Baaghi TV

Tag: کراچی

  • ایم کیو ایم رہنما بابر غوری وطن واپسی پرکراچی ایئر پورٹ سےگرفتار

    ایم کیو ایم رہنما بابر غوری وطن واپسی پرکراچی ایئر پورٹ سےگرفتار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما بابر خان غوری کو کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کرلیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق بابر غوری کے خلاف کرپشن اور دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں۔ تاہم پولیس حکام کے مطابق بابر غوری کو کل عدالت میں پیش کیا جائیگا۔حکام کے مطابق بابر غوری کی وطن واپسی سے متعلق پولیس کو الرٹ کیا ہوا تھا۔بابر خان غوری رات پونے 10 بجے امارات ایئر لائن کی پرواز ای کے 602 سے کراچی پہنچے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے سینئر رہنما بابر غوری کو وطن واپسی پر گرفتار کر لیا گیا، بابر غوری کو ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا، وہ کرپشن مقدمات میں نیب کو مطلوب ہیں۔ جیسے ہی بابر غوری کراچی پہنچے تو انہیں پولیس نے ائیرپورٹ کے احاطے سے گرفتار کرلیا۔ مختلف تھانوں میں بابر غوری کےخلاف دہشت گردی کے مقدمات ہیں، بابر غوری کو کل عدالت میں پیش کیا جائےگا۔

    خیال رہے کہ بابر غوری 2008 میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کا حصہ تھے اور انہوں نے حکومت کی اتحادی جماعت کے سینیٹر کی حیثیت سے وفاقی وزیر کا قلم دان سنبھالا تھا۔

    بابر غوری کو وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ بنایا گیا تھا تاہم 2013 میں مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی اور کراچی میں رینجرز نے آپریشن شروع کیا اور بعد ازاں بابرغوری ملک سے باہر چلے گئے تھے، جس کے بعد وہ لوٹ کر دوبارہ پاکستان نہیں آئے تھے۔واضح رہے کہ چند سال قبل قومی احتساب بیورو نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما بابر غوری سمیت 3 افراد کو مفرور قرار دینے کے لیے اشتہارات دیے تھے۔

    گزشتہ ماہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بابر غوری نے کہا تھا کہ پاکستان واپسی کا ارادہ مؤخر نہیں کیا جلد واپس آکر کیسز کا سامنا کروں گا۔ عدالت کی اجازت ملنے پر پہلی فلائٹ سے آجاؤں گا، وطن واپسی ميں کوئی رکاوٹ ہوئی تو سامناکروں گا۔ کيا ميرا قصور یہ ہے کہ میں اپنے وطن واپس آناچاہتاہوں؟ کیا عدلیہ کے آگے سرنڈر کرکے اپنے بے گناہی ثابت کرنا میرا قصور ہے۔ ميرے دور ميں اتنا کام ہوا جتنا75سال ميں نہيں ہوا جہاں تک کیسز کا تعلق ہے جے آئی ٹی نے 2016 ميں مجھےکلين چٹ دی تھی۔

    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میں تو وطن آرہا ہوں جتنا پوچھ گچھ کرنا ہے کرلیں، یہ عجیب بات ہے کہ جس وقت بیرون ملک گیا تو کہا گیا کہ بھاگ گیا ہوں اب جب واپس آرہاہوں تو مجھے روکا جارہا ہے۔ مارچ2015 ميں پاکستان سے نکلا تو ميرے پيچھے کيسز بنے، میرا ضمیر مطمئن ہے اسلئے تو واپس آرہا ہوں۔

    بابر غوری کا کہنا تھا کہ میرا کسی سے کوئی سیاسی رابطہ نہیں ہے، فی الحال سياست ميں آنے کا کوئی ارادہ بھی نہيں مگر ایم کیو ایم یا پی ایس پی میں سے کسی پارٹی نے رابطہ کیا تو پھر سوچوں گا۔ سابق گورنر سندھ عشرت العباد سے رابطہ ہوا ہے لیکن کوئی سياسی بات نہيں ہوئی، نہ انہوں نے کی نہ میں نے سیاسی بات کی۔

  • کراچی صارفین کیلئے بجلی 9 روپے 66 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری

    کراچی صارفین کیلئے بجلی 9 روپے 66 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے آج کےالیکٹرک کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کی جس میں کے الیکڑک کے لیے بجلی 9 روپے 66 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دے دی گئی-

    باغی ٹی وی : اضافہ مئی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے، نیپرا کے مطابق اعداد وشمار کا جائزہ لینے کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے جس سے صارفین پر 22ارب 64 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    ملک میں بجلی کے شارٹ فال میں مزید اضافہ،لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے تک پہنچ گیا

    حکام کا کہنا ہے کہ 380 ارب روپے وصول کرنے ہیں، کے الیکٹرک کو سستی بجلی لینے کے لیے نیپرا کی ضرورت ہوتو حاضر ہیں، ہم سستی بجلی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت سے بات کرنے کو تیار ہیں۔

    متوقع برسات کے پیش نظر ندی نالوں کی صفائی

    واضح رہے کہ کے الیکٹرک نےمئی کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے لیے نیپراکو درخواست جمع کرائی تھی جس میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 11روپے 34پیسے اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ کے الیکٹرک نے صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی میں چندروز قبل5.27 روپے مہنگی کی تھی جو اپریل کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی تھی۔

    فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی

  • وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار ایف ای ڈی وصولی کا حکم معطل کردیا

    وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار ایف ای ڈی وصولی کا حکم معطل کردیا

    اسلام آباد:وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار ایف ای ڈی وصولی کا حکم معطل کردیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف اے ڈی) وصولی کا نوٹس لے لیا۔

    وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے ایف اے ڈی وصولی کو غیر قانونی قرار دیا اور اس حوالے سے جاری کردہ حکم نامہ فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

    شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کو تنگ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔انہوں نے اس فیصلے کی تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ کابینہ کی بغیر منظوری ایف اے ڈی کی وصولی کیسے؟ اور کیوں ہوئی بتایا جائے۔

    وزیراعظم نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو حکم دیا کہ فوری تحقیقات کی جائے اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف نےوزیر خزانہ کوہدایت کی کہ جن ذمےداروں کی وجہ سےمسافروں کو پریشانی ہوئی، انہیں عہدوں پر رہنےکا کوئی حق نہیں انہوں نے وفاقی وزیر کو ہدایت کی کہ جن مسافروں سےایف ای ڈی وصول کی گئی، انہیں رقوم واپس کی جائیں۔

    وزیراعظم نے اپنے احکامات پر فوری عمل درآمد اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

     

    یاد رہے کہ ایف بی آر نے فضائی مسافروں پرلاگوآرجی ٹیکس میں اضافہ کردیاتھا ، اس سلسلے میں  ایمرٹس ایئرلائنز نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ایف بی آر نے فضائی مسافروں پرلاگوآرجی ٹیکس میں اضافہ کردیا تھا جو  یکم جولائی 2022 سےنافذ العمل ہے

    اس حوالے سے جاری اعلان میں کہا گیاہے کہ آرجی ٹیکس جو کہ اس سے قبل 10ہزارروپے تھا بہت زیادہ بڑھا کر50 ہزارکردیا گیا ہے اور یہ دونوں قسم کے مسافروں یعنی فرسٹ کلاس اوربزنس کلاس دونوں پر لاگو ہے

    اس حوالے سے ایمرٹس ایئرلائنز کی طرف سے یہ پیغام جاری کیا گیا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے جاری کردی یہ سرکلرتمام ایئرلائنز پرلاگو کیا گیاہے اوراس حوالےسے جومسافر بھی ٹکٹ لے گا اس کو اس ضمن میں اضافی رقم ادا کرنا ہوگی ، اس حوالے سے جاری پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ایئرلائنزاب اس فیصلے پرعملدرآمد کرنے کی پابند ہوںگی

    ادھر یاد رہےکہ پاکستان میں ٹیکس کولیکشن میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقرر کردہ ہدف سے زیادہ ٹیکس وصول کرلیا۔

     

    ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق ایف بی آر نے آئی ایم ایف کے مقرر کردہ ہدف سے زیادہ ٹیکس وصول کیا، مالی سال 2022-2021 کے دوران 6129 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا۔

    گزشتہ ماہ ایف بی آر نے763 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں،گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 580 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی گئی تھیں۔

    اعلامیے کے مطابق جون کی ٹیکس وصولیاں پچھلے سال کی نسبت 32 فیصد زیادہ ہیں، جون 2022 میں ٹیکس دہندگان کو 39 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 27 ارب روپے کے ریفنڈزجاری کئے گئے تھے، جون کے ٹیکس ریفنڈز پچھلے سال کی نسبت 44 فیصد زیادہ ہیں۔

    ایف بی آر کے ماتحت ادارے ایل ٹی یو کراچی کی ٹیکس وصولیاں بھی مقررہ ہدف سے تجاوز کرگئیں۔

    رواں مالی سال میں ایل ٹی یو کراچی کی ٹیکس وصولیاں 1595 ارب روپے سے تجاوز کرگئیں جبکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6 ہزار 100 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا تھا۔

  • مون سون بارشیں، وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی

    مون سون بارشیں، وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی

    کراچی:سندھ میں مون سون کی ممکنہ بارشوں کے معاملے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر وزراء، مشیروں اور معاون خصوصی کی خصوصی ڈیوٹیز لگا دی گئی، وزراء معاون خصوصی ، مشیران متعین کردہ اضلاع میں فرائض دیں گے۔

    سندھ کابینہ میں شامل وزراء معاون خصوصی اور مشیر مختلف اضلاع میں بارش کے دوران اضلاع کی سطح پر انتظامیہ کے ہمراہ مانیٹرنگ کریں گے، کراچی ضلع جنوبی میں صوبائی وزیر مکیش چاولہ، شرقی میں صوبائی وزیر سعید غنی، کورنگی میں صوبائی وزیر تیمور تالپور، وسطی میں شہلا رضا رین ایمرجنسی کی ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے ملیر میں صوبائی وزیر ساجد جوکھیو، غربی میں معاون خصوصی وقار مہدی اور کیماڑی میں معاون خصوصی لیاقت آسکانی کی ڈیوٹیاں لگا دی، صوبائی وزیر سردار شاہ میرپور خاص ڈویژن کے تمام اضلاع میں رین ایمرجنسی کی مانیٹرنگ کریں گے۔

    ٹنڈو الہیار میں صوبائی وزیر ضیا عباس شاہ، ٹنڈو محمد خان میں معاون خصوصی قاسم نوید قمر، حیدر آباد میں صوبائی وزیر جام خان شورو کی رین ایمرجنسی ڈیوٹی سر انجام دیں گے، مٹیاری میں صوبائی وزیر مخدوم محبوب الزماں، دادو جامشورو میں مشیر فیاض بٹ شہید بینظیر آباد ڈویژن میں معاون خصوصی پارس ڈیرو کی رین ایمرجنسی ڈیوٹی لگا دی گئی۔

    سکھر ڈویژن میں نواب وسان، اور لاڑکانہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں صوبائی وزیر امتیاز شیخ رین ایمرجنسی کی مانیٹرنگ دیکھیں گے، صوبائی وزراء، مشیر اور معاون خصوصی رین ایمرجنسی سے متعلق تمام رپورٹس وزیر اعلیٰ سندھ کو دیں گے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعلی ہاؤس سے مون سون کی ممکنہ طوفانی بارشوں سے متعلق رین ایمرجنسی ڈیوٹیز کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

  • کراچی:پولیس مقابلوں میں منشیات فروش ہلاک ،ایک زخمی

    کراچی:پولیس مقابلوں میں منشیات فروش ہلاک ،ایک زخمی

    کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلے میں منشیات فروش ہلاک جبکہ ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق سہراب گوٹھ انڈس پلازہ گراؤنڈ کےقریب مبینہ پولیس مقابلے میں مبینہ منشیات فروش ہلاک ہو گیا ملزم کے قبضے سے اسلحہ، منشیات اور ساڑھے 8 ہزار روپے نقد برآمد ہوئےملزم کی شناخت امین اللہ عرف گانو ولد میر عالم کے نام سے ہوئی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم منشیات فروش تھا۔

    جی ٹی روڈ پشاور پر ٹرک سے 132 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی۔

    یونیورسٹی روڈ حکیم سعید گراؤنڈ کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا اس کےقبضے سے اسلحہ اور 2 چھینے ہوئے موبائل فون برآمد کرلیےگرفتار ملزم کے 2 ساتھی موقع سے فرارہو گئے،ملزم کی شناخت دانیال عرف حنیف کے نام سے کی گئی –

    علاوہ ازیں شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد زخمی ہو گئے جن میں سچل تھانے کےعلاقے ابوالحسن اصفہائی روڈ پر واقع گلشن ویواپارٹمنٹ میں فائرنگ 25 سالہ سراج ولد خان ولی،بہادر آباد تھانے کے علاقے دھوراجی کالونی میں فائرنگ سے 38 سالہ امام بخش ولد شمس زخمی ہوئے-

    پشاور:ایس ایچ او کانسٹیبل بیٹے کیساتھ منشیات امگل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

    جبکہ سرجانی جانی ٹاؤن خداکی بستی کے قریب واقع راضی گوٹھ میں فیضان مدینہ مسجد کے پاس فائرنگ سے دکان کا مالک اور ملازم راشد ولد مہردین اورویسم ولد رحیم اللہ زخمی ہوئے –

    قبل ازیں قبائلی ضلع خیبر پولیس کے حاضر سروس ایس ایچ او اور اس کےکانسٹیبل بیٹے کو 12 کلو گرام ہیروئن کے ساتھ پیر زکوڑی پل پشاور کے قریب سے پکڑا گیا تھا سی سی پی او محمد اعجاز خان کے مطابق حاضر سروس ایس ایچ او محمد شعیب اور اس کے کانسٹیبل بیٹے عابد اللہ گاڑی کے ذریعے ہیروئن اسمگل کر رہے تھے۔

    پولیس کے مطابق باپ بیٹے کا تعلق بین الصوبائی منشیات اسمگلر گروہ سے ہے سی سی پی او نے ایس ایچ او اور اس کے کانسٹیبل بیٹے کو معطل کردیا تھا اور پولیس نے ملزمان کےخلاف فوجداری مقدمہ درج کرکے محکمانہ کارروائی بھی شروع کردی ہے۔

    کراچی میں جوابی فائرنگ کےنتیجے میں 3 ملزمان جان کی بازی ہار گے۔

  • پیپلز بس سروس کی مزید 30 بسیں کراچی پہنچ گئیں

    پیپلز بس سروس کی مزید 30 بسیں کراچی پہنچ گئیں

    کراچی: پیپلز بس سروس کی مزید 30 بسیں کراچی پورٹ پہنچ گئیں۔

    باغی ٹی وی : صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ویڈیو شیئر کی ہے-

    شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز بس سروس کے تحت 250 بسوں کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے جس میں 16 لاڑکانہ شہر جبکہ 234 بسیں شہرِ قائد میں چلائی جائیں گی۔


    انہوں نے کہا کہ کراچی کے باسی تیار رہیں سندھ حکومت شہریوں جلد مزید خوشخبریاں دہتے ہوئے سفری سہولیات مہیا کرے گی۔ شرجیل میمن شہریوں سے درخواست کی کہ بسوں کا خیال رکھنا اب آپ کا کام ہے۔

    کورونا وائرس کا پھیلاؤ،محکمہ داخلہ سندھ نے پابندیاں عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا

    دوسری جانب کراچی کی مصروف شارع فیصل کے اسٹاپس پر صبح دفاتر اور کام پر جانے کیلئےشہریوں کی بڑی تعداد مقررہ وقت پراسٹاپ پہنچی تو پیپلز بس سروس نہیں آئی دفاتر جانے والی شہری بس کے انتظار میں تاخیر سےمنزلوں کو روانہ ہوئےشہریوں کا کہنا تھا کہ پونا گھنٹہ انتظار کیا مگر ایک بھی بس نہ آئی روٹ 1 پر چلنے والی 25 میں سے ایک بس بھی نہیں روٹ پر نہیں تھی-

    واضح رہے کہ حکومت سندھ کے اعلامیے کے مطابق کراچی کے لیے 7 روٹس بنائے گئے ہیں جن پر مرحلہ وار 240 بسیں چلائی جائیں گی پیر 27 جون کو ماڈل کالونی سے ٹاور تک پیپلز بس سروس کا افتتاح کیا گیا تھا، جب کہ یکم جولائی کو روٹ 2 کا بھی افتتاح کیا گیا ان بسوں کے ذریعے لاکھوں افراد روزانہ کی بنیاد پر اپنی منزلوں کو پہنچیں گے۔

    پیپلز بس سروس کا روٹ نمبر 1 ماڈل کالونی ملیر سے براستہ شاہراہ فیصل، میٹروپول اور آئی آئی چندریگر روڈ سے ہوتا ہوا ٹاور پر ختم ہوتا ہے جبکہ پیپلز بس سروس کا روٹ نمبر 2 ناگن چورنگی، شفیق موڑ، سہراب گوٹھ، گلشن چورنگی، نیپا، جوہر موڑ، سی او ڈی، ڈریگ روڈ اسٹیشن، کالونی گیٹ، شاہ فیصل کالونی، انڈس اسپتال، سنگر چورنگی اور لانڈھی کے درمیان چلایا جا رہا ہے۔

    ایئرکنڈیشن اور آرام دہ بسوں کا کرایہ 25 سے 50 روپے کے درمیان ہے پیپلز بس سروس کا باقاعدہ آغاز 27 جون کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا تھا۔

    بلوچستان بلدیاتی انتخابات:خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے…

  • پیٹرولیم  مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ غریب مٹانے کی سازش ہے:مصطفیٰ کمال

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ غریب مٹانے کی سازش ہے:مصطفیٰ کمال

    کراچی: پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے دو ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 98 روپے کا ہوشربا اضافہ غریب مٹانے کی سازش ہے۔ پاک سر زمین پارٹی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتی ہے اور حکومت سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہوا ہے کیونکہ تنخواہوں میں اضافہ ہوا نہیں لیکن اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں کئی سو فیصد اضافہ ہوچکا ہے نتیجتاً والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے قاصر ہورہے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ تو اب بیمار ہونے سے بھی خوفزدہ ہوگیا ہے۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھاکہ حکمران صرف صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بدعنوانیاں روک لیں تو حالات میں بہتری آسکتی ہے۔ سابقہ اور موجودہ نااہل حکمرانوں کی ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث تبدیلی تباہی میں بدل گئی، عوام سے روٹی، کپڑا اور مکان تو پہلے ہی چھن گیا تھا اب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے ووٹ دینے والوں کی زندگیاں داؤ پر لگا کر انہیں خودکشی پر مجبور کر دیا ہے۔ غریب و متوسط طبقہ ہی نہیں کاروباری اور صنعتکار طبقہ بھی شدید ذہنی و معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے کاروباری اخراجات پورے کرنا مشکل امر بن گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے اشیاء خورد و نوش سمیت خام مال کی قیمتیں بھی مستحکم نہیں۔ جس سے کاروباری لاگت میں ہوش ربا اضافہ ہوگیا ہے، کئی صنعتکار دیگر ممالک کا رخ کر چکے ہیں اور انکو دیکھ کر مزید پاکستان سے باہر جانے کا ذہن بنا چکے ہیں، باہر سے انویسٹمنٹ لانے کی کوششیں اور دعوے کرنے والے موجودہ انویسٹرز کا کاروبار اور صنعتیں اجاڑ رہے ہیں۔ نوکری پیشہ طبقے کیلئے دو وقت پیٹ بھر کر کھانے کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔ جب سے حکومت آئی ہے تب سے آئے روز کبھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر آتی ہے اور کبھی بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے کی۔ اگر سارا بوجھ عوام پر ہی منتقل کرنا تھا تو مہنگائی کا ڈھول پیٹ کر اقتدار میں آنے کی کیا ضرورت تھی؟

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں ڈسٹرکٹ کورنگی کے بلدیاتی امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ مشکل فیصلوں کے نام پر عوام کی گردن پر چھری پھیرنا بند کرئے۔ بھوک و افلاس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوگی، انارکی پھیلے گی، حالات بے قابو ہوئے تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔

  • پولیس سیکیورٹی پلان کو ہرلحاظ سے ٹھوس اورغیرمعمولی بنانا ہے:آئی جی سندھ

    پولیس سیکیورٹی پلان کو ہرلحاظ سے ٹھوس اورغیرمعمولی بنانا ہے:آئی جی سندھ

    کراچی :آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ پولیس سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور غیرمعمولی بنانا ہے۔تفصیلات کے مطابق چائنا قونصل جنرل کی 13 رکنی وفد کے ساتھ آئی جی سندھ نے ملاقات کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق آج قونصل جنرل چائنا Li Bijian نے 13 رکنی وفد کے ساتھ آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے سنٹرل پولیس آفس کراچی میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور سمیت صوبہ سندھ میں جاری مختلف ترقیاتی پروجیکٹس،سی پیک روٹ سے وابستہ چائنیز باشندگان ماہرین اور دیگر اسٹاف کے حفاظتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    آئی جی سندھ نے قونصل جنرل چائنا کی سنٹرل پولیس آمد پر انکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس امن وامان کی صورتحال پر مکمل کنٹرول اور عوام کے جان ومال کے تحفظ جیسی ذمہ داریوں میں ناصرف ہمہ وقت مستعد اور الرٹ ہے بلکہ سیکیورٹی حکمت عملی اور لائحہ عمل میں وقتاً فوقتاً مشاورت اور تجاویز کے عمل پر بھی فوکس رکھے ہوئے ہے جسکا مقصد پولیس سیکیورٹی پلان کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور غیرمعمولی بنانا ہے۔

    ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے وفد کو کراچی یونیورسٹی دہشت گردانہ حملے کے کیس پر بریفنگ دی اور ابتک کی پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ ڈی آئی جی ایس پی یو/سی پیک نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری پر سیکیورٹی کے جملہ امورسے بھی تفصیلی آگاہی دی۔اس موقع پر قونصل جنرل چائنا نے صوبے میں جاری سیکیورٹی کے مجموعی اقدامات پر حکومت چائنا کی جانب سے سندھ پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چائنا کا سندھ پولیس کے ساتھ تعاون جاری رہیگا۔

    ملاقات کے موقع پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرزسندھ،ڈی آئی جی ایس پی یو/سی پیک،ڈی آئی جی آئی ٹی،ڈی آئی جی سی آئی اے،ایس پی فارنرز سیکیورٹی سیل کے علاوہ اے آئی جی آپریشنز سندھ اور اے آئی جی ایڈمن سی پی او اور سی ٹی ڈی کے افسران بھی موجود تھے۔

  • کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،رضا ہارون کے ساتھ

    کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،رضا ہارون کے ساتھ

    کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،رضا ہارون کے ساتھ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر سیاستدان، تجزیہ کار رضا ہارون نے کہا ہے کہ باغی ٹی وی کی ٹیم، ناظرین، انتظامیہ کو سلام، میرا نام رضا ہارون ہے، پاکستان کے بڑے معاشی حب، شہر کراچی سے تعلق ہے، کراچی میں ہی سیاست کی ،وہیں سے سیاست کا آغاز کیا، ایم کیو ایم سے تعلق رہا پاک سرزمین پارٹی کا میں سیکرٹری جنرل رہا، اپنے تجربات کی روشنی میں اپنے مشاہدات کی روشنی میں کراچی کے مختلف ایشوز پر گفتگو کرتا رہا، سیمینارز ہوں یا ٹی وی ٹاک شوز ہوں، کوشش کی ہے کہ اپنی معلومات سے، تجربات سے کراچی کے مسائل کو سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل کو ،پاکستان کے ان مسائل کو جن کا تعلق ایک عام آدمی سے ہوتا ہے، سیاسی استحکام سے ہوتا ہے ، انکو اجاگر کرتا رہتا ہوں

    باغی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر پروگرام بے لاگ تبصرے میں گفتگو کرتے ہوئے رضا ہارون کا کہنا تھا کہ شکر گزار ہوں مبشر لقمان کا ، باغی ٹی وی کا ،انہوں نے مجھے موقع دیا کہ میں انکے پلیٹ فارم سے مختلف ایشوز پر آپ سے اپنے تبصرے، تجاویز، مشکلات،ایشوز ہیں جن سے ہم سب گزرتے ہیں، انکو شیئر کر سکوں،بنیادی طور پر جب ہم کراچی کی بات کریں گے تو ملٹی پل ایشوز ہیں یہ کراچی کے صرف ایشو نہیں بلکہ پاکستان میں جو گلا سڑا نظام جس کو ہم برائے نام جمہوریت کہتے ہیں، اس پر گفتگو کریں گے، ایکسپرٹ کو بھی لیں گے، انکی تجاویز بھی لیں گے، مختلف اداروں، محکموں سے بھی ،لوکل حکومت کے ایکسپرٹ سے بھی رائے لیں گے اور معلومات لے کر آپ کے ساتھ شیئر کریں گے،

    رضا ہارون کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا میٹرو پولیٹن شہر، سیاسی طور پر لاوارث شہر ہے، اس شہر میں سیاسی، انتظامی، بلدیاتی مسائل ہیں، اونر شپ، ترقیاتی سکیموں کے مسائل ہیں، اس شہر میں مختلف ایجنسیز کام کرتی ہیں،یونٹی آف کمانڈ کا تصور اس شہر میں نہیں ملتا، اس شہر میں سنسرز کے مسائل ہیں، اس شہر کی پارٹی سپیشن پورے ملک کے لیے ٹیکس کی مد میں ہو، یا کسی بھی طریقے سے، اس شہر کے لوگوں کو شکایت ہے کہ نمائندگی، تعداد کے حساب سے، علاقائی اہمیت کے حوالہ سے ریاست نے، ریاست کے اداروں نے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، پارلیمٹ، وہ تمام ادارے جو اتھارٹیز ہیں، جن کا کام ہے انفراسٹرکچر ڈیولپ کرنا، سوشل سیکٹر ایجوکیشن، ٹرانسپورٹ، صحت، بلدیاتی نظام ان تمام چیزوں کی محرومیاں، شکایت ہیں، یہ صرف کراچی نہیں بلکہ ملک کے کئی اور شہروں میں بھی مسائل ہوں گے،عام آدمی کے مسائل ملک بھر میں ایک ہی ہوتے ہیں، آئین پر بھی ہم بات کریں گے جس کو وفاقی حکومت فالو نہیں کرتی،ایجوکیشن کی بات کہ پرائمری ایجوکیشن ،کوالٹی کی ایجوکیشن فری پہنچانی ہے، آئین میں لکھا ہے لیکن کیا ہم پہنچا رہے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں بنیادی جمہوریت ہے

    رضا ہارون کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کا ذکر بار بار ہو گا، اسلئے کہ کراچی صرف سندھ کا شہر نہیں بلکہ یہاں مختلف قومیتوں، مسالک، زبان کے افراد اس شہر میں رہتے ہیں، انٹرنیشنل لوگ بھی یہاں ہیں‌، کراچی کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کہ اسکو منی پاکستان بھی کہتے ہیں، منی پاکستان میں ہمارے پاکستانی بھائی جو رہتے ہیں وہاں حقوق کے حوالہ سے، حکومتی ذمہ داریوں کے حوالہ سے کیا ہو رہا ہے، کیا نہیں ہو رہا، کیا ہونا چاہئے تھا، اس سب پر بات کریں گے، کراچی کی آبادی کو صحیح نہیں گنا گیا، شہر تین کروڑ کی آبادی کراس کر گیا لیکن ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی کے حوالہ سے سہولیات دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، کراچی مین سی پورٹ، انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے، یہ گیٹ وے ہے، پانی کا راستہ یہاں سے جاتا ہے، ہم جس پھلدار شاخ پر بیٹھے ہیں، جس کا پھل ہم سب کھا رہے ہیں، کیا اسکو پانی، کھاد دے رہے ہیں،کیا اس شہر کی پرورش ،نشوونما کر رہے ہیں، کیا انصاف کر رہے ہیں، اگر نہیں کر رہے تو کیا ہم اس شہر کی جڑوں کو کاٹ نہیں رہے، کراچی کی اونر شپ کا مسئلہ ہے،پاکستان ریلوے کی زمینیں بھی یہاں ہیں،اس شہر کا میئر جس کے پاس کراچی کا سارا علاقہ نہیں بلکہ کچھ علاقہ مختلف اتھارٹیز کے پاس ہے، اتنے بڑے شہر کو کیسے کمانڈ کیا جا رہا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آئین کی روح کو نہ سمجھیں جو ہمیں مکمل سہولیات، تحفظ دیتا ہے، یہاں تعلیم کے مسئلے ہیں، میئر تمام مسائل کو دیکھے، پانی کی ترسیل کا نظام درست ہے؟ ریلوے، پبلک ٹرانسپورٹ ہو، یا لوکل ٹرین، ماسٹر پلان کیا ہے؟ سٹی گورنمنٹ نے 2005 سے 2010 میں ماسٹر پلان بنایا تھا، اسکو سائیڈ پر کر دینا اور بغیر ماسٹر پلان کے شہر کو چلانا، کیا ایسا ہو سکتا ہے، کوشش کریں گے کہ ہفتہ وار آپ سے مسائل پر گفتگو کریں،ہم اپنے شہروں کو بہتر کرنے کے لئے باغی ٹی وی پر گفتگو کریں گے، آنیوالے پروگرام میں مختلف ایشوز، ٹاپک پر گفتگو کریں گے، کوشش کریں گے کہ کچھ پروگراموں میں ایکسپرٹ کو بھی لیں،

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما رضا ہارون نے باغی ٹی وی کو بطور اینکر پرسن جوائن کیا ہے، باغی ٹی وی کراچی کے سینئر سیاستدان کا خیر مقدم کرتا ہے رضا ہارون 2009 میں سندھ کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ٹیکنالوجی رہ چکے ہیں۔

  • نوکری کا جھانسہ دیکر لڑکی سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    نوکری کا جھانسہ دیکر لڑکی سے زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی سے زیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق گلستان جوہر بلاک 16 A میں کارروائی کے دوران ملزم اسامہ قاضی کو گرفتار کیا گیا جب کہ اس کا ساتھی فرار ہوگیا ملزم کے خلاف شارع فیصل تھانے میں مقدمہ درج ہے جس کے مطابق ملزم نے لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دلانے کے بہانے اپنے دفتر بلایا اور زیادتی کی۔

    نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی سے ذیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    ایف آئی آر کے مطابق زیادتی کا واقعہ رواں ماہ کی 16 تاریخ کو پیش آیا۔

    قبل ازیں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس نے نوکری کا جھانسہ دیکر 21 سالہ لڑکی سے ذیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ پولیس کو ملزم کے خلاف درخواست موصول ہوئی تھی ، جس پر ایس پی ماڈل ٹاؤن نے ایس ڈی پی او گلبرگ کی سربراہی میں فوری ٹیم تشکیل دی تھی-

    قربانی کیلئے لائے گئے جانوروں سے بھرا ٹرک الٹ گیا،17 بکرے ہلاک

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملزم شہزاد نے 21 سالہ لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دے کر کلمہ چوک بلوایا اور ایم ایم عالم روڈ پر واقع نجی ہوٹل میں لے جا کر ذیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم لڑکی کو جان سے مار دینےکی دھمکیاں بھی دیتا رہاجدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کرکے حوالات بند کیا گیا، خواتین سے ذیادتی و ہراساں کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں-