Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • صدر ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں،اطالوی وزیراعظم

    صدر ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں،اطالوی وزیراعظم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد اٹلی اور امریکا کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے ٹرمپ کے بیان کے درعمل میں کہا کہ ٹرمپ کے مسلسل اور بلاوجہ کے حملے بےمعنی ہیں، ٹرمپ کا دوست ہونے پر میری مقبولیت کو فائدہ نہیں ہوا، میں نے ہمیشہ اٹلی کے قومی مفادات کا دفاع کیا ہے، اور امریکا فوجی اڈوں پر معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا،میری مقبولیت سے ٹرمپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے، اور میرا مشورہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔

    دوسری جانب اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے امریکا کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے، جہاں ان کی ملاقات امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ہونی تھی یہ فیصلہ ٹرمپ کے ان بیانات کے ردعمل میں کیا گیا ہے جنہیں اطالوی حکام نے ’توہین آمیز‘ قرار دیا ہے۔

    تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے جی 7 اجلاس کے دوران ان سے تصویر لینے کی درخواست کی اور وہ ان پر ترس کھا کر راضی ہوئے، میلونی نے ان سے ملاقات اور تصویر کے لیے اصرار کیا،میلونی کی اٹلی میں مقبولیت کا گراف مسلسل گر رہا ہےمیلونی نے ہمیں ایران کے خلاف اٹلی کے اڈے استعمال نہیں کرنے دیئے، تاہم امریکا نے ایران کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔

    اطالوی وزیر اعظم میلونی نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں بالکل من گھڑت ہیں اور انہوں نے اس پر فوری وضاحت کی ضرورت محسوس کی،انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ حیران ہیں کہ امریکی صدر اپنے اتحادی ملک کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، اٹلی نے کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگی اور یہ تاثر مکمل طور پر غلط ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق اطالوی وزیرِ خارجہ کا دورہ امریکا نہ صرف دوطرفہ ملاقات بلکہ ’اٹلی امریکا بزنس، انویسٹمنٹ، سائنس اینڈ انوویشن فورم‘ میں شرکت کے لیے بھی تھا، جو بعد ازاں منسوخ کر دیا گیا،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، اسٹریٹجک سیکیورٹی اور اہم معدنی وسائل سے متعلق امور پر بات چیت ہونا تھی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور میلونی کے درمیان پہلے بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، اگرچہ دونوں رہنما بعض پالیسی امور جیسے امیگریشن اور قومی خودمختاری پر ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

  • ٹرمپ کی  جی 7 اجلاس کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں طے

    ٹرمپ کی جی 7 اجلاس کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں طے

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ جی 7 اجلاس کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں مصروف رہیں گے۔

    شیڈول کے مطابق ٹرمپ یوکرینی صدرولودیمیرزیلنسکی کے ساتھ جی 7 کے ورکنگ سیشن میں شرکت کریں گے، جس میں یوکرین جنگ اور یورپی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہےاس کے علاوہ وہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ خصوصی عشائیے میں بھی شریک ہوں گے، جو پیرس کے ایک میوزیم میں منعقد کیا جائے گا۔

    امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ کی ملاقاتوں میں متحدہ عرب امارات اورقطرسمیت مشرق وسطیٰ کے دیگراہم رہنماؤں سے بھی بات چیت شامل ہے، جس میں خطے کی سیکیورٹی، توانائی اور سفارتی تعاون زیرغورآئے گا ٹرمپ فرانس اورمصر کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن کا مقصد عالمی سطح پر جاری کشیدگی، اقتصادی تعاون اور علاقائی تنازعات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

  • ٹرمپ خاندان سے منسلک سیاحتی منصوبہ: البانیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج

    ٹرمپ خاندان سے منسلک سیاحتی منصوبہ: البانیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج

    البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں ہزاروں افراد نے ٹرمپ خاندان سے منسلک اربوں ڈالر کے مجوزہ سیاحتی منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ قدرتی علاقے میں لگژری ہوٹل اور سیاحتی مرکز کی تعمیر ماحولیات اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے،احتجاج میں شر یک افراد نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا، ان کا مؤقف ہے کہ منصوبے کے لیے قدرتی ذخیرے کی زمین استعما ل کی جا رہی ہے، جس سے علاقے کی قدرتی خوبصورتی اور سیاحت متاثر ہوگی۔

    دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبے کی ابھی حتمی منظوری نہیں دی گئی اور عوام کے خدشات بے بنیاد ہیں، تاہم ماحولیاتی اثرات کے باعث یورپی حکام بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ احتجاج کا سلسلہ ایک ہفتے سے جاری ہے اور حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر تعمیراتی سرگرمیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد عوامی ردعمل میں شدت آ گئی ہے۔

  • ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے،ایران

    ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے،ایران

    ایرانے کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گےانہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گےانہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل کو تعطل کا شکار کر رکھا ہے، تاہم اگر امریکا مثبت اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادا ت کو ترجیح دینی چاہیے۔

    انٹرویو میں ان کا کہنا تھا اگر امریکا ایران کےخلاف عائد محاصرہ اور دباؤ کی پالیسی ختم کرے اور ایران کےمنجمد اثاثے بحال کرےتو ایران اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک نیا افق ابھر سکتا ہے،اگر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی عزم اور ہمت کا مظاہرہ کریں تو دونوں ممالک کے درمیان موجود کئی پیچیدہ معاملات حل کیے جا سکتے ہیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے بجائے سفارت کاری اور باہمی احترام پر مبنی اقدامات خطے اور دنیا کے مفاد میں ہوں گےایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں، اور پابندیوں کے خاتمے سمیت اعتماد سازی کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوڈ فورس ون پوڈ کاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مستقبل میں ان کی کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہےایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

    بعد ازاں ایک اور موقع پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہےایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • ایران سے ڈیل یا حملہ،ممکنہ طور پر اتوار کو فیصلہ کروں گا، ٹرمپ

    ایران سے ڈیل یا حملہ،ممکنہ طور پر اتوار کو فیصلہ کروں گا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں،جبکہ انہوں نے مشرق وسطی کا نقشہ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ’ففٹی ففٹی‘ امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے،کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں‘، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں، وہ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یور ینیم ذخائر جیسے معاملات شامل ہوں۔

    ویب سائٹ کے مطابق ان امور کا کسی تفصیل کے ساتھ حل ہونا اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن نظر نہیں آتا جس پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہےاس تجویز کے تحت دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کریں گے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے مشرق وسطی کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کردہ نقشے پر یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ لکھا، جس کے ساتھ سوالیہ نشان شامل تھا، جس نے مختلف حلقوں میں بحث کو جنم دیا،نقشے پر امریکی صدر نے ایران کو امریکی پرچم میں دکھایا ہے،یہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اور اسے علامتی سیاسی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

  • وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: حملہ آور کا چونکا دینے والا بیان

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: حملہ آور کا چونکا دینے والا بیان

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور کا چونکا دینے والا اعتراف سامنے آیاہے-

    وائٹ ہاؤس میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے نے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جہاں حملہ آور نے فائرنگ کے دوران تقریباً 8 گولیاں چلائیں، اس واقعے میں زخمی ہونے والا ایک پولیس اہلکار علاج کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہو گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ موجود نہیں تھا، جس نے سیکیورٹی اداروں کے لیے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہےایف بی آئی کی ٹیم نے مشتبہ شخص کے گھر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تلاشی کے لیے وارنٹ حاصل کرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق حملہ آور کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھامیڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش بیان دیا کہ اس کا اصل ہدف ڈونلڈ ٹرمپ تھے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی بڑی منصوبہ بندی کا حصہ تھا یا ایک انفرادی اقدام ہے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کردیا-

    پاکستان کی اعلیٰ قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں سے امریکا اور ایران کے درمیان بڑے تصادم کو روکنے کی کامیاب کاوشوں کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات دیئے گئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر جہاں اپنی کامیابی کے قصیدے پڑھے تو وہیں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔

    جس عباس عراقچی انہوں نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کامیاب سفارتکاری اور مشرق وسطیٰ کو بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والے اس بیان میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست اور امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی مذاکراتی تجویز کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے بند کیے جاتے ہیں تو اس کی مسلح افواج دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔

  • ٹرمپ کی امریکی پائلٹ کی گمشدگی رپورٹ کرنیوالے صحافی کو جیل بھیجنے کی دھمکی

    ٹرمپ کی امریکی پائلٹ کی گمشدگی رپورٹ کرنیوالے صحافی کو جیل بھیجنے کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس شخص کو تلاش کر رہے ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی خبر لیک کی، لیک ہونے والی معلومات سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی حکام اس شخص یا ادارے کی تلاش میں ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی معلومات لیک کیں صدر کے مطابق یہ معلومات منظرِ عام پر آنے سے ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہو گیا اور اس سے پہلے ایران کو دوسرے پائلٹ کے بارے میں علم نہیں تھا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جس میڈیا ادارے نے یہ رپورٹ شائع کی، امریکی حکام اس سے لیک کرنے والے کی شناخت طلب کریں گے اور اگر تعاون نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ خبر لیک کرنے والے کو ڈھونڈیں ہمیں یقین ہے کہ ہم اسے تلاش کر لیں گے کیونکہ ہم اس میڈیا کمپنی کے پاس جائیں گے اور کہیں گے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، معلومات دو یا جیل جاؤ۔

    پریس بریفنگ آغاز میں صدر ٹرمپ نے ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے بعد کیے گئے بڑے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بھی جاری کیں۔

    اُنھوں نے بتایا کہ ایک امریکی ایف-15 طیارہ ایران میں ایک آپریشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، تاہم اس میں سوار دونوں اہلکار بروقت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ محفوظ رہا جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا، جسے ایرانی فورسز اور مقامی افراد تلاش کر رہے تھے زخمی پائلٹ ایک بلند مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جہاں اس نے خود اپنے زخموں کا علاج کیا اور ایک خصوصی کمیونیکیشن ڈیوائس (بیپر طرز) کے ذریعے امریکی فوج سے رابطہ قائم کیا۔

    ٹرمپ کے مطابق پائلٹ کی تلاش اور بازیابی کے لیے تقریباً 200 امریکی فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور ایک تاریخی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس میں 4 بمبار طیاروں، 13 ریسکیو ایئرکرافٹ سمیت مجموعی طور پر تقریباً 150 طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز سات مختلف مقامات پر پھیل گئیں تاکہ ایرانی فورسز کو الجھایا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوران نچلی پرواز کرنے والے کئی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر شدید فائرنگ ہوئی، حتیٰ کہ امریکی ہیلی کاپٹروں کو بھی متعدد گولیاں لگیں، تاہم فوری مرمت کے ذریعے انہیں دوبارہ قابلِ پرواز بنا دیا گیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کچھ کمپنیوں کو ایسی مرمت میں کئی دن لگ جاتے، مگر امریکی فوج نے یہ کام محض 10 منٹ میں انجام دیا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ شدید موسمی اور زمینی حالات، خصوصاً ریت کی وجہ سے دو پرانے طیارے پرواز نہ کرسکے، جس کے بعد امریکی فورسز نے کم وزن طیاروں کے ذریعے وہاں پہنچ کر ان طیاروں کو بھی تباہ کر دیا تاکہ کوئی اور انہیں استعمال یا جانچ نہ سکے۔

    ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام نے زخمی پائلٹ کو پکڑنے پر انعام کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم امریکی فوج نے تمام خطرات کے باوجود کارروائی کرتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے آپریشن میں کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور تمام طیارے شدید نقصان کے باوجود بحفاظت واپس لوٹ آئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فوج کو واضح ہدایت دی تھی کہ کسی بھی صورت میں اپنے اہلکاروں کو واپس لایا جائے، کیونکہ امریکی فوج کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتی۔

    اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج نے وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا اور اس آپریشن میں غیر معمولی مہارت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔

  • ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم اس درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے حال ہی میں امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے انہوں نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر اس وقت غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز پر آزادانہ آمد ورفت بحال ہوجائے گی اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے اور انہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔

    اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص اہداف پر حملے کرے گا انہوں نے نیٹو کے بارے میں بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں ایران کے معاملے میں دوست ممالک نے امریکا کی حمایت نہیں کی،ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو دو ستوں نے ساتھ نہیں دیا، ایران جنگ کے اختتام کے حتمی اوقات سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں بالکل نہیں بتا سکتا مگر ہم جلد ہی نکل جائیں گے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اعلانات متوقع ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران جنگ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں امریکا کے اہم ترین اتحادی ممالک (نیٹو) نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔

  • ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے،ٹرمپ

    ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تیل پر قبضےاور اہم تنصیبات کو آسانی سے حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیا جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل پر قبضہ کرنا میرا پسندیدہ آپشن ہے امریکہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور خارگ جزیرہ جیسے اہم برآمدی مرکز کو بہت آسانی سے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے ایران اس مقام پر مؤثر دفاع نہیں رکھتا، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز کی تعداد جنہیں ایران نے اجازت دی اب بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے جو خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے ایک براہ راست فوجی آپریشن پر بھی غور کر رہے ہیں یہ حساس ذخائر اصفہان اور نطنز جیسے اہم مقامات پر موجود ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے امریکی افواج کو کئی دنوں تک ایرانی سرزمین پر موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔

    تاہم امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ پس پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور ثالثوں کے ذریعے ایران سے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک معاہدہ جلد ممکن ہو سکتا ہے لیکن ساتھ ہی فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔

    دوسری جانب ایران کے شہر تبریز میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس میں ایک اہم پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ریسکیو اور آپریشنل ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور صورتحال کو کنٹرول میں لینے کی کوششیں جاری ہیں، حملے کے باوجود کسی خطرناک یا زہریلے مادے کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی، جس سے بڑے ماحولیاتی نقصان کا خدشہ ٹل گیا ہے۔