Baaghi TV

Tag: کراچی

  • رفعت مختارآئی جی سندھ تعینات

    رفعت مختارآئی جی سندھ تعینات

    رفعت مختار کو آئی جی سندھ تعینات کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : آئی جی سندھ غلام نبی میمن کو تبدیل کردیا گیا جبکہ غلام نبی میمن کی جگہ گریڈ 21 کے افسر رفعت مختار کو آئی جی سندھ تعینات کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا،پروونشل پولیس آفیسر تعینات کیے گئے رفعت مختار پنجاب میں خدمات سرانجام دے رہے تھے جن کا سندھ پولیس میں تبادلہ کیا گیا ہے۔
    karachi
    انسپیکٹر جنرل پولیس کے عہدے پر خدمات انجام دینے والے غلام نبی میمن ان دنوں چھٹیوں پر عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں،غلام نبی میمن کو نئے احکامات ملنے تک اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کے واقعات میں اضافہ

    مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کے واقعات میں اضافہ

    مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے

    دو بچوں کے باپ نے مہنگائی ، بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کر لی،شہر قائد کراچی کے علاقے ڈرگ روڈ کینٹ بازار کے قریب گراؤنڈ سے جھلسی ہوئی لاش دو بچوں کے باپ صابر کی نکلی. پولیس حکام کے مطابق لاش کے قریب سے مٹی کے تیل سے بھری تھیلی اور ماچس بھی ملی ،واقعہ خودکشی کا ہے جیب سے ملنے والی شناختی کارڈ پر متوفی کا نام صابر علی درج ہے ،صابر سادات کالونی کا رہائشی تھا،متوفی کی لاش اسپتال منتقل کردی گئی ،واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں،چند روز قبل گارڈن میں بھی بے روزگار شخص نے چوتھی منزل سے چھلانگ کر موت کو گلے لگایا تھا

    سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کا کہنا ہے کہ مہنگائی کو بام عروج پر پہنچا کر غریب کو خود کشی پر مجبور کیا جارہا ہے، مہنگائی پر کنٹرول اور غریبوں کو ریلیف نہیں دیاگیا تو مایوسیاں جنم لینگی ،مایوسیوں نے جنم لیا تو جمہوریت اور حکمرانوں کیلئے اچھا نہیں ہوگا،حکمران مہنگائی وبے روزگاری کے خاتمے کیلئے عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں،حکمران غریبوں کا استحصال اور مہنگائی کو روکنے کیلئے کام نہیں کرینگے تو پھر عوام عدلیہ کے دروازے پر دستک دینگے،حکمران عملی طور پر عوامی مسائل حل اور غربت کو ختم کرنے کیلئے مثبت پالیسیاں بنائیں، حکمران عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے دعوں سے کام چلا رہے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

  • گڈاپ ٹاؤن سے کالعدم تنظیم  کے 2 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    گڈاپ ٹاؤن سے کالعدم تنظیم کے 2 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ)اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے گڈاپ ٹاؤن سے کالعدم تنظیم داعش کے 2 انتہائی مطلوب دہشتگرد فرمان اللہ عرف احتشام عرف علی عرف رحمت اللہ اور داؤد عرف امیر صاحب کو گرفتار کرلیا۔ملزمان کے قبضے سے دستی بم اور اسلحہ وایمو نیشن بھی برآمد کر لیا گیا۔

    ملزم فرمان اللہ عرف احتشام عرف علی عرف رحمت اللہ داعش کا انتہائی سرگرم رکن ہے جوکہ کے پی کے باجوڑ اور کراچی کے اندر دہشتگردی کی متعدد کاروائیوں میں مطلوب تھا۔ ملزم کا سرغنہ ساتھی سکندر 2020 میں کراچی سے گرفتار ہو اجبکہ ملزم اس وقت افغانستان فرار ہو گیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل افغانستان سے کراچی آکر روپوش ہو گیا تھا۔ ملزم کے قریبی ساتھی باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملزم کے خلاف تھانہ پی آئی بی کالونی میں سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔

    ملزم داؤد عرف امیر صاحب کا تعلق تحریک طالبان باجوڑ سے ہے اور حال ہی میں تحریک طالبان چھوڑ کر داعش میں شمولیت اختیار کی۔ ملزم اپنے ساتھی فرمان اللہ عرف احتشام عرف علی عرف رحمت اللہ کے ساتھ ملکرگروپ کو دوبارہ منظم کر رہا تھا۔ ملزمان سے مزید وارداتوں اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے انکشافات متوقع ہیں۔ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    گرفتارملزمان کو دستی بم بمعہ اسلحہ و ایمونیشنمزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ترجمان سندھ رینجرز نے عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

  • خاتون نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکو کو پکڑ لیا

    خاتون نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکو کو پکڑ لیا

    شہر قائد کراچی میں جرائم میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آئے گا، دن دہاڑے ڈکیتی کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں، کراچی میں خاتون نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکو کو پکڑ لیا

    ایف بی انڈسٹریل ایریا راشد منہاس روڈ پر باہمت خاتون نے ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی ، عینی شاہد کے مطابق موٹر سائیکل سوار دو مسلح ملزمان فیملی سے ڈکیتی کی کوشش کر رہے تھے، واردات کے دوران خاتون نے ڈاکو کا پستول پکڑ لیا تھا ، خاتون کے بیٹے نے ڈاکو کو ٹانگ ماری جس کے بعد مجھ سمیت راہ چلتے شہریوں نے ایک ڈاکو کو پکڑ لیا تھا،

    واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی جس میں شہریوں کی جانب سے ڈاکو کو پکڑنے کے بعد اس کی بھرپور درگت بناٸی گٸی،مشتعل شہریوں نے ڈاکو کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ایف بی انڈسٹریل ایریا پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے، عینی شاہد کا کہنا ہے کہ پکڑے گئے ڈاکو کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا دوسرا ڈاکو موقع پر سے فرار ہوگیا،

    دوسری جانب پولیس کی وردی میں ملبوس تین ڈاکو میاں بیوی سے ملکی و غیر ملکی کرنسی لوٹ کر فرار ہو گئے سپر مارکیٹ تھانے کے علاقے لیاقت آباد میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا لیاقت آباد کمرشل ایریا مکان نمبر 3/4 کے رہائشیوں سے کار سوار ملزمان 2 ہزار 200 سعودی ریال ، 10 اماراتی درہم، 5 آسٹریلین ڈالر اور 5 ہزار روپے لوٹ کر فرار ہوگئے

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو حقائق بیان کرنے سے نہیں روک سکتا

  • صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    صدارتی ایوارڈ یافتہ سہ زبان شاعر، 30 سے زائد کتابوں کے مصنف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سندھی ، اردو اور سرائیکی زبان کے ممتاز ادیب، شاعر ، مصنف ، میزبان و کمپیئر اور ایم بی بی ایس و پی ایچ ڈی ڈاکٹر ذوالفقار سیال صاحب 28 مئی 1957 میں لاڑکانہ کے محمد خان سیال صاحب کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاڑکانہ میں حاصل کرنے کے بعد بی ایس سی، ایم اے سندھی ، سندھ یونیورسٹی جام شورو ، ایم بی بی ایس لیاقت میڈیکل کالج جام شورو، پی ایچ ڈی کراچی یونیورسٹی سے کی ان کو سندھی ادبی سنگت سندھ کے جنرل سیکرٹری و مرکزی فنانس سیکرٹری ، دوران ملازمت سندھ کے تمام میڈیکل کالجوں کے ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رہنے ، S A N A امریکہ کی جانب سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے کا کا قابل فخر اور تاریخی اعزاز حاصل ہوا ہے۔

    ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی شاعری کو 50 سے زائد ملک کے نامور گلوکاروں اور گلوکارائوں نے گایا ہے جن میں شہنشاہ غزل مہدی حسن ، استاد گلزار علی خان ، محمد یوسف ، زرینہ بلوچ ، حمیرا چنا، وحید علی ، گل بہار بانو، مہناز ، خلیل حیدر، محمد علی شہکی، عالمگیر، برکت علی، رجب علی ، سجاد یوسف، شہناز علی، ٹرپل ایس سسٹرز، بینجمن سسٹرز، ثمینہ کنول، کنول ابڑو، شہلا گل ، فرح خانم، ریشما، غلام علی سندیلو،غلام شبیر سمو ، عاشق نظامانی، شاہدہ پروین، استاد فیروز گل، منظور سخیرانی، شمن علی میرالی، دیبا سحر، ماسٹر منظور، قمر سومرو، غلام قادر لنجار، و دیگر شامل ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ، انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان ، انجمن ترقی اردو پاکستان اور پاکستانی زبانیں فورم اسلام آباد کے رکن بھی ہیں ۔ عالمی ادبی کانفرسز اور مشاعروں میں شرکت کے حوالے سے وہ امریکہ ، جرمنی، جاپان ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں ۔

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے نظم اور نثر لکھنے کا آغاز 1972 سے کیا ان کی اب تک 30 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور 2 کتب طباعت کے آخری مراحل میں ہیں ۔ ان کی شائع ہونے والی کتب کی تفصیل اس طرح ہے۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے کتابیں ، 1 مکھڑین مالھا 1979 ایوارڈ یافتہ 2 . منھنجی دیس جا بار 1982 ایوارڈ یافتہ 3 گیت کھیڈونا (اردو شاعری کا منظوم ترجمہ ) 4. گلن جہڑا گیت۔ 1986, ایوارڈ یافتہ 5 لفظن جا راندیکا 1989. ایوارڈ یافتہ 6 اکھر اکھر سرہان 2002 . 7_ گل ایں مکھڑیوں ۔ 2006 . 8_ دعائون ۔ 2010 . 9_ پنھنجی بولی پیاری بولی 10 _ ننڈھڑا فرشتا پیاریوں پریوں ۔ 2019 , 11 چنڈ بہ منھنجو راندیکو 2020 . 12 _ منھجو گڈڑو منھجو گڈڑی ۔ 13 _ پنھنجی دنیا دھار ۔ 14 اماں مونکھی کھیڈن ڈے ۔

    شعری مجموعے : 1. رن سجو رت پھڑا 2 _ گاڑھا ہتھ پیلا چہرا 3 ۔ چہرا چنڈ گلابن جہڑا . 4 ۔ بارش کھاں پوء 5 . ماٹھو اجرا رستا میرا . 6. لفظ لفظ خوشبو . 7 . الانگڑا ٹانڈا . 8. سرد ہوا جمیل گوڑھا –

    تحقیق: 1. سندھی شاعری کا سفر 2. میر علی نواز ناز کی شاعری کا تنقیدی ابھیاس (پی ایچ ڈی تھیسز) کالمز اور مضامین پر مشتمل کتاب”آئینہ ایں عکس ” ڈاکٹر ذوالفقار کے متعلق لکھی گئی کتب: ڈاکٹر ذوالفقار سیال، سوچ ایں ویچار، ڈاکٹر ذوالفقار سیال سہ زبان شاعر، ڈاکٹر ذوالفقار سیال ، ادب ایں شخصیت ، وادھو _ کٹ _ ضرب –

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال پچھلے 30 سال سے مختلف اخبارات میں کالم اور قطعات لکھتے رہے ہیں جن میں روزنامہ عبرت، ہلال پاکستان، خادم وطن، سندھ نیوز، عوامی آواز. و دیگر شامل ہیں ۔ وہ پی ٹی وی کے اسکرپٹ رائٹر بھی رہے ہیں جن میں پروگرامز ، روشن تارا، مہکار، سوال ھی آھی، میڈیکل فورم ، واء سواء، ادبی سنگت، مہران میگ شامل ہیں ۔ ڈاکٹر ذوالفقار سیال کے ریلیز شدہ آڈیو کیسٹس کی تعداد 12 ہے۔
    اسٹیج ڈرامے : سور کان سکون تائین، گر تو برا نہ مانے-

    ڈاکٹر صاحب میڈیکل آفیسر سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور آر ایم او وغیر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد 2017 میں رٹائر ہوئے اولاد کے حوالے سے ماشاء اللہ وہ 5 بچوں کے باپ ہیں اور وہ اس وقت کراچی میں رہائش پذیر ہیں ۔

  • پیسے سپریم کورٹ میں،چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے،وزیراعلیٰ سندھ

    پیسے سپریم کورٹ میں،چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے،وزیراعلیٰ سندھ

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کی ،دوران سماعت وکیل نالہ متاثرین نے عدالت میں کہا کہ متاثرین کو ابتک صرف دو چیک ادا ہوئے ہیں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ مجموعی طور پر 6 ہزار 932 گھر ہٹائے گئے، گجرنالہ، اورنگی نالہ اور محمود آباد نالہ سے یہ گھر ہٹائے گئے،عدالت نے استفسار کیا کب تک بقیہ چیک ادا ہو جائیں گے، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آئندہ 6 مہینے میں ادا ہو جائیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں، آپ کی توہین عدالت درخواست کیا ہے؟ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ 2سال میں چیک کی 4 اقساط ادا کی جانی تھیں اب تک صرف 2 چیک کی اقساط ادا کی گئیں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ سی ایم صاحب، چیف سیکرٹری صاحب آگے آ جایئے،

    مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ محمود آباد کے چیکس کا 2 سالہ پیریڈ شروع ہو چکا ہے، کچھ لوگ تیسرا اور چوتھا چیک بھی لے چکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس معاملے میں کوئی فوکل پرسن تعینات نہیں کیا باہر لوگوں کا احتجاج چل رہا ہے، میئر کراچی صاحب آپ میئر ہیں،سی ایم صاحب آپ نے حلفیہ بیان دیا تھا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ میں تیسری، چوتھی سماعت میں پیش ہو رہا ہوں، 2020 میں کراچی میں شدید برسات ہوئی،2007 کی برسات میں کئی ہلاکتیں ہوئیں،نگران وزیراعلیٰ آج حلف رہے ہیں آج تک وزیراعلیٰ ہوں، 2020 کی بارش کے بعد سپریم کورٹ نے نالے صاف کرنے کا حکم دیا نالوں کی صفائی، متاثرین بحالی کا معاملہ این ڈی ایم اے کا تھا، ایک نیشنل کوآرڈینشن کمیٹی تمام اداروں پر بنائی گئی،یہ ذمہ داری بنیادی طور پر این ڈی ایم اے کی تھی،احساس پروگرام، نیا پاکستان کے تحت 36 ارب روپے رکھے، 2021 میں وفاقی حکومت نے یوٹرن لے لیا،یہ وفاقی حکومت کا ہمیشہ کی طرح یوٹرن تھا،36ارب مختص کرکے وفاقی حکومت نے کہا کہ فری کچھ نہیں دیں گے،میں وکیل نہیں، غلطی کر جاؤں تو معافی چاہوں گا،نالوں سے متعلق این ای ڈی یونیورسٹی سے سروے کروایا گیا متاثرین کی تعداد ہیرا پیھری سے 6 ہزار 932 پر لاک کردی،وفاق سے جو فنڈز آنے تھے وہ نہیں دیئے گئے سکیم بنائی، جو 10 اب روپے کی تھی،رقم نہیں تھی پھرسپریم کورٹ سے رجوع کیا،نجی ہاؤسنگ سکیم کے پیسے سپریم کورٹ میں پڑے ہیں ہم چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے

    جسٹس محمد علی مظہر نے وزیراعلیٰ سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری آرڈر میں تو آپ نے حلفیہ بیان لکھا ہوا ہے،مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت متاثرین کی بحالی سے مکر گئی ،مگر کچھ فنڈز کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں،سارے فنڈز تو سندھ حکومت سے جنریٹ نہیں ہوتے،ایک جینئن ایشو سیلاب آیا 2022 میں،یو این سیکرٹری کا سندھ کے سیلاب پر بیان ریکارڈ پر موجود ہے،صرف ریلیف پر 66 بلین روپے خر چ ہوئے،یہ سیلاب ریلیف فنڈز وفاقی اورصوبائی تھا،وزیراعلیٰ سندھ تو کچھ نہیں ہوتا کابینہ ہوتی ہے، مصطفی امپکس کیس میں کابینہ ذمہ دارہوتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہ یہ بات تو حلفیہ بیان دیتے وقت کہنی تھی آپ نے، یہ بتائیں، 2 چیک کب دیں گے؟مراد علی شاہ نے کہا کہ 3 آپشنز بنائے تھے، متاثرین بحالی کے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپشنز میں آپ نے ٹائم نکال دیا نہ ،مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 7 دن چیک بنانے میں لگیں گے،7 دن کے اگلے 30 دن میں چیک متاثرین کو دے دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا نہ ہو لوگ کل ہی سے آنا شروع ہو جائیں، چیف سیکرٹری صاحب!یہ چلے جائیں گے اگلی حکومت آئے گی،یہ سب معاملات آپ نے دیکھنے ہیں ،

    وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس،عدالت کا واپس لینے سے انکار
    سپریم کورٹ نے گجر نالہ کیس میں وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لینے سے انکار کر دیا،دوران سماعت عدالت نے حکم دیا کہ ایک مہینے میں تمام متاثرین کو چیک دیے جائیں اورابتدائی رپورٹ 15 دن میں عدالت کے سامنے پیش کی جائے ،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اکاؤنٹ میں 462 ارب روپے سے زائد رقم جمع ہے جو سندھ کے عوام کی ہے اگر سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع رقم سندھ حکومت واپس چاہتی ہے توعدالت میں درخواست دائر کرے ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک مہینے کیلئے ملتوی کر دی

    عدالت پیشی کے بعد وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سارا کام کرتے رہے لیکن رپورٹ جمع نہ کرا سکے ،سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت لوگوں کو بےگھر کرنے کے حق میں نہیں ہوتی، وفاق نے معاملہ اپنے ذمہ لیا پھر یو ٹرن لے لیا،اس وقت کی وفاقی حکومت نے 36 ارب دینے کا معاہدہ کیا بعد میں مکر گئے،ہم سارا کام کرتے رہے لیکن ماہانہ رپورٹ جمع نہیں کرا سکے، رپورٹ جمع نہ کرانے پر عدالت سے معذرت کی،عدالت نے کہا کہ 7 دن میں چیکس تیار کریں ، 30 دن میں متاثرین کو دیئے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عدالت کو یقین دلایا ہے کہ ہماری حکومت مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے، سپریم کورٹ میں پڑا 462 ارب سندھ کا پیسہ ہے،حکومت نے نیک نیتی سے اس پر کام کیا ہے،عدالت نے ہدایت کی کہ کمشنر کراچی چیک کی ادئیگی میں شفافیت کو یقینی بنائیں،عدالت جب بھی بلائے گی پیش ہوں گا، بے گھر افراد کے چیک 15 روز میں تیار کر دیں گے، بے گھر افراد کے پلاٹ اور تعمیر کے پیسے دینے کو تیار ہیں،

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • کراچی میں پولیس موبائل پر دستی بم حملہ،تین اہلکار زخمی

    کراچی میں پولیس موبائل پر دستی بم حملہ،تین اہلکار زخمی

    کراچی میں سچل تھانے کی پولیس موبائل پر دستی بم حملہ ہوا، جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق حملہ بلاول شاہ جوکھیو گوٹھ میں ہوا اہلکارعلاقے میں گشت کررہے تھے کہ حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے نامعلوم حملہ آوروں نے پولیس موبائل پر دستی بم حملہ کیا،عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھے اور ماسک پہنے ہوئے تھے-

    حملے میں تھانے کے ہیڈ محرر اے ایس آئی خمیسو سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے جس میں پولیس کانسٹیبل صمد اور غنی شامل ہیں،حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب رینجرز اور باقی قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    سیالکوٹ : شہید اے ایس آئی کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کر دی …

    دوسری جانب شہید اے ایس آئی شہزاد احمد چیمہ کی نماز جنازہ پولیس لائنز سیالکوٹ میں ادا کر دی گئی نماز جنازہ میں آرپی او گوجرانوالہ ڈاکٹر حیدر اشرف، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، ڈی پی او، پولیس افسران ، وکلاء اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد میں شرکت.

    شہید کے جسد خاکی کو پورے اعزاز کے ساتھ ڈسکہ سے پولیس لائنز لایا گیاتمام راستہ شہریوں نے فرض کی خاطر جان قربان کرنے والے شیر جوان کا شایان شان استقبال کیا شہر کے تمام اہم چوراہوں اور شاہراہوں پر شہید کے قافلے پر بھرپور گل پاشی کی گئی جبکہ پولیس کے افسران و جوانوں نے شہید کو سلامی پیش کی-

    گوجرخان: تھانہ جاتلی کے علاقہ میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک،دوسرا گرفتار

    آر پی او ڈاکٹر حیدر اشرف، کمشنر گوجرانوالہ، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سیالکوٹ نے شہید کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادر چڑھائی پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی شہید کی بلندی درجات کیلیے دعا کی گئی.

    آر پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر حیدر اشرف نے شہید اے ایس آئی کے بھائی اور بیٹے سے ملاقات کی،پولیس کے بہادر سپوت اے ایس آئی شہزاد احمد چیمہ کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دی جائے گی. واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا-

    اوچ شریف : جھانگڑہ انٹر چینج پر دو موٹر سائیکلوں کی آپس میں ٹکر، …

  • کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ،5 ڈاکو ہلاک ،2 فرار

    کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ،5 ڈاکو ہلاک ،2 فرار

    کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں 5 ڈاکو مارے گئے جبکہ 2 فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ کراچی سیکٹر 11 میں ڈاکو گھر میں لوٹ مار کے لیے داخل ہوئے تھے تاہم پولیس مقابلے میں 5 ڈاکو مارے گئے جبکہ 2 فرار ہو گئے مبینہ ڈاکو گھر کی گرل کاٹ کر اندر داخل ہوئے تھے اور اہلخانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی،پولیس کے مطابق 15 پر ڈکیتی کی کال موصول ہوئی تو پولیس متاثرہ گھر پہنچی اور مقابلہ کیا۔ جس میں ڈاکو مارے گئے۔

    دوسری جانب دادو میں جعلی ایس ایس پی بننے والا نوجوان پکڑا گیا،نوجوان لڑکے جہانگیر نے سرکاری واکی ٹاکی سے مختلف پیغامات جاری کرکے پولیس کو دھوکہ دے دیا جھلو تھانہ کے ہیڈ محرر کے بیٹے نے نقلی ایس ایس پی بن کر ضلع پولیس کی دوڑیں لگوا دیں، ایس ایس پی عبدالخالق پیرزادو نے معاملے کا فوری نوٹس لے لیا-

    دادو: ہیڈ محرر سمیت نقلی ایس ایس پی گرفتار

    دونوں باپ بیٹے کے خلاف جھلو تھانہ کے ایس ایچ او رحمت اللہ میمن کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے،بیٹے جہانگیر پر 419 پی پی سی کے تحت دفعات شامل جبکہ ہیڈ محرر سکندر گوپانگ پر 114 پی پی سی اور 155 C پولیس آرڈر کے تحت دفعات درج کی گئی ہیں۔

    ترجمان ضلع پولیس کے مطابق ہیڈ محرر سکندر گوپانگ اور اسکے بیٹے جہانگیر نے سرکاری واکی ٹاکی کا غلط استعمال کرکے ایس پی کا نام استعمال کیا، دونوں باپ بیٹے نے سرکاری واکی ٹاکی کے ذریعہ ایس ایس پی کا نام استعمال کرکے فیک پیغامات جاری کئے۔

    بیٹی نے بوڑھے ماں باپ کو قتل کرنے کے بعد لاشوں کے ٹکڑے کر ڈالے

  • امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ

    امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ

    انٹر بینک میں پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جبکہ کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مسلسل دسویں روز اضافے کا رجحان برقرار ہے تاہم انٹر بینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 3 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

    جبکہ کاروباری دن کے آغاز پر انٹربینک میں ڈالر مزید 3 روپے 60 پیسے مہنگا ہوگیا ہے اور قیمت میں اضافے کے بعد امریکی ڈالر292 روپے 10 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 6 روپے مہنگا ہوکر 302 روپے کا ہوگیا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    تاہم دوسری جانب نئے کاروباری ہفتے پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کارجحان ریکارڈ نوٹ کیا گیا اور ہنڈریڈ انڈیکس 141 پوائنٹس بڑھکر 48565 پوائنٹس پر بند ہوا ہے۔ تاہم دوسری جانب ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے جبکہ ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں 1100 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 222900 روپے ہوگئی۔

    علاوہ ازیں دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 943 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 191101 روپے ہوگئی، ادھر بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 11 ڈالر کی کمی دیکھی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 1903 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں فی تولہ اور دس گرام چاندی کی قیمت استحکام کے بعد بالترتیب 2750 روپے اور 2357.68 روپے کی سطح پر برقرار ہے۔

  • سانحہ بلدیہ،اہم گواہوں کی فہرست مرتب کرنے کا حکم

    سانحہ بلدیہ،اہم گواہوں کی فہرست مرتب کرنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ ،سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس ،سزاؤں کے خلاف ملزمان کی اپیل اور چار ملزمان کی بریت کے خلاف سرکاری اپیلوں کی سماعت ہوئی،

    ملزمان رحمان بھولا اور زبیر کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی، ایم کیو ایم رہنماء رؤف صدیقی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے اہم گواہوں کی فہرست مرتب کرنے کا حکم دے دیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی بڑا سانحہ تھا، تمام عوامل کا جائزہ ضروری ہے،عدالت کو ملزمان پر عائد ہونے والی فردجرم کا متن پڑھ کر سنایا گیا

    سرکاری وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں 400 گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے تھے ، وکیل ملزمان نے کہا کہ ٹرائل کے دوران چالیس سے زائد گواہوں کے بیانات پر جرح کی گئی،کیس میں چار چالان پیش کئے گئے، حسان صابر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمان پر جے آئی ٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے فردجرم عائد کی گئی، ٹرائل کے دوران 159 افراد کی جنہوں نے میتیں وصول کیں ان کے بیانات نہیں ریکارڈ کیے گئے،موقع پر موجود ریسیکو ٹیموں اور پولیس اہلکاروں کے بیانات پر بھی جرح نہیں کی گئی، وکیل ملزمان نے کہا کہ اپیل میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے، عدالت نے 28 اگست کو مزید تفصیلات طلب کرلیں

    انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان دو ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنائی تھی دیگر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی عدالت نے رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا تھا

    سانحہ بلدیہ، تفتیشی افسر کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد

    سانحہ بلدیہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا،رحمان بھولا ،زبیر چریا کو سزائے موت، ایم کیو ایم رہنما بری

    سانحہ بلدیہ فیکٹری ،مجرموں نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا چیلنج کردی

    سانحہ بلدیہ،لگتا ہے بڑی مچھلیوں کو تحفظ دیا گیا ہے، عدالت

    واضح رہے کہ 22 ستمبر کو اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ سنایا تھا،رحمان عرف بھولا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہو گیا،انسداد دہشت گردی عدالت نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنا دی گئی اے ٹی سی کراچی نے ایم کیو ایم کے رہنما روَف صدیقی کو بری کردیا،سانحہ بلدیہ کیس میں 400گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے عدالت نے ادیب خانم ،علی حسن قادری ،عبد الستارکو بھی بری کردیا ،اس کے علاوہ باقی چار ملزمان کو سہولت کاری میں سزا سنائی گئی ہے،سزا پانے والے سہولت کاروں میں ارشد محمود ، فضل، شاہ رخ اورعلی احمد شامل ہیں

    اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ 8سال بعد سنایا،آگ لگانے کی اہم وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا بھتہ تھا،رحمان عرف بھولا اورزبیر چریا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہوا،2014میں فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ،شاہد بھائیلہ اورعبدالعزیز دبئی چلے گئے

    کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 260 کے قریب ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بعد ازاں سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ عبدالرحمان بھولا نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،