Baaghi TV

Tag: کاروبار

  • پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے خواہ ہاں ہیں، مصری سفیر

    پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے خواہ ہاں ہیں، مصری سفیر

    پاکستان میں تعینات مصری سفیر احمد فضل یعقوب نے کہا ہے کہ مصر ہاکستان میں مزید سرمایہ کاری کا خواہ ہاں ہے اور مصری کمپنیاں پاکستان میں فارما سیوٹیکل ، زراعت، لائیو سٹاک، سیاحت اور تعمیراتی شعبے میں محفوظ سرمایہ لگانے میں دلچسپی رکھتی ہیں،

    پاکستان اور مصر کے درمیان تجارتی حجم 260 ملین ڈالر کے قریب ہے، پاکستان اور مصر کے نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر کیا، سفیر نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے مشترکہ فریم ورک کو آگے لے کے جانے کی ضرورت ہے، باہمی تجارت اگلے پانچ سال میں ایک ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہے،

    مصری سفیر نے مزید کہا کہ مصر اور پاکسستان کے درمیان چیمر آف کامرس کی سطح پر تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، وزارت کامرس کی جوائنٹ سیکرٹری ماریہ قاضی نے اس موقع پر کہا کہ مصر پہلا افریقی ملک ہے جس کا پاکستان کے ساتھ پہلا جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے، گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہا کہ حلال فوڈ اہم مارکیٹ ہے اس میں باہمی تعاون کے مواقع تلاش کیے جائیں

    بھارتی ناظم الامور حاضر ہوجائے، دفتر خارجہ طلبی

  • 14 لاکھ پنشنرز کو اے ٹی ایم کارڈ دیئے جائیں گے

    14 لاکھ پنشنرز کو اے ٹی ایم کارڈ دیئے جائیں گے

    پاکستان پوسٹ نے ملک بھر میں عسکری اداروں کے 14 لاکھ کے قریب پنشنرز کو اے ٹی ایم کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،

    پاکستان پوسٹ کی جانب سے ملک بھر میں آرمی ، نیوی، ائیر فورس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 14 لاکھ کے قریب پنشنرز کو پوسٹ آفسز کے زریعے پنشن ادائیگی کی جاتی ہے جسے سہل بنانے کیلئے پاکستان پوسٹ کی جانب سے پنشن ادائیگی کو اے ٹی ایم پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، پہلے مرحلے میں ملک بھر کے جی پی اوز میں اے ٹی ایم کارڈ کے زریعے پنشن حصول کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، پھر مختلف مراحل میں ملک کے تمام بینکوں کو اس نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے گا

    لیسکو کا انڈسٹریل یونٹس کیلئے بجلی کے نرخ کم کرنے کا اعلان

  • کویت  نے پاکستانیوں کیلئے دروازے کھول دیئے

    کویت نے پاکستانیوں کیلئے دروازے کھول دیئے

    کویت نے پاکستان سے افرادی قوت کی درآمد کیلئے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کرنے کیلئے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے،

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفقار بخآری اور کویت کی وزیر اکنامک افیئرز مریم ہاشم کے درمیان کے درمیان ابوظہبی ڈائیلاگ کے پانچویں وزارتی سیشن کے موقع پر ملاقات میں اتفاق کیا گیا، وزارت اوورسیز کے اعلی آفیسر نے بتایا کہ کویت پاکستان سے صحت، تعلیم، زراعت اور تعمیرات سے متعلق افرادی قوت کو درآمد کریگا اور مفاہمتی یاد داشت کے بعد کویتی لیبر مارکیٹ پاکستانی افرادی قوت کیلئے کھل جائے گی، ابو ظہبی میں ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے اعلی حکام نے پاکستانیوں کیلئے کویت کے ویزا پراسس کو آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا،

    مزید پڑھیں
    لیسکو کا انڈسٹریل یونٹس کیلئے بجلی کے نرخ کم کرنے کا اعلان

  • لیسکو کا انڈسٹریل یونٹس کیلئے بجلی کے نرخ کم کرنے کا اعلان

    لیسکو کا انڈسٹریل یونٹس کیلئے بجلی کے نرخ کم کرنے کا اعلان

    لاہور: لیسکو کے چیف ایگزیکٹو مجاہد پرویز چٹھہ کا کہنا ہے کہ ایسے تمام انڈسٹریل فیڈرز جن پر گھریلو اور کمرشل لوڈ بھی شامل ہے ان کا لوڈ انڈسٹریل فیڈرز سے الگ کر دیا جائے گا،

    انہوں نے کہا صنعتوں کیلئے بہت جلد پیک آورز کی جگہ رعائتی آورز دئیے جائیں گے، جن کے دوران صنعتوں کو رعایتی قیمتون پر بجلی فراہم کی جائے گی، انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس کے دوراے کے ،وقع پر صنعتکارون سے گفتگو کے دوران کہی، صدر چیمبر عرفان اکرم شیخ اور سنیر نائب صدر علی احسان سمیت ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران اور صنعت کاروں نے چیف ایگزیکٹو کو لیسکو سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا،

    مزید پڑھیں
    ایس ای سی پی نے کریڈٹ ریٹنگ کمپنیز کے ضوابط میں ترامیم کر دیں

  • ایس ای سی پی نے کریڈٹ ریٹنگ کمپنیز کے ضوابط میں ترامیم کر دیں

    ایس ای سی پی نے کریڈٹ ریٹنگ کمپنیز کے ضوابط میں ترامیم کر دیں

    اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کریڈٹ ریٹنگ کمپنیوں کے فروغ، ان کے معیارات کو بہتر بنانے اور کاروباری آسانیاں فراہم کرنے کے پیش نظر کریڈٹ ریٹنگ کمپنیز ضوابط 2016 میں ترامیم متعارف کروا دیں،

    کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کوسہولت فراہم کرنے اور ان کی کاروباری لاگت میں کمی کیلئے ریگولیشنز میں سےپرایئویٹ ریٹنگز سے علیحدگی کی دو سالہ لازمی مدت شرط، متعلقہ اداروں کی سالانہ فنانشل سٹیٹمنٹ کی فراہمی اور نادہندگی ست متعلقہ دستاویزات کی شرائط حتم کر دی گئ ہیں، اس کے علاوہ متعلقہ انڈسٹری پر تجزیاتی ررپورٹوں کی فراہمی، درخواست کی اضافی نقول، تجدید شدہ تعلیمی کوائف اور کریڈٹ ریٹنگ کمپنیوں کے فنانشل سٹیٹمنٹس کی ان کی ویب سائٹس پر لازمی تشہیر کی شرائط بھی حتم کردی گئی ہیں، پیشہ ور افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے انفرادی اشحاص کو کریڈٹ ریٹنگ کمپنی 40 فیصد شیئرز رکھنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے،

    اخبارفروش کا بیٹابازی لے گیا

  • امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم میں اضافہ

    امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم میں اضافہ

    رواں مالی سال کے دوران امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 5.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے لیکر ستمبر تک کے عرصہ کے میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے 911.69 ملین ڈالرز زرمبادلہ ملک ارسال کیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ سے 5.67 فیصد زیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں 862.76 ملین ڈالرز کا زرمبادلہ ملک ارسال کیا تھا، ستمبر میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے 420 ملین ڈالرز کا زرمبادلہ ملک بھیجا

    مزید پڑھیں
    جاپان کی کمپنی انرجی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی

  • جاپان کی کمپنی انرجی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی

    جاپان کی کمپنی انرجی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی

    وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر اختر ملک سےجاپانی وفد نے ملاقات کی، وفد کی قیادت کلین انرجی کمپنی کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ مسٹرکافو یاستورو نے ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان میں جاری توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے اہم گفتگو کی،

    صوبائی وزیرتوانائی ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا تھا کہ جاپانی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں اچھی ساحت کی حامل ہے، پنجاب میں ونڈ اور سولر کے میدان میں جاپانی کمپنی کی سرمایہ کاری خوش آئند ہے ، سولر انرجی پاکستان کا مستقبل ہے جاپانی سرمایہ کاوں کو ہر ممکن تعاون دیں گے، موجودہ حکومت ماحول دوست اور مقامی زرائع سے توانائی کی پیداوار کو ترجیح دے رہی ہے، فوکایا کاستورو کا اس موقع پر کہنا تھا کہ محمکہ توانائی کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہیں، پنجاب کی انرجی پالیسی سولر کے میدان میں سرمایہ کاروں کیلئے حوصلہ افزا ہے،

    مزید پڑھیں
    شہباز شریف نے آزادی مارچ کے غبارے سے ہوا نکال دی

  • کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر حکومت کو ٹیکسز بڑھانے کا کہے گا ؟

    کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر حکومت کو ٹیکسز بڑھانے کا کہے گا ؟

    عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے ٹیکنیکل مشن نے پاکستان کے زوال پذیر ٹیکس نظام کے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کردیا۔

    گزشتہ روز شروع ہونے والے مذاکرات میں ٹیکس سسٹم کے جائزے پر گفت و شنید ہوگی جو رواں برس اضافی ٹیکسوں کی مد میں 734 ارب کی لیوی کے باوجود خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھاسکا۔ آئی ایم ایف مشن خاص طور سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کو زیر غور لائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس سے استثنیٰ وزیراعظم کے ڈیٹ انکوائری کمیشن کے ریڈار پر بھی ہے۔

    کمیشن نے پاکستان پیپلزپارٹی ( 2008-13 ) اور پاکستان مسلم لیگ ( ن ) ( 2013-18) کے گذشتہ ادوار میں دیے گئے استثنیٰ کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔
    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق پہلے روز آئی ایم مشن نے ایف بی آر کے ساتھ اجلاس میں سیلزٹیکس اور کارپورٹی انکم ٹیکس کے معملات پر تفصیلی گفتگوکی۔ آئی ایم ایف مشن پاکستان میں 2 ہفتے تک قیام کرے گا اور اس دوران وفاقی اور صوبائی ٹیکس حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔

    ٹیکینکل اسسٹنس ٹیم کی ملاقاتیں 29 نومبر کو ختم ہوں گی اور اسی تاریخ کو آئی ایم ایف کا جائزہ مشن جولائی تا ستمبر کے عرصے کے دوران 6 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا ٹیکنیکل مشن سیلزٹیکس سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ واضح رہے کہ مجموعی ٹیکس محصولات میں سیلز ٹیکس کا حصہ 40 فیصد ہے۔ مشن کی توجہ سیلز ٹیکس اخراجات، استثنیات، اور گنجائش کے مقابلے میں کم محصولات جمع ہونے پر مرکوز رہے گی۔

    سروے آف پاکستان کے مطابق گذشتہ مالی سال میں ٹیکس استثنیٰ سے 972.4 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا جو گذشتہ سے پیوستہ مالی سال کے 431 ارب روپے کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہے۔ اس نقصان میں انکم ٹیکس استثنیات کا حصہ 141.6 ارب روپے تھا۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کارپوریٹ ٹیکس اور بڑی فرموں کو دیے جانے والے استثنیٰ کا بھی جائزہ لے گی۔ ٹیم انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکنڈ شیڈول کو بھی تفصیلاً زیربحث لائے گی جو ٹیکس استثنیٰ سے پُر ہے اور جس میں بڑے کاروباروں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو رعایتیں دی گئی ہیں۔ ٹیم کسٹم ڈیوٹی اسٹرکچر اور کم محصولاتی آمدنی کی وجوہ کا بھی جائزہ لے گی۔

  • پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    اب تک تقریبا ہر شخص یہ تسلیم کرچکا ہے کہ کھپت پر مبنی ترقی کا ماڈل جس پر پاکستان بہتر شرح نمو کو حاصل کرنے کے لئے بھروسہ کرتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ زیادہ تر مبصرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ پاکستان کو ترقی کے کلیدی محرک کی حیثیت سے برآمدات کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ اس بیانیہ نے موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو استحکام کے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لئے اہم گنجائش فراہم کی ہے جس کا مقصد کھپت پر قابو پانا ہے جبکہ بیک وقت ، صنعتوں کو برآمد کرنے کے لئے مراعات فراہم کرنا ہے۔

    تاہم ، بیشتر مبصرین کی یہ اور اس جیسی پالیسی تجاویز نے اس غلط فہمی کو جنم دیا ہے کہ معاشی عدم توازن کا ازالہ کرنے کے لئے صرف استحکام کی پالیسیاں ہی کسی نہ کسی طرح اعلی نمو کے راستے کو جنم دیتی ہیں جو کہ آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج سے بچا لیتی ہیں یہ غلط ہے۔

    استحکام کی پالیسیاں جس میں مالی اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں معیشت کو اس کی بنیادی پیداواری شرح نمو کے گرد مستحکم کرتی ہیں۔ اس کو دیکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ، جب بھی جی ڈی پی بنیادی پیداواری شرح نمو سے زیادہ بڑھتی ہے ، معاشی عدم توازن سامنے آنا شروع ہوتا ہے ، جس سے پالیسی سازوں کو استحکام کی پالیسیوں کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اگر 2013 سے 2018 تک کے مالی سال اور ان کی جی ڈی پی گروتھ کی بات کی جائے تو ان سالوں میں شرخ نمو 4 فیصد سے زائد رہی لیکن کرنٹ اکاونٹ خسارہ کل جی ڈی پی کا 1.54- سے 6.14- تک جا پہنچا ، جس کے نتائج ابھی تک موجودہ حکومت بھگت رہی ہے،

    اسی طرح کی صورتحال مالی سال 2004 سے 2008 کے درمیان پیدا ہوئی جب جب ملک کی جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد سے زائد تھی لیکن پانچ سال بعد کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو کہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد تھا وہ 9.2 فیصد تک جا پہنچا، ان دونوں ادوار میں خسارے کی بنیادی وجہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کا دیر بعد ہونا ثابت ہوئی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ اپنی ترقی کی شرخ 5 فیصد سے اوپر لیکر جانا چاہتے ہیں تو اس کی بنایدی وجہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے نہ کہ مانیٹری یا مالیاتی پالیسی کی توسیع ہونی چاہیے،

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

    ہماری توجہ کو پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی طرف موڑنے کی اہمیت کو اس اہم کردار کو تسلیم کرکے مزید سراہا جاسکتا ہے جو اس نے ملک کی برآمدات کی کارکردگی میں ادا کیا ہے۔ جرنل آف انٹرنیشنل اکنامکس میں شائع ہونے والے 2002 کے ایک مقالے میں ، محققین ہسپانوی مینوفیکچرنگ فرموں کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ برآمدی منڈی میں داخل ہونے کا امکان زیادہ تر پیداواری فرموں کے پاس ہے۔جائزہ برائے عالمی اقتصادیات میں شائع ہونے والے 2005 کے ایک مقالے میں ، بوکونی یونیورسٹی اور سنٹر فار یورپی اقتصادی تحقیق کے محققین نے جرمن مینوفیکچرنگ فرموں کے لئے اسی طرح کے نتائج برآمد کیے۔ امریکن اکنامک ریویو میں شائع ہونے والا 2008 کا ایک مقالہ تائیوان کے الیکٹرانکس پروڈیوسروں کے لئے بھی یہی دکھایا گیا ہے۔

    معیشت کی پیداواری صلاحیت کا تعین کرنے والے عین عوامل بہت زیادہ چرچ کا موضوع بنے ہوئے ہیں جو ابھی تک حل طلب نہیں ہیں۔ لیکن نسبتا یقین کے ساتھ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیداواری شرح نمو اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ملک کے معاشی وسائل پیداواری مقاصد کے لئے کس طرح موثر انداز میں اکٹھے ہوسکتے ہیں، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی خاطر، پالیسی سازوں کو اپنی توجہ صرف وسائل کے معیار پر ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کے بجائے ، اور جیسا کہ رابرٹ سولو (ایک اور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات) کہتا ہے کہ ، معاشرتی اصول اور ادارے بھی کسی ملک کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی جستجو میں عوامل کو محدود کرنے یا ان کو بہتر کرنے میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گوادر پورٹ پوری طرح فعال ہے، برآمدات میں کتنا ہوا اضافہ؟ مشیر تجارت نے بتائی اہم باتیں

    اس پر غور کرتے ہوئے ، ایسی کوئی بھی پالیسی جو کسی ملک کے وسائل یعنی زمین ، مزدوری اور سرمایے کے مابین تعامل کو سہولت فراہم کرتی ہے یا اس طرح کے وسائل کے معیار کو بہتر بناتی ہے وہ معیشت کی پیداوری کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
    بہت سے معاملات میں ، قدیم اور ناقص تحقیق شدہ قواعد و ضوابط کی بہتات معاشی وسائل کو اکٹھا کرنے میں کلیدی رکاوٹ پیش کرتی ہے۔ دوسرے معاملات میں ، مناسب قوانین کا فقدان وہ ہے جو مارکیٹوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    اسی طرح علاقائی وسطی اور جنوبی ایشین معیشتوں کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ اہم انفراسٹرکچر اور سفارتی راہداری میں رکاوٹوں کا ازالہ کرنا معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں بہت آگے جاسکتا ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کی اصلاح ایک اور شعبہ ہے جس پر ضروری توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے استحکام کے بیشتر اقدامات پہلے ہی کر رکھے ہیں ، لہذا توجہ مرکوز کو پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کی طرف ہونا چاہئے۔ توقع ہے کہ ایک سال کے عرصے میں معیشت مستحکم ہونے لگے گی۔ تاہم ، یہ سارے اسباب کم و بیش چار فیصد کی معمولی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔

    اور اب اگر حکومت ان اصلاحات کا آغاز نہیں کرتی تو الیکشن کے قریب حکومت کو ایک بار پھر پرانے گھسے پٹے نعروں اور ترقی کے اشاروں کا سہارا لینا ہوگا جو کہ عین ممکن ہے کہ ایلکشن میں کامیاب نہ کرو سکیں،

  • سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافے کے باعث اگست 2019 کے دوران سی فوڈ کی برآمدات کا کل حجم ایک کروڑ 88 ڈالر تک پہنچ گیا، گزشتہ سال کی اسی مدت میں برآمدات کا حجم ایک کروڑ 77 لاکھ ڈالر تھا، پی بی ایس
    دنیا بھر میں پاکستان کی سی فوڈ کی طلب میں بتدریج اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ اگست2019 کے دوران عالمی منڈیوں میں پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات 6.2 فیصد بڑھ گئیں جس میں مزید اضافہ متوقع ہے،

    ملائشیا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں کتنا ہوا اضافہ؟ خبر آ گئی