Baaghi TV

Tag: چین

  • مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور  سپریم لیڈر انتخاب ایران کا داخلی معاملہ ہے، چین

    مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور سپریم لیڈر انتخاب ایران کا داخلی معاملہ ہے، چین

    چین کی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک داخلی معاملہ ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ ایران کی طرف سے اس کے آئین کے تحت کیا گیا فیصلہ ہے،یہ صرف ایک داخلی معاملہ ہے۔

    گزشتہ روز چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی کہا کہ ایران کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بیرونی کوشش سے اس کے حکومتی نظام میں تبدیلی کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی، وانگ یی نے واضح کیا کلر انقلاب کی سازش یا حکومت میں تبدیلی کی کوشش کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا اور اس کا مقصد خطے میں استحکام اور امن کی حمایت کرنا ہے۔

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    واضح رہے کہ ‎ایران میں مجلس خبرگان رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے مجتبیٰ خامنہ ای شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں اور انہیں قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے مجلس خبرگان رہبری نے اجلاس کے بعد ان کے انتخاب کا اعلان کیا اور ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات میں اتحاد اور نظم و ضبط برقرار رکھیں، مجلس خبرگان رہبری نے عوام سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا اظہار کریں اور ملک کی استحکام کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

    ایران کو یقینا فتح ہوگی، روسی فوجی ماہر کی پیشگوئی

  • ایران کیخلاف امریکا واسرائیل  جنگ:چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    ایران کیخلاف امریکا واسرائیل جنگ:چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    چین کے حکومتِی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ ژائی جون ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں سعودی عرب پہنچ گئے ہیں-

    ژائی جون نے خود کو سعودی عرب کا اچھا دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی سے ملاقاتیں کیں، کہا کہ بیجنگ خلیجی خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے ریاض کے ساتھ مل کر مسلسل کوششیں کرنے کے لیے تیار ہے۔

    پیر کو شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے دوران چینی ایلچی نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، بے گناہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر کسی بھی حملے کی مذمت کی جانی چاہیے،انہوں نے ایک بار پھر بیجنگ کی جانب سے مطالبے کو دہرایا کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور امن کی راہ ہموار ہو۔

    بنگلہ دیش ایئر فورس کا تربیتی طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

    فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کل ہو گی

    مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور ایرانی سپریم لیڈر نامزدگی پر ٹرمپ کا براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز

  • ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، چینی نوسترادامس کی پیشگوئی

    ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، چینی نوسترادامس کی پیشگوئی

    چینی نوسترادامس نے پیشگوئی کی ہے کہ ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کے پروفیسر ژوچن جیانگ، جنہیں ‘چین کا نوسترادامس‘ کہا جاتا ہے نے 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت اور ایران کے خلاف جنگ کی درست پیشگوئی کی تھی ٹرمپ نے ایران پر حملہ اس لیے کیا کہ ملک کی نیوکلیئر صلاحیتیں ختم ہوں اور جمہوریت لائی جا سکے، لیکن ایران نے پروکسی گروپس کے ذریعے سخت جوابی کارروائیاں کیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اب پروفیسر ژوچن جیانگ نے پیشگوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں امریکا کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنی قومی عزت، وقار اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ڈٹا ہوا ہے اور کسی بھی دباؤ کے تحت سرنڈر نہیں کرے گا۔

    ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت اپنی قوم اور اپنے وقار کا دفاع کر رہا ہے اور ملک کی عزت و وقار فروخت کے لیے نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس بھی ایران سے غیر مشروط سرنڈر کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے اس وقت بھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ملک نے ماضی میں بھی اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا جب تک مکمل جنگ بندی کا واضح عہد نہیں کیا جاتا، ایران اپنی مزاحمت جاری رکھے گا اور لڑائی جاری رہے گی، ایران اپنے قومی مفادات اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی صورت میں سرنڈر نہیں کرے گا۔

  • چین کا ثالثی کیلئے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان

    چین کا ثالثی کیلئے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان

    چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہےکہ چین ثالثی کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجے گا۔

    چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی،اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے تحمل اور اختلافات پُرامن طریقوں سے حل کرنے کے مؤقف کو سراہتے ہیں۔

    چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی توانائی اور غیر عسکری اہداف پر حملے کرنے چاہئیں،انہوں نے اعلان کیاکہ چین ثالثی کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجے گا،چینی وزیر خارجہ نے جہاز رانی کے لیے بحری راستے محفوظ ہونے پر بھی زور دیا ۔

    افغانستان کی جارحیت کیخلاف بلوچستان کی عوام کا پاک فوج سے بھرپور اظہار یکجہتی

    ایران میں خانہ جنگی کا منصوبہ،امریکا کا عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ

    آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل نہیں جانے دیں گے: ایرانی پاسداران انقلاب

  • ترکیہ اور چین کا  ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار

    ترکیہ اور چین کا ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار

    ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ جنگ میں اپنی فضائی، زمینی یاسمندری حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ترکیہ نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کر دی،ترک وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ حالات عالمی استحکام کے لیے خطرہ ہیں، جنگ میں اپنی فضائی، زمینی یاسمندری حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جنگی صورتحال سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، تنازعات کا حل طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، جبکہ ترکیہ اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

    دوسری جانب چین نے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقین سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہےچینی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ ایران کی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی قسم کی جارحیت خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر دی

    چین نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی کوشش کریں سفارتی حل ہی موجودہ بحران کا سب سے مؤثر اور پائیدار راستہ ہے اور بین الاقوامی برادری کو خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

    عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے تناظر میں چین نے باہمی احترام، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور فوری سفارتی رابطوں پر زور دیا تاکہ ایران–امریکا–اسرائیل کشیدگی سے پیدا ہونے والے انسانی اور اقتصادی نقصان کو روکا جا سکے۔

    پاکستان ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی مذمت کرتا ہے، دفترخارجہ

  • ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب

    ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب

    ایران چین کےساتھ اینٹی شپ کروز میزائل خریدنے کے معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے-

    امریکا ممکنہ حملوں سے قبل ایرانی ساحل کے قریب بڑی بحری قوت تعینات کر رہا ہےچین ساختہ سی ایم 302 میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ تکمیل کے قریب ہے، تاہم ترسیل کی تاریخ طے نہیں ہوئی، یہ سپرسونک میزائل تقریباً 290 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نچلی پرواز اور تیز رفتار کے ذریعے جہازوں کے دفاعی نظام سے بچنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران یہ میزائل حاصل کر لیتا ہے تو اس سے اس کی دفاعی اور حملہ کرنے کی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا جو خطے میں موجود امریکی بحری افواج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے اس معاہدے کے لیے مذاکرات گزشتہ دو سالوں سے جاری تھے لیکن جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے بعد ان میں تیزی آگئی گزشتہ موسم گرما میں ایران کے نائب وزیر دفاع مسعود اورائی نے خود چین کا دورہ کیا تاکہ اس سودے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    بھارتی شہری نے اپنی اہلیہ کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان میزائلوں کی موجودگی جنگ کی صورتحال کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے کیونکہ انہیں روکنا انتہائی مشکل کام ہے۔

    دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے اس قسم کے کسی بھی معاہدے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی وائٹ ہاؤس نے اس پر براہ راست تبصرہ کرنے کے بجائے یہ کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا موقف واضح ہے کہ یا تو ایران کے ساتھ نیا معاہدہ ہوگا یا پھر سخت کارروائی کی جائے گی امریکا اس وقت ایر ان کے قریب اپنے دو بڑے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ روانہ کر چکا ہے، جن پر 5 ہزار سے زائد اہلکار اور 150 کے قریب جنگی طیارے موجود ہیں۔

    میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    اس صورتحال میں چین اور ایران کے بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات امریکا کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں جو ایران کے میزائل پروگرام اور ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران پر ماضی میں اقوام متحدہ کی جانب سے اسلحے کی پابندی عائد تھی جو مختلف ادوار میں معطل اور پھر بحال ہوتی رہی ہےحالیہ کشیدگی کے دوران صدر شی جن پنگ نے بھی ایرانی صدر کی حمایت کا یقین دلایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایر ا ن کے ساتھ کھڑا ہے،ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیے گئے سیکیورٹی معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔

    سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

  • چین کا مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکا، امریکا کی مزید تفصیلات جاری ،چین کا سخت ردعمل

    چین کا مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکا، امریکا کی مزید تفصیلات جاری ،چین کا سخت ردعمل

    چین کا مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکا، امریکا نے مزید تفصیلات جاری کردیں-

    عالمی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کرسٹوفر یو نے انکشاف کیا ہے کہ چین نے جون 2020 میں اپنی ایٹمی تجربہ گاہ لوپ نور میں ایک خفیہ زیر زمین ایٹمی دھماکا کیا تھا ان کا دعویٰ ہے کہ قازقستان میں نصب زلزلے کی پیمائش کرنے والے آلات نے اس دھماکے کو ریکارڈ کیا تھا جس کی شدت 2.75 تھی۔

    ایٹمی انجینئرنگ میں مہارت رکھنے والے کرسٹوفر یو نے واشنگٹن میں ہونے والی ایک حالیہ تقریب کے دوران بتایا کہ ڈیٹا کو دیکھنے کے بعد اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ یہ کوئی معمولی دھماکا یا زلزلہ ہو، بلکہ یہ زلزلہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ ایک ایٹمی تجربے کے نتیجے میں ہوتا ہے چین نے اس دھماکے کو چھپانے کے لیے اسے ایک بڑے زیر زمین کمرے میں سرانجام دیا تاکہ زمین میں پیدا ہونے والی لہروں کی شدت کو کم کیا جا سکے اور دنیا کو پتہ نہ چل سکے۔

    دوسری جانب دنیا بھر میں ایٹمی دھماکوں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’سی ٹی بی ٹی او‘ نے اس معاملے پر محتاط موقف اختیار کیا ہے ادار ے کے سربراہ رابرٹ فلائیڈ کا کہنا ہے کہ ان کے سسٹم نے اس دن دو چھوٹے جھٹکے محسوس کیے تھے لیکن وہ اتنے معمولی تھے کہ صرف ان کی بنیا د پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایٹمی دھماکا ہی تھا ان کی مشینیں ایک خاص حد سے بڑے دھماکے کی ہی تصدیق کر سکتی ہیں اور یہ واقعہ اس حد سے بہت نیچے تھا اس لیے فی الحال سائنسی بنیادوں پر امریکی دعوے کی مکمل تصدیق کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

    چین نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور اسے امریکا کی سیاسی چال قرار دیا ہے۔

    واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں اور امریکا محض اپنے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے تراش رہا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہے اور امریکا خود اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھا رہا ہے۔

    چین نے آخری بار باضابطہ طور پر 1996 میں ایٹمی تجربہ کیا تھا اور وہ تب سے ایٹمی تجربات پر پابندی کے عالمی معاہدے پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس ساری صورتحال کے پیچھے ایک بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے والا وہ معاہدہ ہے جو حال ہی میں ختم ہوا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین بھی امریکا اور روس کے ساتھ مل کر ایک نئے ایٹمی معاہدے کا حصہ بنے، لیکن چین اس سے انکار کر رہا ہے چین کا کہنا ہے کہ اس کے پاس امریکا اور روس کے مقابلے میں بہت کم ایٹمی ہتھیار ہیں، اس لیے اسے اس معاہدے میں شامل کرنا درست نہیں۔

    دوسری طرف امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ چین تیزی سے اپنے ایٹمی ہتھیار بڑھا رہا ہے اور 2030 تک اس کے پاس ایک ہزار سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈز ہو سکتے ہیں۔

  • صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

    صدر ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو، وائٹ ہاؤس مدعو کر لیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کریں گے۔

    ٹرمپ نے یہ بات این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو بدھ کے روز ریکارڈ کیا گیا اسی دن ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان تجارت، تائیوان، یوکرین جنگ اور ایران کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی،جبکہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں جب دنیا کی 2 بڑی معیشتیں تجارتی جنگ سے متاثرہ تعلقات کو ازسرِنو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے، جس کے بعد صدر شی جن پنگ امریکا کا دورہ کریں گے۔

    انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ چینی صدر سال کے آخر میں وائٹ ہاؤس آئیں گے م دنیا کے 2 طاقتور ترین ممالک ہیں اور ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیںصدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو کو ’بہترین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ تعلقات کو اسی طرح برقرار رکھا جائے۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابقشی جن پنگ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ تجارت سمیت دوطرفہ مسائل بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان خوش اسلوبی سے حل ہو سکتے ہیں شی جن پنگ نے کہا کہ مسائل کو ایک ایک کر کے حل کرتے ہوئے اور باہمی اعتماد کو مضبوط بناتے ہوئے، ہم دونوں ممالک کے درمیان درست طرزِ تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ نے مختلف شعبوں پرٹیرف عائد کیے، جن میں اسٹیل، گاڑیاں اور دیگر اشیا شامل ہیں، جبکہ وسیع تر معاشی اقدامات بھی کیے گئے اگرچہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی معاملات پر کشیدگی رہی، تاہم گزشتہ موسم بہارمیں بڑے تصادم کے بعد دونوں ممالک ایک وسیع تر مفاہمت پر پہنچے۔

    امریکا کی جانب سے چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، دونوں ممالک کی معیشتیں اب بھی گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں آخری بار 2023 میں امریکا کا دورہ کرنیوالے چینی صدر شی جن پنگ نے بدھ کے روز ٹرمپ کو خودمختار تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر ’احتیاط‘ برتنے کا مشورہ دیا، جسے چین اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔

    ادھر جمعے کے روز امریکا نے روس اور چین کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے جوہری ہتھیاروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی، تاہم بیجنگ نے فی الحال ان مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

  • امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا  سخت ردعمل

    امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا سخت ردعمل

    امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جون 2020 میں خفیہ طور پر ایٹمی تجربہ کیا، جو لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان جھڑپوں کے چند دن بعد کیا گیا، جس پر چین نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ فار آرمز کنٹرول تھامس ڈی نانو نے سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کو علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکوں پر مشتمل تجربات کیے، جن میں سینکڑوں ٹن طاقت کے تجربات کی تیاری بھی شامل تھی۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایٹمی تجربات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ایٹمی تجربات پر پابندی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی ہے اس مقصد کے لیے ’ڈیکپلنگ‘ نامی طریقہ استعمال کیا تاکہ دھماکوں کی لہروں کو محسوس نہ کیا جا سکےچین نے ایسا ہی ایک جوہری تجربہ 22 جون 2020 کو بھی کیا تھا۔

    امریکی عہدیدار نے کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے کے خاتمے کے بعد موجودہ جوہری کنٹرول نظام اب مؤثر نہیں رہا ان کے مطابق 2026 میں ایک جوہری طاقت اپنی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری طاقت ایسے جوہری نظام تیار کر رہی ہے جو کسی معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

    واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا، جو فروری 2026 کے اوائل میں ختم ہو گیا اس معاہدے کے خاتمے کو عالمی جوہری اسلحہ کنٹرول کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اس سے قبل روس 2023 میں جامع جوہری تجرباتی پابندی معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کی توثیق بھی واپس لے چکا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق چین کے سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ شین جیان نے امریکی الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ جوہری امور میں ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اختیار کیا ہے امریکا نام نہاد ’چینی جوہری خطرے‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافے کا اصل ذمہ دار امریکا خود ہے۔

    شین جیان نے کہا کہ چین اس مرحلے پر امریکا اور روس کے ساتھ نئے جوہری مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا چین کا مؤقف ہے کہ اس کے جوہری وارہیڈز کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں کہیں کم ہے چین کے پاس تقریباً 600 جبکہ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس تقریباً چار، چار ہزار جوہری وارہیڈز موجود ہیں امریکا کو سرد جنگ کی سوچ ترک کر کے مشترکہ اور تعاون پر مبنی سلامتی کے تصور کو اپنانا چاہیے۔

  • تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر  کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا نے ممکنہ طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ تائیوان کو بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں اہم دفاعی نظام شامل ہیں۔

    چین نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فروخت بیجنگ،واشنگٹن تعلقات میں سنجیدہ رکاوٹ بن سکتی ہے، خاص طور پر صدر ٹرمپ کے اپریل میں بیجنگ جانے والے دورے کے تناظر میں،تائیوان کے حوالے سے امریکا کو “احتیاط سے کام لینے” کی ضرورت ہے ورنہ دوطرفہ تعلقات میں مشکلات پیدا ہوں گی۔

    صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کو فون پر خبردار کیا ہے کہ اسلحے کی فروخت جیسے اقدامات تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں،چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی اسلحے کی فروخت کو اس کی خودمختاری پر برا اثر اور امن کیلئے خطرہ تصور کرتا ہے۔