھی اکیلے رکھتی ہیں، لیکن ان کے شوہر جب گھر میں ہوتے ہیں تو صوفے پر بیٹھے موبائل فون چلا رہے ہوتے ہیں اور جیسے ہی رات ہوتی ہے تو دوستوں کے ساتھ مچھلی کا شکار کرنے نکل جاتے ہیں۔

    3 ماہ سے کوما میں گئی خاتون بچی کو جنم دینے کے بعد ہوش میں آگئی

    بیوی کی درخواست پر شوہر نے بھی شاید مچھلی کے شکار کیلئے مزید وقت ملنے کا موقع جان کر علیحدگی پر رضامندی ظاہر کر دی اورشادی ختم کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی۔

    عدالت میں دونوں میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوششوں کی ناکامی کے بعد جج نے علیحدگی کی درخواست قبول کر لی، تاہم خاتون کے شوہر شاید مچھلی کے شکار پر جانے کی وجہ سے حالیہ پیشی پر عدالت میں بھی پیش نہیں ہوئے۔

    درخواست گزار خاتون کا کہنا ہے کہ مچھلی کا شکار کرنا بری عادت نہیں لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، جب ایک بار آپ شادی کر لیتے ہیں، تو آپ کو ایک شوہر اور ایک باپ کی ذمہ داریاں بھی اٹھانی ہوتی ہیں۔

    چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی…

  • چینی حکومت نے مانچسٹر قونصل جنرل سمیت 6 اہلکاروں کو ہٹا دیا

    چینی حکومت نے مانچسٹر قونصل جنرل سمیت 6 اہلکاروں کو ہٹا دیا

    چین کی حکومت نے برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے قونصل جنرل اور 5 اہلکاروں کو ہٹا دیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق مانچٹسر کے چینی قونصل جنرل اور دیگر پر ہانگ کانگ کے شہری سے مار پیٹ کا الزام ہے۔

    نابینا خاتون نجومی بابا وانگا کی 2023 کیلئے پیش گوئیاں

    اکتوبر میں مانچسٹر میں چینی قونصل خانے کی عمارت کے سامنے ایک مظاہرین کی پٹائی کے بعد چھ چینی سفارت کاروں کو برطانیہ سے نکال دیا گیا ہے۔

    سکریٹری خارجہ جیمز کلیورلی نے کہا کہ چینی حکومت نے اب ان اہلکاروں کو برطانیہ سے ہٹا دیا ہے جن میں قونصل جنرل بھی شامل ہیں ہم سب نے مانچسٹر میں چینی قونصل خانے کے باہر واقعے کی پریشان کن فوٹیج دیکھی، انہوں نے "قانون کی حکمرانی پر ہماری پابندی کی بنیاد پر ایک عمل شروع کیا۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ گریٹر مانچسٹر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا، اس تفتیش کے ایک حصے کے طور پر، چھ چینی اہلکاروں سے سفارتی استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی گئی تاکہ ان سے پوچھ گچھ کی جا سکے۔

    ناکام امریکی میزائل دفاعی سسٹم پیٹریاٹ یوکرین کےحوالے:یوکرینی دفاعی حکام غیرمطمئن

    برطانوی سیکریٹری خارجہ جیمز کلیورلی نے کہا کہ چینی سفارت خانے کو مطلع کر دیا گیا تھا اور چین کو 14 دسمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی، ہماری درخواست پر چینی حکومت نے ان اہلکاروں کو برطانیہ سے ہٹا دیا ہے جن میں قونصل جنرل بھی شامل ہیں، برطانیہ میں قانون کی حکمرانی ہے۔

    برطانوی حکومت نے پہلے کہا تھا کہ شمالی انگلینڈ کے مانچسٹر میں ایک مظاہرین کو چینی قونصل خانے کے گراؤنڈ میں گھسیٹ کر لے جانے کی خبریں "گہری تشویش” تھیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی اہلکاروں کو برطانیہ سے بھی نکال دیا گیا ہے۔

    فیفا ورلڈ کپ 2022 آخری فائنل ہو گا،لیونل میسی نے ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی