Baaghi TV

Tag: کاروبار

  • شناختی کارڈ کی شرط پر حکومت کا واضع اعلان

    شناختی کارڈ کی شرط پر حکومت کا واضع اعلان

    کراچی:اگست سے پورے ملک میں 50 ہزار سے زائد کی خریداری کرنے والوں کو ہر حال میں شناختی کارڈ دینا ہوگا، اور اگر آپ بین الاقوامی خریدار ہیں تو آپ کو اپنا پاسپورٹ ظاہر کرنا ہو گا،
    ان لینڈ ریونیو کے چیف کمشنر بدرالدین احمد قریشی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ غیر تصدیق شدہ خریداروں کی پہچان کرنے کیلئے اور ان کی ٹیکس چوری روکنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے، شناختی کارڈ کو لازمی قرار دینے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جو کاروباری حضرات اپنا مال برآمد کرتے ہیں اور ملک میں بیچتے ہیں ان کا ریکارڈ بھی ایف بی آر کے پاس ہو گا کہ کتنا مال ملک سے باہر برآمد کیا گیا اور کتنا ملک میں بیچا گیا ہے،
    چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نےکہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل سیکٹر ہر سال 1200 ارب کی ٹیکسٹائل پراڈکٹس فروخت کرتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی مقدار صرف 6 ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کر رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ کہ پاکستان کا ٹیکس نظام ڈاکومنٹڈ نہیں ہے،

  • چائنہ ایک بار پھر پاکستان کیلئے میدان میں آگیا

    چائنہ ایک بار پھر پاکستان کیلئے میدان میں آگیا

    اسلام آباد:باغی ٹی وی(ویب ڈیسک) چائنہ کی آٹھ کمپنیوں نے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے،
    بروز جمعہ آٹھ کمپنیوں کے وفد نے شنگھائی کی یوآنی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی سربراہی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی،
    اس ملاقات کے موقع پر وزیراعظم نے سرمایہ کاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کاروبار کے کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کیلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے

  • سندھ سے تیل و گیس کے نئے زخائر دریافت

    سندھ سے تیل و گیس کے نئے زخائر دریافت

    کراچی: آئل اینڈ گیس ڈویلپمینٹ کمپنی نے سندھ کے علاقے سانگھڑ میں پانڈھی نمبر1 پروجیکٹ سے تیل اور گیس کے بڑے زخائر کی کھوج لگا لی، آئل اینڈ گیس کمپنی کے چیف سیکرٹری احمد حیات لک نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹیفیکیشن میں دریافت ہونے والے زخائر میں بتایا کہ 9.12 ملین کیوبک فیٹ گیس روزانہ کی بنیاد پر نکلنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ کے خام تیل کا روزانہ کا والیم 512 بیرل بتایا جا رہا ہے
    یہ کھوج آئل ایند گیس ڈویلپمینٹ کمپنی کی اس جارحانہ پالیسی کا نتیجہ ہے جو کہ موجودہ حکومت کی لوکل آئل اینڈ گیس کے پروگرام کی وجہ سے دریافت ہوئی ہے اس منصوبے کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد ملک کی آئل و گیس کی 20 فیسد کھپت کو پورا کیا جاسکے گا اور ہر سال پاکستان کے اربوں ڈالر جو کہ تیل کی درآمد پر خرچ ہوتے ہیں بچ سکیں گے

  • ‘ امریکہ پابندیاں لگا کر خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار رہے ‘

    ‘ امریکہ پابندیاں لگا کر خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار رہے ‘

    انقرہ: ترکی کے وزیرحارجہ میولٹ کیویسگلو نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایس فور ہنڈرڈ کے معاملے میں ترقی اپنے موقف پر قائم ہے کہ روس سے ایس فور ہنڈرڈ کا معاہدہ صرف اور صرف دفاعی قوت کو بڑھانے کیلئے کیا ہے نہ کہ کسی ملک پر دھاوا بولنے کیلئے، اور اگر امریکہ ہم پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے تو جوابی وار کیلئے بھی تیار رہے،
    تفصیلات کیمطابق ٹی جی آرٹی براڈکاسٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی پر کوئی پابندیاں نہیں لگانا چاہتے اور نہ وہ ایسا وائٹ ہاؤس کو کرنے دینا چاہتے ہیں

  • پاکستانی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

    پاکستانی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

    اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مالی سال2024 تک پاکستان کی برآمدات کا حجم 36.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف نے یہ پیشگوئی اپنی حالیہ اسٹاف رپورٹ میں کی ہے
    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی حسارہ جو کہ 2017 میں 19.7 ارب ڈالر تھا اس میں بتدریج کمی آئی ہے اور 2018 کے مالی سال میں مالیاتی حسارہ مزید 6.95 ارب ڈالر گر گیا ہے اورامکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مالی سال میں یہ حسارہ مزید گر کر 5.49 ارب ڈالر رہ جائے گا
    آئندہ مالی سال میں ٹیکسوں کی وصولی 7.011 ارب ٹریلین تک رہنے ، سال 2000-21 میں 8.3 ٹریلین اورمالی سال 2022-23 تک ٹیکسوں کی وصولی کا حجم 9.48 ٹریلین تک پہنچنے کا امکان ہے

  • ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    اگر ہماری اکانومی ایک ڈاکیومینٹڈ اکانومی ہوتی جس میں برسوں سے لوگوں کا سارا ڈیٹا ان کی ساری انکم اور اثاثے یعنی منی ٹریل ہر لمحہ مرتب ہورہی ہوتی تو کسی بھی جعلی رسید ، اووربلنگ یا انڈر انوائیسنگ کو ایک دو چیکس لگا کر کراس چیک کیا جانا مشکل نہ ہوتا اور ہمارے لین دین کے معاملات میں اتنے گھپلے ، اتنی دو نمبریاں اور اتنی پیچیدگیاں نہ ہوتیں ۔

    سب سے پہلے تو اس طرح سے ملزم عاطف کے پاس کروڑوں روپے جمع ہی نہیں ہو پاتے ۔ بینکنگ چینل سے اتنی اتنی بڑی بڑی رقوم کا ایک ہی شخص کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونا پہلے دن ہی نوٹس میں آجاتا ۔ FBR سے لیکر اسٹیٹ بنک کے اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ تک نوٹسز آچکے ہوتے کہ میاں کونسا کام ہورہا ہے کہ ڈیڑھ دو سالوں میں ہی آپکے اکاونٹ میں یہ پانچ کروڑ ، دس کروڑ یا پچپن کروڑ تک کیسے آگئے۔ دوسری طرف دینے والوں کے پاس بھی پہلے تو اس طرح اتنا پیسہ جمع ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کے پاس گھر یا گاؤں کی زمین بیچ کر آتا بھی تو وہ اسے اس طرح بغیر کسی لکھت پڑھت کبھی کسی عاطف کے حوالے نہ کرتا ۔

    مرید کا دوسرا قاتل ہمارا اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرہ بھی ہے جس نے نفسا نفسی کو اس قدر زور دے رکھا کہ ہر شخص بہت کچھ بہت جلدی کرنے کے چکر یا خواہش میں ہے ۔ سب کو بہت کچھ فورا فورا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے نے یا ریاست نے بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیح نہیں بنایا لہذا مستقبل کے خدشات نے ہم سب کو پروفیشنل وولچرز بنا دیا ہے ایک عاطف ہی کیا یہاں پر شخص ہی ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے کما رہا ہے No wonder کے ہم دنیا کی چند بدعنوان ترین قوموں میں سرفہرست ہیں باوجود اسکے کہ سب سے زیادہ زکوۃ ، خیرات ، صدقات، حج ، عمرے ، کرنے میں بھی ہماری ہی قوم آگے ہے ۔ سارا رمضان زیادہ پرافٹ لینے والے حاجی صاحب شب قدر کی راتوں میں حرم شریف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکیومینٹیشن سے بھی انکاری ہیں ۔

    دیکھا جائے تو ڈاکیومینٹیشن کا ایمانداری سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اور یہ دین اسلام کا بڑا شدید تقاضہ بھی ۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ قرآن کریم میں سب سے طویل آیت مبارک مبارکہ ، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 282 ہے اور یہ نماز روزہ حج یا زکوۃ سے متعلق نہیں بلکہ لین دین ، قرض دینے لینے ، یعنی پیسے کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی کی Documentaion یعنی باقاعدہ لکھت پڑھت کے متعلق ہے ۔ زبانی قول و قرار نہیں بلیک اینڈ وائٹ میں کاغذ کے اوپر تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آئے ۔ اسی سے کام کاج میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور کسی کے لیے بھی اپنی بات سے پھرنا یا مکرنا مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے لکھنے کے ساتھ ساتھ گواہوں کی موجودگی کی بھی شرط رکھی ہے گواہوں کو کہا گیا کہ کبھی شہادت نہ چھپانا اور گواہوں کا معیار تک بتایا ہے لکھنے والے کاتب تک حکم کہ جو قرض لینے والا لکھے ویسا ہی ایمانداری سے لکھو ۔ کیونکہ ڈاکیومینٹیشن کو اپنا کر ہی کوئی سوسائٹی ہر وقت کی جھک جھک سے بچ سکتی ہے اور افراد معاشرہ بھی ایک دوسرے سے لوٹے جانے یا ڈز کھانے کے ڈر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

    جس معاشرے میں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور written فارم میں ہوگی وہاں بے ایمانی اور دھوکے بازی کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے ۔ چھوٹے سے چھوٹے فرد سے لیکر بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی اگر یہ احساس ہو کہ اس سے کسی بھی وقت چیک اینڈ بیلنس سے گزرنا پڑ سکتا ہے تو وہ بھی کسی بلیک اکانومی کا حصہ بننے سے کنی کترائے گا ۔ اس لینڈ کروزر کا کیا فائدہ جسے روڈ پر لے کر نکلتے ہی پوچھا جائے کہ SHO صاحب رسیداں کڈھو ، کدھر سے لی اور کیسے لی تو پھر کون جلتی میں ہاتھ ڈالے گا ۔ ظاہر ہے مکمل خاتمہ شاید نہ ہو پائے لیکن ایک بند تو بندھے گا ۔ بات لمبی ہونے کا ڈر ہے ورنہ تو اپنے گلی محلوں میں ہونے والی بے ہنگم تعمیرات، پارکوں کے اجڑنے یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کے پیچھے جائیں تو کہیں نہ کہیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا رشوت خور اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان سب کو پتہ ہے بھلے ان کی تنخواہیں تیس پینتیس چالیس پچاس ہزار روپے ہیں اور ان کا لائف اسٹائل کسی بھی طرح لاکھوں روپے کمانے والے لوگوں سے کم نہیں بلکہ کئی سولہ سترہ گریڈ کے اہلکاروں کو بادشاہوں والی زندگی گذارتے ہوئے تو ہم سے اکثر لوگ دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔ بابو کو بھی ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا کیونکہ کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ اور اگر پوچھے تو گاڑی اماں کے نام پلاٹ ، بنگلہ بیوی کے نام فلاں چیز اس کے نام تو فلاں چیز اسکے نام دکھا کر کھاتا پورا کرکے دکھا دو ۔ دو کروڑ کی گاڑی تیس لاکھ کی شو کر دو ۔ کون پوچھے گا پلٹ کر ۔
    جو بیچنے والا ہے وہ بھی ڈبل ڈبل کھاتے بنا کر چل رہا ہے ۔ ایک گنگا ہے جس میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے ۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں اور اپنی اکانومی کو ڈاکیمینٹڈ بنانے میں پورا ساتھ دیں ۔ کیونکہ اس بلیک یا undocumented economy کے دیمک نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی وجود کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ اسی بلیک اکانومی کی وجہ سے رشوت لینے والے ، زیادہ منافع کما کر کم ٹیکس دینے والے اور کسی بھی غلط طریقے سے زیادہ سے زیادہ wealth accumulateکرنے والے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ وہ اتنی ویلتھ کہاں پارک کرے گا ۔ یہ اسی بے فکری کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس سے لیکر عدلیہ اور تعلیم سے لیکر صحت تک کے ادارے میں اس کرپشن کے ناسور نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ڈاکیومینٹیشن کا سوچ کر سب کی جان نکلے جارہی ہے ۔ ڈاکیومینٹیشن ہوگی تو ریاست اور ادارے کسی بھی بندے سے پوچھ سکیں گے کہ بھائی آپ کی تنخواہ ، دکان کی کمائی ، سرکاری نوکری میں تو آپ کا یہ طرز زندگی یہ ہائی فائی لائف اسٹائل اور بڑی بڑی Gatted societies میں رہنا تو افورڈ ہی نہیں ہو سکتا تو یہ سب کیسے چل رہا ہے ؟ ذرا وضاحت کردیجیے ۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو اس میں کیا برا ہے ؟ ۔ کسی بھی صحیح انسان کو اس میں تو کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہئیے کہ وہ ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ بنے اور ہر ٹرانسیکشن کا ایک بلیک اینڈ وائٹ ثبوت لے بھی اور دے بھی ۔

    اس کوشش اور جدوجہد میں سیاسی وابستگی یا لبرلز اور مذہبی کی تخصیص رکھنا اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرنا ہوگا ۔ ڈاکیومینٹیشن تو ہر معاشرے کی ضروت ہے چاہے سیکولر ہو یا وحی کا ماننے والا ۔ ڈاکیومینٹشن تو ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کی زندگی کو امن سکون تحفظ اور بہتر ماحول دے سکے گی ۔امن اور سکون ہوگا تو سب کو اپنی دوسری خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر نئی خصوصیات پیدا کرنے کا وقت بھی مل سکے گا اور حوصلہ بھی ہوگا کہ اب مقابلہ محنت کا محنت ، ذہانت کا ذہانت اور Creativity کا Creativity سے ہوگا ۔

  • ٹویوٹا انڈس موٹرز نے پاکستانیوں کو خوش کر دیا …

    ٹویوٹا انڈس موٹرز نے پاکستانیوں کو خوش کر دیا …

    کراچی: ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر میں مدد کرنے کے عزم کے تحت وزیراعظم عمران خان کو 20 ملین روپے کا ایک اور چیک پیش کردیا ،
    اکتوبر 2018 میں ٹویوٹا انڈس موٹرز نے دیامر بھاشا اور مہند ڈیم کی تعمیر کیلئے پانچ سالوں میں 100 ملین روپے جمع کروانے کا اعلان کیا تھا ، جبکہ یہ بیس ملین روپے کا دوسرا چیک ہے جو وقت سے پہلے پیش کردیا گیا ،

  • تحریک انصاف کی بڑی کامیابی …

    تحریک انصاف کی بڑی کامیابی …

    اسلام آباد: پچھلے ایک سال میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 31.7 فیصد کم ہوگیا، اور ماہرین معیشت تجارتی خسارے میں زبردست کمی کو موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی مان رہے ہیں، پاکستان اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق پاکستان کا موجودہ تجارتی خسارہ 13.587 ارب ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے، اس کے برعکس پچھلے مالی سال میں تجارتی خسارہ 19.897 ارب ڈالر تھا،

    پاکستان کی بری معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کے درمیان پائے جانے والے فرق کا بڑھنا ہے، اور اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس فرق کو حتم کرنے اور معیشت کو صیح راستے پر استوار کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور اس کے اچھے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .

     

  • دبئی بنا کاروں کا قبرستان

    دبئی بنا کاروں کا قبرستان

    بینٹلے، فیراری، رینج روور، رولس رائس اور دیگر قیمتی ترین سپر اور اسپورٹس کاروں کا قبرستان دبئی کے قریب شارجہ کا ایک میدان ہے جہاں قیمتی کاریں کباڑ خانے میں تبدیل ہو رہی ہیں ۔
    دبئی میں جب 2012 میں شدید معاشی بحران آیا تھا تو ان کاروں کے مالکان اپنی پر تعیش زندگی کو مزید جاری نہ رکھ سکے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے گے ۔ ان مقروض باشندوں میں زیادہ تر امریکی اور برطانوی لوگ تھے جو قرض کی واپسی اور گرفتاریوں کے ڈر سے یہاں سے بھاگ نکلے ۔ بعض افراد کی گاڑیاں ائیرپوٹ پر ہی موجود ہیں جن کے اندر چابیاں لگی ہوئی ہیں ۔
    یہ مہنگی ترین لگثری گاڑیاں وہی پڑی پڑی خراب ہو کر مٹی میں مل رہی ہیں ۔