Baaghi TV

Tag: چین

  • تباہ ہونےوالےطیارے کا دوسرا بلیک باکس:اہم معلومات سامنے آگئیں

    تباہ ہونےوالےطیارے کا دوسرا بلیک باکس:اہم معلومات سامنے آگئیں

    بیجنگ: دنیا میں حادثات کی خبریں تو آرہی ہیں ، لیکن چین میں ہونے والے حادثے نے فضائی سروس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو حیران کردیا ہے ، اطلاعات ہیں کہ تباہ ہونے والے طیارے کا دوسرا بلیک باکس:اہم معلومات سامنے آگئیں ، پیر کو چین میں گر کر تباہ ہونے والے مسافر طیارے کا دوسرا بلیک باکس مل گیا ہے۔

    اس طیارے حادثے کے بارے میں چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ چائنا ایسٹرن ایئرلائن کا مسافر بردارطیارہ 737-800، 132 افراد کو لے کر صوبہ یونان سے اڑا اور مشرقی ساحلی علاقے کے صنعتی مرکز گوانگ ژو کی جانب محو پرواز تھا۔جس دوران طیارے کو حادثہ پیش آیا

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دوران سفر اس طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا اور جنوبی چین میں حادثے کا شکار ہوا جبکہ طیارے نے تقریباً ایک گھنٹے پرواز بھری تھی۔حادثے کا شکار ہونے والی پرواز ایم یو 5735 کے طیارے میں 123 مسافروں کے ساتھ ساتھ 9 عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔

    ادھر چینی فضائی حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس جائے حادثے کی تلاشی کے دوران چائنا سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کو طیارے کا پہلا بلیک باکس گذشتہ روز مل گیا تھا تاہم اب دوسرا بلیک باکس بھی مل گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز ملنے والے بلیک باکس کی ریکارڈنگ محفوظ ہے جس کے تجزیے کے لیے اسے دارالحکومت بیجنگ بھیج دیا گیا ہے۔

    چین حادثے کی تحقیقات کر رہا ہے لیکن انہوں نے امریکا کو بھی تحقیقات میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے کیونکہ طیارہ امریکی کمپنی کا ڈیزائن کردہ تھا۔

    بین الاقوامی فلائٹ کا ڈیٹا رکھنے والی ویب سائٹ ’’فلائٹ ریڈار 24‘‘ کی جانب سے طیارے کے گرنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جس میں اہم انکشاف کیا گیا ہے۔

    فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق تقریباً 6 بج کر 20 منٹ 59 سیکنڈ پر طیارے کی بلندی تیز سے کم ہونا شروع ہوئی اور 6 بج کر 22 منٹ 35 سیکنڈ پر طیارہ زمین سے ٹکرا گیا۔

    اس طرح طیارہ صرف 1 منٹ اور36 سیکنڈ میں 31 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے زمین پر گرا جوکہ بہت تیز رفتار ہے۔ یاد رہے کہ حادثے کی وجوہات اب تک سامنے نہیں آسکی ہیں۔

  • چینی وزیرخارجہ غیراعلانیہ دورے پرکابل پہنچ گئے : وزیرخارجہ نےاستقبال کیا

    چینی وزیرخارجہ غیراعلانیہ دورے پرکابل پہنچ گئے : وزیرخارجہ نےاستقبال کیا

    کابل: چینی وزیر خارجہ غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچ گئے،وزیرخارجہ نے استقبال کیا،اطلاعات کے مطابق چینی اسٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی جمعرات کی صبح غیر اعلانیہ دورے پر اچانک افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے۔

    افغانستان کی سرکاری باختر نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل عبدالواحد ریان نے چینی وزیر خارجہ کی افغانستان کے دارالحکومت آمد کی تصدیق کی۔

    چین کے وزیر خارجہ نے یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب ایک ہفتے بعد ہی 30 اور 31 مارچ کو بیجنگ، افغانستان کے پڑوسی ممالک کی دو روزہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ طالبان حکومت کی مدد کیسے کی جائے گی۔اس سے قبل پاکستان اور ایران، طالبان کے افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد ہمسایہ ممالک کے ایسے ہی اجلاسوں کی میزبانی کر چکے ہیں۔

     

     

    اگست میں طالبان کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد سے یہ کسی سینئر چینی رہنما کا پہلا دورہ افغانستان ہے جو تین روزہ دورہ پاکستان کے بعد وہاں پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

    افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ کابل پہنچنے پر چینی وزیر کا استقبال کیا۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں فریقین اہم امور پر بات چیت کریں گے جس میں ملکی استحکام و ترقی میں چین کے کردار پر خصوصی گفتگو کی جائے گی۔

    وزیر خارجہ وانگ یی نے آخری بار جون 2017 میں کابل میں بڑے ٹرک بم دھماکے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کے بعد کابل کا دورہ کیا تھا جبکہ مئی 2017 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔

    چینی وزیر خارجہ کے دورے سے طالبان حکومت کو سفارتی سطح پر مدد مل سکتی ہے کیونکہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کسی بھی ملک نے افغان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔

    2014 میں امریکا کی جانب سے اپنی زیادہ تر افواج کے انخلا کے بعد چین، افغان امن عمل کا حصہ بنا تھا اور طالبان کے سیاسی نمائندے گزشتہ چند سالوں میں چین کے کئی دورے کر چکے ہیں۔

  • پاک فوج زندہ باد :پاکستان درست سمت آگےبڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سےگفتگو

    پاک فوج زندہ باد :پاکستان درست سمت آگےبڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سےگفتگو

    راولپنڈی :چین پاک فوج کی صلاحیتوں کا معترف ہے:پاکستان درست سمت آگے بڑھ رہا ہے:چینی وزیرخارجہ کی آرمی چیف سے گفتگو،اطلاعات کے مطبق چین کے وزیرخارجہ کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق چین کے وزیرخارجہ کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور علاقائی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران چین کے وزیرخارجہ نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

    اس موقع پر چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ پاک چین تعلقات خیالات کی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، دنیا کو علاقائی استحکام کے لئے پاکستان کی کوششوں تسلیم کرنا چاہیے۔

  • جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم  کوخراج تحیسن

    جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم کوخراج تحیسن

    اسلام آباد:جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم کوخراج تحیسن ،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے ملاقات کی اور آو آئی سی کے پلیٹ فارم سے جس طرح عالم اسلام ،ختم نبوت،دین اسلام کا دفاع، فلسطین ، کشمیراور دیگربین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے ملاقات کی، ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں افغانستان اور بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال زیر بحث آئی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے تہنیتی پیغام پہنچایا۔

    اکتوبر 2021 میں اپنے دورہ سعودی عرب کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا

    عمران خان نے اسلامی تعاون کی تنظیم کو اسلامی دنیا کے مقاصد کے لیے اہم پلیٹ فارم میں آگے بڑھانے کے لیے مملکت کے قائدانہ کردار کو سراہا اور امت کو درپیش بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے،اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے او آئی سی کے رکن ممالک کے اجتماعی اقدام کی اہمیت پر زور دیا

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ کاز کے لیے مملکت کی مستقل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، شہزادہ فرحان نے اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے کامیاب انعقاد پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔

    وزیراعظم نے پاک سعودی تعلقات کی خصوصی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات قریبی برادرانہ تعلقات، تاریخی روابط اور مجموعی سطح پر تعاون پر مبنی ہیں۔

     

    آپ پاکستان نہیں عالم اسلام کے لیڈر ہیں ، امہ مسلمہ آپ کے ساتھ کھڑی ہے ، عراقی وزیرخارجہ
    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سے عراقی وزیر خارجہ نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا۔

    وزیراعظم نے عراق کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں مشترکہ عقائد، مشترکہ اقدار اور ثقافتی وابستگیوں میں گہرے ہیں۔

    عمران خان نے عراق کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت کی کامیابیوں کا اعتراف کیا۔

     

    جناب وزیراعظم صاحب:حکومت چین اور چینی قوم آپ کے ویژن سے بہت متاثر ہیں :چینی وزیرخارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات پرگفتگو
    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے چینی طیارے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے وانگ یی کا پاکستان میں گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور گزشتہ روز ہونے والے چینی طیارے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دُکھ کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعلقات کی رفتار اور بدلتے علاقائی، بین الاقوامی منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، پائیدار مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے بارے میں بتایا۔

    عمران خان نے بھارت کی طرف سے پاکستان کی حدود میں میزائل کے نام نہاد "حادثاتی” میزائل کے بارے میں چینی وزیر خارجہ کو بھی آگاہ کیا اور پاکستان کی طرف سے مشترکہ تحقیقات کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جائے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کو افغانستان میں امن و استحکام کو فروغ دینے اور وہاں انسانی بحران کو روکنے کے لیے گہرے تعلقات کو جاری رکھنا چاہیے ۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا مرحلہ صنعتی ترقی، زراعت اور معلومات جیسے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو تقویت دے گا۔

  • چین نے کیسے عروج پایا،مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کوکیا کرناچاہیے؟ویبنار میں گفتگو

    چین نے کیسے عروج پایا،مسلم دنیا بالخصوص پاکستان کوکیا کرناچاہیے؟ویبنار میں گفتگو

    اسلام آباد : اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے موقع پر، جس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ (پی سی آئی) کی کلیدی تقریر کے ساتھ ایک تاریخی دورہ کیا۔ ایک خصوصی ویبنار کا انعقاد کیا جس میں OIC میں چین کی شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر کہ چینی نظام نے غربت کے خاتمے سے لے کر گڈ گورننس تک اپنے لوگوں کے لیے کس طرح ڈیلیور کیا ہے۔ ‘فرینڈز آف سلک روڈ’ کے بینر تلے منعقد ہونے والا ویبنار جس کا موضوع تھا ‘

    ذرائع کے مطابق پورے عمل کی عوامی جمہوریت: چینی نظام کو سمجھنا’، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کے افتتاحی کلمات کے ساتھ شروع ہوا۔ اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی، جس میں انہوں نے "تاریخی پہلے” کے طور پر او آئی سی میں چین کی شمولیت کا خیرمقدم کیا، جہاں مسلم دنیا میں چین کا داخلہ امریکہ کے اخراج کے ساتھ موافق ہے، جنوب مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے امریکی چھانٹی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی ہم آہنگی کا بھی خیرمقدم کیا، جس سے او آئی سی میں چین کو دعوت دی گئی، جو چین کے دیرینہ تعلقات اور مسلم دنیا کی حمایت کا اعتراف تھا، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب قریبی تعاون کی یاد تازہ کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ رشتہ جس نے 1974 میں لاہور میں پاکستان میں پہلی کامیاب OIC سربراہی کانفرنس کو قابل بنایا۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں کہا کہ چین مسلم دنیا میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے اور پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اس کردار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی ملکی اور غیر ملکی پالیسیوں میں تزویراتی تبدیلی، خاص طور پر سعودی معاشرے، معیشت، ثقافت میں کھلے پن اور مذہبی انتہا پسندی کو روکنے اور خواتین کے حقوق کے فروغ کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کی تعریف کی۔ ترکی سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستان، چین اور سعودی عرب کے درمیان ایک ’’اسٹرٹیجک تکون‘‘ کے ابھرتے ہوئے دیکھا جو مسلم دنیا میں اتحاد، اقتصادی ترقی اور روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں تزویراتی تبدیلی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کی روشن خیال قیادت کی وجہ سے ہوئی ہے اور اب سعودی عرب اور چین کے درمیان امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی RMB میں تیل فروخت کرنے پر بات چیت بھی ہو رہی ہے۔ جبکہ 2022 کے موسم گرما میں صدر شی جن پنگ کا سعودی عرب کا دورہ کرنے کا امکان ہے اور سعودی ولی عہد ایم بی ایس کا پاکستان کا دورہ کرنے کا امکان ہے۔

    چین میں جمہوریت کے معاملے کے حوالے سے سینیٹر مشاہد حسین سید نے دو سروے کا حوالہ دیا جو امریکہ میں کرائے گئے تھے، ایک ہارورڈ یونیورسٹی نے جولائی 2020 میں اور دوسرا ایک امریکی عالمی پی آر کنسلٹنسی ایڈل مین ٹرسٹ بیرومیٹر کی طرف سے جنوری 2022 میں کیا گیا تھا۔ جس میں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ‘چینی حکومت پچھلی 2 دہائیوں کے دوران کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ مقبول تھی’، جو کہ چینی عوام میں ان کی حکومت سے 80 فیصد سے زیادہ اطمینان کی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ عوام کے اس اعلیٰ اطمینان کی وجہ اچھی حکمرانی اور بہتر معیار زندگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی نظام کی ساکھ کا ایک اہم جزو عوامی توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت ہے، جو چین نے کی تھی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئےچین میں 6 سال خدمات انجام دینے والے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا کہ چین نے عالمی بہترین طرز عمل اپناتے ہوئے قانون پر مبنی ریاستی طرز حکمرانی کا اپنا ماڈل تیار کیا ہے جس میں جمہوریت خوشحالی اور مشاورتی عمل پر مشتمل ہے۔ . انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ بدستور مقبول ہیں کیونکہ چینی عوام کی زندگیوں میں روزانہ کی بنیاد پر بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا پر کتابیں لکھنے والے سلطان حالی نے عوام پر مبنی ترقی کے ذریعے چین کی غیر معمولی تبدیلی کا حوالہ دیا جس نے لاکھوں چینیوں کی زندگیوں کو تبدیل کر دیا ہے، خاص طور پر 800 ملین چینی لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ 3 دہائیوں سے زیادہ. انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام چین کے مطابق ہے

    کیتھ بینیٹ، جو لندن میں مقیم ‘فرینڈز آف سوشلسٹ چائنا’ کے شریک ایڈیٹر ہیں، نے کہا کہ چینی نظام ایک جامع، غیر مخالف جمہوری اخلاقیات کے ساتھ، ہزار سالہ چینی دانشمندی، ہم آہنگی اور اتفاق رائے پر مبنی ہے۔ چین میں کل وقتی سیاست دان نہیں ہے یہاں تک کہ صفائی کے کارکن اور بس ڈرائیور بھی پارلیمنٹ کے رکن بن سکتے ہیں۔

    ایک پاکستانی صحافی اور محقق محترمہ زون احمد خان، جو اب بیجنگ میں سنٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن میں ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اور ان کی سماجی آزادی چین کی کامیابی کی کہانی کا ایک اہم جزو ہے جس نے چین کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اتنے کم وقت میں اتنا. انہوں نے سی پی سی کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پارٹی چین میں عام لوگوں کو ہیرو بناتی ہے’۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والے سماجی سائنسدان اور پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر رضا نعیم نے چینی سیاسی نظام کی مختلف جہتوں پر توجہ مرکوز کی، جس میں چین کے عوام کے لیے جمہوری جوابدہی اور ڈیلیوری کا مظاہرہ کیا گیا، خاص طور پر کورونا وائرس وبائی مرض کا تجربہ جہاں چین نے ‘ سب سے پہلے لوگ. انہوں نے چینی عوام کی لچک کو سراہتے ہوئے کہا کہ 21ویں صدی اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں چین کے عروج سے تشکیل پائے گی۔

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

    او آئی سی وزرائےخارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے انعقاد کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اجلاس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے پارلیمنٹ کی راہداری میں ریڈ کارپیٹ بچھا دیے گئےسینٹ اور قومی اسمبلی ہالز کو برقی قمقموں اور پھولوں سے آراستہ کر دیا گیا پارلیمنٹ کو دیدہ زیب بنانے کے لیے تزین و آرائش مکمل ہو گئی-

    دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی وزارتِ خارجہ آمد پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب کا خیر مقدم کیا دونوں وزرائے خارجہ کے مابین تہنیتی جملوں کا تبادلہ ہوا-

    اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس دوران پاکستان اور چین کے درمیان زراعت، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے

    ملاقات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جسے پی ٹی وی براہ راست نشر کرے گا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں او آئی سی اجلاس کے انتظامات کے بعد کی تصویری جھلکیاں

  • وزیراعظم عمران خان کا چین میں طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    وزیراعظم عمران خان کا چین میں طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    وزیراعظم عمران خان نے چین میں طیارہ حادثے پر اظہارافسوس کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جانی نقصان پر گہرا دکھ ہوا ہے ہم اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

    مسافر طیارہ تباہ،132 مسافر تھے سوار،ایمرجنسی نافذ


    خیال رہے کہ چائنا ایسٹرن ایئر لائنز کا ایک مسافر طیارہ جس میں 132 افراد سوار تھے، پیر کی سہ پہر چین کے خود مختار علاقے گوانگشی ژوانگ میں گر کر تباہ ہو گیا۔

    تیونس میں دو مسافر ٹرینیں آپس میں ٹکراگئیں،95 افراد زخمی

    مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گر کر تباہ ہونے والا طیارہ بوئنگ 737 ہے جو کنمنگ چانگ شوئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گوانگزو بائیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ آرہا تھا طیارہ ووزو شہر پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھا تھا اس میں 132 مسافر اور عملے کے نو افراد سوار تھے۔ جہاں طیارہ گرا وہاں آگ لگ گئی تھی-

    لاہور ایئرپورٹ پر غیر ملکی طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

  • مسافر طیارہ تباہ،132 مسافر تھے سوار،ایمرجنسی نافذ

    مسافر طیارہ تباہ،132 مسافر تھے سوار،ایمرجنسی نافذ

    مسافر طیارہ تباہ،132 مسافر تھے سوار،ایمرجنسی نافذ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین میں ایک مسافر طیارہ تباہ ہو گیا ہے

    مسافر طیارے میں 132 مسافر سوار تھے، چینی میڈیا کے مطابق چین کا ایک مسافر طیارہ جس میں 132 افراد سوار تھے، پیر کی سہ پہر جنوبی چین کے گوانگشی ژوانگ خود مختار علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا

    چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (سی اے اے سی)کا کہنا ہے کہ کہ حادثے میں بوئنگ 737 کنمنگ سے گوانگزو جا رہا تھا۔ فوری طور پر ہلاکتوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی طیارہ ووزو شہر پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھا۔ اس میں 123 مسافر اور عملے کے نو افراد سوار تھے۔ جہاں طیارہ گرا وہاں آگ لگ گئی تھی، طیارہ گرنے کےبعد آگ لگنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے،

    ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ جس جگہ طیارہ گرا تھا وہاں آگ لگ گئی تھی۔ ابتدائی طورپر مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں کہ اس واقعے کی وجہ کیا بنی؟ واقعہ کے بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں، امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، میڈیا نے بتایا کہ نہیں لگتا کوئی بھی اس حادثے میں زندہ بچا ہو،

    حادثے کے بعد کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری، چین کے صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے فوری طور پر اہم ہدایات دیں اور اس حادثے کے بارے میں کہا کہ چائنا ایسٹرن ایئرلائنز کی پرواز MU5735 کے حادثے کے بارے میں جان کر بے حد صدمہ ہوا ہے ۔فوری طور پر ہنگامی طریقہ کار کو فعال کیا جانا چاہیے، متاثرہ افراد کی تلاش اور بچاؤکا کام منظم انداز میں کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جلد از جلد حادثے کی وجوہات معلوم کی جائیں ،سول ایوی ایشن کے شعبے میں ممکنہ خطرات کی تحقیقات کو مضبوط بنایا جائے،ذمہ داریوں کی ادائیگی پر بھرپور توجہ دی جائے، ایوی ایشن آپریشنز کے مکمل تحفظ اور لوگوں کی زندگیوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

    طیارہ حادثہ کے بعد چین کی ایسٹرن ائیر لائن نے بوئنگ کمپنی کے تمام 737-800 جہازوں کو گراؤنڈ کر دیا ۔ کمپنی حکام کے مطابق ایسے تمام جہاز وں پر پرواز کے لیے پابندی عائد کر دی گئی

    وزیر اعظم عمران خان نے چین میں طیارہ حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین میں مسافر طیارے کے حادثے میں المناک جانی نقصان پر گہرا دکھ ہوا ہم اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

    چین میں آخری مہلک جیٹ حادثہ 2010 میں ہوا تھا، جب ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے مطابق، ہینان ایئر لائنز کا ایک Ambraer E-190 علاقائی جیٹ گر کر تباہ ہونے سے 96 میں سے 44 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    بھارت سے دوحہ جانیوالے طیارے کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ

    کاش. پی آئی اے والے یہ کام کر لیتے تو PK8303 کا حادثہ نہ ہوتا، سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    ماشاء اللہ، پی آئی اے کے پائلٹ ماضی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ؟سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

    کراچی طیارہ حادثہ،طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

  • پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:عدنان عامر کا تجزیہ

    پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:عدنان عامر کا تجزیہ

    کراچی :پاکستان میں عدم اعتماد دنیا اس کو عدم استحکام کی صورت میں دیکھتی ہے:اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے جہاں غیرملکی ماہرین کے حقائق کا جائزہ لیا جائے تو حقائق کچھ اور ہیں اور اگرپاکستان بیسڈ ماہرین کے خیالات کا جائزہ لیا جائے توصورت حال کچھ اور دکھائی دیتی ہے ، پاکستان میں عدم اعتماد کو چین اور دیگر ممالک عدم استحکام سے منسوب کرتے ہیں

    شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہےکہ اس موقع پر چین ضرور پریشان ہورہا ہوگا ،کیوںکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے ساتھ کچھ لوگوں‌ کا خیال ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو نگران سیٹ اپ میں ن لیگ کے ہاتھ میں عارضی حکومت آسکتی ہے

    ان کا خیال ہے کہ مارچ کے آغاز سے ہی مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن جماعتیں خان حکومت کو گرانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کی تیاری کر رہی تھیں، جسے ہمسائیہ ممالک اچھا شگون نہیں کرتے اور اسے پاکستان کے لیے نقصان دہ قراردیتے ہیں‌۔ اب، پاکستان کی قومی اسمبلی — پارلیمنٹ کا ایوان زیریں — 27 مارچ کو اس تحریک پر ووٹنگ کرنے والی ہے۔ اگر تحریک 342 میں سے کم از کم 172 ووٹ حاصل کرتی ہے، تو خان ​​کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑے گا۔

    انتخابی مہم میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ خان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ ووٹ کے دن اسلام آباد میں ایک بڑی ریلی نکالے گی،دوسری طرف اپوزیش نے پہلے ہی اسلام آباد میں سیاسی دنگل کرنے کا منصوبہ بہت عرصہ پہلے کا بنا رکھا ہے

    پاکستانی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نکی ایشیا کو بتایا کہ چین نے موجودہ سیاسی بحران میں انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اپنائی ہے۔ ” اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد سے بچ جاتے ہیں،تو چین ب ان کے ساتھ کام کرے گا

    چین پاکستان اقتصادی راہداری – بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا 50 بلین ڈالر کا پاکستانی حصہ – موجودہ حکومت کے دور میں اچھی ترقی نہیں کر سکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں نئی ​​حکومت سی پیک میں نئی ​​جان ڈالنے میں کامیاب ہوگی۔

    اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی کے سکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اشتیاق احمد کا اپنا ذاتی خیال ہے کہ بیجنگ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے 2018 سے سی پیک منصوبوں کی رفتار سست کرنے پر ناراض ہے۔

    احمد نے اپنے اس تجزیے کے ذریعے کچھ برین واشنگ اور موبلائزیشن کا کارڈ کھیلتے ہوئے کہا کہ اگر خان کی حکومت گرتی ہے تو چین اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا مستقل خسارہ ختم ہو جائے گا، اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر شہباز شریف کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کا امکان چین کو خوش کر دے گا۔

    احمد نے ایک خلاف حقیقت اور چین کی پالیسی کے خلاف بات لکھتے ہوئے کرپشن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ موجودہ حکومت کا انسداد بدعنوانی پر زور بیجنگ کے لیے تشویش کا باعث ہے، سی پیک کے حوالے سے اس کی اپنی ترجیح کو دیکھتے ہوئے، چین میں یہ خدشات بھی ہیں کہ خان حکومت نے چینی منصوبوں اور چینی منصوبوں کے لیے سیکورٹی کے خطرات کو خاطر خواہ طور پر حل نہیں کیا ہے

    پاکستان کی سرگودھا یونیورسٹی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنا سٹڈیز کے ڈائریکٹر فضل رحمان کا اس معاملے پر مختلف موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کا واضح انتخاب یہ ہوگا کہ وہ موجودہ حکومت کو اپنی روٹین کی مدت پوری کرنے دے اور انتخابات کے ذریعے تبدیلی لائیں جو صرف ایک سال باقی ہیں۔

    رحمٰن نے نکی کو بتایا کہ تحریک عدم اعتماد جیسے اقدام سے "ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی پریشانیوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، تحریک اور سیاسی عدم استحکام کے موروثی خطرات ہیں۔”

    Kugelman اتفاق کرتا ہے. انہوں نے کہا، "چین کے لیے، اہم تشویش یہ ہے کہ اگر حکومت میں تبدیلی آتی ہے تو اگلی قیادت کیسی نظر آتی ہے، اور اگر نئی حکومت کی طرف منتقلی کا طویل عمل ہوتا ہے تو غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا۔ "چین کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ سیاسی بحران قابو سے باہر نہ ہو جائے۔”

  • چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری

    بیجنگ :چین میں کورونا پھر بے قابو:دنیا میں پھر نئی لہر کا خطرہ :ہرطرف خوف طاری،اطلاعات کے مطابق چین میں کورونا بے قابو ہوگیا جس کے باعث دنیا بھر میں پھر نئی لہر کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کی شرح 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اسرائیل میں بھی کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے جس کے بعد امریکا اور یورپ پر بھی کورونا کی نئی لہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    چین میں کورونا کی صورت حال بے قابو ہو گئی ہےاور کورونا پابندیوں سے تقریباً 3 کروڑ افراد متاثر ہیں۔چین کو فروری 2020 کے بعد سے اب تک کورونا کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے، یہاں چند دنوں سے روزانہ 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    چین کے علاوہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا سمیت افریقی اور یورپی ممالک میں بھی کورونا کے کیسز بڑھنے لگے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی پورٹ کے مطابق چین اور جنوبی کوریا میں کورونا کے کیسز میں 25 فیصد اور اموات میں 27 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ افریقا میں بھی نئے کیسز میں 12 فیصد اور اموات میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یورپ میں نئے کیسز میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے تاہم وہاں ہلاکتوں کی تعداد مستحکم ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور برطانیہ میں کیسز بڑھنے لگے ہیں جس کے باعث یورپ میں کورونا کی ایک اور لہر کا امکان بڑھ گیا ہے۔