Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر حفیظ الحسن

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    یا پھر
    ” سائنس کی تھیوری فیکٹ نہیں ہوتی۔ ”

    بچپن میں ٹی وی پر ڈاکٹر نائیک سائنس کو غلط طریقے سے پیش کرتے اور ہم سائنس کا محدود علم رکھتے ہوئے واہ واہ کرتے ۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے پتہ چلنا شروع ہوا کہ سائنس میں تھیوری کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور جب ہم کسی شے کو سائنسی تھیوری کہتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سائنس میں یہ سب سے اونچے درجے پر ہے۔ ایسی غلط فہمیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں کہ اصل سائنس سکھانے والے پیچھے ہوتے ہیں، انہیں مجمع لگانا نہیں آتا اور وہ جنکو سائنس کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی وہ مجمع لگا کر اپنے مطلب کی سائنسی تشریحات کے کبوتر نکال نکال کر عوام کو مزید جاہل رکھتے ہیں۔ تو کیا سائنس میں تھیوری لا سے کمتر یا فیکٹ سے نیچے ہے؟ آئیں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں۔

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔
    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔
    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔
    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔
    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔
    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔
    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • اے چاند خوبصورت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اے چاند خوبصورت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    صدیوں سے شاعروں کے حسن و تخیل کا استعارہ، بیوی ہو یا محبوبہ لے دے کر چاند میاں ہی اُنکی تعریف کے لئے بطور مثال استعمال کیے جاتے ہیں۔ دیوداس فلم میں پارو کو دیو بابو کہتا ہے۔ اتنا غرور تو چاند کو بھی نہیں۔ جس پر پارو نہایت فلمی انداز میں جواب دیتی ہے کہ کیسے ہو چاند پر داغ جو ہیں۔

    کچھ عرصہ تک پاکستان ٹیلیوژن پر ایک کپڑے دھونے کے پاؤڈر کا اشتہار قوم کو یہ باور کراتا رہا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اور اس اشتہار سے وہ اپنا پاؤڈر بیچ کر چاندی کماتے رہے۔ لیجئے چاندی میں بھی چاند آ گیا۔

    مگر سوال یہ ہے کہ چاند پر داغ کیوں ہیں؟ اسکے لیے ہمیں چاند کی کچھ تاریخ سمجھنا ہو گی۔

    ہم یہ جانتے ہیں کہ نظامِ شمسی آج سے قریب 4.6 ارب سال پہلے بنا۔ پہلے پہلے سورج بنا پھر اسکی دیکھا دیکھی باقی بچے کچھے نبیولا سے زمین اور دیگر سیارے۔ زمین کے بننے کا عمل تقریباً 4.5 ارب سال پہلے شروع ہوا۔ اسے ہم پروٹو ارتھ یعنی بنیادی زمین کہہ لیتے ہیں۔ اب جب زمین بنی تو نظامِ شمسی میں کوئی نظم و ضبط نہیں تھا۔ یوں سمجھیں کہ برتھ ڈے پارٹیاں چل رہی تھیں۔ کوئی سیارہ بن رہا ہے، کوئی کہاں سے کہاں ناچ رہا یے, کہیں گیس اور خلائی گرد بہک رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین کے پاس مریخ جتنا بڑا ایک اور سیارہ "تھییا” ٹکرایا۔ اس سیارے کے ٹکرانے سے سیارے کا کچھ حصہ زمین میں شامل ہوا اور زمین اور تھییا کا کچھ حصہ خلا میں بکھر گیا جو زمین کے گرد گریویٹی کے باعث چکر کاٹنے لگا۔ بالکل ویسے ہی جیسے آج زحل کے گرد رنگز ہیں جو مختلف چھوٹی بڑی چٹانوں پر مشتمل ہیں۔ وقت کیساتھ ساتھ یہ ٹکڑے آپس میں جڑتے گئے اور چاند کی شکل اختیار کر گئے۔
    یہ نظریہ اس وقت کا سب سے زیادہ مانا جانے والا نظریہ ہے جسکے حق میں کمپیوٹر ماڈلز اور کئی اور ثبوت پیش کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر چاند کے مدار اور زمین کی محوری گردش ایک سمت میں ہونا۔ چاند اور زمین کی چٹانوں کے تجزیے ، کائنات کے دوسرے ستاروں کے نزدیک انکے سیاروں میں ایسے واقعات کے مشاہدات وغیرہ وغیرہ۔

    شروع شروع میں چاند زمین کے بے حد قریب تھا یعنی محض 22 ہزار 500 کلومیٹر دور۔ (آج چاند ہم سے تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے) جو آہستہ آہستہ زمین سے دور ہوتا گیا ۔ چاند آج بھی زمین متواتر 3.8 سینٹی میٹر دور ہو رہا ہے۔ وجہ زمین اور چاند کا کھچاؤ اور سمندروں میں ٹائڈز۔

    اس سے چاند تو دور ہو رہا ہے مگر زمین بھی اپنے محور کے گرد گھومتے ہوئے آہستہ ہو رہی ہے جس سے دن کا دورانیہ بتدریج بڑھ رہا ہے۔ آج سے 3.8 ارب سال پہلے جب زمین پر زندگی وجود میں آئی تو دن کا دورانیہ 12 گھنٹے سے بھی کم تھا۔

    سو ماضی میں چاند زمین سے روٹھے محبوب کیطرح دور ہوتا گیا اور ستم ظریفی کہ زمین سے جدائی کی پاداش کہئے یا اسکا مقدر کہ اس پر کئی چھوٹے بڑے شہاب ِ ثاقب گرتے رہے۔ چاند پر لاوے سے گھاٹیاں بنتی گئے شہابیوں سے بڑے بڑے گڑھے ہوتے گئے۔ جہاں جہاں لاوا پگھل کر ٹھنڈا ہوا وہاں کی مٹی اور چٹانیں باقی چاند کی نسبت کالی رہی۔

    چاند پر آج دکھنے والے داغ ماضی میں اس پر ہولناک تباہیوں کے آثار ہیں جو ہمیں اسکے داغدار ماضی کے بارے میں بتاتے ہیں۔سو پارو کا یہ کہنا کہ چاند کو غرور اس لیے نہیں کہ اس پر داغ ہیں، تھوڑی زیادتی ہے کیونکہ چاند بیچارے نے تو خوبصورت ہونے کے لیے بڑے داغ سہے ہیں۔

    اور بقول فیض:
    ہر داغ ہے اس دل پہ بجز داغِ ندامت

    خیر اب حالت یہ ہے کہ چاند ہمارے آسمان کا سب سے خوبصورت جُز ہے۔ اسکے استعمال سے نہ شاعروں نے اور نہ ہی مجبور عاشقوں نے باز آنا ہے اور نہ ہی سامنے بیٹھے محبوباؤں یا بیگمات نے اس استعارے سے دھوکہ کھانے سے رکنا ہے۔ کیونکہ چاند ہے ہی اتنا خوبصورت۔

  • ہماری دودھیا کہکشاں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری دودھیا کہکشاں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ساحر لدھیانوی (ساحر لودھی نہیں) برصغیر کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر گزرے ہیں۔ اُنکی ایک خوبصورت نظم "انتظار” کا ٹکڑا تھا:

    دور وادی میں دودھیا بادل
    جھک کے پربت کو پیار کرتے ہیں

    دل میں ناکام حسرتیں لے کر
    ہم ترا انتظار کرتے ہیں

    ان بہاروں کے سائے میں آ جا
    پھر محبت جواں رہے نہ رہے

    زندگی تیرے نامرادوں پر
    کل تلک مہرباں رہے نہ رہے!

    اب ساحر صاحب تو ٹھہرے بڑے شاعر، دودھیا بادلوں کے چکر میں پوری نظم کہہ گئے مگر ہم کس خوبصورت شے پر کس خوبصورت زبان میں لکھیں؟

    چلیے ہم شاعری کی بجائے سائنس کی زبان استعمال کرتے ہیں اور دودھیا بادلوں کی جگہ دودھیا کہکشاں کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ وہ کہکشاں جو قدیم دور میں مصنوعی روشنیاں نہ ہونے کے باعث رات کو صاف آسمانوں پر دودھیا لکیر سی دکھتی اور دیکھنے والوں کو وطیرہ حیرت میں ڈال دیتی۔ ایک سفید راستہ دور کہیں پراسرار آسمان کے بیچوں بیچ۔ نجانے وہاں کیا ہو گا؟

    مگر آج ہم جانتے ہیں کہ ہم بھی اسی دودھیا کہکشاں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ اس کہکشاں کو ملکی وے کہتے ہیں۔ ہمارا سورج اس کہکشاں کے کئی ارب ستاروں میں سے ایک معمولی سا ستارا ہے۔

    یہ کہکشاں کتنی وسیع ہے؟ اگر آپ روشنی کی رفتار سے سفر کریں(جو کہ ناممکن ہے مگر فرض کیجئے) تواسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے آپکو کم و بیش 1 لاکھ سال درکار ہونگے۔ گویا اس کہکشاں کا قطر تقریباً 1 لاکھ نوری سال ہے۔

    ملکی وے پرانے دور کے کمپیوٹر کی سی ڈی کیطرح چپٹی اور گول نہیں ہے بلکہ یہ ایک سپائرل شکل کی ہے یعنی بھنور جیسی اور اسکے اسکے چار بڑے اور پھیلے بازو ہیں جیسا کہ تصویر میں دِکھ رہے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی، ہماری زمین اور ہم ان میں سے ایک بازو میں کہیں نقطے کی مانند موجود ہیں۔ ملکی وے کی موٹائی تقریباً 1 ہزار نوری سال ہے۔ تو نہ ہی یہ سی ڈی کیطرح چپٹی ہے اور نہ ہی مکمل گول۔

    اس کہکشںاں میں موجود تمام ستارے بشمول سورج اسکے مرکز میں موجود ایک بہت بڑے بلیک ہول کے گرد گھوم رہے
    ہیں۔ اگر یہ بلیک ہول نہ بھی ہوتا تو بھی سورج اور ستارے اس کہکشاں کے مرکز کے گرد ہی گھومتے۔ایسا کیوں؟ یہ بحث پھر کبھی۔ اس کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کا ماس، سورج کے ماس سے 40 لاکھ گنا زیادہ ہے!! مگر گھبرائیں نہیں ، ہماری زمین اس بلیک ہول سے کافی دور ہے یعنی تقریباً 28 ہزار نوری سال دور۔

    آپ اس وقت جو یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور میں جو یہ تحریر لکھ رہا ہوں، ہم دونوں اس کہلشاں کے مرکزی بلیک ہول کے گرد 28 ہزار نوری سال فاصلے پر 80 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ اگر آپ اس تحریر کو ڈیڑھ منٹ میں پڑھتے ہیں تو تحریر کے ختم ہونے تک آپ کہکشاں میں موجودہ مقام سے، کہشکشاں کے مرکز کا محور کرتے 20 ہزار کلومیٹر دور جا چکے ہونگے۔ اسی رفتار سے ہمارا نظامِ شمسی ہر 23 کروڑ سال میں ہماری کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر لگاتا ہے۔ یعنی آخری بار سورج اس کہکشاں میں جس مقام پر اب ہے ، وہ تب تھا جب زمین پر ڈائناسورز اج سے 23 سے 25 کروڑ سال پہلے نمودار ہوئے تھے۔

    ہماری کہکشاں میں موجود اربوں ستاروں کے گرد کئی سیارے اپنے اپنے مدار میں ویسے ہیں گھوم رہے ہیں جیسے ہمارے سورج کے گرد اسکے آٹھ سیارے۔ سائنسدان اب تک تقریباً 5 ہزار ایسے سیارے ڈھونڈ چکے ہیں جن پر شاید کسی یا کئییوں پر زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو۔

    ہماری کہکشاں سے بڑی اربوں اور کہکشائیں اس کائنات میں موجود ہیں جن میں اب تک کی دریافت کردہ سب سے بڑی کہکشاں کا نام IC1101 ہے اور یہ 40 لاکھ نوری سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ یعنی یہ ہماری کہشاں سے بھی کئی گنا بڑی ہے۔ کائنات اتنی وسیع ہے یہ سوچ کر ذہن چکرا سا جاتا ہے۔ ویسے ساحر لدھیانوی صاحب کو اس پر بھی کچھ لکھنا چاہیے تھا مگر وہ تو 1980 میں دارِ فانی سے کوچ کر گئے تو چلیے ہم ہی ایک شعر کہے دیتے ہیں:

    وسعتِ ابتدا؟ نہیں معلوم
    وسعتِ انتہا؟ نہیں معلوم
    ہم کو معلوم ہے جو ہے معلوم
    اور جو معلوم تھا، نہیں معلوم

  • نظامِ شمسی کے باہر چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کے باہر چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    چاند کی تعریف وہ نہیں جو آپکا محبوب ہے بلکہ سائنس میں اسکی تعریف یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سیارچہ ہو جو کسی سیارے کے گرد گھومے۔ مثال کے طور پر زمین کا چاند جسے نجانے کتنے دیوداسوں(اسلم, شکیل، غفور وغیرہ) نے پارو ("فرسٹ” کزن رقیہ خالہ کی بیٹیوں) سے تشبیہ دی ہو گی۔
    یا وہ چاند جسے دیکھنے کے لئےہر سال محلے والی رخسانہ آنٹی کیطرح کمیٹیاں ڈالی جاتی ہیں۔

    مگر کیا چاند محض زمین کا ہے؟ یا کسی سیارے کے گرد بھی اُنکے چاند موجود ہیں؟ 1609 میں جب گلیلیو نے دوربین کی مدد سے آسمانوں کو دیکھا تو اُسے مشتری کے گرد گھومتے اجسام نظر آئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب انسانوں کو معلوم ہوا کہ نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کے گرد بھی چاند گھومتے ہیں۔

    نظامِ شمسی میں عطارد اور زہرہ کے علاوہ باقی تمام سیاروں کے چاند ہیں حتیٰ کہ پلوٹو کے بھی جسے اب سیارہ نہیں مانا جاتا۔
    زمین, مریخ ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون اور دیگر بونے سیاروں جیسے پلوٹو ،ایریس وغیرہ کے کل ملا کر 214 چاند بنتے ہیں۔
    نظامِ شمسی میں سب سے زیادہ چاند جس سیارے کے ہیں وہ زحل ہے جسکے 82 چاند ہیں جبکہ سب سے کم جس سیارے کے چاند ہیں وہ زمین ہے جسکا محض ایک ہی چاند ہے۔

    مگر کیا نظامِ شمسی سے باہر کے دریافت کردہ سیاروں یا Exoplanets کے بھی چاند ہیں؟ یہ جدید فلکیات کا ایک اہم سوال ہے۔ ہم سے کئی نوری سال دور موجود کسی چھوٹے سے سیارے گرد اُسکا چاند ڈھونڈنا ایک مشکل کام ہے۔ زمین پر پہلی کا چاند اتنی مشکل سے دکھتا ہے کہ مرغوں کی لڑائی سے بھی دلچسپ لڑائی ہوتی ہے اور یہاں تو بات کسی دورافتادہ سیارے کے گرد گھومتے چاند کی ہو رہی ہے۔ تو کیا طریقہ ہے جس سے ان سیاروں کے گرد چاند ڈھونڈا جائے؟

    اسکا ایک طریقہ موجود ہے اور وہ ہے سیاروں سے آتی مدہم سی روشنی میں معمولی سے بدلاؤ کو جانچنا۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین اور چاند ایک دوسرے کو اپنی طرف مسلسل کھینچتے ہیں۔ اس "رسہ کشی” سے چاند اور زمین اپنے اپنے مدار میں ہلکا سا ڈولتے ہیں جسے Wobbling کہتے ہیں۔ اس معمولی حرکت سے سیاروں سے آتی اس مدہم سی روشنی کو جانچ کر ہم بتا سکتے ہیں کہ سیارے کے مدار میں گھومنے کے دوران معمولی سا بدلاؤ آ رہا ہے۔ اگر ہم یہ بدلاؤ معلوم کر لیں تو ہم جان سکیں گے کہ سیارے کے گرد کوئی چاند گردش کر رہا ہے۔ ا

    کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس طریقے سے ہم کائنات میں بھٹکے سیاروں یعنی وہ سیارے جو کسی ستارے کے گرد نہیں بلکہ خلا میں آزادانہ گھوم رہے ہیں کے گرد چاند بھی زیادہ آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔

    تو سوال یہ کہ کیا اس طریقے سے ہم نے اب تک نظامِ شمسی سے باہر کے کسی سیارے کا چاند ڈھونڈا ؟

    اب تک کی معلومات کے مطابق دو ایسے اجسام ملے ہیں جو ممکنا طور پر نظامِ شمسی سے باہر کے کسی سیارے کے چاند ہو سکتے ہیں۔ ہمارے زمین سے 8 ہزار نوری سال دور مشتری جیسا ایک سیارہ Kepler 1625b جو اپنے ستارے کے گرد گھوم رہا یے۔ اس سیارے کے گرد نیپچون کے ماس کا ممکنہ چاند موجود ہیں۔ اسکو نام دیا گیا ہے Kepler 1625b-i.

    جبکہ دوسرا ممکنا چاند زمین سے تقریباً 5ہزار 6 سو نوری ساک کے فاصلے پر ایک اور مشتری جسیے سیارے Kepler-1708 کے گرد گھوم رہا ہے۔یہ بھی کم و بیش نیپچون جتنا ہے۔ اسے سائنسدانوں نے نام دیا ہے Kepler-1708 b-i۔ مگر ان دونوں متوقع چاندوں کے بارے میں فی الحال متفقہ رائے موجود نہیں کیونکہ مشاہدات کا ڈیٹا اتنا نہیں کہ اس پر حتمی رائے دی جا سکے۔ تاہم مستقبل میں اُمید کی جا سکتی کے کہ جیمز ویب اور دیگر ٹیلیسکوپس کی مدد سے ہم نظامِ شمسی سے باہر کے چاندوں کو دریافت کر سکیں۔

    ہو سکتا کے کسی دوسرے سیارے پر موجود کوئی اسلم آج بھی اپنی دردانہ کو نیپچون جتنا بڑا چاند کہتا ہو اور وہ ڈائٹنگ کرنے کی بجائے خوشی سے اور پھولتی ہو۔

  • توہمات اور اُنکی وجوہات!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    توہمات اور اُنکی وجوہات!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا ہے مگر ضعیف العتقادی اور توہم پرستی اب بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔ ایسی کئی توہمات ہیں جن پر لوگ آج بھی یقین کرتے ہیں۔ توہم پرستی دراصل وہ خیال ہے جو بغیر کسی منطق کے لوگ سچ سمجھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی خاص عمل کے کرنے یا ہونے سے اُنکی زندگی پر اثر پڑے گا۔

    اس سلسلے میں کچھ مثالیں بیان کرتا ہوں اور اُنکے پیچھے وجوہات تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ ان توہم پرست رویوں کے بننے کے محرکات کیا تھے۔

    1. کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو کچھ برا ہو گا۔

    یہ ایک فضول بات ہے، بلی کے راستہ کاٹنے سے آپکی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دراصل پرانے زمانے میں لوگ گھوڑا گاڑی یا بیل گاڑی کا استعمال کرتے تھے۔ تو رات کے وقت کسی ویران راستے سے گزرتے ہوئے کوئی بلی راستہ کاٹتی تھی تو اُسکی آنکھوں کی چمک سے گھوڑا یا بیل ڈر سکتے تھے جس سے گاڑی کا توازن خراب ہونے کا اندیشہ رہتا۔ اسی لئے پرانے زمانے میں لوگ ایسا کچھ ہونے سے گاڑی کو کچھ دیر کو روک دیا کرتے تھے تاکہ نقصان نہ ہو۔ مگر آج کے دور میں نہ آپ گدھا گاڑی چلاتے ہیں اور نہ ویران جنگلوں میں رہتے ہیں لہذا بلی کو کاٹنے دیجئے رستہ اس سے کچھ نہیں ہو گا۔

    2. رات کو جھاڑو دینے سے گھر میں غربت آتی ہے۔

    یہ بھی ایک بے تکی بات ہے۔ صفائی کرنا صحت کے لیے ضروری ہے چاہے دن میں کریں یا رات میں۔ یہ بات اس لئے مشہور ہوئی کہ پرانے دور میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ گھروں میں رات کو ایک آدھا دیا ہی روشن ہوتا۔ ایسے میں اگر رات کو جھاڑو دیا جاتا تو اس بات کا اندیشہ رہتا کہ کوئی بھی قیمتی شے جھاڑو کیساتھ کوڑے میں چلی جائے گی۔ اسی سبب رات کو جھاڑو دینے کو غربت سے جوڑا جاتا رہا مگر فی زمانہ آپکے گھر رات کو بجلی اور برقی روشنی سے چمچما رہے ہوتے ہیں تو رات کو جھاڑو یا صفائی کرنے میں اب کوئی مسئلہ نہیں۔

    3 رات کے وقت بال یا ناخن کاٹنا بدشگونی ہے

    اسکے پیچھے بھی یہی منطق تھی کہ پرانے زمانے میں رات کو اندھیرا ہونے کے باعث دیے کی روشنی میں بال یا ناخن کاٹنے سے زخم لگنے کا اندیشہ رہتا۔ مگر آج ایسا کچھ نہیں ۔ آپ روشن کمرے میں بال کاٹیں یا ناخن، کوئی بدشگونی نہیں ہوگی۔

    4. کسی کام سے پہلے دہی اور شکر کھانے سے کام اچھا ہوتا ہے

    دہی دراصل پیٹ کو ٹھنڈا رکھتی ہے اور شکر میں گلوکوز ہوتا ہے جو فورآ دماغ تک پہنچتا ہے جس سے آدمی کا ذین مستعد ہوتا یے۔ لہذا کام کے دوران آپ کا پیٹ ٹھنڈا اور جسم مستعد رہے گا تو کام کے بہتر ہونے کے امکان بڑھ سکتے ہیں۔ مگر آپکے کام کے اچھے ہعنے یا نہ ہونے کا تعلق آپ پر منحصر ہے نہ کہ دہی اور شکر سے۔ ایسا ہوتا تو ایلان مسک کی جگہ آج کوئی دودھ دہی بیچنے والا شخص امیر ترین ہوتا۔

    5. سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت حاملہ عورت کو باہر نہیں جانا چاہیے ۔ اس سے بچے معذور پیدا ہونگے۔

    یہ بھی ایک بے تکی بات ہے جسکی کوئی سائنسی وجہ نہیں۔ سورج گرہن یا چاند گرہن میں جانے سے پیدا ہونے والے بچے ہر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ چاند گرہن میں باہر جانا بالکل محفوظ ہے البتہ سورج گرہن کے وقت سورج کو سیدھا دیکھنے سے آنکھوں کی بینائی جا سکتی ہے۔ مگر اس سے بچے کی معذوری بلاواسطہ ہرگز ہرگز کوئی تعلق نہیں ۔ دراصل سورج گرہن کو آنکھوں پر بغیر کسی حفاظتی عینک کے سیدھا دیکھنے سے بینائی متاثر ہوسکتی ہے۔۔لہذا بینائی کے متاثر ہونے سے حاملہ عورت کے معمولات زندگی ہر اثر پڑ سکتا ہے جس سے حمل کے دوران بچے کی افزائش بھی متاثر ہو سکتی ہے مگر یہ اس صورت میں جب کوئی حاملہ عورت دیدے پھاڑ کر سورج گرہن دیکھے اور اپنی بینائی متاثر کر بیٹھے ورنہ سورج گرہن میں حفاظتی تدابیر کے ساتھ باہر جانے سے نہ ہی بچہ متاثر ہو گا اور نہ ہی ماں۔

    پرانے دور کی اور بھی کئی توہمات ہیں مگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شے پر جو صدیوں سے سنتے آئے ہوں اُن پر اندھا یقین کرنے سے پہلے اس بارے میں سوچیں تو شاید پتہ چلے کہ زمانہ بدل چکا ہے لہذا یہ فرسودہ خیالات بھی ترک کر دئے جائیں تو بہتر ہے۔

  • مرغی یا انڈہ؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مرغی یا انڈہ؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ سوال سائنسی بھی ہے اور فلسفیانہ بھی۔ سائنسی اس اعتبار سے کہ اس سے ہمیں ارتقاء کے عمل کا پتہ چلتا ہے اور فلسفیانہ ایسے کہ اسے بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے تب جب دو آپس میں جڑے واقعات میں یہ فیصلہ نہ ہو پائے کہ علت کیا ہے اور معلول کیا۔ یعنی کاز اور ایفکٹ۔

    تو موجودہ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

    مشہور امریکی سائنسدان اور سائنس کو عوامی کرنے کے ماہر Neil degrasse Tyson اسکا جواب کچھ یوں دیتے ہیں:

    "کون پہلے آیا مرغی یا انڈہ؟ انڈہ جو اس پرندے نے دیا جو کہ مرغی نہیں تھا”۔

    نظریہ ارتقاء کےتحت ہم یہ جانتے ہیں کہ مختلف جاندار ارتقاء پذیر ہو کر مختلف نسل کے جانداروں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے موجودہ دور کی مرغیاں بھی کسی اور جاندار سے ارتقاء کے عمل کے تحت وجود میں آئیں ہیں۔

    جانداروں میں ایسا انڈہ جسکے گرد حفاظتی جھلی ہو، اسے amniote egg کہا جاتا ہے۔ اس خصوصیت کے باعث اس طرح کے انڈے سمندروں کے علاوہ خشکی پر بھی جاندار دے سکتے ہیں۔ اگر فوسلز کے شواہد دیکھے جائیں تو خشکی پر دیا جانے والا انڈہ (مرغی کا نہیں) کسی ریپٹائل جانور کا آج سے 30 کروڑ سال پہلے کا ملتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرغی سے پہلے انڈہ آیا مگر کسی اور جاندار کا۔

    مگر مرغی کے انڈے کے بارے میں کیا؟

    موجودہ دور کی مرغی جسکا سائنسی نام Gallus domesticus ہے، انسانوں نے قریب چار ہزار سال پہلے پالنا شروع کیں۔ یہ مرغیاں جس پرندے سے ارتقاء پذیر ہوئیں وہ مرغیوں سے ملتا جلتا پرندہ Red Junglefowl ہے جو جنوب مشرقی ایشیاء میں پایا جانے والا ایک جنگلی پرندہ ہے۔

    قدیم دور میں مرغوں کی لڑائی مختلف تہذیبوں کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ اسی بنا پر انسانوں نے مرغیوں کے ان اجداد کو پالنا شروع کیا اور ان میں مصنوعی چناؤ کے ذریعے انہیں موجودہ مرغی کی شکل میں لائے۔

    اسی مصنوعی چناؤ کے دوران ایک ایسا پرندہ ارتقاء پذیر ہوا ہوگا جو مرغی نہیں ہو گا بلکہ مرغی سے ملتا جلتا ہو گا اسے ہم "پروٹو چکن” کہہ سکتے ہیں۔ اس پروٹو چکن کے انڈے میں جینیاتی تبدیلی یا میوٹیشن کے باعث جدید مرغی کا جنم ہوا ہو گا۔

    ارتقاء کا عمل ایک مسلسل عمل ہے اور اس میں ہم ایک لکیر نہیں کھینچھ سکتے کہ اب ایک مکمل مختلف نسل کسی پرانی نسل سے جدا ہو چکی ہے۔
    لہذا موجودہ مرغی سے پہلے وہ انڈہ آیا ہو گا جو تھا تو مرغی جیسے پرندے کا مگر اس میں تبدیلی کے باعث موجودہ مرغی وجود میں آ ئی۔

    سو اس سوال کا جواب کہ مرغی پہلے آئی کہ انڈہ یہ ہے کہ یقینا انڈہ۔

    ویسے اگر آپ دونوں آن لائن منگائیں تو کون پہلے آئے گا؟

  • مصنوعی گوشت !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مصنوعی گوشت !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آج سے کم و بیش دس سے گیارہ ہزار سال پہلے انسانوں نے کھیتی باڑی کرنا شروع کی۔ اس سے پہلے انسان شکار کئے جانور یا جنگلی پھل وغیرہ کھا کر اپنی بھوک مٹاتے۔ اس وجہ سے انسانی آبادی کم تھی۔ خوراک کے ذرائع محدود تھے۔ آج سے بارہ ہزار سال پہلے جب آئس ایج کا دور ختم ہوا تو گندم اور دیگر اناج کے پودے شدید موسم سے بچ کر زیادہ بہتر طور پر اُگنے کے قابل ہوئے۔ انسانوں نے کھیتی باڑی کر کے مستقل آبادیاں بنائیں۔ اب کھانے کے لیے شکار کی ضرورت کم ہو گئی مگر گوشت کھانا انسان نے نہ چھوڑا۔ جانوروں کو پالنا شروع کیا گیا۔ بکریاں، گائے، سور ان سب کو گوشت، دودھ, اُون وغیرہ کے لئے رکھا گیا۔ خوراک کے بہتر ذرائع سے انسان کی نشو و نما بہتر ہونے لگی۔ آبادی بڑھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے انسانی آبادی چند ہزار سالوں میں لاکھوں سے اربوں میں چلی گئی۔

    آج جانوروں کا گوشت وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانوں نے مصنوعی چناؤ سے جانوروں کی ایسی نسلیں تیار کی ہیں جو کم وقت میں زیادہ گوشت اور زیادہ دودھ دیتی ہیں۔ مگر گوشت کی اس انڈسٹری سے ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ رہا یے۔ سائنسی جریدے نیچر کے مطابق محض جانوروں سے حاصل کردہ ایک کلوگرام بیف کے لئے اوسطاً 15 ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح گوشت کی انڈسٹری عالمی خوراک کی سالانہ کی پیداوار سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں میں 60 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔

    ماحولیاتی اثرات کے اس تناظر میں اور گوشت کی بڑھتی ہوئی کھپت کے پیشِ نظر اب جدید طریقوں سے گوشت بنانے کا سوچا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم پیش رفت لیبارٹری میں تیار کردا گوشت کے حوالے سے ہے۔
    اسے عرف عام میں Lab Grown Meat یا مصنوعی گوشت بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جسے گوشت کہتے ہیں وہ دراصل جانور کے پٹھے ہوتے ہیں۔ اس میں مسل ٹشوز اور چربی ہوتی ہے۔ مصنوعی گوشت کی تیاری کے عمل میں جانور کو مارے بغیر اسکے کچھ خلیے پٹری ڈش میں نکال کر اُنہیں خاص حالات اور خوراک مہیا کی جاتی ہے جس سے وہ بڑھتے ہیں اور کچھ وقت میں گوشت کا ٹکڑا بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے مصنوعی گوشت کا تصور 21 ویں صدی کے اوائل میں پیش کیا گیا۔ اس طرح سے لیبارٹری میں گوشت بنانے کے اور اسکے ذائقے کا موازنہ جانور سے حاصل کئے گئے گوشت سے کیا گیا۔ پہلے تجربوں میں اسے بنانا بے حد مشکل اور مہنگا تھا۔ لیب میں بنایا گیا ایک پاؤنڈ گوشت 3 لاکھ اور 30 ہزار ڈالر کا۔۔مگر وقت کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں بہتری کے باعث اسے بنانا سستا ہوتا گیا ۔ آج اسکی قیمت تقریباً 7 سے 8 ڈالر فی پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے۔ بہت سی نئی کمپنیاں آج اس طرح سے بنے مصنوعی گوشت کو سستا سے سستا اور کھانے کے لیے محفوظ بنا کر مارکیٹوں میں لانے کی کوشش میں ہیں۔ سنگاپور پہلا ملک ہے جہاں ایک امریکی کمپنی "جسٹ ایٹ”. کا تیار کردہ مصنوعی چکن مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ دیگر ممالک بھی عنقریب اس روش کو اپنائیں گے۔

    مصنوعی گوشت کی پیداوار سے ماحول پر برے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے کہ یہ طریقہ کار موثر ہے اور اس میں وسائل کا استعمال روایتی گوشت حاصل کرنے کے طریقے سے کم ہے۔ اسکے علاوہ بہت سے لوگ مستقبل میں یہ گوشت کھانا بھی چاہیں گے کیونکہ بقول اُنکے اس میں کسی جانور کی ہلاکت یا اس پر ظلم شامل نہیں۔

  • کائنات میں ہمارے پڑوسی!!!  — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کائنات میں ہمارے پڑوسی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کے کئی پڑوسی ہیں۔ زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ہے چاند۔ چاند میاں کے کیا کہنے۔ یہ اتنا خوبصورت ہے کہ شاعروں نے اسے محبوب کے حُسن کا استعارہ بنا رکھا ہے اور میٹرک کے نئے عاشق سے لیکر بزرگی میں پہنچے بابے سب اپنی معشوقاؤں کو چاند سے تمثیل دیتے ہیں۔ چاند زمین سے اوسطاً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے۔ یہ فاصلہ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے جسکی وجہ چاند کا زمین کے گرد مدار مکمل گول نہیں بلکہ بیضوی شکل کا ہے۔

    زمین کا سب سے قریبی پڑوسی سیارہ نظامِ شمسی کا دوسرا سیارہ زہرہ ہے۔ زہرہ کو زمین کی جڑواں بہن بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ اور بات کے گردشِ ایام اور شومئی قسمت کہ زہرہ کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس گیسیں اس قدر زیادہ ہیں کہ یہ نظامِ شمسی کا گرم ترین سیارہ ہے۔

    زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ستارہ سورج یے۔ سورج زمین سے اوسطاً 15 کروڑ کلومیٹر ہے۔ مگر سورج تو ہمارے نظامِ شمسی میں ہے۔
    سو سورج کے بعد جو ستارہ زمین کے سب سے قریب ہے وہ ہے پروکسیما سینٹوری۔ یہ ہم سے تقریباً 4.25 نوری سال دور ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔(946 کھرب کلومیٹر)۔

    الفا سینٹوری دراصل تین ستاروں کے ایک سسٹم کا ایک ستارہ ہے ۔ اس ستاروں کے سسٹم کو ایلفا سینٹوری کہتے ہیں جس میں پروکسیما سینٹوری کے علاوہ دو اور ستارے موجود ہیں جو اس سے بڑے ہیں اور یہ ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہیں یعنی یہ بائنری سٹارز ہیں۔ ان دو اور ستاروں کے نام ہیں "ایلفا سینٹوری اے” اور "ایلفا سینٹوری بی” اور یہ ہم سے 4.43 نوری سال دور ہیں۔

    پروکسیما سینٹوری جو ہمارا قریبی پڑوسی ستارہ ہے یہ سورج کے مقابلے میں قدرے چھوٹا اور ٹھنڈا ستارہ ہے۔ اسکا ماس سورج سے تقریباً 12 گنا کم ہے اور اسکا سائز سورج سے 33 گنا کم ہے۔ اس پڑوسی ستارے کے گرد بھی ہمارے سورج کی طرح سیارے گھومتے ہیں۔ اب تک اسکے گرد تین سیارے دریافت ہوئے ہیں جن میں سے دو کی دریافت مصدقہ ہے تاہم تیسرا سیارے کی دریافت نئی تحقیق کے مطابق مشکوک ہے۔

    جو دو مصدقہ سیارے اسکے گرد گھوم رہے ہیں اُنکے نام ہیں "پروکسیما بی” اور "پروکسیما ڈی”۔ جبکہ تیسرا سیارہ "پروکسیما سی” کی دریافت پر اسی سال یعنی 2022 میں ایک نئی تحقیق میں سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

    ان میں سے "پروکسیما بی” ستارے سے اتنا دور ہے کہ اگر اس پر پانی موجود ہے تو مائع حالت میں ہو سکتا ہے۔ جبکہ پروکسیما ڈی پر شاید پانی مائع حالت میں نوجود نہ ہو کہ یہ اس ستارے سے زیادہ قریب ہے۔

    ممکن ہے ان میں سے کسی سیارے پر زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو مگر یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں شاید صدیاں لگ جائیں۔

    بقول اقبالِ لاہوری:

    باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
    کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

  • آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ملیے "آئیو”سے. یہ مشتری کا تیسرا بڑا چاند ہے۔ نظامِ شمسی کا ایسا چاند جس پر سب سے زیادہ آتش فشائی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ آئیو پر کئی آتش فشائی مرکز ہیں جن سے لاوا اور گیسیں اسکی فضا میں کئی سو میل اوپر کو اُٹھتی ہیں۔آئیو کی قسمت کہ یہ مشتری اور مشتری کے دیگر بڑے چاندوں کے بیچ یوں گھرا ہےجیسے مشتری اور اسکے بڑے چاند اس بیچارے کو درمیان میں رکھ کر گریویٹی کے بل پر رسہ کشی کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئیو کے اندرونی تہوں میں موجود لاوا اور گیسس ہمیشہ حرکت میں ، گرم یا مائع حالت میں رہتے ہیں اور اس چاند کی آتش فشائی فطرت کا سبب بنتے ہیں۔ ان آتش فشاؤں کیوجہ سے آئیو کی اندرونی تہوں سے مواد اسکی باہری سطح پر آتا ہے، جمتا ہے، اور پھر دوبارہ اندرونی تہوں میں چلا جاتا ہے۔ یوں آئیو کی سطح ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ گویا کسی نے اسے ری سائیکلنگ پلانٹ میں ڈال دیا ہو۔

    آئیو زمین کے چاند سے کچھ بڑا ہے۔ یہ مشتری کے ساتھ "ٹائیڈلی لاکڈ” ہے. نجانے اس لفظ کا فیروز اللغات میں کیا اُردو ترجمہ ہو گا۔ اُردو زبان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بے حد کم ہے۔ خیر آئیو کا ٹائیڈلی لاکڈ ہونے کا مطلب سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ یہ چاند مشتری کیطرف ہمیشہ محبوب کیطرح مستقل منہ کیے رہتا ہے۔ یعنی اس چاند کا اپنے محور پر گردش کا دورانیہ اور مشتری کے گرد گردش کا دورانیہ تقریباً ایک جتنا ہے یعنی 1.8 دن۔ یوں اگر آپ مشتری پر ہوں تو وہاں سے "آئیو” کی ایک ہی سائڈ آپکو ہمشہ نظر آئے گی ویسے ہی جیسے زمین پر ہمیں چاند کی صرف ایک سائیڈ نظر آتی ہے۔ (کوئی اُردو سائنس بورڈ جس میںں بابا اشفاق اور مفتی ممتاز صاحب جیسے ادیب ماضی میں شامل رہے تھے سے کہے کہ اُردو میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بڑھائیں ٹائیڈل لاک کا اُردو ترجمہ "جوار بھاٹوی تالہ” یا "مدوجزری تالہ” کسی کو سمجھ نہیں آنا)

    خیر آئیو پر کبھی کبھی اتنے اونچے آتش فشاں پھٹتے ہیں کہ زمین سے کسی بڑی اور طاقتور ٹیلی سکوپ سے کئی کروڑ میل دور بیٹھے بھی کوئی انہیں دیکھ سکتا ہے۔ آئیو کی دریافت کا سہرا اطالوی ماہرِ فلکیات گیلیلیو کے سر جاتا ہے جس نے 1610 میں دوربین کے ذریعے جب مشتری کو دیکھا تو اسکے ساتھ آئیو اور کئی اور چاند اسے نظر آئے۔ ویسے یہ انسانی تاریخ میں ایسا واقعہ ہے جب انسانوں کو احساس ہوا کہ دیگر اجرامِ فلکی کے گرد بھی کئی اور اجسام گھومتے ہیں اور اس سے انسانوں کا زمین کو کائنات کو مرکز سمجھنے، تمام سیاروں، ستاروں اور سورج کا زمین کے گرد گھومنے یا انسانوں کو خود کو کائنات کی توپ چیز سمجھنے کے بچگانہ تصور سے نجات ملی۔

    ناسا کے چار مشنز آئیو کے پاس سے گزر چکے ہیں۔۔ان میں سے سب سے پہلا ستر کی دہائی میں وائجر 1 تھا جبکہ آخری مشن "نیو ہورائزن” تھا جو پلوٹو کی طرف جاتے ہوئے اسکے پاس سے گزرا اور اسکی تصاویر لیں۔آئیو پر اس قدر آتش فشاؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے زمینی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  • اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن سے سوشل میڈیا، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ وغیرہ پر لاہور کے ایک مونچھوں والے صاحب بے حد مقبول ہوئےپڑے ہیں اور کافی ٹرینڈ میں ہیں۔ ان صاحب کا نام ہے اختر لاوا۔

    پیشے کے اعتبار سے یہ ایک کاروباری شخصیت ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ٹک ٹاکر بھی ہیں۔ انکی ایک ویڈیو کچھ دن پہلے ٹک ٹاک سے ہوتی ہوئی جب ٹوئیٹر پر پہنچی تو یہ ایک ٹرینڈ بن گئے۔ بقول اختر لاوا صاحب انکے نام کے ساتھ لفظ لاوا کے پیچھے ایک کہانی ہے۔

    فرماتے ہیں کہ ان کا شجرۂ نسب محمد بن قاسم سے جا ملتا ہے اور انگریزوں کے دور میں جب انگریزوں نے اِنکے گاؤں پر حملہ کیا تو اختر لاوا صاحب کے لکڑ دادا انگریزوں سے بے جگری سے لڑے اور انکو مار بھگایا۔ تب سے لوگوں نے انکے خاندان کے ساتھ یہ لاوا کا لاحقہ منسوب کر دیا کہ یہ لوگ بے حد جوشیلے ہیں۔خیر لاوا صاحب جس وجہ سے مشہور ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اچانک سے کسی کنگ فو فائٹر کی طرح بجلی کی سی تیزی سے ایک قدم آگے آ کر نہایت پھرتی اور اپنے لکڑ دادا کی طرح جوش سے محمد علی کلی باکسر کے سٹائل میں مُکا ہوا میں لہراتے ہیں اور یہ تاریخی اور جلی حروف میں لکھا جانے والا جملہ ارشاد فرماتے ہیں: "لہور دا پاوا۔۔۔۔۔۔۔اختر لاوا”۔ پاوا غالباً اندرون لاہور میں بدمعاش کو کہتے ہیں۔ اب چونکہ اِنکا تعارف ہو چکا تو میں نے سوچا اسی بہانے آپکو اصل لاوا جو زمین سے نکلتا ہے اسکے بارے کچھ جانکاری دیتا جاؤں۔

    لاوا دراصل زمین کے اندر موجود پگھلی چٹانوں سے بنتا ہے۔ جب یہ زمین کے اندر ہوتی ہیں تو انہیں جیالوجی میں میگما کہتے ہیں۔ میگما کا درجہ حرارت 700 سے 1300 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ میگما زمین کی اوپری سطح یعنی کرسٹ میں 6 سے 10 کلومیٹر نیچے بڑے بڑے ذخائر کی صورت پایا جاتا ہے۔ انہیں میگما چیمبرز کہا جاتا ہے۔ میگما چیمبرز خصوصاً آتش فشاں پہاڑوں کے نیچے ہوتے ہیں۔

    میگما میں گیس کے بلبلے بھی ہوتے ہیں جو گرم ہونے کی وجہ سے پھٹتے رہتے ہیں مگر یہ زمین کی پتھریلی سطح کے نیچے دب کر اوپر کو نہیں آتے تاہم کبھی کبھار جب پریشر بے حد بڑھ جائے تو یہ بلبلے میگما کو اپنے ساتھ زمین کی نرم جگہوں سے اوپر لے آتے ہیں اور یوں زور سے میگما زمین سے باہر آتش فشاؤں کے پھٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ میگما جب باہر آتا ہے تو اسے لاوا کہتے ہیں۔ لاوا کا درجہ حرارت ںھی کم و بیش اتنا ہوتا ہے جو میگما کا ہوتا ہے۔

    زمین یا آتش فشاں سے نکلتا لاوا کئی سو میٹر بلندی تک جا سکتا ہے۔ لاوے کا رنگ اسکے درجہ حرارت پر منحصر ہوتا یے۔ 1000 ڈگریی سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر لاوے کا رنگ بھڑکتا نارنجی جبکہ 650 ڈگری سینٹی گریڈ سے 500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارات کے لاوے کا رنگ بادامی مائل سرخ ہوتا ہے۔

    لاوا زمین سے نکل کر مختلف رفتار سے اسکی سطح پر بہتا یے۔ یہ اس پر منحصر کے کہ لاوے میں سیلیکا کی مقدار کتنی ہے۔ سیلیکا دراصل گلاس ہوتا ہے۔سیلیکا کی کم مقدار کا لاوا پتلا اور زیادہ علاقے میں پھیلتا ہے جبکہ زیادہ مقدار میں سیلیکا لاوے کو گاڑھا کر دیتی ہے اور یہ سست روی سے بہتا ہے۔لاوا جب زمین کے اوپر آ کر ٹھنڈا ہو کر جمتا ہے تو کالے پتھروں اور چٹانوں می صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اب آپ بتائیں اختر لاوا میں کتنا سیلیکا ہے؟