Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • اب کون ہوں گے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ٹرمپ نے اعلان کرکے سب کو حیران کردیا

    اب کون ہوں گے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ٹرمپ نے اعلان کرکے سب کو حیران کردیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ، اطلاعات کےمطابق  ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ خارجہ میں خدمات انجام دینے والے رابرٹ سی او برائن کو قومی سلامتی کے لیے اپنا مشیر نامزد کر دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ پیغام کے ذریعے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا،

     

    پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں یکساں نظام حکومت نافذ کرنے والی ہے ، جو سیاست سے پاک ہوگا ، وفاقی وزیرتعلیم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ  انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے دلی مسرت ہے کہ وہ رابرٹ سی او برائن کو قومی سلامتی کا مشیر نامزد کررہے ہیں، رابرٹ اوبرائن اس وقت محکمہ خارجہ میں ہوسٹیج افیئرز پر صدر کے نمائندہ خصوصی کے طور پرنہایت کامیابی کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔

     

    امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ  نے مزید کہا کہ رابرٹ سی او برائن کے ساتھ کافی کام کیا ہے، امید ہے کہ وہ آئندہ بھی بہترین کام کریں گے۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے چند روز قبل قومی سلامتی مشیر جان بولٹن کوشدید پالیسی اختلافات پرعہدے سے ہٹا دیا تھا۔

  • کس نے کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں ہم سعودی عرب کی حفاظت کریں گے ، ٹرمپ نے دل کی بات کہہ دی

    کس نے کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں ہم سعودی عرب کی حفاظت کریں گے ، ٹرمپ نے دل کی بات کہہ دی

    واشنگٹن : کس نے کہا ہے کہ امریکہ نے جنگ کی صورت میں سعودی عرب کی حفاظت کاوعدہ کیا ہے ، ایسی کوئی بات نہیں اور نہ ہی امریکہ کو سعودی عرب کی خاطر کسے دوسرے ملک سے جنگ کرنے کی ضرورت ہے ، ٹرمپ نے سعودی توقعات پر پانی پھیر دیا ، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے

    جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا تنقید جاری

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایران ہی سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ملوث ہے تاہم وہ پھر بھی خطے میں جنگ نہیں چاہتے۔ٹرمپ کے بیان سے پہلےامریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران خطے میں موجود اپنے حریف سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے میں براہ راست ملوث ہے۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد امریکا کے صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے کا رد عمل دینے کے لیے تیار ہیں اور اس کے لیے واشنگٹن نے اپنے اہداف بھی لاک کرلیے۔ تاہم تازہ بیان نے امریکی منافقت کی قلعی کھول دی

  • امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،نیتن یاہونےمقبوضہ فلسطین میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پرٹرمپ ہائٹس  کالونی قائم کردی.

    امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،نیتن یاہونےمقبوضہ فلسطین میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پرٹرمپ ہائٹس کالونی قائم کردی.

    مقبوضہ بیت المقدس :امریکہ اور اسرائیل کی فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد ڈونلڈ کو نیتن یاہو کا خراج عقیدت .ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کی کالونی قائم کردی .اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پر یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے ایک نئی بستی کی تعمیر کا افتتاح کر دیا ہے۔ اسرائیل کے زیر قبضہ شام کے اس علاقے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر یہ ’سیٹلمنٹ‘ تعمیر کی جارہی ہے اس کا نام ان ہی کے نام پر ٹرمپ ہائٹس ( ٹرمپ رامات) رکھا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کو "ٹرمپ ہائٹس” کے منصوبے کی تختی کی نقاب کشائی کی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سے متعلق ایک حکم پر دستخط کیے تھے ۔اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دوسرے اعلیٰ امریکی اور اسرائیلی عہدے دار بھی موجود تھے۔اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ "گولان پر اسرائیلی خود مختاری کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کا اب وقت آگیا ہے۔” نیتن یاہو گذشتہ کئی ماہ سے امریکی صدر پر گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کے لیے زور دے رہے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے پہلے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے باون سال سے کنٹرول کے بعد اب امریکا کو کوئی اقدام کرنا چاہیے اوراس کی اس علاقے پر خود مختاری تسلیم کر لینی چاہیے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر 1967ء کی مشرقِ اوسط کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں قبضہ کیا تھا اور 1980ء کے اوائل میں اس کو غاصبانہ طور پر صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور امریکا کے سوا دنیا کے تمام ممالک گولان کو ایک مقبوضہ علاقہ ہی سمجھتے ہیں۔