Baaghi TV

Tag: چین

  • 20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    بیجنگ: چین کے جدید ترین ہائپرسونک لڑاکا طیارہ جس کا ڈیزائن 20 سال پہلے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے مسترد کردیا تھا لیکن اب چین اسی ڈیزائن پر بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ ڈیزائن 1990 کے عشرے میں ’ناسا‘ سے وابستہ چینی نژاد چیف انجینئر منگ ہانگ تانگ نے بنایا تھا جسے امریکی حکام نے مسترد کردیا لیکن چین میں اس ڈیزائن نے بڑھتی ہوئی توجہ مبذول کرائی ہےکچھ چینی خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں چینی محققین کا خاتمہ چین کے ہائپرسونک ہتھیاروں کے پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سال 2000 میں امریکا اور چین میں تناؤ بڑھنے کے بعد منگ ہانگ تانگ سمیت درجنوں چینی ماہرین اپنے وطن واپس آگئے؛ اور تقریباً اسی زمانے میں چین نے بھی ہائپرسونک طیارے کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا اس طیارے کے پروٹوٹائپ انجن کی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں البتہ یہ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    یہ ’ناسا‘ کے متروک ’ایکس 47 سی‘ (X-47C) منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر تانگ جو کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ناسا کے ہائپرسونک پروگرام کے چیف انجینئر تھے نے دو مرحلوں والا طیارہ ڈیزائن کیا تھا پہلے مرحلے میں اس کے انجن،عام ٹربا ئن جیٹ انجن کی طرح کام کرتے ہوئے اسے مناسب بلندی پر پہنچا تے پھر تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے لیے یہ ’ہائپر سونک موڈ‘ میں چلے جاتے اور طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا زیادہ ہوجاتی۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس پر بوئنگ کارپوریشن میں ’مینٹا ایکس 47 سی‘ پروگرام کے عنوان سے ابتدائی کام ہوا تھا لیکن بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہ کی بناء پر ناسا نے یہ منصوبہ منسوخ کرد یا اب تک چینی ہائپرسونک طیا رے کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کے انجنوں کو جیا نگسو، چین میں واقع ’نا نجنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس‘ کی جدید ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے یہ ہوائی سرنگ، طیاروں اور میزائلوں کے پروٹوٹائپس کو آواز سے 4 تا 8 گنا رفتار پر آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے توقع ہے کہ اس کامیابی کے بعد چینی ہائپرسونک طیارے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرسکے، اسے تکنیکی زبان میں ’ہائپرسونک‘ کہا جاتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

  • کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    کورونا کا خوف، چین کے صوبے زی جیانگ میں کورونا کیسز میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ کر دیئے گئے۔

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کو کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئیں، زی جیانگ یعنی ملک کے مشرقی ساحل پر واقع ایک بڑے صنعتی اور برآمدی مرکزمیں چین کے مقامی طور پر 44 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں وائرس متاثرین کی تعداد 200 ہو گئی ہے۔

    پاکستان میں پہلےاومی کرون کیس کی تصدیق

    انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے 5 لاکھ 40 ہزار لوگوں کو قرنطینہ کیا ہے صوبے میں مسائل اس وقت سامنے آئے جب چینی میڈیا نے تیزی سے پھیلنے والے اومی کرون قسم کے پہلے کیس کی شناخت کی خبر شائع کی، جس کے بعد صوبے میں اومی کرون سے بچاؤ کے لیے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    برطانیہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    میڈیا کے مطابق اومی کرون سے متاثرہ شخص 9 دسمبر کو بیرون ملک سے آیا تھا، متاثرہ شخص کو اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل کر دیا گیا ہے صوبے کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر ہانگژو میں کئی کمپنیوں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پروڈکشن کا کام معطل کر دیا ہے فلائٹ ٹریکر ویری فلائٹ کے ڈیٹا کے مطابق ہانگزو کی کئی پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں-

    برطانیہ میں حالات کنٹرول سے باہر: اومی کرون کا پھیلاؤ تیز، کورونا الرٹ لیول 3 سے…

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد مریض اس وقت اسپتالوں میں زیر علاج ہیں برطانوی وزیراعظم بورس جانس نے پیر کے روز اومی کرون سے مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی جانسن نے نامہ نگاروں کو بتایا، "افسوس کی بات ہے کہ اب کم از کم ایک مریض کی اومی کرون کے ساتھ موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    لندن : جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر کا خطرہ،سائنسدانوں نے خبردار کر دیا

    برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے، مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،کرونا کی اس نئی قسم سے ویکسین سے بھی محفوظ رہنا مشکل ہے، برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں اضافے کے بعد کرونا الرٹ لیول دوسری بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا ہے-

    اومی کرون کیسز، ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی کرسمس پارٹی منسوخ

    میڈیکل آفیسر کا کہنا ہے کہ اومیکرون کی وج سے پہلے ہی ہسپتالوں میں مریض زیر علاج ہیں اور اب مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، اومی کرون کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد کورونا الرٹ لیول بڑھا کر چار کردیا گیا ہے کورونا الرٹ لیول چار کا مطلب وبا کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔ نئے کرونا وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کا اومی کرون ویرینٹ ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے-

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

  • جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے:     جمہوریت،جمہوریت کا درس دینا اب بند کریں‌:چین

    جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے: جمہوریت،جمہوریت کا درس دینا اب بند کریں‌:چین

    بیجنگ :امریکہ سمیت جمہوریت کی رٹّ لگانے والے جمہوریت اپنے پاس رکھیں:جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے:چین نے جمہوریت کا واویلہ کرنے والوں کو کھری کھری سنادیں‌، اطلاعات کے مطابق امریکی صدر بائیڈن کی زیر قیادت سربراہی اجلاس کے میں چین کو بے دخل رکھنے کے بعد، چین نے غصے کا اظہارکرتے ہوئے امریکی جمہوریت کو ‘بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ہتھیار’ قرار دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے 9 اور 10 دسمبر کو ورچوئل’سمٹ فار ڈیموکریسی‘ کے نام سےکانفرنس منعقد کی جس میں چین ، روس اور بعض دیگر ممالک کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی جبکہ امریکہ نے تائیوان کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت جسے چین اپنا حصہ تصور کرتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے منعقدہ دوروزہ کانفرنس کے جواب میں چین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا کہ طویل عرصے امریکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ایک ہتھیار بنا ہوا ہے جسے امریکہ دیگر ممالک میں مداخلت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر بائیڈن سرد جنگ کے دور کی نظریاتی تقسیم کو اُکسا رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے کانفرنس کے اہتمام کا مقصد نظریاتی تعصب کی بنیاد پر تقسیم کرنا، جمہوریت کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا، تنازعے اور محاذ آرائی کو اکسانا ہےجبکہ مشرقی یورپ سمیت دیگر ممالک میں شروع ہونے والی انقلابی تحاریک ’کلر ریوولوشن‘ کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ تھا۔

    چین کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ’یقیناً اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چین میں حقیقی جمہوریت ہے۔اور ’چین ہر قسم کی جعلی جمہوریت کی مخالفت اور مقابلہ کرے گا۔‘

    واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ متعدد مرتبہ یہ یقین دہانی کروا چکا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ ایک اور سرد جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، اس کے باوجود دنیا کی ان دو بڑی معیشتوں کے درمیان مختلف معاملات پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    بغداد:افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر،اطلاعات کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب عراق سے امریکی و دیگر غیرملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق ہوگیا ہے۔

     

    بغداد سے عرب میڈیا کے مطابق عراق میں غیر ملکی فوجی انخلاء سے متعلق عراقی جوائنٹ آپریشن کمانڈر نے بیان میں کہا ہے کہ امریکی و اتحادی فوج رواں سال کے اختتام تک عراق سے مکمل انخلاء کریں گی۔

     

    عراقی کمانڈر نے مزید کہا کہ امریکی اور اس کے اتحادی اپنی افواج اور جنگی سرگرمیوں میں شامل عملہ عراق سےنکال لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج جنگی مُہمات میں سرگرم عملےکا بڑا حصہ عراق سے انخلاء کرچکی ہے جبکہ باقی غیرملکی فوجیوں کا انخلاء دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔

    امریکی و دیگر اتحادی فوج کے صرف تکنیکی ماہرین عراق میں رہیں گے۔ عراقی کمانڈر کے مطابق اتحادی فوج عراقی فوج کو تکنیکی مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔

    یاد رہے کہ یوکرین کے محاذ پرروسی افواج کے دباو اور چین کی بڑھتی ہوئی قوت سے خائف امریکہ نے دنیا بھر سے اپنی افواج کومحفوظ بنانے کے لیے ان کی امریکہ یاتری کا فیصلہ کرلیا ہے

    ادھر امریکہ کے اس اعلان کے بعد روس اور چین امریکی فوجی نقل وحرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ حالات کشیدہ بھی ہوسکتےہیں‌

  • امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    بیجنگ :امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ اطلاعات کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’ہمیں چینی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں پر انتہائی تشویش ہے، ان کا ملک چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ میں امریکہ، برطانیہ ،فرانس اور آسٹریلیا کا ساتھ دے گا۔

    دنیا بھر میں انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں ایک عرصے سے چین میں مسلمانوں کےساتھ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث چین میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے کھیلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ بیجنگ میں ہونے والے اولپمکس گیمز میں پہلے امریکہ نے بائیکاٹ کا اعلان کیا توپھرامریکہ کی اطاعت میں فرانس نے بھی بائییکاٹ کا اعلان کردیا ہے

    فرانس کی طرف سے اولمپکس گیمز کے بائیکاٹ کے اعلان کوبہت اہمیت دی جارہی ہے ، چین نے اس حوالے سے فرانس کے رویے پرافسوس کا اظہار کیا ہے ، یاد رہےکہ چند دن پہلے چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

  • بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد :بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جمہوریت پر منعقد کی جانے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی طرف سے دو ٹوک جواب سن کرامریکہ حواس باختہ ہوگیاہے

    امریکہ سے آمدہ تفصیلات کے مطابق ڈیموکریسی ورچوئل سمٹ 9 اور 10 دسمبر کو ہوگا۔ امریکا کی جانب سے سمٹ میں شرکت کے لئے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔

    اسی حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہم سمٹ برائے جمہوریت میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں ایک آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری کردار اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • بھارتی جرنیلوں میں شدید اختلافات،وزیردفاع نے آرمی چیف کو نااہل قرار دیا:خفیہ دستاویزات میں انکشاف

    بھارتی جرنیلوں میں شدید اختلافات،وزیردفاع نے آرمی چیف کو نااہل قرار دیا:خفیہ دستاویزات میں انکشاف

    نئی دہلی:بھارتی جرنیلوں میں شدید اختلافات،وزیردفاع نے آرمی چیف کو نااہل قرار دیا،بھارتی وزارت دفاع کی ایسی خفیہ دستایزات کا انکشاف ہونا شروع ہوگیا ہے اورایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں کہ جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت فوجی قیادت میں اس وقت شدید اختلافات ہیں اور ان اختلافات کی تصدیق بھارتی وزیردفاع راج ناتھ کے بھارتی وزیراعظم کوفوجی قیادت کے خلاف خط سے ہوجاتی ہے

    بھارتی وزیردفاع راج ناتھ کی طرف سے بھارتی وزیراعظم مودی کو لکھے گئے خفیہ خط کے منظرعام پرآنے کے بعد مبصرین نے بھی اسے بھارتی فوج میں بڑے پیمانے پربغاوت کے آثارسے تعبیر کیا ہے

    بھارتی وزیراعظم مودی کو بھارتی وزارت دفاع کی طرف سے لکھے گئے خط میں وادی گلوان میں چینی فوج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے اور لیفٹیٹنٹ جنرل ہریندر سنگھ کو قرار دیا ہے

    اس خط میں وزیراعطم کو آرمی چیف اور ایک اور جنرل کی شکایت لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت کے آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے اور جنرل ہریندرسنگھ کو حالات کا ادراک ہی نہیں وہ بالکل اپنی ذمہ داریوں‌ کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی ان میں قیادت کرنے کی اہلیت ہے

     

    وزیردفاع راج ناتھ کی طرف سے بھارتی وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں شکایت کی گئی ہے کہ میں ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج کے اعلیٰ جرنیل بھی بھارتی آرمی چیف کو نااہل سمجھتے ہیں ،

    راج ناتھ نے اس حوالے سے ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں وہ کہتے ہیں‌ کہ بھارتی چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل پبن راوت نے بھی اس حوالے سے تحقیقات کی ہیں جن میں‌ بھارتی آرمی چیف اور لیفٹیٹنٹ جنرل ہریندرسنگھ کو چین سے بھارتی فوج کی رسوائی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے

    راج ناتھ نے اس خط میں وزیراعظم کویہ شکایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہماری فوجی قیادت کودفاعی حکمت عملی کا پتہ ہی نہیں‌،راج ناتھ کا یہ بھی کہناتھا کہ وادی گلوان میں بھارتی فوج کی شکست نے جہاں بھارتی فوج کو رسوائی سے دوچار کیا ہے وہاں بھارتی فوج کے حوصلے بھی پست ہوئے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی آرمی چیف اور اس کے ماتحت دیگر جرنیلوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے

  • کورونا متاثرین کو حکومت کی جانب سےلاکھوں روپے دینے کا اعلان

    کورونا متاثرین کو حکومت کی جانب سےلاکھوں روپے دینے کا اعلان

    چین کے شہر ہربن کی انتظامیہ کی جانب سے کورونا ٹیسٹ کروانے والوں کو انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہر ہربن کی انتظامیہ نے ایسے افراد کو انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کورونا کی علامات ظاہر ہونے کے بعد چھپنے کی بجائے اپنا ٹیسٹ کرانے کے لیے سامنے آئیں گے اگر ان میں بیماری کی تشخیص ہو جاتی ہے تو انہیں حکومت کی جانب سے 2 لاکھ 80 ہزار کی قرم دی جائے گی۔

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نوٹیفکیشن میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ بخار، گلے میں سوجن، سونگھنے یا چکھنے کی حصوں کو محسوس نہیں کر پا رہے ہیں تو اپنے قریب سینٹرز میں اطلاع کریں، اور خود اس کا علاج نہ کریں-

    نوٹیفیکیشن کے مطابق کرونا کی تشخیص کے بعد انتظامیہ کو یہ جاننے میں آسانی ہو گی کہ آپ کہاں کہاں گئے اور کن افراد سے رابطے میں رہے۔اس مدد کے بعد آپ انتظامیہ کے انعام کے حق دار بھی ہوں گے، تاہم شرط یہی ہے کہ اس کے لیے شہریوں کو خود آگے آکر کووڈ ٹیسٹ کرانا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ہربن میں 10 سے بھی کم کرونا کیسز سامنے آئے ہیں۔

    اومیکرون، برطانیہ میں کیسز میں ایک روز میں پچاس فیصد اضافہ

    واضح رہے کہ چین کے شہر ووہان سے 2019 میں کرونا کی وبا دنیا بھر میں پھیلی تھی، مگر سخت اقدامات کے بعد چین بھر میں عالمی وبا کے کیسز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ووہان سے پھوٹنے والی وبا سے چین سمیت دنیا بھر میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں، اب تک دنیا بھر میں اموات کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

    حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

  • افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    نیویارک: افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا ا،طلاعات کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

    گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

    9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

    افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

    میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

    تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

    سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

    طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

    طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

    گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

    میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔

  • اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

    حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

    ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

    اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

    دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔