Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر حفیظ الحسن

  • سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائبیریا میں شہابِ ثاقب!!

    آج سے 114 برس قبل روس کے علاقے سائبیریا میں ایک دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ وہاں سے کئی سو میل دور تک لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ کئی جنگلی جانور ہلاک ہو گئے اور دو ہزار مربع کلومیٹر میں موجود 8 کروڑ درخت جل کر راکھ ہوگئے۔

    مگر زمین سے کوئی شے نہ ٹکرائی۔ عینی شاہدین نے آسمان پر سورج سے بھی روشن ایک ہلے نیلے رنگ کی آگ برساتی گیند دیکھی اور پھر اس قدر شدید دھماکہ ہوا کہ انکے پاؤں زمین سے اُکھڑ گئے۔ یہ واقعہ 1908 میں پیش آئے۔ اس واقعے کو گزرے کئی سال بیت گئے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس قدر شدید دھماکہ کس شے کا تھا۔

    پھر 1927 میں سوویت سائنسدانوں ں کے ایک ٹیم نے اس علاقے کا دورہ کیا۔ چونکہ سائبریا بے حد وسیع و عریض ہے اور یہاں دور دور تک آبادی کم کم ہی ہوتی ہے لہذا اُس علاقے تک پہنچنا جہاں یہ دھماکہ ہوا بے حد مشکل تھا۔ سائنسدان اس تلاش میں تھے کہ اگر یہ دھماکا کسی شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہوا ہے تو ضرور زمین پر کوئی بہت بڑا گڑھا بنا ہو گا۔ مگر اّنکو مایوسی ہوئی۔ زمین پر اس علاقے میں کوئی گڑھا موجود نہیں تھا۔ اس سے کئی تھیوریوں نے جنم لیا مثال کے طور پر یہ کوئی ایلنز کی سپیس شپ تھی یا کوئی منی بلیک ہول جو زمین کے اوپر سے گزرا وغیرہ وغیرہ ۔

    مگر آج سائنسدان یہ مانتے ہیں کہ یہ دھماکہ شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہی ہوا۔ فرق بس اتنا تھا کہ وہ زمین کے بے حد قریب آنے کے بعد ہی ہوا میں مکمل طور پر جل گیا۔

    سائنسدان ایسا کیوں مانتے ہیں؟

    دراصل اسی جیسا ایک اور واقعہ 2013 میں روس کے علاقے چیلیابنسک میں پیش آیا۔ جب ایک قدرے چھوٹا شہابِ ثاقب اسی طرح زمین کے بہت قریب آ کر فضا میں پھٹا جس سے کافی نقصان ہوا مگر زمین پر کوئی گڑھا نہیں بنا۔

    اس نئے واقعے سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوا کہ شہابِ ثاقب زمین کے بالکل قریب آ کر ہوا میں بھی تحلیل ہو سکتے ہیں۔
    مزید کمپیوٹر سملولیشنز اور ماڈلز کے ذریعے اس دھماکے سے ہونے والی تباہی اور تباہ شدہ علاقے کا ڈیٹا استعمال کر کے سائنسدانوں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ چیلیابنسک میں 2013 میں گرنے والا شہابِ ثاقب دراصل کتنا بڑا تھا اور اس کے پھٹنے سے کتنی توانائی خارج ہوئی۔

    تو یہ شہابِ ثاقب دراصل 19 میٹر کے سائز کی ایک چٹان تھی جس سے 550 کلوٹن کا دھماکہ ہوا۔یاد ریے ایک کلوٹن دراصل ایک ہزار ٹی این ٹی آتشگیر مادے سے ہونے والے دھماکے کی شدت ہوتی یے۔

    اس واقعے کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ اس طرح کے واقعات زمین پر دوبارہ کب ہو سکتے ہیں تو زمین کے گرد اور نظامِ شمسی میں موجود شہابیوں کی تعداد سے یہ انکشاف ہوا کہ اوسطاً ہر دس سے سو سال کے درمیان ایسا ہی کوئی بڑا شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔

    لہذا ناسا اب ممکنہ طور پر زمین کو کسی شہابِ ثاقب کی تباہی سے بچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے اور ایک ابتدائی مشن بھی بھیج چکا ہے جسکا مقصد ایک شہابئے کا رخ موڑ کر اسے زمین سے دور ہٹانا ہے۔

  • دُمدار ستارے، نحوست کے استعارے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دُمدار ستارے، نحوست کے استعارے؟؟؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں میں دمدار ستاروں کا زمین سے دِکھنا، نحوست یا زمین پر کسی بڑی آفت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ قدیم ایرانی دمدار ستارے دیکھ کر اُس ملک پر جنگ کر دیتے جس طرف اس ستارے کی دم ہوتی۔

    رومی دُمدار ستارے دیکھ کر ڈر جاتے اور عبادت میں مشغول ہو جاتے۔ غرض دم دار ستاروں کا نظر آنا کسی طور اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا تھا۔

    صدیاں ان بوسیدہ تصوارت میں گزر گئیں۔۔کوئی نہیں جانتاتھا کہ آسمان میں اچانک نظر آتے یہ دم لگے روشن اجسام کیا ہیں؟ پھر ستروییں صدی میں دوربین ایجاد ہوئی۔ آسمانوں کی جانب دیکھا جانے لگا۔ کائنات کے راز کھلتے گئے۔

    یہ 14 نومبر 1680 کی ایک سرد رات تھی۔ جرمنی کے ایک چھوٹے سے قصبے کوبُرگ میں بیٹھا جرمن ماہرِ فلکیات گوٹفرائڈ کیرخ ایک روشن دمدار ستارے کو خلا میں زمیں کی جانب بڑھتا دیکھتا ہے۔ یہ ابھی زمین سے نظر نہیں آیا تھا کہ گوٹفرائڈ نے اسے دیکھ لیا۔ بعد میں یہ دمدار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے پر نظر آیا۔ یہ اتنا روشن تھا کہ دن کے وقت بھی نظر آتا۔ اس دمدار ستارے کو نام دیا گیا "دی گریٹ کومٹ آف 1680” یعنی 1680 کا عظیم دمدار ستارہ۔

    اس دریافت کے بعد دمدار ستاروں کے متعلق علم بہتر ہوتا گیا۔ اور آج سائنسدان یہ جانتے ہیں کہ ہم جسے دمدار ستارہ کہتے ہیں یہ دراصل ستارہ نہیں بلکہ نظامِ شمسی میں سورج کے گرد گھومتے چھوٹے چھوٹے جمی گیس ،برف، چٹانوں یا گرد کے بنے سیارچے ہیں جو سورج کے گرد ایک طویل اور بیضوی مدار میں گھومتے ہیں۔ یہ چمکتے اس لیے ہیں کہ ان پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ جب یہ اپنے مدار میں سورج اور زمین کے بیچ آتے ہیں تو سورج کے قریب آنے سے اُسکی روشنی اِنکو گرم کرتی ہے اور ان میں جمی گیسیں باہر کو نکلتی ہیں جو دم کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ یہ گیسیں سورج کی روشنی کو منعکس کرتی ہیں اور یوں ان اجسام کی دم سی نظر آتی ہے۔
    تو دراصل عرفِ عام میں یہ دمدار ستارے بیچارے ستارے نہیں بلکہ سورج کی روشنی سے گرم ہوتے سیارچے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے دم کی صورت گیسوں کی لکیر چھوڑتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے ہوا میں اڑتے جہاز کا دھواں سورج کی روشنی میں نمایاں دکھتا ہے۔

    ان دمدار ستاروں کا مدار سورج کے گرد کئی سو سال تک کا ہوتا ہے۔ اسی لئے اکثر دمدار ستارے کئی صدیوں یا دہائیوں بعد نظر آتے ہیں۔ ہمارے نظامِ شمسی میں اب تک ڈھونڈے گئے دمدار ستاروں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے اوپر ہے۔ مگر انکی کل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

    سائنس کی دنیا میں ایک اہم دمدار ستارہ 1P/Halley یا عرف عام میں ہیلی کومٹ ہے جسے آخری بار 1986 میں زمین سے دیکھا گیا۔ یہ اس لیے اہمیت کا حامل تھا کہ اس سے پہلی بار ماہرین ِ فلکیات کو علم ہوا کہ دمدار ستارے محض ایک بار نہیں بلکہ سالوں کے وقفے سے بار بار بھی نظر آ سکتے ہیں۔ ہیلی دوبارہ 2061 میں زمین سے نظر آئے گا کیونکہ یہ تقریباً ہر 75 سے 79 سال بعد زمین سے نظر آتا ہے۔

    سو دمدار ستارے نہ ہی ستارے ہوتے ہیں اور نہ ہی منحوس!!

  • سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سیٹلائٹ کی گردش — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    1957 میں سویت یونین نے سپٹنیک کے نام سے پہلا انسانی سٹلائیٹ خلا میں بھیجا۔ یہ سٹلائیٹ ایک تجرباتی سٹلائیٹ تھا جسکا مقصد سٹلائیٹ ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ اور زمین تک سٹلائیٹ کے ریڈیو کمیونکیشن کو چیک کرنا تھا۔ اس تجربے کی کامیابی کے بعد خلا میں سٹلائیٹ ٹیکنالوجی نے مزید پیش رفت کی۔ اس دوڑ میں امریکہ بھی شامل ہوا اور بعد میں دنیا کے دیگر ترقی یاقتہ ممالک بھی۔

    سٹلائیٹ ٹیکنالوجی آج کے جدید دور کی کمیونکیشن، خلا سے زمین کے جائزے، موسموں کے بدلاؤ، زمین کے جغرافیے میں تبدیلی، جی پی ایس جس سے آپ روز گوگل میپ کے ذریعے راستے معلوم کرتے ہیں اور دیگر کئی اہم شعبوں میں استعمال ہوتی ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق اس وقت خلا میں 5500 سے زائد سٹلائیٹ زمین کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جبکہ 2030 تک انکی تعداد 58 ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔ ان میں دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سٹلائیٹ بھی شامل ہیں اور سویلین مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بھی۔

    سیٹلائیٹ خلا میں مختلف طرح کے مدار میں زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کمیونیکیشن سٹلائیٹ جن سے ٹیلی وژن، انٹرنیٹ یا ریڈیو کمیونکیشن کی جاتی ہے جیوسٹیشنری مدار میں ہوتے ہیں۔ یعنی یہ زمین کے خطِ استوا کے اوپر خلا میں زمین کی محوری گردش کے ساتھ ساتھ گھومتے ہیں۔ یوں یہ ہر وقت زمین پر ایک ہی علاقے میں مسلسل کوریج کر سکتے ہیں۔ اسکا فائدہ یہ ہے کہ زمین پر لگے ریسورز کو بار بار انہیں ٹریک نہیں کرنا پڑتا۔ یوں آپکے گھروں میں موجود ڈش اینٹینا ایک ہی رخ میں مختلف سٹلائیٹ کے سگنل پکڑ سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زمین کی سطح سے تقریبا 35 ہزار، 786 کلومیٹر اوپر تک ہوتے ہیں۔ ان سے اوپر کے مدار میں موجود سٹلائٹس کو ہائی ارتھ آربٹ سٹلائٹ کہا جاتا ہے۔ اس مدار میں کم ہی سٹلائٹ یا خلائی دوربینیں ہوتی ہیں۔

    اسی طرح کچھ سٹلائیٹ پولر مدار میں گھومتے ہیں یعنی زمین کے خطِ استوا کے اوپر گھومنے کی بجائے قطبین کے قریب سے شمال سے جنوب کیطرف زمین کا چکر لگاتے ہیں۔ اس طرح۔ سٹلائیٹ زمین کی محوری گردش کے باعث اسکے ہر حصے کو کور کر سکتے ہیں۔ گویا یہ ہر روز ایک خاص وقت پر زمین کے ایک خاص حصے کے اوپر ہونگے۔ مثال کے طور پر ایک سٹلائیٹ روزانہ 10 بج کر 15 منٹ پر لاہور کے اوپر سے گزرے گا یا شام کے 5 بجے ہر روز اسلام آباد کے اوپر سے(یہ محض مثال دے رہا ہوں). اس طرح کے سٹلائیٹ سے آپ زمین کی مختلف جگہوں کی تصاویر مختلف اوقات میں با آسانی لے سکتے ہیں۔ یہ سٹلائیٹ زیادہ تر موسموں کی پیشن گوئی ، طوفان اور زمین ہر دیگر آفات کی مانیٹرنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انکا مدار زمین کی سطح کے اوپر 200 سے 1000 کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ پاکستانی خلائی ایجنسی سپارکو کا چائنہ میڈ سیٹلائٹ جسے 2018 میں بھیجا گیا وہ بھی ایسے ہی مدار میں گھوم رہا ہے۔

    ایسے ہی کچھ سٹلائیٹ لو ارتھ آربٹ میں گھومتے ہیں یعنی وہ سٹلائٹ جو زمین سے کافی قریب ہوتے ہیں۔ کتنے؟ کم سے کم زمین کی سطح سے 160 کلومیٹر اوپر اور زیادہ سے زیادہ 1 ہزار کلومیٹر ۔ ان میں ناسا کی ہبل ٹیلی سکوپ یا انٹرنیشنل سپیس سٹیشن بھی شامل ہیں۔ یہ جیو سٹیشنری سٹلائٹ نہیں ہوتے یعنی یہ زمین کی محوری گردش سے نہیں جڑے ہوتے اس لیے یہ آپکو ایک وقت میں ایک جگہ اور دوسرے وقت میں آسمان میں دوسری جگہ نظر آئیں گے۔

    فہرست تو طویل ہے مگر ایک اور طرح کے سٹلائیٹ جو جی پی ایس سٹلائیٹ ہوتے ہیں وہ میڈیم ارتھ آربٹ میں ہوتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 20 ہزار کلومیٹر سے اوپر ہوتے ہیں۔ اور یہ مختلف مداروں میں گھومتے ہیں تاکہ ہر وقت چار سے پانچ سٹلائیٹ کے سگنل ایک جگہ پر آ سکیں جس سے آپکے سمارٹ فون میں لگے جی پی ایس اینٹنا انکے سگنل کو پکڑ کر ان سے ریاضی کے چند سادہ اُصولوں کے تحت زمین پر آپکی پوزیشن بتا سکیں اور یوں آپ گوگل میپ کے ذریعے راستے ڈھوند سکیں۔

    اُمید ہے اگلی بار آپ یہ نہیں کہیں گے کہ انسان تو آج تک خلا میں ہی نہیں گئے۔ اگر کہیں گے تو اُمید ہے کہ اپنے موبائل فون سے ہرگز نہیں کہیں گے کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی خلا میں موجود سٹلائیٹ ہی یہ مسیج ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا رابطہ بن رہا ہوگا۔ اور اُمید ہے کہ اگر آپکو یہ یقین نہیں کہ انسان یا انسانوں کے بنائے سٹلائیٹ کبھی خلا میں نہیں گئے تو آپ گوگل میپس کی بجائے لوگوں سے راستہ پوچھنے پر اکتفا کریں گے(ایسے میں احتیاط کیجیے گا لاہوریوں سے راستہ مت پوچھیں۔ وہ آپکو مینارِ پاکستان کی بجائے شاہ دی کھوئی بھیج دیں گے)۔

  • ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہبل تو جیے سالہا سال — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ 1923 کی بات ہے جب انسان ابھی خلاؤں میں سفر کے خواب دیکھ رہا تھا , ایسے میں جرمن سائنسدان ہیرمان اوبرتھ جنہیں جدید راکٹ ٹیکنالوجی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا یے ، نے ایک کتاب لکھی : "The Rocket into Planetary Space”.

    اس کتاب میں راکٹ ٹیکنالوجی کے خدو خال اور خلا میں اسکے استعمال سے تسخیرِ کائنات کے پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا۔ اسی کتاب میں انہوں نے ذکر کیا کہ کیسے ایک دوربین کو راکٹ کے زریعے خلا میں زمین کے گرد مدار میں چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کے چھپنے کے 23 سال بعد یعنی 1946 میں امریکی ماہرِ فلکی طبعیات "لےمین سپٹزر ” نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں جدید خلائی دوربین اور اسکے فوائد کا ذکر کیا۔ انکا مقدمہ یہ تھا کہ خلائی دوربین زمین کی خوربینوں کے مشاہدات میں اضافہ کے لئے نہیں بلکہ ایسے نئے مشاہدات کے حصول کے لیے بنائی جائےجو ہمیں کائنات کو نئی پہلوؤں سے سمجھنے میں مدد دے۔

    کئی دہائیاں گزرنے اور کئی انسانوں کے سامنے یہ مقدمہ رکھنے کے بعد بالآخر وہ وقت آ گیا جب ناسا نے پہلی جدید خلائی دوربین ہبل کے نام سے 24 اپریل 1990 کو خلا میں بھیجی۔ انسانی تاریخ کی پہلی خلائی دوربین کا نام بیسوی صدی کے مشہور ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل کے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنہوں نے طویل کائناتی مشاہدات کے بات انسانوں کو خبر دی کہ وہ ایک ایسی کائنات کا حصہ ہیں جو مسلسل پھیل رہی ہے اوریہ کائنات محض ہماری کہکشاں ملکی وے نہیں بلکہ اربوں کہکشاؤں پر محیط ہے۔

    1977 سے تعمیر کی جانے والی یہ جدید خلائی دوربین جس پر آج کے افراطِ زر کے مطابق 16 ارب ڈالر خرچ ہوئے اور جسے اپنے ہدف یعنی 1983 میں لانچ کرنے کی بجائے سات سال تاخیر سے یعنی 1990 میں، جب خلا میں بھیجا گیا تو اس سے موصول ہونے والی پہلی تصاویر نے سائنسدانوں کے ارمانوں ہر پانی پھیر دیا۔

    ہبل کی تصاویر دھندلی تھیں!! اسکے 2.4 میٹر بڑے مِرر میں معمولی سا خلل تھا جو اس پر پڑنے والی روشنی کو ایک جگہ جمع نہیں کر پا رہا تھا جس سے تصاویر دھندلی ہو رہی تھیں۔ خوش قسمتی سے ہبل ٹیلکسکوپ زمین سے 547 کلومیٹر اوپر خلا میں تھی لہذا فیصلہ کیا گیا کہ اسکی مرمت کے لئے مشن بھیجا جائے۔ ہبل کی مرمت کے لئے پہلا مشن دسمبر 1993 میں بھیجا گیا۔ ڈیڑھ ہفتے سے زائد یہ مشن جاری رہا۔ اس مشن کے دوران خلا میں ناسا کی سپیس شٹل کے ذریعے خلاباز ہبل ٹیلکسکوپ کی مرمت کرتے رہے۔اسکےساتھ ساتھ زمین پر ناسا کے انجینئرز دن رات اس مرمت کا جائزہ لیتے رہے اور اس بات کو یقینی بناتے رہے کہ ہبل سے آنے والی تصاویر بہتر سے بہتر ہو جائیں۔ بالآخر یہ مشن کامیاب رہا۔ ہبل صحیح سے کام کرنے لگی۔

    اس مرمت کے 4 سال بعد یعنی 1997 میں ایک دوسرے مشن کے ذریعے ہبل کے مشاہدہ کرنے کے آلات میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اب تک ہبل کی مرمت اور اسکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کل پانچ مشنز بھیجے جا چکے ہیں جن میں آخری مشن 2009 میں بھیجا گیا۔

    ہبل ٹیلی سکوپ خلا میں انسان کی پہلی آنکھ تھی۔ اس ٹیلی سکوپ نے ہمیں بتایا کہ کائنات کتنی وسیع ہے۔ کائنات انسان کی سوچ سے بھی وسیع ہے۔

    ہبل نے ہمیں بتایا کہ یہاں ستاروں کو کھا جانے والے بلیک ہولز بھی ہیں اور ایسے ستارے بھی جو سورج سے ہزاروں گنا بڑے۔ یہاں ہر روز نئے ستارے بنتے بھی ہیں اور اپنے انجام کو بھی پہنچتے ہیں۔
    یہاں ہمارے نظامِ شمسی کے علاوہ اربوں نظامِ شمسی ہیں اور زمین کیطرح کے لاتعداد سیارے بھی۔ یہاں مشتری کے چاند بھی ہیں جن میں بانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور اسی سرد دنیائیں بھی جنکی برفیلی تہوں میں گرم پانیوں کے سمندر ٹھاٹھیں مارتے ہیں۔ یہاں ایسے سیارے بھی ہیں جہاں ہیروں کی بارش ہوتی ہے اور ایسے بھی جنکے آسمانوں سے آگ برستی ہے۔
    یہاں ایسی کہکشائیں بھی ہیں جو ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں اتنی دور کہ ہماری آنے والی نسلیں اّنہیں دیکھ بھی نہ پائیں گی۔ ممکن ہے اُن کہکشاؤں میں بھی کہیں انسان بستے ہوں جن سے ہم کبھی رابطہ نہ کر سکیں۔

    لوگ پوچھتے ہیں کہ ہبل پر اتنا پیسہ لگا کر انسانیت نے کیا حاصل کیا؟
    میں کہتا ہوں کہ ہبل ٹیلیسکوپ نے انسانوں کو کائنات کی وسعتوں میں اپنے مقام سے آگاہ کیا ہے۔کیا اس سے بڑی بات کوئی خدمت ہو سکتی ہے؟

    ہبل دراصل خلا میں ہماری ظاہری آنکھ نہیں باطن کی آنکھ ہے جس سے ہم ادراک پاتے ہیں کہ کائنات میں ہماری حیثیت ایک چھوٹے سے سیارے پر گھومتی مخلوق سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہم جو آئے روز ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہیں، نظریات کے نام پر نفرتوں کے بیچ بوتے ہیں، اپنی انا کے جھوٹے دائروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جہالت کے اندھیروں میں انسانیت کا قتل کرتے ہیں۔ ہم اس وسیع کائنات میں کس قدر اکیلے ہیں۔ ہبل کی تصاویر کو دیکھتے ہوئے اگر آپکی آنکھوں میں آنسوؤں نہیں آتے تو آپ اندر سے مر چکے ہیں۔ کائنات میں زندہ رہنے کا ایک ہی اصول ہے کہ اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھا جائے۔

    30 سال سے خلا میں کام کرتی یہ دوربین ہبل شاید 2040 تک ہمیں مزید فلکی نظارے دکھائے گی۔ جسکے بعد یہ اپنے مدار سے نکل کر تیزی سے زمین کی فضا میں داخل ہو گی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحرالکاہل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔ جس سے خلا میں انسانی تسخیر کے ایک عہد ساز باب کا اختتام ہو گا۔

    مگر جب تک ہبل خلا میں کام کر رہی ہے، تب تک: ” ہبل تو جیے سالہا سال!!!”

  • مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مقدس گنہگار!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر یورپ کے آرٹ میں کئی جدید فنی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سب سے دلچسپ سرئیلیزم تھی۔ آپ اگر پیرس جائیں تو وہاں ایک پورا میوزیم محض جدید آرٹ کی تحریکوں کی پینٹنگز کے لیے مختص ہے۔ اسے میوزیم آف ماڈرن آرٹس کہتے ہیں اور یہ ایفل ٹاور اور دریائے سین کے کنارے پر ہے۔ اسکے علاوہ جدید آرٹ کے حوالے سے ایک اور میوزیم "اورسے میوزیم” ہے جہاں یورپ میں چودہویں سے سترویں صدی تک نشاطِ ثانیہ کی تحریک کے دوران جنم لینے والے جدید آرٹ کے نمونے موجود ہیں۔

    ان دونوں میوزیمز میں آپکو انیسویں کے سرئیلیزم کے نامور فنکاروں جیسے کہ سلوادور دالی, پابلو پِکاسو، اندرے بریطون وغیرہ کے فن پارے ملیں گے۔ سرئیلیزم دراصل انسانی تخیل اور انسان کے لاشعور میں بسے خیالات کو کینوس پر اُتارنے کا نام ہے۔ خواب میں ہم جو عجیب و غریب قسم کی تشبیہات دیکھتے ہیں اسے کیسے لاشعور سے شعور میں لایا جائے اور دکھایا جائے۔

    مثال کے طور پر دالی کی مشہور پینٹنگ "Persistence of Memory” یا "یاداشت کی استقامت” میں گھڑیوں کو پگھلتا دکھایا گیا جس سے لوگوں نے سمجھا کہ یہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی نمائندگی ہے جس میں وقت کا بہاؤ تبدیل ہوتا ہے مگر دالی صاحب نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ پینٹنگ سورج میں پگھلتے پنیر سے متاثر ہو کر بنائی گئی۔ مگر اس میں وقت کا بہاؤ دراصل گھڑیوں کے پگھلنے کی صورت انسانی لاشعور سے شعور میں آیا۔

    بالکل ایسے ہیں ہماری خوش قسمتی کہ پاکستان کو ایک عظیم فنکار ملا جسکا نام تھا صادقین۔ صادقین کا کام بے حد خوبصورت ہے۔ لاہور میوزیم جائیں یا تربیلہ ڈیم یا سٹیٹ بینک کراچی وہاں آپکو صادقین کا کام چھتوں پر، پینٹینگز میں, لکڑی کے کام میں دکھے گا۔صادقین ایک بڑی حد تک پاکستان میں سرئیلزم تحریک کے پیشوا تھے مگر اُنکا کام اس میڈیم کے ذریعے آفاقی تصورات کو جس میں فلکیات، انسانی جستجو اور کائناتی رموز، اور لاشعور کے خیالات کو ایک شکل دینا تھی۔ انکے اس کام پر مبنی ایک کتاب ہے : Sadquine: The” Holy Sinner ” جسکا ٹائٹل جرمنی کے نوبل انعام یافتہ مصنف تھامس مان کے اسی نام کے ناول سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اّنکے سرئیلیزم آرٹ جس میں کچھ کام اُنہوں نے غالب اور اقبال کی شعروں سے متاثر ہو کر کیا، موجود ہے۔

    زیرِ نظر تصویر میں صادقین کے اس کام کی دو جھلکیاں ایک علم کی جستجو کے حوالے سے اور دوسری افلاک اور انسان کے موضوع پر۔

    صادقین نے برصغیر کے آرٹ میں میں حروفیہ تحریک کا آغاز کیا جس میں عربی خطاطی کو ایک نئے روپ سے پیش کیا گیا۔ برِ صغیر میں اگر آرٹ میں اصل سوچ رکھنے والوں کا نام لیا جائے تو صادقین بلاشبہ سرِ فہرست ہونگے۔

    صادقین (1923 تا 1987)

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کاش ہمارے سکولوں میں کوئی ڈھنگ سے سائنس سکھاتا تو آج ہر ایرا غیرا نتھو خیرا منہ اُٹھا کر یہ نہ کہتا پھرتا کہ دیکھیں جی: "سینس” کی تھیوری اور فیکٹ میں فرق ہوتا ہے۔ تھیوری جب "پاروو” ہو جاتی ہے تو "سینس” کا فیکٹ یا لا بن جاتی ہے ورنہ صرف تھیوری جسکی کوئی اہمیت نہیں۔

    نجانے کس نے یہ بات اس قوم کے ذہن میں ڈال دی یے جو نکلتے نہیں نکلتی۔

    لیجیئے پھر سے پڑھ لیجئے کہ سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے۔ سمجھ نہ آئے تو کسی بچے کو پڑھائیں، وہ سمجھ جائے گا پھر وہ آپکو بھی سمجھا دے گا۔

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔

    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔

    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔

    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔

    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔

    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔

    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سوال ہمارے , جواب کائنات کے !!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بگ بینگ کوئی دھماکہ نہیں تھا کہ کسی نے پریشرککر میں بارود ڈال کر اُڑا دیا ہو بلکہ آج ہم سائنس میں جسے بگ بینگ کہتے ہیں یہ دراصل آج سے 13.8 ارب سال پہلے کا وہ واقعہ ہے جب کائنات وجود میں آئی اور تیزی سے ایک نقطے سے پھیلنے لگی۔ وقت اور خلا جسے سائنس میں سپیس ٹائم کہا جاتا ہے یہ بھی تب ہی وجود میں آئے۔ چونکہ وقت کی ابتدا بگ بینگ سے ہوتی ہے لہذاٰ یہ سوال کچھ عجیب ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یعنی وقت سے پہلے کیا تھا؟ ہمارا ذہن یہ سوال سمجھ نہیں پاتا۔

    اس بارے میں کئی سائنسی مفروضے ہیں(یاد رکھیں سائنس میں مفروضے اور تھیوری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مفروضے ثابت نہیں ہوئے ہوتے جبکے تھیوری کئی تجربات و مشاہدات سے ثابت شدہ ہوتی ہے)۔مثال کے طور پر ایک مفروضہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے وقت ہماری کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں بنی ہونگی جنہیں ہم ملٹی ورس کہتے ہیں۔ اور ممکن ہے وہاں فزکس کے قوانین ہماری کائنات سے مختلف ہوں۔۔یا یہ کہ بگ بینگ کسی پچھلی کائنات میں بلیک ہول ہو جو ہماری کائنات کا بیچ ہو یا شاید ہم کسی بلیک ہول میں رہنتے ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ فی الحال سائنسی مفروضے ہیں انکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کائنات میں شاید کسی پچھلی کائنات کی کوئی نشانیاں موجود ہوں جنہیں ہم مستقبل میں ڈھونڈ سکیں مگر فی الوقت سائنس اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جو بات سائنس حتمی طور پر کہہ سکتی ہے وہ یہ کہ کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ہوئی اور آج بھی کائنات پھیل رہی ہے۔ پھیلنے کو یوں سمجھیں کہ کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یعنی انکے بیچ میں موجود خلا مزید پھیل رہا ہے۔ جیمز ویب ٹیکیسکوپ بگ بینگ کے 10 کروڑ سال بعد کی کائنات دیکھ سکتی یے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں ہبل ٹیلی سکوپ بگ بینگ کے 40 کروڑ سال بعد کی کہکشائیں دکھا سکتی تھی۔

    مستقبل میں شاید ہم جیمز ویب سے کوئی ایسا کائناتی مشاہدہ کر سکیں جس سے ہمیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ ڈارک میٹر/انرجی چونکہ نظر نہیں آتے اور نہ ہی یہ عام مادے سے کوئی تال میل رکھتے ہے اسی لیے انہیں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہم انکا محض گریوٹیشنل اثر جانتے ہیں جو کائنات کے پھیلاؤ اور کہکشاؤں کی غیر معمولی گردش کو بیان کرتا ہے۔

    مگر 1971 میں سٹیفن ہاکنگ نے یہ خیال پیش کیا کہ ممکن ہے بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات میں بہت سا مادہ بلیک ہولز میں تبدیل ہو گیا ہو اور کائنات میں کئی بلیک ہولز چھپے ہوئے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ نہیں سکے۔ یہ ایک متنازع خیال ہے کیونکہ آج کے مشاہدوں میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بلیک ہول دراصل سورج سے کئی گنا ماس میں بڑے ستاروں کے انجام پر بنتے ہیں۔

    اسی طرح جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے ہم کئی اور نئے مشاہدے کر سکیں گے۔ ممکن ہے ہم دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے کئی سیاروں کی فضاؤں سے آنے والی مدہم سی روشنی کو اسکے حساس آلات سے پڑھ سکیں اور اس روشنی میں اُن گیسوں کے آثار ڈھونڈ سکیں جو کوئی ذہین مخلوق ہی بنا سکتی ہو مثال کہ طور پر صنعتی گیسز جو قدرت میں نہیں پائی جاتیں اور صرف انسان بنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ جان پائیں کی کائنات میں ہم اکیلے نہیں۔ زندگی ہم سے اربوں سال دور کسی اور زمین نما سیاروں پر موجود ہو۔

    یاد رکھیں کائنات انہی کو جواب دیتی ہے جو سوال کرتے ہیں۔ وہ جو یہ سوچ کے بیٹھے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے، اندھیرے میں ہیں۔

  • پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلوٹو کے چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ نے اکثر یہ محاورا سنا ہو گا کہ "کامیابی نے اُسکی زندگی میں چار چاند لگا دئے” جسکا مطلب کسی شخص یا شے کی عزت بڑھنا، خوبصورتی میں اضافہ ہونا وغیرہ وغیرہ ہے۔

    تو یہ محاورا حقیقتا نظامِ شمسی کے بونے سیارے پلوٹو پر صادق آتا ہے۔ 1930 میں دریافت ہونے والا سیارہ پلوٹو 2006 تک نظامِ شمسی کا نواں سیارہ کہلااتا تھا ۔ مگر پھر سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ "سیارے” کی شرائط پر پورا نہیں اُترتا لہذا اب اسے محض "بونا سیارہ” کہا جاتا ہے۔

    گو پلوٹو اب نواں سیارہ نہیں ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پلوٹو بے حد خوبصورت سیارہ ہے۔ سورج سے تقریبا 3.7 ارب کلومیٹر دور یہ ننھا سا سیارہ ایک سرد مگر پراسرار دنیا ہے۔

    پلوٹو کی خوبصورتی کو چار چاند لگے ہوئے ہیں بلکہ پانچ چاند!!

    جی ہاں اب تک پلوٹو کے پانچ چاند دریافت ہو چکے ہیں جو تابعدار بچوں کی طرح پلوٹو کاکہا مانتے ہیں اور اسکے گرد گھومتے ہیں۔

    پلوٹو کا سب سے بڑا چاند ہے Charon ہے یہ پلوٹو سے سائز میں آدھا ہے اور اسے 1978 میں دریافت کیا گیا۔

    اسی طرح 2005 میں ہبل ٹیلی سکوپ نے پلوٹو کے دو ننھے چاند دریافت کیے جنکو سائنس دانوں نے نام دیے Nix اور Hydra.

    پھر 2011 میں ایک اور چھوٹا چاند Kerberos دریافت ہو جو Hydra اور Nix کے درمیان کہیں موجود تھا۔

    پلوٹو کا پانچواں چاند Styx دریافت ہوا 2015 میں جب ناسا کے سائنسدانوں یہ ڈھونڈ رہے تھے کہ پلوٹو کی طرف رواںNew Horizon نامی سپیس کرافٹ جب اسکے قریب سے گزرے گا تو کہیں کسی بڑی شے سے ٹکرا تو نہیں جائےگی۔ یہ پتہ کرتے اُنہیں حادثاتی طور پر پلوٹو کا پانچواں چاند دکھائی دیا۔

    یوں اب تک پلوٹو کے دریافت ہونے والے چاند کل پانچ ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ پلوٹو کے یہ چاند بھی دراصل ماضی بعید میں پلوٹو سے کسی سیارے یا سیارچے کے ٹکراؤ کے نتیجے میں بنے بالکل ویسے ہی جیسے آج سے 4.5 ارب سال پہلے نئی بنی زمین سے مریخ جتنا بڑا کوئی سیارہ ٹکرایا جس سے ہمارا چاند وجود میں آیا۔

  • سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس صرف علم ہی نہیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنس محض علم نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے۔ یہ سوچنے کا وہ انداز ہے جو آپ کو چیزوں کی حقیقت کی طرف لیکر جاتا ہے۔ کائنات کیسی ہے؟ کائنات کے اُصول کیا ہیں ؟ زندگی کیا ہے؟ زندگی کے اُصول کیا ہیں؟ یہ سب ہمیں سائنسی طرزِ فکر سے سمجھ میں آتے ہیں۔
    سائنس کی بنیاد حقائق اور منطق پر استوار ہے۔ سائنس میں محض تجربات اور مشاہدات سے سب نتائج اخذ نہیں ہوتے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ریاضی کے اُصول اور ماڈلز بھی استعمال ہوتے ہیں؟ کیا ہم ستاروں پر تھرمامیٹر لے جا کر یا فیتے لے جا کر اُنکا درجہ حرارت یا فاصلہ ماپ سکتے ہیں؟ نہیں۔

    تو پھر ہم کیسے اِنکا فاصلہ یا درجہ حرارت جان پاتے ہیں؟

    کیونکہ ہم جانتے ہیں زمین پر کسی گرم شے سے نکلنے والی روشنی کے رنگ اُسکے درجہ حرارت سے منسلک ہیں۔ لوہا سخت گرم ہو تو دہکتے ہوئے انگارے کا رنگ دیتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی گرم شے سے ایک خاص رنگ کی روشنی تب ہی پیدا ہوتی ہے جب وہ ایک خاص درجہ حرارت تک پہنچ جائے۔ تو کیا دور ستاروں سے آنے والی روشنی کے رنگوں کو جان کر ہم نہیں بتا سکتے کہ وہاں درجہ حرارت کیا ہو گا؟

    ایسے ہی جب ہم اپنی دائیں آنکھ بند کر بائیں آنکھ سے سامنے پڑی کسی شے کو دیکھتے ہیں اور پھر یہی عمل بائیں آنکھ بند کر کے دائیں آنکھ سے دہراتے ہیں تو دونوں دفعہ سامنے رکھی شے کی پوزیشن تبدیل ہو جاتی ہے۔ اب اس پوزیشن کے فرق سے ٹریگنومیٹری کے سادہ اُصولوں سے سامنے پڑی شے کا فاصلہ اسے بنا چھوئے ہی بتا سکتے ہیں۔ اسے Parallax کہتے ہیں۔ تو کیا عقل استعمال کرتے ہوئے اسی طریقے سے ہم سے ہزاروں نوری سال دور کے ستاروں کا فاصلہ معلوم نہیں کیا جا سکتا یا ہمیں خود چل کر وہاں جانا ہو گا؟
    دراصل یہ وہ سائنسی طریقے ہیں جو سائنسی سوچ سے آتے ہیں کہ کیسے کسی مسئلے کا حل نکالنا ہے جو بالکل صحیح ہو۔

    ایسے ہی ماضی میں زمین پر یا نظامِ شمسی میں یا کائنات میں کیا ہوا تھا۔ یہ جب سائنس بتاتی ہے تو جنکو سائنس کی سمجھ نہیں وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ "کیا آپ وہاں خود کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے؟” کیونکہ اّنکو دراصل علم نہیں یا اُنکا محدود علم اس بات کا احاطہ نہیں کر سکتا کہ ماضی سے ملے فوسلز، پتھروں، شواہد اور طبیعیات، حیاتیات اور کیمیا کی تھیوریز پر بنے کمپیوٹر ماڈلز ہمیں ڈیٹا کی مدد سے ماضی میں لے جا سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہوا۔ کیا کسی کُھدائی کے دوران دریافت ہونے والے شہر کے آثار سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں شہر آباد تھا؟ کیا ہمیں خود ٹائم مشین لے جا کر وہاں جانا ہو گا اور تصاویر کھینچنی ہونگی کہ جی وہاں شہر تھا۔ نہیں!! یہاں بھی وہی اُصول استعمال ہونگے۔ کامن سینس اور منطق۔۔

    لہذا یہ نہایت ضروری ہے کہ کسی سائنسی دریافت یا ایجاد کو رد کرنے یا اس پر سوال کرنے سے پہلے آپ یہ اچھی طرح دیکھ لیں کہ آیا آپکو سائنسی طریقہ کار کا علم ہے یا نہیں۔

    اگر نہیں تو آپ سوال کر کے پوچھ سکتے ہیں مگر یہ کہہ کر رد کر دینا کہ آپکا محدود علم اسکا احاطہ نہیں کر پا رہا ، علمی بددیانتی اور آپکے علم سیکھنے کی راہ میں رکاوٹ ہو گی۔

    لہذا سائنس سیکھیں اور ساتھ ساتھ سائنسی طرزِ فکر بھی کیونکہ ایک کے بغیر دوسری نا مکمل ہے۔

  • خیال کی "شپیڈ”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خیال کی "شپیڈ”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپکی شادی کی ویڈیو بنی ہے جس میں آپ ایک کسی ہوئی شیروانی اور کُلے میں پھنسے کیمرے کو دانت دکھا رہے ہیں۔

    کھانا شروع ہوتا ہے تو اپکا کوئی رشتہ دار بوٹیوں پر ٹوٹتا ہے۔ کیمرے اس متوقع حملے کو اپنی میموری میں محفوظ کر لیتا ہے۔ دودھ پلائی کی رسم میں آپکی مونچھوں پر دودھ کی ایک لکیر لگی ہے اور کیمرا اسے بھی محفوظ کرتا ہے۔

    تین چار سال بعد آپ اس فلم کو اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے پلئیر پر چلاتے ہیں تو کیا آپ روشنی کی رفتار سے بھی تیز جا کر اپنی شادی کے سانحے تک پہنچ گئے ہیں؟ نہیں ناں۔ وجہ یہ کہ آپ ایک محفوظ شدہ شے کو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک سے نکال کر دیکھ رہے ہیں۔

    ایسے ہی آپکے دماغ میں بھی کئی خیالات اور میموریز روز بنتی ہیں۔ آپ سورج کو خیال میں تصور کر لیتے ہیں تو کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ آپکے خیال کی "شپیڈ” روشںی کی رفتار سے زیادہ ہے؟ نہیں کیونکہ آپ اپنی میموری میں سے ایک چیز کو ویسے ہی نکال کر تصور کر رہے ہوتے ہیں جیسے شادی کے سانحے کی فلم کو کمپیوٹر پر۔

    کیا خیال کی "شپیڈ” روشنی کی رفتار سے تیز ہو سکتی ہے؟

    اس سے پہلے دو چیزیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اول کائنات میں کسی بھی انفارمیشن کی تیز سے تیز رفتار روشنی کی رفتار ہے۔ یہ کائنات کی حد رفتار ہے اس سے زیادہ رفتار پر کوئی انفارمیشن نہ بھیجی جا سکتی ہے اور نہ ہی موصول کی جا سکتی ہے۔

    دوم: انسانی دماغ نیورانز کا مرکب ہے۔ نیورانز دماغی خلیے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے برقی اور کیمیائی سگنلز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ برقی اور کیمیائی سگنلز دراصل چارچڈ پارٹیکلز جیسے کہ آئیز سے بنتے ہیں۔ اور سائنس یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی مادہ یا مادی ذرات روشنی کی رفتار یا اس سے زیادہ پر سفر نہیں کر سکتے۔

    اب جب آپکو یہ دونوں باتیں سمجھ آ گئی ہیں تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ خیال کی "شپیڈ” روشنی کی رفتار یا اس سے تیز نہیں ہو سکتی۔ مگر خیال کی کتنی سپیڈ ہو گی؟ اسکا جواب اتنا سادہ نہیں کیونکہ یہ دماغ میں نیورانز کے کمیونکیشن پر منحصر ہے۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خیال کی سپیڈ چند ملی سیکنڈ تک ہو سکتی ہے۔