Baaghi TV

Tag: کاروبار

  • اوگرا نے تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے سفارشات وزیراعظم کو بھجوا دیں

    اوگرا نے تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے سفارشات وزیراعظم کو بھجوا دیں

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ، سمری منظوری کیلئے وزیراعظم آفس بھجوا دی گئی، اوگرا کی جانب سے کی جانے والی نئی سفارشات کیمطابق پٹرول کی قیمت میں 2.55 روپے فی لیٹر،ہائی سپیڈ 3.23 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2.41 روپے فی لیٹر کے حساب سے کمی شامل ہے ،
    جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 1.19 روپے اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے،سفارشات کی منطوری کے بعد پیٹرول کی قیمت 113.24 روپے سے 110.24 پر آ جائے گی جبکہ ا ڈیزل کی قیمتیں 127.14 سے 123.91 تک آ جائین گی، اگر وزیراعظم آفس سے قیمتوں کی منظوری ہو گئی تو نئی قیمتوں کا اعلان یکم اکتوبر کو کیا جائے گا،

  • نیپرا نے بجلی کی قیمتیں مزید بڑھا دیں

    نیپرا نے بجلی کی قیمتیں مزید بڑھا دیں

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمتوں میں ٹیرف کی مد میں 52 پیسے فی یونٹ بڑھا دی، نیپرا ترجمان کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ پاور سپلائی کمپنیوں کا لائن لاسسز اور دوسرے خسارے کو پورا کرنے کیلئے کیا گیا ہے،
    نیپرا نے پرائس ایڈجسٹمنٹ کیلئے اس سال دو آرڈرز جاری کیے ، پہلا آرڈر یکم جنوری 2019 کو جاری کیا گیا جس میں بجلی کی فی یونٹ پرائس میں 0.3324 روپے اضافہ کیا گیا جس سے نیپرا کو کل 33 ارب روپے وصول ہوئے ، اور دوسرا آرڈر بروز جمعہ جاری کیا گیا جس میں بجلی کی قیمت 52 پیسے فی یونٹ بڑھائی گئی اور اس پرائس ایڈجسٹمنٹ سے 52 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے ،

  • ورلڈ بینک نے پاکستانیوں کو بڑی خوشحبری سنا دی

    ورلڈ بینک نے پاکستانیوں کو بڑی خوشحبری سنا دی

    پاکستان میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پاچا موتو النگو نے کہا ہے پاکستان سرمایہ کار کو کاروبار کیلئے دوستانہ ماحول فراہم کرنے والے ممالک کی لسٹ میں پہلے 20 ممالک میں اگیا ہے، اور اس کی بڑی وجہ وفاق ، پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومتوں کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات ہیں ،
    ورلڈ بینک نے پچھلے سال جو پاکستان متعلق رپورٹ جاری کی تھی اس میں بھی پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کیا تھا لیکن ان کوششوں کو اعلانیہ طور پر سراہا نہیں تھا ، پہلے بیس ممالک میں پاکستان کی رینکنگ 24 اکتوبر کو شائع کی جائے گی ، رینکنگ میں بہتری کی وجہ سے پاکستان کی تمام ممالک کی لسٹ میں بھی بہتری آئے گی جس میں 190 ملک شامل ہیں اور پاکستان 136 ویں نمبر پر موجود ہے،
    پچھلے سال کی رپورٹ میں ورلڈ بینک نے پاکستان کی نو میں صرف تین اصلاحات کو تسلیم کیا تھا ، اور تسلی بحش ثابت نہ ہونے والی اصلاحات میں بجلی کا کنکشن لینے میں آسانی، ٹیکسز کی ادائیگی، تعمیرات کے محفوظ پرمٹ، پراپرٹی کی رجسٹریشن، اور سرحد کے پار تجارت میں مشکلات شامل تھیں ، لیکن اس سال ورلڈ بینک نے پاکستان کی 10 میں سے 6 اصلاحات کو تسلیم کیا ہے اور اس رپورٹ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان "ایز آف ڈوئنگ بزنس” کی رینگ میں مزید بہتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا اور پاکستان میں سرمایہ کار مزید دلچسپی کا اظہار کرے گا،

  • پاکستان بھر کے انڈسٹریل و کمرشل یونٹس کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تیاری

    پاکستان بھر کے انڈسٹریل و کمرشل یونٹس کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تیاری

    اسلام اباد : موجودہ حکومت نے برھتے ہوئے گردشی قرضوں اور آئی ایم ایف کے پیکجز سے چھٹکارا پانے کیلئے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور اس میں اصلاحات متعارف کروانے کا بیڑہ اٹھایا ، اس عزم نو کی تکمیل کیلئے ایف بی آر کے چھے ریجنل دفتروں نے بجلی کی تقسیم کرنے والی نو کمپنیوں ساتھ مل کر ایک ڈیٹا اکٹھا کیا کہ پاکستان میں بجلی کے کل انڈسٹریل صارف کتنے ہیں اور کمرشل کی تعداد کتنی ہے ، اور ان میں سے کتنے فائلر اور کتنے نان فائلر ہیں ، حاصل ہونے والے نتائج حیران کن تھے ، پاکستان میں کل نان فائلر انڈسٹریل یونٹس کی تعداد 267،724 تھی جبکہ بجلی کے کمرشل صارفین کی کل تعداد 25 لاکھ سے زائد ریکارڈ کی گئی ، اس کے بعد ایف بی آر نے ان تمام نان فائلر صارفین کو نوٹسز جاری کیے کہ وہ اپنا انکم ٹیکس ادا کریں بہ صورت دیگر ان کا بجلی و گیس کا کنکشن کاٹ دیا جائے گا اور وہ دوبارہ انکم ٹیکس جرمانے کیساتھ ادا کرکے ہی بحال ہو گا

  • سردیوں میں شدید گیس بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    سردیوں میں شدید گیس بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    اسلام آباد: آئندہ موسم سرما میں ایک بار پھر گیس کا بحران پیدا ہونے کے خدشات قوی ہوتے جارہے ہیں کیوں کہ بجلی گھروں میں فرنس آئل کا عدم استعمال جاری رکھنے کے منصوبے کی وجہ سے کچھ فیلڈز سے تیل و گیس کی رسد معطل ہوسکتی ہے۔

    اگر بجلی گھروں میں استعمال کے لیے فرنس آئل حاصل نہ کیا گیا تو آئل ریفائنریز اپنی پیداوار محدود کرسکتی ہیں، واضح رہے کہ مقامی طور پر پیداشدہ گیس اور درآمدی ایل این جی کے مقابلے میں فرنس آئل مہنگا ہوتا ہے۔

    پچھلی سردیوں میں بھی بجلی گھروں کی جانب سے فرنس آئل خریدنے سے انکار کے بعد آئل ریفائنریز نے پیداوار میں کمی کردی تھی اور اپنے پلانٹ بند کرنے دھمکی بھی دی تھی۔
    ریفائنریز کی پیداوار میں کمی کے بعد تیل و گیس کے پیداکنندگان کو کچھ فیلڈز بند کرنی پڑی تھیں جس کے نتیجے میں مقامی طور پر پیداشدہ گیس کی پیداوار بھی محدود ہوگئی تھی اور بحرانی صورت حال نے جنم لیا تھا۔

  • وفاقی حکومت نے اب تک 90 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ جاری کیے

    وفاقی حکومت نے اب تک 90 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ جاری کیے

    وفاقی وزارت پلاننگ و ترقیاتی اصلاحات کی جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق وفاقی حکومت نے اب تک کل 90 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ جاری کیے ، ترقیاتی پروگرام 2019-20 کے تحت موجودہ حکومت نے 19.9 ارب روپے وفاقی وزارتوں کو جاری کیے ، جبکہ 23.6 ارب کارپوریشنز اور 7.7 ارب سپیشل ایریاز کیلئے فنڈ جاری کیے ،
    26.78 ارب روپے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے جاری کیے گئے ، جبکہ 12 ارب روپے خیبرپختونحوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کیلئے محتص کیے گئے،
    اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 4.6 ارب اور اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 4.3 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے گئے

  • انڈونیشیا پاکستان کو دو ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی دے گا

    انڈونیشیا پاکستان کو دو ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی دے گا

    پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر ایون سودھائی امری نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تجارتی تعلقات کو نئی بلندیاں پر لے جا رہے ہیں ، انڈونیشیا پاکستانی پرادکٹس کو آسیان ممالک کی دو ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی دے گا ،
    انڈونیشین سفیر نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اجلاس سے خطاب کرت ہوئے کہا پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی حجم 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، اور مستقبل قریب کو اس حجم کو مزید بڑھایا جائے گا ، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈونیشین تجارت میں راولپندی چیمبر آف کامرس انتہائی اہم کرادر ادا کر رہا ہے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کے انڈونیشین سفارت خانہ 2020 میں انڈونیشیا میں ہونے والی راول ایکسپو کیلئے پاکستانی تاجروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا ،

  • آم پیداوار نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے، پاکستان نے کمایا بڑا زرمبادلہ

    آم پیداوار نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے، پاکستان نے کمایا بڑا زرمبادلہ

    پاکستان نے 5 سال بعد ایک لاکھ ٹن آم کی ایکسپورٹ کی سطح عبور کر لی ہے ، موثرمارکیٹنگ اور معیار کی بدولت پاکستانی آم نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بہترقیمت حاصل کی ہے۔ رواں سیزن آم کی ریکارڈ ایکسپورٹ کا امکان ہے۔ برآمدات سے 80 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، رواں سیزن آم کی پیداوار 15 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی، فارمرز عالمی معیار اور جدید طریقوں کے مطابق آم کے باغات لگارہے ہیں۔

    آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر وحید احمد کے مطابق رواں سال آم کی ایکسپورٹ کا ایک لاکھ ٹن کا ہدف پورا کرلیا گیا ہے ستمبر کے وسط تک ایک لاکھ15ہزار ٹن آم ایکسپورٹ کیا جاچکا ہے۔ 4 سال میں پہلی مرتبہ آم کی ایکسپورٹ کا ہدف حاصل ہوا ہے جبکہ 5 سال بعد ایکسپورٹ ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی ہے۔
    وحید احمد کے مطابق ایکسپورٹ کا سلسلہ اکتوبر کے وسط تک جاری رہے گا اور سیزن کے اختتام تک ایک لاکھ 30 ہزار ٹن آم برآمد ہونے کا امکان ہے۔

  • زراعت کے شعبے سے ٹیکس اکٹھا ہو نا چاہیے ،  فروغ نسیم

    زراعت کے شعبے سے ٹیکس اکٹھا ہو نا چاہیے ، فروغ نسیم

    وفاقی وزیر قاانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 80 فیصد لوگوں کا زریعہ معاش زراعت کے شعبے سے منسلک ہے اور وفاقی حکومت کو اس شعبے سے ٹیکس اکٹھا کرنا چاہیے ،
    وفاقی وزیر نے ارٹیکل 149 کو لیکر اپوزیشن کی طرف سے مچائے جانے والے شور شرابے کے متعلق کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کیلئے اس ملک کا خزانہ لوٹتے رہیں اور کوئی اس متعلق ان سے ایک سوال بھی نہ کرے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ 20-25 فیصد ہونے والی کاروباری سرگرمیوں کا ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے ، اور ان 75-70 فیصد سرگرمیوں کا ٹیکس کون اکٹھا کرے گا جو ہمارے دیہات میں ہوتیں ہیں ؟

  • تاجر ایک بار پھر ملک گیر ہڑتال کریں گے

    تاجر ایک بار پھر ملک گیر ہڑتال کریں گے

    آل پاکستان انجمن تاجراں کے جنرل سیکرٹری نعیم میر نے کہا ہے کہ 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاج کریں گے اور پورے پاکستان میں پہیہ جام ہڑتال کریں گے ،
    تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی پورے پاکستان کے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اصلاحات متعارف کروائیں جنہیں انجمن تاجراں نے مکمل طور پر رد کر دیا ، مالی سال 2019-20 کے بجٹ پیشی سے لیکر اب تک حکومت اور تاجروں کے درمیان مسائل کو حل کرنے کو لیکر مذاکرات چل رہے تھے جو بغیر کسی نتیجے کے حتم ہو گئے ، تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان جو بنیادی چیزیں اختلاف کا باعث بن رہی ہیں ان میں فکسڈ ٹیکس کا نظام ، شناختی کارڈ کی شرط اور کاروبار کے لخاط سے ٹیکس کی ادائیگی جیسے معاملات شامل ہیں،
    انجمن تاجراں کے جنرل سیکرٹری نعیم میر نے میڈیا کو بتایا کہ ایف بی آر کے نمائندگان سے ہماری آخری میٹنگ 4 دن پہلے ہوئی اور وہ ہمارے مسائل کو سننے اور حل کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے ، ایسی صورتحال میں ہمارے پاس آخری راستہ صرف احتجاج کا بچتا ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف ہم شناختی کارڈ کی شرط کو لیکر مذاکرات کر رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت نے شناختی کارڈ کی شرط کاروبار کیلئے لازم قرار دے کاروائیاں بھی شروع کر دی ہیں،