Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر حفیظ الحسن

  • انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کئی کروڑ سال پہلے جب انسان تھے ہی نہیں اور زمین پر جراسک ایرا یعنی ڈائنوسارز کا دور تھا تو میکسکو کے قریب ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی بڑا شہابیہ ٹکرایا۔ اس شہابیے کے گرنے سے کئی برس زمین پر تک گرد و غبار، راکھ کے بادل چھائے رہے۔ زمین ایک طویل سرد دور میں چلی گئی۔ زمین پر جانوروں کے لیے خوراک کی قلت ہو گئی اور ایسے جانور جو زیادہ خوراک استعمال کرتے جیسے کہ ڈائناسورز ، اُنکے لیے زندگی مشکل ہو گئی۔ اگلے کچھ عرصے میں نہ صرف ڈایناسورز بلکہ زمین پر موجود انواع کے تین چوتھائی معدوم ہو گئی۔

    اس تباہی کو جاننے اور خلا کی تسخیر اور وسائل کی دستیابی کے بعد انسان کا اگلا قدم یقیناً زمین کو کسی ممکنہ سیارچے کے ٹکراؤ سے بچانا تھا؟ مگر کیسے؟ ہم کس طرح ایک سیارچے کو زمین کی طرف آنے سے روک سکتے ہیں؟

    اس کے لئے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سیارچے ہوتے کیا ہیں؟ اور یہ کس طرح کے مدار میں چکر کاٹتے ہیں اور انکا مدار کسیے تبدیل ہوتا ہے؟

    سیارچے دراصل ماضی کے کسی سیارے کی باقیات ، کوئی ایسا سیارہ جو بننے میں ناکام ہو گیا ہو یا نظامِ شمسی کے وجود میں آنے کے بعد کئی چھوٹی بڑی خلائی چٹانیں جو گریویٹی کے باعث ایک جگہ اکٹھی ہو گئی ہوں وغیرہ وغیرہ سے بنتا ہے۔نظامِ شمسی میں کئی سیارچے موجود ہیں۔مگر یہ زیادہ تر مشتری اور مریخ کے درمیان ایک علاقے میں ہیں جسے ایسٹرآیڈ بلٹ کہا جاتا ہے۔
    ان میں سے کئی سیارچے یا چھوٹے شہابیے ہر روز زمین کیطرف آتے ہیں۔ مگر تیزی سے آتے ہوئے جب یہ زمین کی اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں تو رگڑ کھانے سے چھوٹے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور یوں زمین کسی تباہی سے محفوظ رہتی ہے۔

    مگر کبھی کبھی یہ شہابیے بے حد بڑے ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی سیارچہ جو زمین کیطرف آئے اور بہت بڑا ہو تو زمین کی فضا میں رگڑ کھا کر بھی اسکا بڑا حصہ زمین پر تباہی مچا سکتا ہے اور ایسا ہی کروڑوں سال پہلے ڈائناسورز کے دور میں ہوا۔

    لہذا اب ناسا کے سائنسدانوں نے ایسے ہی کسی ممکنا سیارچے کو زمین پر تباہی سے بچانے کے لیے پچھلے سال نومبر میں ڈارٹ نامی خلائی مشن بھیجا جسکا مقصد مشتری اور مریخ کے بیچ ایک سیارچے دیدموس کے گرد گھومتے اسکے چھوٹے سے چاند کا محور تبدیل کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہو جو کسی سیارچے کو یہ پر گرنے کی بجائے اس سے دور کر دے۔

    اس سلسلے میں 26 ستمبر کو اس سیارچے کیطرف بھیجے گیا سپیس کرافٹ 6.6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سیارچے دیدیموس کے چاند ڈیمورفوس سے ٹکرایا۔

    اس سپیس کرافٹ کے ٹکراؤ کے بعد خلا اور زمین پر موجود ٹیلی سکوپس کی مدد سے دیکھا گیا کہ سیارچے کے گرد گھومتے چاند کے مدار میں کس رفتار سے کمی واقع ہوئی ہے۔پہلے یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور
    55 منٹ میں ایک چکر مکمل کرتا تھا۔

    ٹکراؤ سے پہلے ناسا کا خیال تھا کہ سیارچے کے مدار کی رفتار میں 73 سیکنڈ کا فرق ائے گا مگر بعد کے مشاہدات سے معلوم ہوا کہ اسکی رفتار میں 32 منٹ کی کمی آئی ہے جو یقیناً ممکنہ نتائج سے بڑھ کر ہے۔ گویا اب یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور 23 منٹ میں ایک چکر لگاتا ہے۔اس پیمائش میں 2 منٹ کی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

    اس مشن سے یہ ثابت ہوا کہ مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجی سے سیارچوں سے سپیس کرافٹ ٹکرا کر انکے مدار کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جو ممکنا طور پر آنے والے وقتوں میں کسی بڑے سیارچے سے ٹکرا کر اسکا مدار اس حد تک تبدیل کر دے کہ وہ زمین سے ٹکرانے کی بجائے اسکے پاس سے گزر جائے اور زمین محفوظ رہے۔

    یقیناً یہ مشن انسانیت کی اور سائنس کی جیت ہے قدرتی آفات سے لڑنے کی۔اور اس مشن پر کام کرنے والے سائنسدن اور انجنیئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

    نوٹ: مشن سے پہلے یا مشن کے بعد دیدیموس اور ڈیمورفوس دونوں کا دور دور تک زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں تھا یا ہے۔ یہ مشن محض ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔

  • علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اس کائنات میں کھربوں کھربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہیں۔ چونکہ ستارے ہم سے بہت دور ہوتے ہیں یعنی نوری سالوں کے فاصلے پر اس لئے ہمیں یہ بے حد چھوٹے اور صرف رات کے وقت آسمان پر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی خلا میں ایک سال میں طے کرے۔ روشنی کی رفتار خلا میں تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ کس قدر تیز رفتار یے اسکا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے قریب 7.5 چکر لگا سکتی ہے۔ تو گویا ایک نوری سال ایک بہت بڑا فاصلہ ہوا جو روشنی ایک سال میں طے کرے۔ کتنا؟ تقریباً 95 کھرب کلومیٹر۔

    ہماری زمین کے سب سے قریب ستارہ سورج ہے جو زمین سے اوسطاً سال میں 15 کروڑ کلومیٹر دور ہوتا ہے اور سورج سے زمین تک روشنی کو پہنچنے میں تقریباً 8 منث لگتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق پوری زمین پر انسانی آنکھ سے دیکھے جا سکتے ستاروں کی کل تعداد محض 5 ہزار کے قریب ہے مگر ان میں سے بھی آپ صرف آدھے دیکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ زمین کے ایک حصے پر رہتے ہیں۔

    سورج کے بعد زمین سے سب سے قریبی ستارہ Proxima Centauri. ہے جو زمین سے تقریبآ 4.3 نوری سال دور ہے۔ اس ستارے کیساتھ دو اور ستارے Alpha Centuari AB ایک دوسرے کے گرد مزے سے گھوم رہے ہیں۔ اس تین ستاروں کے سسٹم کے بعد زمین سے تیسرا قریبی ستارہ Barnanrd’s Star ہے جو کہ تقریباً 6 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

    زمین سے دکھنے والا سب سے روشن ستارہ Sirius ہے۔ یہ سورج سے ماس میں تقریباً 25 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین سے سے 8.7 نوری سال دور ہے۔

    اب یہ سب جاننے کے بعد آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ شبنم کی منگنی ندیم سے کیا Proxima Centuri نے تڑوائی یا کسی کی خالہ زاد سلمی اُس سے اس لئے ناراض ہوئی کہ Barnard صاحب کو سلمی ایک آنکھ نہ بھائی۔

    یا پھر صبح صبح پھجے کے پائے اور دو گلاس لسی پینے کے بعد پیٹ کے درد کا الزام بے چارے کھربوں کلومیٹر دور Sirius پر لگانا کہاں کا انصاف ہے؟

    علمِ نجوم دراصل کوئی علم نہیں ۔۔سوائے سورج کے باقی کسی ستارے کا ہماری زندگی پر کوئی بلواسطہ یا بلاواسطہ اثر نہیں۔ اگر پھر بھی آپ بضد ہیں کہ یہ ساری کارستانی ستاروں کی ہے تو پاکستان کے کسی مشہور علمِ نجوم کے "ماہر” سے اچھے سے پیپر پر زائچہ بنوا کر مجھے یہاں پیرس ارسال کر دیجیے، اس پر پکوڑے رکھ کر کھانے کا بے حد مزا آئے گا۔

  • سائنسی طرزِ فکر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی طرزِ فکر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی طرزِ فکر اپنائے بغیر سائنس نہیں سیکھی جا سکتی۔ سائنسی طرزِ فکر حقیقت پسندی کا نام ہے۔ ایک ان پڑھ بھی اگر حقیقت پسند ہو تو وہ ایک پی ایچ ڈی سے بہتر سائنس سیکھ سکتا ہے۔ حقیقت پسندی تب آتی ہے جب ہم کھوکھلے نعروں، فرسودہ علوم اور جذباتیت سے نکل کر وہ علم سیکھنے کی کوشش کریں جو جدید دنیا سیکھ رہی ہے۔

    ہمیں اس خوش فہمی سے نکلنا ہو گا کہ کوئی دن رات ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے کہ ہمیں ناکام کرے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دنیا کیوں ہم سے ہر دوڑ میں آگے جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔ اور کیا پرانی روایات، پرانے خیالات اور پرانے علوم ہمیں جدید دنیا میں آگے لے جا سکتے ہیں؟

    کیا کھوکھلے نعرے لگانے والے ، رال ٹپکاتے، منہ سے جھاگ نکالتے اور عقل و خرد سے عاری داستانیں سنانے والے ہمیں کسی منزل تک پہنچا سکتے ہیں اور کیا انکی تقلید کرکے ہم قومی خود مختاری اور معاشی و معاشرتی ترقی کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا جبکہ پورے ملک میں ان سب کی بہتات ہے۔ گلی گلی، قریہ قریہ، محلے محلے، چینل چینل، سوشل میڈیا سوشل میڈیا انکی بہتات ہے۔ یہ لوگ دولو شاہ کے چوہے تو بنا سکتے ہیں جو بڑی بڑی ڈگریاں اور بڑے بڑے عہدے لیکر بھی رہتے تو اکسیویں صدی میں ہیں مگر انکے دماغ کئی صدیاں پیچھے رہ رہے ہیں۔ غریب تو خیر روٹی کپڑے سے نکل کر جدید تعلیم کیا محض تعلیم ہی نہیں سیکھ سکتے، مڈل کلاس فرسودہ علوم پر استوار تعلیمی نظام اور مساوی نظامِ تعلیم میں پھنسے اور اسکے ڈسے ہیں اور اشرافیہ غریبوں اور مڈل کلاس کی جہالت کا فائدہ اُٹھاتی خود پست ذہنیت کی ہو چکی ہے۔

    پاکستان میں اس وقت تقریباً دو سو کے قریب یونیورسٹیاں ہیں جن میں سے اکثر پچھلے تیس سالوں میں بنی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں بیٹھی اکادیمیہ جن میں پروفیسر حضرات شامل ہیں کن جدید علوم اور کس سائنسی فکر سے طلباء کو پڑھاتے ہیں؟ یونیورسٹیوں میں میریٹ پر کون بیٹھا ہے؟ تحقیق کے نام پر فنڈنگ سے کونسے مقامی مسائل کا حل نکل رہا ہے؟ مقامی صنعتوں اور یونیورسٹیوں کا اشتراک جو جدید دنیا میں ترقی کا پیش خیمہ ہے وہ کہاں ہے؟

    1964 میں حکومت کی ایک پوری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بنی تھی، اس وزارت کا کام ہر سال چاند کی رویت کے لیے بندے مار ٹیلی سکوپس حبیب بینک کراچی کی چھت یا سینٹارس پر کیے گئے رویت کے اجلاسوں میں چاند کو نکلوانے یا چھپوانے کے اور کیا ہے؟

    ایسے معاشرے میں سائنس سکھانے سے پہلے کیا یہ ضروری نہیں کہ سائنسی طرزِ فکر سکھائی جائے۔ مچھلی پکڑا کر کھلانے سے کیا بہتر نہیں کہ مچھلی پکڑنا سکھائی جائے؟ چلیں اس پر ملکر سوچتے ہیں۔

  • آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جسے عام فہم میں آسمان کہتے ہیں دراصل یہ خلا کا وہ حصہ ہے جو زمین سے ہم دیکھتے ہیں۔ زمین بھی کائنات کے باقی تمام ستاروں, کہکشاؤں وغیرہ کی طرح خلا میں ہے۔

    قدیم تہذیبوں جیسے کہ بابل و نینوا میں سات آسمانوں کا تصور زمین سے دکھنے والے سات اجرامِ فلکی سورج، چاند، عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کی وجہ سے بنا۔ اور ہر ایک سے ایک آسمان منسلک کر دیا گیا۔ بعد میں یہ تصور دیگر تہذیبوں میں آیا ۔ یہ تصور اتنا مستقل ہے کہ آج بھی ہم نے ہفتے کے دنوں کے نام انہی سات اجرام کی مناسبت سے رکھے ہوئے ہیں۔ مگر اسکا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔

    زمین گو کہ خلا میں ہے مگراس کی اپنی فضا ہے جو مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔ ان کا تناسب فضا میں کچھ یوں ہے۔ نائٹروجن 78 فیصد ، آکسیجن 21 فیصد جبکہ دیگر کئی گیسیز اور بخارات کل ملا کر 1 فیصد ۔ دن کے وقت یہ ہمیں فضا نیلی کیوں دکھائی دیتی ہے جبکہ رات میں کالی یا تاریک ۔

    غیر سائنسی الفاظ میں سمجھایا جائے تو سورج کی روشنی میں ہر طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ہم جب قوسِ قزح دیکھتے ہیں تو ہمیں سات رنگ نظر آتے ہیں۔ روشنی دراصل برقناطیسی لہروں کی صورت میں ہے۔ لہر کی ایک ویولینتھ ہوتی ہے۔ کسی مسلسل لہر میں کئی اُتار چڑھاؤ ہوتے ہیں۔ ایک لہر کے دو قریبی اُتار یا قریبی چڑھاؤکے بیچ کے فاصلے کو ویوولینتھ کہتے ہیں۔ روشنی کے مخلتف رنگ دراصل اس لئے ہوتے ہیں کہ ہر رنگ کی ویوولینتھ مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سرخ رنگ کی ویوولینتھ زیادہ ہے بنسبت نیلے رنگ کے۔ یعنی سرخ روشنی کی لہروں کے دو قریبی اُتار میں فاصلہ زیادہ ہو گا بنسبت نیلے رنگ کی روشنی کے دو قریبی اُتار کے۔

    سورج کی سفید روشنی جب ہماری زمین کی فضا سے ٹکراتی ہے تو ہماری فضا میں موجود گیس کے مالیکول مختلف ویویلنتھ کی روشنی کو مختلف طرح سے بکھیرتے ہیں۔

    زیادہ ویویولینتھ کی روشنی کم بکھرے گی جبکہ کم ویویلنتھ کی روشنی زیادہ۔

    یعنی سرخ روشنی کم بکھرے گی اور نیلی روشنی زیادہ بکھرے گی۔ نیلی روشنی کے زیادہ بکھرنے سے فضا دن کے وقت ہمیں نیلی نظر آتی ہے۔

    غروبِ آفتاب کے وقت البتہ آسمان سرخ یا نارنجی دکھائی دیتا ہے جسکی وجہ یہ کہ اُفق سے نیچے سورج کی روشنی کو زیادہ فضا سے گزرنا پڑتا ہے بنسبت دن کے وقت۔
    سو نیلی روشنی جو پہلے ہی زیادہ بکھرتی ہے، اب اور بکھر کر نظر نہیں آتی جبکہ سرخ روشنی کم بکھرتی ہے سو نیلی روشنی کی عدم موجودگی میں زیادہ واضح نظر آتی ہے۔

    روشنی کے اس طرح سے بکھرنے کے عمل کو Rayleigh Scattering کہا جاتا ہے۔جسکے بارے میں 1871 میں برطانوی سائنسدان Lord Rayleigh نے بتایا کہ کیسے روشنی کی ویویلنتھ سے چھوٹے سائز کے ذرات روشنی کو مختلف زاویوں پر بکھیرتے ہیں۔

    تو اب اگر آپکا بچہ آپ سے پوچھے کہ آسمان نیلا کیوں ہے
    تو پہلے اُسکی آسمان کی غلط فہمی دور کیجئے گا اور پھر یہ بتائیے گا کہ فضا دن کو نیلی کیوں دکھتی ہے.

  • اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اصل سوچ کا فقدان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوم ورک ملتا۔ سلیبس کی کتاب سے پیج نمبر 3 سے پیج نمبر 222 تک جو لکھا ہے اُسے نئی کاپی پر نقل کرنا ہے۔ فلاں چیپٹر کو دوبارہ سے دوبارہ چھاپنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ گرمیوں کے کام کی کاپیوں پر محنت "اُنکی جِلد” اور ظاہری خوش خطی پر موقوف تھی۔ علم سیکھنا کیا خاک تھا؟ لکھا ہوا چھاپنا اور بولا ہوا رٹنا۔

    آٹھویں جماعت میں سائنس انگریزی میں سیکھنی اور ستم ظریفی کہ انگریزی کا الگ سے مضمون ہونا جہاں پر گرامر رٹائی جاتی۔۔ایسے میں سائنس کیا خاک سیکھی جاتی جب سائنس کی زبان ہی اسی وقت سیکھی جا رہی ہوتی جب سائنس سیکھی جا رہی ہوتی۔ لہذا شارٹ کٹ محض رٹا یا گائڈز جس میں قدرے آسان انگریزی میں سائنسی موضوعات سمیٹے جاتے۔ پرچے میں یہی شارٹ کٹ لگا کر نمبر حاصل ہوتے۔ سکول سے لیکر یونیورسٹی تک سائنس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ ایسے میں جدید علوم کا حصول کیونکر ممکن ہے؟

    آپ کسی محفل میں چلے جائیں دو بزرگ حضرات آپس میں کونسے حکمت کے موتی پرو رہے ہونگے؟ مڈل کلاس طبقے کے بزرگوں کے پاس زندگی کے کیا تجربات ہونگے؟ نہ اُن بیچاروں نے دنیا دیکھی نہ کوئی جدید علوم پڑھے۔ بات کریں زندگی کے تجربات کی تو اُنکی زندگی تھی کب اور اّنکی دنیا تھی کتنی بڑی ؟ گھر سے کاروبار یا دفتر، وہاں سے واپس گھر۔۔۔ خاندانی مسائل میں گھرے مڈل کلاس اور نچلے طبقےکے بزرگ کونسے نئے زندگی کے تجربوں کا گیان دے سکتے ہیں؟

    اسی طرح پاکستان میں زیادہ تر امیر طبقہ ایک۔یا دو نسل قبل زمیندار تھا/ہے، ۔یا مقابلے کے امتحان میں رٹے والا یا فوج میں ترقی کرتے متوسط طبقے کے کسی فرد کی اولاد ہے جو گاؤں کی primitive سوچ سے نہیں نکل سکا۔۔انکی پرانی نسلوں کی غربت کے قصے ان میں لاشعوری طور پر کُھد چکے ہیں اور ایسا خوف ڈالے ہوئے ہیں کہ امیر ہو کر بھی انکی سوچ اپنے آباؤ اجداد جیسی غریب ہے۔ Financial insecurity کا منہ بولتا ثبوت اِنکی اوٹ پٹانگ حرکتیں ہیں جو انکے احساسِ کمتری کو نمایاں کرتی ہیں۔کبھی مارک زکر برگ کو دیکھا کہ گاڑی روکنے پر کہے: "تو مینوں جاندا نئیں”. کبھی ایلان مسک کا سنا کہ نشے میں دھت ہو کر کسی کو کچل دے وغیرہ وغیرہ۔

    شیر کے پاس پہلے سے طاقت ہوتی ہے کہ وہ جنگل کا بادشاہ ہے مگر ڈرنا تو بکری سے چاہئے کہ اگر اسکے پاس طاقت آجائے تو وہ اسکا ذمہ دارانہ استعمال کیسے کرے گی؟ سو یہ وہ عمومی مسائل اور رویے ہیں جن سے کم سے کم ہمارے بزرگ تو اب تک نہیں نکل سکے لہذا جب یہ رٹا ہوا جملہ سننے کو ملتا ہے کہ بزرگوں سے سیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔

    لہذا فی زمانہ مملکتِ خدادا کے نہ ہی بزرگ، نہ ہی اپر کلاس اور نہ ہی تعلیمی نظام ہمیں اصل سوچ کی طرف لا سکتا ہے۔ اصل سوچ کیسے آتی ہے؟ ایک اچھوتا خیال ، ایک اچھوتا آئیڈیا کیسے بنتا ہے؟ میرے نزدیک بچپن کی بہتر تعلیم سے اور اگر وہ میسر نہ ہو تو کم سے کم سوال کرنے کی عادت سے۔ تجسس سے، چیزوں کو گہرائی میں سوچنے سے، متابدل تعلیم کےذرائع سے وغیرہ وغیرہ ۔

    بدقسمتتی سے ہمارے ہاں ان مثبت رویوں کا فقدان ہے۔ پچھلے ستر سال کی دھول ہم ابھی تک چاٹ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے ذہنوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور سوچ منجمد ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں کم سے کم آنے والی نسلوں کے لیے کچھ کرنا ہے۔۔اگر آپکے پاس جدید علم نہیں تو اپنے بچوں کی خاطر اسے سیکھیے یا کم سے کم اسے جانیں ضرور تاکہ اپنے بچوں کو بتا سکیں۔ بچوں میں سکول کی تعلیم سے ہٹ کر دیگر ذرائع جیسے کہ انٹرنیٹ سے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ اور سب سے بہتر یہ کہ بچوں کو سوال کرنے سے، نئے تجربات کرنےسے مت روکیے۔ آپکو جواب نہیں آتا، مجھ سے پوچھیں، انٹرنیٹ پر خود ڈھونڈیں یا بچوں کو کہیں کہ سوال اچھا ہے، جواب ملکر ڈھونڈتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر کسی بچے کے تجسس کوغلط جواب یا یہ کہہ کر مت ختم کیجئے کہ سوال کرنا غلط ہے۔

    اصل سوچ کا حصول معاشرے میں جدید تعلیم اور مثبت رویوں کے رجحان سے ہی ممکن ہے ورنہ رٹے زدہ، موکلد اور دولو شاہ کے چوہے ہی پیدا ہوتے رہیں گے حقیقی معنوں میں عقل کی معراج کوچھوتے انسان نہیں۔

  • مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آئن سٹائن کی یہ ایکوئیشن دراصل یہ بتاتی ہے کہ مادہ اور توانائی ایک ہی شے کے دو نام ہیں اور مادے میں کتنی توانائی ہوتی یے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس ایکویشن کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مادی وجود روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ توانائی میں تبدیل ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہر گز نہیں۔ اول تو کوئی مادی شے روشنی کی رفتار سے سفر کر نہیں سکتی اور دوم یہ کہ یہ کسی شے کی رفتار میں اضافہ تبھی ہوتا ہے جب اُس میں مزید حرکتی توانائی ڈالی جائے۔ روشنی کی رفتار کے قریب دراصل آپکا اصل ماس نہیں بڑھتا بلکہ وہ اضافی توانائی جو آپ نے اسکی حرکت میں ڈالی ہے وہ اس سسٹم میں داخل ہوتی ہے۔

    E=mc^2 دراصل E=γmc^2

    ہے جس میں اضافی ٹرم γ یہ بتاتی ہے کہ کوئی شے اگر کسی رفتار سے حرکت کرے کی تو اُسکی مکمل توانائی میں کیا فرق پڑے گا۔

    γ =1/sqrt(1-(v/c)^2)

    مگر رکیے γ دراصل تناسب ہے کسی مادہ کے حرکت میں توانائی کے /اُسکی بغیر حرکت کی توانائی کے۔

    خیر آپ پیچیدہ ایکویشنز سے مت گھبرائیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ E=mc^2 دراصل اُس مادے پر لاگو ہوتی ہے جو حرکت میں نہ ہو یعنی اسکی رفتار صفر ہو جس سے γ کی ویلیو 1 ہو جائی گی تو ایکویشن وہی ہو گی جو آپ بچپن سے دیکھتے سنتے آئے ہیں۔ مکمل تصویر کچھ پیچیدہ ہے جس میں E= (pc) ^2 +(mc)^2 ہے جو اُن مادی اجسام اور فوٹانز دونوں کے لیے ہے جو روشنی کی رفتار یا اس سے کم پر سفر کرتے ہیں کہ اس میں اشیا کے ماس کے بغیر اشیا جیسے کہ فوٹانز کا مومنٹم شامل ہوتا ہے۔

    مگر فی الحال اسے رہنے دیں۔ اس کنفیوژن سے نکلیں کہ روشنی کی رفتار پر ماس لامحدود ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔

    کاسمک ریز جو کہ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے آئنز ہوتے ہیں یا پھر نیوٹرینوز جو بے حد کم ماس کے حامل ہوتے ہیں روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہی سفر کرتے ہیں اور آئے روز خلا سے زمین پر آتے ہیں۔ اگر انکا ماس لامحدود ہوتا تو ایک ہی ہائیڈروجن آئن زمین تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتا۔ لہذا اُمید ہے آئندہ آپ یہ نہیں کہیں گے کہ روشنی کی رفتار سے حرکت پر کوئی شے توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے یا یہ کہ روشنی کی رفتار پر سفر سے کسی شے کا ماس لامحدود ہو جاتا۔

  • ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹچ والا موبائل” ہاتھ میں لیے ایک صاحب فیسبک پر چاند پر انسان کے جانے کو شبہہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ رات زمین سے کروڑوں میل دور ایک سیارچے پر ناسا کے سپیس کرافٹ ٹکرانے کی ویڈیو کو فیک کہتے ہیں۔ سائنس کو دو چار موٹی گالیاں دیتے ہیں اور ناسا کی "غلطیاں” پکڑتے ہیں۔ انہیں یہ زعم ہے کہ ایک پسماندہ ملک میں محض ایک موبائل ہاتھ میں لئے اور سکول میں سائنس اور ریاضی کے مضامین میں مشکل سے شاید پاس ہو کر اُنہوں نے اربوں ڈالرز کی تحقیق کرنے والے ادارے اور اُس میں ہزاروں کام کرنے والے سائنسدانوں اور انجنیئرز، جو ایک کڑے امتحان سے ہو کر ناسا میں گئے ہیں، اُنکی غلطیاں "ترنت” چند سیکنڈ میں ڈھوند نکالی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی؟

    چاند پر ہوا نہیں تو جھنڈا کیسے ہل رہا تھا؟
    انکو کس نے بتایا کہ چاند پر ہوا نہیں ہے؟ اُنہی لوگوں نے جو چاند پر جھنڈا لیکر گئے۔ تو وہ جو یہ بتا رہے ہیں کہ چاند پر ہوا نہیں ہوتی، کیا یہ نہیں جانتے تھے کہ جھنڈا بغیر ہوا کے کیسے لہرانا ہے؟ یا وہ ان صاحب کا پچاس سال بعد انتظار کر رہے تھے کہ وہ صاحب آئیں گے اور آ کر غلطی ڈھونڈیں گے۔

    چاند پر ستارے نظر کیوں نہیں آ رہے تھے؟
    یہ سوال وہ پوچھتے ہیں جنہیں یہ بھی علم نہیں ہو گا کہ سورج بھی ایک ستارا ہے یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سورج میں کسی نے ماچس جلا کر آگ لگائی ہوئی ہے۔ انکو یہ پتہ بھی نہیں ہو گا کہ انکے موبائلز میں موجود کیمرے کس ٹیکنالوجی سے کام کرتے ہیں اور کم اور زیادہ روشنی میں تصاویر لیتے ہوئے کیا فرق پڑتا ہے۔

    چاند پر ویڈیو کس نے بنائی تھی؟
    یہ سوال پوچھنے والوں کو لگتا ہے کہ ناسا جو اس زمانے سے خلا میں سٹلائٹ اور دیگر سپیس کرافٹ بھیج رہا ہے جب ان میں سے بہت سے دنیا میں تشریف بھی نہیں لائے ہونگے اور یہ ناسا سے پوچھ رہے ہیں کہ بغیر انسان کے اُنہوں نے کیمرے کیسے چلا دئے۔

    اسی طرح کی اور کئی "غلطیاں” یہ نکال کر خود کو تھپکی دیتے ہیں کہ دیکھا ہم تو کچھ نہ کر سکے کیونکہ یہ کام کرنے کے قابل ہی نہیں تھا سو جنہوں نے کیا وہ بھی سب فیک تھا۔ دوسرا دفاع کا مورچہ انکا قدرت کے کاموں میں مداخلت پر آ کر رکتا ہے۔

    ان میں سے اکثر کو تو ناسا کس شے کا مخفف ہے وہ بھی معلوم نہیں ہو گا۔۔

    جاگ جائیں صاحبو!! دنیا کے سامنے کب تک اپنی جہالت کو اپنے گلے کا ہار بنا کر چومتے رہیں گے۔

    اُنیسویں صدی کے مفکر مارک ٹوین نے ایک بار کہا تھا:
    "کسی کو بے وقوف بنانا آسان ہے بنسبت اسکے کہ اُسے باور کرایا جائے کہ اُسے بے وقوف بنایا گیا یے”

  • مریخ پر ہیلی کاپٹر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ پر ہیلی کاپٹر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمانوں میں اُڑنے کی خواہش انسانوں میں ہمیشہ سے رہی۔ انسان جب اپنے ارگرد پرندوں کو اُڑتے دیکھتے تو اُن میں ایک تجسس سا جاگتا کہ اگر وہ ہوا میں اُڑیں گے تو کتنی خوشی، کتنی آزادی محسوس کریں گے۔ انسان ارتقائی طور پر دو ٹانگوں پر چلنے والا جانور بنا۔ قدرت نے انسان کا جسم ایسا نہیں بنایا کہ وہ اُڑ سکے بلکہ چل سکے یا دوڑ سکے۔ دو ٹانگوں پر چلنے کی یہ صلاحیت دیگر جانوروں میں بھی کسی نہ کسی درجے تک پائی جاتی ہے مگر انسانوں کی یہ خاصیت ہے۔ دو ٹانگوں پر چلنے کے ارتقاء میں ابتدائی فوائد انسان کو یہ حاصل ہوئے کہ وہ اونچا ہو کر درختوں سے پھل توڑ لیتا، اسکے ہاتھ اب چلنے سے آزاد ہو گئے تو یہ اوزار بناسکتا تھا، ہاتھوں سے اشارے کر کے بات سمجھا سکتا تھا۔

    مگر دو ٹانگوں پر چلنے کے نقصانات بھی تھے۔ آج کتنے ہی لوگ عمر کے ساتھ ساتھ گھٹنوں اور کمر کے درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ انسان کے پورے وجود کا وزن گھٹنوں اور ریڑھ کی ہڈی پر پڑتا ہے۔چار ٹانگوں پر چلنے والے جانوردوں کی ریڑھ کی ہڈی پر زیادہ زور نہیں آتا۔ مگر خیر بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔

    اُڑنے کی صلاحیت نہ ہونے مگر اُڑنے کی خواہش ہونے نے انسان کے اُڑنے کے خواب کو صدیوں زندہ رکھا۔ماضی میں کئی افراد نے پرندوں کی طرح مصنوعی پر لگا کر اُڑنے کی کوشش کی مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ بالآخر اٹھارویں صدی میں انجن کی ایجاد اور اُڑنے کی سائنس کو سمجھ کر انسانوں نے جہاز بنانے کی کوشش کی۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ کے دو بھائیوں ولبر رائٹ اور اورویل رائٹ نے پہلے انجن والے جہاز کی اُڑان بھری اور انسانوں کے صدیوں کے اُڑ نے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ اس اُڑان نے انسانوں کو بُلندیوں پر جانے کا حوصلہ دیا۔

    اتنا کہ وہ زمین کی قید سے نکل کر خلاؤں میں جانے کا سوچنے لگا۔ یہ خواب بھی حضرتِ انساں نے اپنی جرات اور عقل سے پورا کیا۔ بڑے بڑے راکٹ بنا کہ خلاؤں کا رخ کیا۔ دوسری دنیاؤں پر جھنڈے گاڑے اور وہاں رہنے کے خواب دیکھنے لگا۔

    آج انسان عظمتوں کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے۔ کائنات کے راز کھولنا چاہتا ہے اور زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر بسنا چاہتا ہے۔اسی کوشش میں وہ مریخ تک اپنے بیسیوں روبوٹ بھیج چکا ہے۔ مگر کامیابیوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں اور اسی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ایک دن اس سرپھرے انسان نے سوچا کہ کیا مریخ پر بھی اُڑا جا سکتا ہے؟؟؟کیونکہ مریخ پر زمین کیطرح کی کثیف فضا نہیں۔ مریخ کی فضا بےحد باریک ہے اور اس میں محض کاربن ڈائی آکسائڈ ہے ۔ یہ زمین کی سطح سمندر کی فضا کے 1 فیصد جتنی باریک ہے ۔اور وہ جانتا تھا کہ ہوا میں اُڑنے کے لیے ہوا کا ہونا شرط ہے۔

    مگر سائنس نے اسے بتایا کہ گو ہوا کم ہے پر ہے تو صحیح۔ سو حضرتِ انساں کی نسل کے کچھ ذہن لوگ اس کام میں جُت گئے۔ عقل استعمال کی گئی اور بالآخر ایک ایسا چھوٹا سا ہیلی کاپٹر بنایا گیا جسکا وزن محض 1.8 کلو گرام تھا۔ یہ سولر پینلز سے چلتا تھا اور اسکے پر اتنے بڑے اور اتنے تیزی سے گھومتے کہ یہ باریک فضا میں بھی اُڑ سکتا۔ اسے زمین پر مریخ کی فضا کے سے حالات پیدا کر کے ٹیسٹ کیا گیا۔ اسے نام دیا گیا Ingenuity. بالآخر اسے 30 جولائی 2020کو ناسا کی بھیجی جانی والی ربوٹک روور Preservernce کے "پیٹ” سے باندھ کر سفرِ مریخ پر بھیج دیا گیا۔

    تقریباً 6 ماہ کی مسافت طے کرتا یہ ہیلی کاپٹر Ingenuity جب روور کیساتھ مریخ کی سطح پر اُترا تو اسکے بنانے والوں کو بے تابی سے انتظار تھا کہ یہ کب اُڑے گا۔

    پھر ایک دن ہیلی کاپٹر کو روور سے الگ کیا گیا اور اسکی زمین پر بیٹھی ناسا کی ٹیم نے مکمل جانچ پڑتا کی۔ اسکا سافٹ وئیر چیک کیا۔ اسکی بیٹری کا لیول دیکھا اور پھر طے ہوا کہ 19 اپریل کو اسے مریخ پر اُڑایا جائے گا۔

    19 اپریل کا دن، اس ہیلی کاپٹر کو زمین سے اُڑنے کی کمانڈ بھیجی جا چکی تھی۔رووور میں لگے کیمرے اور ہیلی کاپٹر کے اندر موجود کیمرے اس منظر کو محفوظ کرنے کو مکمل تیار تھے۔
    1,2,3..

    ہیلی کاپٹر کے اسکی ننھی جسامت کے مقابلے کئی گنا بڑے پر تیزی سے ہلتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مریخ کی فضا کو چیرتا ہوا اوپر اُٹھنے لگتا ہے۔تقریباً 10 فٹ کی بلندی تک پہنچ کر یہ مڑتا ہے اور واپس مریخ کی سطح پر اُتر جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں ٹھیک 39.1 سیکنڈ لگتے ہیں۔

    یہچھوٹی فلائٹ ایک حضرتِ انساں کا ایک بڑا قدم تھی جس نے ایک نئے انسانی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ دواری دنیاؤں پر اُڑ ے کا باب۔ آج انسان پہلی مرتبہ زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر اُڑنے کے قابل ہوا!!.

    وہ جو اس لمحے کی اہمیت سے واقف تھے، اُنکی آنکھیں خوشی سے نم تھیں۔انسان نے آج اُڑنے کے خواب سے بھی بڑھ کر حقیقت کو پا لیا تھا۔

    عقل اپنی رفعتوں کو پہنچ چکی تھی۔

    کائنات حیران تھی!!

  • بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "بھائی باہر کے ملک کا ویزا لگوا دو!!”

    "صاحب نوکری دلوا دو!!”

    اس طرح کے کئی جملے میں اور ہم جیسے کئی لوگ جو حالات سے لڑتے اپنی زندگی کے کسی مستحکم مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، اُنکو روز سُننے کو ملتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں انسانی اور قدرتی وسائل کی کمی نہیں ، وہاں اس ملک کی پیدائش سے لیکر اب تک غربت اور بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ کیوں ہے؟

    بہت سے لوگ آپکو یہ کہیں گے کہ ہمارے سیاستدان نکھٹو ہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو عوام کا احساس نہیں وغیرہ وغیرہ مگر کوئی آپکو مکمل حقیقت نہیں بتائے گا۔ ایسے کہ اپ سمجھ سکیں کہ اصل مسائل ہیں کیا۔ معلومات کا مکمل ادراک نہ ہونے پر آپ محض سرسری طور پر مسائل بتاتے ہیں مگر اُنکا حل نہیں ڈھونڈ پاتے۔ سائنس کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپکو مسائل کی جڑ تک لیکر جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کو چند ایکوئیشنز اور نمبرز کی صورت آپ پر واضح کرتی ہے کہ کس جگہ کیا غلط ہے۔ آج دنیا میں بنیادی سائنس کے علاوہ دو اور اہم چیزوں پر زور دیا جاتا ہے۔ معیشت اور امن و استحکام ۔ سائنس کی دنیا کے سب سے بڑے انعام نوبل پرائز آج بنیادی سائنس کے علاوہ معیشت اور امن کے شعبوں میں بھی ملتے ہیں۔

    معاشیات کی سائنس بے حد دلچسپ ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ معاشیات کو اتنا نہیں سمجھتے تھے نہ ہی معیشت اس قدر پیچیدہ تھی۔ آج مگر دُنیا بدل چکی ہے۔ ہمیں سائنس کے ہر اُس شعبے میں بھی ماہرین درکار ہیں جو معاشرے کو ایک الگ زاویے سے پرکھیں۔ یہ سوشل سائنٹسٹ کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کام معاشرے کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دنیا کی آبادی کے رجحانات کیا ہیں۔ معاشروں کے رویوں کو جانچنا اور ان پر اطلاق شدہ ماضی کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں چند گھسے پٹے جملے بول تو دیے جاتے ہیں مگر عوام اور اشرافیہ چونکہ رٹے کی پیدوار تعلیم نظام سے ہو کر آتی ہے، اسلئے سمجھتا کوئی کدو ہے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ "ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے” تو یہ بس کہہ دیتے ہیں۔ علم اس قدر سطحی ہے کہ یہ جملہ کہنے والے کو ٹٹولیں تو سامنے کدو بیٹھا نظر آئے گا۔

    پاکستان کی کل آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 22 کروڑ تک ہے۔ اور اب 5 سال مزید گز جانے کے بعد یہ تعداد 23 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہو گی۔ کیونکہ پاکستان میں آبادی کی شرح نمو سالانہ 2 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 1 فیصد کے قریب رہ گئی ہے۔ پاکستان میں بچے خرگوشوں کیطرح پیدا کیے جاتے ہیں۔سننے میں آپکو یہ برا لگے مگر حقیقت یہی ہے۔ نفسیات دیکھیں تو چونکہ ملک میں تفریح کے مواقع کم ہیں تو لوگوں کے پاس "کھابے” کھانے اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ اسکے علاوہ پاکستان میں نظریات کی بھینٹ چڑھی عوام فیملی پلاننگ کو حرام سمجھتی ہے۔ گنگا ہی اُلٹی بہتی ہے۔ جو جتنا غریب ہے اُتنا ہی بڑا بچے پیدا کرنے کی مشین ہے۔ زچہ کو مشین بنا کر رکھ دینے والے معاشرے کا حال یہ ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ یہاں ہر 1 ہزار پیدا ہوئے بچوں میں سے 58 بچے پیدائش کے کچھ عرصے بعد مر جاتے ہیں۔ زیادہ نہیں محض 20 سال پیچھے چلے جائیں تو یہ تعداد ہر ایک ہزار میں سے 90 تھی۔ صحت اور تعلیم کی کمی کے باوجود لوگ ہیں کہ بے دھڑک بچوں پر بچے پیدا کیے جا رہے ہیں۔ عقل کی بات کیجئے تو آپ سب کے دشمن ۔ جہالت عام بکتی ہے۔ دماغ خرچ کرنا مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے لوگوں کو جاہل رہنے میں مزا آتا ہے۔ کہ شاید یہ بھی تفریح کے مواقع کی کمی کے باعث ایک تفریح بن گئی ہے۔ پر کیا کیجئے۔ مسائل بتاںا بھی ضروری ہیں کہ ہم معاشرے سے کٹ کر بھی تو نہیں رہ سکتے۔

    1974 سے 2020 تک یعنی 46 سال کے پاکستان کے بے روزگاری اور معیشت کے اعداد و شمار کو کنگھالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں اضافہ، آبادی میں اضافہ اور بے روزگاری میں اضافہ آپس میں یوں جڑے ہوئے ہیں جیسے نشے سے اُسکا عادی۔
    ان اعداد شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی پی میں تقریباً 0.6 کمی واقع ہوتی ہے۔ گویا 2020 کے جی ڈی پی 267 ارب ڈالر کے حساب سے 1.7 ارب ڈالر کی کمی۔ وجہ؟ جب بے روزگاری بڑھتی ہے تو مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ پیسہ جیب سے نکل کر بازار کی ہوا نہیں کھاتا۔ فرض کیجئے ایک ریڑھی والا روز 50 کلو فروٹ بیچتا ہے۔ اور آپ کی جب نوکری ہے تو اپ ہر روز 2 کلو فروٹ خریدتے ہیں۔ اب جب اپکی نوکری نہیں ہو گی تو ریڑھی والے کا دو کلو فروٹ کم ِبِکے گا۔ وہ پہلے جس شخص سے دو کلو فروٹ زیادہ لیتا تھا اب کم لے گا اور اُسکا منافع بھی کم ہو جائے گا۔۔ وہ شخص جو اس ریڑھی والے کو فروٹ بیچتا تھا وہ کاشتکار سے فروٹ کم لے گا وغیرہ وغیرہ، کاشتکار کھاد کم لے گا، کھاد والا فیکٹری سے کھاد کم لے گا، فیکٹری کھاد کم بنائے گی اور اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح اپ کے ذریعے معیشت کے اس جال میں جڑا ہے، اُسکی زندگی میں پیسے کی کمی آئے گی۔

    بالکل ایسے ہی جب مہنگائی بڑھتی ہے اور قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو پوری معیشت میں یہ کمی دکھتی ہے۔ پاکستان میں ایک فیصد مہنگائی بڑھنے سے جی ڈی پی تقریباً 0.4 فیصد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت کے غیر تعمیری اخراجات سے بھی معیشت پر بے روزگاری اور مہنگائی سے بھی زیادہ بُرا اثر پڑتا ہے ۔ سرکاری عیاشیوں میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی بھی کو 0.8 فیصد نقصان پہنچتا ہے یعنی سالانہ 2 ارب ڈالر سے بھی زائد۔ مگر سب سے دلچسپ جو ملک کے مءترم بابوں کی نا اہلی کا کھلا ثبوت ہے وہ ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ وہ یہ مملکتِ خداد میں باہر سے انے والی ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں ایک فیصد کے اضافے سے معیشت کو اُلٹا 0.7 فیصد نقصان پہنچتا ہے۔ یعنی گنگا اُلٹی نہیں بلکہ بہتی ہی نہیں ہے۔ دیگر ممالک خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں معیشت باہر کے آئے پیسے سے مستفید ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کمزور قوانین اور فی البدیہ مشاعرے کی طرح چلتے ملک میں یہ بھی ان دھوپ میں بال سفید کیے پالیسی ساز بابوں کا دیا وبال ہے۔ باہر سے آئی کمپنیاں یہاں کی معاشی پالیسویں اور حکومت سازی ہر اثرانداز ہو کر ملک کی معیشت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں۔ مسئلہ انوسٹمنٹ کا نہیں، ان کمپنیوں کا ملک کے اندرونی معاملات اور قوانین میں مداخلت کا ہے۔

    ان تمام مسائل کا ادراک ہونے کے بعد آپ واضح طور پر سمجھ گئے ہونگے کہ پاکستان میں پالیسی سازوں کو زیادہ سے زیادہ تعمیراتی کاموں کے پراجیکٹس شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تعمیراتی کام سے مراد محض سڑکیں اور پل بنانا نہیں بلکہ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی تعمیری ہوتے کیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ ملکی جیب میں پچھتر سال سے بڑے سے بڑے ہوتے سوراخ کو بند کرنا ہو گا۔ آبادی پر قابو اور وسائل کے استعمال کو بہتر بنانا ہو گا۔ اور ملک کے اندرونی قوانین اور بین الاقوامی معاشی معاہدوں میں سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ ورنہ وطنِ عزیز کی معیاد ختم ہونے میں دیر نہیں لگنی۔

  • جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

    اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔

    یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔

    ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔

    کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔

    یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔

    ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔

    ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔

    اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔

    حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔

    اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔