Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر حفیظ الحسن

  • سمندروں سے نیچے، آسمانوں سے اوپر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سمندروں سے نیچے، آسمانوں سے اوپر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہالینڈ یا نیدرلینڈ رقبے کے اعتبار سے دنیا کا 131واں ملک ہے۔ اسکا کل رقبہ 42 ہزار مربع کلومیٹر کے آس پاس ہے۔ ہالینڈ کا زیادہ تر حصہ سطح سمندر سے اوسطاً 1.5 میٹر نیچے ہیں۔ یہاں کا سب سے نچلا حصہ سطح سمندر سے نیچے تقریباً 6 میٹر ہے۔

    2020 کے اعداد و شمار کے مطابق ہالینڈ کی آبادی تقریبآ پونے دو کروڑ ہے۔یہ یورپ کے بڑے ممالک میں سب سے گنجان آباد ملک ہے جہاں فی مربع کلومیٹر تقریباً 500 افراد رہتے ہیں۔
    ہالینڈ کا حالیہ جی ڈی پی ہے 950 ارب امریکی ڈالر۔ خوراک کی برآمدات کے حوالے سے یہ دنیا کے پہلے چھ ممالک میں آتا ہے۔ دنیا کی خوراک اور گھریلو اشیاء کی بڑی کمپنی یونی لیور ایک ڈچ اور برطانوی کمپنی کے اشتراک سے 1929 میں قائم ہوئی۔ اسکے علاوہ بھی خوراک اور ذراعت کے دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ہالینڈ کی ہیں۔

    ہالینڈ کا قابلِ کاشت رقبہ تقریباً 18 ہزار مربع کلومیٹر ہے جو اس ملک کے کل رقبے کا تقریباً آدھا ہے ۔ اس میں سے بہت سا حصہ انہوں نے سمندر کا راستہ تبدیل کر کے، نہریں بنا کر حاصل کیا ہے۔ محدود قدرتی وسائل کے باوجود یہ ملک ترقی کی دوڑ میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں آتا ہے۔ یہاں کی آبادی کا بڑا حصہ متوسط طبقہ ہے۔ اور اوسطاً ایک آدمی یہاں سال میں 36 ہزار یورو کماتا ہے۔(آج کا ایک یورو 213 پاکستانی روپوں کے برابر ہے). 2020 میں ہالینڈ کی برآمدات کا حجم 670 ارب ڈالر تھا جبکہ درآمدات تقریباً 600 ارب ڈالر رہی۔ یوں کل فرق تقریباً 70 ارب ڈالر کا ہوا۔ ہالینڈ کی زراعت کے شعبے سے برآمدات 150 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

    اب بات کرتے ہیں وطنِ عزیز یعنی پاکستان کی۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک۔ جسکی کل آبادی اس وقت 22 کروڑ سے اوپر ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ 81 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یوں یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 33 واں بڑا ملک ہے۔ اسکے ایک صوبے خیبر پختونخواہ کا رقبہ کم و بیش ہالینڈ کے رقبے کے برابر ہے جبکہ وہاں کی آبادی ہالینڈ سے دوگنی یعنی 3.5 کروڑ۔
    پاکستان کی سب سے بڑی برآمدت زراعت شعبے سے ہیں جن میں گندم، چاول، گنا، کپاس اور کپاس سے وابستہ ٹیکسٹائل کی مصنوعات ہیں۔
    پاکستان کا جی ڈی پی تقریباً 350 ارب ڈالر ہے۔ یہ۔ہالینڈ کے جی ڈی پی سے 2.7 گنا کم ہے۔ 2021 میں پاکستانی برآمدات 34 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات تقریباً 56 ارب ڈالر۔ یوں پاکستان میں پیسہ آ نہیں بلکہ جا رہا ہے۔

    پاکستان کا ہالینڈ سے موازنہ محض اس لئے کیا ہے تاکہ آپ سوچیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کسی ملک کو دنیا میں کتنا اوپر لے کر جا سکتی ہے۔ آج ہالینڈ میں شاید ہی کوئی زرعی فارم ہو جہاں خودکار مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی سے کاشت نہ ہوتی ہو۔ فی ایکٹر پیدوارکے اعتبار سے ہالینڈ دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں آتا ہے۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہماری فی ایکڑ گندم کی پیدوار پڑوسی ملک بھارت سے بھی کم ہے۔
    آج کی دنیا کسی بھی ملک کے شہری کو اس ملک کی معیشت اور دنیا میں مقام کیوجہ سے عزت دیتی ہے۔ آپ بھلے ہوا میں مکے ماریں, مٹھیاں بھینچیں اور سازشی تھیوریوں کے انبار لگا کر خوش ہوں کہ دنیا آپکو پیچھے رکھنے کی کوششوں میں ہے اس لیے آپ ترقی نہیں کر رہے۔ مگر یہ سوچیں کہ دنیا آپکی کونسی صلاحیتوں سے خوف زدہ ہے؟ یہی کہ آپ سونگھ کر بتا سکتے ہیں کہ خربوزہ میٹھا ہے یا پھیکا؟ اس خود فریبی سے نکلیں گے تو کچھ سدھ بدھ آئے گی۔

    کیا ہم ان خوش فہمیوں سے یہ حقیقت تبدیل کر سکتے ہیں کہ ہم روز بروز تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ سوچ میں بھی اور معیشت میں بھی۔آج کی دنیا میں معیشتوں کا دارومدار سائنسی ترقی پر ہے۔مگر ہم سائنس کی دوڑ میں پیچھے جا رہے ہیں اور انسانوں پر، اُنکے دماغوں پر، اُنکی سوچ پر پیسہ لگانے کی بجائے قتل و غارت کے نئے طریقوں، جنگوں، اسلحوں، نفرتوں اور بارودوں پر پیسہ لگا کر خود کو آہستہ آہستہ مہذب دنیا سے دور کرتے جا رہے ہیں۔ یہ باتیں آپکو وہ نہیں بتائیں گے جو وطنیت کے نام پر آپکو لوٹتے ہیں۔ یہ باتیں آپکو کوئی نہیں بتائے گا کیونکہ آپکے جاہل رہنے سے بہت سوں کا فائدہ ہے۔ حال میں رہ کر اسکا تجزیہ کرنا ایک مشکل عمل ہے۔ آپکو ایک قدم پیچھے جا کر حالات کو دیکھنا ہو گا کہ کہانی شروع کہاں سے ہوتی ہے اور جا کس طرف رہی ہے۔

    سائنس محض انسان کو روزمرہ کی زندگی میں سہولیات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے ہر اُس عمل، ہر اُس خیال کو پرکھنے کا جسے پہلے کبھی نہ پرکھا گیا ہو۔ یہ ایک سوچ ہے اُن وجوہات کو ڈھونڈنے کی جن سے عقل و شعور کی کسوٹی پر مسائل کے حل ممکن ہوں۔ یہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم کتنی آسانی سے خود فریبی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے ہم خود پسندی کے فریب سے نکل کر حقیقت کا ادراک پا سکتے ہیں۔ سائنس کو جب تک سائنس نہیں رہنے دینگے، ترقی کرنا تو کجا، ترقی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔

    ہالینڈ سمندروں سے بھلے نیچے ہے مگر سوچ کے آسمانوں میں اوپر سے اوپر اور ہم سمندروں سے اوپر ہیں مگر سوچ کے آسمانوں میں پر کٹے۔

    نوٹ: اعداو شمار میں فرق یا معمولی غلطیاں ممکن ہیں مگر پوسٹ کا مقصد آپکو اعداو شمار رٹوانا نہیں بلکہ سائنسی سوچ کی اہمیت بتانا ہے۔

  • عطارد اور چاند — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    عطارد اور چاند — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری زمین کا چاند اور نظامِ شمسی کا سب سے پہلا سیارہ عطارد ایک جیسے کیوں دکھتے ہیں؟

    کیونکہ دونوں کی فضا نہیں ہے اور دونوں کے اندر اربوں سالوں سے کوئی جغرافیائی تغیرات نہیں ہو رہے جیسے کہ زمین یا زہرہ پر آتش فشاں یا اُنکے اندر لاوا موجود ہے جو باہر کو آتا ہے اور سطح کو تبدیل کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کچھ چاند یا عطارر پر نہیں ہوتا۔

    اگر ان دونوں کی سطح کا جائزہ لیا جائے تو ان پر شہابیوں کے گرنے سے پیدا ہونے والے گڑھے اور انکے نشانات واضح نظر آتے ہیں۔ زمین پر خلا سے گڑھے کیوں نہیں دِکھتے؟ اول تو زمین کی فضا جو اسے شہابیوں سے بچاتی ہے اور دوسرا یہ کہ زمین کی اوپری سطح تبدیل ہوتی رہتی ہے یعنی یہ حرکت میں رہتی ہے۔ جسکی وجوہات زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس کی حرکت ، زمین کے اوپر پانی(بارش، دریا، سمندر) سے پیدا ہونے والے کٹاؤ اور انسانوں کی زمین پر کی جانے والی تبدیلیاں (صنعتی، زرعی،تعمیراتی) شامل ہیں۔

    عطارد کے سطح کا تفصیلی جائزہ لیکر ہم زمین اور اسکے چاند کے بارے میں اور ماضی میں اسکی پیدائش کے حوالے سے کافی کچھ جان سکتے ہیں۔ عطارر کی سطح میں تبدیلیوں کا نہ ہونا دراصل ہمیں ماضی میں نظامِ شمسی کے ہولناک منظر کی یاد دلاتا ہے جب زمین، عطارر اور دیگر سیارے ابھی بن رہے تھے اور ان پر کئی سیارے، سیارچے، شہابیے وغیرہ ٹکرا رہے تھے۔ ہمارا چاند بھی زمین پر نظامِ شمسی کی پیدائش کے وقت ایک مریخ کی سائز کے سیارے "تھیا” کے ٹکرانے سے وجود میں آیا۔

    زمین کُل نہیں،نظامِ شمسی کا جُز ہے۔ اور ہم دیگر سیاروں کے بارے میں جان کر زمین کے ماضی کے بارے میں بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ لہذا خلا کی تسخیر ہمیں محض مستقبل کی ٹیکنالوجیز فراہم نہیں کرتی بلکہ ماضی کے کئی رازوں سے بھی پردہ اُٹھاتی ہے۔۔اسی لیے خلا کی تسخیر انسانی بقا کے لیے اہم ہے۔

  • انسانوں کے بنائے عناصر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانوں کے بنائے عناصر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جانتے ہیں کہ یورینیم تک تمام عناصر جو پیریاڈیک ٹیبل میں ہیں یہ سب ستاروں میں بنے ہیں اور یہ زمین پر قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں مگر کیا انسان ان سے آگے کے بھاری عناصر بنا سکتے ہیں؟

    اسکا جواب ہے جی۔ سائنسدانوں نے پچھلی ایک صدی میں یورینیم کے بعد 24 مزید ایسے عناصر لیبارٹریوں میں بنائے ہیں جو زمین پر نہیں پائے جاتے۔

    یہ عناصر نیوکلیئر ری ایکٹرز، پارٹیکل ایکسلیریٹر یا ایٹمی دھماکوں کے دوران بنے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا عنصر 1944 میں بنایا گیا جبکہ آخری 2010 میں۔ ان مصنوعی عناصر کی ہاف لائف یعنی وہ مدت جس میں ایک خاص مقدار میں موجود انکے ایٹم ڈیکے ہو کر آدھے رہ جائیں ملی سیکنڈز سے لیکر کروڑوں سالوں تک ہے۔ یہ عناصر موجودہ قدرتی عناصر میں مزید پروٹانز ڈال کر بنائے جاتے ہیں۔

    ان میں سے پہلا مصنوعی عنصر کیورئیم تھا جسکا ایٹامک نمبر 96 ہے یعنی اسکے مرکزے میں 96 پروٹانز ہیں۔ یہ 1944 میں پلوٹونیم کے ایٹموں میں ایلفا پارٹیکلز کے ٹکرانے سے بنائے گئے۔ ایلفا پارٹیکلز الیکٹرانز کے بغیر ہیلئیم کا مرکزہ ہوتے ہیں جس میں دو پروٹان اور دو نیوٹران آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ اس عنصر کے 19 آئسوٹوپس(ریڈیوسٹوپس) ہیں
    ۔
    آئسوٹوپ کسی عنصر کے ایٹم میں پروٹان کی تعداد برابر مگر نیوٹران کی اضافی تعداد کے باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن کے تین آئسوٹوپ ہیں۔ پہلا ہائیڈروجن کا نارمل ایٹم جسکے مرکزے میں ایک پروٹان ہے جبکہ باقی دو آئسوٹوپس میں بالترتیب ایک پروٹان اور ایک نیوٹران اور ایک پروٹان اور دو نیوٹران پائے جاتے ہیں۔

    کیوریم کے سب سے سٹیبل ریڈیسٹوپ(وہ آئسوٹوب جو تابکار ہوں) کی ہاف لائف ہے تقریباً 1.5 کروڑ سال۔ کیوریم کا استعمال پلوٹونیم کے سب سے سٹیبل ریڈیسٹوپ میں کیا جاتا ہے جو دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھنے والے آلے یعنی پیس میکر کو ماضی میں توانائی فراہم کرنے میں استعمال ہوتا رہا ہے مگر اب یہ متروک ہے۔۔اسکے علاوہ خلا کی تسخیر کے لیے بھیجے جانے والے کئی مشنز میں بھی توانائی کے حصول کے لیے پلوٹونیم کا استعمال تھرمو نیوکلئیر جنریوٹٹرز میں ہوتا رہا ہے۔

    2010 میں امریکہ اور روس کے سائنسدانوں نے ملکر ایک نیا عنصر لیبارٹری میں بنایا اسکا ایٹامک نمبر تھا 117 یعنی اسکے مرکزے میں 117 پروٹانز تھے اور اسے نام دیا گیا Tennessine۔ مگر یہ کوئی سٹیبل عنصر نہںں اور اسکے سب سے سٹیبل ریڈیوسٹوپ کی ہاف لائف تھی محض 51 ملی سیکنڈ۔

    اسی طرح اب تک کا سب سے بھاری عنصر جسے لیب میں تیار کیا چکا ہے اسکا نام ہے Oganesson اور یہ 2002 میں بنایا گیا۔ یہ پیرایاڈک ٹیبل کا سب سے آخری عنصر ہے اور اسکی ہاف لائف محض 0.69 ملی سیکنڈ ہے۔

    اب تک کا سب سے مہنگا مصنوعی عنصر ہے کیلوفورنیم۔ اسکا ایٹامک نمبر ہے 98 اور اسکے 100 گرام کی قیمت ہے تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ قدرتی طور پر پایا جانا والا سب سے مہنگا عنصر جسے آپ خرید سکتے ہیں وہ ہے لوٹیٹیم اِسکا ایٹامک نمبر یے 71 اور اسکے سو گرام کی قیمت ہے دس ہزار ڈالر۔ انسانوں نے قدرتی عناصر سے ہٹ کر مصنوعی عناصر تیار کر لیے ہیں اور یہ دوڑ ابھی جاری ہے۔

  • فٹبال میں چھپا سنسر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    فٹبال میں چھپا سنسر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    قطر میں ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلے میں استعمال ہونے والی فٹبال گیند "الرحالہ” جو عربی زبان کا لفظ ہے اسکے معنی ہیں سفر کے۔

    اس فٹبال کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ پاکستان میں بنی ہے لیکن دراصل یہ مصر میں بنائی گئی ہے۔ البتہ اسے بنانے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور مشینری پاکستان سے منگوائی گئی۔ یہ دعویٰ کہ یہ فٹبال سو فیصد مصر میں بنائی گئی مصر کی کابینہ اور مصری وزیر اعظم ڈاکٹر مصطفیٰ مدبولی کی طرف سے کیا گیا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ پاکستان پچھلے کئی عالمی مقابلوں کے لئے آفیشل فٹبال تیار کرتا رہا ہے۔

    مصر کی حکومت کی جانب سے یہ بات سامنے آئی کہ فٹبال کھیلوں کی مصنوعات بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ایڈیڈاس کی تیار کردہ ہے جس نے اسے مصری "فارورڈ مصر” کمپنی کی فیکٹری کو گیند بنانے کی منظوری دی اور اس کمپنی کو عالمی مقابلے کے لیے 1500 فٹ بال گیندیں تیار کرنے کا معاہدہ دیا گیا۔

    مگر اس گیند میں کیا خاص بات ہے؟ یہ گیند جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائی گئی ہے جسکا مقصد ہوا میں گیند کی اُڑان کو بہتر بنانا اور ساتھ ہی ساتھ گیند میں ایک سنسر کا استعمال ہے۔ یہ سنسر ایک انرشئیل موشن سنسر ہے جو گیند پر لگنے والی بیرونی قوت کو ماپتا ہے اسکے علاوہ یہ پورے کھیل کے دوران گیند کی رفتار، اسکی پوزیشن کو بھی ریکارڈ کرتا ہے۔ اس طرح کے سنسر نیوگیشن سسٹم یا بڑے بحری جہازوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں جو اُڑان جا سفر کے دوران اِنکی جگہ، سمت اور ان پر پڑنے والی قوت سے آگاہ کرتے ہیں۔ ایک بڑا بحری جہاز کیسے یہ جان پاتا ہے کہ وہ اپنے ماس کے مرکز پر پانی میں تیر رہا ہے یا کیا وہ جھکا ہوا ہے، ٹیڑھا یے یا سیدھا ہے وغیرہ وغیرہ، اسی پرح کے انرشیل سنسرز کی بدولت۔

    اسی سنسر کی بدولت پچھکے ہفتے پرتگال اور یوراگوئے کے درمیان میں میچ کے ایک گول کا فیصلہ ہوا۔ بظاہر فٹبال پرتگال اور دنیائے فٹ بال نے صفِ اول کے کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کے سر سے ٹکرا کر گول پوسٹ میں گئی مگر فیدا آفیشلز نے فٹبال میں لگے سینسر کی بدولت یہ جانا کہ گیند رونالڈو کے سر سے نہیں ٹکرائی۔ اسی وجہ سے ورلڈکپ کا یہ گول رونالڈو کے حصے میں نہ آ سکا۔

  • سورج سے قریب مگر سردی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سورج سے قریب مگر سردی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کا سورج کے گرد مدار گول نہیں بلکہ بیضوی ہے۔ یعنی سال میں زمین کا سورج کے گرد فاصلہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کبھی کم تو کبھی زیادہ۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زمین جب سورج کے قریب ہوتی ہے تو گرمیاں آتی ہیں۔ مگر یہ بات بالکل غلط ہے۔ 3 جنوری کو زمین سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے مگر آپ رضائی میں ٹھنڈ سے دبکے مونگ پھلیاں اور دیگر خشک میوہ جات رگڑ رہے ہوتے ہیں۔ مگر ایسا کیوں؟ کہ جنوری میں زمین سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے جسے عرفِ عام میں ایک مشکل سا نام دیا جاتا ہے Perihelion اور آپ رضائی میں سر گھسائے سردی کو کوس رہے ہوتے ہیں جبکہ 4 جولائی کو جب زمین سورج سے باقی سال کی نسبت سب سے دور ہوتی ہے جسے Apehlion کہتے ہیں تو آپ اے سی کے سامنے بیٹھے ٹھنڈا پانی پی رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں؟

    پہلی بات یہ جان لیں کہ زمین کے دو کرے ہیں۔ شمالی کرہ اور جنوبی کرہ۔ ان دو کروں کو زمین کے درمیان سے گزرتی ایک فرضی لکیر سے تقسیم کیا جاتا ہے جسے خطِ استوا یا ایکوئیٹر کہتے ہیں۔ مملکتِ خداداد یعنی پاک لوگوں کا ملک پاکستان اتفاق سے زمین کے شمالی کُرے پر واقع ہے۔ جب زمین کے شمالی کُرے پر جون میں سخت گرمیاں پڑ رہی ہوتی ہیں تو زمین کے جنوبی کُرے پر واقع ممالک جیسے کہ آسٹریلیا ، برازیل، چِلی وغیرہ میں سردیاں اور برف باری ہو رہی ہوتی ہے اور جب پاکستان اور شمالی کرے پر موجود دیگر ممالک میں لوگ دسمبر میں سردی سے کانپ رہے ہوتے ہیں تو جنوبی کُرے پر واقع ممالک یعنی آسٹریلیا ، برازیل, جنوبی افریقہ وغیرہ میں لوگ ساحلِ سمندر پر فحاشی اور عریانی کی مثالیں بنے ٹی شرٹ یا چڈیوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض تو محض سلیمانی لباس میں۔

    گویا زمین پر موسم ہر جگہ، ہر وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ شمالی کُرے پر گرمیاں ہونگی تو جنوبی کُرے پر سردیاں ۔ البتہ خط ِ استوا پر واقع ممالک میں سارا سال موسم تقریباً ایک سا رہتا ہے جیسے کہ ایکواڈور ، کینیا وغیرہ۔

    دراصل زمین پر سردیوں، گرمیوں، بہار، خزاں جیسے موسموں کا تعلق زمین کا سورج سے فاصلے پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ زمین کے کس حصے پر سورج کی روشنی کتنی زیادہ پڑتی ہے۔ زمین اپنے محور پر 23.5 ڈگری تک جھکی ہوئی ہے۔ جسکی وجہ سے زمین کے شمالی کرے پر جنوری سے مارچ تک جھکاؤ کم ہوتا ہے جسکے باعث ان مہینوں میں یہاں سورج کی روشنی کم مدت تک پڑتی ہے تبھی سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں جبکہ اسکے بعد متواتر زمین کا جھکاؤ سورج کی طرف بڑھتا جاتا ہے اور موسم مئی جون تک گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے جبکہ دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔

    چونکہ زمین کروی ہے تو اسکا ایک کُرہ جب سورج کی طرف زیادہ جھکا ہوتا ہے تو دوسرا کرہ کم۔ لہذا شمالی اور جنوبی کروں پر موسموں کی ترتیب اُلٹ ہوتی ہے۔ زمین پر درجہ حرارت دراصل زمین کی فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں کی سورج کی روشنی کو جذب کرنے پر منحصر ہے نہ کہ زمین سے سورج کے فاصلے پر۔ جس قدر زیادہ وقت سورج زمین کے کسی حصے تک روشنی ڈالے گا یعنی جس قدر زیادہ زمین کے کسی حصے کا جھکاؤ سورج کی طرف ہو گا اس قدر زیادہ وقت فضا میں موجود گیسیں سورج کی روشنی کو جذب کریں گی اور زمین کو گرم رکھیں گی۔

    پاکستان میں آ جکل سردیاں چل رہی ہیں جبکہ سورج میاں اس وقت زمین کے سب سے قریب ہیں۔ ویسے سردیوں سے یاد آیا فی زمانہ سچے دوست کی نشانی یہ ہے کہ جب آپ سردیوں میں اُسکے گھر جائیں تو وہ آپکی تواضع چلغوزوں سے بھری ٹرے سے کرے۔

  • روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    روشنی اور پتنگے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پتنگے اور دیگر حشرات الارض جو اُڑتے ہیں ان میں ایک نیویگیشن سسٹم سا لگا ہوتا ہے جو انہیں رات کی تاریکی میں چاند۔ کی روشنی کی مدد سے راستہ بتاتا ہے۔ یہ نیویگیشن سسٹم ایک سادہ سے اُصول پر مبنی ہے جسے ٹرانسورس اورئینٹیشن کہتےہیں۔ اب یہ کیا بلا ہے؟ ٹرانسورس اورئنٹیشن دراصل یہ ہے کہ ایک پتنگا اپنی اُڑان کے دوران چاند سے ایک مستقل زاویے پر رہتا ہے جس سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کس سمت جانا یے یا کونسی سمت بدلنی ہے کہ چاند سے اسکا زاویہ ہمیشہ ایک رہے۔

    اب چاند چونکہ زمین سے دور ہے اور آسمان میں اپنی جگہ آہستہ سے بدلتا ہے لہذا ایک پتنگے کا چاند سے ایک مستقل زاویہ رکھ کر اُڑنا آسان ہے۔ پتنگے کے نقطہء نظر سے چاند اسکی اُڑان کے وقفے میں جگہ نہیں بدلتا۔ ویسے ہی جیسے آپ سڑک پر گاڑی دوڑاتے جائیں اور چاند بھی آپکو اپنے ساتھ دوڑتا نظر آتا ہے۔ ہم انسان بھی اس طریقہ کار کو ماضی میں استعمال کرتے رہیں راستہ ڈھونڈنے کے لیے جب ہم قطبی ستارے سے شمال کی سمت کا تعین کر کے لمبے راستوں پر سفر کیا کرتے تھے۔

    مگر پتنگے کی قسمت خراب کہ انیسویں صدی میں ایڈیسن صاحب آئے اور بلب کی ایجاد کو پیٹنٹ کر دیا۔ اب ہر طرف برقی قمقمے ہیں۔ دنیا میں چوبیس گھنٹے ہر جگہ جہاں انسان رہتے ہیں وہاں روشنی رہتی ہے۔ چاہے سورج کی ہو یا بجلی سے جلے مصنوعی بلب اور روشنیوں کی۔

    چونکہ اس عمل کو گزرے چند صدیاں ہی ہوئی ہیں لہذا پتنگے اور دیگر حشرات ارتقائی طور پر اس تبدیلی کو کہ اب ہر طرف رات میں مصنوعی روشنیاں ہوتی ہیں، میں خود کو مکمل ڈھال نہیں سکے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب ایک پتنگا یا کیڑا روشنی کے قریب آتا ہے تو اسکی آنکھیں تیز روشنی سے اول تو چندھیا جاتی ہیں کیونکہ انہیں چاندکی مدہم روشنی کی عادت ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ بلب یا مصنوعی روشنیوں کے ساتھ پتنگے مستقل زاویہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو چونکہ یہ روشنی انکے بے حد قریب ہوتی ہے تو مستقل زاویہ رکھنے کے چکر میں یہ چکرا جاتے ہیں اور دائرے میں گھومنے لگتے ہیں۔ یوں بیچارے پتنگے صبح تک گھومتے گھومتے تھک کر نڈھال ہو جاتے ہیں اور دم توڑ دیتے ہیں۔ روشنی کے بلبوں سے بار بار ٹکرا کر اور بلب سے آتی حدت سے انکی ننھی جانیں دارِ فانی کو کوچ کر جاتی ہیں۔

    اقبالِ لاہوری کا ایک شعر تھا:

    مگَس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    مگس یعنی شہد کی مکھی کو باغ میں نہ جانے دو کہ وہ پھولوں سے رس چرائے گی اور شہد کے ساتھ موم بھی بنے گا جس کی شمع سے پروانے جل جائیں گے۔
    اتنا لمبا کنکشن بنانے پر میں اقبالِ لاہوری کو داد دیتا ہوں۔مگر اس شعر میں زمانے کے مطابق تبدیلی کچھ یوں ہونی چاہئے تھی۔

    ایڈیسن کو لیب میں جانے نہ دیجیو
    کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

    و آخر دعوانا

  • بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بنگالی بابے اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ بھوت پریت تھڑے اور فٹ پاتھوں پر بیٹھے گندے بدبودار عاملوں اور بنگالی بابوں کو نظر آ جاتے ہیں مگر جدید لیبارٹریوں اور تحقیق پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے سائنسدانوں کو نہیں ۔ یا پھر وِچلی گل کوئی ہور اے؟

    انسانی دماغ ایک پیچیدہ شے ہے۔ اگر آپ کسی کو حتیٰ الامکان یقین دلا دیں کہ وہ کل مر جائے گا تو بھلے وہ کسی اور سبب سے مرے نہ مرے اس خوف سی ہی مر جائے گا کہ کل اُس نے مرنا ہے۔ آج کی جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جن مسائل کو ہم ماضی میں غیر مرئی عوامل سے جوڑتے تھے وہ دراصل انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں، ان سے جڑے مسائل اور ماضی میں تشخیص نہ ہونے والی بیماریوں کے سبب ہیں۔وہ بیماریاں جنکے بارے میں آج ہم جانتے ہیں کہ مختلف جرثومے جیسے کہ بیکٹیریا، وائرس وغیرہ سے ہوتے ہیں، اُنہیں بھی ماضی میں ان غیر مرئی عوامل سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

    جرثونوں کے ذریعے بیماریوں کا علم انسانوں کو سولہویں صدی کے وسط میں ہوا جب Girolamo Fracastoro جوایک اطالوی طبیب تھے، نے یہ خیال پیش کیا۔

    سولہویں صدی کے آخر میں خوردبین کی ایجاد سے ان جرثوموں کو دیکھنا ممکن ہوا۔ Fracastoro کے اس اچھوتے خیال کو سائنس میں جدت کی بدولت ایک سائنسی تھیوری بننے میں کئی صدیاں لگیں۔ آج یہ ایک مسلمہ حقیقت کے روپ میں ایک مصدقہ سائنسی تھیوری ہے، جسے Germ Theory کہا جاتا ہے۔ آج اسی تھیوری کی بنیاد پر کئی جدید اور موثر طریقہ علاج طب کی دنیا میں انقلاب برپا کر چکے ہیں۔ سائنس کی یہ تھیوری انسانوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں کہ اسکی بدولت اب تک کروڑوں انسانوں کی زندگی بچ چکی ہے۔۔زندگی سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ کیا ہو گا؟ انسانیت کے لیے سائنس کا یہ سب سے بڑا تحفہ ہے۔

    ماضی میں جب انسان یہ سب نہیں جانتے تھے تو نہ دکھنے والے یہ جرثونے اور ان سے جڑی بیماریوں کو غیر مرئی قوتوں کا شاخسانہ کہنے میں حق بجانب تھے۔ مگر آج ہم سائنس کی بدولت اصل محرکات جانتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس طرح کے توہمات کی تقلید کر کے اپنی زندگیاں اور اپنا پیسہ ایسے عاملوں اور جعلی پیروں پر لگائیں۔ اس جاہلانہ رویے سے آج تک کتنی معصوم جانیں ضائع اور کتنے گھر برباد ہو چکے ہیں۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کے رویوں کی بیخ کنی کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے محفوظ رہیں تو ہمیں جدید سائنسی علوم اپنانے ہونگے, سائنسی طرزِ فکر رکھنا ہو گا۔ ورنہ بنگالی بابوں کو عقل گروی رکھ کر قدرت کی اس سب سے بڑی نعمت کو ٹھوکریں مارتے رہیں۔ کس نے روکا ہے؟

  • ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایلینز سے رابطہ، زبانِ یار من ترکی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیاہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ یہ سوال بیسویں اور اکسیویں صدی کا سب سے اہم سوال ہے۔۔جب سے انسانوں کو یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ اس وسیع و عریض کائنات کی اربوں کہکشاؤں میں ایک چھوٹی سی کہکشاں ملکی وے کے ایک معمولی سے ستارے سورج کے گرد گھومتا ننھا سیارہ ہے، تب سے یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

    انیسویں صدی میں ریڈیو کی ایجاد کے بعد اس حوالے سے بات ہونے لگی کہ اگر کائنات میں کوئی جدید ایلین تہذیب کسی سیارے پر بستی ہے تو یقیناً اُن سے ریڈیو ویویز یا ریڈیائی لہروں کے ذریعے رابطہ ممکن ہے۔ (اب یہ بات پڑھ کر آپ اپنے گھروں کے ریڈیو مت نکال لیجئے گا۔ کہ چلو ایلینز سے رابطہ کرتے ہیں۔ سائنس اس طرح کام نہیں کرتی).
    مگر ریڈیائی لہروں کے ذریعے ہی رابطہ کیوں؟

    یہ سوال دلچسپ ہے۔ جس طرح سے ہم جانتے ہیں کہ آج جدید ٹیکنالوجی کے باعث ہم ریڈیائی لہروں جو دراصل برقناطیس لہریں ہی ہوتی ہیں(جیسے کہ روشنی) کی مدد سے کمیونیکیشن کرتے ہیں۔ تو اگر کوئی ایلین تہذیب ہمیں ڈھونڈنا چاہے(ویسے ہم اّنکے لئے ایلینز ہونگے 🙂 ). تو وہ ہمیں ہمارے ریڈیائی لہروں کے استعمال سے جو صرف ٹیکنالوجی کے استعمال والی تہذیبیں ہی کر سکتی ہیں، کے ذریعے ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ لہذا اگر ہمیں بھی کائنات میں کسی سیارے سے ایسی ریڈیائی لہریں موصول ہوں جو ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوں تو ہم جان جائیں گے کہ وہاں کوئی جدید مخلوق بستی ہے۔

    کائنات میں دوسری تہذیبوں سے رابطے کے حوالے سے پچھلی دو صدیوں میں کافی سنجیدہ کوششیں کی گئی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اور بڑی کوشش SETI پراجیکٹ ہے۔ SETI. مخفف ہے (Search for Extraterrestrial Intelligence) یعنی کسی ذہین خلائی مخلوق کی تلاش.

    اس پراجیکٹ کے خدو خال گو کہ 1960 اور 70 کی دہائی میں واضح ہونا شروع ہوئے تاہم SETI ادارے کا باقاعدہ آغاز 1984 میں ہوا اور ریڈیائی لہروں کی مدد سے کائنات میں کسی ممکنہ ایلین تہذیب سے رابطے کے حوالے سے باقاعدہ کام 1985 میں۔

    شروع شروع میں اس پراجیکٹ میں فلکیاتی مشاہدات کے لیے زمین پر موجود ریڈیو اینٹیناز ہی استعمال ہوتے رہے مگر بعد میں عوام، حکومتوں اور ٹیکنالوجی سے منسوب اہم شخصیات کی دلچسپی کے باعث اس پراجیکٹ کی فنڈنگ بہتر ہوئی اور آج SETI پراجیکٹ میں 42 جدید ریڈیو اینٹناز پر مشتمل Allen Telescope Array موجود ہے۔ یہ ٹیلیسکوپ امریکا میں سان فرانسسکو سے 300 میل دور کیسکادے کے پہاڑوں میں نصب ہے۔ اور یہ ہفتے میں ہر روز خلا میں کسی ممکنہ ایلین مخلوق سے رابطے کی کوششوں میں پیغام ریڈیائی لہروں کی صورت بھیجتی رہتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کسی ممکنہ جواب کے انتظار میں خلاؤں کو سنتی بھی رہتی ہے۔

    کائنات اتنی وسیع ہے اور ہم سے سب سے قریبی ستارا جسکے گرد سیارے گھوم رہے ہیں وہ بھی کئی نوری سالوں کے فاصلے پر ہے۔ ہماری کہکشاں ملکی وے کی چوڑائی ایک لاکھ سے دو لاکھ نوری سالوں کے بیچ ہے۔ جسکا مطلب یہ ہوا کہ SETI کے کائنات میں بھیجے گئے ریڈیو سگنل اب تک ہماری کہکشاں کے محض چھوٹے سے حصے سے آگے نہیں گئے۔

    یہاں یہ بحث لمبی ہو جائے گی کہ ہم سے ممکنہ طور پر قریبی سیارہ کتنی دور ہو گا جہاں کوئی ایلین تہذیب موجود ہو۔ یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے ۔

    مگر سوال یہ ہے کہ ہم ایلینز سے رابطہ کس زبان میں یا کس فریکونسی میں کر سکتے ہیں؟ ہم انسان زمین پر جب کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو اکثر و بیشتر وہاں ہم اُنکی زبان نہیں بول سکتے اور وہ ہماری۔ تو رابطے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ کیا آپ چینونٹی سے رابطہ کر سکتے ہیں؟ ممکن ہے کسی جدید تہذیب کے لیے ہم ایک چیونٹی جتنی اہمیت رکھتے ہوں۔

    تو ہم کسی جدید تہذیب کو اپنی موجودگی کا کیسے پتہ دیں گے؟ اسکا جواب ہے 1420 میگا ہرٹز کی فریکونسی سےوہ سائنسی کیڑے جنہیں ایگزٹ نمبر جاننا ہے، تو یہ فریکونسی ہے 1420.405751768میگاہرٹز) ۔ اس فریکونسی کو ہائڈروجن لائن کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ایک نیوٹرل ہائڈروجن ایٹم سے تب نکلتی ہے جب اسکے الیکٹران کی سپن (کلاسیکل فزکس میں سپن کا مطلب کسی ایٹمی ذرے کا اپنے محور کے گرد گھومنا، کوانٹم فزکس میں البتہ اسکا مطلب کچھ پیچیدہ ہے) اسکے پروٹان کی سپن سے مخالف سمت میں گھومے۔

    عمومی طور پر یہ دونوں ایک ہی سمت میں گھومتے ہیں۔ مگر جب الیکٹران کی سپن مخالف سمت میں ہو جائے تو ہائڈروجن ایٹم سے خاص طرح کی ریڈیو فریکوئینسی کی لہر نکلتی ہے۔ کائنات میں موجود کوئی بھی جدید تہذیب اگر متواتر اس فریکوئنسی پر سگنل موصول کرے گی تو جان جائے گی کہ ہم اتنے ذہین ضرور ہیں کہ ایٹم کے بارے میں اور اس خاص فریکونسی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس فریکوینسی کے استعمال کی ایک اور وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ کائنات میں ہائیڈروجن عام پائی جاتی ہے اور اس یہ ریڈیو فریکونسی دوسری ریڈیو فریکونسییز سے زیادہ موثر طور پر کائنات میں سفر کر سکتی ہے۔

    پھر چاہے ایلین ترکش زبان بولیں یا کچھ اور، اس طریقے سے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خلاء میں رابطے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ مویا ناسا جو آئے روز دنیا کی "ذہین ترین قوم” کو بے وقوف بنانے کے لئے نئے نئے سپیس کرافٹ، خلائی دوربینیں اور روبوٹ چھوڑتا رہتا ہے۔ یہ ان سے خلا میں رابطہ کیسے رکھتا ہے؟ کیونکہ عقلِ "سلیم” یا منیر تو یہ کہتی ہےکہ خلا میں ٹیلی نار، یوفون یا زونگ کے کھمبے تو ہیں نہیں کہ پیکیج کرایا اور گھنٹوں لمبی باتیں، "شونوں مونوں” والے میسیجز یا جگتوں والے لطیفے بھیج کر ٹائم پاس کرنا شروع کر دیا۔
    تو اسکا جواب ہے ڈیپ سپیس نیٹ ورک!!

    ڈیپ سپیس نیٹ ورک دراصل زمین پر بڑے بڑے ڈش کی طرح کے ریڈیو اینٹناز کا ایک جال ہے۔ جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ اینٹیناز آسٹریلیا، کینبرا، کیلیفورنیا ، سپین وغیرہ میں دن رات آسمانوں میں ناسا اور دوسری ایجنسیوں کے بھیجے گئے مشنز سے سلام دعا کرتے رہتے ہیں۔ ان انٹیناز کو زمین پر کم و بیش ایک ہی فاصلے پر رکھا گیا ہے کہ زمین کی گردش کے باعث ایسا نہ ہو کہ کوئی وقفہ آئے جب خلا سے بھیجا جانے والا سگنل پکڑنے کے لیے کوئی بھی اینٹینا موجود نہ ہو اور سگنل ضائع ہو جائے۔

    خلا میں موجود سپیس کرافٹس زمین پر ریڈیو سگنل کے ذریعے تصاویر اور اپنی موجودہ جگہ کا پتہ دیتے ہیں ۔ ان سگنلز کو دنیا بھر میں یہ ڈیپ سپیس اینٹنا موصول کرتے ہیں ۔ اسکے علاوہ یہ نیٹ ورک زمین سے سپیس کرافٹ کو ہدایات بھیجتا ہے کہ اب کیا کرنا ہے، کونسی تصاویر لینی ہیں، کس سمت مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    اس نیٹ ورک میں موجود اینٹناز کمزور سے کمزور سگنل کو بھی ہماری پولیس کیطرح فورآ سے دھر لیتے ہیں۔۔اسکا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ 1977 میں ناسا کے دو سپیس کرافٹ Voyager 1 اور Voyager 2 جو 45 سال بعد اربوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں ، یہ ڈیپ سپیس نیٹ ورک ان سے آنے والے سگنلز بھی پکڑ لیتے ہیں اور اب تک مسلسل ان سے رابطے میں ہے۔ Voyager سپیس کرافٹس سے آنے والے سگنل بے حد کمزور ہیں۔ کتنے کمزور؟ آپکی معمولی سی ڈیجیٹل گھڑی کو چلانے والے برقی سگنل سے بھی 20 ارب گنا کمزور!!

    یہ اینٹیناز ان مختلف سپیس کرافٹ کے سگنلز کو موصول کر کے اسے ناسا کی کیلیفورنیا میں سپیس فلائٹ آپریشن فیسلیٹی کو بھیجتے ہیں جہاں ان سگنلز کو پراسس کر کے ان میں موجود تصاویر یا دیگر اہم معلومات کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے سائنسدانوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ سائنسدان ان تصاویر اور ڈیٹا کی مدد سے منطقی نتائج نکالتے ہیں، تحقیقی مقالہ جات لکھتے ہیں اور کائنات کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔

    مریخ پر موجود ناسا کی روورز جیسے کہ Curiosity یا حال ہی میں بھیجی جانی والی Preservernce بھی اس طرح سے زمین پر رابطے میں رہتی ہے مگر یہ ایک اور موثر طریقے سے بھی زمین پر ڈیٹا اور تصاویر بھیجتی ہے۔ اور وہ ہے بذریعہ Mars Reconnaissance Orbiter، یہ مریخ کے گرد گھومتا ایک سٹیلائٹ ہے جو ان روورز سے ڈیٹا اکٹھا کر کے زمین پر ڈیپ سپیس نیٹورک تک اسے بھیجتا ہے۔ اس طرح زیادہ آسانی سے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔

  • دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دوووور، دوسرے ستاروں تک سفر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بیسویں صدی کے وسط میں راکٹ ٹیکنالوجی میں جدت سے ہم خلا میں پہنچے۔ 1969 میں پہلا انسان چاند پر گیا اور آج انسان کے بنائے سپیس کرافٹ اور روبوٹ دیگر سیاروں تک اور نظامِ شمسی کے کناروں تک پہنچ چکے ہیں۔

    مگر کائنات بے حد وسیع ہے۔ دِکھنے والی کائنات کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے اور یہ بگ بینگ کے وقت سے اب تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    آج سائنس کی مدد سے ہم خلاؤں میں سفر کر سکتے ہیں اور دوسری دنیاؤں پر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کائنات میں سورج جیسے کئی اور ستارے ہیں جنکے گرد کئی سیارے گھوم رہے ہیں۔ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ نظامِ شمسی سے باہر کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ستاروں سے اتنے فاصلے پر ہیں جہاں پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ اور ان میں سے کئی سیارے شاید زندگی کے لئے اس زمین سے بھی بہتر ہوں۔
    مگر یہ سیارے زمین سے بہت دور ہیں۔ کئی تو لاکھوں نوری سالوں کی مسافت پر۔ مگر ہمارا سب سے قریبی ستارہ جسے ہم پڑوسی کہہ سکتے ہیں اسی کہکشاں ملکی وے میں جس میں ہم رہتے ہیں، میں ہم سے قریب 4.24 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یعنی اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں جو کہ ناممکن ہے تو ہمیں اس تلک پہنچنے میں 4.24 سال لگیں گے۔اس سرارے کا نام ہے Proxima Centauri.

    اس ستارے کے گرد کئی ایسے سیارے ہیں جن پر زندگی ہو سکتی ہے یا مستقبل میں جہاں رہنا ممکن ہو۔ مگر ہم اس تک پہنچیں گے کیسے؟

    آج تک انسان کے بنائے جدید سپیس کرافٹس میں سب سے زیادہ رفتار حاصل کرنے والا سپیس کرافٹ ناسا کا سولر پارکر پراب یے جو 2018 میں ہمارے سورج کا مشاہدہ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یہ سپیس کرافٹ تقریبآ 5 لاکھ 35 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کے قریب سے گزرا۔ مگر یہ رفتار روشنی کی رفتار جو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے نہایت کم ہے۔۔یعنی روشنی کی رفتار کا محض 0.05 فیصد!!

    اب تک کا سب سے دور بھیجا جانے والا سپیس کرافٹ ناسا کا وائجر-1 ہے جو آج سے 44 سال پہلے یعنی 1977 میں نظامِ شسمی کے مشاہدے کے لئے بھیجا گیا اور یہ مشتری، اور زحل کے پاس سے گزرتا نظامِ شمسی سے باہر کی جانب نکالا مگر ہے یہ اب بھی نظامِ شمسی کی حدود میں ہے کیونکہ نظامِ شمسی پلوٹو سے بھی آگے بے حد وسیع ہے جہاں سورج کی گریوٹی اور اسکی تابکاری کا اثر موجود ہے۔

    44 سال مسلسل سفر کرنے کے باوجود یہ زمین سے تقریباً 23 ارب کلومیٹر دور ہے۔ کہنے کو یہ فاصلہ بے حد زیادہ ہے مگر یہ فاصلہ ایک نوری سال نہیں بلکہ 20 گھنٹے اور 30 نوری منٹ دور ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار سے اس تک پہنچنے میں صرف 20 گھنٹے اور 30 منٹ لگیں گے۔
    وائجر 1 اس وقت تقریباً 61 ہزار 2 سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور اسے ایک نوری سال کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 18 ہزار سال لگیں گے۔ گو یہ سپیس کرافٹ ہم سے نزدیکی ستارے Proxima Centauri کی جانب نہیں بڑھ رہا بلکہ اس سے مخالف سمت میں یے مگر اگر فرض کریں کہ یہ اس طرف سفر کر رہا ہوتا تو اسے وہاں تک پہنچنے میں اس رفتار سے تقریباً 76 ہزار سال لگتے۔ جبکہ انسانوں کی عمر آج اوسطاً 72 سال ہے۔ سو یہ بات تو طے ہے کہ انسانی عمر میں ہم ان ستاروں یا دوسری دنیاؤں تک نہیں پہنچ سکتے مگر کیا ان تک پہنچنے کا کوئی اور طریقہ یا راستہ ہے؟

    یہ موضوع کسی اور وقت کے لیے. فی الحال اتنا جان لیجئے کہ ایک ایسا ممکنہ طریقہ ہے جس سے شاید ہم محض 20 سال میں اپنے قریبی ستارے اور اسکے گرد گھومتے سیاروں تک پہنچ سکیں۔ مگر یہ طریقہ ٹیکنالوجی میں جدت اور کئی سالوں کی محنت اور پیسے سے ہی شاید ممکن ہو۔ اس پر گفتگو پھر کبھی۔