Baaghi TV

Tag: کراچی

  • ناظم آباد میں ایم کیو ایم کارکن کا قتل قابل مذمت،تحقیقات کی جائیں، حافظ نعیم الرحمان

    ناظم آباد میں ایم کیو ایم کارکن کا قتل قابل مذمت،تحقیقات کی جائیں، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے اہلیان کراچی کا شکریہ ادا کرتا ہوں،کل کا جلسہ تاریخی تھا عوام بھی اپنا ریسپانس دے رہے تھے،

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جلسوں میں لوگوں کو لانے کے لیے طریقہ کار بنایا گیا ہے، لوگوں کو دیگر جلسوں میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیوں آئے ہیں ، ہمارا جلسہ سب سے بڑا جلسہ تھا، جماعت اسلامی کو بڑا مینڈیٹ ملے گا، جماعت اسلامی سب سے زیادہ ووٹ لینے والی پارٹی ہوگی، نوجوانوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں خود کو والنٹیر کریں،ایک ہی دن میں ہزاروں لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے ، ہم دھاندلی نہیں کرنے دیں گے،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ایک طرف الیکشن مہم چل رہی ہے دوسری جانب ایک گروہ ایسا ماحول پیدا کررہا ہے ،جلاو گھیراو کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ناظم آباد میں واقعہ ہوا اور ایم کیو ایم کارکن قتل ہوا،ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں،فوٹیج موجود ہے اعلی سطح کی تحقیقات کی جائے،

    ناظم آباد واقعہ، پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،سعید غنی

    این اے 127، بلاول کی حمایت کرنیوالوں کی گرفتاریاں، الیکشن کمیشن کو خط

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

    واضح رہے کہ انتخابات 2024 خونی بنتے جا رہے، شہر قائد کراچی میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑے کے دوران گولیاں چل گئیں، ایک شخص کی موت ہو گئی جبکہ ایک زخمی ہو گیا،واقعہ ناظم آباد میں پیش آیا،ناظم آباد نمبردو میں الیکشن مہم کے دوران دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑا ہوا، پہلے ایک دوسرے پر کرسیاں چلائی گئیں پھر گولیاں چل گئیں، فائرنگ سے سیاسی جماعت کا کارکن 48 سالہ فراز ہلاک جبکہ ایک کارکن زخمی ہو گیا

    کراچی میں دو سیاسی پارٹیوں کے درمیان جھنڈا لگانے پر تصادم و فائرنگ اور ضلع صوابی میں پوسٹل بیلٹ چھینے جانے کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحبان سے رپورٹس طلب کی ہیں تاکہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف الیکشن قوانین کے تحت بھی کاروائی کی جا سکے

  • ناظم آباد واقعہ، پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،سعید غنی

    ناظم آباد واقعہ، پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،سعید غنی

    سندھ کے سابق صوبائی وزیر، پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ ناظم آباد مین بہت افسوسناک واقعہ ہوا، جس میں ایک معصوم شہری کی جان چلی گئی

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ ہمارے پارٹی کے کارکنان شدیدزخمی ہیں،کل ناظم آباد میں افسوسناک واقعہ ہوا ، گزشتہ کئی روز سے پیپلز پارٹی کے دفاتر پر حملے ہو رہے تھے، کارکنان پر تشدد ہورہا تھا،ہم نے ایک دفتر پر حملہ کی ایف آئی آر درج کرائی، اس کے بعد ایم کیو ایم نے ہمارے ورکرز پر ایف آئی آر کرائی، مختلف جگہوں پر ناظم آباد میں ہمارے بینرز اور جھنڈے جلائے گئے،ہمارے کارکن کے گھر کارتوس بھیج دیا گیا یہ تمہارے لیے ہیں، ہماری ایک میٹنگ میں ایم کیو ایم کے لوگ گھسے،جعفر طیار میں ہمارے بینرز پھاڑے گئے،ضلع وسطی کے بہت سے علاقوں میں ہمارے جھنڈے بینرز اتارے جارہے تھے، کل وسطی میں پیپلز پارٹی نے اچھا جلسہ کیا،اس کے بعد واقعہ ہوا،ایک ویڈیو ایم کیو ایم کی خاتون نے سوشل میڈیا پر ڈالی،اس پر فائرنگ کرنے والے پیپلز پارٹی کی گاڑیوں پر کررہے تھے،وہاں پولیس وہاں موجود تھی،سارا واقعہ پیپلز پارٹی کی موجودگی میں ہوا،ہمارے ضلعی صدر نے کہا رینجرز کو بلایا جائے،پولیس کی موجودگی میں ایم کیو ایم کے غنڈوں نے پیپلزپارٹی کارکنان پر سیدھے فائر کیئے، ہم پولیس کو کہتے رہے کہ نفری منگوائیں یا رینجرز کو بلائیں، مگر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،نگران حکومت کل کے واقعے کی مکمل تحقیقات کرائے،مصطفیٰ کمال کا رویہ اور انداز بہت خراب ہے، مصطفیٰ کمال کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں،ایم کیو ایم شہر میں بدامنی کرواکر اور پھر اس دوران ٹھپے لگاکر ہی الیکشن جیت سکتی ہے، ورنہ ان کا حشر 2018 کے الیکشن سے بھی برا ہونے والا ہے۔ایم کیو ایم شہر میں وہی کام کرنا چاہتی ہے کہ جس کے بارے چند دن قبل تک مصطفی کمال کہتے رہے ہیں کہ ایم کیو ایم بھارتی ایجنٹ ہے، یہ لوگ گِدھ ہیں کہ جو شہر کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں، ان کی روزی روٹی ہی شہر کی بدامنی پر چلتی ہے۔

    این اے 127، بلاول کی حمایت کرنیوالوں کی گرفتاریاں، الیکشن کمیشن کو خط

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    میں وعدے کر کے یوٹرن نہیں لیتا تھا، نواز شریف

    خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

     نواز شریف کے مخالف عبرت ناک انجام کو پہنچ رہے ہیں

    پاکستان کو نواز دو کے سلوگن سے مسلم لیگ ن نے انتخابی منشور جاری 

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

     پرانے سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذات کیلئے سیاست کررہے ہیں

    شہر کے امن کو تباہ ہونے سے بچائیں,مسرور احسن
    پیپلز پارٹی ضلع وسطی کے صدر مسرور احسن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنان پر تشدد اور جان لیوا حملہ کیا , ایک بار پھر کراچی کے امن کو تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے,پیپلز پارٹی کے کارکنان کی گاڑیاں بھی جلائی گئیں, ناظم آباد میں پیش آنے والے واقعے کی بھرپور مذمّت کرتے ہیں، درخواست کرتے ہیں کہ اس شہر کے امن کو تباہ ہونے سے بچائیں

    واضح رہے کہ انتخابات 2024 خونی بنتے جا رہے، شہر قائد کراچی میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑے کے دوران گولیاں چل گئیں، ایک شخص کی موت ہو گئی جبکہ ایک زخمی ہو گیا،واقعہ ناظم آباد میں پیش آیا،ناظم آباد نمبردو میں الیکشن مہم کے دوران دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑا ہوا، پہلے ایک دوسرے پر کرسیاں چلائی گئیں پھر گولیاں چل گئیں، فائرنگ سے سیاسی جماعت کا کارکن 48 سالہ فراز ہلاک جبکہ ایک کارکن زخمی ہو گیا

    کراچی میں دو سیاسی پارٹیوں کے درمیان جھنڈا لگانے پر تصادم و فائرنگ اور ضلع صوابی میں پوسٹل بیلٹ چھینے جانے کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحبان سے رپورٹس طلب کی ہیں تاکہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف الیکشن قوانین کے تحت بھی کاروائی کی جا سکے

    ناظم آباد واقعہ، پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،سعید غنی

    این اے 127، بلاول کی حمایت کرنیوالوں کی گرفتاریاں، الیکشن کمیشن کو خط

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

    ناظم آباد میں ایم کیو ایم کارکن کا قتل قابل مذمت،تحقیقات کی جائیں، حافظ نعیم الرحمان

  • تحریک انصاف کی ریلیاں، کوئٹہ،کراچی میں مقدمے درج

    تحریک انصاف کی ریلیاں، کوئٹہ،کراچی میں مقدمے درج

    کوئٹہ: پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کی ریلی کیخلاف تین تھانوں میں مقدمہ درج کر لیا گیا

    مقدمات جناح ٹاؤن، گوالمنڈی اور سٹی تھانے میں پولیس کی مدعیت میں درج کئے گئے، مقدمے این اے 263 کے سالار خان پی بی43 کے اُمیدوار دودہ شاہوانی کو نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں پی بی 44 کے امیدوار ملک فیصل دہیوار کو بھی نامزد کیا گیا ہے، ریلی میں شریک پی ٹی آئی دیگر کارکنان کو بھی مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ریلی بغیر اجازت کے نکالی گئی، اُمیدواروں نے روڈ بند کر کے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی، پریلی کے شرکاء نے پولیس کو دھکے دئیے اور کار سرکار میں مداخلت کی

    دوسری جانب کراچی میں تین تلوار کے قریب پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں ہونے والے تصادم کا مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمے میں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت سمیت 131 افراد ملزم نامزد کئے گئے ہیں، مقدمہ چار سے پانچ ہزار پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف درج کیا گیا،مقدمے میں انسداد دہشتگری ، سرکاری املاک پر حملے، ہنگامہ ارائی، بلوہ اور لوٹ مار سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں،مقدمے کے اندراج سرکار مدعیت میں تھانہ فریئر میں کیا گیا، مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ دو روز سے سوشل میڈیا کے ذریعے پر تشدد احتجاج کے لئے کارکنان کو تیار کیا جارہا تھا،شہر کے مختلف علاقوں سے ریلیوں کی شکل میں چار سے پانچ ہزار کارکن تین تلوار پہنچے، ریلی یا جلسے کا اجازت نامہ نہیں تھا، تین تلوار چوک پر اطراف میں ٹریفک کو روکا گیا، مقدمے میں خرم شیر زمان، فہیم خان، سعید آفریدی، عدیل احمد سمیت دیگر 75 اہم رہنما ملزم نامزد کئے گئے ہیں، متن میں کہا گیا کہ قائدین نے کارکنان کو اشتعال دلایا اور پولیس پر حملہ کیا ،فائرنگ پتھراؤ سے شدید خوف و ہراس بھی پھیلا، کاروبار بند ہوا، ہنگامہ آرائی کے دوران 15 افراد گرفتار ہوئے، نائن ایم ایم کے چار خول ملے،

  • ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    ناظم آباد واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی،گورنر سندھ
    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا ایم کیو ایم کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور انیس قائم خانی سے رابطہ ہوا ہے

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عدم تشدد پر کاربند سیاسی جماعت ہے،ہمارے دفتر پر حملہ کیا، کارکن کو شہید کیا گیا،انیس قائمخانی کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ تفریق روا رکھی جارہی ہے ،گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،ناظم آباد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی،

    قبل ازیں ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانوے کے آپریشن میں بھی یہاں سے ایم کیو ایم کو ختم نہیں کیا جاسکا،ہمارے یونٹ انچارج فراز کو دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا،

    مصطفیٰٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ تیسرا واقعہ ہے ہمارے دفاتر حملوں اور کارکنوں کو شہید کرنے کا،مچھر کالونی میں ہمارے تین کارکنوں کو دہشت گردوں نے شہید کردیا، دہشت گرد پکڑے گئے،پہلے ملٹی چوک پر ہمارے جھنڈے اتار کر اپنے جھنڈے لگائے،کارکنوں نے روکا تو ہتھیاروں کے ساتھ مسلح جتھوں نے فائرنگ کی،ابھی تک ہماری طرف سے ایک پتھر بھی نہیں مارا گیا،ہر کارکن کی شہادت پر مرنے والے کا ہی قصور بتایا جاتا ہے ،ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں ،شہر کے ذمے دار ہر واقعے پر ایم کیو ایم کو ذمے دار ٹھہرایا جارہا ہے ،گاڑیاں جلانے کا الزام لگایا جارہا ہے،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ پر قبضہ کرچکی ہے،یہ لوگ اندر سے پاکستان کو ختم کررہے ہیں،ایم کیو ایم سندھ میں’’لاسٹ لائن آف ڈیفنس‘‘ہے،ان لوگوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا،22ہزارارب روپے مودی کو دو تو وہ بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگائے گا،11دسمبر کو این اے243میں ہمارے 3ساتھیوں کو قتل کیا گیا،سہراب گوٹھ میں ہمارے نہتے ساتھیوں کو شہید کیا گیا،ہم نے کراچی میں’’را‘‘سے لڑائی کی اور اسے ختم کیا

    ناظم آباد واقعہ، پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،سعید غنی

    این اے 127، بلاول کی حمایت کرنیوالوں کی گرفتاریاں، الیکشن کمیشن کو خط

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

    واضح رہے کہ انتخابات 2024 خونی بنتے جا رہے، شہر قائد کراچی میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑے کے دوران گولیاں چل گئیں، ایک شخص کی موت ہو گئی جبکہ ایک زخمی ہو گیا،واقعہ ناظم آباد میں پیش آیا،ناظم آباد نمبردو میں الیکشن مہم کے دوران دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑا ہوا، پہلے ایک دوسرے پر کرسیاں چلائی گئیں پھر گولیاں چل گئیں، فائرنگ سے سیاسی جماعت کا کارکن 48 سالہ فراز ہلاک جبکہ ایک کارکن زخمی ہو گیا

    کراچی میں دو سیاسی پارٹیوں کے درمیان جھنڈا لگانے پر تصادم و فائرنگ اور ضلع صوابی میں پوسٹل بیلٹ چھینے جانے کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحبان سے رپورٹس طلب کی ہیں تاکہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف الیکشن قوانین کے تحت بھی کاروائی کی جا سکے.

  • الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

    الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

    انتخابات 2024 خونی بنتے جا رہے، شہر قائد کراچی میں دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑے کے دوران گولیاں چل گئیں، ایک شخص کی موت ہو گئی جبکہ ایک زخمی ہو گیا

    واقعہ ناظم آباد میں پیش آیا،ناظم آباد نمبردو میں الیکشن مہم کے دوران دو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مابین جھگڑا ہوا، پہلے ایک دوسرے پر کرسیاں چلائی گئیں پھر گولیاں چل گئیں، فائرنگ سے سیاسی جماعت کا کارکن 48 سالہ فراز ہلاک جبکہ ایک کارکن زخمی ہو گیا، لاش اور زخمی کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا

    جھگڑے کے بعد نامعلوم افراد نے علاقے میں دوگاڑیوں کوآگ لگادی جس کے بعد فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی نے جائے واقعہ پر پہنچ کر آگ بجھائی، رینجرز اور پولیس نے پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا،

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہو رہے ہیں،سیاسی جماعتوں نے ملک بھر میں انتخابی مہم جاری رکھی ہوئی ہے، کراچی سے ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، تحریک لبیک،مرکزی مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتیں میدان میں ہیں

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • تنہا کوئی جماعت پیپلز پارٹی کو نہیں ہرا سکتی،سعید غنی

    تنہا کوئی جماعت پیپلز پارٹی کو نہیں ہرا سکتی،سعید غنی

    پیپلز پارٹی کراچی کے صدر سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو پیپلز پارٹی میں شامل ہورہے ہیں،وہ ہمارے پرانے ساتھی ہیں، شاہ جہاں بلوچ ن لیگ کے ساؤتھ نائب صدر ہیں،شاہ جہاں بلوچ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی رہے ہیں،انہوں نے کچھ ناراضی کے باعث ن لیگ جوائن کرلی تھی،اکبر یوسف زئی ، عابد سومرو کا بھی مشکور ہوں،

    سعیدغنی کا کہنا تھا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی پہلے سے بہتر ہے، کوشش ہے پیپلزپارٹی کی کارکردگی پہلے سے بہتر ہو،پیپلزپارٹی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستیں جیتے گی،لیاری سے شاہ جہاں بلوچ پیپلزپارٹی میں شامل ہورہےہیں،شاہ جہاں بلوچ 2013سے2018 تک پیپلزپارٹی کےرکن اسمبلی تھے،مخالف جماعتوں کو یقین ہے وہ تنہا پیپلزپارٹی کونہیں ہراسکتیں،عابد سومرو اور اکبر یوسفزئی نے بھی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیاہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ فہمیدہ مرزا ڈیفالٹر تھیں،فہمیدہ مرزا 26 کروڑ روپے کی ڈیفالٹر ہیں ،اگر26کروڑ روپے ڈیفالٹر کوالیکشن کی اجازت مل سکتی ہےتو دوسروں کا کیا قصور؟ بجلی ،گیس بل کی عدم ادائیگی پرلوگوں کوالیکشن سےروکنا زیادتی ہے، 26 کروڑ روپے والوں کوالیکشن لڑنےکی اجازت ہے تو چند ہزار والوں کوبھی ہونی چاہیے،کن وجوہات پرفہمیدہ مرزا کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی؟ تنہا کوئی جماعت پیپلز پارٹی کو نہیں ہرا سکتی،کراچی کی بربادی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے،

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

     پرانے سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذات کیلئے سیاست کررہے ہیں

     آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری پہنچ کر خطاب کیا،

    الیکشن والے دن بلاول کو ووٹ دیں ،اور اس کو کامیاب بنائیں

    بلاول بھٹو زرداری کی بلاول ہاؤس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو سے ملاقات

     مقامی قیادت کی جانب سے انہیں سرائیکی چادر اور پگڑی پہنائی گئی

  • مجھے ایڈز کے مریضوں والے وارڈ میں بند رکھا گیا ہے،حلیم عادل شیخ

    مجھے ایڈز کے مریضوں والے وارڈ میں بند رکھا گیا ہے،حلیم عادل شیخ

    انسداددہشت گردی عدالت، کراچی میں نو مئی کے واقعات کے درج مقدمات کا معاملہ ، پی ٹی آئی سندھ کے صدرحلیم عادل شیخ انسداددہشتگردی عدالت میں پیش ہوئے

    سماعت کے دوران حلیم عادل شیخ پھٹ پڑے،حلیم عادل شیخ کا عدالت میں کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جیل میں جو سہولت فراہم کرنی چاہئے وہ نہیں دی جارہی ، مجھے ایڈز کے مریضوں والے وارڈ میں بند رکھا گیا ہے، ہم انسان ہیں قانون جو حق دیتا ہے اس کے مطابق سہولیات ملنی چاہیں،ہم سب ضمیر کے قیدی ہیں، ہمار لیڈر بھی سزا بھگت رہا ہے، میں آج پریس کانفرنس کردوں، اپنے ضمیر کا سودا کردوں تو کل رہا ہو جاوں گا،جن لوگوں نے اپنے ضمیر کا سودا کیا وہ آرام سے بیٹھے ہیں،میرے خلاف کئی مقدمات درج ہیں، وکلا اور فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے،آخر کب تک ہمیں بے گناہ بند رکھیں گے؟ 8 فروری کے بعد بالاخر ہمیں جیلوں سے رہا کرنا پڑے گا،ہم ملک کے قانون،نظام اور اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں،

    عدالت نے حلیم عادل شیخ کو جیل میں ملنے والی سہولیات کی تفصلات طلب کرلیں،عدالت نے کیسز کی مزید سماعت 13 فروری تک ملتوی کردی

    سندھ میں لڑکیوں سے برہنہ پریڈ ،اجتماعی زیادتی واقعہ پر عدالت نے نوٹس لے لیا

    لڑکیوں سے برہنہ پریڈ کروانے کے دو ملزم عدالت پیش

    لڑکیوں سے برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کا واقعہ، ایم ایل او پر بھی لگ گیا گھناؤنا الزام

    برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کیس، متاثرہ لڑکیاں عدالت پیش،بیان ریکارڈ کروا دیا

    برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کیس،لڑکیوں نے ڈر کے مارے گاؤں چھوڑ دیا

  • پاکستان کی معیشت کااصل مسئلہ

    پاکستان کی معیشت کااصل مسئلہ

    پاکستان کی معیشت کااصل مسئلہ

    پاکستان کی معیشت کوغیر قانونی طریقوں سے ناقبلِ تلافی نقصان ہو رہا ہے۔ چند حقائق درج ذیل ہیں۔

    ڈیزل کی چوری
    کسٹمز انٹیلیجنس کے حالیہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے نتیجے میں نان ڈیوٹی پیڈ ڈیزل کی چوری پکڑی گئی.*پارکو کی نان کسٹم پیڈ زیر زمین لائن سے ایک آئل مل میں سرنگ بنا کر ڈیزل چوری کر کے مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔کسٹمز انٹیلی جنس کی خفیہ اطلاعات کی بناء پر مشتبہ صنعتی احاطے کی مانٹرنگ کی جارہی تھی۔ کاروائی کے نتیجے میں پورٹ قاسم کے قریب خوردنی تیل والی آئل مل انتظامیہ ڈیزل کی چوری میں ملوث پائی گئی۔ کاروائی کے دوران حیران کن انکشاف ہوا کہ آئل مل کی انتظامیہ نے خفیہ سرنگ کے ذریعے سفید پائپ لائن نکالی۔ دریافت ہونے والی خفیہ سرنگ کی لمبائی 174 فٹ ہے جہاں سے ڈیزل چوری کیا جا رہا تھا۔موقع واردات سے 65 ہزار لیٹر ڈیزل برآمد ہوا جس کی مالیت تقریبا 20 ملین روپے ہے.مزید تفصیلات کے مطابق پارکو کی سفید پائپ لائن میں دو انچ کے پائپ کو کلیمپ کے ذریعے جوڑا گیا تھا اور ہائی پریشر کے وقت میں دو سے تین گھنٹے کے دورانیہ میں پورا کنٹینر بھر لیا جاتا تھا۔ ملزمان سے تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ اس جگہ پہلے 12 کنٹینر ڈیزل نکال کر بیچا جا چکا ہے۔پارکو کی یہ لائن جہاں سے چوری کی جا رہی تھی وہ تقریبا ایک ہزار کلومیٹر طویل ہے، اور اگر چوری اتنی آسانی سے کی جا رہی تھی تو اس بات میں پھر کوئی شبہ نہیں رہتا کہ متعدد جگہوں پر کلیمپس لگا کر ڈیزل کی چوری کی جا رہی ہے۔

    ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ
    کسٹم انٹیلیجنس سمگلنگ کے روک تھام کے ساتھ ساتھ مختلف غیر قانونی کاموں کی روک تھام پر سرتوڑ محنت کر رہی ہے۔جیسا کہ منی لانڈرنگ کے خلاف بھی کسٹمز سرگرم عمل ہے۔ پاکستان میں ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اس طریقہ واردات کی مدد سے بین الاقوامی تجارتی نظام کے ذریعے غیر قانونی فنڈز کو قانونی حیثیت دی جاتی ہے۔ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے جیسا کہ درآمد شدہ یا برآمد شدہ سامان کی غلط قیمت مقدار اور معیار بتایا جاتا ہے، سامان اور سروسز کی اوور یا انڈر انوائسنگ کی جاتی ہے،اگر سامان کی اوور انوائسنگ کر کے امپورٹ کریں گے تو ہمارے ذخائر سے ڈالر زیادہ خرچ ہوں گے یا اگر انڈر انوائسنگ کر کے سامان ایکسپورٹ کیا جائے گا تو ہمارے ذخائر میں کم ڈالرز کا اضافہ ہوگا۔ گزشتہ چھ ماہ میں درآمد اور برآمد شدہ اشیاء کی اوور اور انڈر انوائسنگ کی مد میں 32 ملین ڈالر پکڑے گئے ہیں، ایک ایسا ہی قابل ذکر کیس یہ ہے کہ کاغذات میں ایک الیکٹرانک کنٹینر کو کیٹ لیٹر سینڈ ڈیکلیئر کیا گیا بتاتے چلیں کہ کیٹ لٹر سینڈ پر ڈیوٹی دو لاکھ بنتی ہے اور الیکٹرانکس پر ڈیوٹی پانچ کروڑ بنتی ہے۔ اب اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح بڑے پیمانے پر غبن کر کے ملکی معیشت کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔پاکستان کی امپورٹ پالیسی ایکٹ کے مطابق انڈیا سے ہرطرح کے درآمدات پر پابندی ہے۔ پابندی ہونے کے باوجود انڈیا سے درآمدات جاری ہیں، کئی اشیاء جیسا کہ سلفیورک کھاد اور سوتی دھاگہ وغیرہ انڈیا سے براستہ دبئی پاکستان میں درآمد ہو رہا ہے۔ اس معاملے میں بھی غلط بیانی کی جاتی ہے کہ یہ سامان تھائی لینڈ سے درآمد کیا گیا ہے لیکن کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ تمام اشیا دبئی سے درآمد کی گئی ہیں جبکہ دبئی میں ان اشیا کی پروڈکشن نہیں ہوتی، جو کہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ دبئی صرف روٹ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔کراچی میں مختلف مارکیٹوں میں چھاپوں کے دوران سمگل شدہ کپڑا بھی ملا ہے۔ جس کے بعد 17 اقسام کے کپڑے کی برآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے، یہ پابندی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کا حصہ ہے۔

    اصل حقیقت کیا ہے
    یہ تمام وہ پہلو ہیں جو پاکستان کی معیشت اور مالی استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔معصوم پاکستانی عوام کو ہمیشہ چھوٹے چھوٹے اور جھوٹے مسائل اور ایشوز میں پھنسا کر بھٹکایا گیا ہے۔ تاکہ جو اصل غور طلب معاملات ہیں ان کی جانب عوام کا دھیان نہ جائے۔ہر معاملے میں فوج پر انگلی تو اٹھائی جاتی ہے لیکن حقیقت سے کبھی پردہ نہیں اٹھایا جاتا۔ کبھی یہ حقیقت منظر عام پر نہیں آئی کہ پاکستان کے مختلف اداروں کے شہداء کے گھرانوں کو حکومتی خزانے سے مدد فراہم کی جاتی ہے جبکہ پاک فوج اپنے شہداء کے گھرانوں کو خود ریوینیو جمع کر کے مدد فراہم کرتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے سالانہ جمع کراتی ہے۔وچنے کی بات یہ بھی ہے کہ یہ تمام تفصیلات اور کاروائیاں اب منظر عام پر کیوں آ رہی ہیں؟ اب ہی کیوں ان کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے؟س کا بہت آسان جواب یہ ہے کہ موجودہ حکومت ایک غیر سیاسی حکومت ہے جب روایتی سیاسی جماعتیں حکومت میں آتی ہیں تب ان تمام سرگرمیوں کی خود سرپرستی کرتی ہیں اور عوام کو دوسرے بے معنی معاملات میں الجھا کر رکھتی ہیں تا کہ عوام کا پیسہ کھا سکیں۔ چونکہ موجودہ حکومت غیر سیاسی ہے نہ صرف ان تمام کاروائیوں کی روک تھام چاہتی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی روک تھام میں مکمل سپورٹ کر رہی ہے۔ بہرحال اب بہت اشد ضرورت ہے کہ ہم اصل حقائق کو پہچانیں اور ان تمام کاروائیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور ان کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • کراچی میں  دہشتگردوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب،اہم کمانڈرز سمیت 17 دہشتگرد گرفتار

    کراچی میں دہشتگردوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب،اہم کمانڈرز سمیت 17 دہشتگرد گرفتار

    کراچی: سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشتگردوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئے اہم کمانڈرز سمیت 17 دہشتگرد گرفتار کرلیے۔

    باغی ٹی وی : سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد 2007 تا 2014 تک ٹی ٹی پی نیٹ ورک کا حصہ تھے اور سنگین جرائم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے، دہشتگرد کراچی میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ، جنہیں انٹیلی جنس ایجنسیز نے کارروائی کرتے ہوئے کراچی سے گرفتار کرلیا۔

    دہشتگردوں کو افغانستان سے ٹی ٹی پی کی قیادت کی سرپرستی میں منظم کیا گیا تھا، گرفتار دہشت گرد سوات اور مالاکنڈ میں سیکورٹی فورسز اور این جی اوز پر حملوں میں ملوث تھے، اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں بھی ملوث تھے یہ نیٹ ورک بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے فنڈز اکھٹا کرتا تھا، اس نیٹ ورک نے مدرسے میں خودکش بمباروں کو بھی پناہ دی تھی، جنہیں دہشتگردی کی مختلف سرگرمیوں میں استعمال ہونا تھا۔

    دفع 144 کی خلاف ورزی پر لاہور میں گرفتاریاں شروع

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بھتہ خوری سے بچنے کے لئے بہترین اقدامات کیے جا رہے ہیں، فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداراے دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لئے پر عزم ہیں۔

    انتخابات میں سوشل میڈیا پر شرپسندی پھیلانے والوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

    ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

  • بیوی کے ساتھ  جبری جنسی تعلق قائم کرنے پر  شوہر کو 3 سال قید اور جرمانے کی سزا

    بیوی کے ساتھ جبری جنسی تعلق قائم کرنے پر شوہر کو 3 سال قید اور جرمانے کی سزا

    کراچی:سیشن عدالت نے شوہر کو بیوی کے ساتھ جبری جنسی تعلق قائم کرنے پر 3 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق میریٹل ریپ کے الزام میں خاتون نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ اس کا شوہر زبردستی جنسی تعلق قائم کرتا رہا ، سیشن عدالت میں میریٹل ریپ کیی درخواست پر سماعت ہوئی-

    خاتون نے دوران سماعت گواہی دیتے ہوئے کہا کہ اس کی شادی جولائی 2022 میں ہوئی جس کے بعد شوہر مسلسل جبری طور پر ازدواجی تعلق قائم کرتا رہا اپنی ساس کو بھی اس حوالے سے شادی کے 2 ماہ بعد بتایا تاہم انہوں نے یہ بات نظر انداز کر دی۔

    سونے کی کان میں حادثہ 70 سے زائد کارکن ہلاک

    دوران سماعت خاتون کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ 2021 میں زنا باالجبر کے قانون میں ترمیم کی گئی تھی کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 375 کے تحت کسی بھی عورت کیساتھ اس کی مرضی کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنا زیادتی ہے۔

    نیب نے پشاور میں پی ٹی آئی دور میں بھرتی ہونے والے …

    عدالت نے دونوں جانب سے وکلا کے دلائل سننے کے بعد تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنا دی جبکہ 3 ہزار روپے جرمانے کا حکم بھی سنایا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک ماہ کی سزا بڑھا دی جائے گی۔

    امریکا میں خاتون ٹیچر کا 17 سالہ طالبعلم کے ساتھ جنسی تعلقات کا اعتراف