Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • ٹرمپ کی پالیسی سے بیزا رہالی ووڈ اداکارہ  کا امریکا چھوڑنے پر غور

    ٹرمپ کی پالیسی سے بیزا رہالی ووڈ اداکارہ کا امریکا چھوڑنے پر غور

    ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں آزادی سے کام نہیں کر سکتیں اس لیے وہ اپنی ہدایتکاری کے کیریئر کے لیے یورپ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    چند ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی تھی جس کا مقصد فلم سازی کو امریکا تک محدود کرنا تھا اداکارہ نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو انٹرویو میں اس پالیسی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صدر کے احکامات کی اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتیں خواہ وہ درست ہوں یا غلط۔

    کرسٹن اسٹیورٹ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث وہ امریکا میں آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہیں جس کی وجہ سے انہوں نے یورپ میں فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے،انہوں نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس کے تصور کو فلم انڈسٹری کے لیے خوفناک قرار دیا۔

    اپنی ہدایتکاری میں بننے والی پہلی فلم ’دا کرنولوجی آف واٹر‘ کے حوالے سے کرسٹن اسٹیورٹ نے بتایا کہ یہ فلم لاتویا میں شوٹ کی گئی کیونکہ امریکا میں اس منصوبے پر کام کرنا ممکن نہیں تھاٹرمپ کے دور میں حقیقت بکھرتی جا رہی ہے مگر ہمیں اپنی مرضی کی دنیا تخلیق کرنی چاہیے، میں وہاں آزادی سے کام نہیں کر سکتی لیکن مکمل طور پر ہار بھی نہیں ماننا چاہتی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے اداکارہ نے کہ میں یورپ میں فلمیں بنانا چاہتی ہوں اور پھر انہیں امریکی عوام کے گلے اتارنا چاہتی ہوں،

  • کل ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لے جا سکتے ہیں،بھارت کو خدشہ

    کل ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لے جا سکتے ہیں،بھارت کو خدشہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کے اعلان اور اب اس پر عملدرآمد کے آغاز کے بعد بھارت کو خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ کل ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لے جا سکتے ہیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بھارت کو امن بورڈ میں مدعو کیا تھا بورڈ کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم کرنا اور عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دعوت دی گئی تھی، لیکن بھارت اس تقریب میں شریک نہیں ہوا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بورڈ کی رکنیت قبول کرلی، 59 ممالک نے بورڈ پر دستخط کیے جبکہ تقریب میں 19 ممالک کی نمائندگی موجود تھی،بھارت کے لیے یہ فیصلہ کہ بورڈ میں شامل ہونا ہے یا نہیں، مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکا کے تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہےخیال کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کل کشمیر کے تنازعے کو بھی بورڈ میں زیر بحث لا سکتے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق بھارتی سفارت کار اکبر الدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو امن بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بورڈ کی کارروائی اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہو سکتی ہے،یہ قرارداد بورڈ کی مدت کو 31 دسمبر 2027 تک محدود کرتی ہے اور ہر 6 ماہ بعد رپورٹ پیش کرنے کی پابندی عائد کرتی ہے،بورڈ میں شامل ہو کر بھارت بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا امکان

    وزیراعظم شہباز شریف کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا امکان

    وزیراعظم محمد شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، زیورخ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پاکستان کے مستقل نمائندے محمد بلال، سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی سفیر مرغوب سلیم اور پاکستانی سفارتی عملے نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔

    وزیراعظم اجلاس کے مختلف سیشنز میں حصہ لیں گے وہ ورلڈ اکنامک فورم کی میزبانی اور شراکت داری میں منعقدہ بزنس راؤنڈ ٹیبل میں بھی شرکت کریں گےوزیراعظم پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی اصلاحات اور بہتر ہوتے معاشی اشاریوں پر روشنی ڈالیں گے اور ٹرپل او پروگرام (آرڈر، آپرچونیٹی، آپٹیمائزیشن) کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے،اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

    ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

  • امریکہ .گرین لینڈ معاملہ :ٹرمپ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    امریکہ .گرین لینڈ معاملہ :ٹرمپ نے ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پرامریکا کا ساتھ نہ دینے والے ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یکم جون کو ٹیرف میں 10 سے بڑھ کر 25 فیصد تک اضافہ ہو جائیگا، گرین لینڈ کی خریداری کیلئے معاہدہ ہونے تک ٹیرف نافذ رہے گا امریکی صدرنے واضح کیا ہے کہ جوممالک گرین لینڈ کے معاملے پرامریکی مؤقف کی حمایت نہیں کریں گے، انہیں اضافی تجارتی محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ٹرمپ کے مطابق فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈزاورفن لینڈ کوگرین لینڈ کے معاملے پرامریکا کا ساتھ نہ دینے پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائیگا اس کے علاوہ ڈنمارک، ناروے اورسویڈن بھی امریکی ٹیرف کی زد میں ہوں گے،یہ فیصلہ امریکی مفادات کے تحفظ اورعالمی معاملات میں واشنگٹن کے مؤقف کو مضبوط بنانے کیلئے کیا گیا ہے، امریکا اپنے اسٹریٹجک اوراقتصادی مفادات پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریگا، ٹیرف کا نفاذ یکم فروری سے عمل میں آئے گا۔

    پنجاب بارکونسل الیکشن:اعظم نذیر تارڑ گروپ کو برتری،56 امیدوار کامیاب

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان تجارتی اورسفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب گرین لینڈ اور ڈنمارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے گئےگرین لینڈ کے دارالحکومت میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے سامنے احتجاج کیا جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی مظاہرین نے کہا کہ وہ امریکی صدر کی پالیسیوں اور بیانات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، احتجاجی مظاہرے میں گرین لینڈ کے وزیراعظم نے بھی شرکت کی، جنہوں نے ٹرمپ مخالف جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔

    سولر پینل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    اسی طرح ڈنمارک میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر امریکی صدر کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرین نے کہا کہ وہ عالمی سیاست میں امریکی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے مظاہرے جاری رکھے جائیں گے۔

  • ٹرمپ کا  ترک صدر کو اہم خط

    ٹرمپ کا ترک صدر کو اہم خط

    انقرہ، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدررجب طیب ایردوان کوایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں غزہ کی صورتحال کے حوالے سے ایک نئے بین الاقوامی امن اقدام پر تعاون کی دعوت دی گئی ہے۔

    ترک صدارتی دفترنے تصدیق کی ہے کہ خط میں صدرٹرمپ نے ترک صدرکوغزہ کیلئے قائم کیے جانے والے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا بانی رکن بننے کی پیشکش کی ہے خط میں انسانی بحران کے خاتمے، فوری جنگ بندی اورغزہ میں امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے پر زوردیا گیا ہے امریکی صدرنے خط میں ترکی کے علاقائی کردار اورصدرایردوان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکی امن عمل میں کلیدی کردارادا کرسکتا ہے۔

    ترک حکام کے مطابق صدرایردوان نے خط کا بغورجائزہ لینا شروع کردیا ہے اورمناسب وقت پرسفارتی جواب دیا جائے گا، یہ پیشرفت غزہ کے معاملے پرعالمی سفارتکاری میں ایک نئی پیش رفت قراردی جا رہی ہے۔

  • امریکی فوجی وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

    امریکی فوجی وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کے لیے امریکی اسپیشل فورس کے آپریشن کی تفصیلات بتادیں۔

    فوکس نیوز سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اُن دونوں کو ’’ یو ایس ایس آئیو جیما‘‘ جہاز پر سوار کر کے نیویارک کی طرف روانہ کردیا گیا ہےمادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتاری کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحری جہاز تک پہنچایا گیا اور یہ پرواز محفوظ طریقے سے مکمل ہوئی۔

    امریکی صدر کے بقول انھوں نے وینزویلا کے صدر مادورو کو ایک ہفتہ قبل فون بھی کیا تھا اور گرفتاری دیکر امریکی مقدمے کا سامنا کرنے کو کہا تھا،صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں نے کئی امریکیوں کو ہلاک کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری کو لازمی سمجھا گیا۔

    بنگلہ دیش کا ٹی20 ورلڈکپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرانے پر غور

    صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مادورو کی گرفتاری کو مارا لاگو میں ایک کمرے سے براہ راست دیکھا جیسے ٹیلی وژن پر کوئی لائیو شو دیکھا جاتا ہےگرفتاری کا عمل بہت پیچیدہ تھا جس میں امریکی فوجی نے اسٹیل کے دروازے توڑے اور محفوظ شدہ مقامات تک پہنچ کر مادورو کو گرفتار کیا،امریکی فوج کے پاس کارروائی کے لیے ہیلی کاپٹر، فائٹر جیٹس اور دیگر متعدد طیارے موجود تھے اور ہر لمحے کی نگرانی کی گئی۔

    لاہور: وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کا زیر تعمیر نئے حاجی کیمپ کا دورہ

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس پورے ملٹری آپریشن کو انتہائی مہارت اور تیز رفتاری سے انجام دیا گیا ایسی کارروائی کرنا دنیا میں کسی اور ملک کے لیے کرنا ممکن نہیں ہےانھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس پوری کارروائی کے دوران کسی امریکی کا جانی نقصان نہیں ہوا البتہ کچھ اہلکار معمولی زخمی ہوئے تمام فوجی مکمل ساز و سامان کے ساتھ واپس لوٹ آئے، البتہ ایک فوجی ہیلی کاپٹرز کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور اُسے بھی بحفاظت واپس لے آیا گیا ہے۔

    پاکستان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

    واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو امریکی فورسز نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے تھےاس بات کا دعویٰ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو معتبر اور مستند ذرائع کے حوالے سے کیا جو اس واقعے سے واقف ہیں۔

    ان ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا کہ امریکی فوجی کمرے میں داخل ہوئے تھے تو وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ سو رہے تھےیہ گرفتاری امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے انجام دی اور امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    لاہور: وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کا زیر تعمیر نئے حاجی کیمپ کا دورہ

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے ایجنٹس بھی اس خصوصی آپریشن کے دوران موجود تھے اور منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ مادورو کو نیویارک منتقل کیا جائے تاکہ وہ مین ہٹن فیڈرل کورٹ میں مقدمے کا سامنا کریں امریکی حکام نے طویل عرصے تک مادورو کے خلاف قانونی اور خفیہ تحقیقات کیں تاکہ اس وقت کی کارروائی کو درست قانونی بنیاد فراہم کی جا سکے۔

    خیال رہے کہ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی ہے جب امریکا اور وینزویلا کے درمیان گزشتہ ہفتوں میں ہونے والی محدود سفارتی روابط اور مذاکرات کی کوششیں بھی جاری تھیں۔

    سعودی عرب میں پارسل ڈیلیوری سروس کیلئے عائد شرط پر عملدرآمد کا آغاز

    ادھر امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن نے کئی سالوں سے مادورو اور وینزویلا کے بعض اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف فرد جرم تیار کر رکھی ہےامریکی قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق یہ تحقیقات اور شواہد مبینہ الزامات کی بنیاد بنیں گے جو جلد عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

    قبل ازیں امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی نے کہا تھا کہ صدر مادورو جلد امریکی عدالتوں میں سخت جرح کا سامنا کریں گےصدر مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف الزامات میں منشیات کی اسمگلنگ، نارکو ٹیررازم اور مشین گنز و تباہ کن آلات کے قبضے جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر کی یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا نے وینزویلا کے خلاف فوجی دباؤ بڑھا رکھا تھا اور گزشتہ چند ماہ میں سمندری علاقوں میں 20 سے زائد فضائی حملے کیے جا چکے تھے۔

  • کئی ماہ بعد پہلی بار  ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی سطح پر ملاقات

    کئی ماہ بعد پہلی بار ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی سطح پر ملاقات

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور معروف ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کی کئی ماہ بعد پہلی بار عوامی سطح پر ملاقات ہوئی یہ ملاقات قدامت پسند سیاسی کارکن اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے تنظیم کے بانی چارلی کرک کی یاد میں منعقدہ تقریب میں ہوئی۔

    ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایلون مسک امریکی صدر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ خالی نشست پر بیٹھ گئے۔ دونوں نے ہاتھ ملایا اور پھر پرجوش انداز میں گفتگو کرنے لگے یہ ان کی جون 2025 میں ہونے والی علیحدگی کے بعد پہلی عوامی ملاقات تھی،چارلی کرک کے یادگاری پروگرام میں ہونے والی اس غیر متوقع ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔

    https://x.com/elonmusk/status/1969897602524328440

    ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور کیپشن میں لکھا ’چارلی کے لیے‘۔

    ایلون مسک سے ملاقات کے بعد جب صحافیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس ملاقات پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ایلون مسک آئے اور سلام کیا، یہ ایک خوشگوار بات تھی کہ وہ خود چل کر ملنے آئے اور کچھ گفتگو بھی کی، ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور یہ ملاقات خوش آئند رہی۔

    https://x.com/WEdwarda/status/1969898422158434545

    واضح رہے کہ ایلون مسک اور ٹرمپ کے تعلقات میں اس وقت تناؤ پیدا ہوا تھا جب ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر کھلےعام تنقید کی تھی، جس کے بعد وہ حکومتی عہدے سے الگ ہو گئے تھےایلون مسک نے خصوصی حکومتی مشیر کے طور پر 130 دن خدمات انجام دینے کا فیصلہ کیا تھا، جو 30 مئی کو مکمل ہونا تھیں، تاہم انہوں نے مدت مکمل ہونے سے 2 روز قبل ہی استعفیٰ دے دیا،اس کے بعد اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی تھی-

  • ٹرمپ کی  واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی

    ٹرمپ کی واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی

    ٹرمپ نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) تنازع پر واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

    برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ قومی ایمرجنسی نافذ کر کے واشنگٹن ڈی سی کو وفاقی کنٹرول میں لے لیں گے،واشنگٹن ڈی سی کی میئر میوریل باؤزر نے کہا تھا کہ شہر کی پولیس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی، آئی سی ای کے اہلکار غیر قانونی مشتبہ افراد کو حراست میں لے رہے ہیں اور ان پر نسلی پروفائلنگ کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔

    امریکی صدر نے 11 اگست کو شہر کے میٹروپولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ (ایم پی ڈی) کا کنٹرول 30 دن کے لیے سنبھال لیا تھا، نیشنل گارڈ کو فعال کرکے وفاقی اہلکاروں کو تعینات کیا تھا، انہوں نے اسے جرائم اور بے گھری پر کریک ڈاؤن قرار دیا لیکن اسے وسیع پیمانے پر وفاقی اختیارات کے ناجائز استعمال کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

    وزیراعظم ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے

    یہ بات درست ہے کہ واشنگٹن ڈی سی بندوق کے تشدد سے جدوجہد کر رہا ہے، مگر اس کا پرتشدد جرائم کا تناسب 30 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور کئی ری پبلکن ریاستوں کے شہروں کے مقابلے میں کافی کم ہےٹرمپ کی 30 دن کی ایمرجنسی ختم ہو چکی ہے مگر اب بھی 2 ہزار سے زائد نیشنل گارڈ فوجی شہر میں گشت کر رہے ہیں، جن میں سے کئی سو فوجی ری پبلکن ریاستوں سے بھیجے گئے ہیں، یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا مشن کب ختم ہوگا۔

    میوریل باؤزر نے اس مہینے کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مختلف وفاقی اداروں کے درمیان مستقل تعاون کی ہدایت کی گئی، لیکن آئی سی ای کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا،ٹرمپ نے ’ریڈیکل لیفٹ ڈیموکریٹس‘ پر الزام لگایا کہ وہ باؤزر پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ حکومت کو آئی سی ای سے عدم تعاون کے بارے میں آگاہ کرے-

    خیبرپختونخوا : 1351 خطرناک اور انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی موجودگی کا انکشاف،سروں کی قیمت 4 ارب سےزائد

    ٹرمپ نے کہا کہ اگر پولیس نے آئی سی ای کے ساتھ تعاون روک دیا تو جرائم دوبارہ بڑھ جائیں گے،واشنگٹن ڈی سی کے عوام اور کاروباری افراد، فکر نہ کریں، میں آپ کے ساتھ ہوں اور ایسا ہونے نہیں دوں گا، اگر ضرورت پڑی تو میں قومی ایمرجنسی نافذ کر کے وفاقی کنٹرول سنبھال لوں گا-

  • اسرائیلی حملے کے بعد قطری وزیراعظم کی ٹرمپ سے اہم ملاقات

    اسرائیلی حملے کے بعد قطری وزیراعظم کی ٹرمپ سے اہم ملاقات

    قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے وزیراعظم سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔

    بی بی سی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہے، نیویارک میں یہ ملاقات عشائیے پر ہوئی ، لیکن ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کیں،صدر ٹرمپ اور قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کے مابین ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔

    نیویارک میں امریکی صدر کے ساتھ عشائیے سے قبل قطری وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی تفصیلی ملاقات کی،امریکا میں قطری مشن کے نائب سربراہ نے ایکس پر لکھا کہ امریکی صدر کے سے ساتھ زبردست عشائیہ ابھی ختم ہوا ہے،یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل امریکی کے قریبی اتحادی ملک اسرائیل نے قطر کے دارالحومت دوحا میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ کیا تھا۔

    مریم نواز متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے سہولیات کا جائزہ لے رہی ہیں، عظمیٰ بخاری

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ پیر کواسرائیل پہنچ رہے ہیں،امریکی وزیر خارجہ ایک ایسے وقت میں اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں، جب فرانس کی قیادت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر بات ہوگی۔

    دیشا پٹانی کے گھر کے باہر فائرنگ کس نے اور کیوں کروائی؟

  • ٹرمپ نے 4 بار فون کیے، مودی نے کالز وصول کرنے سے انکار کر دیا، جرمن اخبار کا دعویٰ

    ٹرمپ نے 4 بار فون کیے، مودی نے کالز وصول کرنے سے انکار کر دیا، جرمن اخبار کا دعویٰ

    جرمن اخبار فرانکفرٹر الگمائنے سائٹونگ (ایف اے زیڈ) نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے فون پر 4 بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن مودی نے کال وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

    ایف اے زیڈ کی رپورٹ کے مطابق یہ رویہ مودی کے ’غصے اور احتیاط‘ کی شدت کا عکاس ہے، جو روسی تیل کی درآمد روکنے کے لیے بھارت پر امریکی ٹیرف کے دباؤ کے جواب میں سامنے آیا ہےان مبینہ کالز کے پس منظر میں تجارتی کشیدگی میں بڑی شدت شامل ہےٹرمپانتظامیہ،نےبھارتی،مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، جسے روسی تیل کی درآمدات پر سزا کے طور پر بیان کیا گیا تھا، یہ شرح برازیل کے بعد کسی بھی ملک پر عائد کی جانے والی سب سے زیادہ سطح ہے،اسی دوران نئی دہلی نے روسی رعایتی تیل کی خریداری میں اضافہ کر دیا، جس سے واشنگٹن کی ناراضی اور بڑھ گئی۔

    ایف اے زیڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کا بار بار فون کالز سے گریز کسی وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچا سمجھا فیصلہ تھا، تاکہ وہ ٹرمپ کے مخصوص اندازِ گفت و شنید میں نہ پھنس جائیں، ٹرمپ اکثر کسی معاہدے کو باضابطہ طے ہونے سے پہلے ہی عوامی طور پر اعلان کر دیتے ہیں۔

    دریاؤں میں سیلابی صورتحال،بھارت نے پاکستان کو آگاہ کر دیا

    جرمن اخبار کے مطابق ویتنام کے ساتھ ٹرمپ کے نام نہاد تجارتی معاہدے کی مثال ایک انتباہی واقعے کے طور پر دی جاتی ہے، جہاں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر معاہدے کا اعلان کیا، حالاں کہ کوئی معاہدہ موجود ہی نہیں تھا، مودی اسی جال میں نہیں پھنسنا چاہتے۔

    نیویارک کی دی نیو اسکول میں انڈیا۔چائنا انسٹیٹیوٹ کے شریک ڈائریکٹر امریکی سیاسی تجزیہ کار مارک فریزر کا خیال ہے کہ امریکا کی انڈو پیسیفک حکمتِ عملی، جس کے تحت بھارت کو چین کے خلاف امریکی کوششوں میں شریک ہونا تھا، ناکام ہو رہی ہے،بھارت نے کبھی بھی یہ ارادہ نہیں کیا تھا کہ وہ چین کے خلاف امریکا کا ساتھ دے۔

    ٹرمپ خاندان کے نئی دہلی کے قریب لگژری ٹاور منصوبے پر تنقید کی گئی، اسی طرح ٹرمپ کے یہ عوامی دعوے بھی مسترد کیے گئے کہ بھارت-پاکستان جنگ بندی کا سہرا ان کے سر ہے, بھارت نے ان بیانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

    بھارت پر 50 فیصد امریکی ٹیرف کا آج سے نفاذ

    دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری تصدیق شدہ رابطہ 17 جون کو ہوا تھا، جب مودی نے ٹرمپ کی درخواست پر فون پر بات کی تھی، جو پہلگام میں سیاحوں پر حملے اور بھارت کے آپریشن سندور کے بعد یہ ان کی پہلی گفتگو تھی،اس کال کے بعد مودی نے وضاحت کی تھی کہ بھارت-پاکستان جنگ بندی میں امریکا کی کوئی ثالثی شامل نہیں تھی، بلکہ براہِ راست دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت پاکستان کی خواہش پر ہوئی تھی،بھارتی وزارتِ خارجہ نے اعادہ کیا تھا کہ بھارت ایسے معاملات میں کبھی بھی کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کرے گا۔

    پی ٹی آئی کا این اے 129 لاہور کا ضمنی الیکشن لڑنے کا اعلان

    جرمن اخبار نے یہ بھی کہا کہ یہ تمام واقعات بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، لگتا ہے کہ نئی دہلی اپنے تذویراتی شراکت داریوں کو متنوع بنا رہا ہے، اور صرف امریکی فریم ورک پر انحصار کرنے کے بجائے چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہےیہ تبدیلی اس وقت سامنے آ رہی ہے جب بھارت آئندہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے تیانجن جا رہا ہے۔