Baaghi TV

Tag: چین

  • ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے، چین کا اعلان

    ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے، چین کا اعلان

    چین نے اعلان کیا ہے کہ ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : ” روئٹرز” کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے منگل کو بریفنگ میں بتایا کہ چین توقع کرتا ہے کہ 2022 کے ونٹر اولمپکس کو "آسان طریقے سے” اور شیڈول کے مطابق منعقد کیا جائے گا،کورونا کی نئی قسم اومی کرون ویرینٹ کے آنے سے اولمپکس کے شیڈول پر فرق نہیں پڑے گا.

    کورونا کی نئی قسم، سعودی حکومت کیجانب سےعمرہ زائرین کے لیے نئی ہدایات جاری

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤکا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ نئے وائرس کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کی ہماری کوششوں کو یقینی طور پر کچھ چیلنج درپیش ہوں گے،لیکن جیسا کہ چین کو کورونا وائرس کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کا تجربہ ہے، ہم آسانی اور کامیابی کے ساتھ اس چیلنج کو مکمل کر لیں گے۔

    بیجنگ میں 4 فروری سے 20 فروری تک تمام ایتھلیٹس اپنے متعلقہ اہلکاروں کے ساتھ کھیلوں کا حصہ بنیں گے لیکن ان میں غیر ملکی سیاح اور شائقین موجود نہیں ہوں گے۔

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟ بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    کھیلوں میں کھلاڑیوں کو کلوز لوپ ببل میں رکھا جائے گا ، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کورونا کی جانچ کی جائے گی۔ چین میں صحت کے حکام کے مطابق 1.1 بلین سے زیادہ افراد کو کورونا وائرس کے خلاف مکمل طور پر ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

    اپنی "زیرو کوویڈ” پالیسی کے تحت، چین کے پاس دنیا کے سخت ترین کوویڈ 19 کی روک تھام کے اقدامات ہیں۔

  • چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    بیجنگ:چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے،اطلاعات کے مطابق چین نے ماہ اکتوبر میں اندرون ملک سے تعلق رکھنے والے کورونا وائرس کے نئے واقعات پر حال ہی کنٹرول قائم کیا ہے تو یانگزی ڈیلٹا کے اطراف میں واقع تین شہروں میں ایک نئی وبا منظر عام پر آئی ہے۔

    مقامی حکومت کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق بتایا گیا ہے کہ کل صبح شنگھائی میں 3 خواتین سہیلیوں کے ٹیسٹ مثبت آئے، خواتین کے قریبی رابطے میں ہونے والے 2 مزید افراد صوبہ سیسانگ کے شہر ہانگ چو میں اور 1 شخص سوکو شہر میں تھا۔ جن میں وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    یہ بتایا گیا ہے کہ خواتین گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہینگکو سے اپنے دو مرد دوستوں کے ساتھ سوکو میں رات کے کھانے پر ملی تھیں، اور اسی شہر میں گروپ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے ایک اور شخص کو کووڈ-19 پایا گیا تھا۔

    خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو گا کیونکہ ان کیسز پر فائلیشن سٹڈی جاری ہے جن کی اصل کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا ہے۔

    خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں کوویڈ 19 کی ایک نئی قسم کی تشخیص کی ہے جس کے اندر میوٹیشنز کی بڑی تعداد موجود ہے۔سائنسدانوں نے اس کی وجہ کرونا (کورونا) کیسز میں بڑھتے ہوئے اضافے کو قرار دیا ہے۔

    سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس نئے وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے افریقہ کو بڑی مقدار میں ویکسین کی ہنگامی بنیاد پر ضرورت ہے۔

    برطانیہ کے ویلکم سینگر انسٹی ٹیوٹ کے جینومکس انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جیفری بیرٹ نے کہا کہ ویکسینز بھیجنے کا وقت اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’نئے ویریئنٹ کو پھیلنے سے روکنے کے علاوہ تخلیقی انداز میں متاثرہ علاقوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی افریقہ میں رواں ماہ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے کرونا کے کیسز کی تعداد میں 10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

  • چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟   بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟ بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    بات ہے 2020 کے شروع کی میں جو کہ چائنا کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں طالب علم ہوں معمول کے مطابق چھٹیاں ہوئی تھی تو میں اپنے گھر ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں پاکستان آیا تو بیس یا پچیس دن کے بعد خبریں آنا شروع ہوگئی کہ چائنہ میں بہت زیادہ کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے۔ مجھے پاکستان کے کافی لوگ بھی پوچھتے تھے کہ اب ادھر کیسے حالات ہیں تو میں کہتا پھرتا تھا کہ حالات نارمل ہی ہیں اور کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہم سب کو یہی تھا کہ حالات معمول کے مطابق ایک دو مہینے میں ٹھیک ہوجائیں گے اور ہم واپس چلے جائیں گے۔ حالات بدلتے گئے اور ہر ٹی وی چینل پہ آنا شروع ہو گیا کہ حالات بہت زیادہ خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

    ہم اپنی یونیورسٹی کی مینجمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے وہ ہمیں یہی کہہ رہے تھے آپ کا یہ والا سمسٹر آن لائن ہے اگلے سمسٹر سے آپ کو یونیورسٹی واپس بلا لیا جائے گا اور معمول کے مطابق آپ کی کلاسز شروع کروا دی جائیں گی۔

    تو جناب کرتے کرواتے ایک سال یوں ہی گزر گیا۔ تو جب اگلا سال شروع ہونا تھا تو یونیورسٹی نے ہم سے فیس کا مطالبہ کیا تو ہم جو کہ پاکستان میں تھے اور کورونا وائرس کی وجہ سے سب کے معاشی حالات جو تھے وہ اتنے زیادہ اچھے نہیں تھے۔ تو ہم نے یونیورسٹی سے بولا کہ ہمیں فیس میں رعایت دی جائے اور جتنی جلدی ہو سکے ہمیں واپس بھی بلایا جائے۔ یونیورسٹی نے ہماری ایک نہ سنی اور ہم سے پوری کی پوری فیس چارج کی۔ خیر کرتے کرواتے وہ سال بھی گزر گیا یا اور ہم ابھی تک پاکستان میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

    اب مسئلہ یہ بنا ہوا ہے ہم سب کے لیے کہ ہم چوتھے سال میں یا پانچویں سال میں ہو چکے ہیں اور ہماری کلاسز آن لائن ہی چل رہی ہیں۔ اور ہم جب بھی اپنی یونیورسٹی سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں کب واپس بلایا جائے گا ؟ تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ ہماری حکومت کرے گی ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ صرف سٹوڈنٹ ویزے والے ہی ہیں جو ملک میں واپس نہیں جا سکتے ہیں۔ جتنے بھی لوگ وہاں پر کام کرتے ہیں ان کو جانے کی اجازت ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں اور کدھر جائیں؟

    ہم جتنے بھی اسٹوڈنٹس ہیں ہم نے سوشل میڈیا پر بھی بڑی کوشش کی ہے اور اپنا پوائنٹ سب کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی۔ ہم بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ہم تعلیم بے شک بیرون ملک حاصل کر رہے ہیں لیکن ہمارا دل پاکستان میں ہی ہے۔ اور ہم پاکستانی ہی ہیں۔ تو خدارا ہمارے فیوچر کے ساتھ نہ کھیلا جائے اور کوئی نہ کوئی بات کی جائے تاکہ چینی حکومت ہمیں جلد از جلد اپنے ملک میں واپس بلا لے۔

    ہم میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جنہوں نے وزیروں اور مشیروں سے ملاقاتیں کیں اور ان کو سارا کا سارا قصہ بتایا۔ لیکن بڑے دکھ کی بات ہے اور نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے بھی اس معاملے میں ہماری کوئی بھی مدد نہیں کی اب تک۔

    اور دوسری جانب جو پاکستان کے میڈیکل کا ادارہ ہے جس کو ہم پاکستان میڈیکل کمیشن کہتے ہیں۔ اس ادارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ جو بچے آن لائن ڈگری حاصل کر رہے ہیں ہم ان کو پاکستان میں پریکٹس کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ یہ تو ہمارے ساتھ ظلم ہے۔ ہمارے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں کہ اپنے دکھ اور کیفیت کو کیسے بیان کریں۔ ہمارے والدین بھی بہت زیادہ صدمے سے دوچار ہو رہے ہیں انہی حالات کی وجہ سے۔اب آپ ہی بتائیں کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں ؟ کیا ہمارے جینے کی بھی وجہ بچتی ہے ؟ ہمارے والدین جو کہ بہت زیادہ خواب سجائے بیٹھے تھے ان سب کی آنکھیں بہت افسردہ نظر آتی ہیں۔

    انہی حالات کی وجہ سے ہم ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نہ صرف پیسے کا نقصان ہوتا جا رہا ہے بلکہ وقت کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ کی بات تو یہی ہے کہ ہمیں اپنا مستقبل بھی نظر نہیں آ رہا کہ کس طرف جائے گا۔ حالانکہ پاکستان میڈیکل کمیشن کو سوچنا تو یہ چاہیے کہ کرونا کے دوران ساری دنیا کے حالات اس طرح کے تھے کہ سٹوڈنٹس نے آن لائن کلاسز لیں ہیں۔ اگر پاکستان میڈیکل کمیشن ہمارا اتنا خیر خواہ ہے تو ہمیں پاکستان کے جو ٹیچنگ ہوسپٹلز ہیں ان میں روٹیشنز کی آفیشلی اجازت دے۔ یا پھر ہماری حکومت ایسے کرے کہ ہمیں کسی بھی طرح چین میں واپس بھیجے تاکہ ہم ادھر جا کے اپنی تعلیم باقاعدگی سے حاصل کر سکیں۔

    اور ہماری پاکستانی حکومت سے اور پاکستان میڈیکل کمیشن سے یہی گزارش ہے کہ جو بچے کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے آخری سال آن لائن لے چکے ہیں ان کی ڈگری کو تسلیم کیا جائے اور ان کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوسکیں۔

  • چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی ایٹمی بجلی گھر” تیار کر لیا

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی ایٹمی بجلی گھر” تیار کر لیا

    بیجنگ: چین نے خلا میں استعمال کےلیے ایٹمی بجلی گھر کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا ہے جس میں ایک میگاواٹ بجلی بنائی جا سکے گی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ اب تک کا طاقتور ترین خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ کے زیرِ تکمیل خلائی ایٹمی بجلی گھر سے بھی 100 گنا زیادہ بجلی پیدا کرسکتا ہے ناسا اپنا نیا ایٹمی بجلی گھر 2030 تک چاند کی سطح پر اُتارنا چاہتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    خبر کے مطابق، اس خلائی ایٹمی بجلی گھر کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں کیونکہ چینی حکومت نے اپنے خلائی پروگرام میں ایٹمی بجلی گھروں سے متعلق زیادہ تر معلومات خفیہ رکھی ہوئی ہیں البتہ اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ اس ایٹمی بجلی گھر کا مقصد چاند، مریخ اور دور دراز سیاروں پر بھیجے جانے والے مجوزہ خلائی جہازوں کو لمبے عرصے تک توانائی فراہم کرنا ہے۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس منصوبے پر چینی حکومت کی فنڈنگ سے 2019 میں کام شروع ہوا تھا جبکہ حالیہ چند دنوں میں اس نے اپنے پہلے پروٹوٹائپ کی شکل میں پہلا سنگِ مِیل (مائل اسٹون) عبور بھی کرلیا ہے یہ خاص طور پر ان حالات اور مقامات کےلیے مفید ہوگا جہاں سورج کی روشنی یا تو زمین کے مقابلے میں بہت مدھم ہوتی ہے یا پھر اس میں بار بار اتنا زیادہ اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے کہ شمسی توانائی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق

    چین کا منصوبہ 2023 سے 2030 تک بالترتیب چاند کے تاریک حصے پر (جو ہمیشہ زمین کے مخالف سمت میں رہتا ہے) اور مریخ تک بڑی تعداد میں خلائی جہاز بھیجنا ہے۔ علاوہ ازیں، وہ پہلے ہی 2030 تک اوّلین انسان بردار پرواز بھی مریخ تک بھیجنے کا اعلان کرچکا ہے۔

    خبر میں ایک چینی ایٹمی سائنسدان کی شناخت ظاہر کیے بغیر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خلائی ایٹمی بجلی گھر کو مختصر جسامت کے ساتھ زیادہ بجلی پیدا کرنے کے قابل بنانے کےلیے ٹیکنالوجی کو غیرمعمولی ترقی دی گئی ہے۔

    ایئربس نے نیا طیارہ A350F لانچ کر دیا

    واضح رہے کہ اب تک خلا میں استعمال کےلیے جتنے بھی ایٹمی بجلی گھر بنائے گئے ہیں وہ صرف چند سو واٹ بجلی بنانے کے قابل رہے ہیں جبکہ 10 کلوواٹ سے 300 کلوواٹ بجلی بنانے کے بیشتر منصوبے اب تک اپنی تکمیل کے مراحل طے کررہے ہیں اس لحاظ سے یہ دنیا کا پہلا خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو ایک میگاواٹ (1000 کلوواٹ) جتنی بجلی بنائے گا-

    چینی خلائی ایٹمی بجلی گھر کا انکشاف ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ نے اپنے نمائندہ بیجنگ اسٹیفن چین کی ایک تازہ خبر میں کیا ہے-

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

  • شہبازشریف نے اگلے مہینے قیامت اور ترجمان وزارت خزانہ نے اگلے مہینے کی اچھی خبردے دی

    شہبازشریف نے اگلے مہینے قیامت اور ترجمان وزارت خزانہ نے اگلے مہینے کی اچھی خبردے دی

    لاہور: شہبازشریف نے اگلے مہینے قیامت اور ترجمان وزارت خزانہ نے اگلے مہینے کی اچھی خبردے دی ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ڈالر کی تاریخی بلندی کو معاشی تباہی کے طوفان کی علامت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یکم دسمبر سے مزید قیامت خیز مہنگائی آنے والی ہے۔

    اپنے ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ جب وزارت خزانہ اپنے مشیر خزانہ کے بیان کی تردید کرے، جھوٹے اعدادوشمار دئیے جائیں تو پھر معیشت کا ایسے ہی دھڑن تختہ ہوتا ہے۔ ریکارڈ تجارتی خسارہ ملکی معاشی تباہی کے خطرناک اشارے ہیں، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کی بلند ترین سطح معاشی غلط سمت کی بین دلیل ہے۔

    انہوں نے کہاکہ قرض، مہنگائی، خسارے، ڈالر ہر چیز ریکارڈ توڑ چکی، ملک میں اگر عوام کی منتخب حکومت ہوتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ ملک کو جس معاشی کھائی میں دھکیل دیاگیا ہے، جلد کچھ نہ کیا گیا تو واپسی بھی ناممکنات میں سے ایک مسئلہ بن جائے گی۔

    شہباز شریف نے دعوی کیا کہ یکم دسمبر سے مزید قیامت خیز مہنگائی آنے والی ہے، حکومت پٹرول مہنگا کردے گی جس سے عوام الناس اورپریشان ہوجائیں گے

    دوسری طرف ترجمان وزارت خزانہ نے خوشخبری سناتےہوئے کہا ہے کہ ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے عوام کو اگلے ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بڑا ریلیف ملنے کی نوید سنادی ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی دیکھی گئی جو کل قیمت کا 11.5فیصد بنتی ہے جس کے بعد فی بیرل قیمت 72 اعشاریہ91ڈالرز تک گرگئی۔

    قیمت میں یہ کمی اپریل 2020ء کے مقابلے میں سب سے بڑی کمی ہے جوکہ ڈیڑھ سال بعد ہوئی ہے، ماہرین نے تیل کی زائد پیداوار بھی اس کمی کی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔

    ٹویٹر پر شیئر کیے گئے کلپ کے کیپشن میں مزمل اسلم نے لکھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر 72.91ڈالرفی بیرل کی سطح پر آگئی

     

     

  • بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لداخ میں چین کی جانب سے بھارتی زمین پر قبضے کے بعد بھارت میں چین کے خلاف بڑی مہم چلائی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے

    ہندو انتہا پسندوں نے چینی مصنوعات جلا کر بھی بائیکاٹ کا پیغام دیا تا ہم اب ایک حیران کن رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے سامنے آنے کے بعد بھارت کی سیاسی قیادت اور عوام مودی سرکار پر سیخ پا ہو چکے ہیں،مودی سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارتی مصنوعات کو ترک کیا جائے تا ہم بھارت پھنس چکا ہے اور چینی مصنوعات کے بائیکاٹ سے بھارت کا اپنا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران چین سے طبی درآمدات میں 75 فیصد اضافہ ہوا، چینی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم کے باوجود چینی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، یہ نہ صرف ان نعروں جو چین کی مصنوعات کی بائیکاٹ کے لئے لگائے گئے تھے پر سوالیہ نشان بلکہ بھارت کو خود کفیل بنانے کی مہم کے لئے بھی بہت بڑا جھٹکا ہے

    بھارت اور چین کے مابین لداخ تنازعہ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے، چین نے نہ صرف بھارتی زمین پر قبضہ کیا بلکہ بھارتی فوج کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں انکی تصاویر بھی وائرل کیں ، بھارتی سیاسی رہنما چین سے بائیکاٹ کا کہتے رہے اور مودی سرکار سے سچ پوچھتے رہے کہ مودی سرکار نے بھارتی فوجی کیوں مروائے؟ تا ہم اب یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد مودی سرکار خاموش ہے کہ چین کے ساتھ تنازعہ کے باوجود، جب چین بھارت کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھا چین سے طبی سامان کی درآمدات میں اتنا اضافہ کیوں ہوا،رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس سال 2020-21 میں بھارت نے سب سے زیادہ طبی سامان چین سے درآمد کیا اور چین کو بھارت میں سب سے زیادہ سامان درآمد کرنے کے حوالہ سے پہلا نمبر مل گیا، اس سے قبل امریکہ اور جرمنی سے بھارت زیادہ طبی مصنوعات درآمد کرتا تھا، اب چین نے امریکہ اور جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑدیا،

    خبر رساں ادارے کے مطابق چین سے میڈٹیک اور میڈیکل ڈیوائس کی درآمدات میں 75 فیصد اضافہ ہوا اس میں آکسی میٹر، ڈائگناسٹک انسٹرومنٹ، ڈیجیٹل تھرمامیٹر اور کیمیکل ریجنٹ کی تعداد بہت زیادہ ہے ،

    چین کے ساتھ تنازعہ کو لےکر بھارتی اپوزیشن جماعتیں مودی سرکار پر تنقید کرتی رہتی ہیں، گزشتہ دنوں کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد تنازعہ کے حوالہ سے مودی سرکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے تھا کہ چین نے ڈوکلام کے پاس تین گاؤں بنا لئے، مودی سرکار نے بھارت کی قومی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے، مودی کی خاموشی سے بھارت کی سالمیت خطرے میں ہے ،کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے بھارتی مسلح افواج کی حوصلہ افزائی کی بجائے ہمت کم کر دی، چین نے کیوں گاؤں بسائے، چینی دراندازی کے باوجود مودی سرکار خاموش ہے، مودی پردے کے پیچھے چھپنے کی بجائے جواب دیں چینی فوجی سرگرمیوں پر نئے سیٹلائٹ تصویر گزشتہ ایک سال میں بھوٹانی علاقہ میں چینی گاؤں کی مبینہ تعمیر کو دکھاتے ہیں، کئی نئے گاؤں کو تقریباً 100 اسکوائر کلومیٹر (25 ہزار ایکڑ) کے علاقہ میں پھیلا ہوا دیکھا جاتا ہے ان گاؤں کی تعمیر مئی 2020 اور نومبر 2021 کے درمیان کی گئی ہے

    کانگریس کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ مودی سرکار نے کبھی سچ نہیں بولا، اب پینٹا گون کی ایک رپورٹ نے بھی تصدیق کر دی ہے، پینٹا گون نے امریکی کانگریس کو ایک سالانہ رپورٹ دی ہے جس میں کہا گیا کہ بھارتی علاقے ارونا چل پردیش کے اندر چین نے دراندازی کی ہے، چین نے ایک گاؤں کی تعمیر کی ہے اور یہ گاؤں چین کے لئے فوجی جنگی چھاؤنی کے طور پر استعمال ہو گا ،چین نے کم از کم 100 سے زائد گھروں کی تعمیر کی جو کثیرالمنزلہ بھی ہیں

    دوسری جانب چین نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا، امریکہ بھی دیکھتا رہ گیا، چین دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا ،امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق عالمی دولت دو دہائیوں میں 156 کھرب سے بڑھ کر 514 کھرب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے جس میں سے چین کی دولت 120 کھرب ڈالرز اور امریکا کی دولت 90 کھرب ڈالرز ہے دنیا بھر کی دولت کا دوتہائی حصہ صرف 10 فیصد اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ عالمی دولت کا 68 فیصد حصہ رئیل اسٹیٹ سے منسلک ہے

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق دس ممالک کی قومی بیلنس شیٹس کا جائزہ لیا گیا ہے جو دنیا کی 60 فیصد سے زیادہ آمدنی کی نمائندگی کرتے ہیں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عالمی مجموعی مالیت میں چین کا تقریباً ایک تہائی فائدہ ہے۔دنیا بھر میں مجموعی مالیت 2020 میں 514 ٹریلین ڈالر تک بڑھ گئی، جو 2000 میں 156 ٹریلین ڈالر تھی۔ بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک میں دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں دو تہائی سے زیادہ دولت 10 فیصد امیر ترین گھرانوں کے پاس ہے، اور ان کا حصہ بڑھ رہا ہے۔

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی فوج پر بڑا حملہ

    قبل ازیں بھارت کے زیر انتظام لداخ میں کنٹرول لائن پر چین اور بھارت کی افواج کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ کے بعد چائنہ نے بھارتی فوجیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کردیں جس میں فوجیوں کو زخمی حالت میں دکھایا گیا ہے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

    چین اور بھارت کے مابین بھی لداخ کے حوالہ سے کشیدگی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، چین نے بھارتی کرنل سمیت 20 فوجیوں کو مار دیا تھا، بھارت چین کے معاملے پر خاموش رہا،کبھی دھمکیاں بھی دیتا رہا لیکن چین بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دیتا رہا،چین نے گھس کر بھارتی زمین پر لداخ میں قبضہ کیا جس کو تاحال بھارت چھڑا نہیں سکا،

    لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

    مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

    لداخ سے ذرائع کے مطابق گھس کر مارنے کی بھڑکیں مارنے والے بھارت کی آج کل بولتی بند ہے، اس کی وجہ سکم اور لداخ کی سرحد پر چینی فوج کی وہ نقل وحرکت ہے جس سے بھارتی فوج اور مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان

    چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت

    چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

    سرد موسم ،لداخ میں بھارتی فوج مشکل میں،بھارتی فوجی حکام نے چین کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے

    پاکستان اور چین کے دفاعی یونٹس پر سائبر حملے کرنے والا بھارتی گروہ بے نقاب

  • چینی قوم چین کی افواج کی شکرگزار:وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز

    چینی قوم چین کی افواج کی شکرگزار:وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز

    اسلام آباد:آپ نے ہماری عزت میں اضافہ کیا: وادی گلوان میں بھارتی فوجی کو مارنے والے چینی فوجی کےلیے اعزاز ،اطلاعات کے مطابق چین کی حکومت ، عوام اور چینی فوج نے اپنے اس فوجی کواپنا ہیروقراردیا ہے جس نے پچھلے سال وادی گلوان میں بھارتی فوجیوں کو کان پکڑوائے اورناک سے لکیریں بھی بنوائیں‌ اور پھربدتیمز بھارتی فوجی کوجہنم واصل کیا

    اس حوالے سے چینی میڈیا کا کہنا ہےکہ گزشتہ سال سرحدی علاقے وادی گلوان میں چینی اور بھارتی فوجیو ں کی جھڑپ ہوئی تھی جس کی مختلف تصویریں سوشل میڈ یا پر سامنے آئیں تو بھارتی فوج کو پوری دنیا میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔

     

     

     

     

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے سوشل میں پر سامنے آنے والی تصویریں بھارتی دعووں کے بر عکس تھیں ، وادی گلوان میں جھڑپ کے بعد بھارتی میڈ یا اور حکمرانوں نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے اور کہا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے جواں مردی سے چینی فوج کا مقابلہ کیا جس کے بعد تصویریں اور ویڈیوز سامنے آئیں جس میں دیکھا گیا کہ چینی فوج نے بھارتی فوجی اہلکاروں کو مارا اور ان کے کان بھی پکڑوائے ۔

    چینی سرکاری میڈیا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان جھڑپوں میں بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے چینی فوجی سارجنٹ تاﺅ پینگونگ کو سیکنڈ کلاس میرٹ ایوارڈ دیا گیا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ چینی عوام نے چین کی افواج کا شکریہ ادا کیا ہے کہ وہ اپنی جانوں پرکھیل کے اپنے ہم وطنوں‌ کی جانوں کی حفاظت کررہےہیں اوریہ ان کےلیے ایک اعزازسے کم نہیں‌

  • ” پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا”

    ” پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا”

    اسلام آ با د:پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا ہے کہ 2011 سے 2019 تک چین اور پاکستان کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کا حجم 490 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 830 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے جس میں شرح اضافہ تقریبا 70 فیصد ہے۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق ہمسایہ ملک چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا پروٹوکول یکم جنوری 2020 سے نافذ العمل ہو چکا ہے اور دونوں فریقوں کی 75فیصد مصنوعات پر بتدریج "زیرو ٹیرف” تک کمی لائی جائے گی، جس سے چینی منڈی کے مواقع کے ساتھ پاکستان میں اعلی معیار کی زرعی مصنوعات فراہم کی جا سکیں گی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اعلی معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے.

    یہ بھی یاد ر ہے کہ اس سے قبل چین کے سفیر نونگ رونگ نے چین کی کسٹمز جنرل ایڈمنسٹریشن کی نما ئند گی کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ساتھ ” پاکستانی پیاز کی چین برآمد کے لیے معائنہ اور قرنطینہ کی ضروریات کے پروٹوکول” پر باضابطہ دستخط کیے۔یہ اسلام آباد میں زرعی برآمدات کے لیے پہلا معاہدہ ہے جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ پاکستانی پیاز نے چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے.

    دوسری طرف اس موقع پر وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے وزیر سید فخر امام نے اس موقع پر کہا کہ چین کے پاس انتہائی وسیع اور مضبوط صارف مارکیٹ ہے اور امید ہے کہ پروٹوکول پر دستخط کے بعد پاکستان چین کو مختلف اعلی اقسام کی پیاز برآمد کر سکتا ہے۔ اس وقت چین پاکستان اقتصادی راہداری دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اس مرحلے کی ترقی کا مرکز ہے۔ مستقبل میں، پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید بڑھانے اور چین میں آم، چیری اور ڈیری سمیت دیگر زرعی مصنوعات کی برآمد کو ترقی دینے کی امید رکھتا ہے:

     

  • چین کا مقابلہ، امریکی سینیٹ نے بل منظور کر لیا

    چین کا مقابلہ، امریکی سینیٹ نے بل منظور کر لیا

    ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکی سینٹ نے190 ارب ڈالرکے پیکج کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کا مقابلہ امریکی سینیٹ نے بل منظور کر لیا بل 32 کے مقابلے میں 68 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔

    190 ارب ڈالر کی مدد سے ٹیکنالوجی اور صنعتی میدان میں چین کا مقابلہ کیا جائے گا،پیکج سے7 سے 10نئے سیمی کنڈکٹرز پلانٹ لگائے جائیں گے،امریکی پیداوار اور تحقیق بڑھانے کے لیے 54 ارب ڈالر اضافی خرچ کیے جائیں گے۔

    بل منظوری کے لیے اب ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ امریکی حکومت اتحادیوں کی مدد سے بھی چین کا بڑھتا اثرورسوخ کم کرنے کی کوشش کرے گی۔

  • زونرجی سی ایس آر کی مد میں مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے ، ڈاکٹر اختر ملک

    زونرجی سی ایس آر کی مد میں مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے ، ڈاکٹر اختر ملک

    وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر اختر ملک سے دو رُکنی چینی وفد کی ملاقات ہوئی
    زونرجی کمپنی کے جی ایم شُو ہونگ چینگ کی وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر اختر ملک سے ملاقات ہوئی
    پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کی ایم ڈی میڈم ثانیہ اویس اور زونرجی کے لیگل ہیڈ آغا ارشیاں بھی موجود تھے۔
    باہمی دلچسپی کے امور اور کارپوریٹ سوشل رسپونسبیلٹی پر بات چیت ہوئی۔ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا ہے کہ زونرجی سی ایس آر کی مد میں مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے ۔ بین الاقوامی انرجی کمپنیوں کو اپنے منافع کا کچھ حصہ تعلیم اور صحت پر خرچ کرنا چاہیے۔ ساہیوال میں سی ایس آر کی مد میں محکمہ توانائی نے ٹرسٹ قائم کیا ہے۔
    اس ٹرسٹ کے تحت ٹیکنکل ٹریننگ سکول اور ہیپاٹائٹس کلینکس کام کام رہے ہیں۔