Baaghi TV

Tag: کاروبار

  • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے-

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 300 روپے کی بڑی کمی ہوئی، جس کے بعد ملک میں ایک تولہ سونا 4 لاکھ 27 ہزار 436 روپے میں فروخت ہونے لگا،اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 687 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 66 ہزار 457 روپے مقرر ہوگئی،جبکہ،بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 43 ڈالر کی کمی سے 4ہزار 050ڈالر کی سطح پر آگئی،ہے-

    اسی طرح، فی تولہ چاندی کی قیمت 174روپے کی کمی سے 6ہزار 223روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 149روپے کی کمی سے 5ہزار 335روپے کی سطح پر آگئی۔

    صرافہ ڈیلرز کے مطابق حالیہ کمی کے بعد زیورات خریدنے کے خواہشمند افراد کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے، تاہم قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث خریدار اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ چند روز کے دوران مقامی مارکیٹ میں مزید کمی یا استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے، تاہم کسی بھی بڑی عالمی معاشی یا سیاسی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئیں

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پیر کو کاروبار کے اختتام پر ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئیں،برینٹ خام تیل کی قیمت 8.42 ڈالر یا 8.7 فیصد کمی کے بعد 88.36 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو 17 جولائی کے بعد اس کی کم ترین سطح ہےامریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 6.70 ڈالر یا 7.5 فیصد کمی کے بعد 82.61 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے،مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

  • عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں پیر کو سونے کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔

    اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,110.56 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر ایک فیصد کے اضافے کے بعد 4,112.10 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا،دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 2.8 فیصد بڑھ کر 59.81 ڈالر، پلاٹینم 2.6 فیصد اضافے سے 1,629.15 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 2.1 فیصد بڑھ کر 1,269.43 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گئی ہے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد قیمت 84 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جو حالیہ دنوں کی بڑی یومیہ کمی میں شمار کی جا رہی ہے برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بھی 4.86 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔مربان آئل 9.44 فیصد سستا ہو کر 97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جسے خلیجی منڈی میں نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

    توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    اسلام آباد: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں آج خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، اوگرا عالمی مارکیٹ کے تناسب سے نئی قیمتوں کا تعین آج کرے گاعالمی مارکیٹ کے تناسب سے پاکستان میں آج قیمتوں میں بڑی کمی متوقع ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ 60 روپے تک اضافہ ہوا، جس میں پیٹرول 24 اور ڈیزل 60 روپے سے زائد مہنگا کیا گیا،حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کو قرار دیا گیا تھا۔

    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے مجوزہ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے کاروباری منصوبہ بندی، اسٹاک مینجمنٹ اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ضرورت ہے۔

  • سونے کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت 3 ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 053ڈالر کی سطح پر آگئی ، مقامی صرافہ بازاروں میں کاروباری ہفتے کے آخری دن فی تولہ سونے کی قیمت بھی 300روپے کے اضافے سے 4لاکھ 27ہزار 736روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 257روپے بڑھ کر 3لاکھ 66ہزار 714روپے کی سطح پر آگئی،اسی طرح مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 12روپے کی کمی سے 6ہزار 297روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 10روپے کی کمی سے 5ہزار 398روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج پھر کمی

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج پھر کمی

    عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج پھر کمی ہوئی ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46ڈالر کی کمی سے 4ہزار 050ڈالر کی سطح پر آگئی،کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعہ کو فی تولہ سونے کی قیمت 4ہزار 600روپے کی کمی سے 4لاکھ 27ہزار 436روپے کی سطح پر آگئی اور فی دس گرام سونے کی قیمت 3ہزار 944روپے کی کمی سے 3لاکھ 66ہزار 457روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 61سینٹس کی کمی سے 58ڈالر 30سینٹس کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 61روپے کی کمی سے 6ہزار 309روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت 53روپے کی کمی سے 5ہزار 408روپے کی سطح پر آگئی۔

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے،جو گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہےجبکہ عالمی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 91.65 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

    دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد کم ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہےخبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔

    حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے،یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہےجمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں 6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

    برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر، یعنی تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے،گزشتہ روز بھی برینٹ خام تیل کی قیمت 3 ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ 94.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی،امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 1.44 ڈالر، یعنی 1.7 فیصد اضافے کے بعد 88.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،اس سے قبل بدھ کے روز اس کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیاں عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے باعث عالمی تیل منڈی میں بے یقینی اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 20 لاکھ بیرل اضافہ ہوا یہ اضافہ ریفائنریوں کی سرگرمیوں میں کمی، خام تیل کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث سامنے آیا، جبکہ ماہرین نے اس کے برعکس 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں آج بھی اضافہ ریکارڈ ہوا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج بدھ کے روز بھی فی اونس سونے کی قیمت میں 46ڈالر کے اضافے کے بعد نئی عالمی قیمت 4ہزار 114ڈالر کی سطح پر آگئی،جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے تیسرے دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 4ہزار 600روپے کا اضافہ ہونے کے نتیجے میں نئی قیمت 4لاکھ 33ہزار 836روپے کی سطح پر آگئی،جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 3ہزار 944روپے بڑھ کر 3لاکھ 71ہزار 944روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    دوسری جانب ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 7روپے کے اضافے سے 6ہزار 403روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 6روپے کے اضافے سے 5ہزار 489روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

  • ریاستی بینک کا  آئندہ ہفتے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان

    ریاستی بینک کا آئندہ ہفتے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان

    ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ ہفتے ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اپنی بنیادی شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھ سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے ملک میں مہنگا ئی میں بہتری اور شرح سود میں کمی کے حق میں بڑھتے ہوئے دلائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے،ا سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 27 جولائی کو متوقع ہے، ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق 97 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ 27 جولائی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا، جبکہ صرف 3 فیصد نے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع ظاہر کی ہےسخت مانیٹری پالیسی، محتاط مالیاتی نظم و ضبط، بہتر ہوتی ہوئی کریڈ ٹ ریٹنگ اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کی بدولت پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال مستحکم ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

    اے کے ڈی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کو ہدف بناتے ہوئے بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں نے عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھا دی ہےاس کے علاوہ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع سیلاب بھی مہنگائی کے نئے خدشات پیدا کر سکتے ہیں ان عوامل کے پیش نظر ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھے گا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اسی نوعیت کی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 18 جون 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد کشیدگی میں کمی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں نرمی سے مارکیٹ میں آئندہ 2 سے 3 مانیٹری پالیسی اجلاسوں کے دوران مجموعی طور پر 100 سے 150 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں کمی کی توقعات پیدا ہو گئی تھیں تاہم گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ان تو قعات کو کمزور کر دیا ہے، جس کے باعث اب امکان یہی ہے کہ 27 جولائی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔