Baaghi TV

Tag: چین

  • تائیوان پہلی سرخ لکیر ہے جو  امریکا چین تعلقات میں عبور نہیں ہونی چاہیے،چینی صدر

    تائیوان پہلی سرخ لکیر ہے جو امریکا چین تعلقات میں عبور نہیں ہونی چاہیے،چینی صدر

    باغی ٹی وی : چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہےکہ تائیوان چین کا اندرونی معاملہ ہے، تائیوان پہلی سرخ لکیر ہے جو امریکا چین تعلقات میں عبور نہیں ہونی چاہیے۔

    باغی ٹی وی : کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں امریکا اور چین کے صدورکی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات سمیت مختلف امور پر گفتگو کی گئی شی نے امریکی رہنما پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے حوالے سے بیجنگ کے ساتھ کیے گئے امریکی وعدوں کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کریں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر جو بائیڈن سے 2017 کے بعد ان کی پہلی ذاتی ملاقات کے دوران کہا کہ تائیوان کا سوال چین کے بنیادی مفادات کا بہت بنیادی ہے اور دو طرفہ تعلقات میں "پہلی سرخ لکیر” ہے جسے عبور نہیں کرنا چاہیے۔

    چینی میڈیا کے مطابق ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر بائیڈن کو باور کرایا کہ تائیوان کا سوال چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے،کسی کی تائیوان کو چین سے علیحدہ کرنےکی کوشش چینی قوم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

    چینی صدرکا کہنا تھا کہ تائیوان چین کا اندرونی معاملہ ہے، تائیوان پہلی سرخ لکیر ہے جو امریکا چین تعلقات میں عبور نہیں ہونی چاہیے، امید ہےکہ امریکا ون چائنا پالیسی کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے الفاظ کوعملی جامہ پہنائےگا۔

    چینی میڈیا کے مطابق چینی صدر کا مزیدکہنا تھا کہ دونوں ملکوں کا مقابلہ ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے ہونا چاہیے تاکہ خود کو بہتر بنا کر ساتھ ترقی کی جائے، مقابلہ دوسرے فریق کو زیرکرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی فریق کو دوسرے کو یا اس کے نظام کو تبدیل کرنےکی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ کوروناکے بعد عالمی بحالی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا اور امریکا چین تعاون کے ذریعےعلاقائی مسائل حل کرنا باہمی مفاد میں ہے، چین تجارتی اور معاشی تعلقات کو سیاست اور ہتھیاروں کی نذر کرنےکا مخالف ہے۔

    چینی صدر نے یوکرین کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور روس یوکرین بات چیت کے دوبارہ شروع ہونے کی حمایت کی۔

    بیجنگ تائیوان کوچین کا ناقابل تنسیخ حصہ سمجھتاہےخود مختار جزیرے کی جمہوری طورپرمنتخب حکومت بیجنگ کےاس پرخود مختا ری کے دعووں کو مسترد کرتی ہے، جب کہ حالیہ برسوں میں امریکہ چین پر تائیوان کی آزادی کی حوصلہ افزائی کا الزام لگاتا رہا ہے۔

  • چینی صدر دسمبر میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے:سعودی وزارت خارجہ

    چینی صدر دسمبر میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے:سعودی وزارت خارجہ

    ریاض: سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے تصدیق کی ہے کہ چین کے صدر شی جنپنگ دسمبر کے وسط میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے دسمبر کے وسط میں چینی صدر کی سعودیہ آمد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

    سعودی وزیر مملکت نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کثیر الاشتراکی سرمایہ کاری ہے۔ دورے میں تجارتی تعلقات میں مزید مضبوطی اور علاقائی سلامتی اولین ترجیح ہوگی۔

    خیال رہے کہ چین کے دسمبر میں متوقع دورۂ سعودی عرب کا اعلان اُس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تیل کی سپلائی پر تنازع اور تناؤ ہے۔ خلیج عرب ممالک کے بعض معاملات پر بھی امریکا اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ہے۔رائٹرز سے بات کرتے ہوئے سعودی وزیر عادل الجبیر نے کہا کہ یہ دورہ غیر معمولی نہیں۔ ہمارا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ تاہم ایسے دورے ہمارے دوسرے تجارتی شراکت دار بھی کرتے ہیں جس میں امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ چینی صدر کے دورۂ سعودی عرب کے بارے میں خبریں زیر گردش تھیں تاہم چینی حکام نے لاعلمیت کا اظہار کیا تھا اور تاحال چین کی جانب سے دورے کے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • چین میں قید پاکستانیوں سے متعلق تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    چین میں قید پاکستانیوں سے متعلق تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    وزارت خارجہ نے چین میں قید پاکستانیوں سے متعلق تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردیں

    وزارت خارجہ کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق چین میں اس وقت 236 پاکستانی قید ہیں جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں ، بیجنگ میں 121 ،شنگھائی میں 12 اور چنگدو میں 13 پاکستانی قید ہیں ،گاونفشرو میں میں اس وقت 90 پاکستانی قید ہیں ،پاکستان اور چین کے درمیان سزا یافتہ افراد کی منتقلی کا معاہدہ اکتوبر 2020 میں نافذ العمل ہوا، معاہدے کے تحت 21 پاکستانیوں کے پہلے بیچ کی منتقلی کے لیے درخواست مارچ 2022 میں چینی وزرات انصاف کو دے دی یے، پہلے بیچ کی منتقلی کی منظوری کے لیے پاکستانی مشن چینی حکام سے رابطے میں ہے،

    واضح رہے کہ بیرون ممالک میں جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تفصیلات ایوان میں طلب کرنے پر پیش کی جاتی ہے، وزارت خارجہ پاکستانیوں کی رہائی کی مسلسل کوششیں کرتی رہتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ان پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست کی تھی جنہوں نے مسجد نبوی میں وزیراعظم کے دورے کے موقع پر نعرے بازی کی تھی، محمد بن سلمان نے پاکستانی وزیراعظم کی درخواست مان لی اور سزا یافتہ ملزمان کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا، اسی طرح بھارت میں قید پاکستانیوں کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کی جاتی رہی ہیں

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    حامد زمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے تحقیقات سے متعلق رپورٹ

  • دنیا ایٹمی عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے:عالمی برادری آگے بڑھ کرجنگ روکے:چین

    دنیا ایٹمی عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے:عالمی برادری آگے بڑھ کرجنگ روکے:چین

    بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ایٹمی جنگیں نہیں لڑنی چاہیئے اور عالمی قوتیں یورپ و ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو روکیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے جرمنی کے چانسلر اولاف شولز سے ملاقات کے دوران روس اور یوکرین جنگ کی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی قوتیں جوہری جنگ کی دھمکیوں کی مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے یورپ اور ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو مشترکہ طور پر روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہی مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو نے یورپ میں جوہری مشقوں کا ایک دور شروع کیا جس میں “ٹیکٹیکل” B61 جوہری بم استعمال کیئے گئے۔

    نیٹو کا کہنا تھا کہ یہ مشقیں روسی فوجی مشقوں کے متوازی کے طور پر ہوئیں جب کہ دونوں اطراف نے ان مشقوں کو معمول کے مطابق قرار دیا تھا تاہم حالیہ ہفتوں میں کئی عالمی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 8 ماہ سے جاری روس اور یوکرین جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہوسکتے ہیں۔

    ادھر گروپ آف سیون (جی 7) صنعتی ممالک نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کے ساتھ اپنی جنگ میں کیمیائی، حیاتیاتی یا جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یاد رہے کہ روس نے بھی گزشتہ ماہ الزام عائد کیا تھا کہ یوکرینی افواج ایک “ڈرٹی بم” کا دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں تاکہ عالمی رائے عامہ کو روس کے خلاف بھڑکایا جاسکے تاہم یوکرین نے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

    دریں اثناء اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے روسی الزام کی تحقیقات کے لیے یوکرین میں تین مشتبہ مقامات کا معائنہ کیا تاہم انھیں کوئی غیراعلانیہ جوہری سرگرمیوں کا نشان نہیں ملا۔ یہ معائنہ یوکرین کی درخواست پر ہی کیا گیا تھا۔

    صدر پیوٹن نے ستمبر میں کہا تھا کہ اگر روسی علاقوں بشمول یوکرین کے غیر قانونی طور پر الحاق کیے گئے علاقوں کو نیٹو افواج کی طرف سے خطرہ لاحق ہو تو وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

    روسی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ نیٹو ممالک “جوہری بلیک میلنگ” اور روس کو “تباہ” کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم نیٹو نے ان الزامات کی سخت الفاظ میں تردید کی تھی۔

    روسی صدر کے بیان پر عالمی قوتوں نے کڑی تنقید کی تھی اور امریکی ہم منصب جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا اگر روس یوکرین میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو دنیا کو “آرماگیڈون” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    عالمی رہنماؤں کے سخت بیانات اور دباؤ پر روسی صدر پوٹن نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور نیٹو کے ساتھ کوئی بھی تصادم ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔

    صدر پوٹن نے یہ بھی کہا کہ روس کا یوکرین کی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں، نہ سیاسی اور نہ ہی فوجی۔

    جس پر امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک انٹرویو میں جواب دیا کہ اگر صدر پوٹن اس طرح کے ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، تو پھر “وہ اس کے بارے میں بات کیوں کرتے رہتے ہیں؟”

  • شنگھائی تعاون تنظیم:سربراہان حکومت کی کونسل کا 21 واں اجلاس:اہم فیصلے

    شنگھائی تعاون تنظیم:سربراہان حکومت کی کونسل کا 21 واں اجلاس:اہم فیصلے

    بیجنگ :شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی کونسل کا 21 واں اجلاس:اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور اس اہم اجلاس چین کے وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی کونسل کے 21 ویں اجلاس کی صدارت کی

    اس حوالے سےذرائع کا کہنا ہے کہ لی کھہ چھیانگ نے کہا کہ رواں سال ستمبر میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کےسمرقند سمٹ میں شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی کو فروغ دینے پر اتفاق رائے ہوا ۔ چین کے صدر شی جن پھنگ امن، استحکام، خوشحالی اور ایک خوبصورت وطن کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ چین تمام فریقین کے ساتھ سیاسی باہمی اعتماد، باہمی فائدہ مند تعاون اور دوستانہ تبادلوں کو گہرا کرنے کا خواہاں ہے اور تمام ممالک کے عوام کے فائدے کے لئے “شنگھائی اسپرٹ” کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

    سائفر انکوائری اور فارن فنڈنگ کیس: ایف آئی اے نےعمران خان کو طلب کرلیا

    لی کھہ چھیانگ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے پانچ تجاویز بھی پیش کیں۔

    سب سے پہلے، قانون کے نفاذ میں سیکورٹی تعاون کو بہتر کیا جائے، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا جائے، اور ترقی کے لئے ایک اچھا ماحول پیدا کیا جائے۔

    جسٹس نورمسکانزئی قتل کیس؛گرفتارملزم کا ایران میں تربیت لینےکاانکشاف

    دوسرا یہ کہ تجارت اور سرمایہ کاری کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے اور علاقائی اقتصادی بحالی کو فروغ دیا جائے۔ تیسرا، رابطوں کو مضبوط بنانا، علاقائی ترقی حاصل کرنا اور صنعتی شعبے میں استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ چوتھا ، خوراک اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کی سطح کو بہتر بنانا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ پانچواں، عوام کے درمیان قریبی تبادلے اور لوگوں کےدرمیان رابطے کو بڑھایا جائے.

    عمران ریاض خان،معید پیرزادہ کے بعد ارشاد بھٹی بھی پاکستان چھوڑگئے

    لی کھہ چھیانگ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل منعقد ہونے والی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 20 ویں قومی کانگریس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اصلاحات اور کھلے پن کی بنیادی قومی پالیسی پر کاربند رہ کر پرامن ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا اور عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

  • چین سے مقابلے کے لیے امریکا کا بھارت کو دفاعی اتحادی بنانے کا فیصلہ

    چین سے مقابلے کے لیے امریکا کا بھارت کو دفاعی اتحادی بنانے کا فیصلہ

    چین سے مقابلے کے لیے امریکا نے بھارت کو دفاعی اتحادی بنانے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین سے متعلق امریکا کی دفاعی حکمت عملی جاری کردی گئی جس کے مطابق امریکا نے چین سے مقابلے کے لیے بھارت کو دفاعی اتحادی بنانے کا فیصلہ کیا ہے،امریکی نیشنل اسٹریٹجک رپورٹ میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔

    برطانیہ امیگریشن دفتر پرنامعلوم شخص کا بم حملہ ،ملزم نے خودکشی کر لی

    پینٹاگون کی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی کے مطابق چین امریکا کا اسٹریٹجک حریف ہے ،امریکا اور بھارت مل کر چین کا مقابلہ کریں گے،پالیسی کے تحت چین کی طرف سے جارحیت کی صورت میں امریکا بھارت کی مدد کرے گا۔

    امریکی حکمت عملی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین واحد ملک ہے جو عالمی آرڈر کو بدل سکتا اورارادہ بھی رکھتا ہے۔چین اور روس میں تعلقات بڑھ رہے ہیں، چین سے مقابلے کے لیے امریکی دفاع کو مزید مضبوط کیا جائے گا-

    چین میں کورونا وائرس ایک بار پھر سر اُٹھانے لگا

    افغانستان سے انخلا کے بعد مشرق وسطیٰ میں بھی فوجی موجودگی کو درست کیا جائے گا اس کے علاوہ گلف تعاون کونسل، یو اے ای اور سعودی عرب کے ساتھ فضائی اور میزائل ڈیفنس تعاون جاری رہے گا۔

    دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ امریکا کو چین سے معاملات میں تعصب کی عینک نہیں لگانی چاہیے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ٹیلیفون پر بات چیت میں چینی وزیرخارجہ وانگ ای کا کہنا تھا کہ چین سے معاملات میں امریکا کو متعصب نہیں ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ چین سے متعلق اندازوں میں امریکا تعصب کی عینک لگانا بند کرے، چین کی داخلی اور خارجی پالیسیاں صاف اور شفاف ہیں اور چین کے اسٹریٹجک ارادے بھی واضح ہیں۔

    ایران کیساتھ جوہری معاہدےکی بحالی کی ناکامی پر وقتِ ضرورت فوجی آپشن زیرِغورہے،امریکی ایلچی

  • امریکا کا چین پر امریکی عدالتی نظام میں مداخلت کا الزام ، چینی جاسوسوں پر فرد جرم عائد کردی

    امریکا کا چین پر امریکی عدالتی نظام میں مداخلت کا الزام ، چینی جاسوسوں پر فرد جرم عائد کردی

    واشنگٹن: امریکا نے ٹیلی کام کی تحقیقات کے معاملے میں مبینہ چینی جاسوسوں پر فرد جرم عائد کردی-

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے پیر کو چین پر امریکی عدالتی نظام میں مداخلت کا الزام عائد کردیا انہوں نے 13 چینی شہریوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے چینی انٹیلی جنس کے لیے کام کیا۔

    دو چینی شہریوں پر ایک بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کی وفاقی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ہزاروں ڈالر نقد اور زیورات ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    میرک گارلینڈ نےکہا کہ یہ مبینہ طور پر چین میں قائم عالمی ٹیلی کام کمپنی کے خلاف وفاقی مقدمے میں مداخلت کر رہے تھے امریکہ محکمہ کی دستاویز کے مطابق اس چینی ٹیلی کام کمپنی کو نیویارک کے علاقے بروکلین میں وفاقی مقدمے کا سامنا ہے۔

    استغاثہ کے مطابق، دونوں افراد نے امریکی قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار کو انٹیلی جنس اثاثے کے طور پر بھرتی کرنے کی کوشش کی تاکہ تفتیش میں مداخلت میں مدد ملے تاہم یہ اہلکار ایف بی آئی کے لیے ڈبل ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔

    بیجنگ نے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں پرکے اس الزام کی تردید کرت ہوئے کہا کہ وہ چین کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹ گھڑ رہا ہے۔

    گیارہ دیگر چینی شہریوں پر بھی جاسوسی کے دو دیگر مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی۔

    دستاویزات کے مطابق، دو افراد جن کی شناخت گوچن ہی اور ژینگ وانگ کے نام سے ہوئی ہے نے امریکی قانون نافذ کرنے والے اہلکار کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی اور تحقیقات کی تفصیلات طلب کیں انہوں نے اہلکار سے آزمائشی حکمت عملی میٹنگز کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کو بھی کہا۔

    انہوں نے کہا کہ تین الگ الگ مقدمات سے پتہ چلتا ہے کہ چین کی حکومت نے امریکہ میں افراد کے حقوق اور آزادیوں میں مداخلت کرنے کی کوشش کی ہے، اور ہمارے عدالتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے جو ان حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔

    اگرچہ کمپنی کا نام دستاویزات میں یا اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں نہیں لیا تھا، امریکی میڈیا نے تحقیقات سے واقف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اسے چین کا ہیڈ کوارٹر ٹیک کمپنی ہواوے بتایا ہے تاہم امریکی حکام نے کمپنی کی شناخت کرنے سے انکار کر دیا ہے-

    اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے کہا کہ یہ پی آر سی (پیپلز ریپبلک آف چائنا) کے انٹیلی جنس افسران کی جانب سے ایک پی آر سی پر مبنی کمپنی کو احتساب سے بچانے اور ہمارے عدالتی نظام کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی ایک زبردست کوشش تھی۔

    دو مبینہ جاسوسوں نے رشوت کے طور پر ہزاروں ڈالر نقد اور زیورات ادا کیے، ایک صفحے کی تصویر کے لیے بٹ کوائن میں 41,000 ڈالر ادا کئے جس پر "کلاسیفائیڈ” کا نشان لگایا گیا ہے – جس کا مقصد کمپنی کے اہلکاروں کو چارج کرنے اور گرفتار کرنے کے منصوبے پر بات کرنا تھا پچھلے ہفتے کی طرح حال ہی میں اضافی ادائیگیاں کی گئیں۔

    دی گارجئین نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دو چینی انٹیلی جنس افسران کے خلاف الزامات کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے دو دیگر کیسز کی تفصیل دی جن میں چینی انٹیلی جنس کارندوں نے امریکہ کے اندر مخالفین کو ہراساں کیا اور امریکی ماہرین تعلیم پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کے لیے کام کریں۔

    گارلینڈ نے کہا کہ مقدمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے امریکہ میں افراد کے حقوق اور آزادیوں میں مداخلت کرنے اور ہمارے عدالتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی جو ان حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ محکمہ انصاف کسی بھی غیر ملکی طاقت کی طرف سے قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کرے گا جس پر ہماری جمہوریت قائم ہے۔

    واشنگٹن طویل عرصے سے بیجنگ پر امریکی سیاست میں مداخلت اور دانشورانہ املاک کو چرانے کی کوشش کا الزام لگاتا رہا ہے۔ لیکن جاسوسی کی کارروائی کو بے نقاب کرنے کے اقدام نے محکمہ انصاف کی طرف سے اس میں اضافے کی نشاندہی کی جب اس نے فروری 2020 میں ہواوے پر دھوکہ دہی اور تجارتی راز چوری کرنے کی سازش کا الزام لگایا۔

    گارلینڈ نے ایک نیوز کانفرنس میں فرد جرم کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ پی آر سی پر مبنی کمپنی کو احتساب سے بچانے اور ہمارے عدالتی نظام کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی پی آر سی انٹیلی جنس افسران کی ایک زبردست کوشش تھی۔

    فرد جرم میں کہا گیا کہ چینی انٹیلی جنس افسران گوچن ہی اور ژینگ وانگ نے نیو یارک کے مشرقی ضلع کے لیے امریکی اٹارنی کے دفتر سے استغاثہ کی حکمت عملی میمو، گواہوں کی فہرستیں اور دیگر خفیہ شواہد چرانے کی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کی۔

    اس معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق، وہ اوروانگ کے خلاف چارجنگ پیپرز کا حوالہ صرف چین میں واقع ایک بے نام ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو دیا گیا تھا، لیکن زیر بحث ادارہ ہواوے کو سمجھا جاتا ہے۔

    بروکلین میں غیر سیل شدہ فرد جرم کے مطابق، چینی ایجنٹوں نے تقریباً 61,000 ڈالر مالیت کے بٹ کوائن امریکی حکومت کے ایک اہلکار کو رشوت کے طور پر ادا کیے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ چینی حکومت کے لیےکام کرنےکےلیے بھرتی کیا گیا تھا لیکن درحقیقت وہ ایف بی آئی کے لیے ڈبل ایجنٹ کے طور پر کام کرتا تھا اور امریکہ کے ساتھ اپنی وفاداری برقرار رکھے ہوئے تھا۔

    ایف بی آئی کے ڈبل ایجنٹ نے چینی ایجنٹوں کو کچھ دستاویزات فراہم کیں جو ان کی مطلوبہ معلومات میں سے کچھ پیش کرتی دکھائی دیتی ہیں – حالانکہ دستاویزات دراصل محکمہ انصاف کی طرف سے تیار کی گئی تھیں اور ان میں اصل ملاقاتوں یا مقدمے کی حکمت عملیوں کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

    ستمبر 2021 سے شروع ہونے والے فرد جرم میں کہا گیا کہ، اس نے اور وانگ نے ایف بی آئی کے ڈبل ایجنٹ سے پوچھا کہ اس نے نیویارک میں امریکی اٹارنی کے دفتر سے کیا سیکھا، اور کیس کی بصیرت حاصل کرنے کے لیے وفاقی استغاثہ کے ذریعہ ہواوے کے کن ملازمین کا انٹرویو کیا گیا۔

    ایف بی آئی کے ڈبل ایجنٹ نے انہیں ایک داخلی حکمت عملی میمو کی طرح نظر آنے والی ایک دستاویز بھیجی جس پر "خفیہ” کا لیبل لگا تھا اور چین میں رہنے والے ہواوے کے دو ملازمین کو چارج کرنے اور گرفتار کرنے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا، جس کے لیے اس پر الزام ہے کہ اس نے بٹ کوئن کی صورت میں 41,000 ڈالرز ادا کیے تھے۔

    فرد جرم میں کہا گیا کہ ابتدائی رشوت ستمبر 2022 میں "انعام” کے طور پر بٹ کوائن میں 20,000 ڈالرز کی دوسری ادائیگی کے ساتھ کی گئی-

    امریکی قانون نافذ کرنے والے حکام نے طویل عرصے سے کارپوریٹ دانشورانہ املاک، تجارتی رازوں کو چرانے اور امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوششوں، انسانی اور سائبر جاسوسی سمیت چین کی طرف سے لاحق قومی سلامتی کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل، لیزا موناکو، نے کہا کہ آج غیر سیل کیے جانے والے مقدمات عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے کی جانے والی مذموم سرگرمیوں کے پس منظر میں رونما ہوئے ہیں جن میں جاسوسی، ہراساں کرنا، ہمارے نظام انصاف میں رکاوٹیں ڈالنا اور امریکی ٹیکنالوجی چوری کرنے کی مسلسل کوششیں شامل ہیں۔

    موناکو نے کہا کہ چین عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت بننا چاہتا ہے اور امریکہ کو متعدد میدانوں میں چیلنج کرتا ہےآج کے معاملات واضح کرتے ہیں کہ چینی ایجنٹ قانون توڑنے اور اس عمل میں بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

    ان دونوں افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے تھے، لیکن یہ امکان نہیں ہے کہ انہیں کبھی بھی حراست میں لیا جائے گا۔

    واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، حالانکہ چین اور ہواوے دونوں نے پہلے بھی ایسے الزامات کی تردید کی ہے۔ وہ اور وانگ، جو چین میں مقیم سمجھے جاتے ہیں، تک نہیں پہنچ سکا۔

    پیر کے روز نیوز کانفرنس میں، گارلینڈ نے نیو جرسی میں نئے سیل کیے گئے دوسرے فرد جرم کا بھی اعلان کیا جس میں تین چینی انٹیلی جنس افسران پر ایک تعلیمی ادارے کی آڑ میں 2008 اور 2018 کے درمیان غیر قانونی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی سازش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

  • شی جن پنگ تیسری بار چین کے صدر منتخب،وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد

    شی جن پنگ تیسری بار چین کے صدر منتخب،وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد

    چینی صدر شی جن پنگ تیسری بار چین کے صدر منتخب ہو گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : چینی صدر شی جن پنگ مزید 5 سال کے لیے چین کے حکمران رہیں گے گریٹ ہال میں چینی صدر شی جن پنگ نے نئی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی، چین میں 2 بار سے زائد صدارت کے عہدے پر پابندی تھی، گزشتہ روز نئی ترمیم کے بعد شی جن پنگ کے تیسری بار صدر منتخب ہونے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

    جاپان کا ایران میں سفارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ


    پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر چینی صدر کو تیسری بار صدر منتخب ہونے کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ صدر شی جن پنگ کو تیسری بار سی پی سی کا جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں-

    انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ چین کے عوام کی خدمت کے لیے ان کی دانشمندانہ ذمہ داری اور غیر متزلزل لگن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    روسی صدرکومکمل طورپرتنہا کردینا خطرناک ہو سکتا ہے، فرانسیسی وزیرخارجہ

    ادھرکمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سات روزہ 20 ویں قومی کانگریس ہفتہ کے روز بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔چینی میڈ یا کے مطا بق کانگریس میں سی پی سی کی 20 ویں مرکزی کمیٹی اور 20 ویں مرکزی کمیشن برائے انضباطی معائنہ کا انتخاب کیا گیا ہے-

    اس دوران سی پی سی کی انیسویں مرکزی کمیٹی کی رپورٹ سے متعلق قرارداد , انیسویں مرکزی انضباطی معائنہ کمیشن کی رپورٹ سے متعلق قرارداد اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کےمنشور میں ترامیم سے متعلق قرارداد کی منظوری دی گئی۔

    کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قومی کانگریس اور اس کے ذریعے منتخب ہونے والی مرکزی کمیٹی سی پی سی کا اعلیٰ ترین رہنما ادارہ ہے۔سی پی سی کی قومی کانگریس ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتی ہے۔

    شی جن کی تیسری مدت کیلئے چین کے صدر بننے کی راہ ہموار

  • شی جن کی تیسری مدت کیلئے چین کے صدر بننے کی راہ ہموار

    شی جن کی تیسری مدت کیلئے چین کے صدر بننے کی راہ ہموار

    بیجنگ: چین کی کمیونسٹ پارٹی نے ملک کے لیے صدر شی جن پنگ کی قیادت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے تیسری مدت کے لیے ان کے صدر بننے کی راہ ہموار کردی۔

    بیجنگ میں پارٹی اجلاس کے دوران چین کی حکمران جماعت نے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی منظوری دی جس کے بعد کئی اعلیٰ عہدیداران مستعفی ہوئے اور شی جن پنگ کو نئے اتحادیوں کے تقرر کا موقع ملا۔

    پارٹی اجلاس میں 2300 عہدیداران نے شرکت کی، ملک کے سابق صدر ہوجن تاؤ کو اختتامی تقریب میں شرکت نہیں کرنے دی گئی۔ تمام عہدیداران نے مرکزی کمیٹی سمیت پوری پارٹی پر شی جن پنگ کی ناگزیر پوزیشن کو تسلیم کیا اور قرارداد منظور کرتے ہوئے چارٹر کو تبدیل کر دیا۔

    امریکہ منافقانہ طرزعمل سے کام لے رہا ہے،جوناقابل برداشت ہے:فرانسیسی صدر

    اتوار کو شی جن پنگ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری بن جائیں گے، ان کے تیسری بار ملک کا صدر بننے کی راہ ہموار ہوچکی ہے، یہ اعلان مارچ میں حکومت کے سالانہ قانون ساز اجلاس میں کیا جائے گا۔

    ادھرکمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سات روزہ 20 ویں قومی کانگریس ہفتہ کے روز بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔چینی میڈ یا کے مطا بق کانگریس میں سی پی سی کی 20 ویں مرکزی کمیٹی اور 20 ویں مرکزی کمیشن برائے انضباطی معائنہ کا انتخاب کیا گیا ہے ،

    اس دوران سی پی سی کی انیسویں مرکزی کمیٹی کی رپورٹ سے متعلق قرارداد , انیسویں مرکزی انضباطی معائنہ کمیشن کی رپورٹ سے متعلق قرارداد اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کےمنشور میں ترامیم سے متعلق قرارداد کی منظوری دی گئی۔

    ہفتہ وار کاروبارکےدوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالرکی قدرمیں2.40روپےکااضافہ

    کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قومی کانگریس اور اس کے ذریعے منتخب ہونے والی مرکزی کمیٹی سی پی سی کا اعلیٰ ترین رہنما ادارہ ہے۔سی پی سی کی قومی کانگریس ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتی ہے۔

  • سعودی عرب اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ

    درپیش توانائی چیلنجوں کو مقابلہ کرنے کیلئے سعودیہ اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر ژانگ جیان ہوا نے جمعہ کو کہا کہ وہ توانائی کے شعبے میں اپنے تعلقات کو مضبوط کریں گے-

    رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے توانائی سے متعلق اہم ذمہ داروں کے درمیان جمعہ کے روز آن لائن ہونے والی میٹنگ ہوئی۔ اس دوران توانائی کے حوالے سے باہم ملک کر چلنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں دو طرفہ رابطے اور تعاون جاری رہے گا۔ تاکہ درپیش توانائی چیلنجوں کو مقابلہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے خاص طور پر ان ممالک میں سرمایہ کاری کا ذکر کیا جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انفراسٹرکچر اقدام کا حصہ ہیں اور تیل کی عالمی منڈی کو "مستحکم” کرنے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہیں،یہ سرمایہ کاری ریفائنریز اور پٹروکیمیکل کامپلیکسز کے شعبے میں کی جائے گی۔

    سرکاری سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور چین کے قومی توانائی کے منتظم ژانگ جیان ہوا کے درمیان اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈی میں استحکام کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔

    دونوں ملکوں کے توانائی ذمہ داروں نے طویل مدتی اور قابل بھروسہ انداز میں تیل کی عالمی سطح پر فراہمی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ متحرک اور مستحکم عالمی منڈی موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے لیے موجود ہو۔

    سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صنعتکاروں کی تیار کردہ اشیا کی کھپت کے لیے ایک علاقائی مرکز قائم کیا جائے گا۔ اس کے لیے سعودی عرب کے محل وقوع اور جغرافیہ کو دیکھا جائے گا کہ اس میں چین کے تیار کردہ مال کے لیے امکنات کی صورت کیسے کیسے ہو سکتی ہے۔

    سعودی عرب سبزاورنیلی ہائیڈروجن پیدا کرنے والاپہلا ملک بننے کی کوشش کررہا. وزیر…

    دونوں وزرا توانائی کی طرف سے بجلی کے شعبے میں پیداوار اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    سعودی عرب اور چین کے توانائی کے تعلقات ایک ایسے وقت میں مضبوط ہو رہے ہیں جب امریکہ سعودی تعلقات تیل کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں۔ مارچ میں سعودی آرامکو نے چین میں آئل ریفائنری کمپلیکس کی تعمیر کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔ اگست میں، آرامکو اور چین کے سینوپیک نے تیل، ہائیڈروجن اور کاربن کے حوالے سے مزید تعاون کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

    شہزادہ عبدالعزیزاور چینہ رہنما جیان ہوا کی گفتگو میں کچھ اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی۔ سعودی عرب نے اس سال تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے اپنی تشویش کی وجہ سے OPEC+ کے تیل کی پیداوار میں کمی کے حالیہ فیصلے کی حمایت کی۔ دوسری طرف، چین تیل کی کم قیمتوں سے ممکنہ طور پر فائدہ اٹھائے گا، کیونکہ وہ مملکت سے تیل درآمد کرتا ہے۔

    ایک سعودی فرم نے اگست میں مصر میں گرین ہائیڈروجن انرجی پلانٹ کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے مشرق وسطیٰ کی کئی ریاستیں بیلٹ اینڈ روڈ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جن میں سعودی عرب، شام، ترکی اور ایران شامل ہیں۔

    روس کو ڈرونز فراہم کرنے پر برطانیہ نے ایران پر پابندیاں عائد کردی ہیں