Baaghi TV

Tag: چین

  • پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے پاکستان سے تعلقات کواہمیت دیتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی ہے جس کے دوران ایک صحافی نے ان سے پاکستان اور چین کے قریب آنے سے متعلق سوال پوچھ لیا۔

    ازبکستان: چڑیا گھرمیں ماں نے3 سال کی بیٹی کوریچھ کے پنجرے میں پھینک دیا

    صحافی نے امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے سوال کیا کہ کیا پاکستان اور چین اس لیے قریب آئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا ان سے لا تعلق ہو گیا ہے؟

    پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعلقات کے سوال پر امریکی ترجمان نے جواب دیا کہ کسی ملک کے لیے ضروری نہیں کہ امریکا یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے چین کے قریبی تعلقات کے بارے میں ان دونوں ممالک کوہی بات کرنا چاہئیے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنر ہے پاکستان سے اہم تعلقات ہیں۔پاکستان اورامریکا کے تعلقات کئی شعبوں پرمحیط ہیں جن کواہمیت دیتے ہیں۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں اچانک ایک مرغی کی آمد،عملے کی دوڑیں لگ گئیں

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سے کئی شعبوں میں تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں امریکا سے تعلقات رکھنا کسی بھی ملک کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں دنیا کے ہرملک کے آپس میں تعلقات کے کچھ فائدے اورکچھ نقصانات ہوتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کا دفاع مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔دونوں ممالک کے ساتھ سیکورٹی تعاون ہے اورمل کر کام کررہے ہیں ، یمن کا تنازع حل کرنے کا واحد راستہ سفارتی حل ہے، ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت پر تشویش ہے۔

    دوکان سے مرغی خریدنے گیا شخص ایک لاکھ ڈالرزکا مالک بن گیا

    انہوں نے ترک صدر طیب اردوان کے دورۂ یوکرین سے متعلق سوال پر جواب دیا کہ ترکی اہم نیٹو اتحادی ہے، یوکرین سے یک جہتی کرنے والے نیٹو اتحادی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم بہت سے مختلف طریقوں سے افغان عوام کی حمایت کر رہے ہیں، ہم افغان عوام کی انسانی ضروریات میں مدد کر رہے ہیں، افغانستان سے متعلق خطے کے متعدد ممالک کے ساتھ فعال کام کر رہے ہیں، شراکت داروں سے مل کر کابل ایئر پورٹ کو سول طیاروں کے لیے فعال بنانے پر کام کر رہے ہیں طالبان کو افغان عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے کی ضرورت ہے، انہیں اپنے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنے کی بھی ضرورت ہے، طالبان ملک چھوڑنے کے خواہش مند افغانوں کو محفوظ راستہ اور نقل و حرکت کی آزادی دیں۔

    طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد

  • چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،وزیرخزانہ شوکت ترین

    چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،وزیرخزانہ شوکت ترین

    وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ چین سے کہیں گے ہماری مدد کریں،اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف قسط سے معیشت مستحکم ہوگی چین سے کہیں گے اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں وزیراعظم چین سے کہیں گے کہ زراعت کے پلان میں ہماری مدد کریں کیونکہ زراعت کا شعبہ ہمارے لیے اہم ہے۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنی کمی کا امکان ہے؟ نیپرا نے خوشخبری سنا دی

    وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا پاکستان کےلیے قسط منظورکرنا خوش آئند ہے آئی ایم ایف ہماری معاشی حکمت عملی کوتسلیم کرتی ہے۔ ہمارے لیے دورہ چین سیاسی اورمعاشی طورپربہت اہم ہے چین کو کہنے جارہے ہیں ہماری مدد کریں، اپنی انڈسٹری کو پاکستان میں بھی لائیں۔

    مشیرتجارت عبدالرزاق دائود نے دورہ چین سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ چین انتہائی اہم ہے دورے کے دوران تجارت کے حوالے سے چین سے بات کریں گے چاول،سیمنٹ سمیت زراعت کے شعبے کےلیے کافی فائدہ ہوگا، جس سے ہمارا ایکسپورٹ بڑھے گا۔

    لاہورائیرپورٹ پرڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی غیر ملکی اورملکی کرنسی برآمد ،3 مسافر…

    سال 2022 کا پہلا غیر ملکی دورہ،وزیراعظم وزراء کے ہمراہ چین روانہ ،وزیرِ اعظم عمران خان کا دورہ چین وزیرِ اعظم عمران خان وزراء کے وفد کے ہمراہ 4 روزہ دورہ چین کیلئے روانہ ہو گئے

    وفد میں وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیرِ خزانہ شوکت فیاض ترین، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، مشیرِ قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاونِ خصوصی چین پاکستان اقتصادی راہداری خالد منصور شامل ہیں،وزیرِ اعظم چین میں سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے. وزیرِ اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ اور چینی پریمئیر لی کی چیانگ سے اہم ملاقاتیں کریں گے. اسکے علاوہ وزیرِ اعظم پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے چینی سرمایہ کاروں کے وفود سے بھی ملاقاتیں کریں گے.

    دورہ پاکستان: کھلاڑی اپنی فیملیز کیساتھ مشاورت کریں گے اور اپنے جواب کے ساتھ واپس…

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ‏پاکستان اورچین کی شراکت داری کا کلیدی کردارہے،دورہ چین اہم ہے مستحکم افغانستان پاکستان کیلئے ضروری ہے .ملکی دفاع کے لیے دن رات کام کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کے حملوں کے ذمہ داروں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ دورہ چین سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا، ‏دورہ چین سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا، چین سے مختلف شعبوں کیلئے ٹیکنالوجی حاصل کی جائے گی، دورہ چین میں دوطرفہ تجارت کے فروغ پر گفتگو ہوگی،

    وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کا مقصد سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آج چین کے دورے پرروانہ ہوں گے وزیراعظم کے دورے کا مقصد سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں 20 ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔

    سری لنکا پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر قرض لے گا

    فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوں گی چین کے صدر شی جن پنگ 2سال بعد کسی عالمی رہنما سے ملاقات کریں گے جو وزیراعظم عمران خان ہیں وزیراعظم کے دورہ چین سے پاکستان اورچین کے گہرے تعلقات کی وسعت میں مزید اضافہ ہوگا۔

    وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان چین کے دورے میں مختلف کاروباری شخصیات اور بڑے سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ چین سے کئی کاروباری اور صنعتی یونٹس پاکستان منتقل ہوں گے۔

    پاکستان کیلئے پروگرام کی چھٹی قسط کی منظوری:آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ بلاول اور…

    قبل ازیں ترجمان وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چینی قیادت کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم ونٹر اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے، ان کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا وزیراعظم اپنے دورے میں صدرشی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے، اس دوران سی پیک سمیت تجارتی اور اقتصادی تعاون مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائےگی جب کہ چین میں قیام کے دوران ملاقاتوں میں اہم علاقائی اور عالمی امورپربھی پرتبادلہ خیال ہوگا۔

    پنجاب حکومت ایک لاکھ 30 ہزار بھرتیاں کرے گی،عثمان بزدار

    ترجمان نے کہا تھا کہ وزیراعظم کادورہ پاک چین سفارتی تعلقات کےقیام کی 70 ویں سالگرہ کی یادگاری تقریبات کا اختتام ہوگا، وزیراعظم کے دورے میں متعدد ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے وزیراعظم عمران خان بیجنگ میں چین کی کاروباری شخصیات اورسرکردہ تھنک ٹینکس سےخطاب کریں گے جب کہ چین میں تعلیمی اداروں اور میڈیا کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    نواز شریف کی واپسی سے متعلق اٹارنی جنرل کا خط توہین عدالت کے مترادف ہے شہباز شریف

    شہبازشریف اورجہانگیر ترین کیس کی تحقیقات کرنے والے افسران کے تبادلے منسوخ

  • چین غصے میں، وزیراعظم معافی مانگیں گے؟

    چین غصے میں، وزیراعظم معافی مانگیں گے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل عمران خان کے دورہ چین کا بہت شور مچا ہوا ہے ۔ وزیر مشیر بھانت بھانت کی چیزیں نکال کے لارہے ہیں کہ کپتان جب چین کی سرزمین پر قدم رکھے گا تو پتہ نہیں کیا ۔۔۔ انی ۔۔۔ مچا دینی ہے ۔ ۔ حالانکہ سچ اور حقیقت یہ ہے عمران خان نے اپنے ہاتھوں سے سی پیک کو دفن کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ اس لیے اس دورہ کے شروع ہونے سے پہلے ہی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ۔ کیا عمران خان چین کا ناکام دورہ کرنے جا رہے ہیں ؟؟؟۔ کیونکہ اس وقت جو اطلاعات اور خبریں وزارت خارجہ سے باہر نکل رہی ہیں ان کے مطابق بڑے مشکل حالات میں یہ دورہ ہونے جارہا ہے ۔ چینی قیادت بھی پاکستانی عوام کی طرح کپتان سے ناراض دیکھائی دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے ایک ملک کا سربراہ عمران خان کا فون نہیں اٹھاتا تھا تو دوسرا فون نہیں کرتا تھا ۔ اور اب شاید تیسرا کے بارے کہا جائے کہ وہ اپنے گھر بلا کر ملتا بھی نہیں ۔ ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ میری دعا ہے اور خواہش بھی ہے کہ یہ ملاقات ہوجائے ۔ کیونکہ عمران خان سے تمام تر اختلاف کے باوجود یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یاد کروادوں کہ گذشتہ سال داسو میں دہشت گرد حملے میں چینی کارکنوں کی ہلاکتوں اور سی پیک کی سست روی کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے ہیں۔ اس حوالے سے بڑی کھل کر میڈیا پر بھی بات ہوتی رہی ہے اور چینی کمپنیوں کے عہدیداروں سمیت دیگر چینی ۔۔۔ پاکستانیوں سے برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں ۔ ایک دو ایسی ملاقاتوں کا تو میں خود بھی راوی ہوں ۔ ۔ اسٹوری کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر سرمائی اولمپکس کی تقریبات میں شرکت کے لیے تین سے پانچ فروری کے دوران بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ پر ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی ملاقات صرف چینی وزیر اعظم سے کروائی جائیگی ۔ صدر شی جن پنگ نہیں ملیں گے ۔ یہاں تک کہ سائیڈ لائن پر بھی ان دونوں کی ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ ۔ دراصل عمران خان کے دورے کا مقصد بیجنگ کے سی پیک اور پاکستان میں چینی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات دور کرنا اور دونوں پڑوسی ممالک کے دیرینہ اوردوستانہ تعلقات کے تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ آسان الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں چینیوں نے عمران خان کو جواب طلبی کے لیے بلایا ہے ۔ کہ بھائی جان ان تین سالوں میں سی پیک پر آپ نے کیا progressکی ہے ۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ کئی دنوں سے کپتان نے ۔۔۔ سی پیک ۔۔۔۔۔۔ سی پیک ۔۔۔کی گردان شروع کی ہوئی ہے ۔ ۔ جیسے چند روز پہلے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک سے غربت کے خاتمے اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو پہلے تین سال تک یہ سب کچھ بھولے ہوئے اب دو تین روز پہلے عمران خان کہہ رہے تھے کہ سی پیک پاکستان اور چین کا بہترین مشترکہ منصوبہ ہے ۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ۔ آجکل ان کو یہ سب کچھ بہت یاد آرہا ہے ۔ حالانکہ اس دور حکومت میں سی پیک کو عملی طور پر رول بیک کرنے پوری پوری کوشش ہوئی ۔ ۔ صورتحال یہ ہے کہ اب امریکہ نے ہم سے تمام کام کروا لیے ہیں ۔ افغانستان سے وہ بخیر و عافیت نکل چکا ہے اور ہماری ان کو ضرورت نہیں رہی ہے تو انھوں نے تو ہم کو مکمل طور پر جواب دیا ہوا ہے ۔ حالانکہ ہم نے بڑی کوشش کی ۔ کہ جوبائیڈن کم ازکم ہمارے وزیراعظم کو فون ہی کرلے ۔ مگر ہم کو ہمیشہ ٹکا سا ہی جواب ملا ہے ۔ اب کیونکہ ہم کو امریکہ بھی لفٹ نہیں کروا رہا ہے ۔ بھارت کے ساتھ بھی تجارت نہیں شروع ہوپارہی ہے ۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ بھی معاملات کچھ بہتر نہیں۔ بردار اسلامی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات آپ کے سامنے ہیں ۔ تو لے دے کر صرف چین ہی بچتا ہے ۔اسی لیے کپتان اب بچھے بچھے جا رہے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سے یہ ڈپلومیٹ الفاظ استعمال نہیں ہوتے ۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان اب چین معافی مانگنے جارہے ہیں ۔ اور یہ اتنی آسانی سے نہیں ملنی ۔ اب کی بار بیجنگ سے بھی ہم کو ایک لمبی لسٹ ملنی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ ہاتھاں نال لائیں گنڈاں داندان نال کھولنیاں پیندی نے ۔۔۔ عمران خان کے دورے کا دوسرا مقصد پاکستان کی طرف سے اسلام آباد اور بیجنگ کے دوستانہ روابط کا تاثر دینا ہے۔ کیونکہ آپ دیکھیں دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں رہ گیا جو ہمارا ساتھ دیتا ہو ۔ چاہے ہمارے بردار اسلامی ممالک کیوں نہ ہوں ۔ واحد چین ہی آخری سہارا رہ گیا ہے ۔ عمران خان نے داسو واقعہ کے بعد اس سرمائی اولمپکس کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا ہے کہ چین کے ساتھ کھڑا ہوا جائے کیونکہ بہت سے ممالک نے ان اولمپکس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے ۔ جبکہ اس اولمپکس میں اب وزیراعظم پاکستان شرکت کریں گے تو دنیا کے ساتھ ساتھ چین کے اندر بھی پاکستان کی جانب سے ایک اچھا پیغام جائے گا ۔ پر اس سب کے ساتھ عمران خان کے دورے کے دوران چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر غور ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم سے ملاقات ہوئی ۔ اور لگتا ہے یقیناً اس ملاقات میں بھی چین کی جانب سے سی پیک اور اس کے ورکرز کی سکیورٹی سے متعلق سوالات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر گفتگو ہوئی ہوگی ۔ ۔ عمران خان فوجی قیادت سے علیحدہ ملاقات کے علاوہ وفاقی وزرا اور سی پیک کے متعلقہ حکام سے بھی ملے تھے جنھوں نے وزیر اعظم کو چین کے دورے سے متعلق بریفنگ دی تھی۔ یعنی ادارے ہوں یا دیگر سب ہی عمران خان کو اس حوالے سے بریف کررہے ہیں کیونکہ یہ دورہ بڑا حساس ہے ۔ ایک غلطی پاکستان کو اس کے دیرینہ دوست سے دور کر سکتی ہے ۔ کیونکہ اس دورے کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے کہ بیجنگ کا اسلام آباد پر اعتماد کسی طرح بحال ہو جائے۔ ۔ پھر عمران خان کی بیجنگ میں موجودگی کے دوران روسی صدر ولاد میر پیوتن سے بھی ملاقات ممکن ہے۔ یوکرائن کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ حالیہ تناؤکے سبب روس خطے میں اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے گا اور اس سلسلے میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ افغانستان کی وجہ سے بھی پاکستان کی اہمیت بنتی ہے اور چین اور روس کے افغانستان میں مفادات موجود ہیں، جن وہ ضرور تحفظ کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوں اگر عمران خان چینی قیادت اور روسی صدر سے ملاقاتوں کے پاکستان کا کیس صحیح طرح اٹھا لیں تو پاکستان کے حق میں بہت بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ پر اگر وہاں جا کر بھی انھوں نے اپنی ملکی سیاست ، اپنا مغرب اور تاریخ بارے علم بتانا شروع کردیا اور وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے پوائنٹس اور معاملات تک نہ رہے تومعذرت کے ساتھ کامیابی کے امکانات کم ہیں ۔ ۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو اس دورہ کی کامیابی کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ پاکستان چین سے 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ ۔ یاد رہے چین پہلے ہی کمرشل قرضوں اور فارن ایکسچینج ریزرو سپورٹ اقدامات کی شکل میں پاکستان کو11 ارب ڈالر دے چکا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرضہ ملا تھا جو پاکستان خرچ کر چکا ہے۔ سعودی قرضہ ملنے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر15.9ارب ڈالر تھے جو رواں ماہ پھر16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔۔ وزیراعظم ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ فنانس، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین سے معاونت کی درخواست کرینگے۔ کل کے روز انکے دورے کا ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے حتمی اجلاس ہوگا۔ میرے خیال سے وزیر اعظم جو تجاویز پیش کی جائیں اور جو باتیں بریف کی جائیں اس پر ہی عمل کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ہی پاکستان کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ یہاں اس بات کی نشاندہی کر دوں کہ یہ جو سینیٹر فیصل جاوید خان نے وزیر اعظم عمران خان ، سابق صدر و جنرل پرویز مشرف ، آصف زرداری اور نواز شریف کے بیرون ممالک دوروں پر آنے والے اخراجات کا موازنہ پیش کر دیا ہے ۔ اس موقع پر یہ اس دورے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہا ہے یہ آپکو domestic politicsکے لیے تو شاید فائدہ مند ہو ۔ پاکستان کے لیے کسی صورت فائدہ مند نہیں ۔ اگر انھوں نے موازنہ پیش کرنا ہی ہے تو زرداری ، مشرف ، نواز شریف اور عمران خان کے دوروں کا یہ موازنہ پیش کریں کہ کس نے کیا کیا کامیابی حاصل کی ۔ سچ پوچھیں تو اس میں یقیناً عمران خان کا نام سب سے آخر میں ہی آئے گا ۔۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکمران آیا ہے ڈکیٹیر ہو یا جمہوری ۔۔۔ اس نے بڑی اچھی طریقے سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بحال رکھے ہیں یہ پہلا دور ہے جس میں ہمارے ملک مسائل تو بڑھے ہی ہیں ساتھ ہی خارجہ محاذ پر بھی ہمارے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں ٹھیک نہیں رہے ۔

  • وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے

    وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے

    وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں،

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان 3 فروری کو چین کا دورہ کریں گے،اپوزیشن حکومت کے خلاف کچھ نہیں کررہی،آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری ہے،آئی ایم ایف کے پاس 23 بار جا چکے،آئی ایم ایف کے پاس جانا کوئی خوشی کی بات نہیں،میں نے کہا تھا فنانس بل سینیٹ سے منظور ہو جائے گا،بلوچستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہواہے ،بی این اے اور ٹی ٹی پی دہشت گردی میں جتنا اضافہ کرے اتنا ہی ان کا مقابلہ کیا جائے گا، دورہ چین سےمستقبل کےمعاملات پرپیشرفت ہوگی،بلاول زرداری 27 فروری کو آئیں ،باقی بھی 23مارچ کو آئیں دھرنا اور لانگ مارچ میں کچھ نہیں ہونے والا،فضل ا لرحمان کو بھی آنے کا شوق ہے تو آجائیں بلاول آئیں، موسم ابر آلود نہیں ہوگا، مطلع صاف ہوگا، وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے صدارتی نظام کی بات نہیں کی،

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے گزشتہ روز5 کشمیریوں کو شہید کیا ،وزیر اعظم نے کہا 3 ماہ اہم ہیں عدم اعتماد کی بات کرنیوالوں کوپتہ ہونا چاہیے کہ بندے لانے ہوتے ہیں،افغانستان میں صورتحال سے سب واقف ہے عالمی برادری مددکرے،پی ٹی آئی بلدیاتی انتخابات میں بھر پور کردار اداکرے گی،اپوزیشن پارلیمنٹ میں کسی بھی بل پر حکومت کو شکست نہیں دے سکی،ٹریکٹر ٹرالی مارچ میں کتنے لوگ نکلے؟ اب 23 مارچ سے پیچھے نہ ہٹے، اسی تاریخ کو آئیں، اپوزیشن استعفوں کی باتیں کرتی تھی، پھر لانگ مارچ کی باتیں کرنے لگی اپوزیشن لانگ مارچ کرکے عالمی رہنماؤں کو ناراض کرنے جا رہی ہے،امریکا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہونے چاہئیں،چین ہمارا ہر موسم کا دوست ہے

    وزیر داخلہ شیخ رشید سے نئے مشیراحتساب و داخلہ مصدق عباسی کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں وزارت داخلہ میں کام کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیر داخلہ شیخ رشید اور مشیر احتساب نے حکومتی پالیسی پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا،وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ حکومت کی بدعنوانی کے خلاف کےکارکردگی کو مزید فعال بنایا جائے گا ،

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

  • چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے گا

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے گا

    بیجنگ:چینی کمپنی ایسے راکٹ پر کام کر رہی ہے جو ایک گھنٹے میں بیجنگ سے مسافروں کو نیویارک پہنچا دے گا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چین کی ایک کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسے ’پروں والے راکٹ‘ پر کام کررہی ہے جو مسافروں کو لے کر صرف ایک گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک تک پہنچ جائے گا یعنی یہ راکٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مسافر بردار ہوائی جہاز بھی ہوگا۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    اسے چینی کمپنی ’اسپیس ٹرانسپورٹیشن‘ نے تیار کیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ نما ہوائی جہاز (یا طیارہ نما راکٹ) مستقبل میں مسافروں کو دور دراز مقامات تک بہت کم وقت میں پہنچانے کے علاوہ مصنوعی سیارچوں اور دیگر سامان کو خلائی مدار میں چھوڑنے کا کام بھی کرسکے گا-

    اسے ایک بڑے طیارے کے نچلے حصے میں رکھ کر خاصی بلندی تک پہنچایا جائے گا جہاں یہ اس سے الگ ہوگا اور اپنا راکٹ انجن اسٹارٹ کرکے برق رفتاری سے منزلِ مقصود کی طرف پرواز کرنے لگے گا اس طرح یہ 7000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے، اپنے مسافروں کو صرف ایک گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک تک پہنچا دے گا۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    اپے سفر کا بیشتر حصہ یہ خلا میں رہتے ہوئے طے کرے گا، اور اس طرح ضرورت پڑنے پر یہ خلائی سیاحت میں بھی کام آسکے گا۔ مطلوبہ مقام پر پہنچ کر یہ کسی راکٹ کی طرح بالکل عموداً زمین پر اترے گا ’اسپیس ٹرانسپورٹیشن‘ کی جانب سے اب تک اس منصوبے کی زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں البتہ اس کی ویب سائٹ پر ایک اینی میشن سے مستقبل کا ایک منظرنامہ ضرور دکھایا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس وقت خلائی سفر اور خلا میں مختلف ساز و سامان پہنچانا بہت مہنگا سودا ہے۔ یہ اخراجات کم کرنے کےلیے پچھلے کئی عشروں سے مختلف ملکوں میں ’فضائی خلائی جہاز‘ اور دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹوں جیسے درجنوں منصوبوں پر کام ہورہا ہے مگر اب تک ان میں سے کوئی ایک منصوبہ بھی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

  • سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو    میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: ملکی ترقی کیلئے سی پیک ناگزیر ہے:چین کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں جومیری آمد کے شدید منتظرہیں: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    چین کے اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں وزیراعظم نے لکھا کہ پاک چین شراکت داری بین الریاستی تعلقات میں بے مثال ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے، ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، ملکی عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔

    انہوں نے لکھا کہ ہمارے روابط عالمی و علاقائی پیش ہائے رفت کے اتار و چڑھاو سے قطع نظر آزمودہ اور ہمہ وقت ہیں۔ گزشتہ برس ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لئے عظیم الشان تقریبات نے ہماری دوستی کو نئی قوت اور ولولہ بخشا ہے۔ پاکستان میں ہمارے لئے چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں جسے ہمہ جہت سیاسی حمایت حاصل ہے اور میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں ہماری عوام اس دوستی کی حقیقی قدر کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں اور اس کے مزید فروغ کے لئے جذبے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس دوستی کی گہرائی اور استحکام کے اظہار کے حوالے سے کی خصوصی ضرب المثل وضع کیے گئے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں سرمائی اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ خود ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے وہ اس جذبے کو سمجھ سکتے ہیں جو ایک قوم میں اولمپکس کی طرح کے کھیلوں کے مقابلے سے پیدا ہوتاہے، میں سمجھتا ہوں کہ کھیلیں یکجہتی کا عنصر ہوتی ہیں اور یہ سیاست سے بالا تر ہونا چاہئیں۔

    وزیراعظم نے اس بڑے ایونٹ کی میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی اور تمام شرکاؤں کی صحت و تحفظ اور کامیاب کھیلوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اکتوبر 2019 میں ان کے آخری دورہ چین کے بعد سے کووڈ 19 کی عالمگیر وبا کی صورت میں سب سے بڑا عصری چیلنج سامنے آیا جس سے دنیا میں تبدیلی آئی ہے، یہ وبا انسانی زندگیوں اور معاش پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک اور عفریت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی ان کامیابیوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو بنی نوع انسانیت نے آج تک حاصل کی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جغرافیائی سیاست کی ضروریات نے ہمارے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا جو بہت سے لوگوں کے لیے گزشتہ صدی کے نظریاتی محاذآرائی کی یاد دلاتا ہے۔ افغانستان گزشتہ 20 سالوں سے عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھا اور خطے میں امن کی واپسی کی امید کے ساتھ اس عدم استحکام اورانتشارکے خاتمہ کا وقت قریب آچکا ہے۔افغانستان میں معاشی بدحالی اور انسانی بحران کے سدباب کیلئے بین الاقوامی برادری کا متحرک کردار اورشمولیت ضروری ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ چیلنجز خواہ کتنے بڑے کیوں نہ ہوں ہمارے خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے بوجوہ تکثریت اور بین الاقوامی تعاون کے متقاضی ہے جیسا کہ صدر شی جن پنگ نے عالمی اقتصادی فورم سے اپنے حالیہ خطاب میں مناسب طور پر ذکر کیا ہے کہ عالمی بحران کے بڑھتے ہوئے طوفانوں کے درمیان ممالک 190 چھوٹی کشتیوں میں الگ الگ سوار نہیں بلکہ سب ایک بڑے جہاز کے سوار ہیں جس پر ہماری مشترکہ تقدیربھی ہے۔

    عمران خان نے لکھا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے پاکستان اور چین نے ماضی میں مشترکہ طور پر ایسی عہد ساز تبدیلیوں کو عبور کیا اور اس میں کامیاب رہے۔ دونوں ممالک نے بنیادی قومی مفادات کے امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ہمارا مشترکہ وژن ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے میں تزویراتی توازن کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے، سرحدوں سے متعلق امور، مسئلہ کشمیر جیسے تمام تصفیہ طلب مسائل کومذاکرات وسفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں واقدار کے مطابق حل کرنا چاہئیے ۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ کووڈ 19 کی عالمگیروبا کے خلاف دوطرفہ تعاون نے پاک چین مضبوط دوستی کو مزید تقویت دی ہے۔ آہنی بھائی ہونے کے ناطے پاکستان عالمگیروبا کے پھوٹنے کے بعد چین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ صدر عارف علوی کے بیجنگ کے یکجہتی دورے سے لے کر چین کی جانب سے وبا سے نمٹنے کیلئے اشیاء سے لدھے 60 سے زائد طیاروں کی پاکستان روانگی تک باہمی تعاون اور خیر سگالی کی روشن مثال سامنے آئی ہے۔ چینی ویکسین اب پاکستان میں جاری بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کا بنیادی مرکز بن چکی ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ پائیدار اورمضبوط پائیدار ترقی کے لیے پاکستان نئی راہوں کا تعین اور جغرافیائی واقتصادی (جیواکنامکس) مرکز کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی کی پالیسی میں ہماری حکومت کے عوام کی خوشحالی، بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے نقطہ نظرپرتوجہ مرکوزکی گئی ہے، ان اہداف کے حصول کیلئے ہم چین کی کامیابیوں سے رہنمائی حاصل کررہے ہیں خواہ وہ 80 کروڑ لوگوں کو کو مکمل غربت سے باہر نکالنا ہو یا عالمگیروبا کے خلاف عوام کی جنگ میں فتح ہوں ۔ دوست، پڑوسی اور شراکت دار ملک کے طور پر چین کے لوگوں، کاروباری اداروں اور کاروباری شخصیات کو پیش کرنے کے لیے پاکستان کے پاس بہت کچھ ہے۔

    چینی سرمایہ کاروں اورعوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان بھرپور تاریخ، ثقافتی تنوع اور شاندار مناظر کا حامل ملک ہیں۔22 کروڑ آبادی، نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت، سٹریٹجک محل وقوع، سرمایہ کاری کیلئے سازگارودوستانہ ماحول اور چینی عوام کے لیے گرمجوشی کے جذبات کے ساتھ پاکستان آپ کو آپ کی اگلی سرمایہ کاری اور اگلے تفریحی سفر کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ملک بن گیا ہے۔ 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ کئی چینی کاروباری اداروں نے پاکستان میں مضبوط موجودگی قائم کرلی ہے جو ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کرداراداکررہے ہیں ۔ چین پاکستان کے لائیو سٹاک اور زرعی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان صنعت کاری، زراعت میں جدت ، ای کامرس اور ڈیجیٹل فنانس میں چینی مہارت سے استفادہ کرسکتاہے ۔

    عمران خان نے لکھا کہ پاکستان صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ابتدائی شرکاء میں سے ایک ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام( بی آر آئی) کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے کہ ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے ۔ ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ سی پیک پاکستان کے توانائی کے دیرینہ بحران سے نمٹنے اوربنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان گوادر کی بندرگاہ اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی پر بھی تیزی سے پیش رفت کررہاہے جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ترقی کی کوئی بھی مقدار اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک اس کے ثمرات معاشرے کے معاشی طور پسماندہ طبقے تک نہ پہنچ جائیں، اس لیے غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور پاکستانی عوام کو اپنی قسمت کا مالک بننے کے لیے بااختیار بنانا میراوژن ہے، اسی تناظرمیں سی پیک کے دوسرے مرحلہ کو روزگار کی تخلیق، صنعتی جدید کاری، معاش میں بہتری، دیہی علاقوں اور سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیاہے ۔ ان منصوبوں کوتقویت دینے کیلئے ہماری حکومت نے “احساس” پروگرام شروع کیاہے جوتخفیت غربت اور سماجی اٹھان کے لیے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔پاکستان کے عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنےاور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ چین موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کو کم کرنے اور فطرت کو اس کی اصلی خوبصورتی میں بحال کرنے میں قائدانہ کرداراداکررہاہے ۔ ہم چین کے ساتھ ملکر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داری کے اصول کی بنیاد پر مستقبل میں پیش رفت کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ان کا سرسبز وشاداب پاکستان اورچین کے صدر شی جن پنگ کا “خوشحال، صاف اور خوبصورت دنیا” کا وژن ایک جیساہے ۔ پاکستان جنگلات کووسعت دینے اورجنگلات کی بحالی کیلئے دنیا کی سب سے پرجوش کوششوں میں سے 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ایک ارب درخت لگا چکا ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ڈیجیٹل دور میں جدت، اختراع اور ٹیکنالوجی پائیدار اور مضبوط وتیزتر ترقی کی بنیادی گاڑی کے طور پر کام کرتی ہے، پاکستان چین کے ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، کلائوڈ اور بگ ڈیٹا میں دوطرفہ استفادہ پرمبنی تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ چندسالوں میں دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے سب سے زیادہ امید افزا اور یقین دہانی کرنے والے پہلوئوں میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت میں گرمجوشی ہمارے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔ دونوں ممالک کے 40 سے زائد صوبے اور شہر جڑواں قراردئیے گئے ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے، اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔ خوشی ہے چینی عوام صدر شی جن پنگ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قابل قیادت کی رہنمائی میں عظیم قومی تجدید کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وہ اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی صورت میں چین کو ہمیشہ ایسا قابل اعتماد دوست ملے گا جو نہ صرف امن اور خوشحالی کی لہروں بلکہ چیلنجوں کے بڑھتے ہوئے طوفانوں میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    وزیراعظم نے چین کی قیادت اورعوام کو شیر کے سال اور بہار کے تہوار کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ انہیں امید ہے کہ پاک چین دوستی کا مقدس شعلہ پائیدار چمک اور گرمجوشی کے ساتھ چمکتا رہے گا۔ پاک چین دوستی زندہ باد!

  • پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین نے 40 سال محنت کی اور اپنی معیشت کو ترقی دے کر لوگوں کو غربت سے نکالا، میرا بھی بنیادی مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے، میں پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے چینی اصول سے رہنمائی لینا اور چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتا ہوں-

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان نے چینی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بہترین تعلقات ہیں اور آئندہ ہفتے چین کا دورہ کر رہا ہوں دورہ چین ہمیشہ باعث خوشی رہا ہے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں اور چین نے کورونا سمیت ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ شاہراہ قرارقرم بنتے وقت دشوار گزار راستوں کے باوجود کام ہوتا رہا سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان بہترین منصوبہ ہے جبکہ سی پیک پاکستان اور چین کو قریب لایا۔

    پرویز مشرف اثاثہ جات کیس: نیب چیئرمین کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان 40 سال مشکل میں رہا اور اسے میدان جنگ بنایا گیا اور مغربی افواج کے انخلا کے بعد وہاں انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہوا عالمی برادری افغانستان کی مدد کرے اور انسانی بحران سے بچانے میں تعاون کرے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، عالمی برادری بھارتی فو رسز کے مظالم پر خاموشی توڑے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے چینی کھلاڑیوں کو کرکٹ سکھائیں اور کورونا سے کھیل کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ خیبرپختونخوا میں گلگت سمیت دیگر علاقے کھیل کے لیے بہترین ہیں اور خنجراب پاس کے قریب پاکستان اور چین میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے خواہاں ہیں۔ چین کھیلوں میں آگے نہیں تھا مگر آج وہاں ترجیح دی جا رہی ہے –

    اے آر وائی نیٹ ورک کا ملازمین کی تنخواہیں 80 فیصد تک بڑھانے کا اعلان،وزیراعظم کا…

    عمران خان نے کہا کہ چین نے 40سال محنت کی اور اپنی معیشت کو ترقی دے کر لوگوں کو غربت سے نکالا، میرا بھی بنیادی مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے، میں پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے چینی اصول سے رہنمائی لینا اور چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس ماڈل کے ذریعے چین نے اجتماعی طور پر سبھی کو ترقی میں حصہ دار بنایا، تمام ملک جو پائیدار ترقی چاہتے ہیں وہ چین کے ماڈل سے سیکھ سکتے ہیں، چین میں ہر شعبے نے ترقی کی، ہم وہی ماڈل اپنانا چاہتے ہیں، دورہ چین ہمیشہ خوشی کا باعث رہا ہے ، آئندہ ہفتے چین کا دورہ کررہا ہوں، غربت کے خاتمے کیلئے ہم چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جماعت اسلامی کو زرداری مافیا نے دھوکہ دیا ،علی زیدی،پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی…

    انہوں نے کہا کہ ہمیں معیشت کو بہتر کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے جبکہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں چین سے معاونت کے خواہاں ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے پیداوار بڑھائے اور زراعت کو بہتر کرے بدقسمتی سے معیشت پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی جبکہ موسمیاتی تبدیلوں سے نمٹنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں شہر بڑھ رہے ہیں اور لوگ شہروں کی طرف آ رہے ہیں۔

    ​اسلام آباد ایئرپورٹ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ملازم منی لانڈرنگ میں سہولت کار نکلا

  • چین میں پاکستان کے نوادرات کی نمائش

    چین میں پاکستان کے نوادرات کی نمائش

    چھینگڈو(شِنہوا): چین میں پاکستان سمیت چھ ایشیائی ممالک کے نوادرات کی نمائش

    باغی ٹی وی : پاکستان سمیت چھ ایشیائی ممالک کے نوادرات کی نمائش جمعہ کو چین کے جنوب مغربی صوبے سیچھوان کے دارالحکومت چھینگڈو کے سچھوان میوزیم میں شروع ہوگئی نمائش کے دوران چین، پاکستان، شام، لبنان، جاپان اور کمبوڈیا سے لائے گئے مجموعی طور پر 270 ثقافتی آثار اور نوادرات رکھے گئے ہیں۔

    یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ اجلاس سے غیر حاضری کی وجہ بتادی

    پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ و میوزیمز نے نمائش کے لیے متعدد قیمتی ثقافتی آثار جن میں پینٹ شدہ مٹی کے برتن، کانسی سے بنے تیل کے لیمپ اور گندھارا تہذیب کے دریافت شدہ بدھا کے مجسمے فراہم کیے، جس سے چینی سامعین پاکستان کی قدیم ترین اور شاندار تہذیب کو سمجھ سکیں گے۔

    کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا احتجاج

    سیچھوان میوزیم کی ڈپٹی ڈائریکٹر شۓ دان کے مطابق پاکستان میں تخلیق ہونے والا گندھارا-بدھسٹ آرٹ مغربی اور مشرقی ثقافتوں کے امتزاج کا نمونہ ہے۔ گندھارا- بدھسٹ آرٹ شاہراہ ریشم کے ساتھ مشرق تک پھیلا اور اس کا اثر چین کے بدھ آرٹ پر بھی پڑا۔

    ڈالر کی قدر میں معمولی کمی،سونے کے نرخ بھی کم

    شۓ نے مزید کہا کہ سیچھوان میوزیم میں چھینگڈو میں دریافت ہونے والے جنوبی عہد کے وانفو مندر سے ملنے والے مجسموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے،
    جو گندھارا کے فنی انداز سے انتہائی متاثر ہیں۔

    اس نمائش کو تین حصوں میسوپوٹیمیا ، سندھ اور گنگا کی تہذیبوں اور ییلو اور یانگتسی دریاؤں کی تہذیب میں تقسیم کیا گیا ہے یہ نمائش 31 مارچ تک جاری رہے گی جس میں عوام کا داخلہ مفت ہے۔

    بھارتی حکومت کا 170 پاکستانی سیاحوں کو ویزے جاری کرنے سے انکار

  • چین کی حکمران جماعت کا شہباز شریف کو خط، اہم پیغام بھجوا دیا

    چین کی حکمران جماعت کا شہباز شریف کو خط، اہم پیغام بھجوا دیا

    چین کی حکمران جماعت کا شہباز شریف کو خط، اہم پیغام بھجوا دیا

    چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز کو اظہار ہمدردی اور نیک تمناؤں کے پرتپاک جذبات پر مبنی خط لکھا ہے،

    سی پی سی کی سینٹرل کمیٹی کے بیورو آف ساؤتھ اینڈ ساؤتھ ایسٹ ایشیائی امور کے ڈائیریکٹر جنرل میم یو من نے شہباز شریف کو خط ارسال کیا ہے ،کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ آپ کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر پر اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے آپ کی جلد صحت یابی کے متمنی ہیں ،پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک قد آور سٹیٹس مین اور چین کے دیرینہ دوست کے طور پر آپ نے دونوں جماعتوں اور ممالک کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنے اور عوام میں دوستی بڑھانے کے لئے جو طویل المدتی کوششیں کی ہیں، چین ان اچھی یادوں کو ہمیشہ خوشی سے یاد کرتا ہے کمیونسٹ پارٹی کے قیام کے سوسال مکمل ہونے پر آپ کے تہنیتی کا خیر مقدم کرتے ہیں کورونا وبا کے دوران کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) شانہ بہ شانہ کھڑے ہوئے اور ایک دوسرے کی حمایت کی جس سے ہمارے درمیان اور بھی زیادہ قربت آئی ہے

    چین کی حکمران جماعت کی جانب سے شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا کہ کورونا کے خلاف جنگ میں ہم چین کی طرف سے آپ کی جماعت کی ہر ممکنہ مدد کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں دعا ہے کہ پاکستان اس وائرس کو جلد شکست دے کورونا کے پس منظر میں ہم دونوں جماعتوں کے درمیان مزید رابطوں اور تبادلوں پر آمادہ ہیں تاکہ عوام کے مفاد میں ہمارے دونوں ممالک کے تعلقات نئی بلندیوں سے ہم کنار ہوں کمیونسٹ پارٹی کے خط میں شہباز شریف کے لئے پرتپاک جذبات کا اظہار کیا گیا

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    پاکستان پر جتنا بھی دباوَ آئے گا ہم چین کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی نہیں لائیں گے، وزیراعظم

    مُودی فلموں میں بھی آزادی کے نعروں سے خوفزہ،بھارت کی فلم انڈسٹری بی جے پی کے زیرعتاب،مقدمہ درج

    بدنامہ زمانہ کلب نے مسلمانوں کے لئے "حلال سیکس” متعارف کروا دیا

    لاک ڈاؤن میں سوشل میڈیا پر لڑکیوں کا "ریپ” کرنے کی منصوبہ بندی

    لندن پلٹ جوان نے کئے گھریلو ملازمہ سے جسمانی تعلقات قائم، ملازمہ میں ہوئی کرونا کی تشخیص

  • مودی یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا نہ کسی کو اٹھایا،چین کی جانب سے لڑکے کے اغوا پر کانگریس کا ردعمل

    مودی یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا نہ کسی کو اٹھایا،چین کی جانب سے لڑکے کے اغوا پر کانگریس کا ردعمل

    مودی یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا نہ کسی کو اٹھایا،چین کی جانب سے لڑکے کے اغوا پر کانگریس کا ردعمل
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی چین بھارت تنازعہ کو لے کر مودی سرکار پر مسلسل تنقید کرتے رہتے ہیں

    اب حالیہ واقعے جس میں چینی فوج پر ایک لڑکے کے اغوا کا الزام لگایا گیا ہے پر بھی راہول گاندگی نے مودی سرکار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، راہول گاندھی نے اس واقعہ کو سنگین قرار دیا اور کہا کہ بھارتی یوم جمہوریہ سے چند روز پہلے بھارتی نوجوان کو چین نے اغوا کیا، ہم میرام تارون کے خاندان کے ساتھ یکجہتی کرتے ہیں اور نوجوان کی بازیابی کی امید بھی کرتے ہیں ، ہمت نہیں ہاریں گے تا ہم مودی کی بزدل خاموشی انکا بیان ہے، کچھ بھی ہو جائے مودی کو فرق نہیں پڑتا

    قبل ازیں کانگریس کے رہنما رندیپ سنگھ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مودی بتائے چین کو ہماری زمین پر دوبارہ دراندازی کی جرات کیسے ہوئی ؟ چین نے یہ ہمت کیسے کی کہ ہمارے شہری کو اغوا کر لیا، مودی سرکار کیوں خاموش ہے؟ مودی سرکار کہیں اب یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا اور نہ ہی کسی کو اٹھایا گیا

    واضح رہے کہ ارونا چل پردیش سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ تاپر گاؤ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی علاقے اپرسیانگ سے چین کی پیپلزلبریشن آرمی نے 17 سالہ میرام ترون کو اغوا کر لیا ہے پاسیگھاٹ ویسٹ کے ایم ایل اے نینونگ ایرنگ نے چینی فوج کے ذریعہ مبینہ طور پر اغوا کیے گئے ہندوستانی نوجوانوں کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کیا ہے

    مسٹر گاؤ نے بھارتی وزیراعطم مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور بھارتی فوج کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا، بھارت کی تمام ایجنسیوں سے درخواست ہے کہ وہ ان کی جلد رہائی کے لیے قدم اٹھائیں،

    ستمبر 2020 میں،پی ایل اے نے اپر سبانسیری ضلع سے پانچ لڑکوں کو اغوا کیا تھا انہیں ایک ہفتے بعد رہا کر دیا گیا تھا ، مارچ 2021 میں ایک 21 سالہ نوجوان کو چینیوں نے اغوا کیا تھا اسے بھی بعد میں رہا کر دیا گیا تھا ،

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان

    چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت

    چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

    سرد موسم ،لداخ میں بھارتی فوج مشکل میں،بھارتی فوجی حکام نے چین کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے

    لداخ تنازعہ،بھارت کو ایک بار پھر سبکی، چین نہ مانا، مذاکرات ناکام