Baaghi TV

Tag: کراچی

  • خاتون کیساتھ دست درازی کا الزام،پی ٹی آئی رہنما گرفتار

    خاتون کیساتھ دست درازی کا الزام،پی ٹی آئی رہنما گرفتار

    کراچی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رکن سندھ اسمبلی شبیر قریشی کو پولیس نے خاتون سے دست درازی کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ رات 3 بجے تھانہ سائٹ میں ایک خاتون نے شکایت درج کرائی کہ شبیرقریشی نے ان سے دست درازی کی ہے –

    لاہور میں ضمنی الیکشن:انتخابی مہم کے دوران جھگڑا، متعدد افراد زخمی

    ایڈیشنل آئی جی کے مطابق خاتون کا کہنا ہےکہ شبیرقریشی نے انھیں نوکری کا جھانسا دیا خاتون کی شکایت پر شبیر قریشی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور انھیں گرفتارکرکے تفتیش کی جارہی ہے۔


    دوسری جانب شبیر قریشی کی گرفتاری کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے ترجمان پی ٹی آئی نے بھی دعویٰ کیا ہےکہ شبیر قریشی فجرکی نماز کے لیے نکلےتھے کہ انھیں پولیس گرفتار کرکے لےگئی پولیس نے گرفتاری کے بعد رکن سندھ اسمبلی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا –

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی جانب سے رکن اسمبلی شبیرقریشی کی گرفتاری پر مذمتیں کی جارہی ہیں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل نے شبیرقریشی کی فوری رہائی کامطالبہ کیا ہے –

    حلیم عادل کا کہنا تھا کہ پولیس اس وقت فستائیت پر اتر آئی ہے، رات بھر دو پولیس موبائیلیں رکن سندھ اسمبلی کے گھر کے باہر موجود تھی فجر کی نماز کے وقت پولیس نے رکن سندھ اسمبلی کو اٹھا کر لے گئی ہے ، سندھ میں سویلین ڈکٹیٹرشپ قائم کر دی گئی ہے۔

    حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ مہنگائی مارچ کے ڈرامے کرنے والے بلاول زرزاری اور اس کی حکومت ہمارے احتجاج کو روکنے کے لئے کارروائیاں کر رہی ہےشبیر قریشی کی گرفتاری ظاہر کرکے فوری رہا کیا جائے اور سندھ میں جاری پولہس گردی کو ختم کیا جائے ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے اور عوام آج پر امن احتجاج کر رہی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کا پولیس کو بلدیاتی انتخابات کے لئے تیار رہنے کا حکم

    پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل نےکہا کہ رکن سندھ اسمبلی شبیر قریشی کے اغوا واقعے کی مذمت کرتا ہوں، شہر میں اب اراکین اسمبلی بھی محفوظ نہیں آئی جی سندھ پی ٹی آئی کے رکن شبیر قریشی کو فوری بازیاب کرائیں دیگر صورت آجی آفس کے باہر احتجاج ہوگا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر علی زیدی نےکہا کہ ایم پی اے شبیر قریشی کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ فجر کی نماز ادا کرنے جا رہے تھے ریاستی دہشت گردی کے لیے ریاستی مشینری کو استعمال کرنے کی یہ ایک اور واضح مثال ہے زرداری ہمیں ڈرانا چاہتا ہے لیکن یہ احمقانہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خود عوام کی طاقت سے خوفزدہ ہے۔

    ملکی حالات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے،شیخ رشید

  • مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات

    مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات

    اسلحے کے زور پر درجنوں افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی بڑی واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا-

    باغی ٹی وی : ناگوری سوسائٹی کیٹل کالونی سپر ہائی وے ناگوری ملک سلیم نامی ڈیری فارمر کی 100 بھینس اسلحہ کے زور پر مسلح افراد نے کھول لیں ڈیری فارمر ملک سلیم نے سندھ ہائی کورٹ اور ملیر سیشن کورٹ سے مورخہ 15 جون کو رجوع کیا-

    نوکری کا جھانسہ دیکر زیادتی کی کوشش، لڑکی نے عزت بچانے کیلئے تیزاب پی لیا

    دوسری جانب لمپی اسکن بیماری سے 1100 مویشیوں موت کے نقصان سے متاثرہ فارمر نے عدالت سے قرض خواہوں سے کچھ عرصہ ریلیف کی درخواست بھی کی جس پر عمل نہیں کیا گیا سیشن کورٹ میں ہراسمنٹ کی استدعا و پٹیشن کے باوجود عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئی –

    قبل ازیں شہر قائد کے کاروباری علاقے صدر میں مسلح ڈاکو جیولرز کی دکان سے چند منٹوں میں 3 کروڑ روپے مالیت کے زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے تھے دکاندار نے بتایا تھا کہ جمرات کی دوپہر 2 بجکر 10 منٹ پر شلوار قمیض میں ملبوس 3 ڈاکو داخل ہوئے جو چند منٹوں میں دکان سے اسلحے کے زور پر بھاری مالیت کے طلائی زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے تھے-

    پاکستان نے 20 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کر دیا

    انہوں نے بتایا تھا کہ واردات کے دوران ڈاکو 2 سو سےڈھائی سو تولہ سونا لوٹ کر فرار ہوئے ہیں، جس کی مالیت 3 کروڑ روپے کے قریب بنتی ہے تاہم ابھی وہ اپنی دکان کا ریکارڈ چیک کر رہے ہیں، دکان کے اندر کیمرے خراب ہونے کی وجہ سے اندر کی فوٹیج نہیں بن سکی تاہم دکان کے باہر لگے ہوئے کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیجز منظر عام پر آئی-

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ

  • ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما

    ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما

    کراچی: ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما نے نتائج ماننے سے انکار کردیا ،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے مرکزی رہنما اور ممبر سندھ اسمبلی مفتی قاسم فخری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پھرسسٹم بٹھا دیا گیا اور45 مںٹ تک نتائج کو روکا گیا ،

    مفتی قاسم فخری کا کہنا تھا کہ 302 پولنگ سٹیشن تک ہم جیت رہے تھے پھر اچانک سسٹم رک گیا 45 منٹ بعد جب دوبارہ چلا تو تحریک لبیک کو دوسرے نمبر پر کر دیا گیا ،

    ادھر غیرسرکاری اورغیرحتمی نتائج کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کےمحمدابوبکر10683 ووٹ لےکرجیت گئے ہیں جبکہ تحریک لبیک کےشہزادہ شہباز 10618 ووٹ لےکردوسرے نمبرپر ہیں ، ادھرکراچی سے اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیوایم اپنی فتح کا جشن منارہی ہے،جبکہ ٹی ایل پی نے نتائج ماننے سے انکارکردیا ہے

    299 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے بعد سسٹم کا رک جانا تشویش کا باعث ہے ۔ہم جیت چکےتھے لیکن اب ہماری جیت چھیننے کی کوشش ہورہی ہے جسے ہرصورت ناکام بنائیں گے،ان خدشات کااظہارتحریک لبیک پاکستان کے مرکزی رہنما مفتی قاسم فخری نے ایک ٹویٹ کے ذریعے عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی ہے

    مفتی قاسم فخری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے اندهیرے میں نتائج کی تبدیلی کسی صورت برداشت نہیں کی جاۓ گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا تو لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔

    ادھر کراچی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ 309 میں سے 299پولنگ اسٹیشنزکاغیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ اس وقت سامنے آیا ہےجس کے مطابق تحریک لبیک کےشہزادہ شہباز 10272 ووٹ لےکرپہلے نمبرپر ،ایم کیوایم پاکستان کےمحمدابوبکر10261 ووٹ لےکردوسر ے نمبرپر، مہاجرقومی موومنٹ کےرفیع الدین فیصل8233 ووٹ لےکرتیسرےنمبرپر موجود ہیں‌

    این اے 240 کی نشست پر ضمنی الیکشن میں ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے، اس دوران ایم کیو ایم پر تحریک لبیک پاکستان کو برتری حاصل ہے جبکہ دن بھر کشیدگی دیکھی گئی اور فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق این اے 240 کے ضمنی الیکشن میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلا کسی تعطل کے جاری رہی، پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری سکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دو سیاسی جماعتوں میں تصادم ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑے کے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پر قابوپالیا۔

    کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے جبکہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے

    کراچی ضمنی انتخابات، حافظ سعد رضوی کی گاڑی پر فائرنگ

     

    پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    یاد رہے کہ یہ نشست ایم کیوایم پاکستان کےاقبال محمدعلی خان کےانتقال پرخالی ہوئی تھی۔

    این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

  • کراچی ضمنی انتخابات، حافظ سعد رضوی کی گاڑی پر فائرنگ

    کراچی ضمنی انتخابات، حافظ سعد رضوی کی گاڑی پر فائرنگ

    گاڑی پر فائرنگ، حافظ سعد رضوی کا کارکنان کے نام اہم پیغام جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں ضمنی انتخابات حلقہ این سے 240 میں جاری ہیں

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی سیکورٹی کی گاڑی پر بھی لانڈھی میں فائرنگ کی گئی ہے،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک دفعہ پھر لانڈھی نمبر 6 میں امیر تحریک لبیک پاکستان علامہ حافظ سعد حسین رضوی کی سیکورٹی پر معمور احباب پر فائرنگ 2 سیکورٹی گارڈ زخمی ہوئے ہیں

    https://twitter.com/TLPakistan313/status/1537410783511977985

    سربراہ تحریک لبیک سعد حسین رضوی نے انکی گاڑی پر فائرنگ کے بعد کارکنان کے لیے اہم پیغام جاری کیا ہے، حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کے قائدین پر حملہ اس لیے کیا گیا کہ تمام کارکن وہاں پہنچیں گے اور پیچھے سے دھاندلی کی جائے گی کوئی بھی کارکن اپنا پولنگ سٹیشن نہ چھوڑے ،

    ضمنی انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کراچی میں ہیں، انکی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے،فائرنگ سے گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا ہے تا ہم حافظ سعد رضوی محفوظ ہیں کئی دیگر مقامات پر بھی فائرنگ ہوئی ہے جس سے تحریک لبیک کے کارکنان زخمی ہوئے ہیں

    لانڈھی نمبر 6 میں سربراہ تحریک لبیک حافظ سعد حسین رضوی کی گاڑی پر فائرنگ سے 3 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا علاج معالجہ جاری ہے،

    حافظ سعد رضوی حلقے این اے 240 کے مختلف پولنگ سٹیشن کا دورہ کر رہے تھے جب انکی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاک سر زمین پارٹی کے مسلح کارکنان کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ،فائرنگ کے بعد تحریک لبیک کے کارکنان جمع ہو گئے اور انہوں نے حافظ سعد رضوی کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا، حافظ سعد رضوی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے،

    تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کراچی کے دورے پر ہیں، گزشتہ روز انہوں نے پریس کانفرنس بھی کی تھی اور پارٹی پالیسی کے حوالہ سے صحافیوں کو آگاہ کیا تھا،

    دوسری جانب شہر قائد میں ہونے والے الیکشن کے دوران گولیاں چلتی رہیں، سیاسی جماعتوں کے کارکنان آپس میں بھی گتھم گتھا ہوتے رہے گورنمنٹ بوائزپرائمری اسکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دوسیاسی جماعتوں میں تصادم ہوا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنےکے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا جھگڑے کے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوئے،

    صحافی فیض اللہ خان لکھتے ہیں کہ کراچی کے ضمنی انتخاب کے دوران متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کے کارکنوں میں تصادم ہوا ہے ، کراچی کی تلخ ماضی کی نسبت لڑائی کے نام پہ ہاتھا پائی نہ صرف قابل قبول ہے بلکہ اچھی بھی ہے ورنہ کراچی کے شب و روز گولیوں کی تڑتڑاھت سے گونجتے تھے

    فائرنگ پی ایس پی کے سربراہ کی موجودگی میں ہوئی،ملزمان کو گرفتار کیا جائے، ترجمان تحریک لبیک
    کراچی این اے 240 ضمنی الیکشن میں تحریک لبیک پاکستان کے زمہ داران اور کارکنان پر فائرنگ کے معاملے پر ترجمان تحریک لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ پاک سر زمین پارٹی کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے زمہ داران اور کارکنان پر لانڈھی نمبر 6 میں فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ،فائرنگ پی ایس پی کے سربراہ کی موجودگی میں ہوئی جس کی وہ خود نگرانی کررہے تھے،سندھ پولیس پی ایس پی کے سربراہ سمیت ملوث افراد کو فی الفور گرفتار کرے،پرامن اور شفاف انتخابات الیکشن کمیشن اور سیکیورٹی اداروں کی زمہ داری ہے،مخالفین تحریک لبیک کی فاتح دیکھ کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں، کسی کو بھی ووٹ چوری نہیں کرنے دیں گے، امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے ،پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ہماری خاموشی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے ، فائرنگ کے واقعے میں تحریک لبیک پاکستان مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن علامہ غلام غوث بغدادی، رکن سندھ اسمبلی مفتی قاسم فخری اور کراچی تنظیمی کمیٹی کے ناظم اعلیٰ عمر فاروق سمیت کارکنان شدید زخمی ہوئے ہیں

    دوسری جانب ایدھی فاؤنڈیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے ادارے کی گاڑیوں پربھی فائرنگ کی گئی گاڑیوں پرہونے والی فائرنگ سے کوئی رضاکارزخمی نہیں ہوا ،علاوہ ازیں فائرنگ سے زخمی ہونے والاشخص دوران علاج دم توڑگیا ،ڈائریکٹر جناح ہسپتال کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص دوران علاج دم توڑ گیا،جناح اسپتال میں 4 زخمیوں کو لایا جا چکا ہے،

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے چند جماعتوں کے کارکنان آپس میں لڑ پڑے،کسی کو کراچی شہرکے حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے، ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا ہے کہ کشید ہ صورتحال پر قابو پالیا ہے یہ ناخوشگوار واقع پولنگ اسٹیشن کے باہر یا اندر پیش نہیں آیا یہ ناخوشگوار واقع ایک سیاسی جماعت کے دفتر کے باہر پیش آیا لانڈھی میں صورتحال فی الحال قابو میں ہے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے

    این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں مسلح تصادم اور کشیدگی کے واقعات،سابق وفاقی وزیر و صدر پی ٹی آئی سندھ علی زیدی کا کہنا ہے کہ این اے 240 کے انتخابات میں تشدد دیکھ کر دکھ ہوا،سندھ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے پرامن انتخابات کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں، الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر اپنی نااہلی ظاہر کی ہے کراچی کو کئی دہائیوں سے انتشار کی سیاست کا سامنا کرنا پڑا، تشدد سیاست میں واپس نہیں جا سکتا، الیکشن لڑنے والی تمام جماعتوں سے صبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہوں،پرامن انتخابات کا واحد طریقہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر رینجرز کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کےحلقہ این اے 240 میں فائرنگ اورتشدد کا نوٹس لے لیا،وزیراعلیٰ نے آئی جی کو ہدایت کی کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دیں ،الیکشن کا ماحول پرامن رکھا جائے، جو قانون ہاتھ میں لے اس سے سختی سے نمٹا جائے،ہم سیاسی لوگ ہیں، ہمیں پرامن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے وزیراعلیٰ سندھ نے الیکشن میں حصہ لینے والے تمام سیاسی جماعتوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کر دی،

    کراچی میں ضمنی انتخاب کے دوران ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات،صوبائی الیکشن کمشنرنے چیف سیکریٹری اورآئی جی کوفون کیا ہے ،صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ لاقے میں امن وامان کی صورتحال کوکنٹرول کریں،انتخابی عمل کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کوگرفتار کیا جائے،گنتی کے دوران پولیس اوررینجرزکی بھاری نفری تعینات ہونی چاہیے ،

  • این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    کراچی:کراچی کے حلقے این اے 240 ضمنی انتخاب کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی، لانڈھی میں فائرنگ کے بعد پولنگ اسٹیشن نمبر 53 سے پولنگ کا عملہ بھاگ گیا، عملہ غائب ہونے پر نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سے تین زخمیوں کو نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، پانچ زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیاگیا ہے جن میں سے ایک کا انتقال ہوا۔

    خیال رہے کہ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔ ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم پاکستان ، پاک سرزمین پارٹی و دیگر جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔
    کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری اسکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دوسیاسی جماعتوں میں تصادم ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنےکے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑےکے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پر قابوپالیا۔

    ادھر لانڈھی نمبر 5 زمان آباد میں پریزائیڈنگ آفیسر اور سیاسی جماعت کے کارکن کو پولیس نے گرفتارکرلیا، دونوں افراد کےخلاف جعلی ووٹ کاسٹ کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔

    ریجنل الیکشن افسرکے مطابق پولنگ اسٹیشن نمبر 87 پر پولنگ بک کی مبینہ ہیر پھیر کا واقعہ سامنے آیا، واقعہ پریزائیڈنگ افسرکےدفتر میں پیش آیا، جہاں پولنگ بک رکھی تھی وہاں نامعلوم شخص آیا اور پولنگ بک کھڑکی سےکسی کو دینےکی کوشش کی، پولیس اہلکار نے اس شخص کو پکڑ لیا اورپولنگ بک لے لی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 کی خالی نشست پر پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی جس میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    متحدہ قومی موومنٹ کے ابوبکر، مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل، پاک سرزمین پارٹی کے شبیر قائم خانی، پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری سمیت 25 امیدوار میدان میں ہیں جب کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔

    اس سے پہلے ٹی ایل پی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیاتھا کہ لانڈھی گوشت مارکیٹ پولنگ اسٹیشن نمبر1 ایم کیو ایم کی جانب سے جعلی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جس میں پریزائیڈنگ افسر بھی ملوث، ایک سیاسی جماعت کے کارکنان نے بیلٹ باکس پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    اس حوالے سے ٹی ایل پی کے ذرائع کا کہنا ہےکہ کراچی ضمنی الیکشن این اے 240 میں ٹی ایل پی ضلع جنوبی کے امیر علامہ سلطان مدنی نے ایم کیو ایم کے کارکن کو بیلٹ پیپرز چوری کرنے پر پولیس کے حوالے کیا ہے ، ٹی ایل پی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پریذائیڈنگ افسر کو بھی پولیس کے حوالے کیا گیا.

    ادھر اطلاعات کے مطابق کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    اس حلقے میں پولنگ اسٹیشن نمبر 66 اور 67 پر ووٹنگ سست روی کا شکار ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی تھی،حماد اظہر

    پریذائیڈنگ آفیسر کے مطابق پولنگ اسٹیشن 66 اور 67 پر ووٹرز کی آمد کا سلسلہ سست ہے، امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی آمد میں تیزی آئے گی۔این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ڈی آر او ندیم حیدر نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    اس موقع پر ڈی آر او ندیم حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حلقے میں 203 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں، جہاں پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام پولنگ اسٹیشنز میں تیاریاں مکمل ہیں، جبکہ حکومت نے اس حلقے میں آج چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق حلقے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
    قومی اسمبلی کے مذکورہ حلقے میں لانڈھی اور کورنگی کے علاقے شامل ہیں، تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر و باہر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے۔ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں گزشتہ روز ہی پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا تھا۔

    حلقہ این اے 240 میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد ووٹرز ہیں، 309 پولنگ اسٹیشنز اور 1236 پولنگ بوتھس قائم کیے گئے ہیں۔

    اس حلقے میں 106 پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دیئے گئے ہیں۔انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز اور 812 پولنگ بوتھس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی نشست ایم کیو ایم کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 25 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

    https://twitter.com/WaqasJuttReal/status/1537335249264328706

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے امیدوار محمد ابوبکر اپنی جماعت کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل اور پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے شبیر قائم خانی ان کے مقابلے میں موجود ہیں۔

    قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریکِ لبیک پاکستان کے کاشف قادری بھی ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی مقابلے میں شامل نہیں۔

  • کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 میں پولنگ کا عمل جاری ہے پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

    باغی ٹی وی : حلقےمیں کل 309 پولنگ اسٹیشن قائم کیےگئےہیں 5 لاکھ 29 ہزار 855 افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے حلقہ این اے 240 پرضمنی انتخاب کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس کے ساتھ سندھ رینجرز بھی سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    مریم نواز اورعمران خان کا آج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونے کا امکان

    ضمنی انتخاب کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس کے خصوصی دستے بنائے گئے ہیں۔ کراچی پولیس کے 1500 سے زائد اہلکار الیکشن کے دوران سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) کے امیدوار محمد ابوبکر اپنی جماعت کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل اور پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے شبیر قائم خانی کے درمیان مقابلہ ہے قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتنے کے لئے پیپلزپارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری بھی میدان میں اترے ہیں جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

    وفاقی وزیر سالک حسین کا پاک ترک بزنس کونسل کا دورہ

    ضمنی انتخاب کے لئے حلقے میں گزشتہ روز ہی پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا تھا۔ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

    6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے :نصراللہ ملک

  • اگر یہ لوگ شریف ہوتے تو رشتہ لے کر آتے ،دعا زہرہ کے انٹرویو پر ماں کا ردعمل

    اگر یہ لوگ شریف ہوتے تو رشتہ لے کر آتے ،دعا زہرہ کے انٹرویو پر ماں کا ردعمل

    اگر یہ لوگ شریف ہوتے تو رشتہ لے کر آتے ،دعا زہرہ کے انٹرویو پر ماں کا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے شہر قائد کراچی سے گھر سے بھاگ کر پنجاب میں آ کر شادی کرنے والی دعا زہرہ کا انٹرویو سامنے آنے کے بعد دعا کی والدہ کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے،

    دعا زہرہ کی والد کا کہنا ہے کہ میری بچی دباؤ کا شکار ہے عدالت میں اس نے خود ہم سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ چلے گی لیکن یہ کہتے ہی وہ اسے اٹھا کر لے گئے کوئی اپنی بے عزتی نہیں کرواتا، ہم صرف بچی کی خاطر یہ سب کررہے ہیں تاکہ وہ بحفاظت گھر آجائے میں نے ظہیر کے بھائی کا انٹرویو دیکھا جس میں وہ کہہ رہا تھے کہ دعا کہتی ہے مجھے جان سے ماردو لیکن میں کراچی نہیں جاؤں گی، میں بتا دوں اگر میری بیٹی کو آپ لوگوں نے مارا یا اسے کوئی خراش آئی تو میں آپ لوگوں کو چھوڑوں گی نہیں

    دعا زہرہ کی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ویڈیو میں دیکھا کہ 14 سالہ بچی کو گدی رکھ کر بٹھایا ہوا ہے سب کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں گدی پر بٹھایا ہے تاکہ وہ بڑی نظر آئے وہ جیسی ہے اسے ویسے ہی دکھائیں اس یوٹیوبر نے دعا کا میک اپ کرکے اپنے جیسی عورت بنا کر بٹھا دیا جب یہ کراچی میں تھے تو کسی میڈیا والے کو دعا کا انٹرویو نہیں لینے دیا گیا اب اس زنیرہ نامی لڑکی نے کیسے انٹرویو کرلیا اسے یقیناً ظہیر کے گھر والوں نے پیسہ کھلایا ہوگا تبھی وہ باآسانی ان تک پہنچ گئی

    دعا زہرہ کی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم شریف لوگ ہیں کسی گینگ کے بندے نہیں ہیں تو یہ لوگ رشتہ لے کر آتے اگر یہ شریف ہوتے تو جب میری بچی ان کے پاس اکیلے گئی تو ظہیر کی ماں ہم سے رابطہ کرتیں پوچھتیں کہ اس طرح بچی آگئی ہے اب کیا کرنا ہے لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی

    نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟

    کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے،دعا زہرہ کے والد کا انٹرویو پر بڑا ردعمل

  • کراچی میں نجی ٹی وی چینل کے صحافی اغوا ہو گئے

    کراچی میں نجی ٹی وی چینل کے صحافی اغوا ہو گئے

    کراچی : شہر قائد میں ناظم آباد سے نجی ٹی وی چینل کے صحافی اغوا ہو گئے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر اسائمنٹ ایڈیٹر نفیس نعیم کو نامعلوم سادہ لباس افراد اغوا کر کے اپنے ہمراہ لے گئے جب وہ اپنی رہائشی گاہ قریب خریداری کر رہے تھے جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ انھیں کن افراد نے اغوا کیا ہے۔

    ای سی سی کی یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی 300 روپے فی کلو فراہم کرنے کی منظوری

    نفیس نعیم کو پولیس موبائل میں ڈال کر لیجانے کی اطلاع موقع پر موجود افراد نے اہلخانہ کو دی نفیس نعیم کے اغوا پر صحافی تنظیموں کی جانب سے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر انھیں بازیاب کرایا جائے-

    وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے نفیس نعیم کے اغوا ہونے کا نوٹس لے لیا ہے اور پولیس اور متعلقہ اداروں کو صحافی کی جلد بازیابی کی ہدایت ہے وزیرداخلہ رانا ثناءللہ نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں ہدایت دی کہ نفیس نعیم کی بازیابی کے لیے تمام تروسائل کو بروئے لائے جائیں۔

    بجٹ ایوان میں پیش نہ ہو سکا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی


    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ نجی ٹی وی چینل کے نامہ نگار نفیس نعیم کو ناظم آباد میں سادہ لباس والوں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں صحافیوں کو ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے دھمکیاں یا نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے، اور قصورواروں کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

    اگر پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھیں تو آئی ایم ایف بھی معاہدہ نہیں کرے گا،مفتاح اسماعیل

  • عامر لیاقت کی جائیداد کا مالک کون ہوگا:نیا تنازعہ شروع ہوگیا

    عامر لیاقت کی جائیداد کا مالک کون ہوگا:نیا تنازعہ شروع ہوگیا

    کراچی:عامر لیاقت کی جائیداد کا مالک کون ہوگا:نیا تنازعہ شروع ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق کراچی میں وفات پانے والے اہم سیاسی رہنما اوراینکرڈاکٹرعامرلیاقت حسین کی جائیداد اب وجہ تنازعہ بنتی ہوئی نظرآرہی ہے ،پولیس اس ساری صورت حال سے آگاہ ہے اور حکام اس معاملے کواحسن انداز سے حل کرنا چاہتےہیں ، جائیداد کا وارث کون ہوگا ، اس سلسلے میں ڈاکٹرعامرلیاقت کی اولاد بھی دعویدار ہے اور پھرآخری بیوی دانیہ شاہ بھی کہتی ہیں کہ اس کے اپنے خاوند سے ناراضگی ضرورتھی لیکن دونوں کے درمیان علیحدگی نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ بھی حق دار ہے

    عامر لیاقت کی موت کے ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ کیلئے شہری تھانے پہنچ گیا

    پولیس نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت کا گھر تفتیش مکمل ہونے تک سیل رکھنے کا فیصلہ کرلیا اور کہا گھر عامر لیاقت کے اصل وارث کے حوالے کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامرلیاقت حسین کا گھر سیل کرنے کے معاملے پر پولیس حکام نے کہا ہے کہ پولیس تفتیش مکمل ہونے تک گھرسیل رہیگا، کرائم سین کی فارنزک رپورٹ کاانتظارہے ، فائنل رپورٹ آنے کے بعدہی گھر کھولا جائے گا۔

    ایک آواز پہ ساتھ دینے والا عامر لیاقت چلا گیا: دعا ملک

    حکام نے بتایا کہ ہمارے پاس اب تک گھر یا جائیداد کا دعویدار نہیں آیا، گھر عامر لیاقت کے اصل وارث کے حوالے کریں گے۔پولیس کا کہنا تھا کہ نادرا سے مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت کا مکمل ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے ، اب تک اصل وارثوں میں بیٹا احمد اور بیٹی دعا سامنے آئی ہے۔حکام نے کہا کہ نادرا ریکارڈ میں پہلی بیوی بشریٰ کا طلاق نامہ اور دوسری بیوی طوبی کا طلاق نامہ ریکارڈ پر ہے جبکہ تیسری بیوی دانیہ کا طلاق نامہ رجسٹرڈ نہیں

    اداکارہ مشی خان نے عامر لیاقت سے معافی مانگ لی

  • چوری کے ساتھ قتل کرنے والا ملزم گرفتار،

    چوری کے ساتھ قتل کرنے والا ملزم گرفتار،

    چوری کے ساتھ قتل کرنے والا ملزم گرفتار،

    باغی ٹی وی : پولیس کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں میں چند دن پہلے ایک جرم کا کا واقعہ پیش آیا ۔سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں نا معلوم فرد گھس گیا ۔اور پھر اس گھر میں رہنے والی خاتون جس کی عمر 60 سال کے قریب تھی ۔اس کا گلہ دبا دیا ۔اور اسی دوران یہ خاتون جان کی بازی ہار گئی ۔اس خاتون کو قتل کرنے بعد اس ملزم نے موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھا کر گھر کی قیمتی سامان لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔
    اس کے بعد جب پولیس کو اس واقعے سے اگاہ کیا گیا تو پولیس نے تو پولیس نے اس سارے واقعے کا مقدمہ قتل اور چوری کی دفعات کے ساتھ درج کر لیا تھا ۔
    مزید تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ جب خاتون کے قتل کی اطلاع ملی تو تب ہی ملزم کو گرفتار کر لیا تھا ۔ملزم کی گرفتاری علاقہ سرجانی ٹاؤن میں ہوئی تھی ۔

    مزید یہ کہ ملزم فرار ہونے کے بعد چوری کا جنریٹر فروخت کر رہا تھا ۔پولیس تو پہلے سے ہی تفتیش میں مصروف تھی ۔پولیس نے ملزم کو دیکھ کر جو کہ جنریٹر بیچنے میں مصروف تھا ۔پولیس نے تفتیش کی تو پتا چلا کہ یہ ہی وه ملزم ہے جس نے خاتون کو قتل کیا تھا ۔اور پھر گھر سے فریج اور جنریٹر لے کر فرار ہو گیا تھا ۔ پولیس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ ملزم کو گرفتار کر لیا ۔ملزم کا نام ارشد علی تھا ۔پولیس نے اس سے جنریٹر واپس لے لیا تھا ۔
    جب پولیس نے ملزم سے مزید تفتیش کی تو ملزم یہ ماننے پر مجبور ہو گیا کہ قتل اس کے ہاتھوں ہی ہوا تھا ۔اس نے قتل اسلئیے کیا تھا کیونکہ جب میں جنریٹر چوری کر رہا تھا تو تب اس خاتون کی نظر میرے پر پر گئی ۔مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آئی تو میں نے خاتون کا گلہ ہی دبا کر اسے جان سے مار ڈالا ۔پھر اس کے بعد مجھے گھر کی جو بھی قیمتی چیز ملی میں نے اٹھا لی اور فرار ہو گیا ۔