Baaghi TV

Tag: کراچی پولیس آفس

  • کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس:دہشت گردوں کا سہولت کار گرفتار

    کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس:دہشت گردوں کا سہولت کار گرفتار

    کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی نے گلستان جوہر کے علاقے میں کارروائی اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو حراست میں لے لیادہشت گردوں کے سہولت کار سے تفتیش کی جاری ہے۔

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    قبل ازیں کراچی پولیس آفس پر حملے کے معاملے پرکاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ٹیم سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر جامشورو پہنچ گئی، سہولت کاروں کے حوالے سے ٹیکنیکل بنیادوں سے ملنے والی معلومات پر جامشورو میں کارروائی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملے کے دوران مارے گئے مزید 2 دہشت گردوں کے خاندانوں کی تلاش شروع کردی گئی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دونوں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، دونوں دہشت گردوں کا اسٹیٹس آئی ڈی پیز کا ہے-

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گرد زالے نور کا تعلق مداخیل تحصیل دتہ خیل، شمالی وزیرستان سے تھا، خودکش حملہ آور مجید نظامی کا تعلق بھی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل سے تھا، پولیس آفس حملے میں ہلاک تیسرے دہشت گرد کفایت اللہ کا تعلق لکی مروت سےتھا۔

    دریں اثنا آپریشن میں ہلاک دہشت گرد کفایت اللہ کے لکی مروت میں واقع گھر پر چھاپا مارا گیا تھا، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وانڈا امیر خان تھانہ صدر کی حدود میں چھاپا مارا اور کفایت اللہ سے متعلق تفتیش کی۔

    دہشتگرد کفایت اللہ کے اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ کفایت اللہ کو گھر میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔کفایت اللہ گھر سے 5 ماہ قبل فرار ہوگیا تھا، ہمارا خیال تھا کہ کفایت اللہ افغانستان فرار ہوا ہے، حملےکے بعد پتہ چلا کہ کفایت اللہ پاکستان میں ہی تھا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کفایت اللہ کی عمر 22 سے23 سال تھی، دہشتگرد کفایت اللہ تربیت یافتہ اورافغانستان آتا جاتا رہا، کفایت اللہ افغانستان میں بھی لڑتا رہا، ہلاک دہشتگرد کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپوگل گروپ سے تھا، کفایت اللہ خیبرپختونخوا میں بھی پولیس پرحملوں میں ملوث تھا۔

    واضح رہے کہ جمعہ 17 فروری کو کراچی میں پولیس چیف آفس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوئے جبکہ جوابی فائرنگ حملے میں تین دہشت گرد ہلاک کیے گئےسیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے جبکہ ایک خود کش جیکٹ پھٹنے سے ہلاک ہواڈی ایس پی ایس ایس یو سمیت 19 زخمی ہوئے، جن میں 7 رینجرز اہلکار اور ایک ایدھی کا رضاکار بھی شامل ہے۔

  • کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    کراچی : حملہ آوروں کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری ہے۔

    باغی ٹی وی: کراچی پولیس آفس پر حملے کے معاملے پرکاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ٹیم سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر جامشورو پہنچ گئی، سہولت کاروں کے حوالے سے ٹیکنیکل بنیادوں سے ملنے والی معلومات پر جامشورو میں کارروائی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملے کے دوران مارے گئے مزید 2 دہشت گردوں کے خاندانوں کی تلاش شروع کردی گئی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دونوں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، دونوں دہشت گردوں کا اسٹیٹس آئی ڈی پیز کا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گرد زالے نور کا تعلق مداخیل تحصیل دتہ خیل، شمالی وزیرستان سے تھا، خودکش حملہ آور مجید نظامی کا تعلق بھی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل سے تھا، پولیس آفس حملے میں ہلاک تیسرے دہشت گرد کفایت اللہ کا تعلق لکی مروت سےتھا۔

    دریں اثنا آپریشن میں ہلاک دہشت گرد کفایت اللہ کے لکی مروت میں واقع گھر پر چھاپا مارا گیا تھا، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وانڈا امیر خان تھانہ صدر کی حدود میں چھاپا مارا اور کفایت اللہ سے متعلق تفتیش کی۔

    دہشتگرد کفایت اللہ کے اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ کفایت اللہ کو گھر میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔کفایت اللہ گھر سے 5 ماہ قبل فرار ہوگیا تھا، ہمارا خیال تھا کہ کفایت اللہ افغانستان فرار ہوا ہے، حملےکے بعد پتہ چلا کہ کفایت اللہ پاکستان میں ہی تھا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کفایت اللہ کی عمر 22 سے23 سال تھی، دہشتگرد کفایت اللہ تربیت یافتہ اورافغانستان آتا جاتا رہا، کفایت اللہ افغانستان میں بھی لڑتا رہا، ہلاک دہشتگرد کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپوگل گروپ سے تھا، کفایت اللہ خیبرپختونخوا میں بھی پولیس پرحملوں میں ملوث تھا۔

  • کراچی پولیس آفس پر حملہ،اعلیٰ سطحی اجلاس طلب

    کراچی پولیس آفس پر حملہ،اعلیٰ سطحی اجلاس طلب

    کراچی: آئی جی سندھ غلام نبی ممین نے کراچی پولیس آفس پر حملے کے حوالے سے آج اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اجلاس میں سندھ بھر میں سیکیورٹی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا، صوبے میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے،اجلاس میں سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ اور فارن سیکیورٹی سیل کے افسران شریک ہوں گے۔

    اس کے علاوہ ٹریننگ، فنانس، ایس ایس یو اور ریپڈ رسپانس فورس کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوں گے جبکہ اجلاس میں زونل ڈی آئی جیز، رینج ڈی آئی جیز اور سندھ بھر کے ایس ایس پیز بھی طلب کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب کراچی پولیس آفس کے اطراف کی جیو فینسنگ کے ذریعے تحقیقات شروع کر دی گئی جیو فینسنگ میں حملے کے وقت 100 سے زائد نمبروں کو مشکوک قرار دیا گیا، تمام نمبروں کے کوائف اور دیگر ضروری معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 سے 12 نمبر حملے کے بعد سے بند ہیں، بند نمبروں سے بیرون شہر کا بھی کال ڈیٹا ملا ہے۔

    واضح رہے کہ کراچی پولیس چیف کے دفتر پر گزشتہ روز ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کیلئے ڈی آئی جی ذوالفقار لاڑک کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

    پانچ رکنی کمیٹی کراچی پولیس آفس پر ہونے والے حملے کی تحقیقات اور تفتیش کرے گی جبکہ کمیٹی کے چیئرمین معاملے کی تحقیقات میں تعاون کیلئے مزید ممبرز کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔

  • کراچی پولیس آفس پر حملےکا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج

    کراچی پولیس آفس پر حملےکا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج

    کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر حملےکا مقدمہ کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) تھانے میں درج کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی: مقدمہ صدر تھانے کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے،پولیس حکام کے مطابق مقدمہ الزام نمبر 20، 18 فروری کو شام4 بج کر 30 منٹ پر درج کیا گیا، مقدمے میں دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل سمیت دیگر دفعات شامل ہیں مقدمے میں دھماکا خیز مواد 3 اور 4 کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنیوالے 2 دہشتگردوں کی شناخت ہوگئی

    مقدمےکے متن کے مطابق ایس ایچ او کا کہنا ہےکہ شام 7 بج کر 15منٹ پر وائرلیس کے ذریعے حملےکی اطلاع ملی، 7 بج کر 20 منٹ پرجائے وقوع پر پہنچا اور نفری طلب کی، ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ترتیب دیا گیا۔

    متن کے مطابق حملےمیں تین دہشت گرد ملوث تھےایک دہشتگرد چوتھی منزل پر جوابی کارروائی میں مارا گیا، ایک دہشت گرد نے تیسری منزل پر خود کو دھماکے سے اڑایا، تیسرا دہشت گرد بھی چھت پرجوابی کارروائی میں مارا گیاکارروائی میں مارےگئے دونوں دہشت گردوں نے بھی خود کش جیکٹ پہنی ہوئی تھی، خودکش دھماکا کرنے والے دہشت گرد کے اعضا ملے ہیں۔

    کراچی پولیس آفس حملے میں ملوث دہشتگرد کے گھر پر چھاپہ، اہلخانہ کےچونکا دینےوالے…

    مقدمےکے متن کے مطابق دہشت گرد صدر پولیس لائن کے قریب بنے فیملی کوارٹر کی عقبی دیوار پر لگی تارکو کاٹ کر داخل ہوئے، 3 دہشت گرد گاڑی میں سوار ہوکر پولیس صدر لائن پہنچے تھےصدر پولیس لائن کے قریب کھڑی کار کو تحویل میں لے لیا ہے-

    مقدمےمیں کہا گیا کہ کارسوار دہشتگردوں کے ساتھ 2 دہشت گرد موٹرسائیکل پر بھی آئے تھے، موٹر سائیکل پر آئے دہشت گردوں نےکار سوار دہشت گردوں کو کے پی او کی نشاندہی کی تھی، دہشتگردوں سے 5 دستی بم ، 2خودکش جیکٹس ملیں جنہیں ناکارہ بنایا گیا۔

    مقدمے میں کہا گیا کہ حملے میں رینجرز اور پولیس کے 4 افراد شہید ہوئے، حملے میں 18 افراد زخمی ہوئے، حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے سوشل میڈیا کے ذریعے قبول کی-

    ہلاک دہشتگردوں سے 2 خودکش جیکٹس، 8 دستی بم اور 3 گرنیڈ لانچر ملے، بم ڈسپوزل اسکواڈ

  • کراچی پولیس آفس حملے میں ملوث دہشتگرد کے گھر پر چھاپہ، اہلخانہ کےچونکا دینےوالے انکشافات

    کراچی پولیس آفس حملے میں ملوث دہشتگرد کے گھر پر چھاپہ، اہلخانہ کےچونکا دینےوالے انکشافات

    پشاور: کراچی پولیس آفس (کے پی او) کے آپریشن میں ہلاک دہشت گرد کفایت اللہ کے لکی مروت میں واقع گھر پر چھاپا مارا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وانڈا امیر خان تھانہ صدر کی حدود میں چھاپا مارا، دہشتگرد کفایت اللہ کے گھروالوں سےتفتیش کی گئی-

    اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ کفایت اللہ کو گھر میں باندھ کر رکھا گیا تھا کفایت اللہ گھر سے 5 ماہ قبل فرار ہوگیا تھاہمارا خیال تھا کہ کفایت اللہ افغانستان فرار ہوا ہے، حملےکے بعد پتہ چلا کہ کفایت اللہ پاکستان میں ہی تھا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کفایت اللہ کی عمر 22 سے23 سال تھی، دہشتگرد کفایت اللہ تربیت یافتہ اورافغانستان آتا جاتا رہا، کفایت اللہ افغانستان میں بھی لڑتا رہا، ہلاک دہشتگرد کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپوگل گروپ سےتھاکفایت اللہ خیبرپختونخوامیں بھی پولیس پرحملوں میں ملوث تھا۔

    ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہےخودکش دھماکا کرنے والا دہشت گرد زالا نور شمالی وزیر ستان سے تعلق رکھتا تھا جب کہ سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مارا گیا دہشت گرد کفایت اللہ لکی مروت کا رہائشی تھا۔

    کراچی پولیس آفس حملہ:تحقیقات کیلیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل

    تیسرے دہشت گرد مجید کے بارے میں معلوم ہوا ہےکہ اس کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل سے ہے۔

    دوسری جانب کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کراچی پولیس آفس پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کیلیے کمیٹی تشکیل دے دی جس کی سربراہی ڈی آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک کریں گے۔

    علاوہ ازیں تحقیقاتی کمیٹی میں ڈی آئی جی ساؤتھ اور ڈی آئی جی سی آئی اے، ایس ایس پی طارق نواز اور انچارج سی ٹی ڈی عمر خطاب بھی شامل ہیں اعلامیے کے مطابق کمیٹی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی نشاندہی کرے گے۔

    اُدھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’کراچی پولیس آفس پر حملے میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہوسکتا ہے، تحقیقات میں اس نقطے پر بھی غور کیا جائے گا-

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کراچی پولیس آفس کا دورہ

  • باہمی اعتماد، عوام کی مرضی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے،آرمی چیف

    باہمی اعتماد، عوام کی مرضی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے،آرمی چیف

    کراچی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ کراچی پولیس آفس کا دورہ کیا-

    باغی ٹی وی :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دورہِ کراچی کے موقع پر سی او اے ایس اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو کور ہیڈ کوارٹرز میں کراچی پولیس آفس (کے پی او) واقعے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ علاوہ ازیں آرمی چیف نے کراچی پولیس آفس کا دورہ کیا۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کراچی پولیس آفس کا دورہ


    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہبی یا نظریاتی تعلق نہیں ہے، سیکورٹی فورسز کی توجہ صرف دہشت گردی کے خاتمے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز پر ہے کوئی بھی قوم صرف کارروائیوں سے اس طرح کے چیلنجوں پر قابو نہیں پا سکتی، باہمی اعتماد، عوام کی مرضی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

    واضح پیغام دے رہا ہوں ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا، صدر مملکت عارف علوی

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستانیوں نے ہمیشہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو اس کے تمام مظاہر میں مسترد اور شکست دی ہے، ہم ایک ساتھ مل کر مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے اس خطرے پر غالب آئیں گے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ اور آرمی چیف نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کا بھی دورہ کیا اور پولیس اور پاکستان رینجرز سندھ کے زخمی جوانوں سے ملاقات کی اور ڈیوٹی کے دوران فوج، پولیس اور پاکستان رینجرز (سندھ) کی بہادری، حوصلے اور قربانیوں کو سراہا۔ قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر کراچی نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

  • آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کراچی پولیس آفس کا دورہ

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کراچی پولیس آفس کا دورہ

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے گزشتہ روز دہشت گردی کا نشانہ بننے والے کراچی پولیس آفس (کے پی او) کا دورہ کیا۔

    باغی ٹی وی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کے پی او کا دورہ کیا، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور کور کمانڈر کراچی بھی آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔

    دہشتگرد کیسے داخل ہوئے؟کراچی پولیس آفس پر حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دورے کے دوران عمارت کےمختلف حصوں کا معائنہ کیا جنرل عاصم منیر نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانےپر فورسز کےایکشن کو سراہا اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر فورسزکو خراج تحسین پیش کیا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس چیف کے دفتر پر ہونے والے حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے جبکہ حملے میں 3 سکیورٹی اہلکار اور ایک سویلین بھی شہید ہوا تھا۔

    دوسری جانب کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کراچی پولیس آفس پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کیلیے کمیٹی تشکیل دے دی جس کی سربراہی ڈی آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک کریں گے۔

    علاوہ ازیں تحقیقاتی کمیٹی میں ڈی آئی جی ساؤتھ اور ڈی آئی جی سی آئی اے، ایس ایس پی طارق نواز اور انچارج سی ٹی ڈی عمر خطاب بھی شامل ہیں اعلامیے کے مطابق کمیٹی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی نشاندہی کرے گے۔

    اُدھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’کراچی پولیس آفس پر حملے میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہوسکتا ہے، تحقیقات میں اس نقطے پر بھی غور کیا جائے گا‘۔

    ویڈیو:وزیراعلیٰ سندھ نے تینوں شہداء کی میتوں پر پھول چڑھائے

    واضح رہے کہ کے پی او حملے میں دہشت گرد جس گاڑی میں آئے تھے وہ گاڑی لانڈھی کےرہائشی کامران کے نام پر تھی جس سے پولیس نے پوچھ گچھ کی تو اس کا کہنا تھا کہ وہ گاڑی کو چند سال قبل شوروم پر فروخت کر چکا تھا، جس پر تفتیشی ٹیم کار شوروم کا سراغ لگانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ تفتشی ٹیموں نےکراچی سمیت اندرون سندھ کےمتعدد مقامات پربھی چھاپے مارے جس میں کوئی اہم کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

    دریں اثنا کراچی پولیس آفس پرحملے میں ملوث دہشت گردوں سےاسلحےاوربارودی مواد سمیت دیگراشیا برآمد کی گئی ہیں جن کی تفصیلات پولیس نے جاری کردی ہیں ، دہشت گردوں کے قبضے سے 2 ایس ایم جیز ملی ہیں جس میں سے ایک ایس ایم جی سے نمبر مٹا ہوا ہے جبکہ کلاشنکوف کے بٹ پر لال رنگ لگا ہوا ہے ۔

    حملہ آوروں کے پاس سے چار ایسے دستی بم برآمد ہوئے جن کی پنیں نکلی ہوئیں تھیں تاہم وہ پھٹ نہ سکے، دھماکے سے خود کو اڑانے والے حملہ آور کے پاس سے بھی ایک دستی بم ملا اور ہلاک دہشت گردوں سے 2 خودکش جیکٹس بھی ملیں ہیں۔

    دہشت گردوں کے پاس بڑی تعداد میں بال بیرینگ ، کھانے پینے کی اشیا بھی موجود تھیں، پولیس نے قبضے میں لیا گیا تمام اسلحہ اور بارودی مواد فارنزک کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا ہے جس کی رپورٹ آنے سے صورتحال مزید واضح ہو سکے گی ۔

    کوئٹہ سے مبینہ خود کش بمبار خاتون گرفتار

    واضح رہے کہ ایک روز قبل شام سات بج کر دس منٹ پر تین دہشت گردوں نے کراچی پولیس آفس پر حملہ کیا، جس کے دوران دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکاروں، رینجرز جوان سمیت چار شہید ہوئے۔

    کلیئرنس آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا جن میں سے دو فائرنگ کے تبادلے میں جبکہ ایک خود کش جیکٹ کے دھماکے سے ہلاک ہوا۔

    پولیس حکام کے مطابق مرنے والے دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، ایک دہشتگرد کی شناخت زالا نور ولد وزیرحسن کے نام سے ہوئی جس کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا۔ سیکورٹی آپریشن کے دوران خود کو دھماکے سے اڑانے والے دہشتگرد کا نام کفایت اللہ ولد میرز علی خان تھا اور وہ لکی مروت کے علاقے وانڈہ امیر کا رہائشی تھا جبکہ تیسرے حملہ آور کی شناخت نہیں ہوسکی۔

    دوسری جانب دہشت گرد حملے اور دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں کراچی پولیس آفس کو شدید نقصان پہنچا۔ کے پی او کی دیواریں چھلنی ہوگئیں جبکہ کھڑکیاں، دروازے ٹوٹے ہیں۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا آڈیو ٹیپ کرنیوالوں کیخلاف عدالت جانے کا اعلان