Baaghi TV

Tag: کراچی شہر

  • رینجرز اور کسٹمز  کی مشترکہ چیکنگ، بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور سفینہ گٹکا برآمد

    رینجرز اور کسٹمز کی مشترکہ چیکنگ، بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور سفینہ گٹکا برآمد

    پاکستان رینجرز (سندھ) اور کسٹمز انٹیلی جنس نے مشترکہ سنیپ چیکنگ کے دوران کراچی کے علاقے گلشن ضیا اورنگی ٹاؤن میں ایک ٹیوٹا پک اَپ سے بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور بیرون ملک سے سمگل شدہ سفینہ گٹکا برآمدکر لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری اعلامیہ کے مطابق ایک ٹیو ٹاپک اَپ میں بھاری تعداد میں گٹکا اور ماوااسمگل کیا جا رہا تھا، ڈرائیوراپنی راہ میں لگی ہوئی سنیپ چیکنگ کے خطرے کوبھاپنتے ہوئے کچھ فاصلے پرگاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا، تلاشی کے دوران گاڑی سے1848کلوگرام کے 88عدد تھیلے گٹکا ماوا اور 110کلو گرام کے 6عدد تھیلے غیر ملکی سفینہ گٹکا برآمدکر لیاگیا۔سمگلنگ میں استعمال ہونی والی گاڑی، برآمد شدہ گٹکا اور غیر ملکی سفینہ گٹکا مزید قانونی کاروائی کے لیے کسٹم حکام کے حوالے کر دیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی کلکٹرئٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ نے ولیکا روڈ سائٹ کراچی میں قائم گودام پر چھاپہ مار کراسمگلڈ شدہ ایرانی 43.75 ٹن اسکمڈ ملک پاوڈر(خشک دودھ) تحویل میں لیکر ضبط کیا۔ترجمان کے مطابق ضبط شدہ اسکمڈ ملک کی مالیت پانچ کروڑ بیس لاکھ روپے ہے۔ ضبط شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاؤڈر (دودھ) 07 مزدا ٹرکوں پر لوڈ کر کے اے ایس اوکے گودام منتقل کیا گیا ہے اور کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ اور ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید تفتیش اور تحقیقات جاری ہے۔واضح رہے کہ ایران سے اسمگل شدہ ڈیری کریم ، کوکنگ آئل اور بیکری آئٹمز کی ملک کے کئی شہروں میں غیرقانونی فروخت جاری ہے جس سے مقامی مینو فیکچررز شدید متاثر ہورہے ہیں۔ کراچی، سکھر، اسلام آباد، لاہور، سرگودھا، پشاور اور جہلم میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ان ایرانی اشیاء کی سپلائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران سے بڑھتی ہوئی اسمگلنگ قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے.

    عرفان صدیقی کا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد پر زور

  • کسٹمز  کی بڑی کارروائی ، کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط

    کسٹمز کی بڑی کارروائی ، کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط

    کلکٹرئٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط کرلیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کلکٹرئٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ نے ولیکا روڈ سائٹ کراچی میں قائم گودام پر چھاپہ مار کراسمگلڈ شدہ ایرانی 43.75 ٹن اسکمڈ ملک پاوڈر(خشک دودھ) تحویل میں لیکر ضبط کیا۔ترجمان کے مطابق ضبط شدہ اسکمڈ ملک کی مالیت پانچ کروڑ بیس لاکھ روپے ہے۔ ضبط شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاؤڈر (دودھ) 07 مزدا ٹرکوں پر لوڈ کر کے اے ایس اوکے گودام منتقل کیا گیا ہے اور کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ اور ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید تفتیش اور تحقیقات جاری ہے۔واضح رہے کہ ایران سے اسمگل شدہ ڈیری کریم ، کوکنگ آئل اور بیکری آئٹمز کی ملک کے کئی شہروں میں غیرقانونی فروخت جاری ہے جس سے مقامی مینو فیکچررز شدید متاثر ہورہے ہیں۔ کراچی، سکھر، اسلام آباد، لاہور، سرگودھا، پشاور اور جہلم میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ان ایرانی اشیاء کی سپلائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران سے بڑھتی ہوئی اسمگلنگ قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے.

    امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

    چیلنجزسے نمٹنے کے لئے نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی ضرورت ہے، شکیل قاسمی

  • کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، شہری مختلف امراض میں مبتلا ہور ہے ہیں بلدیہ عظمی کراچی اور پچیس ٹائون ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں بارشوں کے بعد جراثیم کش اسپرے کی مہم شروع نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے مچھروں، مکھیوں کی بہتات ہو گئی ہے اور گندگی اور غلاظت کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔بلد یہ عظمی کراچی اور پچیس ٹائونز کی انتظا میہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، شہر میں کہیں بھی جراثیم کش اسپرے نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے شہری ڈینگی، ملیریا، چکن گونیا سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔کراچی کے تمام سرکا ری و نجی اسپتال اس وقت مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن شہرمیں جراثیم کش اسپرے کا مرحلہ اب تک شروع نہیں ہوسکا، بلدیہ عظمی کراچی مختلف ٹیکسوں کی ریکوری پراپنی پوری طاقت صرف کررہی ہے لیکن عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔دوسری جانب پچیس ٹائونز کی انتظا میہ بھی عوام کو ریلیف فراہم کر نے کے لیے کو ئی اقدامات کرنے کو تیارنہیں ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلا ت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔شہریوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں فوری طور پر جراثیم کش اسپرے کرایا جا ئے تاکہ ان بیماریوں سے بچا جا سکے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی کیساتھ بارش

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

  • چیلنجزسے نمٹنے کے لئے نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی ضرورت ہے، شکیل قاسمی

    چیلنجزسے نمٹنے کے لئے نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی ضرورت ہے، شکیل قاسمی

    جمعیت علمائے پاکستان کراچی کے جنرل سیکریٹری فقیرملک محمد شکیل قاسمی نے کہاہے کہ ملک وقوم کو درپیش مسائل اور چیلنجزسے نمٹٹنے کے لئے نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے جو ایک مکمل اسلامی فلاحی نظام ہے جو عدل، مساوات، اور دیانتداری کے اصولوں پر قائم ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد شکیل قاسمی نے کہا کہ نظامِ مصطفیﷺ کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، بدعنوانی کا خاتمہ ہو، اور حکومتی عہدیداروں کی جوابدہی یقینی بنائی جائے.انہوں نے یہ واضح کیا کہ اس نظام کے تحت قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہوگا، چاہے وہ حکمران ہوں یا عوام۔ اس سے ملک میں معاشی خود انحصاری کو فروغ ملے گا اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکے گا۔اگر حکومت عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کام کرے تو ملک اپنی اندرونی طاقت اور وسائل کا بہتر استعمال کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔شکیل قاسمی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پیغام کو سمجھیں اور نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ کے لیے متحد ہوں۔ یہ صرف ایک نظریاتی تبدیلی نہیں، بلکہ ملک کی حقیقی خوشحالی اور استحکام کے لیے ایک عملی اقدام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب قوم ایک سمت میں اکٹھی ہو جائے گی تو ملک میں حقیقی تبدیلی آ سکتی ہے اور یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    نفاذنظام مصطفی ﷺ کا پیغام نہ صرف ایک سیاسی منشور کی صورت میں سامنے آتا ہے بلکہ ایک معاشرتی اصلاح کی تحریک بھی ہے، جو عوام کو ان کے حقوق اور فلاح کے لیے متحرک کرتی ہے اور ایک مضبوط اور مستحکم ملک کی تشکیل کے لیے ایک واضح راہ فراہم کرتی ہیں۔فقیر ملک محمد شکیل قاسمی نے ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران طبقے کی جانب سے اپنے کالے دھن اور جائیدادیں بیرون ملک منتقل کرنے کا عمل دراصل عوام کے ساتھ خیانت ہے۔یہ طبقات نہ صرف اپنے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔انہوں نے ملک کے حکمران طبقے کی جانب سے اپنی جائیدادیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کے عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایسے لوگ جو اپنا سرمایہ اور خاندان بیرون ملک رکھتے ہیں اور خود غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرتے ہیں وہ قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔
    ملک محمد شکیل قاسمی نے اس موقع پر نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ پر زور دیا، جو ملک کی معاشی اور سیاسی بحالی کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظامِ مصطفیﷺ ایک مکمل اسلامی فلاحی نظام ہے، جو عدل، مساوات اور دیانتداری پر مبنی ہے۔ اس نظام کے نفاذ سے ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ اور خود انحصاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نظامِ مصطفیﷺ کے تحت عدل و انصاف کا نظام قائم کیا جائے گا، جہاں حکمران اور عوام ایک ہی قانون کے تابع ہوں گے۔بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو گا اور حکومتی عہدیداروں کی دیانتداری اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔معاشی خود انحصاری کو فروغ ملے گا اور ملک بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے وسائل کے بہتر استعمال کی جانب گامزن ہو گا۔ملک شکیل قاسمی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس پیغام کو سمجھیں اور نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ کے لیے متحد ہوں تاکہ ملک کو حقیقی خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

  • بلوں کی ادائیگی کے باوجود SSGCگیس فراہم کرنے میں ناکام ہے ،امین الحق

    بلوں کی ادائیگی کے باوجود SSGCگیس فراہم کرنے میں ناکام ہے ،امین الحق

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ء و رکن قومی اسمبلی سید امین الحق کی قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی حق پرست اراکینِ صوبائی اسمبلی مظاہر امیر اور اعجاز الحق کے ہمراہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر امین راجپوت اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سعید رضوی سے ملاقات کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیّد امین الحق نے شہر کراچی بلخصوص اورنگی ٹاؤن میں گیس کی عدم دستیابی اور فراہمی میں تعطل پر سوئی سدرن گیس کمپنی سے وضاحت طلب کی، مٴْلاقات میں سینئر رہنماء سیّد امین الحق کا کہنا تھا کہ ہزاروں روپے بلوں کی مد میں ادا کرنے کے باوجود شہریوں کو مسلسل گیس فراہم کرنے میں ادارہ مٴْکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے مزید یہ کہ پریشر میں کمی بھی بلخصوص خواتین کو شدید کوفت میں مبتلا کر دیتی ہے، سیّد امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں گیس لائنوں کے انفراسٹرکچر کو بہتری بنانے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں، گیس کی فراہمی میں تعطل پر سوئی سدرن گیس کمپنی کا ایم کیو ایم رہنماؤں کو مسائل کے جلد حل کی یقین دہانی، اِس موقع پر سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی کیساتھ بارش

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی کیساتھ بارش

    کراچی کے مختلف علاقوں میں آندھی کیساتھ بارش

    شہر قائد کے بیشتر علاقوں میں آندھی کے ساتھ بارش اور ژالہ بارش ہوئی جس سے موسم خوش گوار ہوگیا، گرمی کے ستائے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپر ہائی وے، اسٹیل ٹان، گلشن حدید، گڈاپ ٹان، ملیر، نارتھ کراچی، گلشن معمار اور گلستان جوہر میں بارش ہوئی۔ گلشن اقبال، شارع فیصل، ایکسپریس وے اور قیوم آباد پر گرد آلود ہوائیں چلیں۔بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں 150 سے زائد فیڈرز متاثر ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ، اسکیم 33، نارتھ کراچی، نیوکراچی، ملیر، ماڈل کالونی، گلشن حدید اور احسن آباد سمیت دیگر علاقے متاثر ہوئے۔محکمہ موسمیات نے جمعرات کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ جمعے اور ہفتے کو 40 ڈگری ریکارڈ ہونے کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔کراچی کا موسم اگلے 4 تا 5 روز کے دوران گرم، شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی شدید گرمی کے بعد شہر کے مضافاتی علاقوں ملیر، موٹروے ایم 9 اور اطراف میں بارش ہوئی جس سے گرمی کی شدت میں کمی آئی۔

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ

  • کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

    کراچی ایئرپورٹ سگنل پر خودکش حملے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی

    ایئر پورٹ سگنل دھماکے کے مقام سے ملنے والی باقیات خودکش حملہ آور شاہ فہد کی نکلیں، بائیں ہاتھ کی 2 انگلیوں سے شناخت ممکن ہوئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی ایئر پورٹ سگنل دھماکے کے مقام سے ملنے والی باقیات کی شناخت ہوگئی، انسانی جسم کی باقیات خودکش حملہ آور شاہ فہد کی نکلیں۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کے بائیں ہاتھ کی 2 انگلیوں سے شناخت ممکن ہوئی، بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے فنگر پرنٹس کو نادرا ریکارڈ سے میچ کیا گیا تو شاہ فہد کانام سامنے آیا۔دھماکے کے مقام سے ملنے والی باقیات میں خودکش حملہ آورکادھڑ،2 انگلیاں اورسر شامل تھا۔دوسری جانب دہشتگردی حملے کے بعد دھماکے کے مقام کے قریب سیکیورٹی انتظام مزید سخت کردیئے گئے ہیں اور کرائم سین کے اطراف جدید ترین کیمرے نصف کردیئے ہیں۔ایئرپورٹ سگنل کے قریب جدید سرویلنس کیمرہ نصب کیا گیا ہے جبکہ سرویلنس کیمرے کے ساتھ مزید 2 کیمرے بھی لگائے گئے ہیں جبکہ دھماکے مقام پر موجود عمارت پر بھی کیمرے لگا دیئے گئے ہیں۔سی ٹی ڈی حکام نے دہشت گرد حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر دورہ کیا، راجہ عمر خطاب ،چوہدری صفدر اور دیگر حکام نے کرائم سین کا دورہ کیا، اس موقع پر سی ٹی ڈی حکام کے ہمراہ پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس
    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی
    گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ

  • وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بینہسن کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد کے درمیان سندھ مین چلنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کی تکمیل کے اہداف مقرر کیے گئے۔ ملاقات وزیراعلی ہاس میں ہوئی جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی ٹیم میں مختلف شعبوں کے سربراہوں نے شرکت کی جنہوں نے کنٹری ڈائریکٹر کی معاونت کی۔ عالمی بینک کے تحت سندھ میں 3 ارب ، 12 کروڑ اور چالیس لاکھ ڈالر کے 13 ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن کیلیے ایک ارب 36 کروڑ ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔ منصوبوں میں کراچی میں پانی و نکاسی کی بہتری کا منصوبہ، کچرے کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ، سندھ سولر انرجی پروجیکٹ، کراچی موبیلٹی پروجیکٹ، سندھ میں ابتدائی تعلیم کی بہتری کا منصوبہ، کراچی کو قابل رہائش بنانے کا منصوبہ ، سندھ صحت و آبادی منصوبہ، سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ، سندھ میں سماجی تحفظ کی بہتری کا منصوبہ، سیلاب متاثرین کی بحالی کا منصوبہ، بیراجوں کی مرمت کا منصوبہ، سندھ پانی و زرعی ترقیاتی منصوبہ ، سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایگریکلچر سیکٹر ٹرانفارمیشن پروجیکٹ شامل ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی کے ہنگامی پروگرام کے تحت 2022 کے سیلاب متاثرین کیلیے رہائش کے انتظامات اور حکومت سندھ کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بہتر کرنا شامل ہے۔ پروگرام کے چار شعبے ہیں جن میں گھروں کی تعمیر، گذر بسر کیلیے امداد، تکنیکی امداد کیلیے اداروں کو مضبوط کرنا اور پروجیکٹ مینجمنٹ و لاگت کا تخمینہ شامل ہیں۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ گذربسر کیلیے دی جانے والی امداد کے واجبات اس ماہ کے آخر تک ادا کردیے جائیں گے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے تین مراحل ہیں جن میں گھروں کی تعمیر کیلیے امداد دینا، اداروں کی مضبوطی و تکنیکی امداد اور منصوبے کے عملدرآمد میں مدد شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بیزمین متاثرین کو زمین الاٹ کرکے انہیں بسایا گیا ہے۔
    مالکانہ حقوق انہیں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کے تحت مختلف شاہراہوں پر نقل و حمل کی بہتری، رسائی میں آسانی اور تحفظ کی بہتری شامل ہے۔ اس کے تحت ییلو لائن کیلیے سڑک کی تعمیر، بی آر ٹی سسٹم کی تعمیر و روانگی اور استعداد میں اضافے و ٹکنیکی امداد شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ اور نئی جام صادق پل کا ابتدائی خاکہ منظور ہو چکا ہے ، ستمبر 2024 میں حتمی ڈیزائن بھی جمع کرایا جا چکا ہے۔
    چونکہ پلرز کا ڈیزائن منظور ہو چکا ہے اس لیے پلرز کا کام شروع ہو چکا ہے جبکہ بھرائی اور دیگر کام عملدرآمد کے مراحل میں ہے۔ ییلو لائن بی آر ٹی سسٹم کی تعمیر کیلیے 13 اور 19 اگست 2024 کو معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور کام پر پیش رفت جاری ہے۔ ڈپو ون پر ستر اکتوبر 2024 کو کام کا آغاز ہوگا۔ کنسلٹنٹس نے تعمیراتی ماڈلز پیش کردیے ہیں جس پر بحث اور تجاویز کا تبادلہ ہوچکا اور بارہ اکتوبر 2024 کو اپ ڈیٹ رپورٹ پیش کی جائیگی۔
    کلک پروگرام کے تحت شہری انتظام ، خدمات اور کاروباری ماحول کی بہتری اور ہنگامی حالات میں امداد کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ کارکردگی کی بنیاد پر مقامی اداروں کو 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد ، پراپرٹی ٹیکس کے نظام کی بہتری، کاروباری ماحول کی بہتری، کچرا ٹھکانے لگانے کیلیے تکنیکی امداد اور ہنگامی امداد کے آلات کی خریداری شامل ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام نو منصوبوں کے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔ تمام 18 منصوبوں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔25 ٹان میونسپل کمیٹیوں میں دو کروڑ ، 25 لاکھ اور 80 ہزار ڈالر کی 73 اسکیمیں فائنل کردی گئی ہیں۔ 64 اسکیموں کے اشتہارات شایع کردیے گئے ہیں جبکہ 9 منصوبے ٹان میونسپل کمیٹیوں میں منظوری کے مراحل میں ہیں۔ کے ایم سی نے 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی7 منصوبے تجویز کیے ہیں جن میں سے 2 منصوبے ٹھیکیداری کے مرحلے میں ہیں جبکہ پانچ باقی اسکیموں کے ابتدائی ڈیزائن پیش کیے گئے ہیں جن کو فائنل کیا جا رہا ہے۔
    کے ایم سی کی سال 26-2025 کے چھ اسکیموں کی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے جن میں فلائی اوورز، سڑکیں، نکاسی، ایک اسپورٹس کمپلیکس اور ایک فٹ بال اسٹیڈیم شامل ہے جبکہ ٹان کمیٹیوں کی اسکیموں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ کراچی میں پراپرٹی سروے کیلیے 15 سے 22 اگست کے درمیان گلبرگ اور نارتھ ناظم آباد میں سروے کیا گیا، سو سے زیادہ جائدادوں کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
    اابتدائی سروے کی تفصیلات عالمی بینک کو فراہم کردی گئیں۔ منصوبے کیلیے بولی 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں انتظامی، مالیاتی اور آپریشنل اصلاحات کے منصوبے کی 20 ستمبر 2024 کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام بڑی خریداری کے ٹینڈر جاری کیے جاچکے ہیں اور کام تیزی سے جاری ہے۔ 20 اکتوبر 2024 تک تمام معاہدوں پر دستخط کا امکان ہے۔
    اس سلسلے میں اب تک 76 فیصد کام ہو چکا ہے جبکہ 20 اکتوبر تک یہ 95 فیصد تک ہو جائیگا۔ منصوبے کیلیے چیف انفارمیشن ٹیکنالوجی آفسر اور چیف انٹرنل آڈیٹر مقرر کیے جا چکے ہیں جبکہ چیف فنانشل آفسر کا تقرر 15 نومبر 2024 تک ہو جا چاہیے۔ سندھ میں چار سولر پارکس کے قیام، سرکاری عمارتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی اور سولر ہوم سسٹم کے بارے میں بتایا گیا کہ سولر پارکس کے قیام کیلیے کامیاب بولی دہندہ اور لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے درمیان زمین کی لیز کا معاہدہ کیا جائیگا۔
    مانجھند میں نیشنل گرڈ کے ساتھ جوڑنے کے منصوبے کی منظوری ابھی باقی ہے۔ 10 ستمبر 2024 کو ایک اجلاس میں این ٹی ڈی سی کی جانب سے جون 2028 تک بجلی کی ترسیل کا زبانی وعدہ کیا گیا تھا تاہم یہ تصدیق تحریری طور پر کرنے کیلیے رابطہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ سولر ہوم سسٹم کی کٹس فراہم کرنے کے پہلے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور نومبر کے اوائل میں پہلی کھیپ پہنچ جائیگی۔
    15 اکتوبر تک دوسرے معاہدے پر بھی دستخط کے امکانات ہیں۔ اس کیلیے انتظامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ پرائمری سطح پر تعلیم کی بہتری کے پروگرام سلیکٹ کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے پی سی ون کی منظوری دی جا چکی ہے۔ پلاننگ کمیشن سے درخواست کی جائے گی کی اس عمل کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ انہوں نے منصوبے کیلیے 23 لاکھ ڈالرز مختص کیے ہیں۔
    میرپور خاص ضلع کیلیے سول ورک شروع کرنے کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔ ٹھٹہ کیلیے اشتہارات جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ ٹنڈو محمد خان اور مٹیاری کیلیے منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہیں۔ پہلی سے دوسری جماعت کیلیے اشاعتی مواد کی رپورٹ عالمی بینک کو یکم کتوبر 2024 کو فراہم کردی گئی تھی۔ کتب جنوری 2025 تک فراہم کردی جائیں گی۔ تیسری سے پانچویں جماعت کی کتابیں بھی اپریل 2025 تک فراہم کردی جائیں گی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں آبپاشی نظام کی بہتری کے منصوبے کے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی ٹیمیں متحرک کردی گئی ہیں۔ سندھ واٹر پالیسی عملدرآمد کمیٹی کا پہلا اجالس تین نومبر 2023 کو ہوا۔ پانی کی فراہمی میں بہتری کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ اکرام واہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کینال کی ڈیزائن میں تبدیلی پر تفصیلی تبادلہ خیال گیا۔
    کینال کی آر ڈی زیرو سے 193 تک لائننگ پر اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے رپورٹ عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہے۔ بنیادی صحت کی بہتری کے پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ موجودہ مالی سل میں 121 مزید گورنمنٹ ڈسپنسریز قائم کردی جائیں گی۔ 171 ڈسپنسریز کے قیام کیلیے ایک ارب 60 کروڑ روپے کا بجٹ جمع کرایا گیا ہے جس کیلیے ادائیگیوں کے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے۔
    متعلقہ فورمز سے مںظوری کے بعد اضافی ایمبولینسز کے حصول کا کام شروع کردیا جائیگا۔ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے بارے میں بنیادی صحت میں بہتری کے حوالے سے رپورٹ عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہے تاہم اس کی نیشنل ٹی بی پروگرام اور گلوبل فنڈ سے توثیق باقی ہے۔ یہ توثیق آ جانے کے بعد رپورٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔ کراچی میں کچرا ٹھکانے لگانے کے منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر کیلیے یکم فروری 2024 کو ٹینڈر جاری کیا گیا اور 12 اگست 2024 کو منظوری کا لیٹر جایر کیا گیا ۔
    گڈو اور سکھر بیراج سمیت سندھ میں کینالوں کی حفاظت اور محکمہ آبپاشی کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ ہنگامی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 44 اور 47 اگلے سیزن میں دوبارہ تبدیل کیے جائیں گے۔ منصوبے کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر کلیمنٹ کو سکھر بیراج کے دورے کی دعوت دی جا چکی ہے تاکہ گیٹ ٹوٹنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جاسکے تاہم ویزہ مسائل کے باعث ان کا دورہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔
    اب وہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں آئیں گے۔ سندھ کے منتخب اضلاع میں زچہ و بچہ سروسز کو بہتر بنانے کے پروگرام کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ سوشل پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے درمیان 27 اگست 2027 کو معلومات کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ اگلے نوے روز میں پی ایس پی کی پہلی قسط جاری ہو جائے گی۔

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

  • گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ

    گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ

    سینٹرل نیو کراچی انڈسٹریل ایریا پولیس کی خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی گٹکا ماوا بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن نیو کراچی انڈسٹریل ایریا پولیس کا انٹیلیجنس کی اطلاع پر ایکشن لیتے ہوے کارخانے پر چھاپہ مارا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے چھاپہ بمقام اندرون مکان06/38 سیکٹر11/G نیو کراچی میں مارا۔پولیس کے مطابق ملزمان نیو کراچی انڈسٹریل ایریا کی حدود میں ایک مکان میں خفیہ طور گٹکا ماوا تیار کر کے فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔ملزمان سے پولیس نی24 عدد کٹے چھالیہ چورا شدہ وزنی 07 من 08 کلو گرام،05 عدد کٹے چھالیہ دانے دار وزنی 01 من 20 کلو گرام،،05 کلو گرام چھالیہ دانے دار گیلی چھالہ وزنی ٹپ میں موجود،18عدد پیکٹ عاداب انڈین گٹکا،*12 عدد پیکٹ ?A 2 Zانڈین گٹکا،20 عدد پیکٹ مضر صحت تمباکو نجمہ زافرانی،02 کلو گرام چونا،01 کلو گرام کتھا،مکس پتی 02 کلو گرام*50 عدد تیار شدہ ماوا،پلاسٹک کے شاپر میں خالی ریپرز،01 عدد چھوٹا کمپیوٹرائز کانٹابرآمد کیا۔گرفتار ملزم کاشف ولد عبدالستار اور گرفتار ملزم کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔فرار ملزم کی شناخت عرفان عرف نارنگی ولد محمد حسین عرف نارنگی نام سے ہوئی۔ملزمان کے خلاف گٹکا ماوا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔جبکہ ملزمان کاسابقہ کریمینل ریکارڈ بھی حاصل کیا جارہا ہے۔

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

  • پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    جنرل سیکریٹڑی پی پی پی کراچی و صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی جاوید ناگوری کی زیر صدارت 18 اکتوبر شہدائے سانح? کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمعہ 18 اکتوبر کو حیدرآباد میں منعقد کئے جانے والے جلسے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی سندھ سینیٹر سید وقار مہدی نے خصوصی شرکت کی –

    اجلاس میں سینئر نائب صدر پی پی پی ضلع جنوبی حاجی عبدالمجید ، جنرل سیکریٹری پی پی پی ضلع جنوبی و پیپلز انجنیئرنگ فورم سندھ تیمور سیال ، سیکریٹری اطلاعات پی پی پی ضلع جنوبی و پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کرچی ڈویڑن فرید میمن ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول صدر پیپلز لیبر بیورو کراچی اسلم سموں ، صدر پیپلز یوتھ ضلع جنوبی فضل بلوچ ، جنرل سیکریٹری پی پی پی خواتین ونگ ضلع جنوبی عالیہ بیگم ، ٹاؤن چیئرمین لیاری ناصر کریم ، پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے سٹی ایریا اور یونین کمیٹیوں کے صدور جنرل سیکریٹریز سیکریٹری اطلاعات لیاری و صدر ٹاؤن میں پی پی پی کے منتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین نے شرکت کی – اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری پی پی پی سندھ سینیٹر وقار مہدی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز کی شہید چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹع کی 2007 میں وطن واپسی پر جیالوں نے تاریخی استقبال کیا جو کہ ملک دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہ بھایا ایک آمر کے دور حکومت میں شہید بی بی پر حملہ کیا گیا اور ہم سمیت ساری دٴْنیا اس بات کی شاہد ہے کہ جیالوں نے اپنی جانیں قٴْربان کرکے شہید بے نظیر بھٹو پر ہونے والے حملے کو ناکام بنایا قٴْربانی کی یہ مثال رہتی دنیا تک یاد رکھی جا? گی ہر سال ہم 18 اکتوبر کو شہدائے کارساز کے حذبے ہمت اور بے لوث قٴْربانی پر اٴْن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں اس سال چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی ہدایت کے مطابق شدائے سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پی پی پی کارکنان اور عوام 18 اکتوبر جمعہ کے روز حیدرآباد میں ہٹری بائی پاس کے مقام پر جلسے میں شرکت کریں گے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی پی پی ضلع جنوبی جاوید ناگوری کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے جمہوری نظام لازم ہے پاکستان میں جمہوریت 18 اکتوبر 2007 کو سانحہ کارساز میں شہید ہونے والوں کی مرہون منت ہے 2007 میں کارساز کے مقام پر دٴْنیا نے یہ منظر دیکھا پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان دھماکے کی جگہ سے دور ہٹنے کے بجائے اٴْس ہی جانب بھاگتے ہوئے گئے اور اپنی رہبر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں قٴْربان کی اور آمر اور اٴْس کے آلہ کاروں کو یہ باور کروایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان بے خوف و خطر ملک کی خاطر جان قٴْربان کرسکتے ہیں جنرل سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی تیمور سیال نے اجلاس کے شرکاء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی اور ذیلی تنظیموں کے تمام عہدیداران و کارکنان حیدرآباد جلسے میں بھرپور شرکت کرکے شہدائے سانحہ کارساز کو خراج عقیدت پیش کریں گے ۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترکمانستان کا دو روزہ دورہ، اشک آباد پہنچنے پر پرتپاک استقبال

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے

    کراچی سے کشمور جانے والی مسافر کوچ پر ڈاکوں کی اندھا دھند فائرنگ

    ایف آئی اے کراچی زون میں تقرریاں و تبادلے