Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • امریکی فوجی وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

    امریکی فوجی وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کے لیے امریکی اسپیشل فورس کے آپریشن کی تفصیلات بتادیں۔

    فوکس نیوز سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اُن دونوں کو ’’ یو ایس ایس آئیو جیما‘‘ جہاز پر سوار کر کے نیویارک کی طرف روانہ کردیا گیا ہےمادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتاری کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحری جہاز تک پہنچایا گیا اور یہ پرواز محفوظ طریقے سے مکمل ہوئی۔

    امریکی صدر کے بقول انھوں نے وینزویلا کے صدر مادورو کو ایک ہفتہ قبل فون بھی کیا تھا اور گرفتاری دیکر امریکی مقدمے کا سامنا کرنے کو کہا تھا،صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں نے کئی امریکیوں کو ہلاک کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری کو لازمی سمجھا گیا۔

    بنگلہ دیش کا ٹی20 ورلڈکپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرانے پر غور

    صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مادورو کی گرفتاری کو مارا لاگو میں ایک کمرے سے براہ راست دیکھا جیسے ٹیلی وژن پر کوئی لائیو شو دیکھا جاتا ہےگرفتاری کا عمل بہت پیچیدہ تھا جس میں امریکی فوجی نے اسٹیل کے دروازے توڑے اور محفوظ شدہ مقامات تک پہنچ کر مادورو کو گرفتار کیا،امریکی فوج کے پاس کارروائی کے لیے ہیلی کاپٹر، فائٹر جیٹس اور دیگر متعدد طیارے موجود تھے اور ہر لمحے کی نگرانی کی گئی۔

    لاہور: وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کا زیر تعمیر نئے حاجی کیمپ کا دورہ

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس پورے ملٹری آپریشن کو انتہائی مہارت اور تیز رفتاری سے انجام دیا گیا ایسی کارروائی کرنا دنیا میں کسی اور ملک کے لیے کرنا ممکن نہیں ہےانھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس پوری کارروائی کے دوران کسی امریکی کا جانی نقصان نہیں ہوا البتہ کچھ اہلکار معمولی زخمی ہوئے تمام فوجی مکمل ساز و سامان کے ساتھ واپس لوٹ آئے، البتہ ایک فوجی ہیلی کاپٹرز کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور اُسے بھی بحفاظت واپس لے آیا گیا ہے۔

    پاکستان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

    واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو امریکی فورسز نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے تھےاس بات کا دعویٰ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو معتبر اور مستند ذرائع کے حوالے سے کیا جو اس واقعے سے واقف ہیں۔

    ان ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا کہ امریکی فوجی کمرے میں داخل ہوئے تھے تو وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ سو رہے تھےیہ گرفتاری امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے انجام دی اور امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    لاہور: وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کا زیر تعمیر نئے حاجی کیمپ کا دورہ

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے ایجنٹس بھی اس خصوصی آپریشن کے دوران موجود تھے اور منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ مادورو کو نیویارک منتقل کیا جائے تاکہ وہ مین ہٹن فیڈرل کورٹ میں مقدمے کا سامنا کریں امریکی حکام نے طویل عرصے تک مادورو کے خلاف قانونی اور خفیہ تحقیقات کیں تاکہ اس وقت کی کارروائی کو درست قانونی بنیاد فراہم کی جا سکے۔

    خیال رہے کہ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی ہے جب امریکا اور وینزویلا کے درمیان گزشتہ ہفتوں میں ہونے والی محدود سفارتی روابط اور مذاکرات کی کوششیں بھی جاری تھیں۔

    سعودی عرب میں پارسل ڈیلیوری سروس کیلئے عائد شرط پر عملدرآمد کا آغاز

    ادھر امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن نے کئی سالوں سے مادورو اور وینزویلا کے بعض اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف فرد جرم تیار کر رکھی ہےامریکی قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق یہ تحقیقات اور شواہد مبینہ الزامات کی بنیاد بنیں گے جو جلد عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

    قبل ازیں امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی نے کہا تھا کہ صدر مادورو جلد امریکی عدالتوں میں سخت جرح کا سامنا کریں گےصدر مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف الزامات میں منشیات کی اسمگلنگ، نارکو ٹیررازم اور مشین گنز و تباہ کن آلات کے قبضے جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر کی یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا نے وینزویلا کے خلاف فوجی دباؤ بڑھا رکھا تھا اور گزشتہ چند ماہ میں سمندری علاقوں میں 20 سے زائد فضائی حملے کیے جا چکے تھے۔

  • کئی ماہ بعد پہلی بار  ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی سطح پر ملاقات

    کئی ماہ بعد پہلی بار ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی سطح پر ملاقات

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور معروف ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی کئی ماہ بعد پہلی بار عوامی سطح پر ملاقات ہوئی یہ ملاقات قدامت پسند سیاسی کارکن اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے تنظیم کے بانی چارلی کرک کی یاد میں منعقدہ تقریب میں ہوئی۔

    ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایلون مسک امریکی صدر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ خالی نشست پر بیٹھ گئے۔ دونوں نے ہاتھ ملایا اور پھر پرجوش انداز میں گفتگو کرنے لگے یہ ان کی جون 2025 میں ہونے والی علیحدگی کے بعد پہلی عوامی ملاقات تھی،چارلی کرک کے یادگاری پروگرام میں ہونے والی اس غیر متوقع ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔

    https://x.com/elonmusk/status/1969897602524328440

    ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور کیپشن میں لکھا ’چارلی کے لیے‘۔

    ایلون مسک سے ملاقات کے بعد جب صحافیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس ملاقات پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ایلون مسک آئے اور سلام کیا، یہ ایک خوشگوار بات تھی کہ وہ خود چل کر ملنے آئے اور کچھ گفتگو بھی کی، ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور یہ ملاقات خوش آئند رہی۔

    https://x.com/WEdwarda/status/1969898422158434545

    واضح رہے کہ ایلون مسک اور ٹرمپ کے تعلقات میں اس وقت تناؤ پیدا ہوا تھا جب ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر کھلےعام تنقید کی تھی، جس کے بعد وہ حکومتی عہدے سے الگ ہو گئے تھےایلون مسک نے خصوصی حکومتی مشیر کے طور پر 130 دن خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا تھا، جو 30 مئی کو مکمل ہونا تھیں، تاہم انہوں نے مدت مکمل ہونے سے 2 روز قبل ہی استعفیٰ دے دیا،اس کے بعد اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی تھی-

  • ٹرمپ کی  واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی

    ٹرمپ کی واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی

    ٹرمپ نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) تنازع پر واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

    برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ قومی ایمرجنسی نافذ کر کے واشنگٹن ڈی سی کو وفاقی کنٹرول میں لے لیں گے،واشنگٹن ڈی سی کی میئر میوریل باؤزر نے کہا تھا کہ شہر کی پولیس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی، آئی سی ای کے اہلکار غیر قانونی مشتبہ افراد کو حراست میں لے رہے ہیں اور ان پر نسلی پروفائلنگ کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔

    امریکی صدر نے 11 اگست کو شہر کے میٹروپولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ (ایم پی ڈی) کا کنٹرول 30 دن کے لیے سنبھال لیا تھا، نیشنل گارڈ کو فعال کرکے وفاقی اہلکاروں کو تعینات کیا تھا، انہوں نے اسے جرائم اور بے گھری پر کریک ڈاؤن قرار دیا لیکن اسے وسیع پیمانے پر وفاقی اختیارات کے ناجائز استعمال کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

    وزیراعظم ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے

    یہ بات درست ہے کہ واشنگٹن ڈی سی بندوق کے تشدد سے جدوجہد کر رہا ہے، مگر اس کا پرتشدد جرائم کا تناسب 30 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور کئی ری پبلکن ریاستوں کے شہروں کے مقابلے میں کافی کم ہےٹرمپ کی 30 دن کی ایمرجنسی ختم ہو چکی ہے مگر اب بھی 2 ہزار سے زائد نیشنل گارڈ فوجی شہر میں گشت کر رہے ہیں، جن میں سے کئی سو فوجی ری پبلکن ریاستوں سے بھیجے گئے ہیں، یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا مشن کب ختم ہوگا۔

    میوریل باؤزر نے اس مہینے کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مختلف وفاقی اداروں کے درمیان مستقل تعاون کی ہدایت کی گئی، لیکن آئی سی ای کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا،ٹرمپ نے ’ریڈیکل لیفٹ ڈیموکریٹس‘ پر الزام لگایا کہ وہ باؤزر پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ حکومت کو آئی سی ای سے عدم تعاون کے بارے میں آگاہ کرے-

    خیبرپختونخوا : 1351 خطرناک اور انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی موجودگی کا انکشاف،سروں کی قیمت 4 ارب سےزائد

    ٹرمپ نے کہا کہ اگر پولیس نے آئی سی ای کے ساتھ تعاون روک دیا تو جرائم دوبارہ بڑھ جائیں گے،واشنگٹن ڈی سی کے عوام اور کاروباری افراد، فکر نہ کریں، میں آپ کے ساتھ ہوں اور ایسا ہونے نہیں دوں گا، اگر ضرورت پڑی تو میں قومی ایمرجنسی نافذ کر کے وفاقی کنٹرول سنبھال لوں گا-

  • اسرائیلی حملے کے بعد قطری وزیراعظم کی ٹرمپ سے اہم ملاقات

    اسرائیلی حملے کے بعد قطری وزیراعظم کی ٹرمپ سے اہم ملاقات

    قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے وزیراعظم سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔

    بی بی سی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہے، نیویارک میں یہ ملاقات عشائیے پر ہوئی ، لیکن ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کیں،صدر ٹرمپ اور قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کے مابین ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔

    نیویارک میں امریکی صدر کے ساتھ عشائیے سے قبل قطری وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی تفصیلی ملاقات کی،امریکا میں قطری مشن کے نائب سربراہ نے ایکس پر لکھا کہ امریکی صدر کے سے ساتھ زبردست عشائیہ ابھی ختم ہوا ہے،یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل امریکی کے قریبی اتحادی ملک اسرائیل نے قطر کے دارالحومت دوحا میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ کیا تھا۔

    مریم نواز متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے سہولیات کا جائزہ لے رہی ہیں، عظمیٰ بخاری

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ پیر کواسرائیل پہنچ رہے ہیں،امریکی وزیر خارجہ ایک ایسے وقت میں اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں، جب فرانس کی قیادت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر بات ہوگی۔

    دیشا پٹانی کے گھر کے باہر فائرنگ کس نے اور کیوں کروائی؟

  • ٹرمپ نے 4 بار فون کیے، مودی نے کالز وصول کرنے سے انکار کر دیا، جرمن اخبار کا دعویٰ

    ٹرمپ نے 4 بار فون کیے، مودی نے کالز وصول کرنے سے انکار کر دیا، جرمن اخبار کا دعویٰ

    جرمن اخبار فرانکفرٹر الگمائنے سائٹونگ (ایف اے زیڈ) نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے فون پر 4 بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن مودی نے کال وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

    ایف اے زیڈ کی رپورٹ کے مطابق یہ رویہ مودی کے ’غصے اور احتیاط‘ کی شدت کا عکاس ہے، جو روسی تیل کی درآمد روکنے کے لیے بھارت پر امریکی ٹیرف کے دباؤ کے جواب میں سامنے آیا ہےان مبینہ کالز کے پس منظر میں تجارتی کشیدگی میں بڑی شدت شامل ہےٹرمپانتظامیہ،نےبھارتی،مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، جسے روسی تیل کی درآمدات پر سزا کے طور پر بیان کیا گیا تھا، یہ شرح برازیل کے بعد کسی بھی ملک پر عائد کی جانے والی سب سے زیادہ سطح ہے،اسی دوران نئی دہلی نے روسی رعایتی تیل کی خریداری میں اضافہ کر دیا، جس سے واشنگٹن کی ناراضی اور بڑھ گئی۔

    ایف اے زیڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کا بار بار فون کالز سے گریز کسی وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچا سمجھا فیصلہ تھا، تاکہ وہ ٹرمپ کے مخصوص اندازِ گفت و شنید میں نہ پھنس جائیں، ٹرمپ اکثر کسی معاہدے کو باضابطہ طے ہونے سے پہلے ہی عوامی طور پر اعلان کر دیتے ہیں۔

    دریاؤں میں سیلابی صورتحال،بھارت نے پاکستان کو آگاہ کر دیا

    جرمن اخبار کے مطابق ویتنام کے ساتھ ٹرمپ کے نام نہاد تجارتی معاہدے کی مثال ایک انتباہی واقعے کے طور پر دی جاتی ہے، جہاں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر معاہدے کا اعلان کیا، حالاں کہ کوئی معاہدہ موجود ہی نہیں تھا، مودی اسی جال میں نہیں پھنسنا چاہتے۔

    نیویارک کی دی نیو اسکول میں انڈیا۔چائنا انسٹیٹیوٹ کے شریک ڈائریکٹر امریکی سیاسی تجزیہ کار مارک فریزر کا خیال ہے کہ امریکا کی انڈو پیسیفک حکمتِ عملی، جس کے تحت بھارت کو چین کے خلاف امریکی کوششوں میں شریک ہونا تھا، ناکام ہو رہی ہے،بھارت نے کبھی بھی یہ ارادہ نہیں کیا تھا کہ وہ چین کے خلاف امریکا کا ساتھ دے۔

    ٹرمپ خاندان کے نئی دہلی کے قریب لگژری ٹاور منصوبے پر تنقید کی گئی، اسی طرح ٹرمپ کے یہ عوامی دعوے بھی مسترد کیے گئے کہ بھارت-پاکستان جنگ بندی کا سہرا ان کے سر ہے, بھارت نے ان بیانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

    بھارت پر 50 فیصد امریکی ٹیرف کا آج سے نفاذ

    دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری تصدیق شدہ رابطہ 17 جون کو ہوا تھا، جب مودی نے ٹرمپ کی درخواست پر فون پر بات کی تھی، جو پہلگام میں سیاحوں پر حملے اور بھارت کے آپریشن سندور کے بعد یہ ان کی پہلی گفتگو تھی،اس کال کے بعد مودی نے وضاحت کی تھی کہ بھارت-پاکستان جنگ بندی میں امریکا کی کوئی ثالثی شامل نہیں تھی، بلکہ براہِ راست دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت پاکستان کی خواہش پر ہوئی تھی،بھارتی وزارتِ خارجہ نے اعادہ کیا تھا کہ بھارت ایسے معاملات میں کبھی بھی کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کرے گا۔

    پی ٹی آئی کا این اے 129 لاہور کا ضمنی الیکشن لڑنے کا اعلان

    جرمن اخبار نے یہ بھی کہا کہ یہ تمام واقعات بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، لگتا ہے کہ نئی دہلی اپنے تذویراتی شراکت داریوں کو متنوع بنا رہا ہے، اور صرف امریکی فریم ورک پر انحصار کرنے کے بجائے چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہےیہ تبدیلی اس وقت سامنے آ رہی ہے جب بھارت آئندہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے تیانجن جا رہا ہے۔

  • ٹرمپ نے یوکرین کو 85 کروڑ ڈالر کے میزائل دینے کی منظوری دے دی

    ٹرمپ نے یوکرین کو 85 کروڑ ڈالر کے میزائل دینے کی منظوری دے دی

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے ساتھ 850 ملین ڈالر (85 کروڑ ڈالر) مالیت کے اسلحہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، امریکہ 3,350 جدید میزائل فراہم کرے گا۔

    امریکی اخبارکے مطابق ان میزائلوں کی رینج 180 سے 250 کلومیٹر تک ہے جو یوکرین کو روس کے خلاف دفاعی اورجارحانہ حکمت عملی میں طاقت فراہم کریں گےمعاہدے کے تحت یہ تمام میزائل چھ ہفتوں کے اندریوکرین کوفراہم کیے جائیں گے تاہم ان کے استعمال کی مکمل نگرانی پینٹاگون کریگا یوکرینی افواج ان میزائلوں کوامریکی دفاعی ادارے کی پیشگی اجازت کے بغیراستعمال نہیں کر سکیں گی۔

    امریکی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے اخراجات براہِ راست یورپی اتحادی ممالک اٹھائیں گے جس سے امریکہ پر مالی دباؤ کم رہے گا،تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور نیٹو کی یوکرین سے وابستگی کو مزید واضح کرتا ہے اورخطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

    دوسری،جانب،پینٹاگون نے یوکرین کو روس کے اندر اہداف پر حملوں کے لیے لمبے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے سے روک دیا، جس کا دعویٰ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون خاموشی سے یوکرین کو امریکی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز استعمال کرکے روس کے اندر حملے کرنے سے روک رہا ہے، جس کے باعث کیف کو ماسکو کے حملوں کے خلاف دفاع میں ان ہتھیاروں کے استعمال میں مشکلات پیش آرہی ہیں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے حتمی فیصلہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے پاس ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کی تین سال سے جاری جنگ کو روکنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں تاحال کامیاب نہ ہوسکےروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ الاسکا میں ان کی ملاقات اور اس کے بعد یورپی رہنماؤں اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی کے ساتھ ملاقاتیں کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوئیں اس کے بعد ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایک بار پھر روس پر اقتصادی پابندیاں لگانے یا متبادل طور پر اس پیش رفت سے سے الگ ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں فیصلہ کرنے والا ہوں کہ ہم کیا کریں گے اور یہ ایک بہت اہم فیصلہ ہوگا جس میں بڑی پابندیاں اور محصولات عائد ہوسکتی ہیں، یا شاید ہم کچھ بھی نہ کریں اور کہہ دیں کہ یہ آپ لوگوں کی جنگ ہے،روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعہ کو این بی سی کو بتایا کہ زیلینسکی کے ساتھ کسی ملاقات کے لیے کوئی ایجنڈا طے نہیں ہے-

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، جیسے ہی وائٹ ہاؤس پیوٹن کو امن مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پینٹاگون کی جانب سے قائم کردہ منظوری کا ایک عمل یوکرین کو روسی علاقے کے اندر گہرائی میں حملے کرنے سے روکے ہوئے ہے۔

  • ایلون مسک نےبھارت کے لیے نامزد امریکی سفیر کو  سانپ قرار دیا

    ایلون مسک نےبھارت کے لیے نامزد امریکی سفیر کو سانپ قرار دیا

    ایلون مسک نے بھارت کے لیے نامزد امریکی سفیر کو’سانپ‘ قرار دیدیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے قریبی ساتھی سرجیو گور کو بھارت میں امریکا کا نیا سفیر اور جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے خصوصی ایلچی نامزد کرنے کا اعلان کیا،ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ 38 سالہ گور ان کے ’بہترین دوست‘ ہیں جنہوں نے صدارتی مہمات، حکومتی تقرریوں اور ان کی کتابوں کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا،سفیر کی حیثیت سے وہ میرے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سب سے زیادہ قابل اعتماد شخصیت ہیں۔

    سرجیوگور، جو ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت سے ان کے قریب رہے اور فنڈ ریزنگ میں بھی سرگرم تھے، اب اس نامزدگی کو اپنی ’زندگی کا سب سے بڑا اعزاز‘ قرار دے رہے ہیں،یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ٹرمپ حکومت کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جس میں 25 فیصد روسی تیل خریدنے پر بطور سزا شامل ہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

    9 مئی واقعات کے بعد پی ٹی آئی معاملات بہتر کرسکتی تھی،رانا ثنااللہ

    لیکن ٹرمپ کے اس فیصلے پر دوبارہ توجہ اس وقت بڑھی جب ایلون مسک نے ماضی میں گور کو ’سانپ‘ قرار دیا تھایہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب گور نے مبینہ طور پر جیرڈ آئزک مین، مسک کے قریبی ساتھی کو ناسا کی قیادت سے روکنے میں کردار ادا کیا،مسک نے ایک پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ گور نے سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کرائے اور قانون توڑا۔

    موت کی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف رضا مراد نے مقدمہ دائر کروادیا

  • ٹرمپ نےامبانی کوبھی مشکل میں ڈال دیا

    ٹرمپ نےامبانی کوبھی مشکل میں ڈال دیا

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی میں اپنا نیا ہدف تیل صاف کرنے کی صنعت کو بنایا ہے-

    مریکی جریدے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہدف کی زد میں دو بڑی بھارتی ریفائنریز آگئی ہیں،اگرچہ صدر ٹرمپ نے کسی کمپنی کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، مگر تمام اشارے بھارتی ارب پتی مکیش امبانی اور ان کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کی طرف جاتے ہیں،ان میں سب سے نمایاں گجرات کے شہر جام نگر میں واقع ریلائنس ریفائنری ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری سمجھی جاتی ہے اور اپنے تیل کا تقریباً ایک تہائی حصہ روس سے حاصل کرتی ہے اسی شہر میں نایارا انرجی کی ایک اور بڑی ریفائنری بھی موجود ہے، جس کے 49 فیصد حصص 2017 سے روس کی سرکاری آئل کمپنی روسنیفٹ کے پاس ہیں۔

    جشن آزادی کو خاص جوش و خروش سے منانے کا فیصلہ کیا ہے،سعید غنی

    رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ کے پہلے ہی سال میں یہ دونوں بھارتی نجی ریفائنریز دنیا بھر میں روسی خام تیل کی سب سے بڑی خریدار بن گئیں امریکا نے تیل کی عالمی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اس رجحان کو چند برس برداشت کیا، مگر اب صدر ٹرمپ کی دھمکیوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت اور مکیش امبانی جیسے صنعتی اداروں کو مشکل صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے،روس سے تیل کی خریداری ختم کرنا اس وقت بھارت کے لیے پسپائی کے مترادف ہوگا، اور موجودہ سیاسی ماحول میں کوئی بھی منتخب بھارتی رہنما اس کے نتائج برداشت کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔

    ٹرمپ اور مودی کے موجودہ تعلقات کی اصل وجوہات کیا؟

  • ٹرمپ کا بھارت سے تجارت پر مذاکرات کرنے سے صاف انکار

    ٹرمپ کا بھارت سے تجارت پر مذاکرات کرنے سے صاف انکار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے تجارت پر مذاکرات کرنے سے صاف انکار کردیا۔

    امریکی صدر سے اوول آفس میں صحافی نے سوال کیا کہ ‘ کیا وہ بھارت سے ٹیرف کے معاملے پر بات چیت کریں گے’؟امریکی صدر نے کہا کہ ‘جب تک ٹیرف کا تنازع حل نہیں ہو جاتا بھارت کے ساتھ کسی قسم کے تجارتی مذاکرات نہیں ہوں گے’۔

    واضح رہےکہ امریکی صدر نے چند روز قبل بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا جس کے بعد بھارتی درآمدات پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیاوائٹ ہاؤس کاکہنا تھاکہ صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت پر معاشی دباؤ بڑھا دیا، بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی قیمت چکانا ہوگی-

    پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن اورمذاکرات پر مبنی حل کا حامی ہے،دفتر خارجہ

    امریکی ٹیرف عائد ہونے کےبعد بھارتی وزات خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت پراضافی ٹیرف عائد کرنے کا امریکی اقدام بےحد افسوسناک ہے، بھارت جو کررہا ہے وہی اقدامات کئی دوسرے ممالک بھی اپنے قومی مفاد میں کررہے ہیں، امریکی اقدام ناانصافی پر مبنی، بلاجواز اور غیرمنصفانہ ہیں، بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

    لاہور: دوران چیکنگ کار سوار خاتون نے لیڈی پولیس،اہلکار کا بوتل سے سر پھاڑ دیا

  • غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، یورپی تنظیم کاٹرمپ کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، یورپی تنظیم کاٹرمپ کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    یورپی انسانی حقوق کی تنظیم یورو میڈیٹیرین ہیومن رائٹس مانیٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر غزہ میں نسل کشی میں معاونت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت ہوئی، جن میں کئی کو امریکی نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز اور اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بنایاٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو فوجی، مالی، سفارتی اور سیاسی مدد فراہم کی، جس نے غزہ میں جاری جنگ کو مزید خطرناک بنا دیا، یہ امداد نسل کشی میں معاونت کے زمرے میں آتی ہے، جس پر عالمی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

    مانیٹر کے مطابق امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر غزہ میں امداد حاصل کرنے والے فلسطینیوں پر حملے کیے تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرائیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔