Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر حفیظ الحسن

  • بنا کام کے پیسے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بنا کام کے پیسے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا آپ تصور کر سکتے ہیں ایک ایسی سوسائٹی کا جہاں آپ کوئی کام نہ کریں اور آپکو ہر ماہ ایک کثیر رقم حکومت کی طرف سے ملے؟ مگر ایسا کیسے؟ اور کیوں؟

    اٹھارویں صدی میں صنعتی انقلاب اور انجن کی ایجاد کے بعد بہت سے ایسے کام جو ماضی کا انسان کرتا تھا اب مشینوں پر ہونے لگے مگر یہ کافی نہیں تھا۔ مشینیں ذہین نہیں تھیں۔ وہ چند مخصوص کام کر سکتی تھیں۔ باقی کا کام انسان کو کرنا پڑتا۔ پھر آہستہ آہستہ سائنسی ترقی ہوئی، ٹیکنالوجی بہتر ہوئی، کمیونیکیشن کے روابط بڑھے اور دنیا سمٹ کر رہ گئی۔ انسانی معاشروں میں خیالات کے تبادلے بہتر ہوئے، علم میں اضافہ ہوا، سوچ وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔

    بیسویں صدی الیکٹرانکس کا دور تھا۔ کمپیوٹر ایجاد ہوا۔ وہ کام جو انسان کرتے تھے، اب کمپیوٹر کرنے لگے۔ آپکو حساب کرنا ہو کمپیوٹر حاضر ہے، پینٹنگ بنانی ہو، کمپیوٹر حاضر ہے، کاغذ قلم کا دور گیا، اب سافٹ وئیرز کی مدد سے ٹائپ کیا جانے لگا۔ گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہونے لگا۔ پھر انٹرنیٹ کا دور آیا، کمپوٹرز آپس میں باتیں کرنے لگے، کمپیوٹر میں لگے پراسسز کی سپیڈ بڑھنے لگے، پراسسرز چھوٹے مگر مزید طاقتور ہوتے گئے کمپیوٹر میزوں سے نکل کر آپکے ہاتھ میں سمارٹ فون میں صورت آ گئے۔ ڈیٹا کا تبادلہ، روزمرہ کی زندگی کے حالات انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کی صورت آنے لگا۔ یہ سب کس قدر جلدی ہوا، ٹیکنالوجی کی چھلانگ کس قدر تیز تھی کہ پتہ بھی نہ چلا۔
    پیسے کمانے کے نئے سے نئے ذرائع آن لائن بزنس کی صورت ہونے لگے ۔ اس سب کے ساتھ ساتھ روبوٹس اور پیچیدہ الگورتھمز اور پروگرامز بننے لگے جو ڈیٹا کے اس سمندر کو اپنے اندر سمو سکتے۔ ترقی کا پیہہ انسان کو اس نہج پر لے آیا کہ روبوٹس پیچیدہ سے پیچیدہ انسانی مسائل مصنوعی ذہانت سے حل کرنے لگے۔ اور آج یہ حال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس آپکے ہر طرف ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اُٹھا کر دیکھیں آپکو کہیں نہ کہیں یہ خودکار مصنوعی ذہانت پسِ پردہ اور منظرِ عام دونوں میں نظر آئے گی۔

    آج روبوٹس ذہین ہیں۔ یہ ہر وہ کام کر سکتے ہیں جن میں ایک تسلسل ، ایک ترتیب ہو۔ مثال کے طور پر ایک مزدور کس ترتیب سے عمارت بنانے کے لیے اینٹیں لگاتا ہے، یہ سب ایک تھری ڈی پرنٹر روبوٹ بھی کر سکتا ہے۔ ایک کسان کیسے ایک خاص ترتیب میں بیچ بوتا ہے، یہ ایک روبوٹ بھی کر سکتا ہے۔ روبٹس انسانوں کو دیکھ کر خود سے سیکھ رہے ہیں، مشین لرننگ کر رہے ہیں۔ ماحول کا ادراک کر کے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو متوقع نتائج تک لے جائیں۔

    خودکار گاڑیاں بن رہی ہیں جو انسانی ڈرائیوروں سے وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ محفوظ طریقے سے گاڑی چلاتی ہیں۔ کینسر کی تشخیص ایک ڈاکٹر سے بہتر طور پر ایک آرٹفیشل انٹیلیجنس کا پروگرام کر سکتا ہے۔ حال ہی میں گوگل کے ایک مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے انسانی ڈاکٹروں سے بہتر پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کی۔ روبوٹ معاشرتی رویوں کو نقل کر رہے ہیں انسانوں کی طرح چہرے کے تاثرات دکھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کے پاس ان گنٹ ڈیٹا اور اسے پراسس کرنے کی صلاحیت انسانوں سے بڑھ کر ہے۔ شطرنج جیسے مشکل کھیل کو سمارٹ فون پر محض عام سے ایپ زیادہ بہتر طور پر کھیل سکتی ہے۔

    ایسے میں وہ جو مستقبل کو دیکھ رہے ہیں یہ جانتے ہیں کہ جلد مصنوعی ذہانت کم و بیش تمام انسانی پیشوں کو اور نوکریوں کو ختم کر کے خود اُنکی جگہ لے لی گی۔ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کھیتوں سے لیکر فیکٹریوں تک ہر جگہ کام کریں گے۔ تو پھر انسان کیا کریں گے؟ وہ کونسی نوکریاں کریں گے؟ جب نوکریاں ہونگی ہی نہیں

    ایسے معاشرے میں انسان ناکارہ ہو جائیں گے۔ تمام پیشوں کے کام مصنوعی ذہانت کے روبوٹس کریں گے۔ اس معاشرے کو پوسٹ ورک سوسائٹی کہتے ہیں جہاں انسانوں کے لیے پیسہ کمانے کے لیے کام ختم ہو جائے گا۔ مگر انسان صارف تو بہرحال رہے گا۔ ایسے میں روبوٹس کی بنائی مصنوعات کو استعمال کرنے کے لیے انسانوں کے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے؟ اسکا جواب ہے یونیورسل بیسک اِنکم یعنی بنیادی تنخواہ جو حکومتیں ہر ایک شہری کو دیں گی تاکہ وہ اسے استعمال کر کے زندہ بھی رہیں اور معیشت کا پہیہ بھی چلائیں۔

    اس حوالے سے کئی مغربی ممالک میں کام ہو رہا ہے مثال کے طور پر فن لینڈ اور نیدرلینڈ کے کچھ شہروں میں ابتدائی تجربات کیے گئے ہیں جہاں کچھ شہریوں کو ہر ماہ بنا کسی کام کے ہیسے دیے گئے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس سے معیشت اور معاشرے پر کیا مثبت یا منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق درکار ہے مگر ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات جن میں بِل گیٹس، ایلان مسک اور مارک زکربرگ شامل ہیں، پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دنیا آہستہ آہستہ اس ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مستقبل کی نسلیں گھر بیٹھے بغیر کچھ کیے پیسے کمائیں گی اسے کچھ لوگ لگثری کامونزم کا نام بھی دیتے ہیں۔ مگر اسکے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ گھر بیٹھے معاشروں کو مصروف کیسے رکھا جائے گا؟ شاید ورچوئل رئیلٹی اور ویڈیو گیمز کے ذریعے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

  • ذیابیطس اور کریلے کا جوس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ذیابیطس اور کریلے کا جوس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ذیابیطس جسے عرفِ عام میں شوگر کہتے ہیں دراصل جسم میں گلوکوز کی مقدار کے توازن کے بگڑنے کا نام ہے۔ انسان کے جسم کے لیے گلوکوز توانائی کا کام کرتا ہے۔ جسم میں جانے والی خوراک میں گلوکوز، پروٹین اور چربی شامل ہوتی ہے۔ بہت سی اجناس جیسے گندم، چاول، مکئی وغیرہ میں کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو ہاضمے کے نظام سے گزر کر گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں جسے انسانی جسم توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ مگر خون میں متواتر گلوکوز بڑھ جانے سے یہ جسم کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے گردے خراب ہو سکتے ہیں، بینائی جا سکتی ہے ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں، دماغ پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، حتی کہ اگر انسانی خون میں گلوکوز کی مقدار بے حد بڑھ جایے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

    مگر گلوکوز کی یہ مقدار کم یا زیادہ کیسے ہوتی ہے؟ انسانی جسم میں ایک عضو ہوتا ہے جسے لبلبہ کہا جاتا ہے۔ لبلبے میں کچھ مخصوص خلیے ہوتے ہیں جو ایک خاص طرح کا ہارمومن خارج کرتے ہیں۔ اسے اِنسولین کہا جاتا ہے۔اِنسولین کا کام خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے جسم انسانی خلیے انسولین کے خلاف مزاحمت شروع کر دیں یا انسولین مقررہ مقدار میں پیدا نہ ہو تو یہ ذیابیطس کی دوسری قسم کہلائی جائےگی جسے ٹائپ ٹو ڈائبیٹز کہتے ہیں۔

    اسی طرح اگر لبلبہ انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کھو دے تو بھی خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے گی۔اسے ذیابیطس کی پہلی قسم یعنی ٹائپ ون ڈائبیٹیز کہیں گے۔ پہلی قسم میں مریض کو انسولین کے ٹیکے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم میں عموماً بہتر خوراک، احتیاطی تدابیر اور مناسب ورزش سے ذیابیطس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انٹرنیشنل ڈائبیڑز فیڈریشن کے 2021 کےاعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 537 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں اور یہ تعداد 2030 تک دنیا بھر میں تقریباً 7 ملین کے قریب ہو جائے گی۔اسی طرح 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق
    ذیابیطس سے ہر سال تقریباً 16 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

    ذیابیطس کے مریضوں کی زیادہ تعداد تیس سال سے زائد افراد کی ہے مگر یہ مرض کچھ تعداد میں نوجوانوں اور بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

    پاکستان میں ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر چار میں سے ایک آدمی اس بیماری میں مبتلا ہے جن میں سے اکثریت اس بیماری کی علامت لیے اس سے لاعلم ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریض رکھنے والے ممالک میں چین اور بھارت کے بعد پاکستان تیسرے نمبر پر پے۔ جس میں2021 کے اعداو شمار کے مطابق تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد کو تشخیص شدہ ذیابیطس ہے۔

    اسی طرح پاکستان میں 60 سال سے کم عمر میں ہونے والی اموات میں 35 فیصد ذیابیطس کی وجہ سے ہیں۔یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے کے سنگین مسائل کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔جن میں بروقت عالج می سہولیات کا فقدان، آگاہی نہ ہونا اور کھانے پینے میں بداحتیاطی، ورزش نہ کرنے اور دیگر غیر صحتمندانہ عادات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

    اس رپورٹ کے آنے کے بعد ملک بھر کے طبی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحت کے لیے مختص بجٹ کو بڑھایا جائے۔ تاہم صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال آبادی بڑھنے کی رفتار کے مقابلے میں صحت کا بجٹ کے بڑھنے کی رفتار میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔

    بین االاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ہر شہری پر صحت کی مد میں حکومت کو کم سے کم 86 ڈالر سالانہ خرچ کرنا ضروری ہے۔جبکہ پاکستان میں اس وقت ہر شہری پر حکومت محض 14 ڈالر خرچ کر رہی ہے باقی 28 ڈالر وہ اپنی جیب سے ادا کر رہا ہے اور 3 ڈالر دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔

    صحت کے حوالے سے غیر سنجیدگی اور ذیابیطس کے بڑھتے مرض کے تناظر میں لوگ کریلے کا جوس نہیں پیئیں گے تو اور کیا کریں گے؟

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔ ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔ اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔ 2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • جیمز ویب کے بعد نئی ٹیلی سکوپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جیمز ویب کے بعد نئی ٹیلی سکوپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ملیے ناسا کی مستقبل کی جدید خلائی دوربین سے جسکا نام ہے "نینسی گریس رومن ٹیلیسکوپ” جو ایک خاتون سائنسدان ڈاکٹر نینسی گریسی کے نام سے منسوب کی گئی ہے۔ ڈاکٹر نینسی 60 کی دہائی کے اوائل میں ناسا کی چیف آف ایسٹرانومی (فلکیات) تھیں۔ اور وہ پہلی سائنسدان تھیں جنہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ ایک خاص طریقہ کار کے ذریعے جسے کرونوگرافک ماسکنگ کہتے ہیں، ایک خلائی دوربین سے دیگر ستاروں کے گرد گھومتے سیارے جنہیں ہم ایگزوپلینٹس کہتے ہیں، ڈھونڈا یا دیکھا جا سکتا ہے۔ جس طرح آپ تیز سورج میں روشنی میں ماتھے پر ہاتھ کا چبوترہ سا بنا کر آسمان پر کوئی شے دیکھتے ہیں جو اس وجہ سے نظر آتی ہے کہ آپ سورج کی زیادہ روشنی کو ہاتھ سے ایک طرح سے بلاک کر دیتے ہیں سو آپکی انکھ کم روشن شے کو دیکھ سکتی ہے بالکل ویسے ہی ڈاکٹر نینسی نے بتایا کہ ایک کرونوگراف ماسک کو ٹیلیسکوپ سے جوڑ کر ستاروں سے آنے والی روشنی کو بلاک کر کے اسکے گرد ستارے سے کم کم روشن سیارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آج ہبل اور جیمز ویب ٹیلیسکوپ دونوں میں استعمال ہو رہی ہے۔

    جیمز ویب ٹیلسکوپ کی طرح یہ نئی ٹیلیسکوپ جسے مئی 2027 میں خلا میں بھیجا جائے گا، انفراریڈ روشنی میں کائنات کا مشاہدہ کرے گی۔ انفراریڈ وہ روشنی ہے جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ اور اسکے لیے مخصوص ڈیٹیکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ آپ انفراریڈ کیمروں میں دیکھتے ہیں۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی طرح اسے بھی زمین سے کئی لاکھ کلومیٹر دور خلا میں لنگریج پوائنٹ 2 پر مدار میں چھوڑا جائے گا۔ یہ خلا میں وہ جگہ ہے جہاں سورج اور زمین کی کششِ ثقل کے توازن کے باعث اس ٹیلسکوپ کا مدار مستحکم رہے گا۔ اس ٹیلسکوپ کا کائنات کو دیکھنے والا مِرر یعنی آئینہ جیمز ویب کے مِرر سے تقریباً تین گنا چھوٹا یعنی 2.4 میٹر کا ہو گا یعنی کہ اتنا ہی سائز جتنا ہبل ٹیلسکوپ کے مِرر کا ہے۔ مگر یہ ہبل سے زیادہ وسیع علاقے میں ایک وقت میں تصویر کھینچھ سکے گی یعنی اسکا فیلڈ آف ویویو ہبل سے زیادہ ہو گا۔

    اس نئی اور جدید ٹیلیسکوپ میں 300.8 میگا پکسل کا کیمرہ نصب ہو گا جو کہکشاؤں اور ستاروں کی نہایت تفصیلی تصاویر کھینچے گا جبکہ اسکے ساتھ ساتھ کرونگرافر بھی جو ستاروں سے آنے والی روشنی کے زیادہ تر حصے کو بلاک کر کے انکے گرد گھومتے زمین جیسے سیاروں کو ڈھونڈے گا۔ اور اس میں موجود سپیکٹرومیٹر یعنی ایسا سائنسی آلہ جو سیاروں کی فضا سے گزرنے والی مدہم روشنیوں کا جائزہ لیکر یہ بتائے گا کہ دریافت کیے گئے سیاروں میں کن پر زندگی ہو سکتی ہے۔

    اس ٹیلسکوپ کو 2027 میں ایلان مسک کی کمپنی سپیس ایکس اپنے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجے گی۔ اس ٹیلسکوپ کے دو اہم سائنسی مقاصد میں سے ایک ڈارک انرجی کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے جبکہ دوسرا کائنات میں سیاروں کی تلاش جو زمین جیسے ہوں یا جہاں زندگی کے آثار موجود ہوں۔ یہ ٹیلیسکوپ 2027 سے 2032 یعنی ہانچ سال تک کام کرنے کے لیے بنائی جائے گی۔ اور اس دوران یہ انسانی علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کو کائنات کے کئی اہم راز کھولنے میں مدد دے گی۔

  • زندگی کی تلاش کیوں؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زندگی کی تلاش کیوں؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جانتے ہیں کہ زندگی کے لئے پانی کس قدر ضروری ہے۔ زمین پر زندگی کی ابتدا سمندروں میں ہوئی۔ آج سے 3.8 ارب سال قبل، زمین پر پہلے خلیے بنے جو خود کو تقسیم کر سکتے تھے۔ انہی سے آگے چل کر زندگی پھیلی اور ارتقاء سے مختلف انواع کے جاندار نمودار ہوئے جن میں ایک حضرتِ انساں تھا۔
    وہ زندگی جسے ہم جانتے ہیں اسکے لئے تین بنیادی شرائط ہونا ضروری ہیں۔

    1. پانی
    2. زندگی کے ضروری اجزا (کاربن، نائیٹروجن ، ہائیڈروجن، آکسیجن وغیرہ)
    3. توانائی

    زمین پر یہ تینوں موجود ہیں۔ سورج کی روشنی کم و بیش تمام زندگی کو توانائی مہیا کرتی ہے۔ سمندر پانی سے بھرے ہیں اور ہوا اور مٹی میں تمام اجزائے زندگی موجود ہیں۔ مگر کیا زندگی محض زمین پر ہے اور کیا یہ محض ایک اتفاق ہے؟

    آج ہم دوسرے سیاروں پر زندگی کی تلاش میں ہیں۔ اعتراض کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ اگر دوسرے سیاروں پر زندگی مل بھی گئی تو کیا فرق پڑے گا؟

    تو فرق یہ پڑے گا کہ ہم جان جائیں گے کہ کائنات میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔زندگی یہاں عام ہے اور ہم زیادہ بہتر طور پر کائنات میں عقل رکھنے والی دیگر مخلوقات کو ڈھونڈ اور اُن سے رابطہ کر سکیں گے۔ ہم جان سکیں گے کہ ہم زمین کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتے ہیں اور نسلِ انسان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹنے سے بچا سکیں گے۔ سائنس کیا ہماری پوری زندگی لاشعوری طور پر موت کے خلاف مزاحمت کا نام نہیں ہے؟ بقا کی کوشش انسان کی سرشت میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج اتنی ترقی کر رہے ہیں۔

    مگر دوسرے سیاروں پر زندگی کیسی ہو گی؟

    آج ہم جانتے ہیں کہ نظامِ شمسی کے کسی سیارے یا چاند پر کوئی مخلوق ایسی نہیں بستی جو انسانوں جیسی ہو مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ان سیاروں پر کوئی بنیادی زندگی کی صورتیں جیسے کہ مائکروبس یا بیکٹیریا یا وائرس موجود ہیں؟

    مریخ اور مشتری کا چاند یوروپا زندگی کی تلاش کے لیے موضوع جگہ ہیں۔ مریخ اس لیے کہ اسکے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے اربوں سال پہلے یہاں سمندر تھے۔ یہاں کی فضا کثیف تھی، اسکے گرد مقناطیسی حصار تھا اور ممکن ہے یہاں زندگی پنپتی ہو ۔ اگر ایسا ہے تو یہ ممکنات میں سے ہے کہ مریخ پر مائیکروب کی صورت زندگی اب بھی موجود ہو۔

    اسی طرح مشتری کا چاند یوروپا جہاں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سطح پر پانی کی برف اور اسکے نیچے بہت بڑے سمندر ہیں۔ یہاں بھی زندگی ممکن ہے اور اسکے لئے ناسا 2024 میں Clipper نامی سپیس کرافٹ بھیجے گا جو کئی دفعہ اسکے قریب سے گزر کر اسکی فضا اور سطح پر مختلف سائنسی آلات می مدد سے زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔

    انسان کو خلا میں گئے ایک صدی سے بھی کم عرصہ ہوا ہے اور کائنات بے حد وسیع ہے۔ اس میں اتنے کم عرصے میں محدود زمینی وسائل کے ساتھ زندگی کو ڈھونڈنا ایک مشکل عمل ہے۔ اور اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ شاید ہمیں زمین کے علاوہ زندگی ڈھونڈنے میں کئی سال یا صدیاں لگیں۔ مگر یہ امکان ہر صورت موجود ہے کہ کائنات اور ہماری کہکشاں ملکی وے میں کہیں نہ کہیں زندگی کسی صورت ضرور موجود ہو گی۔۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

  • پاکستان اور متبادل توانائی کے ذرائع!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اور متبادل توانائی کے ذرائع!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پرانے زمانے میں پاکستان ٹپلیوژن پر موسم کی خبروں میں اور کچھ ہوتا نہ ہوتا یہ خبر ضرور ہوتی کہ ” پورے ملک میں اس وقت موسم خشک ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن میں ہلکی ہلکی بوندا باندی کے آثار ہیں”. خدا خبر مالاکنڈ کی عوام ہر روز یہ خبر سن کر کیا سوچتی ہو گی؟

    مگر آج پورے ملک میں بوندا باندی نہیں بلکہ زارو قطار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ اس وقت دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے گزر رہی ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ان تبدیلیوں سے دنیا کی معیشت پر کس قدر منفی اٹرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کہیں سیلاب آ رہے ہیں تو کہیں طوفان، کہیں قحط سالی ہے تو کہیں پانی اور خوراک کی قلت۔

    دنیا میں اس وقت ماحولیاتی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ جرمنی میں حالیہ الیکشن کے نتیجے میں حکومت بنانے والی پارٹیوں میں ماحول دوست گرین پارٹی کی کئی سیٹیں ہیں۔ اسی طرح دوسرے یورپی ممالک جیسا کہ آسٹریا، بیلجیئم ، فن لینڈ، آئرلینڈ اور سویڈن میں بھی ایسی ماحول دوست پارٹیاں اُنکی حکومتوں کا حصہ ہیں۔

    پاکستان میں البتہ اس طرف یا اس منشور پر عوامی سطح پر کوئی خاطر خواہ تحریک نظر نہیں آتی حالانکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔

    ماحولیاتی تحریکیں یا گرین مومنٹس کی ابتدا ترقی یافتہ مملک میں کافی عرصے سے زور پکڑ رہی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت تب دیکھنےمیں آئی جب 2018 میں تن تنہا سویڈن کی ایک پندرہ سالہ لڑکی گریٹا تُھنبرگ جمعہ کے روز سکول جانے کی بجائے سویڈن میں پارلیمنٹ کے باہر بیٹھ جاتیں۔ اُنکے دھرنے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے فیصلہ سازوں اور پالیسی سازوں کو باور کرانا تھا اور ان سے بچاؤ کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرنے پر زور دینا تھا۔

    اُنکی کوشش کامیاب رہی اور جلد ہی اُنہیں مقامی اور بین القوامی فورمز پر ان تبدیلیوں کے حوالے سے بات کرنے کے لئے بلایا جانے لگا۔ اسی تحریک کے باعث 2019 میں یورپ میں کئی یورپی گرین پارٹیوں نے اپنے اپنے ملکوں اور یورپین یونین کے انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔

    آج دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ کاربن ایمیشن کو کم کر کے ہی زمین کو مستقبل کے انسانوں کے لئے بچایا جا سکتا ہے۔ گو اس حوالے سے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر جس تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اُنکے مقابلے میں یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

    2016 کے پیرس معاہدے میں شریک 196 ممالک نے اس عزم کا ایادہ کیا کہ زمین پر 2050 تک کاربن ایمیشن کو صفر تک لایا جائے گا۔ یاد رہے کہ آج دنیا کی کل کاربن ایمیشن 35 ارب ٹن سالانہ کے قریب ہے۔

    پیرس معاہدے میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پچھلے دورِ حکومت میں ماحولیات کے حوالے سے اقدامات اُٹھائے گئے جن میں شجرکاری کا منصوبہ اہم تھا۔ مگر اسکے علاوہ بھی پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع کا حصول یقینی بنانا ضروری ہے۔

    جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کو قدرت نے بھرپور نوازا ہے۔ یہاں تقریبآ سارا سال کی سورج کی روشنی پڑتی ہے۔اسکے علاوہ سمندر سے آنے والی ہوائیں بھی ملک کے بیشتر جنوبی علاقوں خاص کر سندھ اور بلوچستان میں چلتی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان توانائی کے ماحول دوست متبادل جن میں شمسی توانائی اور ہوا شامل ہے سے نہ صرف بھرپور بجلی بنا سکتا ہے بلکہ اسے درآمد کر کے کثیر زرِ مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔

    2020 میں شمسی توانائی کے حوالے سے ورلڈ بینک کے تعاون سے تیار کردہ رپورٹ یہ بتاتی ہے اگر پاکستان اپنے کل رقبے پر سولر پارکس بنائے تو اس سے اسکی قبے کا
    محض 0.07 فیصد کی تمام ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
    یہ رقبہ کتنا بنتا ہے؟
    لاہور سے بھی آدھا!!

    اس رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان 2030 تک متبادل شمسی اور ہوا کے ذرائع سے 24 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر لےتو اس سے اگلے بیس سال میں پیٹرول کی مد میں 5 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہو سکتی ہے۔ اسکے ساتھ وقت پاکستان متبادل ذرائع سے تقریباً 1500 میگاواٹ بنا رہا ہے جو کل بجلی کی پیداوار کا محض 2 فیصد ہے۔

    اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کو ہر ماہ متبادل ذرائع سے 150 سے 200 میگاواث بجلی بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گیاور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

    حکومت کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور متبادل توانائی کے شعبے میں ہنرمند پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آنے والا دور اسی کا ہے۔

  • "ٹیم پاس”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹیم پاس”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم ستاروں کی خاک ہیں گویا!!
    خود میں ہی کائنات ہیں گویا!!

    یہ شعر ویسے تو جون ایلیا صاحب کا نہیں بلکہ ناچیز کا ہے مگر کیا فرق پڑتا ہے ۔ جون ایلیا بھی کمال لکھتے تھے مگر وہ غمِ حیات میں اُلجھے رہتے اور ہم غمِ کائنات میں۔

    ایک کہاوت تھی:
    "کائنات کو سمجھنے کے اُتنے راستے ہیں جس قدر اس میں ذی روح ہیں’

    مگر یہ ایک فلسفیانہ بات ہے۔ یہ بات گو کہ درست کہ کائنات کو سمجھنا آسان نہیں۔ انسان کی عقل محدود ہے۔۔انسان اسی کائنات میں رہ کر کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے مگر کیا یہ بات کم ہے کہ سوچتا ہے!!
    وہ جو سوچتے ہی نہیں، وہ جو فکر ہی نہیں کرتے کیا وہ اس امیبیا سے زیادہ اہم ہیں جو اُنکی طرح زندگی گزار کر مر جاتا ہے ۔۔خوراک حاصل کر کے بس جی رہا ہے اور نسل در نسل اپنے جینز منتقل کر رہا ہے۔

    فنا یعنی مر جانا انسان کے شعور کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایسا مسئلہ کہ یہ اسے کسی طور چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ آج ہم جو ایجادات، سائنسی ترقی، جدید معیشت، طب میں جدت، بیماریوں کا علاج، خلاؤں میں جانا وغیرہ وغیرہ یہ سب دیکھتے ہیں تو یہ سب کیا اور کیوں ہے؟ یہ سب انسان کی لاشعور میں چھپی موت سے جنگ ہے۔ یہ بقا کی جنگ ہے۔ ہم ہر لمحہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایسے میں ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہماری عقل ہو گی۔ کیونکہ ہماری عقل نے ہی ہمیں موت سے آگاہ کیا ہے۔ ایک جانور یہ نہیں جانتا کہ اُس نے کم و بیش کتنے سال زندہ رہنا ہے۔ مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اوسطاً اس زمین پر کتنے سال زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم نے ان سالوں کو مختلف کاموں اور مقاصد کے حصول میں تقسیم کر رکھا ہے۔ تعلیم مکمل کرنا، شادی کرنا، بچے پیدا کرنا، بہتر روزگار رکھنا، گھر، گاڑی، بچوں کی تعلیم ، ریٹائرمنٹ وغیرہ وغیرہ ۔
    اس سب میں تگ و دو تو ہے مگر جستجو کہاں ہے؟ نئے علم کی تلاش کہاں ہے؟ انسانی عقل کی معراج کہاں ہے؟

    اقبال نے کہا تھا:
    عروج ِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
    کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہہِ کامل نہ بن جائے

    اقبال نے یہ ہمارے جسیوں کے لیے ہرگز نہیں کہا تھا۔ ہم نے دنیا کو دیا ہی کیا ہے؟ یہ بات اقبال نے اُنکے لیے کہی ہے جو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جنہیں علم کی اس قدر پیاس ہے کہ خلاؤں میں جا کر بھی نہیں بجھ رہی۔ کیا علم حاصل کرنا اور نئےعلوم کی راہیں استوار کرنا مذاق ہے؟

    کائنات کو سمجھنے کے کئی راستے ہونگے مگر وہ جڑتے ایک ہی راستے سے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھیں۔ کائنات محض اُنکو نوازتی ہے جو اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب بھی اور آئندہ بھی۔

    ہم جتنا سیاست میں اُلجھتے ہیں اتنا سائنس میں اُلجھیں تو کئی مسائل اپنی عقل سے حل کر لیں مگر وہ جو ہم پہ مسلط ہیں اُنکے بقا کی ضمانت ہماری جہالت کا قائم رہنا ہے۔غربت مجبوری ہے مگر جہالت پرسنل چوائس ہے۔ باقی آپ خود سمجھیں۔ دنیا میں "ٹیم پاس” کرنا ہے یا صحیح معنوں میں کچھ بامقصد کرنا ہے۔

  • دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دیوالیہ کے قریب!!! —- ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اس وقت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ کرپشن اور لوٹ مار پاکستانی معیشت کے دیوالیہ پن میں اہم ہے مگر بہت سے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں پیسہ بنانے کا کوئی خاص طریقہ کار نہیں ہے۔ باہر کے ممالک میں بر آمدات سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی سے نئی پراڈکٹس سے کی جاتی ہیں۔سویڈن جیسے چھوٹے ملک کے معیشت پاکستان سے دوگنی ہے جبکہ وہاں کی آبادی 1.5 کروڑ سے بھی کم ہے۔ پیسہ بنانے کا عمل کاروباری ماحول اور صنعتی ترقی سے ممکن ہے۔ گنجی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا کے مصادق۔ پاکستان کی برآمدات کی نسبت درآمدات زیادہ ہیں۔ یہاں روایتی طریقوں سے گندم، گنا اور کپاس اُگائی جاتی ہے۔ ہر سال سیلاب اور قدرتی آفات زراعت کے بڑے حصے کو نقصان پہچاتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہے اور جہاں 40 فیصد روزگار زراعت کے شعبے سے منسلک ہے وہاں سب سے زیادہ نظر انداز یہی شعبہ رہا ہے۔

    دوسرے ممالک کی کمپنیاں پاکستان میں کیونکر پیسہ لگائیں گی جہاں نہ کاروباری سہولیات میسر ہیں، نہ ہی سرخ فیتے کی رکاوٹیں دور کی گئی ہیں، اقربا پروری الگ، ریاست کے اندر بندوقوں والے ایک نمبر کے بدمعاش پراپرٹی ڈیلرز الگ۔ اس پر سیکورٹی، دہشتگردی، امن و امان کا نقص الگ۔اور سب سے بڑھ کر بغیر سکلز یا کم سکلز کے لوگ الگ۔ اب ایسے میں کون باہر سے آ کر یہاں فیکٹریاں لگائے گا، یہاں اپنا پیسہ جھونکے گا؟ کیا لاہور میں بیٹھے پاکستان ہی کی کاروباری شخصیات وزیرستان میں جا کر کاروبار کریں گے؟ ماسوائے اّنکے جنہیں شاید وہاں چلغوزے کے درخت نظر آتے ہوں۔

    ہماری معیشت نے دیوالیہ نہیں ہونا تھا تو اور کیا ہونا تھا؟ کیا پلاٹوں پر پلاٹ لیکر اور سوسائٹیوں پر سوسائٹیاں بنا کر ملک میں پیسہ آئے گا؟ نہ ہم نے انسانوں پر خرچ کیا نہ انسانوں کے دماغوں پر۔ پچھلی نسل کے نوجوانوں پر ریاستی تجربات کر کے انہیں جنونی بنا دیا گیا۔ یہی نظریات لیکر وہ اگلی نسلوں کو یہ وائرس منتقل کر چکے۔ جہالت ملک کے طول و عرض میں بک رہی ہے اور مزے کی بات یہ کہ وہ جو اس جہالت کے پیشِ نظر زندگی سے تنگ ہیں، وہی اسکی حفاظت پر مامور ہیں۔ اختر لاوا سے لیکر دھوکے بازی سے ہوٹلوں میں روٹی کھانے والی مزاحیہ ویڈیوز ہر شخص کی زبان پر ہیں۔ عقل کی بات کیجائے تو کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ علم سے ڈر لگتا ہے۔ ہر چیز سازش لگتی ہے۔ ذہنوں پر قفل پڑے ہیں۔ اصل سوچ کا فقدان یے۔ باہر کے ممالک انسانوں پر ، انکے دماغوں پر خرچ کر کے انہیں معاشرے اور دنیا کے لیے کارآمد انسان بناتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں دولو شاہ کے چوہوں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ اشرافیہ سے لیکر عوام تک، اونچے اونچے عہدوں پر بیٹھے افسران سے لیکر نیچے کلرک بابوں تک سب کے سب جدید دور کے تقاضوں، بدلتی دنیا کے رجحانات وغیرہ سے لا علم زندہ زومبیاں ہیں۔

    سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کیا جائے، مگر پچھتر سال میں جب انسانوں پر کچھ خرچ نہیں ہوا تو اب ملک محض قرضوں پر تو چل نہیں سکتا۔ سو یہ کمپنی بھی نہیں چلے گی۔ اور کیجئے تجربات ، اور دور رکھیے عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقعوں سے۔ اور دیجیے اّنہیں کھوکھلے نعرے، روایتی جملے اور گھسے پٹے نظریات۔ کشتی جب ڈوبتی ہے تو مکمل ڈوبتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ پچھلا حصہ ڈوبا اور اگلا بچ گیا۔ بچنا کسی نے نہیں۔ باقی بابوں کی خیر ہو، اُنہوں نے ہمیں سائیں بنا کر اس حالت میں خوش ہی رکھنا ہے۔ سائنس گئی تیل لینے۔

    منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

  • بلی کے گلے میں گھنٹی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بلی کے گلے میں گھنٹی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان جیسے زرعی ملک میں کسان ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں ہیں جنکے بل پر پوری معیشت کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ مگر اعداد و شمار دیکھیں تو یوں لگتا ہے یہ ملک چلا کسان رہے ہیں مگر اُنکا ہے نہیں۔

    2010 کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق زراعت کے شعبے سے وابستہ 80 فیصد لوگ قابلِ کاشت زمینوں کے محض 28 فیصد کی ملکیت رکھتے ہیں۔ جبکہ کروڑوں کی آبادی کے اس ملک میں تقریباً 1 لاکھ لوگ 50 ایکڑ یا اس سے زائد زرعی زمین کے مالک ہیں۔ جو کل زرعی زمین کے مالکان کی تعداد کا 1.44 فیصد بنتا ہے مگر یہ لوگ قابلِ کاشت رقبے کے 29 فیصد کے مالک ہیں۔ اسی اعداد و شمار کے مطابق ںڑے زمینداروں کی تعداد تقریباً 19 ہزار ہے جن میں سے ہر ایک 150 ایکڑ یا اس سے زائد کا مالک ہے۔ یہ تقریبآ 9 کروڑ ایکڑ زمین بنتی ہے جو صرف 0.3 فیصد زمینداروں کے پاس ہے۔مگر یہ زمینی رقبہ67 فیصد غریب کسانوں کی کل ملا کر زمین سے بھی زیادہ ہے۔

    یہ اعداد و شمار ہوشربا اور نیندیں اُڑا دینے والے ہیں۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مملکتِ خداد دراصل وڈیروں اور جاگیرداروں کا ملک ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد لوگوں وگوں کا روزگار زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے اور معیشت کا 23 فیصد سے زائد اسی شعبے سے منسلک ہے جس میں 60 فیصد سے زیادہ برآمدات کا حصہ بھی شامل ہیں۔

    ورلڈ بینک کے 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا زیرِ کاشت رقبہ ملک کے کل رقبے کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ اس میں وہ تمام زمین شامل ہے جو کاشت کے قابل ہے چایے عارضی طور پر یا مستقل طور پر۔ ان اعداد و شمار سے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ زمینوں اور وسائل کی تقسیم میں غریب کسان ہمیشہ مارا جاتا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پوری دنیا اس وقت خوارک کی قلت کے خطرے سے دوچار ہے جسکے لیے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کئی اہم پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں جنکا مرکز کسانوں کو زرعی ضروریات کے حوالے سے سہولیات مہیا کرنا اور اُنہیں جدید زرعی طریقوں کی تربیت دے کر پیداوار کو بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    اسکے علاوہ اربن فارمنگ کی طرف بھی شہرہوں کی توجہ دلائی جا رہی ہے جس میں وہ اپنے گھروں میں اور مصنوعی فارمز میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک پیدا کر سکیں۔

    پاکستان میں دن بدن زرعی زمین ماحولیاتی تبدیلیوں اور زراعت میں غیر موثر اور پرانے طریقوں سے کاشت کے باعث کم ہو رہی ہے۔ اسکے علاوہ گندم اور دیگر اجناس کی سٹوریج ، منڈیوں تک بہتر رسائی نہ ہونے اور کسانوں کے استحصال کے باعث خوراک مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہو وہاں گندم، چاول اور دیگر اجناس کا غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔

    ان سب میں بنیادی وجہ کسان دوست پالیسیوں کا فقدان ہے ۔ ملک کی آبادی بڑھنے، شہری آبادیوں میں اضافے کے باعث غریب کسانوں کی زمینیں ختم ہو رہی ہیں۔ اسکے علاوہ وسائل کے بدترین ضیاع اور آبی وسائل کی دیکھ بھال میں مجرمانہ غفلت اس صورتحال کو مزید ابتر کر رہا ہے۔

    موجودہ معاشی اور معاشرتی سائنس یہ کہتی ہے کہ کسان دوست پالیسیاں اپنا کر نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کو اپنے حق میں کیا جا سکتا ہے بلکہ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ اسکے علاوہ سیلاب کے بعد کسانوں کے ساتھ مل کر اُنکے فہم و فراست جو صدیوں سے اُنہوں نے ان علاقوں میں رہ کر حاصل کیا، کی مدد سے آئندہ آنے والی آفتوں سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالے گا کون؟

  • بارے زحل کے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بارے زحل کے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کا چھٹا سیارہ اور مشتری کے بعد سائز میں دوسرے نمبر پر۔ قدیم زمانوں سے انسان اس سیارے کو دیکھتے آئے جو اسمانوں میں چمکتا اور سال بھر اپنی جگہ بدلتا۔

    مگر جب سترویں صدی کے آغاز پر دوربین ایجاد ہوئی اور اسے دیکھا گیا تو اس سیارے کے ساتھ بڑے علاقے تک پھیلے روشن رِنگز تھے۔ زحل دراصل گیس جائینٹ ہے۔ اسکی کوئی ٹھوس سطح نہیں ہے۔ یعنی یہ گیسوں سے بنا ہے۔ ویسے ہی جیسے مشتری ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے بنا ہے۔

    ہماری زمین کا محض ایک چاند ہے جبکہ زحل کے چاند ہیں 83۔ ان میں سب سے بڑا چاند کے ٹائٹن۔ یہ زمین کے چاند سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔ گو زحل پر زندگی ہونا ناممکن ہے مگر اسکے مختلف چاندوں پر پانی اور نامیاتی مالیکولز ملے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

    زحل کے رنگز دراصل مختلف سائز کی خلائی چٹانیں ہیں جنکا سائز زمین پر کسی اوسط پہاڑ کے سائز سے لیکر چند سینٹی میٹر تک ہے۔ یہ رنگز زحل سے 2 لاکھ 82 ہزار کلومیٹر اوپر تک کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ زحل کے رنگز کائناتی عمر کے اعتبار سے ابھی ابھی بنے ہیں۔ یعنی محض چند کروڑ سال قبل۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ کمپیوٹر ماڈلز اور ان چٹانوں کی ساخت کو جان کر۔

    زحل اپنے مدار میں ایک چکر 10.7 گھنٹوں میں مکمل کرتا ہے گویا اس پر ایک دن زمین کے آدھے دن سے بھی کم ہے۔ جبکہ سورج کے گرد یہ ایک چکر 29.4 زمینی سالوں میں مکمل کرتا ہے۔ زحل کی کثافت پانی سے کم ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر زحل کو زحل سے سائز میں بڑے کسی سمندر میں پھنیکا جائے تو یہ تیرنے لگے گا۔

    2004 تک ناسا کے تین سپیس کرافٹ زحل کے قریب سے گزرے اور اسکی تصاویر زمین تک بھیجیں۔ مگر 2004 میں ناسا کا کاسینی سپیس کرافٹ زحل کے مدار میں داخل ہوا جسکے بعد سائنسدانوں کو زحل کا بہتر تجزیہ کرنے کا موقع ملا۔ اس سپیس کرافٹ کے ساتھ ایک سپیس پراب ہیوگن بھی تھا جو 2005 میں زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن ہر اُترا۔ اس پر کئی سائنسی الات نصب تھے اور یہ انسانوں کا کسی دوسرے سیارے کے چاند پر پہلا کامیاب مشن تھا۔ یہ پراب محض 72 منٹ تک ٹائٹن کی سطح پر کام کرتا رہا۔ البتہ کاسینی سپیس کرافٹ 13 سال تک زحل کے گرد مدار میں رہا اور اسکی فضا کا تفصیلی جائزہ لیتا رہا۔ ستمبر 2017 میں یہ اپنے مدار سے نکلا اور زحل کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔ اب 2026 میں ناسا زحل کے اس چاند ٹائیٹن تک ایک اور سپیس کرافٹ بھیجے گا جسکا نام ڈریگن فلائی ہو گا اور یہ 2034 میں اسکی سطح پر اُترے گا اور یہاں زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔