کراچی: آٹو موبائل سیکٹر میں اگست کے مہینے میں 41 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر کی گراوٹ، افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرخ اور بڑی عید کی چھٹیاں اور قربانی کے اخراجات کو بتایا گیا ہے ،
تفصیلات کے مطابق پچھلے سال اگست میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں کی تعداد 17662 تھی جبکہ اس مالی سال کے اگست میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 10496 بتائی گئی ہے جو کہ ایک ریکارڈ کمی ہے ،
Tag: کاروبار
-

اگست کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت میں 41 فیصد کمی
-

چھری کانٹے کی برآمدات میں بڑا اضافہ…
اسلام آباد:مالی سال2018-19 میں پاکستان کی کٹلری برآمدات میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 1.73 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ہے، مالی سال 2017-18 میں پاکستان نے کل 89.773 ملین ڈالر کے چھری کانٹے برآمد کیے اور گزشتہ مالی سالی سال 2018-19 میں 91.325 ملین ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں جو کے 1.73 فیصد زائد ہیں تفصیلات کے مطابق یہ اعداد و شمار بروز ہفتہ پاکستان بیوروآف سٹیٹسٹکس کی طرف سے جاری کیے گئے
-

42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…
دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے ، یہاں پر ہر روز ایسی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے،ایک انسان اگرآج عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ گلی گلی کی خاک چھان رہا ہو،عروج سے زوال تک کے سفر پر کئی انسانوں کی زندگیاں محیط ہیں کہ جنہوں نے پیسہ،نام اور شہرت بے پناہ کمایا اور پھر زوال کی طرف چلے گئے

Dhirubhai Ambani , Father of Anil and Mukesh Ambani ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کے ایک ارب پتی انیل امبانی کی ہے،انیل کا باپ دھیروبھائی امبانی ایک بڑا کاروباری شخص تھا جس نے ریلائنس ٹیلی کام اور ریلائنس گروپ کی بنیاد رکھی اور ریلائنس کو ایک بڑا کاروباری گروپ بنا دیا، دھیروبھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مکیش امبانی اور دوسرا انیل امبانی تھا، دھیرو بھائی امبانی 2002 میں دنیا سے چل بسا، اور اپنی جائداد دونوں بیٹوں میں تقسیم کرگیا، ریلائنس ٹیلی کام کمپنی، ٹی وی چینل اور پروڈکشن انیل امبانی کو دے دیا گیا، جبکہ آئل اینڈ گیس کمپنی، کنسٹرکشن کمپنی ، اور ایلائنس پیٹرو کیمیکلز کا نیا مالک مکیش امبانی کو بنا دیا گیا، 2004 میں انیل امبانی نے ریلائنس کیپیٹل،ریلائنس انرجی اور ریلائنس نیچرل ریسورسز کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرلیا،

انیل نے اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینے کیلئے 2005 میں ادلب موویز پروڈکشن گروپ کو بھی خرید لیا، 2008 میں انیل نے امریکن پروڈیوسر سٹیون سپائل برگ کے پرودکشن ہاؤس ڈریم ورکس کےساتھ 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا، انیل کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی مکیش امبانی سے ہمیشہ ہر لحاظ سے اوپر رہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا جب 2008 کی فوربز رپورٹ کے مطابق انیل امبانی کے کل اثاثے 42 ارب ڈالر سے اوپر ہو چکے تھےاور اس وقت انیل مبانی اپنے کاروبار کے عروج پر تھا اور ہندوستان کا سب سے امیر ترین شخص بن چکا تھا
Mukesh Ambani لیکن پھر سال 2014 آیا اور انیل امبانی کے کاروبار کا زوال شروع ہوا، انیل کی پاور اینڈ انرجی بنانے والی کمپنیوں نے بجلی کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے بڑا قرض لیا ، لیکن ان کمپنیوں کے بنائے ہوئے منصوبے کیمطابق پاور پلانٹ بجلی پیدا نہ کرسکے اور انیل کی پاور اینڈ انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گھاٹےمیں چلی گئیں، اس کے بعد بینک سے لیے ہوئے قرض کو واپس کرنے کا وقت آیا تو کاروبار اس قابل نہ تھا کہ قرض دے پاتا، اس صورت میں انیل نے ریلائنس انرجی اور ریلائنس پاور کو بیچ دیا،

لیکن انیل امبانی کے کاروبار کو بڑا دھچکہ اس کے اپنے گھر سے ہی ملا جب مکیش امبانی نے2016 میں ٹیلی کام کمپنی جیو کو لانچ کردیا اور اس سے انیل امبانی کے رہی سہی منافع بخش کمپنیوں ائرٹیل،آئیڈیا اور ووڈا فون کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا، فروری 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انیل کو حکم جاری کیا کہ اگر آپ نے سویڈش کمپنی ایریکسن کے 550 کروڑ بھارتی روپے واپس نہ لٹائے تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، خوش قسمتی سے اس معاملے میں مکیش نے انیل کی مدد کی اور اس کا قرض خود ادا کیا، لیکن انیل امبانی کی مشکلات ابھی بھی حتم نہیں ہوئیں ، انیل مبانی نے ابھی مزید 1.7 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کے قرض ادا کرنے ہیں
انیل امبانی کی اس وقت کل ملکیت صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جو کہ 2008 میں 42 ارب ڈالر تھی، اور اس وقت انیل کا چھوٹا بھائی مکیش امبانی انڈیا کا سب سے امیرترین شخص ہے جس کے کل اثاثے 52 ارب ڈالر ہیں اور مکیش امبانی صرف ممبئی والا گھر انیل امبانی کی کل ملکیت سے زیادہ مہنگا ہے -

بغیر کسی سرمایہ کاری کے لاکھوں کمائیے
اس وقت دنیا میں ایسے کئی قسم کے کاروبار کیے جارہے ہیں جو کہ بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کیے جا سکتے ہیں اور ان کو علاقائی اور عالمی سطح پر پھیلایا بھی جا سکتا ہے، ایسے کاروبار کافی منافع بخش بھی ثابت ہوتے ہیں جن میں آپ کو اپنے پہلے سے موجود وسائل کو بروئےکار لا کر بالکل چھوٹی سطح سے شروع کرنا ہوتا ہے اور پھر جوں جوں آپ کے وسائل میں اضافہ ہوتا جاتا ہے آپ اپنے کاروبار کو پھیلاتے جاتے ہیں، اکیسویں صدی میں اس طرز کا کاروبار شاید کامیاب یا پھر اتنا کامیاب نہ ہو پاتا اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہ ہوئی ہوتی،

Headquarter of Airbnb in San Francisco, California, USA Airbnb ایک اسی طرز کی کمپنی ہے جو اپنے صارفین کو ان کے خواہش کردہ علاقے،شہر یا ملک میں کچھ دنوں کیلئے رہائش رکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، اس سہولت سے ہر وہ شخص مستفید ہو سکتا ہے جو اس کمپنی کیساتھ بزریعہ ویب یا موبائل ایپ منسلک ہو، اور یہ کمپنی ہرشخص کو اپنا کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی دیتی ہے، اگر کسی شخص کے پاس کوئی ایسی پراپرٹی ہو جو اس کے استعمال میں نہ ہو تو وہ اس پراپرٹی کو بمع تصویر و تحریر Airbnb پر رجسٹر کروا کر میزبانی کیلئے اس اپارٹمنٹ ،گھریا کمرے کو کھول سکتا ہے،
اس کے بعد کوئی بھی شخص ایئربی این بی کی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن کے زریعے مکان مالک سے رابطہ کرکے گھر یا اپارٹمنٹ کی بکنگ کر سکتا ہے، اس بکنگ میں صارف کو بتانا ہوتا ہے کہ اس کو گھر کس جگہ،کتنے دنوں کیلئے اور کتنے کمروں کیساتھ چاہیے، اور اگر صارف کوگھر پسند آجائے تو اسے مکان مالک کیساتھ معاہدہ کرنا ہوتا ہے اور بی این بی کی طے کردہ رقم دینا ہوتی ہے،

airbnb کا قیام بھی بہت دلچسپ ہے، دو امریکی دوست برائن چیسکی اور جو گیبیا پڑھائی کے سلسلے میں اکتوبر 2007 میں کیلی فورنیا ریاست کے شہرسان فرانسسکو آئے اور انہوں نے رہائش کیلئے ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا، لیکن اس اپارٹمنٹ کا کرایہ برداشت کرنا دونوں کیلئے بہت مشکل تھا، دونوں نے ایک ترکیب سوچی کہ ہم اپنے بیٹھک والے کمرے میں ایک ایئر میٹرس ڈال کر اسے کسی اور شخص کو کرائے پر دے دیت ہیں اور ہم کرایہ دار کو بیڈ اینڈ بریک فاسٹ آفر کریں گے اور اس آمدن سے ہم اپارٹمنٹ کا کرایہ اداکرسکیں گے،تھوڑے عرصے بعد برائن کے پرانے دوست ناتھن بھی برائن کے گروپ میں شامل ہو گیا اور انہوں نے اپنے نئے کاروبار کو ایک سے پانچ رہائشوں تک پھیلا دیا،11 اگست 2008 کو برائن،چیسکی اور ناتھن نے مل کر اپنی کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ بنا ڈالی،کمپنی کو اس کے پہلے صارف 2008 کی موسم گرما میں ملے جب فرانسسکو میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی گئی، 2009 میں پال گراہم نے ایئر بی این بی کے مالکان سے کمپنی کے پانچ فیصد شئیرز 20000 ڈالرز میں خرید لیے، برائن چیسکی اور جو گیبیا نے اس رقم سے نیویارک ٹور پلان کیا اور مارکیٹنگ مینیجرز سے ملاقات کی اور اپنی کمپنی کی ویب سائٹ کی پروموشن کیلئے بات کی، جس کے زریعے بالکل تھوڑے عرصے میں کاروبار اور پراپرٹی ڈیلنگ کے نئے انداز کو پورے امریکہ میں پھیلا دیا، مارچ 2009 تک بی این بی ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد 10000 اور پرائیویٹ جائدادوں کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی،
2011 میں کمپنی نے لندن میں اپنا دوسرا انٹرنیشنل دفتر کھولا، اور دن بدن بڑھتے انٹرنیشنل صارفین کے باعث کمپنی نے 2012 میں میلان،کوپن ہیگن،ساؤپولو،پیرس اور ماسکو میں بھی دفاتر کھولے گئے،
First Airbnb apartment in London اکتوبر 2013 تک کمپنی کے زریعے گھر تلاش کرنے والے سیاحوں کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ گئی اور اسی سال مزید 250 گھر مالکان کمپنی کے نیٹ ورک سے منسلک ہوگئے،اگست 2015 میں کمپنی کے منافع میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ دن بدن بڑتا گیا،
2015 میں ہی ائیربی این بی کا کاریں بنانے والی امریکن کمپنی ٹیسلا سے معاہدہ ہو گیا جس کے مطابق ٹیسلا کا صارف ائیر بی این بی سے رجسڑڈ پراپرٹی سے اپنی کار کی بیٹری چارج کرسکتا ہے، 2018 میں برائن چیسکی نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی ایک ائر لائن کو بنانے کا ارادہ رکھتی ہے،2017 کی رپورٹس کیمطابق ائیربی این بی کی آپریٹنگ آمدن 450 ملین ڈالر اور نیٹ انکم 93 ملین ڈالر تھی اور اس کا کل ریونیو 2.6 بلین ڈالر تھا جو کہ آج کی تاریخ میں مزید بلند ہوچکا ہو گا،

ایئربی این بی کے کاروبار کی خاصیت اور اس کے کامیاب ہونے کا راز یہ ہے کہ یہ اپنے گروپ میں شامل ہونے والے کرایہ دار اور مکان مالک دونوں کو منافع فراہم کرتی ہے، کمپنی کے صارف اس ایپ سے فائدہ اس طرح اٹھاتے ہیں کہ بڑے بڑے 3 اور 5 سٹار ہوٹلز کے کرائے دینے سے بہتر ہے کہ بالکل معمولی سی رقم سے اتنے کمروں کا گھر یا فلیٹ کرائے پر لیا جائے جتنے لوگ سیر و تفریح کیلئے یا کسی کام کے سلسلے میں اپنے گھر سے دور جا رہے ہیں
اور ائیر بی این بی کے نیٹ ورک میں شامل ہونے والے پراپرٹی ہولڈرز بھی اچھا خاصہ منافع کما سکتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی گھر،اپارٹمنٹ یا بلڈنگ خالی ہے کسی استعمال میں نہیں تو آپ اسے بی این بی کی ویب سائٹ پر رجسٹر کروا کر گھر بیٹھے اپنا کاروبار بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کر سکتے ہیں -

شناختی کارڈ کی شرط پر حکومت کا واضع اعلان
کراچی:اگست سے پورے ملک میں 50 ہزار سے زائد کی خریداری کرنے والوں کو ہر حال میں شناختی کارڈ دینا ہوگا، اور اگر آپ بین الاقوامی خریدار ہیں تو آپ کو اپنا پاسپورٹ ظاہر کرنا ہو گا،
ان لینڈ ریونیو کے چیف کمشنر بدرالدین احمد قریشی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ غیر تصدیق شدہ خریداروں کی پہچان کرنے کیلئے اور ان کی ٹیکس چوری روکنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے، شناختی کارڈ کو لازمی قرار دینے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جو کاروباری حضرات اپنا مال برآمد کرتے ہیں اور ملک میں بیچتے ہیں ان کا ریکارڈ بھی ایف بی آر کے پاس ہو گا کہ کتنا مال ملک سے باہر برآمد کیا گیا اور کتنا ملک میں بیچا گیا ہے،
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نےکہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل سیکٹر ہر سال 1200 ارب کی ٹیکسٹائل پراڈکٹس فروخت کرتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی مقدار صرف 6 ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کر رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ کہ پاکستان کا ٹیکس نظام ڈاکومنٹڈ نہیں ہے، -

چائنہ ایک بار پھر پاکستان کیلئے میدان میں آگیا
اسلام آباد:باغی ٹی وی(ویب ڈیسک) چائنہ کی آٹھ کمپنیوں نے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے،
بروز جمعہ آٹھ کمپنیوں کے وفد نے شنگھائی کی یوآنی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی سربراہی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی،
اس ملاقات کے موقع پر وزیراعظم نے سرمایہ کاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کاروبار کے کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کیلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے -

سندھ سے تیل و گیس کے نئے زخائر دریافت
کراچی: آئل اینڈ گیس ڈویلپمینٹ کمپنی نے سندھ کے علاقے سانگھڑ میں پانڈھی نمبر1 پروجیکٹ سے تیل اور گیس کے بڑے زخائر کی کھوج لگا لی، آئل اینڈ گیس کمپنی کے چیف سیکرٹری احمد حیات لک نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹیفیکیشن میں دریافت ہونے والے زخائر میں بتایا کہ 9.12 ملین کیوبک فیٹ گیس روزانہ کی بنیاد پر نکلنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ کے خام تیل کا روزانہ کا والیم 512 بیرل بتایا جا رہا ہے
یہ کھوج آئل ایند گیس ڈویلپمینٹ کمپنی کی اس جارحانہ پالیسی کا نتیجہ ہے جو کہ موجودہ حکومت کی لوکل آئل اینڈ گیس کے پروگرام کی وجہ سے دریافت ہوئی ہے اس منصوبے کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد ملک کی آئل و گیس کی 20 فیسد کھپت کو پورا کیا جاسکے گا اور ہر سال پاکستان کے اربوں ڈالر جو کہ تیل کی درآمد پر خرچ ہوتے ہیں بچ سکیں گے -

‘ امریکہ پابندیاں لگا کر خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار رہے ‘
انقرہ: ترکی کے وزیرحارجہ میولٹ کیویسگلو نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایس فور ہنڈرڈ کے معاملے میں ترقی اپنے موقف پر قائم ہے کہ روس سے ایس فور ہنڈرڈ کا معاہدہ صرف اور صرف دفاعی قوت کو بڑھانے کیلئے کیا ہے نہ کہ کسی ملک پر دھاوا بولنے کیلئے، اور اگر امریکہ ہم پر پابندیاں لگانا چاہتا ہے تو جوابی وار کیلئے بھی تیار رہے،
تفصیلات کیمطابق ٹی جی آرٹی براڈکاسٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی پر کوئی پابندیاں نہیں لگانا چاہتے اور نہ وہ ایسا وائٹ ہاؤس کو کرنے دینا چاہتے ہیں -

پاکستانی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مالی سال2024 تک پاکستان کی برآمدات کا حجم 36.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف نے یہ پیشگوئی اپنی حالیہ اسٹاف رپورٹ میں کی ہے
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی حسارہ جو کہ 2017 میں 19.7 ارب ڈالر تھا اس میں بتدریج کمی آئی ہے اور 2018 کے مالی سال میں مالیاتی حسارہ مزید 6.95 ارب ڈالر گر گیا ہے اورامکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مالی سال میں یہ حسارہ مزید گر کر 5.49 ارب ڈالر رہ جائے گا
آئندہ مالی سال میں ٹیکسوں کی وصولی 7.011 ارب ٹریلین تک رہنے ، سال 2000-21 میں 8.3 ٹریلین اورمالی سال 2022-23 تک ٹیکسوں کی وصولی کا حجم 9.48 ٹریلین تک پہنچنے کا امکان ہے -

ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر
اگر ہماری اکانومی ایک ڈاکیومینٹڈ اکانومی ہوتی جس میں برسوں سے لوگوں کا سارا ڈیٹا ان کی ساری انکم اور اثاثے یعنی منی ٹریل ہر لمحہ مرتب ہورہی ہوتی تو کسی بھی جعلی رسید ، اووربلنگ یا انڈر انوائیسنگ کو ایک دو چیکس لگا کر کراس چیک کیا جانا مشکل نہ ہوتا اور ہمارے لین دین کے معاملات میں اتنے گھپلے ، اتنی دو نمبریاں اور اتنی پیچیدگیاں نہ ہوتیں ۔
سب سے پہلے تو اس طرح سے ملزم عاطف کے پاس کروڑوں روپے جمع ہی نہیں ہو پاتے ۔ بینکنگ چینل سے اتنی اتنی بڑی بڑی رقوم کا ایک ہی شخص کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونا پہلے دن ہی نوٹس میں آجاتا ۔ FBR سے لیکر اسٹیٹ بنک کے اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ تک نوٹسز آچکے ہوتے کہ میاں کونسا کام ہورہا ہے کہ ڈیڑھ دو سالوں میں ہی آپکے اکاونٹ میں یہ پانچ کروڑ ، دس کروڑ یا پچپن کروڑ تک کیسے آگئے۔ دوسری طرف دینے والوں کے پاس بھی پہلے تو اس طرح اتنا پیسہ جمع ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کے پاس گھر یا گاؤں کی زمین بیچ کر آتا بھی تو وہ اسے اس طرح بغیر کسی لکھت پڑھت کبھی کسی عاطف کے حوالے نہ کرتا ۔
مرید کا دوسرا قاتل ہمارا اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرہ بھی ہے جس نے نفسا نفسی کو اس قدر زور دے رکھا کہ ہر شخص بہت کچھ بہت جلدی کرنے کے چکر یا خواہش میں ہے ۔ سب کو بہت کچھ فورا فورا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے نے یا ریاست نے بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیح نہیں بنایا لہذا مستقبل کے خدشات نے ہم سب کو پروفیشنل وولچرز بنا دیا ہے ایک عاطف ہی کیا یہاں پر شخص ہی ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے کما رہا ہے No wonder کے ہم دنیا کی چند بدعنوان ترین قوموں میں سرفہرست ہیں باوجود اسکے کہ سب سے زیادہ زکوۃ ، خیرات ، صدقات، حج ، عمرے ، کرنے میں بھی ہماری ہی قوم آگے ہے ۔ سارا رمضان زیادہ پرافٹ لینے والے حاجی صاحب شب قدر کی راتوں میں حرم شریف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکیومینٹیشن سے بھی انکاری ہیں ۔
دیکھا جائے تو ڈاکیومینٹیشن کا ایمانداری سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اور یہ دین اسلام کا بڑا شدید تقاضہ بھی ۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ قرآن کریم میں سب سے طویل آیت مبارک مبارکہ ، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 282 ہے اور یہ نماز روزہ حج یا زکوۃ سے متعلق نہیں بلکہ لین دین ، قرض دینے لینے ، یعنی پیسے کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی کی Documentaion یعنی باقاعدہ لکھت پڑھت کے متعلق ہے ۔ زبانی قول و قرار نہیں بلیک اینڈ وائٹ میں کاغذ کے اوپر تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آئے ۔ اسی سے کام کاج میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور کسی کے لیے بھی اپنی بات سے پھرنا یا مکرنا مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے لکھنے کے ساتھ ساتھ گواہوں کی موجودگی کی بھی شرط رکھی ہے گواہوں کو کہا گیا کہ کبھی شہادت نہ چھپانا اور گواہوں کا معیار تک بتایا ہے لکھنے والے کاتب تک حکم کہ جو قرض لینے والا لکھے ویسا ہی ایمانداری سے لکھو ۔ کیونکہ ڈاکیومینٹیشن کو اپنا کر ہی کوئی سوسائٹی ہر وقت کی جھک جھک سے بچ سکتی ہے اور افراد معاشرہ بھی ایک دوسرے سے لوٹے جانے یا ڈز کھانے کے ڈر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔
جس معاشرے میں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور written فارم میں ہوگی وہاں بے ایمانی اور دھوکے بازی کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے ۔ چھوٹے سے چھوٹے فرد سے لیکر بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی اگر یہ احساس ہو کہ اس سے کسی بھی وقت چیک اینڈ بیلنس سے گزرنا پڑ سکتا ہے تو وہ بھی کسی بلیک اکانومی کا حصہ بننے سے کنی کترائے گا ۔ اس لینڈ کروزر کا کیا فائدہ جسے روڈ پر لے کر نکلتے ہی پوچھا جائے کہ SHO صاحب رسیداں کڈھو ، کدھر سے لی اور کیسے لی تو پھر کون جلتی میں ہاتھ ڈالے گا ۔ ظاہر ہے مکمل خاتمہ شاید نہ ہو پائے لیکن ایک بند تو بندھے گا ۔ بات لمبی ہونے کا ڈر ہے ورنہ تو اپنے گلی محلوں میں ہونے والی بے ہنگم تعمیرات، پارکوں کے اجڑنے یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کے پیچھے جائیں تو کہیں نہ کہیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا رشوت خور اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان سب کو پتہ ہے بھلے ان کی تنخواہیں تیس پینتیس چالیس پچاس ہزار روپے ہیں اور ان کا لائف اسٹائل کسی بھی طرح لاکھوں روپے کمانے والے لوگوں سے کم نہیں بلکہ کئی سولہ سترہ گریڈ کے اہلکاروں کو بادشاہوں والی زندگی گذارتے ہوئے تو ہم سے اکثر لوگ دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔ بابو کو بھی ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا کیونکہ کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ اور اگر پوچھے تو گاڑی اماں کے نام پلاٹ ، بنگلہ بیوی کے نام فلاں چیز اس کے نام تو فلاں چیز اسکے نام دکھا کر کھاتا پورا کرکے دکھا دو ۔ دو کروڑ کی گاڑی تیس لاکھ کی شو کر دو ۔ کون پوچھے گا پلٹ کر ۔
جو بیچنے والا ہے وہ بھی ڈبل ڈبل کھاتے بنا کر چل رہا ہے ۔ ایک گنگا ہے جس میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے ۔اب بھی وقت ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں اور اپنی اکانومی کو ڈاکیمینٹڈ بنانے میں پورا ساتھ دیں ۔ کیونکہ اس بلیک یا undocumented economy کے دیمک نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی وجود کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ اسی بلیک اکانومی کی وجہ سے رشوت لینے والے ، زیادہ منافع کما کر کم ٹیکس دینے والے اور کسی بھی غلط طریقے سے زیادہ سے زیادہ wealth accumulateکرنے والے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ وہ اتنی ویلتھ کہاں پارک کرے گا ۔ یہ اسی بے فکری کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس سے لیکر عدلیہ اور تعلیم سے لیکر صحت تک کے ادارے میں اس کرپشن کے ناسور نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ڈاکیومینٹیشن کا سوچ کر سب کی جان نکلے جارہی ہے ۔ ڈاکیومینٹیشن ہوگی تو ریاست اور ادارے کسی بھی بندے سے پوچھ سکیں گے کہ بھائی آپ کی تنخواہ ، دکان کی کمائی ، سرکاری نوکری میں تو آپ کا یہ طرز زندگی یہ ہائی فائی لائف اسٹائل اور بڑی بڑی Gatted societies میں رہنا تو افورڈ ہی نہیں ہو سکتا تو یہ سب کیسے چل رہا ہے ؟ ذرا وضاحت کردیجیے ۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو اس میں کیا برا ہے ؟ ۔ کسی بھی صحیح انسان کو اس میں تو کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہئیے کہ وہ ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ بنے اور ہر ٹرانسیکشن کا ایک بلیک اینڈ وائٹ ثبوت لے بھی اور دے بھی ۔
اس کوشش اور جدوجہد میں سیاسی وابستگی یا لبرلز اور مذہبی کی تخصیص رکھنا اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرنا ہوگا ۔ ڈاکیومینٹیشن تو ہر معاشرے کی ضروت ہے چاہے سیکولر ہو یا وحی کا ماننے والا ۔ ڈاکیومینٹشن تو ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کی زندگی کو امن سکون تحفظ اور بہتر ماحول دے سکے گی ۔امن اور سکون ہوگا تو سب کو اپنی دوسری خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر نئی خصوصیات پیدا کرنے کا وقت بھی مل سکے گا اور حوصلہ بھی ہوگا کہ اب مقابلہ محنت کا محنت ، ذہانت کا ذہانت اور Creativity کا Creativity سے ہوگا ۔