Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر حفیظ الحسن

  • سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس میں خواتین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ بات ایک حقیقت ہے کہ نہ صرف ہمارا معاشرہ بلکہ پوری دنیا میں خواتین سائنس کے شعبے میں کم نظر آتی ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ خواتین کو سائنس میں دلچسپی نہیں ، وجہ یہ ہے کہ اُن کو کئی مسائل کا سامنا ہے جو مردوں کو نہیں کرنا پڑتا جن میں کام پر خود کو محفوظ تصور کرنا، ازدواجی ذمہ داریوں کی مصروفیات، بہتر تعلیم کا فقدان اور کئی ایسے دیگر معاشرتی مسائل جو انہیں سائنس میں اپنا کیریئر بنانے میں رکاوٹ بنتے ہے۔ اس حوالے سے مغربی ممالک میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اُنکو سائنس کے بنیادی شعبہ جات میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں مگر درحقیقت یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کاوش ابھی بھی بے حد کم ہے۔

    اسکے مقابلے میں پاکستان میں خواتین کا سائنس کے شعبوں میں کردار بھی کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ پاکستان میں تو خواتین کی بنیادی تعلیم پر ہی توجہ نہیں دی جاتی، سائنس کے حوالے سے خواتین کو ان شعبوں میں لانا دور کی بات ہے۔ جن سائنس کے شعبوں میں خواتین باقی شعبوں سے زیادہ نظر آتی ہیں وہ حیاتیات، میڈیسن اور فزیالوجی ہیں۔

    اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک سائنس کے شعبے میں ملنے والے نوبل انعاموں میں محض 24 خواتین کو سائنس کے شعبے میں ایوارڈ ملا جن میں سے صرف 11 خواتین کو ملا کر فزکس اور کیمسٹری میں یہ انعام ملا جبکہ باقی 12 خواتین کو میڈیسن کے شعبے میں (میری کیوری وہ واحد خاتون ہیں جنہیں دو نوبل انعام ملے ہیں)۔

    یہ بات میں برملا کہتا ہوں کہ خواتین کا دماغ کسی طور مردوں سے کم نہیں ۔ اور اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ خواتین کی صلاحیتیں مردوں سے کم ہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے جسکا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں۔

    اس طرح کی سوچ رکھنے والے معاشروں میں اس طرح کی باتیں بچپن سے ہی خواتین کے دماغ میں ڈال کر اُن میں موجود اعتماد اور اُنکی شخصیت کے اہم پہلوؤں کو مار دیا جاتا ہے۔

    ہم جس زمانے میں رہتے ہیں ہمیں سوچ بھی اسی زمانے کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ اکیسویں صدی میں خواتین کا سائنس میں کردار بڑھا کر ہم نہ صرف سائنس کے شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں بلکہ خواتین سائنس کے وہ مثبت استعمال بھی سامنے لا سکتی ہیں جو ایک پدر شاہی معاشرے میں طاقت یا پیسے کے حصول سے ہٹ کر فلاحی کاموں میں مدد دے۔

    اپنی بچیوں اور بہنوں کو نہ صرف تعلیم دیجیے بلکہ اُن میں اعتماد بھی پیدا کیجیے تاکہ وہ سائنس سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی میں اگے بڑھ سکیں۔

    ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔

  • دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دور افتادہ سیاروں پر زندگی کیسے ڈھونڈی جائے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری اس کائنات میں کھربوں ستارے ہیں جن میں سے سورج بھی ایک عام سا ستارا ہے۔ جس طرح سورج کے گرد آٹھ سیارے (جن میں زمین بھی شامل ہے)، جو گردش میں ہیں اور ملکر نظامِ شمسی بناتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی کئی اور اربوں ستاروں کے گرد سیارے گھوم رہے ہیں۔ان سیاروں کو Exoplanets کہا جاتا ہے۔ تو ان میں سے کوئی ایسے سیارے بھی ہیں جن پر کسی صورت میں انسان یا انسانوں جیسی مخلوق ہو؟

    نوے کی دہائی تک ہمارے پاس ٹیکناکوجی نہیں تھی کہ ان دور افتادہ Exoplanets کی تصاویر لے سکیں۔

    وجہ یہ کہ ستاروں کے مقابلے میں سیارے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور یہ خود روشنی پیدا نہیں کرتے بلکہ اسے منعکس کرتے ہیں۔

    انہیں ڈھونڈنے کا ایک طریقہ جو سائنسدانوں نے نکالا وہ یہ تھا کہ آپ مسلسل کسی ستارے کی تصاویر لیں اور جب انکے سامنے سے کوئی سیارہ گردش کرتے ہوئے گزرے تو ستارے سے آنے والی روشنی میں ہلکی سی کمی ہو۔ اس معمولی سی کمی کی پیمائش کے لیے مگر بہت ہی حساس دوردبینں اور آلات چاہئیں۔

    تو سائنسدانوں نے آخر کار ایسی دوربینیں اور ایسے طریقے ڈھونڈ نکالے جن سے ہم Exoplanets کو تلاش کر سکیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ان Exoplanets میں سے کوئی ہماری زمین جیسا ہے جہاں زندگی پنپتی ہو۔انسان یا انسانوں سے زیادہ تہذیب یافتہ مخلوق بستی ہو؟

    اسے معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

    جس طرح ہر انسان کی اّنگلیوں کے نشان دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں بالکل ایسے ہی ہر عنصر، گیس، یا مالیکیول کا ایک فنگر پرنٹ ہوتا ہے۔

    کیسے؟ یوں کہ جب سفید روشنی(مثال کے طور پر سورج کی) کسی بھی ایٹم یا مالیکیول پر پڑتی ہے تو اسکا کچھ حصہ وہ جذب کر لیتا ہے اور کچھ حصہ منعکس۔ یہ اس کا سپیکٹرم کہلاتا ہے۔جس رنگ کی روشنی کو وہ جذب کرتا ہے اور جس رنگ کی روشنی کو منعکس، یہ اُسکا جداگانہ فنگر پرنٹ ہے جس سے اسکی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    اب اگر ہم دور افتادہ کسی Exoplanets کی کسی حساس ٹیلی سکوپ سے تصویریں لیں تو اُسکی فضا سے گزر کر ہم تک پہنچتی روشنی ہمیں اُسکی فضا میں موجود گیسیس، عناصر اور مالیکیولز کا پتہ دے سکتی ہیں۔

    مثال کے طور پر اگر کوئی دور خلاؤں میں سے ہماری زمین کی تصاویر لے تو وہ ہماری فضا سے گزرتی روشنی کو اس طریقے سے جانچ کر یہ بتا سکتا ہے کہ یہاں آکیسجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، نائٹروجن اور میتھین وغیرہ وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔

    علاوہ ازیں وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہم کیا کوئی تہذیب یافتہ مخلوق ہیں کیونکہ کچھ گیسیس قدرتی طور پر نہیں بلکہ صرف اور صرف مصنوعی طور پر ہی تیار ہوسکتی ہیں۔ کچھ انسانی ترقی یا کھیتی باڑی کے باعث۔

    مثال کے طور پر ایمونیا۔ یا اگر ہم کھیتی باڑی کے لئے مصنوعی کھاد بناتے ہیں تو نائٹرس آکسائڈ۔

    2021 کے آخر میں سائنسدانوں نے James Webb Telescope لانچ کی جو اس وقت سورج کے گرد مدار میں ہے۔

    اس ٹیلیسکوپ سے ہم کئی نوری سال دور مختلف Exoplanets کی فضاؤں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

    اور شاید یہ جان پائیں کہ کس سیارے پر کھیتی باڑی یا صنعتی ترقی ہو رہی ہے یا ماضی میں وہاں کوئی مخلوق بستی تھی۔

  • مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ سے آئے مہمان، زمین پر — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ایسے شہابیے گرتے رہتے ہیں جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ فضا میں رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ وہ شہابیے جنکا وزن 10 گرام وزن سے بھی کم ہو اُنکی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ شہابیے زیادہ تر نظامِ شمسی کے مریخ اور مشتری کے بیچ موجود ایسٹرائیڈ بیلٹ سے آتے ہیں۔ایسٹرائیڈ بیلٹ مریخ اور مشتری کے درمیان وہ علاقہ ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے شہابیے موجود ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کے مختلف سیاروں پر یا اُنکے چاندوں پر جب کوئی بڑا شہابِ ثاقب گرتا ہے تو انکی سطح سے کچھ ٹکڑے خلا میں بکھر جاتے ہیں۔ اور پھر یہ کروڑوں میلوں کی مسافت طے کر کے زمین پر آ گرتے ہیں۔

    ایسا ہی کچھ مریخ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب مریخ پر بڑے شہابِ ثاقب گرتے ہیں تو یہ مریخ کی سطح کا معمولی سا حصہ ، پتھر، یا چٹان کا ٹکڑا تیزی سے مریخ کی گریوٹی سے نکل کر خلا میں نکل جاتا ہے اور سفر کرتے کرتے زمین پر آ گرتا ہے۔ مریخ سے نکلے یہ چٹانوں کے ٹکڑے جو شہابیوں کی شکل میں ہوتے ہیں زمین پر کئی جگہوں پر گرتے ہیں جن میں خاص طور پر انٹارکٹیکا اہم ہے۔ کیونکہ وہاں پر انہیں ڈھونڈنا قدرے آسان ہے مگر بالعموم یہ زمین پر ہر جگہ گرتے ہیں۔

    اب تک تقریباً 277 ایسے شہابیوں کی شناخت کی جا چکی ہے کہ یہ مریخ سے زمین پر آئے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا شہابیہ افریقہ کے ملک مالی میں 2021 میں گرا۔ اس شہابیے کا وزن تقریباً 14.5 کلو گرام یے۔

    مگر ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ شہابیے مریخ سے آئے ہیں؟ اسکا جواب ہے انکی اندر موجود عناصر اور انکے آئسوٹوپس کی مدد سے۔

    مریخ تک اپ تک کئی روبوٹک مشنز بھیجے جا چکے ہیں اور مریخ کے گرد مدار میں ناسا کے سپیس کرافٹ بھی موجود ہیں۔ یہ سب مریخ کی سطح اور اِسکی چٹانوں کی ساخت اور ان میں موجود عناصر اور اُنکے آئسوٹوپس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ مریخ کی فضا کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ سو اگر ہم زمین پر گرنے والے شہابیوں کا تجزیہ کریں اور ان میں وہی عناصر اور اُسی طرح کی کمپوزیشن ہو جو مریخ کی چٹانوں کی ہے تو ہم بہتر انکان کے ساتھ بتو سکتے ہیں کہ یہ مریخ سے آئے ہیں۔

    مریخ سے آئے یہ مہمان سائنسدانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ کیونکہ انکے تجزے سے وہ جان سکتے ہیں کہ کیا مریخ پر ماضی میں زندگی موجود تھی اور کیا اب بھی کسی شکل میں مریخ پر کوئی زندگی کسی شکل میں موجود ہے یا نہیں؟

    گو کچھ شہابیوں میں مریخ پر ماضی میں زندگی کے حوالے سے آثار ملے ہیں مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہابیے کئی ہزار سال پرانے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ زمین پر گرنے جے بعد یا زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے ان می کوئی زمینی مائیکروب یا کوئی چھوٹے کیڑے وغیرے داخل ہو چکے ہوں اور پھر یہ کئی ہزار سال گزرنے کے بعد فوسل کی شکل اختیار کر گئے ہوں۔ لہذا حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان شہابیوں میں موجود ماضی میں زندگی کے آثار مریخ کی زندگی کے ہیں یا زمین کی زندگی کے۔ یہی وجہ ہے کہ 2021 میں ناسا نے مریخ پر پروزیرورینس روور بھیجی ہے جو وہاں کی چٹانوں اور سطح کے تجزیے کے ساتھ ساتھ وہاں کی سطح کے کئی سیمپل بھی اکٹھے کر رہی ہے۔ جنہیں مستقبل کے کسی ممکنہ مشن میں زمین پر واپس لایا جائے گا اور اِنکا بہتر طور پر تجزیہ کیا جا سکے گا۔

  • ستارے اور سیارے میں فرق!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ستارے اور سیارے میں فرق!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ستارہ دراصل ہائیڈروجن اور ہیلیئم گیس کے بنے ہوتے ہیں۔ ایک عمومی ستارے میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم ملکر ہیلیئم کا ایک ایٹم بناتے ہیں اور اس عمل کو فیوژن کہتے ہیں۔ اس عمل کے تحت کچھ مادہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہ توانائی روشنی اور تابکاری کی صورت ستاروں سے نکلتی ہے۔ سو ستارے دراصل روشن ہوتے ہیں۔ اُنکی اپنی روشنی ہوتی ہے جو یہ فیوژن کے عمل سے پیدا کرتے ہیں۔

    سورج ایک ستارہ ہے۔ کائنات میں اور ہماری کہکشاں ملکی وے میں سورج سے لاکھوں گنا بڑے ستارے بھی موجود ہیں۔

    سیارہ کیا ہوتا ہے؟ سیارے دراصل وہ فلکی اجسام ہیں جو کروی ہوتے ہیں اور عموماً یہ کسی ستارے کے گرد گھومتے ہیں۔مثال کے طور پر ہماری زمین جو سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سیاروں کی اپنی روشنی نہیں ہوتی کیونکہ ان میں ستاروں کی طرح فیوژن کا عمل نہیں ہوتا۔ سیارے اپنے ستارے جنکے گرد وہ گھومتے ہیں، کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ سیارے چٹانی یا گیس کے بنے ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین یا مریخ جو چٹانی سیارے ہیں یا مشتری اور زحل جو گیس جائنٹس ہیں۔

    نظامِ شمسی ایک سٹار سسٹم ہے جسکے مرکز میں سورج جیسا ستارہ موجود ہے اور اسکے گرد سیارے گھومتے ہیں۔ کائنات میں کئی ایسے سٹار سسٹم ہیں جنکے مرکز میں ایک ستارہ ہے اور انکے گرد سیارے گھومتے ہیں۔

  • محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی پر اُنکی خدمات پر پوسٹ کی تو چند لوگوں نے کمنٹ میں خصوصی طور پر کہا کہ محسنِ پاکستان پر بھی کچھ لکھوں تو لیجیے معلومات کے لیے محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب پر بھی ایک پوسٹ حاضر ہے۔ گو اُن جیسی قدآور شخصیت پر خاکسار کی کیا اہلِ علم۔و دانش کی لاکھوں پوسٹ یا مضامین بھی ہوں تو ناکافی ہیں مگر اہلِ علم کی تشنگی بڑھانے کے لئے گھڑے میں ایک کنکری ہم بھی ڈالے دیتے ہیں۔

    محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب بھارتی گجرات کے چھوٹے سے قصبے بنتوا میں 28 فروری 1928 میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ یند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے اور 1957 میں آنے والی چینی وبا ایشین فلو میں رضاکار کے طور پر کام شروع کیا۔ یہیں سے اُنہوں نے اپنی پہلی ایمبولینس خریدی اور انسانیت کی خدمت میں جُت گئے۔
    اپنی شریکِ حیات بلقیس ایدھی جو خود پیشے کے اعتبار سے نرس تھیں کے ساتھ ملکر ایدھی فاؤنڈیشن قائم کی جسکا مقصد پاکستان میں انسانوں ہی کہ نہیں جانوروں کی بھی زندگی بچانا اور خدمت کرنا تھا۔

    ملک بھر میں ایمبولنسیز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جس میں 1800 سے زائد ایمبولینسیز موجود ہیں۔
    پاکستان میں جہاں کہیں آفت ، سیلاب ، زلزلے آتے ایدھی صاحب کی فاؤنڈیشن وہاں وہاں حکومتی اداروں سے پہلے پہنچتی۔ ملک کو جب دہشتگردی نے لپیٹا تو ہر خود کش دھماکے میں پہلے پہلے اُنکی سروس پہنچتی۔ ایدھی صاحب انسانیت کو مذہب مانتے تھے۔ وہ بلا کسی رنگ، نسل، مذہب ، زبان کی تفریق کے ہر کسی کی مدد کو پہنچتے۔
    یتیموں کا پرسانِ حال یہ محسنِ پاکستان، 20ہزار سے زائد بچوں کو پالتا رہا۔ کئی یتیم بچوں کے والد کے خانے میں ایدھی صاحب کا نام اور والدہ کے خانے میں بلقیس ایدھی صاحبہ کا نام آج بھی درج ہے۔

    کوئی بھی کیسی بھی مشکل میں ہوتا، ایدھی صاحب کا در اُسکے لیےکھلا ہوتا۔ یتیم خانے، سکول، ہسپتال، ڈسپنسریاں ، بے گھر افراد کے لیے رہائش گاہ، جانوروں کے لیے محفوظ پناہگاہیں، نشے کے عادی افراد کے علاج کے سینٹر۔ غرض کیا کیا ہے جو محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی صاحب نے نہیں کیا۔

    اُنکا فلاحی کام محض پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر ممالک میں بھی جب کوئی قدرتی آفت آتی تو ایدھی فاؤنڈیشن دل کھول کر اُنکی مدد کرتی۔ یہاں سے راشن، کپڑے، خوراک، ادوایات ان ممالک کو بھیجی جاتیں۔

    ایدھی صاحب کو اپنی زندگی میں کئی ملکی و غیر ملکی اوراڈز سے نوازا گیا مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ان ایوارڈز کی توقیر ہے کہ اِنکو ایدھی صاحب کو دیا گیا۔

    ایدھی صاحب کے دو اقوال یہاں نقل کرنا چاہوں گا جس سے اندازہ ہو گا کہ محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی کس قدر بلند سوچ کے مالک تھے۔

    1.”کئی برس بیتنے کے بعد اب بھی مجھ سے کچھ لوگ سوال اور شکایت کرتے ہیں کہ آپ اپنی ایمبولینس میں کسی ہندو یا عیسائی کو کیوں لے جاتے ہیں؟ تو میں اُنہیں جواب دیتا ہوں: کیونکہ میری ایمبولینس تم سے زیادہ مسلمان ہے”.

    2. "کم تعلیم یافتہ ہونا محض اّنکے لیے معذوری ہے جو اپنی تمام عمر چلنے پھرنے اور بولنے میں گزارتے ہیں جبکہ اُنکےدماغ سوئے رہتے ہیں”.

  • ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کا آرٹیمیس پراجیکٹ جسکا مقصد 2024 میں دوبارہ سے انسان کو چاند پر بھیجنا ہے۔اس پراجیکٹ کے کئی مراحل ہیں جن میں سے پہلا مرحلہ اس ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ ہے جسکے ذریعے مستقبل میں انسانوں کو چاند اور دیگر سیاروں پر بھیجا جائے گا۔ اس پہلے مرحلے میں پچھلے ہفتے 15 نومبر 2022 کو چاند کیطرف ایک راکٹ کے ذریعے ایک سپیسکرافٹ بھیجا گیا۔ اس سپیسکرافٹ کانام اورآئن ہے۔ یہ سپیسکرافٹ زمین کے گرد چکر لگا کر تیزی سے چاند کیطرف گیا اور اب یہ چاند کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ سپیسکرافٹ چاند کے گرد مدار میں گھومے گا اور پھر کچھ دن بعد واپس زمین کی طرف لوٹے گا۔ اس سپیسکرافٹ میں کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں جنکی مدد سے اسکا سفر دیکھا جا سکتا ہے۔

    زیرِ نظر تصویر ناسا نے چند گھنٹے پہلے شائع کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ سپیس کرافٹ چاند سے تقریباً 1700 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ پسِ منظر میں ہماری زمین ہے۔ نیلی شفاف زمین ، سورج کی روشنی میں نہاتی ہوئی اور سامنے چاند ہے۔ ایک نقطے سی دکھتی اس زمین پر ہم سب رہتے ہیں، ایک چھوٹا سا سیارہ، خلاؤں میں ایک ادنی سے ستارے جسے ہم انسان سورج کہتے ہیں کے گرد گھومتا ہوا۔

    مستقبل میں ہم انسان چاند کے علاوہ مریخ اور نجانے کون کون سی دنیاؤں پر بسیں گے۔ وہ نسلیں جو ہمارے بعد آئیں گی وہ شاید یہ جان ہی نہ پائیں کہ ہم نے کبھی اپنا سفر اس جگمگاتی زمین سے شروع کیا۔ ان میں سے کئی نے شاید اپنے اباؤ اجداد سے محض زمین کا نام ہی سنا ہو۔ انسان زمین سے نکل کر خلاؤں کی وسعتوں میں انسانیت کے بیج بوئے گا۔ یہ تصور کتنا خوابناک ہے اور رومانوی بھی۔

    ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان

  • کون رہتا ہے، انٹارکٹیکا پر؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کون رہتا ہے، انٹارکٹیکا پر؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کے جنوبی قطب پر موجود چھٹا برِ اعظم انٹارکٹیکا جہاں سارا سال برف رہتی ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا ہے وہاں کون رہتا ہے؟

    اسکا جواب ہے وہاں مختلف ممالک کے تحقیق کرنے والے اداروں کا عملہ اور سائنسدان رہتے ہیں۔ انٹارکٹیکا پر اس وقت مختلف ممالک کے تقریباً 90 ریسرچ سٹیشن قائم ہیں۔ ان میں انٹارکٹیکا کی گرمیوں میں (یعنی دسمبر میں) کم سے کم 4 ہزار افراد رہتے ہیں جبکہ سردیوں میں (جون میں) یہ تعدا 1 ہزار تک رہ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ یہاں سیاحت کے لیے بھی گنے چنے لوگ آتے ہیں(یہاں سیاحت کے لیے جانے کے لئے جیب میں ہزاروں ڈالرز ہونا ضروری ہیں).

    انٹارکٹیکا پر دنیا کے قریب 46 ممالک کے سٹیشنز موجود ہیں۔ ان تمام ممالک نے "انٹارکٹکا ٹریٹی” پر دستخط کیے ہوئے ہیں۔ ان میں دنیا کے تمام بڑے ممالک جیسے کہ امریکہ، چین، روس، جرمنی وغیرہ کے علاوہ بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

    انٹارکٹیکا پر بھارت کے ریسرچ سٹیشن کا نام ہے "بھارتی” جبکہ پاکستان کے رہسرچ سٹیشن کا نام ہے "جناح”. بھارتی سٹیشن 2012 میں قائم کیا گیا اور پورا سال فعال رہتا ہے جبکہ پاکستانی سٹیشن محض گرمیوں میں ہی کام کرنے کے قابل ہے۔ یہ 1991 میں قائم کیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ پاکستان کی طرف سے انٹارکٹیکا پر ایک موسمیاتی سٹیشن بھی قائم کیا گیا جسے اقبال آبزرویٹری کا نام دیا گیا۔

    1993 کے بعد یہاں پاکستان کا کوئی عملہ، سائنسدان یا محقق انٹارکٹیکا نہیں گیا کیونکہ حکومت کی طرف سے کوئی فنڈنگ مہیا نہیں کی گئی۔۔2020 میں پاکستان کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت جسکے ماتحت یہ ریسرچ سینٹر ہے، نے ارادہ ظاہر کیا کہ پاکستان دوبارہ انٹارکٹیکا پر اپنی تحقیق شروع کرے گا مگر فی الوقت اس پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

  • زمین پر ہونے والی ممکنہ تباہی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہونے والی ممکنہ تباہی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانی نسل کو کئی قدرتی آفات کا سامنا صدیوں سے رہا ہے۔ ان میں زلزلے ، طوفان، سیلاب، آتش فشاں، وغیرہ سب شامل ہیں مگر دو قدرتی آفات ایسی ہیں جن سے روئے زمین پر پوری انسانیت کے مٹ جانے کا خطرہ ہے۔ ایک وہ جو خوردبین سے نظر آتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوربین سے۔

    لیڈیز اینڈ جینٹلمین !! میں بات کر رہا ہوں وائرسز کی اور شہابِ ثاقب کی۔ وائرسز سے پھیلنے والی وبائیں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہیں جیسے کہ پچھلے برسوں میں آنے والی کرونا وائرس کی وبا جس سے لاکھوں انسان زندگی کی بازی ہار گئے۔ بھلا ہو سائنس کا کہ اتنے کم عرصے میں ویکسین تیار کر لی گئی اور اس وبا پر قابو پا لیا گیا اور اب زندگی دوبارہ سے معمول پر آ رہی ہے۔

    اور دوسری آفت ہیں شہابِ ثاقب۔ (ویسے تیسری آفت بیگم بھی ہو سکتی ہیں اگر ااُنکا موڈ خراب ہو) ہماری زمین پر ہر سال کروڑ شہابیے گرتے ہیں مگر ان میں سے کئی دس گرام سے بھی کم ہوتے ہیں جبکہ کئی ایسے جو کافی بڑے ہوتے ہیں مگر زمین کی اوپری فضا سے رگڑ کھا کر بھی اتنے رہ جاتے ہیں کہ زمین پر گریں۔ ایسے شہابیوں کی تعداد ہر روز تقریباً 17 ہوتی ہے جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔

    زیرِ نظر تصویر میں آپ زمین کے گرد سیارچوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اتنے بڑے ہیں کہ انہیں دوربین سے ماہرینِ فلکیات ٹریک کر سکتے ہیں۔ مگر کئی ایسے ہیں جو ہم زمین سے ٹکرانے کے شاید کچھ دن یا کچھ گھنٹے پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں ماہرین فلکیات اور فلکیات کے مشاہدات کا شوق رکھنے والے لوگ دوربینوں سے ایسے خطرناک سیارچوں کو ٹریک کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ناسا کا 2002 سے چلنے والا پروگرام "سینٹری” یہ دیکھتا ہے کہ ٹریک کیے گئے سیارچوں میں کونسا اتنا بڑا ہے اور اسکا مدار زمین اور سورج کے درمیان کیسا ہے کہ یہ زمین پر گر کر ممکنا تباہی پھیلا سکے۔

    13 مارچ 2005 کو ایک ایسا ہی سیارچہ دریافت کیا گیا جسکا قطر تقریباً 50 میٹر تھا۔اسکا نام 2005 ED 224 رکھا گیا۔ سورج کے گرد اسکا مدار تقریباً 2.6 سال کا ہے۔ 2005 کی دریافت کے بعد اسے دوبارہ نہیں دیکھا جا سکا۔ لہذا اس بارے میں مکمل یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اس وقت زمین سے کتنا دور ہے۔

    کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ یہ 11 مارچ 2023 کو یہ سیارچہ زمین سے 400 ملین کلومیٹر دور سے گزرے گا مگر چونکہ سائنسدان اسکے مدار کے متعلق مکمل نہیں جانتے سو اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے ٹکرائے۔ کتنا امکان ؟ پانچ لاکھ میں سے ایک۔ یعنی 0.000002 فیصد۔ موازنے کے لیے امریکہ میں کار ایکسیڈنٹ میں مرنے کا امکان تقریبا سو میں سے ایک ہے۔

    لہذا” آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے”.

    یہ محض اس لئے بتا رہا ہوں کہ دراصل مستقبل میں انسانیت کو کسی بڑے سیارچے کے زمین پر گرنے سے خطرہ ہے اور اسی لئے اسی سال ناسا کا ڈارٹ مشن ایک سیارچے کے چاند کو تجرباتی طور پر ٹکرایا ہے تاکہ اسکے مدار میں تبدیلی لائی جا سکے اور یہ مشن کامیاب رہا ہے۔ سو یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی تباہی سے زمین کو ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

  • گوگل میپ راستے کیسے ڈھونڈتا ہے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گوگل میپ راستے کیسے ڈھونڈتا ہے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم اور آپ ہر روز گوگل میپ کے استعمال سے راستے تلاش کرتے ہیں۔ اپنے موبائل فون میں گوگل میپ کی ایپ نکالی، لوکیشن آن کی اور ایک جگہ کا راستہ لکھا تو ترنت گوگل۔میپ نے اپکو راستہ بتا دیا۔ فرض کریں آپکو لاہور میں "شاہ دی کھوئی” سے لمز یونیورسٹی جانا ہے۔ تو آپ کسی لاہوری سے راستہ پوچھنے کی غلطی نہیں کریں گے کیونکہ وہ آپکو لمز کی بجائے مینارِ پاکستان پہنچا دے گا۔ تو آپ نے گوگل میپ پر لمز کا ایڈریس ڈالا اور گوگل نے آپکو راستہ بتا دیا اور ساتھ ہی ڈائریکشنز بھی کہ کونسی جگہ ِرنگ روڈ لینا ہے، کہاں سے رنگ روڈ سے اُترنا ہے، کہاں لالک چوک پر مڑنا یے وغیرہ وغیرہ۔

    مگر گوگل آپکو یہ سب کیسے بتاتا ہے؟ اسکا جواب ہے جی پی ایس سسٹم کے ذریعے۔ اب یہ جی پی ایس کیا بلا ہے؟

    جی پی ایس دراصل مخففففف(یہ لفظ پتہ نہیں کس نے نکالا تھا اتنے سارے ف ف ف والا) ہے گلوبل پوزیشننگ سسٹم کا۔ گلوبل پوزیشننگ سسٹم کیا ہے؟ بھلا ہو امریکیوں کا کہ انہیں نے آج سے 44 سال پہلے اس سسٹم کا آغاز کیا۔ یہ سسٹم دراصل خلا میں 31 سٹلائٹس (اس وقت فعال) کا نیٹ ورک ہے جو زمین سے تقریباً 20200 کلومیٹر اوپر خلا میں زمین کے گرد مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اس سسٹم کے تحت پہلا سٹلائٹ 1978 میں بھیجا گیا جبکہ بعد میں تواتر سے مزید سٹلائٹس بھیجے گئے۔ ان میں سے جب کچھ سٹلائٹ پرانے یا ناکارہ ہو جاتے ہیں تو انکی جگہ نئے سٹلائٹس بھیجے جاتے ہیں۔ اب تک کل ملا کر 77 سٹلائٹس اس سسٹم کے لیے بھیجے جا چکے ہیں۔

    خیر اب یہ موئے سٹلائٹ کرتے کیا ہے؟ ان سٹلائٹس میں ایٹامک کلاکس لگی ہوتی ہیں یعنی ایٹمی گھڑیاں جو نہایت ایکوریسی سے وقت کا حساب رکھتی ہیں۔ یہ سٹلائیٹس ہر لمحے اپنی جگہ اور مقامی وقت کو ریڈیائی لہروں کے ذریعے زمین پر ریڈیائی سگنلز کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ سٹلائٹس سے بھیجے گئے سگنلز کو آپکے فون میں لگے جی پی ایس ریسور موصول کرتے ہیں جس سے زمین پر یہ اپنی جگہ معلوم کرتے ہیں جیسے کہ آپکا فون آپکو ان سگنلز سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کو استعمال کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ آپ اس وقت لکشمی چوک پر ہیں جہاں آپ تو دیسی ککڑ کی کی دیسی گھی میں بنی کڑاہی رگڑ رہے ہیں مگر بیگم کو آپ نے بتایا ہے کہ آج گھر کام کی زیادتی کیوجہ سے گھر دیر سے آئیں گے۔

    مگر آپکا فون آپکی یہ لوکیشن معلوم کیسے کرتا ہے؟

    ہم جانتے ہیں کہ ریڈیائی لہریں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ سو جب ہمارے فون کو سٹلائیٹ سے ایک سگنل موصول ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے 8 بج کر 10 منٹ تو ہم یہ جان جاتے ہیں کہ سٹلائیٹ نے یہ سگنل 8 بج کر 10 منٹ پر بھیجا۔ اب ہمارا فون یہ بھی جانتا ہے کہ اس وقت فون پر کیا وقت ہوا ہے کیونکہ فون کے اندر بھی ایک گھڑی ہے۔ تو اگر آپکا فون یہ دیکھے کہ سگنل موصول ہوا ہے8 بج کر 10 منٹ اور 1 سیکنڈ بعد(ویسے ایک سکینڈ سے بھی کم وقت لگتا ہے مگر سمجھانے کے لیے) تو موبائل فون کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ سگنل پہنچنے میں محض ایک سیکنڈ لگا ہے۔ اب اسے روشنی کی رفتار سے ضرب دیں تو آپکو معلوم ہو جائے گا کہ سٹلائیٹ آپکے فون سے کتنی دور یے۔ یعنی آپ ایک سفئیر(آپ اسانی کے لیے دائرہ کہہ لیں) میں ہیں جسکا رداس اس فاصلے جتنا ہے جو آپکے فون نے معلوم کیا ہے۔ مگر آپ اس سفیئر میں آپ کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ (وضاحت کے لیے تصویر دیکھیں).

    مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپکی لوکیشن کہاں پر ہے۔ اسکے لیے اگر آپکے موبائل فون کو کم از کم تین سٹلائٹس سے بیک وقت سگنلز موصول ہوں(عموماً چار سے زیادہ بہتر لوکیشن ملتی ہے) تو اس سے تین سفیئرز بنیں گے جناک رداس ہر اُس فاصلے جتنا ہو گا جو آپکے فون نے معلوم کیا۔اسکا مطلب یہ کہ آپ ان تمام سفئیرزمیں بیک وقت ہونگے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ آپ یاک کی صورت ان سب میں ہونگے یعنی ان تمام سفیئرز کے مشترکہ مقام یا سنگم پر۔ یوں آپ کا فون آپکو اپنی ایگزیکٹ لوکیش بتانے کے قابل ہو جائے گا۔اس اُصول کا ایک مشکل سا سائنسی نام بھی ہے جسے ٹرائلیٹریشن(Trilateration) کہتے ہیں۔

    اب آپکی لوکیشن کو استعمال کر کے گوگل میپ پہلے سے بنائے گئے زمین کے نقشے میں آپکی لوکیشن کے حساب سے آپکی منزل مقصود تک کا راستہ آپکو بتائے گا۔ یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ سٹلائیٹ زمین سے اوپر خلا میں اتنہائی تیزی سے مدار میں گھوم رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وقت کسی شے کی رفتار کے مطابق بہتا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زیادہ گریویٹی کی وجہ سے وقت سست روی سے بہتا ہے۔ اور سٹلائیٹ چونکہ زمین سے دور ہوتے ہیں تو ان پر زمین کی گریویٹی کا اثر کم ہوتا ہے۔ لہذا سٹلائیٹس پر وقت تیزی سے گزرتا ہے بنسبت زمین کی سطح پر۔ یہ سب ہمیں آئن سٹائن کی ریلیٹویٹی تھیوری بتاتی ہے(جی سائنس میں تھیوری عام فہم والی تھیوری نہیں بلکہ ثابت شدہ تھیوری کو کہتے ہیں جسکا کوئی استعمال بھی ہو)۔ لہذا اگر ہم وقت کے سٹلائیٹ پر تیزی سے گزرنے کے عمل کو لوکیشن معلوم کرنے میں شامل نہیں کریں گے تو سچ میں آپ لمز کی بجائے مینارِ پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ اس میں قصور کسی بیچارے لاہوری کا نہیں ہوگا بلکہ آپکا ہو گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس کی تھیوری از جسٹ تھیوری۔

  • جمیز ویب کی آنکھ سے، ستارے کی پیدائش!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جمیز ویب کی آنکھ سے، ستارے کی پیدائش!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری کائنات میں ایک اندازے کے مطابق زمین پر ریت کے ذروں سے بھی 26 گنا زیادہ ستارے ہیں یعنی یہ تعداد کھربوں میں ہے۔ کائنات اربوں نوری سالوں پر محیط ہے اور اس میں ہر روز ہزاروں ستارے جنم لیتے ہیں۔ ایک محتاط اندازہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات میں ہر سال تقریبا 150 ارب نئے ستارے جنم لیتے مگر یہ تعداد اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ہماری کہکشاں ملکی وے میں موجود 90 فیصد ہائیڈروجن گیس اب تک ستاروں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ملکی وے میں سب سے پرانے ستاروں کی عمر کا تعین کر کے ہم یہ جان چکے ہیں کہ ہماری کہکشاں کو بنے کم از کم 13 ارب سال ہو چکے ہیں۔ یعنی یہ کائنات کے بننے کے تقریباً 80 کروڑ بعد بنی۔ ملکی وے میں ہر سال سورج یا سورج سے بڑے تقریباً 7 ستارے جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح اوسطاً دو ستارے جو سورج سے ماس میں کئی گنا بڑے ہوتے ہیں وہ سپرنووا بن کر پھٹتے ہیں جبکہ ایک کم ماس کا ستارہ پلینٹری نبیولا میں تبدیل ہوتا ہے۔ اب یہ پلینٹری نبیولا کیا بلا ہے؟ جب سورج یا سورج سے کچھ بڑے ستارے اپنے انجام کو پہنچتے ہیں تو یہ پھیلنے لگتے ہیں۔مستقبل میں سورج بھی اپنے موجودہ سائز سے پھیلتے پھیلتے تقریباً 300 گنا بڑا ہو جائے گا اور یہ عطارد، زہرہ، اور زمین سب کو نگل لے گا۔ اسکے بعد سورج کی باہری سطح میں موجود تمام مواد جس میں گیسیں اورخلائی گرد موجود ہو گی آہستہ آہستہ باہر خارج ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یوں سورج اپنے انجام پر ایک۔پلینٹری نبیولا بن جائے گا۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ سورج اور نظامِ شمسی کے دیگر سیارے بھی ایسے ہی 4.6 ارب سال پہلے ماضی کے کسی ستارے کے انجام پر بننے والے نبیولا سے بنے ہیں۔

    زیرِ نظر تصویر بے حد دلچسپ ہے کیونکہ یہ جمیز ویب خلائی دوربین جو اس وقت زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے، اس سے کھینچی گئی ہے۔ اس تصویر میں ایک ایسے ہی نبیولا کی گرد میں ایک ستارے کی پیدائش کو ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک ستارہ جو ابھی مکمل ستارہ نہیں بنا بلکہ بننے کے قریب ہے، اسے پروٹوسٹار کہتے ہیں۔ اس تصویر میں درمیاں میں ایک چھوٹی سی لکیر نظر ا رہی ہو گی جو گرد کے اس بادل کو دو حصوں میں "ریت کی گھڑی” کی طرح تقسیم کر رہی ہے۔ یہ لکیر دراصل اتنی چھوٹی نہیں بلکی یہ نظامِ شمسی کی سائز کی ڈسک ہے اور یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ستارہ بننے کا عمل جاری ہے اور ایک جگہ گیس اکٹھی ہو رہی ہے جو مستقبل میں گریویٹی کے زیرِ اثر اس قدر درجہ حرارت حاصل کر لے گی کہ اس میں فیوژن کا عمل شروع ہو جائے گا اور یوں ایک ستارہ بنے گا۔ یہ عمل ہونے میں کئی لاکھوں سےکروڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ فی الحال اس عمل کو شروع ہوئے اندازاً ایک لاکھ سال ہو چکے ہیں۔

    اسی طرح اس نبیولا میں موجود گرد میں نئے سیارے بنیں گے جن میں شاید زمین جیسا بھی کوئی سیارہ ہو۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے لی گئی یہ تصویر اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے ہم یہ جان سکیں گے کہ ماضی میں ایسے ہی کسی عمل کے تحت ہمارا سورج اور نظامِ شمسی کیسے بنے؟

    یہ مہر و ماہ و کواکب کی بزم لا محدود

    صلائے دعوت پرواز ہے بشر کے لئے