Baaghi TV

Tag: کرائم

  • اوکاڑہ: بااثر افراد کا حاملہ خاتون پر تشدد،بچہ پیٹ میں جاں بحق،پولیس کا رروائی کرنےسے گریزاں

    اوکاڑہ: بااثر افراد کا حاملہ خاتون پر تشدد،بچہ پیٹ میں جاں بحق،پولیس کا رروائی کرنےسے گریزاں

    اوکاڑہ: پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں بااثر افراد کے حاملہ خاتون پر وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں نومولود پیٹ میں ہی جاں بحق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پنجاب کے شمال مشرق میں واقع ضلع اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد میں با اثر افراد نے 7 ماہ کی حاملہ خاتون پر وحشیانہ تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہوگئی،خاتون کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تو ڈاکٹرز نے فوری طور پر آپریشن تجویز کیا تاکہ نومولود کی جان بچائی جاسکے مگر ایسا ممکن نہ ہوا کیونکہ تشدد کے باعث نومولود ماں کے پیٹ میں ہی دم توڑ گیا۔

    متاثرہ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ بااثر افراد کے حکم پر آر ایچ سی میں تعینات لیڈی ڈاکٹر نے میڈیکل رپورٹ دینے سے انکار کردیا جب کہ مقامی پولیس تھانہ صدر رینالہ نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی،متاثرہ خاتون نے آئی جی پنجاب سے واقعے پر نوٹس لے کر ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    فخر زمان نے شاہد آفریدی کا قومی ریکارڈ برابر کردیا

    دوسری جانب 15 دن میں نشے کے عادی 3 افراد کو پر اسرار طور پر قتل کردیا گیا ہے۔ پولیس ابتک قاتلوں کی تلاش میں ناکام ہے پولیس کے مطابق قتل کیے گئے دو افراد کو گولی ماری گئی جبکہ ایک شخص کو تیز دھار آلے کے وار سے موت کے گھاٹ اتارا گیاتینوں پراسرار قتل اکتوبر میں ہوئے 8 اکتوبر کو شریف آباد میں عرفان نامی شخص کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ پولیس نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا 20 اکتوبر کو جمیشد کوارٹر میں بھی لاہوتی نامی شخص کو گولی ماری گئی اور دو روز بعد 22 اکتوبر کو جوہر آباد میں روبن کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا قتل ہونے والے تینوں افراد نشے کے عادی تھے قتل کے تینوں واقعات پراسرار ہیں قتل کی وجہ بھی سامنے نہیں آئی۔

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ،2024 زیادہ بدترین سال ثابت ہوگا،تحقیق

  • قتل کا مقدمہ تین ماہ بعد درج

    قتل کا مقدمہ تین ماہ بعد درج

    لاہور میں ڈی آئی جی شارق جمال کے قتل کا مقدمہ تین ماہ بعد مقتول کی بیٹی حانیہ شارق کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے اور ایف آئی آر کے مطابق نامزد ملزمان میں سرکاری ملازمہ قرۃالعین کے علاوہ منصور الہٰی، سمیع اللہ نیازی، شعیب، عمران جاوید بٹ بھی نامزد ہیں اور اس کی ایف آئی آر کے مطابق مقدمے میں دو ذاتی ملازمین صغیر اور عدیل بھی نامزد ہیں۔

    تاہم درج مقدمے کے متن کے مطابق شارق جمال کی موت کو طبعی موت ظاہر کر کے ڈرامہ کیا گیا، موت کے وقت گھر کی تجوری کھلی ہوئی تھی۔ تجوری سے 8 کروڑ مالیت کے ڈالرز اور پانچ لاکھ کیش غائب تھا۔ شارق جمال نے متعدد منصوبوں میں انویسٹمنٹ کر رکھی تھی اور تجوری سے کاغذات بھی غائب تھے تاہم یاد رہے کہ جولائی میں لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ڈی آئی جی شارق جمال اپنے گھر پر پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے تھے۔

    واضح رہے کہ شارق جمال کی موت کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں تھیں، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے برتن اور دیگر اشیا قبضے میں لے کر فرانزک کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں ڈی آئی جی شارق جمال کی موت طبعی بتائی گئی تھی اور پولیس ذرائع کے مطابق شارق جمال کی موت کے بعد گرفتار خاتون نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ شارق جمال کی طبعیت ادویات کے اوور ڈوز ہونے کی وجہ سے رات 10 بجے خراب ہوئی۔

    واضح رہے کہ شارق جمال نے پہلے خاتون سے پانی پھر کولڈ ڈرنگ مانگی، ساڑھے 12 بجے کے قریب طبعیت زیادہ خراب ہونے پر خاتون انھیں نشینل اسپتال لیکر گئیں، جہاں ڈاکٹر نے شارق جمال کی موت کی تصدیق کی۔

  • مختلف وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتار

    مختلف وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتار

    کراچی میں آٹھ سو سے زائد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم زوہان نے دوران تفتیش قتل کا اعتراف بھی کرلیا ہے اور رینجرز اور پولیس نے عزیز آباد میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فیضان عرف بھوری گروپ سے تعلق رکھنے والے ملزم زوہان کو گرفتار کیا، پولیس کے مطابق ملزم سے اسلحہ، 2 موٹرسائیکل اور موبائل فونز برآمد کیے گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزم نے 10 افراد کے قتل کا اعتراف بھی کیا ہے، دوسری جانب لاہور کے تھانہ چوہنگ کی حدود میں فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد قتل کر دیے گئے جبکہ لاہور میں تھانہ چوہنگ کی حدود میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں 4 افراد جان سے گئے جبکہ بچے سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے۔

    واضح رہے کہ میں 3 بھائی اور ایک کزن شامل ہے، مرنے والوں کی شناخت علی حسنین، غلام مصطفٰی، غلام مرتضی اور ملک خادم کے نام سے ہوئی ہے، پولیس کے مطابق مقتولین کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں تھا، 12سالہ لڑکا تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، پولیس کی تحقیقاتی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
    راولپنڈی پولیس کو عمران خان اور شاہ محمود قریشی سے تفتیش کی اجازت مل گئی
    سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی وجہ سامنے آگئی
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی دن

    ادھر دوسری جانب آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے لاہور کے علاقے چوہنگ میں فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور آئی جی پنجاب نے سینئر پولیس افسران کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کا حکم دے دیا، ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کیلئے سپیشل ٹیم تشکیل دی جائے، سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کو جلد از جلد ٹریس کیا جائے، سینئر افسران مقتولین کے لواحقین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں، انصاف کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔

  • سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ  میں اہم ہیشرفت

    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت

    کراچی میں سولا سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ متوفیہ کی لاش کو جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ہے جبکہ لواحقین کے مطابق لڑکی گلشن اقبال بلاک 13 کے بنگلے میں ملازمہ تھی۔ اتوار کو صبح لڑکی معمول کے مطابق بنگلے میں کام کرنے گئی تھی اور اس اس حوالے سے لواحقین نے مزید بتایا کہ بنگلے میں کام ختم کرنے کے بعد لڑکی گھر آئی تو اس کی حالت تشویشناک تھی، جس کے بعد اسے انتہائی تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔

    علاوہ ازیں لواحقین نے الزائد عائد کیا کہ بنگلے کے مالک گھر میں نہ ہونے پر ان کے بیٹوں نے لڑکی کو بدفعلی کا نشانہ بنا ڈالا اور گھر والوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا کر زہر دیا گیا ہے اور لواحقین کا کہنا ہے کہ دوران علاج لڑکی دم توڑ گئی ہے، ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    محمد بن سلمان کا سعودی عرب،پہلی بار ہو رہا”ریاض فیشن ویک”
    حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،فیصلہ محفوظ
    جبکہ لڑکی کی موت کے بعد پولیس نے لواحقین سے رابطہ کیا۔ ابتدائی رپورٹ میں زہریلی چیز کھانے کے شواہد ملے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد وجہ موت معلوم ہو سکے گی۔

  • ڈاکوؤں نے  ڈی ایس پی کو یرغمارل بنا لیا

    ڈاکوؤں نے ڈی ایس پی کو یرغمارل بنا لیا

    سندھ،گھوٹکی میں ڈاکوؤں نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں نے ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو ، ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کو یرغمال بنالیا اور پولیس کے مطابق خانپور سہانجرو بوزدار میں ڈکیٹی کی واردات ہوئی۔ ڈاکو موٹر سائیکل چھین کر فرار ہوگئے جبکہ پولیس تعاقب میں سہانجرو میں پہنچی تو ڈاکوؤں نے محاصرہ کرلیا۔ محاصرے کی ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں فائرنگ کی آواز سنائی دے رہی ہے۔

    ڈاکوؤں کی جانب سے ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو ، ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی، آخری اطلاعات کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، گھوٹکی پولیس اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایم کیو ایم پورے شہر سے الیکشن لڑے گی. مصطفی کمال
    گرفتار ملزم نے اب تک 328 گردوں کے آپریشن کئے ہیں. نگران وزیراعلی پنجاب
    نواز شریف کا استقبال؛ زیادہ بندے لانے پر ہونڈا 125 بائیک مگر پٹرول اپنا
    پرینکسٹر یوٹیوبر کو گولی مارنے والے کو عدالت نے رہا کردیا
    انقرہ میں دھماکہ کی تحقیقات شروع
    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کا فیصلہ

    تاہم واضح رہے کہ نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر سے پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی کی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں وزرائے اعلیٰ نے کچے میں بیک وقت آپریشن کرنے پر اتفاق ہوا ہے اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں نگراں وزیراعلیٰ سندھ مقبول باقر اور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اہم امور پر بات چیت کی تھی ۔

    جبکہ ملاقات میں فیصلہ ہوا کہ پنجاب کے کچے میں وہاں کی ایجنسیز آپریشن کریں گی، سندھ کی جانب سے بھی اُسی وقت آپریشن شروع کیا جائے گا تاکہ کوئی ڈاکو سندھ سے پنجاب اور پنجاب سے سندھ کی حدود میں داخل نہ ہوسکے۔

  • کراچی میں شہریوں کی فائرنگ سے2 ڈاکو ہلاک 4 زخمی

    کراچی میں شہریوں کی فائرنگ سے2 ڈاکو ہلاک 4 زخمی

    کراچی : جیل چورنگی فلائی اوورکے قریب کار سوار شہری کی فائرنگ سے 2 ڈاکو ہلاک ہوگئے جبکہ ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق جیل چورنگی فلائی اوورکے قریب 3 ڈاکو لوٹ مار کر رہے تھے کہ کار سوار شہری نے ڈاکوؤں پر فائرنگ کر دی شہری کی فائرنگ سے ایک ڈاکو موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ 2 ڈاکو زخمی ہوئے جو خود کو راہ گیر بتا رہے تھے لیکن تفتیش کرنے پر پتا چلا کہ وہ راہ گیر نہیں بلکہ ہلاک ہونےوالےڈاکو کےساتھی ہیں جو لوٹ مار کر رہےتھے، بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتےہوئے دوسرا ڈاکو بھی ہلاک ہوگیا جبکہ تیسرا ڈاکو زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے کار سوار شہری ڈاکوؤں پر فائرنگ کرکے موقع سے فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔

    پاک فوج کے جنوبی وزیرستان میں بنجر زمینوں کو

    دوسری جانب کراچی کے علاقے بفرزون سیکٹر 15-B کے قریب بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا جہاں ایک شہری کی جانب سے ڈاکوؤں پر فائرنگ کی گئی 2 موٹرسائیکلوں پر سوار ڈاکو شہری کو لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے کہ شہری نے ان پر فائرنگ کردی جس سے تین ڈاکو زخمی ہوگئے تینوں ڈاکوؤں عامر حسین، عبدالرحمان اور اسماعیل کو گرفتار کرکے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ادھر رحیم یار خان میں مبینہ طور پر بچوں کی لڑائی پر درجنوں افراد نے ہوٹل پر دھاوا بول کر ہوٹل کے مالک اور منیجر کو تشدد کا نشانہ بنا دیا، واقعے کی سی سی ٹی وی بھی سامنے آگئی رحیم یار خان کے تھانہ ظاہر پیر کی حدود میں بچوں کی لڑائی میں بڑے بھی کود پڑے جس کے بعد درجنوں افراد نے ہوٹل پر ڈنڈوں اور سوٹوں سے حملہ کردیا مشتعل افراد کی جانب سے ہوٹل پر حملہ کرکے ہوٹل کے مالک اور منیجر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مشتعل افراد کے ہوٹل پر حملے کی سی سی ٹی وی بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔

    شاہد خاقان عباسی کو اپنی پارٹی میں ہی رہنا

    متاثرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے نہ تو ان کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے نہ کوئی کارروائی کی جا رہی ہےدوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا تھا، معاملے سے متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

  • اسکول پرنسپل پر زیادتی کا الزام، پولیس نے گرفتار کرلیا

    اسکول پرنسپل پر زیادتی کا الزام، پولیس نے گرفتار کرلیا

    اسکول پرنسپل پر زیادتی کا الزام، پولیس نے گرفتار کرلیا

    کراچی کے علاقے گلشن حدید میں واقع نجی اسکول کے پرنسپل کو پولیس نے خواتین سے زیادتی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے، آئی جی سندھ رفعت مختار نے ایس ایس پی ملیر سے واقعے پر رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کو یقینی بناتے ہوئے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    جبکہ ایس ایس پی ملیر حسن سردار نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ ملزم پر 25 سے زائد اساتذہ، عملے اور دیگر خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام تھا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والے موبائل فون میں درجنوں فحش ویڈیوز موجود ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
    جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ملزم کے خلاف ماضی میں بھی کئی شکایات درج کی گئی تھیں۔ ملزم کو علاقہ مکینوں کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسکول پرنسپل کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

  • اغواء برائے تاوان کے 8 مغوی بازیاب کرائے گئے،سی سی پی او

    اغواء برائے تاوان کے 8 مغوی بازیاب کرائے گئے،سی سی پی او

    سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ لاہور پولیس پاکستان کی ایک بہترین اور ماڈل فورس بن کر سامنے آئی ہے جس کا اولین مشن عوامی سیکورٹی اور جان و مال کی حفاظت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ دنوں میں لاہور پولیس میں ریکارڈ ترقیاں ہوئی اور انتظامی معاملات کو بہترین انداز میں نمٹایا گیا۔

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہوربلال صدیق کمیانہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات نہایت اطمینان بخش ہے کہ لاہور پولیس کے محرم سے متعلق انتظامات حالیہ سالوں میں سب سے بہترین تھے۔ عشرہ محرم الحرام کے دوران لاہور پولیس کی جانب سے کل 3668مجالس اور 458جلوسوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی گئی۔عشرہ محرم میں 11ہزار سے زائد پولیس افسران واہلکاران نے ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیئے۔ لاہور پولیس کی بہترین حکمت عملی کی بدولت صوبائی دارالحکومت میں یوم عاشور موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش کے بغیر پر امن اختتام پزیر ہوا۔ محرم الحرام میں سیکورٹی امور پر لاہور پولیس سے تعاون پرمیڈیا کا کردار قابل تحسین ہے۔سی سی پی او لاہور نے کہا کہ پر امن اور محفوظ لاہورکے پیچھے پولیس کی مسلسل محنت، قربانیاں اور 24/7دستیابی شامل ہے۔ لاہور پولیس ہر وقت اور ہمیشہ عوام کی حفاظت کے لئے پہنچتی ہے۔

    بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ 4 اگست کو یوم ِ شہداء لاہور پولیس ہے جو ہم انگنت پولیس فورس کے شہیدوں کی یاد میں مناتے ہیں جنہوں نے عوام کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 81ہزار سے زائد پینڈنگ مقدمات کی تفتیش مکمل کی گئی، جبکہ قتل کے 192مقدمات کو یکسو کیا گیاہے۔ اے وی ایل ایس کی برآمد ہو نے والی گاڑیوں کی مالیت 81 کروڑ روپے ہے۔  3لاکھ 58ہزار 248 روڈ پینڈنگ نمٹا دیے گئے ہیں۔ اسی طرح اغواء برائے تاوان کے 8 مغوی بازیاب کرائے گئے ہیں۔

    لاہور پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور نے کہا کہ 13341اشتہاری، 26116عدالتی مجرمان جبکہ 11715عادی مجرمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ سی آئی اے نے 5093مقدمات میں ملزمان کو ٹریس کر کے قانون کے حوالے کیا ہے۔ گرفتار گینگز سے 75کروڑ سے زائد کی رقم جبکہ 7779وہیکلز برآمد ہوئیں۔سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے منشیات کے 6136مقدمات درج کرکے 6142ملزمان کو گرفتار کیاگیاہے۔کل 1,68,511خاموش ملزمان کو یکسو کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے قبضہ سے 3510کلو چرس، 72 کلوہیرون اور30کلوآئس بھی برآمد کی گئی ہے۔ ناجائز اسلحہ رکھنے والے قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 4807مقدمات درج کرکے 4807ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے 49کلاشنکوف، 493رائفل اور 4181 پسٹل برآمد کئے گئے ہیں۔ ہوائی فائزنگ کرنے والے ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 566مقدمات درج کرکے 662ملزمان کوگرفتار کیاگیا ہے۔اسی طرح قمار بازی ایکٹ کے تحت 856مقدمات درج کرکے 3585ملزمان کو گرفتار کرکے 1کروڑ 74لاکھ 78ہزار روپے برآمد کئے گئے ہیں۔کائٹ فلائنگ ایکٹ کے تحت 4256مقدمات درج کرکے 4256ملزمان گرفتاراور 69016 چرخیاں برآمد کی گئیں ہیں۔ ون ویلنگ کے 1702مقدمات درج کرکے 1702ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھجوایا گیا ہے۔ ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی پر 2190مقدمات درج کرکے 2194ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی طرح کرایہ داری ایکٹ کے تحت 3434مقد مات درج کرکے 6818ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سیکورٹی ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 1927 مقدمات درج کرکے 1927ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہوربلال صدیق کمیانہ کی زیر صدارت ڈی ایس پیز(انویسٹی گیشن) کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں زیرِ تفتیش مقدمات اور زیرِ التواء روڈ سرٹیفکیٹس کے حوالے سے کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سی سی پی او لاہور نے غیر تسلی بخش کارکردگی پر ڈی ایس پی چوہنگ سرکل کی سخت سرزنش کی اور کارکردگی بہتر کرنے کی ہدایت کی۔

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر نے واضح کیا کہ فرائض میں غفلت اور عدم دلچسپی بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔انھوں نے زیر ِتفتیش مقدمات اورروڈ سرٹیفکیٹس پینڈینسی جلد سے جلد نمٹانے کا حکم دیااور بلائنڈ مرڈر، ڈکیتی، راہزنی اور بھتہ خوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی داد رسی اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور مقدمات کو زیرِ التوا نہ رکھا جائے، انصاف کی فراہمی میں دیر مظلوم کے ساتھ نا انصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کو سزا دلوانے کیلئے پولیس کا عملہ محکمہ پبلک پراسیکیوشن سے بہترین کوارڈینیشن کو یقینی بنائے۔ کوئی بے گناہ گرفتار نہ ہواور قصوروار ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔ انھوں نے ڈی ایس پیز کو روزانہ کی بنیاد پر پولیس سٹیشنز کی مانیٹرنگ کی ہدایت بھی کی اور واضح کیا کہ شہریوں کو انصاف کی فراہمی ان کا اولین مشن ہے

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    جسم فروش خواتین اسی طریقے سے نیپال سرحد عبور کر کے بھارت آتی ہیں،

    تحقیقاتی ایجنسیاں سیما کو واپس پاکستان بھجوانے پر غور کر رہی ہیں

     تحقیقاتی اداروں کو ابھی تک سیما اور سچن کی محبت پر یقین نہیں آیا 

    بھارت اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان پہلے بھی شادیاں ہوتی رہی ہیں،پہلے کس کس کی شادیاں ہوئیں جانتے ہیں

  • 18 ویں گریڈ کے افسر کی بیٹی کے ہاتھوں ہوئی موت

    18 ویں گریڈ کے افسر کی بیٹی کے ہاتھوں ہوئی موت

    شہر قائد کراچی کے علاقے لالا زار سوسائٹی میں گریڈ 18 کے افسر کو اسکی بڑی بیٹی نے ہی قتل کر دیا،

    پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے بیٹی کو گرفتار کر لیا، پولیس حکام کے مطابق کے پی ٹی کے افسر 53 سالہ عتیق الرحمان میمن کو ایک روز قبل قتل کیا گیا تھا، مقتول عتیق نے دو شادیاں کر رکھی تھیں، مقتول گزشتہ روز گھر آئے تو انکی پہلی بیوی سے ہوئی بڑی بیٹی کے ساتھ جھگڑا ہوا، جس کے بعد عتیق نے اپنی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنایا، اس دوران ہاتھا پائی ہوئی، اور کوئی تیز دھار آلہ عتیق کی گردن پر لگا، خون زیادہ بہنے کی وجہ سے اسکی موت ہوئی

    پولیس حکام کے مطابق ملزمہ مقتول کی بیٹی کی عمر 22 برس ہے اور اسکا نام صبا ہے، صبا نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے،صبا نے پولیس کو بتایا کہ "والد اسے قتل کرنا چاہتا تھا والد نے اسے تشدد نیچے گرا کر گردن زور سے دبائے رکھی تھی ، اس نے جان بچانے کیلئے مزاحمت کی تھی” صبا نے پولیس کو بتایا کہ اسکے والد کی گردن سے خون نکلا، وہ نیچے گرے، بچانے کی کوشش کی لیکن خون بند نہیں ہوا، ہسپتال پہنچے تو والد کی موت یو گئی تھی،

    پولیس نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا ہے پولیس حکام کے مطابق پہلی بیوی کی موت کے بعد مقتول عتیق نے دوسری شادی کی تھی، مقتول کے پہلی بیوی سے 3 اور دوسری سے 4 بچے ہیں جو ایک ہی فلیٹ میں رہتے ہیں

    واضح رہے کہ سرکاری فلیٹ میں کے پی ٹی کے افسر کو قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق کیماڑی ضلع کے ڈاکس تھانے کی حدود میں مولوی تمیز الدین خان روڈ پر واقع لالہ زار سوسائٹی میں 53 سالہ عتیق الرحمن میمن ولد حاجی کریم بخش کو تیز دھار آلے کے وار سے گھر میں قتل کیا گیا، مقتول کے پی ٹی میں گریڈ 18 کے افسر اور ایکٹنگ مینجر اسٹور تھے۔

    پولیس کے مطابق لالا زار میں واقع کے پی ٹی اپارٹمنٹس میں فلیٹ نمبر DL.8 میں عتیق الرحمان میمن، ان کی دوسری اہلیہ اور ان کے بچوں کے علاوہ پہلی متوفیہ بیوی کے تین بچے بھی ساتھ رہائش پذیر تھے متوفی اور ان کے بچوں کے درمیان گھر میں لڑائی جھگڑا ہوا اس دوران عتیق الرحمان میمن گردن کی بائیں جانب تیز دھار آلہ لگنے سے ہلاک ہوئے، انہیں کیماڑی میں واقع کے پی ٹی اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی، بعد ازاں پوسٹ مارٹم کے لیے لاش سول اسپتال منتقل کی گئی۔

    کراچی؛ مختلف مقامات سے اغواء ہونے والی 4 لڑکیاں بازیاب

    دوسری جانب کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے چیف میڈیکل آفیسر کے قتل شبے میں خاتون سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا فیروز آباد نرسری سے 6 جولائی کو اغوا ہونے والے ڈاکٹر رحم علی شاہ کی لاش 9 جولائی کو سہراب گوٹھ کے قریب سے ملی تھی، ان کے قتل کے شبے میں خاتون سمیت 4 ملزمان گرفتار کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر کے کزن کی گاڑی پر فائرنگ، دو افراد جاں بحق

    پولیس کے مطابق ورثا نے تھانہ فیروز آباد میں ڈاکٹر رحم علی کے اغواء کا مقدمہ درج کرایا تھا جب کہ مقتول کی لاش 7 جولائی کو ایدھی پہنچائی گئی اور ان کی گاڑی سرجانی ٹاؤن سے ملی تھی ممکنہ طور پر ایس ایس جی سی میڈیکل آفسر ڈاکٹر رحم کو سر پر وار کر کے قتل کیا گیا جس کے بعد ملزمان لاش سول اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوئے۔

    میرپور ساکرو: پی پی رہنماامیر حسین ہدیو بلوچ کا ٹاؤن کمیٹی عملے کے ہمراہ شہر …

  • پشاور میں  سٹر یٹ  کرائمز  کی بھر مار

    پشاور میں سٹر یٹ کرائمز کی بھر مار

    پشاور میں سٹریٹ کرائم میں خطرناک اضافہ،شہر کے مختلف علاقوں میں اغوا برائے تاوان،سازوسامان کا چھین جانا ایک معمول بن گیا ہے،رواں سال کے گزشتہ 5 مہینوں میں پشاور شہر میں قتل کے واردات میں 136 فیصد ،جبکہ راہزنی کے واقعات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے،پولیس رپورٹ کے مطابق رواں سال 232 افراد قتل کئے گئے ہے،اسکے علاوہ قتل و اقدام قتل کے واقعات میں 360 کیسز سامنے آئے ہے،مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے 224 افراد بھی شامل ہے،پشاور شہر میں 80 سے زائد راہزنی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہے، شہر میں رہزنی کے واقعات کے ڈر سے زیادہ تر عوام بغیر موبائل اور پیسوں کے گھر سے باہر گھومتے ہے،اسکے علاوہ 29 ریپ کے کیسز ریکارڈ کئے گئے ہے،پولیس زرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں پولیس اہلکار اپنے نوکری کو بچانے کے چکر میں لگے رہتے ہے، کیونکہ ضلع بدر ہونا، معطل ہونا یا نوکری سے نکالے جانا کے پی کے پولیس کے ساتھ ایک معمول بن گیا ہے تاہم نئے سی سی پی او اشفاق انور کے آنے کے بعد بھی حالات میں کوئی بہتری نہیں ائی،بلکہ حال تو یہ ہے کہ شہر کے بیشتر تھانے ایس ایچ اوز کے بغیر چل رہے ہے،