Baaghi TV

Tag: چین

  • کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری

    کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری

    بیجنگ : کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری،اطلاعات کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کا آغاز رنگارنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا، جس میں کئی ممالک کے سربراہ شریک ہوئے۔

    سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ کے علاوہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، ازبکستان کے صدر اور دیگر ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔

    کوویڈ-19 کے خطرات کے باوجود سخت قواعد کے ساتھ سرمائی اولمپکس کا آغاز ہوا، اس کے علاوہ امریکا سمیت متعدد ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔

    سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے جن ممالک نے افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے سرکاری نمائندے نہیں بھیجے ان میں امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سرفہرست ہیں۔

    افتتاحی تقریب کا آغاز چین کے صدر شی جن پنگ اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چیئرمین تھامس بیچ کے برڈز نیسٹ اسٹیڈیم میں داخل ہوتے ہی ہوا جہاں گیمز میں شریک 91 ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔

    بیجنگ سرمائی اولمپکس کے ڈائریکٹر ژینگ یمو ہیں جنہوں نے بیجنگ سمر گیمز 2008 کے انتظامات بھی کیے تھے۔

    افتتاحی تقریب میں 3 ہزار فنکاروں نے سرمائی اولمپکس میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جو بیجنگ اور قریبی صوبے ہیبے کے عام فنکار تھے اور اس کا عنوان ‘اسٹوری آف سنوفلیک’ تھا۔

  • وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے

    وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے

    بیجنگ:وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران چینی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے طے پا گئے۔اور یہ سارے معاہدے پہلی ملاقات میں طئے پاگئے ابھی دو دن باقی ہیں‌، امید ہے کہ اور بھی معاہدے کرنے میں کامیاب ہوں گے

    گوادر میں سٹیل ری سائیکلنگ کے لیے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا، زرعی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے کے لیے چائنا مشنری انجینئرنگ کارپوریشن ایک سنٹر قائم کرے گی۔ سی ایم ای سی نے کراچی میں 2 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی اسٹوریج میں بھی دلچسپی دکھائی۔

    50 ملین ڈالر زرعی ٹیکنالوجی اور 500 ملین ڈالرز ایل این جی سٹوریج پر سرمایہ کاری ہو گی۔ چین کی ایک اور کمپنی نے فوجی فرٹیلائزر کے ساتھ متعدد ایم او یوز پر دستخط کردیے۔ رائل گروپ بفلو فارم کے قیام کے لیے 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رائل گروپ دودھ کی پراسسنگ میں بھی 30 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ چیلنج فیشن نے 250 ملین ڈالر کی لاگت سے فری اکنامک زون کے لیے مزید 100 ایکڑ زمین خرید لی۔ اس سرمایہ کاری سے برآمدات میں سالانہ 400 ملین اضافہ ہوگا اور 20 ہزار نوکریاں پیدا ہونگی۔

    سی آر بی سی کراچی پورٹ ٹرسٹ کی شراکت سے ساڑھے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ دونوں گروپوں کے اشتراک سے کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ زون قائم کیا جائے گا۔ نیو سوفٹ میڈیکل سسٹم میڈیکل کے میدان میں مصنوعی ذہانت پر 30 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔ نیو سوفٹ مزید 170 ملین ڈالر کی لاگت سے مختلف منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ہنان سن واک کنسٹرکشن گروپ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے 1 لاکھ کلومیٹر لمبی فائبر آپٹکس کیبل بچھائے گا، گلوبل سیمی کنڈکٹر گروپ 40 ملین ڈالر کی لاگت سے سکلز ڈویلپمنٹ سنٹر قائم کرے گا، اس سرمایہ کاری سے ایک لاکھ سے زائد نوکری کے مواقع میسر آئیں گے۔

  • بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

    بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

    بیجنگ: بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے: وزیراعظم عمران خان کی چین میں پالیسی سازوں سے گفتگو ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے چینی معروف تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان اور نمائندوں سے ملاقات کی، اور پاک چین تعلقات کی اہمیت اور علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کی غیر متزلزل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    ملاقات میں علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں پاک چین تعلقات کی اہمیت پر بھی بات چیت کی گئی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کے جارحانہ رویے اور ہندوتوا نظریہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے، مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے مسلسل مظالم جاری ہیں، دنیا کو کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جاری ظلم پر توجہ دینی چاہیے۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو خطے کی ترقی کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رابطے پر مرکوز تھا، اگلے مرحلے میں صنعت کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون اور زرعی تبدیلی پر توجہ دی جائے گی، پاکستان سرمایہ کاری کے لیے زبردست مراعاتی پیشکش فراہم کر رہا ہے، بے شمار عالمی چیلنجوں کے پیش نظر دنیا ایک اور سرد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاکستان کا نظریہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں تصادم کے بجائے تعاون ہونا چاہیے، پاکستان نے ماضی میں بھی پل کا کردار ادا کیا تھا اور دوبارہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    قومی سلامتی کی پالیسی کا بھی ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میری حکومت نے اقتصادی سلامتی کو بنیادی اہمیت دی ہے، یہ وژن روابط اور ترقیاتی شراکت داری پر مبنی ہے جس کے لیے پاک چین شراکت داری ناگزیر ہے۔

    امن، ترقی کے لیے پاکستان اور چین کی افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں تعاون پاکستان اور چین کے باہمی مفاد میں ہے، عالمی برادری افغانیوں کو اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑے۔

  • بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    لاہور:بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف، بھارت نے اپنی پالیسی کو مفاد پرستی کا محور بنا لیا ہے اور ملکوں کو کرنا بھی ایسے ہی چاہیے لیکن بھارت نے جو خارجہ پالیسی اب اپنائی ہےوہ بھارت مخالف ملکوں کے لیے ایک مثال ہے ،

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران بڑھ رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک، یہ زیادہ تر عمل میں غائب تھا۔ لیکن منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں اس بارے میں ووٹنگ ہوئی کہ آیا اس بحران پر بات کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا جائے، نئی دہلی کا جھکاؤ ماسکو کی طرف دیکھا گیا۔

    جب کہ روس اور چین نے متوقع طور پر کوئی ووٹ نہیں ڈالا، ہندوستان (کینیا اور گیبون کے ساتھ) نے پرہیز کرتے ہوئے اجلاس کے لیے امریکی قیادت کے دباؤ کی حمایت نہیں کی۔ چونکہ اجلاس کی منظوری کے لیے 15 رکنی کونسل میں نو مثبت ووٹوں کی ضرورت تھی، لہٰذا ہندوستان کی عدم شرکت کا واضح مطلب روس کے ساتھ کھڑا ہونا تھا ، بھارت نے امریکی خواہش پر پانی پھیر دیا ۔

    یہ ایک فیصلہ ہے جس نے امریکہ جہاں اوقات بتادی ہے وہاں امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنے کے لیے کچھ اشارے بھی دیئے ہیں

    ویسے بھی ابھی ہندوستان نے یو این ایس سی میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر ابھی دو سال کا سفر شروع کیا ہے ، جہاں اس سے بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی تھی کہ وہ امریکی قیادت والے اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور چین کا مقابلہ کرے گا۔ لیکن معاملات بالکل مختلف نکلے ہیں۔ تازہ ترین یو این ایس سی ووٹنگ ایک دوسرے کی ایڑیوں پر، موسمیاتی تحفظ پر، جس میں ہندوستان نے کھل کر روس کے ساتھ اور امریکہ کے خلاف ووٹ دیا۔ اس بحث کے دوران، نئی دہلی، ماسکو، اور بیجنگ نے حکمت عملی پر قریبی تعاون کیا، جس میں ایک متبادل قرارداد پیش کرنا بھی شامل ہے جس نے امریکی زیرقیادت ایک کے بنیادی احاطے کو چیلنج کیا۔

    واشنگٹن میں اسٹیبلشمنٹ پر مبنی تجزیہ کاروں نے امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ واشنگٹن کا سخت حریف ماسکو نئی دہلی کا پرانا ساتھی اور دوست بھی ہے، جس کا دفاع اور توانائی کی تجارت اور سرمایہ کاری میں گہرا باہمی انحصار اور مشترکہ مفادات ہیں۔تازہ ہندوستانی فیصلے نے پرانے رشتوں کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے

    روس اور ہندوستان کے درمیان قربت میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورہ نئی دہلی کے دوران ان کا کھلے عام استقبال کیا گیا اور امریکی دباؤ کے باوجود اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ روسی رہنما کے دورے کو ترجیح دیتے ہوئے، بھارت نے اپنے متعلقہ وزرائے خارجہ اور دفاع کے درمیان امریکہ اور بھارت کے اہم مذاکرات کو بھی روک دیا۔

    روس کی طرف سے گرم جوشی جوشی کا مثبت جواب دیتے ہوئے ہندوستان بھی آگے بڑھا اور 2017 کے CAATSA قانون کے تحت امریکی حکام کی طرف سے پابندیوں کی پردہ پوشی کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جدید ترین S-400 فضائی دفاعی نظام کی روس سے ترسیل لی۔

    یہ بھی امریکہ کے لیے بڑی حیرانی کی بات ہےکہ بھارت یعنی ہدوستان کے لیے امریکہ ایک نرم گوشہ رکھتا ہے لیکن وہی بھارت دوسری طرف امریکی مخالف اتحاد کے ساتھ محبت کے رشتے بھی قائم کرتا ہے، جوبائیڈن انتظآمیہ بھی بہت بڑی مشکل میں جہاں بھارتی نژاد نائب صدر کملا ہارس کو بھی پریشانی کا سامنا ہے کہ بھارت امریکہ کی پیشکش سے کیوں دور ہوتا ہے

    بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صرف یوکرین کا بحران ہی امریکہ اور بھارت کے اتحاد کی نئی حدود متعین کرنا کا اشارہ ہے۔ جب واشنگٹن، کینبرا، اور لندن نے واضح طور پر فوجی معاہدے AUKUS کے قیام کا اعلان کیا، ہندوستان نے اس اقدام سے خود کو تیزی سے دور کر لیا۔ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے، جیسا کہ حال ہی میں اولمپکس پر ان کے جھگڑے سے ظاہر ہوتا ہے۔ دو طرفہ ترتیبات میں چین پر سخت تنقید کرتے ہوئے، نئی دہلی نے تاہم ساتھ ہی ساتھ کواڈ کے چین مخالف دباؤ کو بھی محدود کر دیا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ معاہدہ کسی چیز کے لیے ہے نہ کہ کسی کے خلاف ہے ، اس کا مطلب واضح ہے کہ بھارت کی نظرین چین پر نہیں بلکہ پاکستان کو خطرہ سمجھ رہا ہے

  • یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    بیجنگ :یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق چین اور روس نے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے، خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ساتھ نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کر دی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین اور روس کے صدور کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چین اور روس خارجہ پالیسی میں ایک دوسرےکی حمایت کریں گے کیونکہ کوئی بھی ملک دوسروں کی قیمت پر اپنی سلامتی کو بہتر نہیں کر سکتا، دونوں ممالک نے بیرونی مداخلت ناکام بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

    مشترکا اعلامیے میں چین اور روس کی جانب سے نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کی گئی ہے اور نیٹو سے سردجنگ کی سوچ سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    روس اور چین نے امریکا کے بائیولوجیکل وار فیئر پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معاملے پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین خلا میں ملٹرائزیشن روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس تصدیق کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے جبکہ چین نے روس کے مغربی ممالک سے سکیورٹی گارنٹی مطالبے کی حمایت کی ہے۔

    دوسری طرف امریکہ کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے جب چین نے امریکہ کی طرف سے یوکرین کے معاملے پر روس کوسمجھانے کی پیش کش کی مگر چین نے سمجھانے کی بجائے روس کی حمایت کا اعلان کردیا ، جس کی وجہ سے اب معاملات مزید پچیدہ نظرآتے ہیں‌

    بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ ان حالات میں امریکہ یوکرین کے معاملے پر پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہر صورت یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنا

  • سرمائی اولمپکس 2022 کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کی شرکت

    سرمائی اولمپکس 2022 کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کی شرکت

    سرمائی اولمپکس 2022 کی افتتاحی تقریب کا آغاز،وزیراعظم کی افتتاحی تقریب میں شرکت

    وزیر اعظم عمران خان نے نئے چینی سال کے آغاز پر چینی عوام کو مبارک باد دی ہے ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ شیر کا سال ہے جو میرا پسندید جانور ہے ،وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ چین اور دنیا کیلئے امن اور خوشحالی کی دعا کرتا ہوں 20سال کھیلتا رہا لیکن اب ٹی وی پر اسپورٹس دیکھنے کا وقت بھی نہیں ملتا،ونٹر اولمپکس کی افتتاحی تقریب دیکھنا بہت خوشی کا موقع ہے،

    بیجنگ، سرمائی اولمپکس 2022 کی افتتاحی تقریب کا آغاز،وزیراعظم عمران خان نے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے وفاقی وزرا، شاہ محمود قریشی ،فوادچودھری اور اسد عمر بھی شریک تھے، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ونٹر اولمپکس میں آمد میرے لئے ایک زبردست تعطیل جیسی ہے،بیجنگ میں واٹر اولمپکس دیکھنا میرے لئے خوشی کا باعث ہو گا،

    پاکستانی ایتھلیٹ محمد کریم بھی سرمائی اولمپکس کےمقابلوں میں شریک ہیں ،پاکستانی ایتھلیٹ محمد کریم الپائن سکی میں حصہ لیں گے محمد کریم تیسری مرتبہ ونٹر اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں ،محمد کریم کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے محمد کریم نے پہلی مرتبہ سوچی ونٹر اولمپکس میں 2014 میں شرکت کی محمد کریم 109 اتھلیٹس میں سے 71 ویں پوزیشن پر رہے

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ درجنوں ٹیمیں آئیں لیکن اسٹیڈیم میں کسی ٹیم کیلئے تالی بجی تو وہ پاکستان کی ٹیم تھی،عام چینی پاکستان سے محبت کرتا ہے اور یہ تالیاں اسی جذبے کا اظہار ہیں،وزیراعظم عمران خان نے نشست پر کھڑے ہو کر پاکستانی ٹیم کیلئے تالیاں بجائیں،

    تقریب میں چینی صدرسمیت مختلف ممالک کے سربراہان شریک ہیں ، چین پہلی بار ونٹر اولمپکس کی میزبانی کر رہا ہے ونٹر اولمپکس میں 91 ممالک شریک ہیں 2ہزار 871 اتھلیٹس مختلف مقابلوں میں حصہ لیں گے 15کھیلوں میں مختلف طرز کے 109 مقابلے ہوں گے ونٹراولمپکس کے مقابلے 4 فروری سے 20 فروری تک جاری رہیں گے بیجنگ کے علاوہ یانگ کنگ اور چونگ لی میں بھی مختلف مقابلے ہوں گے

    ونٹر اولمپکس میں ناروے سب سے آگے ہے ناروے نے 132 گولڈ، 125 سلور اور 111 برونز میڈل جیت رکھے ہیں امریکا نے 105 گولڈ، 112 سلور اور 88 برونز میڈل اپنے نام کر رکھے ہیں جرمنی نے 92 گولڈ ، 88 سلور اور 60 برونز میڈل اپنے نام کیے ہیں

    قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کی چین کے تھنک ٹینکس اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان سے ملاقات ہوئی ہے ،وزیراعظم عمران خان نے پاک چین تعلقات کی اہمیت اور علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے پر زوردیا،وزیر اعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کی غیر متزلزل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں پاک چین تعلقات کی اہمیت پر بھی بات چیت کی گئی وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو خطے کی ترقی کیلئے اہم قرار دیا

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رابطے پر مرکوز تھا، پاکستان سرمایہ کاری کے لیے زبردست مراعاتی پیشکش فراہم کر رہا ہے، بے شمار عالمی چیلنجوں کے پیش نظر دنیا ایک اور سرد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاکستان نے ماضی میں بھی پل کا کردار ادا کیا تھا اور دوبارہ ایسا کرنے کیلئے تیار ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے چین کی سرکاری اور نجی کمپنیوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے ،چینی کمپنی سربراہان نےوزیر اعظم کو پاکستان میں جاری منصوبوں کی پیشرفت سے آگاہ کیا سرمایہ کاروں نے دھاتوں اور کاغذ کی ری سائیکلنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی،وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کو سراہا وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کے سربراہان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول سے آگاہ کیا وزیرعظم کاچینی سرمایہ کاروں کوسی پیک کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کرنے پر زوردیا ملاقاتوں میں وفاقی وزراء، مشیران اور اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے

    قبل ازیں وزیراعظم عمرا ن خان کی چین کے قومی ترقی اوراصلاحاتی کمیشن کے چیئرمین سے ملاقات ہوئی ہے ،چین کے سیاسی ،مشاورتی کونسل کے وائس چیئرمین بھی ملاقات میں شریک تھے ،اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین کے قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کا تعاون قابل تحسین ہے ،سی پیک منصوبوں نے ملک میں پائیدار معاشی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہےسی پیک ،بی آر آئی منصوبے کا اہم جزو ہے پاکستان اورچین گوادر کو خطے کا معاشی مرکز بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے کورونا کے باوجود چین کے تعاون سے سی پیک منصوبوں پر کام جاری ہے وزیراعظم عمرا ن خان نے این ڈی آر سی اور دونوں اطراف کے متعلقہ حکام کی کوششوں کی تعریف کی

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان اور چین دونوں کے لیے ا سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے سی پیک کی بروقت تکمیل اور اس کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے فریقین نے عزم کا اعادہ کیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایم ایل پر تیاری کے کام کو بھی ترجیح دیں گے،

    چیئرمین این ڈی سی آر کا کہنا تھا کہ چین سی پیک کو بہت اہمیت دیتا ہے، چین گزشتہ 7سال میں پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی رفتار کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں،

    پاکستانی سرمایہ کاری بورڈ اور چینی ہم منصب میں صنعتی تعاون کے فروغ کے لیے معاہدے پر دستخط ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے تقریب میں آن لائن شرکت کی وزیر مملکت سرمایہ کاری بورڈ اورچینی این آر ڈی سی چیئرمین نے معاہدے پر دستخط کیے

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی چین میں مصروفیات،
    آج صبح چین کے سرمایہ کاروں سے ملاقات ہوئی، شام کو چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی ہوں گے

    وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین میں انکے استقبال کولے کر ٹویٹر پر بحث جاری ہے، وزیراعظم عمران خان وزراء کے وفد کے ساتھ چین پہنچے تو انکا استقبال وزارت خارجہ کے سیکرٹری نے کیا، استقبال کو لے صارفین نے ٹویٹس کی ہیں، ایک صارف کا کہنا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب بیرون ملک دوروں پر خان کا استقبال میزبان ملک کی محلہ کمیٹی کا چیئرمین کرے گا اور چنگچی پر بٹھا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ ائرپورٹ سے لگ جایا جائے گا

    غریدہ فاروقی نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان کی 4-روزہ دورے پر چین آمد۔ چین کے اسسٹنٹ وزیرِ خارجہ (چینی وزارتِ خارجہ میں سیکنڈ اِن رینک – بمقابل پاکستانی سیکرٹری خارجہ) نے وزیراعظم خان کا استقبال کیا۔

    سینیٹر ڈاکٹر عبدالکریم بھی پیھچے نہ رہے اور ٹویٹر پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہوتاھے فرق ،منتخب وزیراعظم ،اور سلیکٹڈ وزیراعظم میں

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ لیڈر اور سلیکٹڈ کٹھ پتلی میں فرق جان کے جیو۔ جب منتخب صدر آصف علی زرداری نے چین کا دورہ کیا کرتے تھے تو چینی صدر سمیت ساری قوم استقبال کرتی تھی۔اب جب سلیکٹڈ وزیراعظم چین کا دورہ کررہا ہے تو اس کا استقبال ایک سفیر کررہا ھے۔

    ایک صارف نے کہا کہ "اسسٹنٹ” وزیر نے استقبال کیا ہے اور ہمارا وزیراعظم آفس اس پر بھی فخریہ ٹویٹ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان گزشتہ روز چین کے چار روزہ دورے پر روانہ ہوئے تھے ,قبل ازیں ترجمان وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چینی قیادت کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم ونٹر اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے، ان کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا وزیراعظم اپنے دورے میں صدرشی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے، اس دوران سی پیک سمیت تجارتی اور اقتصادی تعاون مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائےگی جب کہ چین میں قیام کے دوران ملاقاتوں میں اہم علاقائی اور عالمی امورپربھی پرتبادلہ خیال ہوگا۔

    ترجمان نے کہا تھا کہ وزیراعظم کادورہ پاک چین سفارتی تعلقات کےقیام کی 70 ویں سالگرہ کی یادگاری تقریبات کا اختتام ہوگا، وزیراعظم کے دورے میں متعدد ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے وزیراعظم عمران خان بیجنگ میں چین کی کاروباری شخصیات اورسرکردہ تھنک ٹینکس سےخطاب کریں گے جب کہ چین میں تعلیمی اداروں اور میڈیا کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

  • بھارت کا بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے انکار:عالمی قوتیں بھی سرگرم

    بھارت کا بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے انکار:عالمی قوتیں بھی سرگرم

    نئی دہلی: بھارت کا بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے انکار:عالمی قوتیں بھی سرگرم ،اطلاعات کے مطابق بھارتی سفارتکار نے مغربی ہمالیہ میں متنازع سرحد لداخ کے معاملے کو جواز بنا کر بیجنگ میں منعقد سرمائی اولمپکس کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین نے روایتی اولمپکس ٹارچ ریلے میں گلوان کی وادی میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں زخمی چینی کمانڈر کو شامل کیا ہے جس پر نئی دہلی آگ بگولہ ہوگیا۔

    خیال رہے کہ متنازع سرحد لداخ کی گلوان وادی میں بھارتی اور چینی فورسز کے مابین جھڑپ میں تقریباً 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 4 نوجوانوں کی ہلاکت کی تصدیق 8 ماہ بعد کی گئی تھی۔

    بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے سرمائی اولمپکس گیم کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں شرکت سے انکار کے فیصلے کے بعد چین کے اس اقدام کو ’مایوس کن‘ قرار دیا ہے۔

    نئی دہلی کے جاری کردہ اعلامیہ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چین نے کھیل کے میدان میں بھی سیاست کو شامل کردیا۔

    اس ضمن میں چین کے سرکاری روزنامہ نے رپورٹ میں کہا تھا کہ قی فاباؤکو زخمی ہونے والے ان چینی فوجیوں میں شامل تھے جو ایک ہزار 200 مشعل برداروں میں سے ایک ہیں۔

    خیال رہے کہ سرمائی اولمپکس گیمز میں صرف ایک بھارتی عارف محمد خان شرکت کررہے ہیں جبکہ بھارتی براڈکاسٹر دوردرشن نے بھارتی وزارت داخلہ کے بیان کے بعد کہا کہ وہ گیمز کی افتتاحی اور اختتامی تقریب کو براہ راست پیش نہیں کرے گا۔

    ادھر امریکہ اور دیگراتحادی ملکوں نے بھی چین میں ہونے والی اولمپکس گیمز کا بائیکاٹ کیا ہے اور چین کے خلاف گھیرا تنگ کررکھا ہے

  • پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے پاکستان سے تعلقات کواہمیت دیتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی ہے جس کے دوران ایک صحافی نے ان سے پاکستان اور چین کے قریب آنے سے متعلق سوال پوچھ لیا۔

    ازبکستان: چڑیا گھرمیں ماں نے3 سال کی بیٹی کوریچھ کے پنجرے میں پھینک دیا

    صحافی نے امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے سوال کیا کہ کیا پاکستان اور چین اس لیے قریب آئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا ان سے لا تعلق ہو گیا ہے؟

    پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعلقات کے سوال پر امریکی ترجمان نے جواب دیا کہ کسی ملک کے لیے ضروری نہیں کہ امریکا یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے چین کے قریبی تعلقات کے بارے میں ان دونوں ممالک کوہی بات کرنا چاہئیے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنر ہے پاکستان سے اہم تعلقات ہیں۔پاکستان اورامریکا کے تعلقات کئی شعبوں پرمحیط ہیں جن کواہمیت دیتے ہیں۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں اچانک ایک مرغی کی آمد،عملے کی دوڑیں لگ گئیں

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سے کئی شعبوں میں تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں امریکا سے تعلقات رکھنا کسی بھی ملک کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں دنیا کے ہرملک کے آپس میں تعلقات کے کچھ فائدے اورکچھ نقصانات ہوتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کا دفاع مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔دونوں ممالک کے ساتھ سیکورٹی تعاون ہے اورمل کر کام کررہے ہیں ، یمن کا تنازع حل کرنے کا واحد راستہ سفارتی حل ہے، ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت پر تشویش ہے۔

    دوکان سے مرغی خریدنے گیا شخص ایک لاکھ ڈالرزکا مالک بن گیا

    انہوں نے ترک صدر طیب اردوان کے دورۂ یوکرین سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ ترکی اہم نیٹو اتحادی ہے، یوکرین سے یک جہتی کرنے والے نیٹو اتحادی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم بہت سے مختلف طریقوں سے افغان عوام کی حمایت کر رہے ہیں، ہم افغان عوام کی انسانی ضروریات میں مدد کر رہے ہیں، افغانستان سے متعلق خطے کے متعدد ممالک کے ساتھ فعال کام کر رہے ہیں، شراکت داروں سے مل کر کابل ایئر پورٹ کو سول طیاروں کے لیے فعال بنانے پر کام کر رہے ہیں طالبان کو افغان عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے کی ضرورت ہے، انہیں اپنے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنے کی بھی ضرورت ہے، طالبان ملک چھوڑنے کے خواہش مند افغانوں کو محفوظ راستہ اور نقل و حرکت کی آزادی دیں۔

    طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد

  • چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،وزیرخزانہ شوکت ترین

    چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،وزیرخزانہ شوکت ترین

    وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف قسط سے معیشت مستحکم ہوگی چین سے کہیں گے اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں وزیراعظم چین سے کہیں گے کہ زراعت کے پلان میں ہماری مدد کریں کیونکہ زراعت کا شعبہ ہمارے لیے اہم ہے۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنی کمی کا امکان ہے؟ نیپرا نے خوشخبری سنا دی

    وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا پاکستان کےلیے قسط منظورکرنا خوش آئند ہے آئی ایم ایف ہماری معاشی حکمت عملی کوتسلیم کرتی ہے۔ ہمارے لیے دورہ چین سیاسی اورمعاشی طورپربہت اہم ہے چین کو کہنے جارہے ہیں ہماری مدد کریں، اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں۔

    مشیرتجارت عبدالرزاق دائود نے دورہ چین سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ چین انتہائی اہم ہے دورے کے دوران تجارت کے حوالے سے چین سے بات کریں گے چاول،سیمنٹ سمیت زراعت کے شعبے کےلیے کافی فائدہ ہوگا، جس سے ہمارا ایکسپورٹ بڑھے گا۔

    لاہورائیرپورٹ پرڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی غیر ملکی اورملکی کرنسی برآمد ،3 مسافر…

    سال 2022 کا پہلا غیر ملکی دورہ،وزیراعظم وزراء کے ہمراہ چین روانہ ،وزیرِ اعظم عمران خان کا دورہ چین وزیرِ اعظم عمران خان وزراء کے وفد کے ہمراہ 4 روزہ دورہ چین کیلئے روانہ ہو گئے

    وفد میں وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیرِ خزانہ شوکت فیاض ترین، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، مشیرِ قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاونِ خصوصی چین پاکستان اقتصادی راہداری خالد منصور شامل ہیں،وزیرِ اعظم چین میں سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے. وزیرِ اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ اور چینی پریمئیر لی کی چیانگ سے اہم ملاقاتیں کریں گے. اسکے علاوہ وزیرِ اعظم پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے چینی سرمایہ کاروں کے وفود سے بھی ملاقاتیں کریں گے.

    دورہ پاکستان: کھلاڑی اپنی فیملیز کیساتھ مشاورت کریں گے اور اپنے جواب کے ساتھ واپس…

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ‏پاکستان اورچین کی شراکت داری کا کلیدی کردارہے،دورہ چین اہم ہے مستحکم افغانستان پاکستان کیلئے ضروری ہے .ملکی دفاع کے لیے دن رات کام کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کے حملوں کے ذمہ داروں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ دورہ چین سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا، ‏دورہ چین سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا، چین سے مختلف شعبوں کیلئے ٹیکنالوجی حاصل کی جائے گی، دورہ چین میں دوطرفہ تجارت کے فروغ پر گفتگو ہوگی،

    وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کا مقصد سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آج چین کے دورے پرروانہ ہوں گے وزیراعظم کے دورے کا مقصد سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں 20 ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔

    سری لنکا پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر قرض لے گا

    فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوں گی چین کے صدر شی جن پنگ 2سال بعد کسی عالمی رہنما سے ملاقات کریں گے جو وزیراعظم عمران خان ہیں وزیراعظم کے دورہ چین سے پاکستان اورچین کے گہرے تعلقات کی وسعت میں مزید اضافہ ہوگا۔

    وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان چین کے دورے میں مختلف کاروباری شخصیات اور بڑے سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ چین سے کئی کاروباری اور صنعتی یونٹس پاکستان منتقل ہوں گے۔

    پاکستان کیلئے پروگرام کی چھٹی قسط کی منظوری:آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ بلاول اور…

    قبل ازیں ترجمان وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چینی قیادت کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم ونٹر اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے، ان کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا وزیراعظم اپنے دورے میں صدرشی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے، اس دوران سی پیک سمیت تجارتی اور اقتصادی تعاون مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائےگی جب کہ چین میں قیام کے دوران ملاقاتوں میں اہم علاقائی اور عالمی امورپربھی پرتبادلہ خیال ہوگا۔

    پنجاب حکومت ایک لاکھ 30 ہزار بھرتیاں کرے گی،عثمان بزدار

    ترجمان نے کہا تھا کہ وزیراعظم کادورہ پاک چین سفارتی تعلقات کےقیام کی 70 ویں سالگرہ کی یادگاری تقریبات کا اختتام ہوگا، وزیراعظم کے دورے میں متعدد ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے وزیراعظم عمران خان بیجنگ میں چین کی کاروباری شخصیات اورسرکردہ تھنک ٹینکس سےخطاب کریں گے جب کہ چین میں تعلیمی اداروں اور میڈیا کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    نواز شریف کی واپسی سے متعلق اٹارنی جنرل کا خط توہین عدالت کے مترادف ہے شہباز شریف

    شہبازشریف اورجہانگیر ترین کیس کی تحقیقات کرنے والے افسران کے تبادلے منسوخ

  • چین غصے میں، وزیراعظم معافی مانگیں گے؟

    چین غصے میں، وزیراعظم معافی مانگیں گے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل عمران خان کے دورہ چین کا بہت شور مچا ہوا ہے ۔ وزیر مشیر بھانت بھانت کی چیزیں نکال کے لارہے ہیں کہ کپتان جب چین کی سرزمین پر قدم رکھے گا تو پتہ نہیں کیا ۔۔۔ انی ۔۔۔ مچا دینی ہے ۔ ۔ حالانکہ سچ اور حقیقت یہ ہے عمران خان نے اپنے ہاتھوں سے سی پیک کو دفن کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ اس لیے اس دورہ کے شروع ہونے سے پہلے ہی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ۔ کیا عمران خان چین کا ناکام دورہ کرنے جا رہے ہیں ؟؟؟۔ کیونکہ اس وقت جو اطلاعات اور خبریں وزارت خارجہ سے باہر نکل رہی ہیں ان کے مطابق بڑے مشکل حالات میں یہ دورہ ہونے جارہا ہے ۔ چینی قیادت بھی پاکستانی عوام کی طرح کپتان سے ناراض دیکھائی دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے ایک ملک کا سربراہ عمران خان کا فون نہیں اٹھاتا تھا تو دوسرا فون نہیں کرتا تھا ۔ اور اب شاید تیسرا کے بارے کہا جائے کہ وہ اپنے گھر بلا کر ملتا بھی نہیں ۔ ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ میری دعا ہے اور خواہش بھی ہے کہ یہ ملاقات ہوجائے ۔ کیونکہ عمران خان سے تمام تر اختلاف کے باوجود یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یاد کروادوں کہ گذشتہ سال داسو میں دہشت گرد حملے میں چینی کارکنوں کی ہلاکتوں اور سی پیک کی سست روی کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے ہیں۔ اس حوالے سے بڑی کھل کر میڈیا پر بھی بات ہوتی رہی ہے اور چینی کمپنیوں کے عہدیداروں سمیت دیگر چینی ۔۔۔ پاکستانیوں سے برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں ۔ ایک دو ایسی ملاقاتوں کا تو میں خود بھی راوی ہوں ۔ ۔ اسٹوری کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر سرمائی اولمپکس کی تقریبات میں شرکت کے لیے تین سے پانچ فروری کے دوران بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ پر ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی ملاقات صرف چینی وزیر اعظم سے کروائی جائیگی ۔ صدر شی جن پنگ نہیں ملیں گے ۔ یہاں تک کہ سائیڈ لائن پر بھی ان دونوں کی ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ ۔ دراصل عمران خان کے دورے کا مقصد بیجنگ کے سی پیک اور پاکستان میں چینی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات دور کرنا اور دونوں پڑوسی ممالک کے دیرینہ اوردوستانہ تعلقات کے تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ آسان الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں چینیوں نے عمران خان کو جواب طلبی کے لیے بلایا ہے ۔ کہ بھائی جان ان تین سالوں میں سی پیک پر آپ نے کیا progressکی ہے ۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ کئی دنوں سے کپتان نے ۔۔۔ سی پیک ۔۔۔۔۔۔ سی پیک ۔۔۔کی گردان شروع کی ہوئی ہے ۔ ۔ جیسے چند روز پہلے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک سے غربت کے خاتمے اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو پہلے تین سال تک یہ سب کچھ بھولے ہوئے اب دو تین روز پہلے عمران خان کہہ رہے تھے کہ سی پیک پاکستان اور چین کا بہترین مشترکہ منصوبہ ہے ۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ۔ آجکل ان کو یہ سب کچھ بہت یاد آرہا ہے ۔ حالانکہ اس دور حکومت میں سی پیک کو عملی طور پر رول بیک کرنے پوری پوری کوشش ہوئی ۔ ۔ صورتحال یہ ہے کہ اب امریکہ نے ہم سے تمام کام کروا لیے ہیں ۔ افغانستان سے وہ بخیر و عافیت نکل چکا ہے اور ہماری ان کو ضرورت نہیں رہی ہے تو انھوں نے تو ہم کو مکمل طور پر جواب دیا ہوا ہے ۔ حالانکہ ہم نے بڑی کوشش کی ۔ کہ جوبائیڈن کم ازکم ہمارے وزیراعظم کو فون ہی کرلے ۔ مگر ہم کو ہمیشہ ٹکا سا ہی جواب ملا ہے ۔ اب کیونکہ ہم کو امریکہ بھی لفٹ نہیں کروا رہا ہے ۔ بھارت کے ساتھ بھی تجارت نہیں شروع ہوپارہی ہے ۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ بھی معاملات کچھ بہتر نہیں۔ بردار اسلامی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات آپ کے سامنے ہیں ۔ تو لے دے کر صرف چین ہی بچتا ہے ۔اسی لیے کپتان اب بچھے بچھے جا رہے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سے یہ ڈپلومیٹ الفاظ استعمال نہیں ہوتے ۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان اب چین معافی مانگنے جارہے ہیں ۔ اور یہ اتنی آسانی سے نہیں ملنی ۔ اب کی بار بیجنگ سے بھی ہم کو ایک لمبی لسٹ ملنی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ ہاتھاں نال لائیں گنڈاں داندان نال کھولنیاں پیندی نے ۔۔۔ عمران خان کے دورے کا دوسرا مقصد پاکستان کی طرف سے اسلام آباد اور بیجنگ کے دوستانہ روابط کا تاثر دینا ہے۔ کیونکہ آپ دیکھیں دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں رہ گیا جو ہمارا ساتھ دیتا ہو ۔ چاہے ہمارے بردار اسلامی ممالک کیوں نہ ہوں ۔ واحد چین ہی آخری سہارا رہ گیا ہے ۔ عمران خان نے داسو واقعہ کے بعد اس سرمائی اولمپکس کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا ہے کہ چین کے ساتھ کھڑا ہوا جائے کیونکہ بہت سے ممالک نے ان اولمپکس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے ۔ جبکہ اس اولمپکس میں اب وزیراعظم پاکستان شرکت کریں گے تو دنیا کے ساتھ ساتھ چین کے اندر بھی پاکستان کی جانب سے ایک اچھا پیغام جائے گا ۔ پر اس سب کے ساتھ عمران خان کے دورے کے دوران چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر غور ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم سے ملاقات ہوئی ۔ اور لگتا ہے یقیناً اس ملاقات میں بھی چین کی جانب سے سی پیک اور اس کے ورکرز کی سکیورٹی سے متعلق سوالات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر گفتگو ہوئی ہوگی ۔ ۔ عمران خان فوجی قیادت سے علیحدہ ملاقات کے علاوہ وفاقی وزرا اور سی پیک کے متعلقہ حکام سے بھی ملے تھے جنھوں نے وزیر اعظم کو چین کے دورے سے متعلق بریفنگ دی تھی۔ یعنی ادارے ہوں یا دیگر سب ہی عمران خان کو اس حوالے سے بریف کررہے ہیں کیونکہ یہ دورہ بڑا حساس ہے ۔ ایک غلطی پاکستان کو اس کے دیرینہ دوست سے دور کر سکتی ہے ۔ کیونکہ اس دورے کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے کہ بیجنگ کا اسلام آباد پر اعتماد کسی طرح بحال ہو جائے۔ ۔ پھر عمران خان کی بیجنگ میں موجودگی کے دوران روسی صدر ولاد میر پیوتن سے بھی ملاقات ممکن ہے۔ یوکرائن کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ حالیہ تناؤکے سبب روس خطے میں اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے گا اور اس سلسلے میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ افغانستان کی وجہ سے بھی پاکستان کی اہمیت بنتی ہے اور چین اور روس کے افغانستان میں مفادات موجود ہیں، جن وہ ضرور تحفظ کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوں اگر عمران خان چینی قیادت اور روسی صدر سے ملاقاتوں کے پاکستان کا کیس صحیح طرح اٹھا لیں تو پاکستان کے حق میں بہت بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ پر اگر وہاں جا کر بھی انھوں نے اپنی ملکی سیاست ، اپنا مغرب اور تاریخ بارے علم بتانا شروع کردیا اور وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے پوائنٹس اور معاملات تک نہ رہے تومعذرت کے ساتھ کامیابی کے امکانات کم ہیں ۔ ۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو اس دورہ کی کامیابی کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ پاکستان چین سے 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ ۔ یاد رہے چین پہلے ہی کمرشل قرضوں اور فارن ایکسچینج ریزرو سپورٹ اقدامات کی شکل میں پاکستان کو11 ارب ڈالر دے چکا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرضہ ملا تھا جو پاکستان خرچ کر چکا ہے۔ سعودی قرضہ ملنے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر15.9ارب ڈالر تھے جو رواں ماہ پھر16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔۔ وزیراعظم ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ فنانس، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین سے معاونت کی درخواست کرینگے۔ کل کے روز انکے دورے کا ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے حتمی اجلاس ہوگا۔ میرے خیال سے وزیر اعظم جو تجاویز پیش کی جائیں اور جو باتیں بریف کی جائیں اس پر ہی عمل کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ہی پاکستان کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ یہاں اس بات کی نشاندہی کر دوں کہ یہ جو سینیٹر فیصل جاوید خان نے وزیر اعظم عمران خان ، سابق صدر و جنرل پرویز مشرف ، آصف زرداری اور نواز شریف کے بیرون ممالک دوروں پر آنے والے اخراجات کا موازنہ پیش کر دیا ہے ۔ اس موقع پر یہ اس دورے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہا ہے یہ آپکو domestic politicsکے لیے تو شاید فائدہ مند ہو ۔ پاکستان کے لیے کسی صورت فائدہ مند نہیں ۔ اگر انھوں نے موازنہ پیش کرنا ہی ہے تو زرداری ، مشرف ، نواز شریف اور عمران خان کے دوروں کا یہ موازنہ پیش کریں کہ کس نے کیا کیا کامیابی حاصل کی ۔ سچ پوچھیں تو اس میں یقیناً عمران خان کا نام سب سے آخر میں ہی آئے گا ۔۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکمران آیا ہے ڈکیٹیر ہو یا جمہوری ۔۔۔ اس نے بڑی اچھی طریقے سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بحال رکھے ہیں یہ پہلا دور ہے جس میں ہمارے ملک مسائل تو بڑھے ہی ہیں ساتھ ہی خارجہ محاذ پر بھی ہمارے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں ٹھیک نہیں رہے ۔