Baaghi TV

Tag: کراچی شہر

  • الخدمت بنو قابل نے اپنے پہلے جاب پورٹل کا افتتاح کردیا

    الخدمت بنو قابل نے اپنے پہلے جاب پورٹل کا افتتاح کردیا

    الخدمت کراچی نے اپنے پہلے جاب پورٹل ’’قابل ڈاٹ جابز ‘‘qabil.jobs) (کا افتتاح کر دیا اوربنو قابل2.0 کے 10ہزار سے زائد پاس آؤٹ طلبہ وطالبات میں اعزازات اور اسناد تقسیم کردی گئیں ،الخدمت کے تحت ایکسپو سینٹر کراچی میں ہونے والی 2روزہ بنو قابل نمائش میں 100 کمپنیز نے اسٹالز لگائے اور بنو قابل سے مختلف کورسز کرنے والے طلبہ وطالبات نے 100سے زائد منفرد پراجیکٹس کو نمائش کیلئے پیش کیا۔بنو قابل منفرد جاب پورٹل ’’ قابل ڈاٹ جابز ‘‘ qabil.jobs) (کا افتتاح امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان الخدمت 3نومبر کو بنو قابل کے تحت ایک بڑاپروگرام لانچ کرے گی ،جس میں 10لاکھ بچے اس پروگرام کا حصہ ہوں گے ۔یہ اہم موقع ہے کہ الخدمت کے تحت ’’جاب پورٹل ‘‘کا افتتاح کیا گیا ہے ،جہاں سیکڑوں کمپنیاں موجود ہوں گی۔

    اس پورٹل پر بنو قابل سے پاس آؤٹ طلبہ وطالبات کا ڈیٹا موجود ہے اورانڈسڑیز اپنی ضرورت کے مطابق ان نوجوانوں کو ملازمتیںکی آفر کریں گی۔اس موقع پر ڈائریکٹر بنو قابل پاکستان سلمان شیخ ،ڈائریکٹر کمیونٹی سروسز قاضی سید صدرالدین،اسکل ڈیو لپمنٹ کونسل کی فرحین بیگ ،فیضان لغاری ودیگر نے خطاب کیا ۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر الخدمت کراچی راشد قریشی ، ڈائریکٹر بنو قابل پروگرام فاروق کاملانی ،چیئر مین آباد حسن بخشی ، سی سی اوحبیب گروپ آف کمپنیز عارف حبیب ،اسپورٹس اینکر یحییٰ حسینی ،رضوان جعفر ،سلمان کارپوریشن کے کمپنی ہیڈ سرفراز احمد خان کارپوریٹ سیکٹر و آئی ٹی کمپنیز کے نمائندوں نے بھی بنو قابل کی گریجویشن تقریب میں شرکت کی اور طلبہ وطالبات میں اسناداور اعزازات تقسیم کیے۔
    منعم ظفر خان نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کا وژن تھا کہ کراچی کے نوجوانوں کو آئی کورسز سکھا کر انہیں بااختیار بنا یا جائے،انہیں مایوسیوں سے نکالا جائے۔ بنو قابل پروگرام سے دوسال میں 50ہزار بچے پاس آؤٹ ہو چکے ہیںجو کام حکومت کو کرنے چاہئیں تھے،وہ الخدمت نے کردکھائے ہیں۔کراچی میں گزشتہ تین سال سے آئی ٹی پارک کی باتیں ہو رہی ہیں۔وعدے بھی کئے گئے مگر کچھ نہیں کیا گیا ۔الخدمت 55مقامات پر آئی ٹی کورسز کروارہی ہے ۔منعم ظفر خان نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوسیوں سے نکال رہے ہیں ،ان نوجوانوں نے پڑھنا پڑھنا ہے،آگے بڑھنا ہے اور اپنے والدین کا سہارا بننا ہے ۔بنو قابل 4.0کی رجسٹریشن جاری ہے اور اب تک کراچی کے ایک لاکھ نوجوان خود کو رجسٹرڈ کرواچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوجوان کل آبادی کا 60فیصد ہیں اور یہی اس ملک کی امید وں کا مرکز اور محور ہیں ۔
    الخدمت نو جوانوں کا ہاتھ تھامے گی۔ انہیں مایوسی سے نکالے گی۔منعم ظفر خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کیا کہ پولی ٹیکنیک کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے ،اس سے کراچی کے ہزاروں نوجوان ٹیکنالوجی میں آگے بڑھیں گے اور ملک ترقی کرے گا ۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے ڈائریکٹر بنو قابل پروگرام سلمان شیخ نے کہا کہ جاب پورٹک کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم منزل کے قریب پہنچ چکے ہیں ،الخدمت نے ایک سنگ میل عبور کیا ہے ،بہت سے کمپنیاں الخدمت بنو قابل سے جڑ گئی ہیں ، بنو قابل کے نوجوانوں کو وہاں ملازمتیں ملیں گی ۔
    قاضی سید صدرالدین نے کہا کہ ٹیکنالوجی جاب پورٹل تمام ٹیکنالوجی کمپنیز اورسافٹ ویئر ہاوسز سے منسلک ہوگا ،یہ نئے دور کا آغاز ہے ۔الخدمت بنو قابل کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ تقریب میں دیگر مقررین نے الخدمت کی کاوش کو سراہا اور بنو قابل کورسز کرنے والے ہزاروں طلبہ کو مبارکباد پیش کی ۔

    ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی

  • طلبہ یونین کی بحالی کی ملک کو ضرورت ہے، امیر جماعت اسلامی

    طلبہ یونین کی بحالی کی ملک کو ضرورت ہے، امیر جماعت اسلامی

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں طلبہ یونین کی بحالی کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطاطق کراچی میں ٹیکنو فیسٹ سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں 65 فیصد نوجوان ہیں، جنہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے میدان میں لانے کی ضرورت ہے۔حکومت اور ریاست کا کام ہے کہ وہ نوجوانوں کو سہولیات فراہم کرے، 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکول ہی نہیں جاتے، صرف 35 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ انجینئرنگ کے تمام شعبوں میں انٹیلی جنس کے پروگرام کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں شروع سے ہی انٹیلی جنس کی تعلیم فراہم کرنی چاہیے۔ سندھ میں تعلیم کا بجٹ عوام پر خرچ نہیں کیا جارہا، وزراء آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ملک میں طلبہ یونین کی بحالی کی ضرورت ہے، سوال تو یہ ہے کہ نام نہاد جمہوریت پسند پارٹیاں طلبہ یونین کے انتخابات کیوں نہیں کرواتیں؟
    سندھ میں کوئی بھی اسکول استاد نہ ہونے کی وجہ سے بند نہیں ،سردار شاہ

  • کراچی میں میاں بیوی سمیت 5 رکنی بھتہ خور گروہ پکڑا گیا

    کراچی میں میاں بیوی سمیت 5 رکنی بھتہ خور گروہ پکڑا گیا

    کراچی میں پولیس نے اقبال مارکیٹ سے میاں بیوی سمیت 5 رکنی بھتہ خور گروہ کو گرفتار کر لیا جو اب تک کئی تاجروں کو لوٹ چکا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی نے بتایا کہ گروہ سے بھتہ خوری میں استعمال ہونے والا موبائل فون اور سم برآمد کر لی، گرفتار ملزمان میں شوہر کاشف، بیوی راحیلہ، شہزاد قیصر اور فیصل شامل ہیں۔طارق الٰہی مستوئی کے مطابق ملزم کاشف کاروباری شخصیات کو فون کر کے بھتہ طلب کرتا تھا، ملزمان بھتہ نہ دینے کی صورت میں گھروں پر پرچیاں دیتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان کاروباری شخصیات کو ان کے عزیزوں کی لوکیشن بتا کر بھی دھمکیاں دیتے تھے، بھتہ کی رقم لینے کیلیے ملزم کاشف اور اس کی بیوی راحیلہ جایا کرتے تھے۔ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا کہ گروہ نے 16 اگست کو تاجر عمران سے 10 لاکھ روپے بھتہ مانگا تھا، اگلے روز ملزمہ نے عزیز آباد سے 4 لاکھ روپے وصول کیے تھے، 24 ستمبر کو گروہ نے تاجر محمد انتظار کو فون کر کے بھتے کا مطالبہ کیا تھا، گروہ نے تاجر کو ناگن چورنگی بلا کر ایک لاکھ روپے بھتہ وصول کیا۔گروہ نے 21 ستمبر کو تاجر عارفین کو بھتے کی پرچی اور گولی بھیجی جس پر تاجر نے خوفزدہ ہو کر ملزمان کو ایک لاکھ روپے بھتہ دیا، بھتہ خور گروہ کا ایک کارندہ جوہر آباد پولیس کے ہاتھوں مارا جا چکا ہے۔طارق الٰہی مستوئی نے مزید بتایا کہ ملزمان کئی علاقوں میں ڈکیتیوں میں بھی ملوث رہ چکے ہیں، تفتیش کے دوران ملزمان نے ڈکیتیوں اور بھتہ خوری کی کئی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔

    سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی

    سندھ میں کوئی بھی اسکول استاد نہ ہونے کی وجہ سے بند نہیں ،سردار شاہ

    ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

  • سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید  کی برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی

    سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی

    سابق گورنر سندھ ،معروف طبیب حکیم محمد سعید کی26ویں برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکیم محمدسعید پاکستان کے ایک مایہ ناز طبیب تھے شعبہ حکمت میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیںطب و حکمت،عالمی ادب کے تراجم،اسلام اور دیگر موضوعات پر انہوں نے 200سے ز ائد کتب تصنیف کیں ،حکیم سعید کو ان کی شاندار خدمات کے صلہ میں ستارہ امتیازاور نشان امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے انہیں بچوں سے بے پناہ محبت تھی وہ بچوں کے رسالے نونہال سے اپنی شہادت تک منسلک رہے۔وہ صوبہ سندھ کے گورنر بھی رہ چکے ہیں .انہیں17اکتوبر 1998ء کو کراچی میں نامعلوم افراد نے فجر کی نماز کے بعد روزے کی حالت میں فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے یہودیوں اور اسرائیل سے تعلقات کے بارے حکیم محمد سعید نے ہی خبردار کیا تھا جسکی وڈیو انکے سوشل میڈیا پر آج بھی دیکھی جا سکتی ہے.

    کراچی،صدر میں ہوٹلوں کی چیکنگ کے دوران 6 مشکوک افراد گرفتار

    ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

  • کراچی،صدر میں ہوٹلوں کی چیکنگ کے دوران 6 مشکوک افراد گرفتار

    کراچی،صدر میں ہوٹلوں کی چیکنگ کے دوران 6 مشکوک افراد گرفتار

    کراچی کے علاقے صدر میں اسپشل انویسٹیگیشن یونٹ(ایس آئی یو)پولیس کی جانب سے ہوٹلوں کی چیکنگ کے دوران 6 افراد کوگرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایس آئی یوپولیس کی جانب سے ہوٹل وگیسٹ ہاسزکے خلاف کارروائی کے دوران صدر کے علاقے میں واقع 2 ہوٹل نیوالمدینہ اورڈی پیرس میں چیکنگ کے دوران ایس ایس او پیز کی بے ضابطگی پائی گئی۔ہوٹل نیوالمدینہ میں عارضی رہائش اختیار کرنے والی3 افراد اورایک جوڑے کودستاویزات مکمل نہ ہونے پرقانونی کارروائی کے لیے صدرپولیس کے حوالے کردیا گیا۔ ہوٹل ڈی پیرس سے ایک شخص کے قبضے سے متعدد پاسپورٹ و شناختی کارڈ برآمد ہوئے۔ اس شخص کو بھی قانونی کارروائی کے لیے صدر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ تمام افراد سے پوچھ گچھ کا عمل جاری ہے ۔

    کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

    ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    مولانا فضل الرحمان کل ٹنڈوالہیار سے امن کارواں کی قیادت کریں گے

  • ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت دینے کی سوچ خطرناک ہے، سیاسی رہنماوں کی تقلید ملکی مفاد میں ہوسکتی ہے، ملکی مفاد کے خلاف نہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقامی ہوٹل میں سعودی عرب کے 94 قومی دن کے حوالے سے "پاکستان سعودی عربیہ کے تعلقات ماضی، حال اور مستقبل” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ عمرہ و حج اعلٰی درجے کی چیزیں ہیں، ان میں چھوٹے مسائل کو نظر انداز کردینا چاہیے۔ پاکستان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ تقریب سے کراچی میں سعودی قونصل جنرل، معروف اسلامی اسکالر و چیئرمین پاکستان علمائ کونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تنظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر اشرفی، محمد امین اللہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔صوبائی وزیر سعید غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سعودی عرب کے قومی دن کے حوالے سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عربیہ کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، مگر پاک و سعودی تعلق دنیا کے تمام ممالک سے تعلقات بالکل مختلف ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کے علاوہ ہمارا روحانی تعلق برقرار رہے گا اور اس روحانی تعلق کی وجہ خانہ کعبہ و مدینہ منورہ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے سرمایہ کار پاکستان آئے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں شامل مشکلات کو دور کرنے میں سعودی عرب نے اپنا اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو زر مبادلہ کا مسئلہ رہا ہے، اس کو بھی انہوں نے دور کیا۔
    سعید غنی نے کہا کہ اس وقت بھی سعودی عرب میں 26 سے 27 لاکھ سے زائد پاکستان برسر روزگار ہیں، جو اس ملک میں زرمبادلہ کا بڑا سبب بنے ہوئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد کا ہم اتنا فائدہ اٹھائیں کہ ہم خود کفیل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی وفود کی آمد روکنے کے لیے دشمن ممالک کا بڑا ہاتھ ہے، پاکستان میں شنگھائی کانفرنس ہونے جارہی ہے، ملک دشمن عناصر و ممالک چاہتے ہیں کہ یہ کانفرنس نہ ہو۔
    انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردی واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پاکستان کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت دینے کی سوچ خطرناک ہے، ایسی جماعتوں کے کارکنان پھر بھی انکی تقلید کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماوں کی تقلید ملکی مفاد میں ہوسکتی ہے، ملکی مفاد کے خلاف نہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اگر میری جماعت کی قیادت مجھے ملکی مفاد جانے کے خلاف بولے گی تو میں ایسی جماعت کو چھوڑ دونگا۔
    انہوں نے کہا کہ شنگھائی کانفرنس میں مختلف عالمی سربراہ مملکت آرہے ہیں، میری پی ٹی آئی سے گذارش ہے کہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر احتجاج کو معطل کیا جائے، یہ نامناسب طرز عمل ہے، آپ پاکستان کے مفاد کے لیے ریاست کا ساتھ دیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ جو حج و عمرہ آپریٹرز ہیں وہ حاجیوں کو بتایا کریں کہ حج کے لیے جارہے ہیں وہ تفریح کے لیے نہیں۔ حج مشکلات کا ہی نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ہمارے حاجی صاحبان رہائشی سہولیات کے حوالے سے شکایت کرتے ہیں، عمرہ و حج اعلی درجے کی چیزیں ہے۔ ان میں چھوٹے مسائل کو نظر انداز کردینا چاہیئے۔

    کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

    تعلیم ہی وہ روشن راستہ ہے جو پاکستان کو بحران سے نکال سکتا ہے ،ْ منعم ظفر خان

    مولانا فضل الرحمان کل ٹنڈوالہیار سے امن کارواں کی قیادت کریں گے

  • کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

    کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

    کراچی صرف ملک کو سب سے زیادہ ریونیو ہی نہیں دیتا بلکہ اس کے شہری بھی پاکستان میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے والے افراد میں شمار ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے ادارہ شماریات نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہری پاکستان میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 200 روپے تک مہنگا ہوا ہے اور شہر قائد کے باسیوں کو 20 کلو آٹے کا تھیلا 2200 روپے میں مل رہا ہے۔ادارہ شماریات کی دستاویز میں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے شہری دوسرے نمبر پر مہنگا آٹا خریدنے والوں میں شمار ہیں۔ یہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا دو ہزار روپے تک میں فروخت کیا جا رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق خضدار میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1950، اسلام آباد میں 1946، راولپنڈی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1933، کوئٹہ میں 1880 روپے تک میں دستیاب ہے۔یہی 20 کلو آٹے کا تھیلا بنوں میں 1850، لاڑکانہ میں 1840، پشاور، سیالکوٹ، بہاولپور، گوجرانوالہ اور سرگودھا میں 1800 تک میں فروخت کیا جا رہا ہے۔سکھر میں 20 کلو آٹا 1780 روپے، ملتان میں 1733 جب کہ لاہور اور فیصل آباد میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1700 تک ہے۔

    تعلیم ہی وہ روشن راستہ ہے جو پاکستان کو بحران سے نکال سکتا ہے ،ْ منعم ظفر خان

    مولانا فضل الرحمان کل ٹنڈوالہیار سے امن کارواں کی قیادت کریں گے

  • مولانا فضل الرحمان کل ٹنڈوالہیار سے امن کارواں کی قیادت کریں گے

    مولانا فضل الرحمان کل ٹنڈوالہیار سے امن کارواں کی قیادت کریں گے

    جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کل پیر کی صبح ٹنڈوالہیار سے امن کارواں کی قیادت کریں گے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن جےیوآئی سندھ کے دعوت پر گزشتہ روز کراچی پہنچے تھے جبکہ جےیوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو ، انجینئر ضیاء الرحمن ، مفتی اسعد محمود بھی ہمراہ ہوں گے ان کے علاوہحافظ نصیر احرار، مولانا ناصر محمود سومرو ، حاجی عبد الجلیل جان ، مولانا سمیع الحق سواتی ، مولانا محمد غیاث ، حاجی عبداللّہ خلجی ، ایاز محمد بھی مولانا کے ہمراہ موجود ہونگے. اس حوالے سے جے یوآئی سندھ میڈیا کے زمہ دار مولانا سمیع الحق سواتی نت بتایا کہ مولانا فضل الرحمان پیر کی صبح ٹنڈو الہیار سے میرپور خاص تک استحکامِ پاکستان امن کارواں کی قیادت کریں گے۔استحکام پاکستان کارواں کی قیادت جےیوآئی کے صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی ، سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو ودیگر بھی کریں گے استحکام پاکستان امن مارچ کارواں ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمان پیر کی شام میرپورخاص میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کریں گے ۔ سمیع سواتی کا مزید کہنا تھا کہ مفتی محمود کانفرنس کے ذریعے لوئر سندھ میں طویل عرصے بعد بڑا پاور شو کرنے جارہی ہے ۔ گاما اسٹیڈیم میرپورخاص میں مفتی محمود کانفرنس کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ، لاکھوں افراد کی شرکت متوقع مفتی محمود کانفرنس میں جےیوآئی کی مرکزی لیڈرشپ سمیت تمام صوبوں کے قائدین شریک ہوں گے۔مفتی محمود کانفرنس میں سندھ میں بدامنی اور لاقانونیت کیخلاف قراردادیں پیش ہوں گی ۔مفتی محمود کانفرنس اسلام اور سندھ دشمن قوتوں کیخلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا ۔مفتی محمود کانفرنس میں عوامی شرکت ثابت کرے گی کہ سندھ اب بھی باب الاسلام ہے ۔

    پی ٹی آئی کا 15 اکتوبر کا احتجاج ملکی استحکام کیلیے خطرہ ہے، مصطفی کمال

    مجوزہ آئینی ترامیم پر ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیا ہے، تحفظات بھی دور کرینگے، احسن اقبال

  • مجوزہ آئینی ترامیم پر ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیا ہے، تحفظات بھی دور کرینگے، احسن اقبال

    مجوزہ آئینی ترامیم پر ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیا ہے، تحفظات بھی دور کرینگے، احسن اقبال

    پاکستان مسلم لیگ(ن)کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کراچی آئے ہیں، مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے ایم کیو ایم کو اعتماد لیا گیا ہے، تحفظات بھی دور کریں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں ایم کیو ایم کے ہمراہ مشترکہ کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ موجوزہ آئینی ترامیم کی کوئی جمہوری جماعت مخالفت نہیں کر سکتی، پارلیمنٹ کا کام کسی عدالتی فیصلے سے نہیں ہو سکتا کیونکہ عدالت کے سیاسی فیصلے ملک کو عدم استحکام تک لے جاتے ہیں، مخصوص نشستوں پر بھی چھٹی کے دن ایک فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 58 ٹو بی سے حکومتیں ختم ہوئیں، جب آئین سے یہ 58 ٹو بی نکالی تو یہ کام عدالت سے شروع ہوگیا، ہم اپنی عدلیہ کو سیاسی معاملات سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت ختم کرکے ترقی کا سفر ختم کر دیا گیا، عدالت نے نواز شریف کے معاملے پر یہ کام کیا اور عدالتی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جبکہ چند ججز نے حمزہ شریف کی حکومت ختم کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ملک کا دوالیہ نکال چکی تھی، 26 ماہ کی حکومت میں ایم کیو ایم نے ہمارا ساتھ دیا اور بھرپور حمایت کی حکومت کی۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بحران کے حوالے سے وزیر اعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم نے تجاویز دیں اور آئی پی پیز کا مسئلہ حل کرنے میں ہم کامیاب ہوئے۔ آئی پی پی پیز پر ایم کیو ایم کے کردار کو سراہتے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ آرٹیکل 140 اے کی ہم بھی حمایت کرتے ہے، مجوزہ آئینی ترمیم پاس ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے مسودے پر بات چیت ہوگی۔ لاپتا کارکنان کے حوالے سے بھی جلد ایک میٹنگ کریں گے۔ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آنے والے وقت اور مستقبل میں مل کر ساتھ کام کرنا ہے۔ ہم نے آئینی ترمیم، آرٹیکل 140 اے، لاپتا کارکنان اور آئی پی پیز کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔قبل ازیں، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے وفود کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترامیمی مسودے پر ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیا۔ایم کیو ایم وفد نے کہا کہ آئینی ترامیم اہم معاملہ ہے مگر جمہوریت کے لیے بلدیاتی قوانین میں ترامیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی اہم ہے۔ لیگی وفد نے کہا کہ ایم کیو ایم کی بلدیاتی ترامیم سے وزیراعظم اور پوری مسلم لیگ ن حمایت کرتی ہے۔ملاقات میں ڈاکٹر خالد مقبول، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال، امین الحق اور خواجہ اظہار الحسن سمیت دیگر شریک ہوئے جبکہ مسلم لیگی وفد میں احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور اعظم نذیر تارڑ شامل تھے۔ احسن اقبال نے وزیراعظم کا سلام ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو دیا۔

    پی ٹی آئی کا 15 اکتوبر کا احتجاج ملکی استحکام کیلیے خطرہ ہے، مصطفی کمال

  • پی ٹی آئی کا 15 اکتوبر کا احتجاج ملکی استحکام کیلیے خطرہ ہے، مصطفی کمال

    پی ٹی آئی کا 15 اکتوبر کا احتجاج ملکی استحکام کیلیے خطرہ ہے، مصطفی کمال

    ایم کیو ایم پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) 15 اکتوبر کو ڈی چوک میں احتجاجی مظاہرے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما مصطفی کمال نے پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کی جانب سے 15 اکتوپر کو اسلام آباد ڈی چوک پر احتجاج کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کو استحکام کی ضرورت ہے کیوںکہ 15 اکتوبر کو شنگھائی کانفرنس ہو رہی ہے اور پی ٹی آئی کا احتجاج اس استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے اقدامات اسرائیلی ایجنڈے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ زیک گولڈ اسمتھ عمران خان کے بچوں کے ماموں ہیں۔زیک گولڈ اسمتھ نے 2 ماہ قبل اسرائیل کے حق میں ٹویٹ کی تھی اور عمران خان نے ان کی میئر شپ کی مہم بھی چلائی۔سید مصطفی کمال نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ پاکستان کے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کا حصہ تو نہیں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اخبارات نے عمران خان کی تعریف میں آرٹیکلز شائع کیے جو اس بات کو فروغ دے رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسیز اور اقدامات اسرائیلی ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ ایک سیاسی جماعت کی طرح کام کرے اور ریاست کے ساتھ تصادم سے گریز کرے۔مصطفی کمال نے پی ٹی آئی کے رہنماں اور ان کے نعروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی ماضی میں ایسے نعرے لگاتے تھے کہ منزل نہیں رہنما چاہیے اور ہم بھی پاگلوں کی طرح لگے رہتے تھے۔ لیکن بعد میں ہم نے بغاوت کی اور اپنے رہنما کو ہی فارغ کردیا۔
    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی آج اسی طرح کے نعرے لگا رہے ہیں جیسے کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں لیکن اس پر جس طرح عمل کیا جا رہا ہے وہ بالکل اسی طرح ہے جیسا ماضی میں ہوا تھا۔ریاست نے ایم کیو ایم کے امن قائم کرنے کے اقدامات کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کراچی کو اچھی سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ ابھی تک کوٹہ سسٹم بھی برقرار ہے۔سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگانے کے حق میں نہیں لیکن اس احتجاج سے پاکستان کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    کراچی ٹیکنالوجی فیسٹیول، طالبعلم نے نئی اسمارٹ ہوم ٹیکنالوجی متعارف کرادی