Baaghi TV

Tag: چین

  • چینی صدر اہم دورے پر ہانگ کانگ پہنچ گئے

    چینی صدر اہم دورے پر ہانگ کانگ پہنچ گئے

    بیجنگ:چینی صدر ہانگ کانگ پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سکریٹری، صدر مملکت اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پنگ خصوصی ٹرین کے ذریعے ہانگ کانگ پہنچے ۔ وہ یکم جولائی کو ہانگ کانگ کی مادر وطن میں واپسی کی 25ویں سالگرہ کی تقریب اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی چھٹی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے اورہانگ کانگ کا دورہ کریں گے۔

    جمعرات کے روزچینی میڈ یا کےمطا بق ہانگ پہنچنے پرہانگ کانگ کےہائی اسپیڈ ریل اسٹیشن ویسٹ کولون ریلوے اسٹیشن پر،چینی صدرشی جن پھنگ نے خطاب کیا۔انہوں نےکہا کہ رواں سال یکم جولائی کو ہانگ کانگ کی مادروطن میں واپسی کی 25ویں سالگرہ منائی جائے گی اور ملک کے تمام لوگ اس خوشی کی تقریب کو اپنے ہانگ کانگ کے ہم وطنوں کے ساتھ منائیں گے۔

    شی جن پھنگ نے ہانگ کانگ کے ہم وطنوں کو گرمجوشی سے مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ عرصے میں ہانگ کانگ نے درپیش خطرات اور چیلنجز پر قابو پایا ہے ۔ ان مشکلات کے بعد ہانگ کانگ نے ترقی کے نئے سفر کا آغاز کیا اور شاندار قوت محرکہ کا مظاہر ہ کیا۔ شی جن پھنگ نے کہا، “حقائق نے ثابت کیا ہے کہ ‘ایک ملک، دو نظام’ محرکہ قوت کا حامل نظام ہے، یہ ہانگ کانگ کی طویل مدتی خوشحالی اور استحکام کو یقینی بنا تا ہے، اور ہانگ کانگ کے ہم وطنوں کی فلاح و بہبود کا تحفظ کر تا ہے۔ ہم ‘ایک ملک، دو نظام’ پر عمل پیر رہیں گے تو ہانگ کانگ کا مستقبل یقینی طور پر بہتر ہوگا۔

  • پولیس سیکیورٹی پلان کو ہرلحاظ سے ٹھوس اورغیرمعمولی بنانا ہے:آئی جی سندھ

    پولیس سیکیورٹی پلان کو ہرلحاظ سے ٹھوس اورغیرمعمولی بنانا ہے:آئی جی سندھ

    کراچی :آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ پولیس سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور غیرمعمولی بنانا ہے۔تفصیلات کے مطابق چائنا قونصل جنرل کی 13 رکنی وفد کے ساتھ آئی جی سندھ نے ملاقات کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق آج قونصل جنرل چائنا Li Bijian نے 13 رکنی وفد کے ساتھ آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے سنٹرل پولیس آفس کراچی میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور سمیت صوبہ سندھ میں جاری مختلف ترقیاتی پروجیکٹس،سی پیک روٹ سے وابستہ چائنیز باشندگان ماہرین اور دیگر اسٹاف کے حفاظتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    آئی جی سندھ نے قونصل جنرل چائنا کی سنٹرل پولیس آمد پر انکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس امن وامان کی صورتحال پر مکمل کنٹرول اور عوام کے جان ومال کے تحفظ جیسی ذمہ داریوں میں ناصرف ہمہ وقت مستعد اور الرٹ ہے بلکہ سیکیورٹی حکمت عملی اور لائحہ عمل میں وقتاً فوقتاً مشاورت اور تجاویز کے عمل پر بھی فوکس رکھے ہوئے ہے جسکا مقصد پولیس سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور غیرمعمولی بنانا ہے۔

    ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے وفد کو کراچی یونیورسٹی دہشت گردانہ حملے کے کیس پر بریفنگ دی اور ابتک کی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ ڈی آئی جی ایس پی یو/سی پیک نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری پر سیکیورٹی کے جملہ امورسے بھی تفصیلی آگاہی دی۔اس موقع پر قونصل جنرل چائنا نے صوبے میں جاری سیکیورٹی کے مجموعی اقدامات پر حکومت چائنا کی جانب سے سندھ پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چائنا کا سندھ پولیس کے ساتھ تعاون جاری رہیگا۔

    ملاقات کے موقع پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرزسندھ،ڈی آئی جی ایس پی یو/سی پیک،ڈی آئی جی آئی ٹی،ڈی آئی جی سی آئی اے،ایس پی فارنرز سیکیورٹی سیل کے علاوہ اے آئی جی آپریشنز سندھ اور اے آئی جی ایڈمن سی پی او اور سی ٹی ڈی کے افسران بھی موجود تھے۔

  • امریکی صدر کا روس کی شکست تک یوکرین کی مدد جاری رکھنے کا اعلان

    امریکی صدر کا روس کی شکست تک یوکرین کی مدد جاری رکھنے کا اعلان

    لندن :امریکی صدر جوبائیڈن نے جنگ میں روس کی شکست تک یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں نیٹو اتحاد کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے غیر معینہ مدت تک یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت تک اپنی مدد جاری رکھے گا جب تک یوکرین کو اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ اس نے روس کو شکست دے دی ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ ان کی انتظامیہ روس کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو جلد ہی مزید 800 ملین ڈالر کی سیکورٹی امداد فراہم کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئی امریکی امداد میں جدید فضائی دفاعی نظام، کاؤنٹر بیٹری ریڈار اور ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سٹمز کے لیے اضافی گولہ بارود شامل ہوں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ان کی انتظامیہ باضابطہ طور پر سیکورٹی امداد کی تفصیلات جاری کرے گی۔

    اجلاس میں نیٹو نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کی امداد جاری رکھی جائے گی اور تعاون کا سلسلہ برقررا رکھا جائے گا۔یوکرین نے شام سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔یہ فیصلہ یوکرین سے آزادی حاصل کرنے والی دو ریاستوں کو خودمختار تسلیم کرنے کے ردعمل میں آیا ہے۔

    یوکرین صدر ولودیمیرزیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ عوامی جمہوریہ لوہانسک اور عوامی جمہوریہ ڈونیسک کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے پر شام سے سفارتی تعلقات ختم کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل روس نے یوکرین سے علاحدہ ہونے والی ریاستوں کو تسلیم کیا تھا جس کے بعد شام کے صدر بشارالاسد نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھی ان ریاستوں کی خودمختاری اور اقتداراعلیٰ کو تسلیم کررہے ہیں۔

    شامی وزارت خارجہ نے عوامی جمہوریہ لوہانسک اور عوامی جمہوریہ ڈونیسک سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کے لیے فریم ورک پر بات چیت ہو گی۔

    ادھراطلاعات کے مطابق روس کے خلاف یوکرین کوفوجی امداد کا سلسلہ جاری وساری ہے اورتازہ امداد میں برطانیہ نے یوکرین کو 1 بلین پاؤنڈ (1.2 بلین ڈالر) مالیت کے فوجی امداد کے ایک نئے پیکج کا وعدہ کیا ہے۔

    اس امداد میں فضائی دفاعی نظام اور ڈرون شامل ہوں گے۔ نیوز آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ نیا پیکج روس کے خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک یوکرین کو برطانیہ کی کل فوجی مدد 2.8 بلین ڈالر تک لے جائے گا۔

    یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کریملن نے کہا ہے کہ دشمنی کو ختم کرنے کا ایک آپشن موجود ہے، یہ کہتے ہوئے کہ آپریشن کو دن کے اختتام سے پہلے روکا جا سکتا ہے، اگر کیف اپنے نازی یونٹوں اور فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیتا ہےاور ماسکو کی شرائط کو قبول کرتا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے آج نیٹو کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے روس کو "براہ راست خطرہ” قرار دیا اور کہا کہ چین نے عالمی استحکام کے لیے "سنگین چیلنجز” پیدا کرنے کے الزامات لگائے

    روس اورچین نے نیٹو کے ان الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو،امریکہ اوردیگرامریکی نوازیہ سُن لیں کہ نیٹوکی وسعت روس اورچین کے خلاف ایک سازش ہے جسے مسترد کرتے ہیں اور نیٹو کی وسعت کے خلاف مزاحمت بھی کریں گے

    یاد رہے کہ میڈرڈ میں نیٹوسربراہی اجلاس ہورہاہے جہاں اس نے ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ دنیا کواس وقت سائبرحملوں کاسامنا ہے اوراس کے پیچھے روس اورچین ہیں‌

    میڈرڈ میں ہونے والے اجلاس میں نیٹو رہنماؤں نے ترکی کواعتماد میں لینےکے بعد فن لینڈ اور سویڈن کو بھی اس اتحاد میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی۔ اگر نورڈک ممالک کے الحاق کو 30 رکن ممالک نے منظوری دے دی تو یہ نیٹو کو روس کے ساتھ 800 میل (1,300 کلومیٹر) کی نئی سرحد دے گا۔

    نیٹوکے انہیں عزائم کو بھانپتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ اگر نورڈک جوڑے یعنی فن لینڈ اور سویڈن نے نیٹو کے فوجیوں اور فوجی ڈھانچے کو اپنی سرزمین پر جانے کی اجازت دی تو وہ اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس ان علاقوں میں نیٹو افواج کی موجودگی کوایک جنگی جارحیت تصور کرے گا

    نیٹو کے رہنماؤں نے جمعرات کو ہونے والے ایک حتمی سربراہی اجلاس کے لیے اپنی نگاہیں جنوب کی طرف موڑ لیں جس پر توجہ افریقہ کے ساحل کے علاقے اور مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز تھی، جہاں سیاسی عدم استحکام — موسمیاتی تبدیلیوں اور یوکرائن میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوراک کی عدم تحفظ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال ہے ، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مہاجرین کو یورپ کی طرف لے جا رہی ہے۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ "یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم جنوب میں اپنے قریبی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرتے رہیں۔ان کا کہناتھا کہ روس نے ہماری ساری توقعات پرپانی پھیردیا جب اس نے یوکرین پرحملہ کرکے خطے کوعدم استحکام کا شکارکردیا ہے

    اس حملے نے یورپ کے امن کو تہس نہس کر دیا، اور اس کے جواب میں نیٹو نے ممالک نے یوکرین کی مزاحمت کو مضبوط کرنے کے لیے اسے اربوں ڈالر کی فوجی اور سویلین امداد دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سربراہی اجلاس سے خطاب ہوئے نیٹو پر زور دیا کہ وہ جدید آرٹلری سسٹم اور دیگر ہتھیار بھیجے اور رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ یا تو انہیں کیف کو اس کی ضرورت کے مطابق مدد فراہم کرنی ہوگی یا پھر "روس اور آپ کے درمیان تاخیر سے جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    یوکرین کے صدر نے کہا کہ یوکرین کوفتح کرنے کے بعد روس کا اگلہ ٹارگٹ مالڈووا؟ یا بالٹک؟ یا پولینڈ ہوگا اورکسی کو بھول میں رہنے کی بھی ضرورت نہیں

  • چین پاکستان کی خوشحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا.  ترجمان زاؤ لیجیان

    چین پاکستان کی خوشحالی کیلئے حمایت جاری رکھے گا. ترجمان زاؤ لیجیان

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کی معاشی ترقی، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور مالی استحکام کوبرقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انھوں نے انٹرنیشنل پریس سینٹر (آئی پی سی) میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ چین اور پاکستان سدا بہار سٹرٹیجک شراکت دار ہیں ، چین نے معاشی ترقی، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔ چین دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات استوار کرنے کیلیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور چینی سفارتخانہ چینی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان حکومت نے سی پیک اور بین الحکومتی تعاون کے منصوبوں میں شامل چینی اہلکاروں کے تحفظ کیلیے ایک خصوصی سیکیورٹی فورس قائم کی اور پاکستان میں چینی عہدیداروں کی حفاظت بھی

  • کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    لاہور:کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کی طرف سے پاکستان کے دورے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے، اس حوالے سے بھی یہ دورہ اہم ہےکہ آنے والے مہمان نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کی ہے ،

    اسی حوالے سے ن لیگ کی طرف سے خوشی کااظہارکرتےہوئےکہا گیا ہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi) کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ خطے میں باہمی تعلقات کی جانب ایک اورمثبت قدم ہے

    یاد رہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi)نے اپنے دورہ پاکستان میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اس سلسلے میں ایک ملاقات وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ہے۔ وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر چین کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی صدر اور ہم منصب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈائریکٹر یانگ کا دورہ پاکستان ، پاک چین دوستی ، اسٹریٹجک شراکت داری کا مظہر ہے۔

    چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں :آرمی چیف

    وزیراعظم نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں مزید بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ اقتصادی تعاون وسیع پیمانے پر پاک چین شرکت داری کی بنیاد بن چکا۔ چین کی غیر متزلزل حمایت ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر بھی چین کا شکریہ ادا کیا۔

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

  • امریکا نے چین اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی 36 کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کردیا

    امریکا نے چین اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی 36 کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کردیا

    امریکا نے پاکستان، چین، روس، ازبکستان،سنگا پور سمیت دیگر ممالک کی 36 کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق جو بائیڈن کی انتظامیہ نے منگل کے روز چین کی پانچ کمپنیوں کو روس کے فوجی اور دفاعی صنعتی اڈے کی مبینہ طور پر حمایت کرنے کے الزام میں تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کیا، اور یوکرین پر اس کے حملے پر ماسکو کے خلاف پابندیاں نافذ کرنے کے لیے اپنے اقدامات کو وسیع کیا-

    امریکی سپریم کورٹ نے اسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں میں باجماعت نماز کی اجازت دیدی

    امریکا نے نہ صر ف چین بلکہ برطانیہ، متحدہ عرب، سنگاپور،ازبکستان، پاکستان، ویتنام اور دیگر ممالک کی 36 کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کردیا ان ممالک کی کمپنیوں پر روسی فوج اور روسی دفاعی صنعت کو مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔

    بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج کا فیصلہ دنیا بھر کے اداروں اور افراد کو ایک طاقتور پیغام بھیجتا ہے کہ اگر وہ روس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو امریکا ان سے رابطہ منقطع کر دے گا۔

    کامرس ڈیپارٹمنٹ، جو بلیک لسٹ کی نگرانی کرتا ہے، نے کہا کہ 24 فروری کے حملے سے پہلے ٹارگٹڈ کمپنیوں نے روسی تشویش کے اداروں کو اشیاء فراہم کی تھیں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ روسی ادارے کی فہرست میں شامل اور منظور شدہ فریقین کی فراہمی کا معاہدہ کرتے رہیں گے۔

    ترکیہ فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت پر رضامند

    ایجنسی نے فیڈرل رجسٹر کے اندراج کے مطابق، روس، متحدہ عرب امارات، لتھوانیا، پاکستان، سنگاپور، برطانیہ، ازبکستان اور ویتنام سمیت دیگر 31 اداروں کو بلیک لسٹ میں شامل کیا۔ شامل کردہ کل 36 کمپنیوں میں سے 25 کے کام چین میں تھے۔

    واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کمپنیوں کے خلاف الزامات کا جواب نہیں دیا، لیکن کہا کہ بیجنگ نے روس یا یوکرین کو فوجی مدد فراہم نہیں کی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنی کمپنیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے "ضروری اقدامات” کرے گا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ پابندیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

    چین کی تین کمپنیوں جن پرروسی فوج کی مدد کرنےکا الزام ہےمیں کونیک الیکٹرانک لمیٹڈ، ہانگ کانگ میں مقیم ورلڈ جیٹا، اور لاجسٹکس لمیٹڈ شامل ہیں جبکہ دیگر دو، کنگ پائی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ اور وننک الیکٹرانک نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    بیجنگ کی طرف سے شہر کی خود مختاری پر کریک ڈاؤن کے بعد سے امریکی برآمدی کنٹرول کے مقاصد کے لیے ہانگ کانگ کو چین کا حصہ سمجھا جاتا ہے فرموں کی بلیک لسٹ کرنے کا مطلب ہے کہ ان کے امریکی سپلائرز کو کامرس ڈیپارٹمنٹ کے لائسنس کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ وہ انہیں اشیاء بھیج سکیں گے-

  • کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آج سے بجلی بنانا شروع کرے گا

    کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آج سے بجلی بنانا شروع کرے گا

    چین اور پاکستان کے مابین جاری اقتصادی راہداری پروجیکٹ کے تحت بننے والا کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آج سے بجلی بنانا شروع کردے گا۔

    باغی ٹی وی : چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے 720 میگاواٹ کے کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے 168 گھنٹے طویل قابل اعتماد ٹیسٹ رن کامیابی سے پاس کر لیا اور یہ آج سے کمرشل آپریشن شروع کر دے گا۔ اسے 1.72 ارب ڈالر سے مکمل کیا گیا ہے یہ منصوبہ صاف اور سستی بجلی فراہم کرکے توانائی کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    کروٹ پاور کے عہدیدار نے بتایا وزیراعظم شہباز شریف اسی دن تاریخی منصوبے کا افتتاح کریں گے۔کروٹ پاور خصوصی مقصد والی گاڑی ہے جسے چائنا تھری گورجز (سی ٹی جی)کی ذیلی کمپنی ساؤتھ ایشیا انویسٹمنٹ لمیٹڈ کے ذریعے مکمل کرنے کیلیے شامل کیا گیا ہے۔

    کروٹ پاور کیلئے 10 سینٹ فی یونٹ ٹیرف کا تعین کیا گیاہے اورآج سے قیمت وصول کرنا شروع کردے گا۔

    گزشتہ ماہ بیجنگ میں پریس بریفنگ سےخطاب کرتےہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مکمل ہونے والا کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تقریباً 50 لاکھ مقامی آبادی کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرے گا پاکستان کے توانائی کے ڈھانچے کو بہتر بنائے گا اور پائیدار ترقی کو فروغ دے گا۔

    واضح رہے کہ دریائے جہلم پر کروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ بھی چین اور پاکستان کے درمیان توانائی کے تعاون کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔چینی وزیر خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بار جب تمام یونٹس نصب ہو جائیں گے اور فعال ہو جائیں گے تو یہ منصوبہ مستحکم اور سستی 720 میگاواٹ توانائی کی پیداوار کا آغاز کر دے گا۔

    پشاور:ایس ایچ او کانسٹیبل بیٹے کیساتھ منشیات امگل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

    قبل ازیں کروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کے دورے کے موقع پر تقریب سے خطاب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا، معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں گزشتہ حکومت کےد ور میں منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا، کوشش ہے کہ منصوبے کی جلد تکمیل سے عوام کو سستی بجلی فراہم کی جائے-

    واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے مضافات میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کیا گیا ہے جو ملک کا پہلا زیر زمین بجلی کا پراجیکٹ ہے ۔منصوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 969میگاواٹ ہے۔ اس کے چار پیداواری یونٹ ہیں ، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت242.25میگاواٹ ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ انجینئرنگ کاایک زبردست شاہکار ہے۔ اس کا 90فیصد حصہ بلند و بالا پہاڑوں کے نیچے زیر زمین تعمیر کیا گیا ہے اور ایک دریا کو دوسرے دریا کے نیچے سے گزارا گیا ہے۔ منصوبہ ہر سال نیشنل گرڈ کو تقریباً پانچ ارب یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرے گا ۔ اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 100 ارب روپے کی آمدنی ہوگی۔آزاد کشمیر میں دریائے نیلم پر تعمیر کئے گئے اِس منصوبے کے اہم حصوں میں نوسیری کے مقام پر تعمیر کیا گیا ڈیم، 52 کلو میٹر طویل سرنگوں پر مشتمل زیر زمین واٹر وے سسٹم اور چھتر کلاس کے مقام پر زیر زمین تعمیر کیا گیا پاور ہاؤس شامل ہیں ۔ پاور ہاؤس میں چار پیداواری یونٹ نصب کئے گئے ہیں۔

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال

  • چین اور پاکستان ہر قسم کے حالات کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں،ترجمان چینی وزارت خارجہ

    چین اور پاکستان ہر قسم کے حالات کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں،ترجمان چینی وزارت خارجہ

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان ہر قسم کے حالات کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں، پاکستان “فرینڈز آف دی گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو” گروپ کا ایک اہم رکن ہے، چین عالمی ترقی کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقی اور علاقائی تعاون کے ایجنڈے پر عمل درآمد کو فروغ دینے میں پاکستان کے اہم کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان خیالات کا اظہار پریس کانفرنس میں کیا جس میں چین کی میزبانی میں برکس سربراہی اجلاس میں پاکستان کی عدم شرکت پر ذرائع ابلاغ کے ایک حصے کی طرف سے سوال اٹھایا گیا تھا۔

    ژاؤ لی جیان نے کہا کہ برکس ممالک نے مشاورت کی بنیاد پر عالمی ترقی پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکرات کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے ترقیاتی امور پر آپس میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے جس سے دونوں ممالک اور خطے کے عوام کو ٹھوس فوائد حاصل ہوئے ہیں ۔

    ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ کی طرح عالمی ترقیاتی اقدام کو نافذ کرنے میں پاکستان کو ایک ترجیحی شراکت دار کے طور پر دیکھے گا اور وہ عالمی ترقی کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔

  • یو این انسانی حقوق کونسل کو ہانگ کانگ کی صورتحال سے آگاہ کردیا گیا

    یو این انسانی حقوق کونسل کو ہانگ کانگ کی صورتحال سے آگاہ کردیا گیا

    چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے نمائندوں وو زوئی لونگ اور لیو جونگ ہنگ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس میں تقریر کرکے ہانگ کانگ کی صورتحال کو متعارف کرایا۔اتوار کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ ہانگ کانگ میں مذہبی شخصیات کے نمائندے پاسٹر وو زوئی لونگ نے کہا کہ گزشتہ 25 سالوں میں “ایک ملک، دو نظام” کی پالیسی نے ہانگ کانگ کے مذہبی اور علمی شعبوں میں آزادی اظہار کی ضمانت دی ہے۔

     

     

    ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ کے بعد، مذکورہ بالا آزادیوں کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔ ہانگ کانگ حکومت کی حمایت کی بدولت، ہانگ کانگ کا چرچ بڑے پیمانے پر مذہبی سرگرمیاں منعقد کرنے اور مشن اسکول کھولنے کے قابل ہے۔ ہانگ کانگ کی مذہبی شخصیات ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔ہانگ کانگ کے نوجوانوں کے نمائندے لیو جونگ ہنگ نے کہا کہ ہانگ کانگ مادر وطن واپسی کی 25ویں سالگرہ منانے والا ہے۔

    ہانگ کانگ کا قومی سلامتی کا قانون اور نیا انتخابی نظام ہانگ کانگ کے لوگوں اور کاروباری اداروں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، جس سے ہانگ کانگ افراتفری سے گورننس کی طرف بڑھ سکتا ہے اور خوشحالی اور اچھی حکمرانی کے حصول کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ہواہے۔ مرکزی حکومت کی حمایت اور مدد سے ہانگ کانگ اور اس کے عوام اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ دنیا میں جمہوریت کا کوئی ایک بھی ماڈل نہیں ہے۔ دنیا کی قدیم ترین جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے والے امریکہ نے 40 سال کی بدترین ملکی مہنگائی، بلند قیمتوں اور سکولوں میں بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنانے کے واقعات سے لاپرواہ ہو کر تجارتی جنگیں شروع کر دی ہیں اور بین الاقوامی معیارات کو پامال کیا ہے۔ یہ وہ جمہوریت نہیں ہے جو سب چاہتے ہیں۔

  • افغانستان میں‌زلزلے سے تباہی پررنجیدہ ہیں:بھرپورتعاون جاری رکھیں گے:چین کا افغان طالبان کوپیغام

    افغانستان میں‌زلزلے سے تباہی پررنجیدہ ہیں:بھرپورتعاون جاری رکھیں گے:چین کا افغان طالبان کوپیغام

    نیویارک:چین ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان عبوری حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کو افغانستان میں زلزلے کی تباہی پر ہمدردی کا پیغام بھیجا ہے۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ ای نے کہا کہ میں جنوب مشرقی افغانستان میں زلزلے کی تباہی کے بارے میں جان کر بہت پریشان ہوا ہوں، جس میں بھاری جانی نقصان ہوا۔ میں ہلاک ہونے والے کے لئے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور متاثرین اور زخمیوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ افغان عوام اس تباہی پر قابو پانے اور جلد از جلد معمول کی پیداوار اور زندگی کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایک دوست پڑوسی کے طور پر، چین افغانستان کی ضروریات کے مطابق ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنے کو تیار ہے۔

    چینی وزیر خا رجہ نے کہا ہے کہ صدر شی کی تقریر نے ترقی پذیر ممالک کی امن و آشتی سے محبت کرنے اور تسلط اور طاقت کی مخالفت کرنے کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا ہے، چین انصاف اور امن برقرار رکھنے اور عالمی سلامتی کی برادری کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے تمام امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق 23 سے 24 جون 2022 تک صدر شی جن پھنگ نے برکس رہنماؤں کے 14 ویں اجلاس اور عالمی ترقی کے اعلیٰ سطحی مکالمے کی صدارت کی اور اہم تقریر کی۔اس سے پہلے 22 جون کو صدر شی جن پھنگ نے برکس بزنس فورم کی افتتاحی تقریب میں کلیدی تقریر بھی کی۔ اجلاس کے اختتام پر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے چین کی جانب سے اجلاس کی میزبانی کی صورتحال کا تعارف کرایا اور صدر شی کی طرف سے پیش کیے گئے اہم خیالات اور تجاویز اور ان کے دور رس اثرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کی

    وانگ ای نے کہا کہ تمام بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے تناظر میں صدر شی جن پھنگ نے برکس اجلاس کی قیادت کرتے ہوئے اجلاس کی کامیابی کو یقین بنایا اور عالمی امن اور ترقی میں چین کی نئی شراکت ڈالی ۔اس بارے میں وانگ ای نے کہا کہ صدر شی کی تقریر نے ترقی پذیر ممالک کی امن و آشتی سے محبت کرنے اور تسلط اور طاقت کی مخالفت کرنے کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا ہے اور انصاف، امن اور وقت کی آواز کو بلند کیا ہے۔ صدر شی کے پیش کردہ عالمی سلامتی کے اقدام کی تجویز بروقت ہے، اہم عملی اہمیت اور دور رس اثرات کی حامل ہے،یہ نہ صرف عالمی امن کے مقصد کی مضبوطی سے حمایت کرتی ہے بلکہ موجودہ افراتفری اور تبدیلیوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کی سمت بھی ظاہر کی گئی ہے۔ چین انصاف اور امن برقرار رکھنے اور عالمی سلامتی کی برادری کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے تمام امن پسند ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دوسرا صدر شی نے ترقی کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ، عالمی ترقیاتی تعاون کے لیے آواز بلند کی اور ترقیاتی مسائل کے حل کے لیے چینی حل اور چینی دانشمندی پیش کی۔اس سلسلے میں صدر شی نے عالمی ترقی کے اقدامات کو نافذ کرنے کے لیے چین کی طرف سے اہم اقدامات کا بھی اعلان کیا۔

    تیسرا،صدر شی نے جیت جیت کے تعاون کو فروغ دیے اور عالمی گورننس سسٹم کی بہتری کے لیے چینی فارمولا پیش کیا ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صرف اتحاد، یکجہتی اور تعاون پر قائم رہنے سے ہی ہم اقتصادی بحران پر قابو پا سکتے ہیں۔ صدر شی جن پھنگ کی تقریر ترقی پذیر ممالک کی بڑی تعداد کی امنگوں کا اظہار کرتی ہے، عالمی حکمرانی کی اصلاح کی سمت کو واضح کرتی ہے اور عالمی معیشت کی بحالی کے لیے طاقت جمع کرتی ہے۔اس کے علاوہ صدر شی کی قیادت میں چین برکس تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے مزید کارنامے انجام دےگا۔ صدر شی کی قیادت میں برکس کا “چینی سال” نتیجہ خیز رہا ہے اور برکس نے بین الاقوامی انصاف کے دفاع کے لیے مضبوط آواز اٹھائی ہے،وبا کے خلاف برکس کے دفاع کو مضبوط کیا، کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے برکس کا کردار ادا کیا ، بدعنوانی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے برکس کے مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا ، برکس مربوط مارکیٹ کی تعمیر کی بنیاد رکھی ، عالمی خوراک کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے لیے برکس خدمت فراہم کی، اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں برکس تعاون کو مزید مضبوط کیاہے۔

    چین کے نمائندے نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی یکجہتی کے حوالے سے آزاد ماہرین کے ساتھ بات چیت کے دوران امریکہ سمیت مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ جبری اقدامات کو فوری طور پر منسوخ کر دیں، دوسرے ممالک میں لوگوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کریں۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطابق چین کے نمائندے نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں کثیر القومی کارپوریشنوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماحولیاتی نقصانات پر توجہ دی جانی چاہیے اور ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے نوآبادیاتی ایجنڈے مسلسل فروغ دینے پر توجہ دی جانی چاہیئے ۔

    چین آزاد ماہرین کے اس مطالبے کی حمایت کرتا ہے کہ مختلف ممالک کو یکطرفہ جبر کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے ۔ چین کے نمائندے نے کہا کہ یکطرفہ جبر کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔امریکہ سمیت کچھ مغربی ممالک نے ترقی پذیر ممالک کے خلاف یکطرفہ جبر کے اقدامات نافذ کیے ہیں، جس سےان ممالک کی اقتصادی اور سماجی ترقی اور انسداد وباکی کوششوں میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور متاثرہ ممالک کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کو بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس میں تارکین وطن کے حقوق پر خصوصی نمائندے کے ساتھ بات چیت کے دوران چینی نمائندے نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں تارکین وطن کے انسانی حقوق کے حوالے سے مسائل کی نشاندہی کی۔ہفتہ کے روز چینی میڈ یا کے مطابق چین کے نمائندے نے بتایا کہ مارچ 2020 سے لے کر اب تک امریکہ نے کووڈ-19 سے پیدا ہونے والی ہنگامی صحت عامہ کی صورت حال کی وجہ سے 1.6 ملین سے زائد تارکین وطن کو ملک بدر کیا ،

    چین نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے تارکین وطن کو خراب حالات میں امیگریشن حراستی مراکز میں بھی رکھا ہے، جہاں تارکین وطن کو تشدد اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ اب بھی والدین اور بچوں کی علیحدگی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے مطابق تارکین وطن کے بچوں کو زبردستی ان کے والدین سے الگ کر دیاجا تا ہے۔اس کے نتیجے میں بہت سے بچے بالاآخر اپنے والدین اور خاندانوں سے الگ ہو جاتے ہیں ۔

    چین کو اس بات پر بھی شدید تشویش ہے کہ نیدر