Baaghi TV

Tag: ڈاکٹرز کی ہڑتال

  • ہائی کورٹ کی وارننگ کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا

    لاہور:لاہور ہائی کورٹ کی وارننگ کےبعد ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں ینگ ڈاکٹرز نے عدالتی حکم پر 29 روز بعد ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا کہنا ہے کہ کل سے ان اور آؤٹ ڈور ہڑتال ختم کردی گئی ہے۔

    24 گھنٹوں میں3 ملاقاتیں،مولانا کو عزت کے ساتھ رخصت کرناچاہتے ہیں ، پرویز الٰہی

    گرینڈ ہیلتھ الائنس کا کہنا ہے کہ عدالت نے کمیٹی تشکیل دی ہے جس سے توقعات ہیں، عدالت نے ایم ٹی آئی پر کارروائی روکنے کا کہا ہے، عدلیہ کے احکامات کے پیش نظر ہڑتال ختم کررہے ہیں۔گرینڈ ہیلتھ الائنس کے ڈاکٹر سلمان چوہدری نے کارڈیالوجی اسپتال لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ میں انہیں طلب کیا گیا تھا، میڈیکل پروفیشن میں بھی عدلیہ نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔

    چین نے بچوں پر پابندی لگادی

    ڈاکٹر سلمان چوہدری کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس جواد احسن نے ہمارے مطالبات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس جواد احسن نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں جی ایچ اے کے نمائندگان اپنی سفارشات پیش کریں گے۔

    بانی متحدہ کی تصویر نہ لگانے پرقتل کیا ، لوگوں کو جلایا کربھی ماردیتا تھا ۔ذوالفقار بھٹہ کے انکشافات

    دوسری طرف ڈاکٹرز کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے پیش نطر جی ایچ اے نے ہڑتال موخر کی ہے۔واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز کی 29 روز سے جاری ہڑتال کے سبب لاہور میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔

  • ڈاکٹرزفوری ہڑتال ختم کریں‌،حکم نہ ماننے والوں کے خلاف مقدمات درج کریں،لاہورہائی کورٹ

    لاہور:یہ کیا تماشا ہے کام بھی نہیں‌کرتے اور واویلہ بھی بہت زیادہ کرتے ہیں، ادارے ملازمین کی مرضی یا خواہش سے نہیں چلتے ، ایک قانون اورطریقہ کارہوتا ہے، ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کے بارے میں سخت فیصلہ دے دیا ، اطلاعات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹروں کو ہڑتال ختم کرنے کا حکم دیدیا، جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیئے کہ ڈیوٹی کے دوران ہڑتال کرنا جرم ہے، پنجاب حکومت ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرے ۔

    بے بی کون؟ بلاول یا سینیٹر فیصل جاوید، سینیٹ میں‌ دلیلیں اورتاویلیں، دلچسپ کارروائی

    ذرائع کے مطابق پنجاب میں ان ڈاکٹروں کے رویوں کی وجہ سے جو براحال مریضوں کا ہے اس پر عدالت نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس جواد حسن نے ہڑتالی ڈاکٹروں کیخلاف درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کردیا، تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز ہڑتال ختم کریں، آئین کے آرٹیکل 5 کے سب سیکشن 2 کے تحت ڈاکٹرز ہڑتال نہیں کر سکتے، تحفظات دور نہیں ہوتے عدالت سےرجوع کریں۔

    ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 44 ہزار،66 جانبحق ہوگئے

    لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے کیے گئے تحریر ی فیصلہ میں عدالت نے مجوزہ قانون سے قبل ڈاکٹرز کے اعتراضات سننے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا، کمیٹی 22 اور 23 نومبر کو مشاورتی اجلاس بلائے، مشاورتی اجلاس کے بعد ایک ہفتے میں ترمیم شدہ بل عدالت میں پیش کریں، ترمیم شدہ بل میں سٹیک ہولڈر کی مشاورت شامل کی جائے۔

    ڈاکٹرنمرتا چندانی کو جنسی استحصال کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، پولیس سرجن

  • ڈاکٹرزکی ہڑتال،فیروز پور بند،نئے مطالبات سامنےآگئے

    ڈاکٹرزکی ہڑتال،فیروز پور بند،نئے مطالبات سامنےآگئے

    لاہور: مسیحا پھر سڑکوں پر آگئے ، سال میں اکثروبیشتر ہڑتالیں کرنے والے ڈاکٹرز مریضوں کو کب وقت دیتے ہیں ، اطلاعات کے مطابق حسب روایت آج پھر سول سیکرٹریٹ کے باہر محکمہ صحت کے کنٹریکٹ ملازمین کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری، پنجاب بھر سے ماں، بچہ صحت اور غذائیت سے مربوط پروگرام محکمہ صحت کےکنٹرکٹ ملازمین ایل ایچ وی خواتین، مڈ وائفز اور گارڈز احتجاج میں شامل ہیں, ایل ایچ او خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی دھرنے میں موجود ہیں۔

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

    اطلاعات کے مطابق ایک کے پی میں بھی ڈاکٹرز نے ہڑتال کررکھی ہے تو دوسری طرف پنجاب کے مختلف اضلاع سے آئے ماں بچہ صحت اور غذائیت سے مربوط پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین اپنی مستقلی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا جو بعد میں دھرنے میں تبدیل ہوا گیا، لیڈی ہیلتھ ویزٹرز سمیت دیگر ملازمین کا احتجاج کل صبح 8 بچے شروع ہوا دن میں ڈی ہیلتھ کے ساتھ مطاہرین کے مذاکرات ہوئے جو ناکام ہو گئے اس پر ان کا اجتجاج دھرنے میں تبدیل ہو گیا جو ساری رات جاری رہا, مظاہرین کا کہناہے کہ مستقل کرنے کے مطالبہ پر ہر بار تسلیاں دی جاتی ہیں، مگر اب مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔

    لاہور فیروز پور روڈ کو بند کرنے والے محکمہ صحت کے ملازمین کا کہنا ہےکہ وہ اضلاع کی سطح پربچے کی ڈیلوری، اور بچہ ماں کی نگہداشت کرتی ہیں، پانچ سال سے مستقل کرنے کا مطالبہ کر رہے اب تین ماہ سے تنخواہ بند کر رکھی ہے، احتجاج پر ڈی جی ہیلتھ آفس سے برطرفی کی دھمکیاں مل رہی ہیں، جب تک تحریری طور پر ان کے تمام مطالبے تسلیم نہیں کرلئے جاتے وہ دھرنا جاری رکھیں گے۔

    181 گھروں میں ڈکیتی کتنے لوگ قتل اور زخمی ہوئے خبر نے ہلچل مچادی

    احتجاج کےباعث سول سیکرٹریٹ چوک ٹریفک کیلئےمکمل طورپربندہےجس سےشہریوں کوبھی شدیدمشکلات کا سامنا ہے جبکہ مظاہرین نے سیکرٹری ہیلتھ کیساتھ مذاکرات ناکام ہونےکےبعدرات کھلےآسمان تلےگزاری ۔دوسری طرف حکام اور مظاہرین کےدرمیان مذاکرت جاری ہیں‌اور کسی بھی وقت یہ بریک تھرو ہوسکتا ہے

    اینٹی بایوٹک چائے،مشروب بھی علاج بھی،ایشیا،یورپ اورمغرب میں یکساں مقبول