Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:اگست2019سے ابتک560 سے زائد کشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے:،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 5اگست 2019 سے اب تک 560 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے بھارتی فوجیوں نے 13خواتین سمیت 566کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما محمد اشرف صحرائی غیر قانونی حراست کے دوران وفات پا گئے جبکہ بزرگ حریت رہنما، سید علی گیلانی ایک دہائی سے زائد عرصے تک گھر میں نظربندی کے دوران انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں نے جعلی مقابلوں اور حراست کے دوران شہید کیا ہے کیونکہ بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اغوا کرکے انہیں مجاہدین یا مجاہدکارکن قراردینے کے بعد انہیں قتل کردیتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں پرامن مظاہرین اور سوگواروں پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے کم از کم دوہزار240افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ فوجیوں کے ہاتھوں شہادتوں کی وجہ سے 36خواتین بیوہ اور 85بچے یتیم ہو ئے۔

    رپورٹ میں بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے کے اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیرمیں87شہریوں کے قتل کے دعوے کومسترد کردیا گیا۔ بھارتی وزیر نے بدھ کے روز بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا یہ دعویٰ کیاتھا ۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پورے مقبوضہ کشمیر ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے اور 5 اگست 2019 کے بعد یا اس سے پہلے ہزاروں حریت رہنمائوں، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، تاجروں، نوجوانوں اور کارکنوں کو کالے قوانین کے تحت کالے قوانین کے تحت گرفتار کیاگیا تھا اور ان میں بیشتر اب بھی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

    کشمیری نظربندوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، غلام احمد گلزار، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، امیر حمزہ، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، محمد یوسف فلاحی، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، بشیر احمد قریشی، حیات احمد بٹ، عبدالصمد انقلابی، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز، محمد احسن اونتو، صحافی آصف سلطان، سجاد گل اور فہد شاہ شامل ہیں،جنہیں مودی حکومت بدترین سیاسی انتقام کانشانہ بنا رہی ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق مسلسل گھر میں نظر بند ہیں۔

  • میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کشمیریوں میں پریشانیاں بڑھنے لگیں

    میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کشمیریوں میں پریشانیاں بڑھنے لگیں

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے کہا ہے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ اور غصہ پایا ہے اوروہ رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن نے اپنے اور میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے ایک بیان میں پیغمبر اسلامﷺ کی پیاری بیٹی خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو وفات کی برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حضرت فاطمہ الزہراءرضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی تقویٰ، پرہیزگاری اور سادگی کے ساتھ گزار کر مسلمانوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔

    بیان میں خاتون جنت کو صدیوں سے خواتین کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا گیاکہ ان کی زندگی تمام مسلمان خواتین ،بیٹیوں، بہنوں اور ماوں کے لیے ایک مثال ہے۔ انجمن اور میر واعظ نے بیان میں مسلم خواتین پر زور دیا کہ وہ اس راستے پر چلیں جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے لیے منتخب کیا تھا ۔

    انجمن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میرواعظین کشمیر صدیوں پرانی روایت کے مطابق 3رمضان المبارک کو حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی وفات کی برسی پر تاریخی آستانہ عالیہ نقشبند صاحب میں منعقدہ محفل کے دوران انہیں خراج عقیدت پیش کیا کرتے تھے اور انکی مبارک زندگی پر روشنی ڈالتے تھے لیکن عمر واعظ عمر فاروق گزشتہ تین برس سے مسلسل نظر بندی کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش

    سری نگر:کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش غیر قانونی طور پر بھارت کےزیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پرجاری کشمیری نوجوانوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوںکی منظم نسل کشی جاری رکھے ہوئے تاکہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیاجاسکے ۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارتی افواج مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اورنہتے کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ جعلی مقابلوں کے دوران شہید کررہی ہیں تاکہ انہیں اپنی حق پر مبنی تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار کرنے پر مجبور کیا جاسکے ۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے اور بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے ۔حریت ترجمان نے حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور نوجوانوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی قابض انتظامیہ قتل عام ، گرفتاریوں اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کرسکتا۔

    ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماء سید بشیر اندرابی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل پر زوردیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیاکہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں دیرپا امن و سلامتی قائم نہیں کوہوسکتی۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں خصوصا نوجوانوں کا مسلسل قتل عام جاری ہے اور بھارت ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیریوںکی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بشیر اندرابی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کی ضد اورہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی ہے جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرایا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔

  • روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بےدخلی پرمودی حکومت پرشدید تنقید

    روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بےدخلی پرمودی حکومت پرشدید تنقید

    سرینگر: بین الاقوامی تنظیموں کی روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بے دخلی پر مودی حکومت پرشدید تنقید ،اطلاعات کے مطابق بھارت اوراسکےغیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی طرف سےروہنگیا مسلمان مہاجرین کی جبری بے دخلی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بدترین خلاف ورزی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انسانی حقوق کی متعدد مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے روہنگیا مسلمانوں کی گرفتاریوں اورجبری بے دخلی کو بی جے پی حکومت کے مسلم مہاجرین کے خلاف کریک ڈائون کا حصہ قراردیا ہے۔حال ہی میں، بھارتی پولیس نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع رام بن میں 25 روہنگیا مسلمانوں کو گرفتارکیاتھا۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روہنگیا خواتین کی ملک بدری اور جموں میں روہنگیا مہاجرین کی گرفتاریوں پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مودی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو بھارت میں ہندوتوا گروپوں کے پرتشدد حملوں کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے سخت نگرانی، جبری گرفتاریوں اورتفتیش کے علاوہ باربار پولیس اسٹیشنوں میں طلب کیاجاتا ہے ۔ہندوتوا گروپ بھارت میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی جاری مہم کے دوران جموں میں روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    انسانی حقو ق کی ایک اور بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں ۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہاہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ مودی حکومت کی پالیسی سے اس کا مسلمانوں کے ساتھ تعصب ظاہر ہوتا ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اورصحافیوں کی رعناایوب سے اظہار یکجہتی

    مقبوضہ کشمیر:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اورصحافیوں کی رعناایوب سے اظہار یکجہتی

    نئی دلی:آزادی صحافت کی بین الاقوامی تنظیموں اور ممتاز صحافیوں نے ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی رعنا ایوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے جنہیں گزشتہ روز بھارتی حکام نے ممبئی ائیر پورٹ پرصحافیوں کو ڈرانے اوردھمکانے کے موضوع پر انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس (آئی سی ایف جے) میں خطاب کیلئے لندن جانے سے روک دیا تھا ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رعنا ایوب کو ممبئی ایئرپورٹ پر حکام نے گزشتہ روز تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے ان کے خلاف جاری نوٹس کی وجہ سے لندن جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیاتھا۔ رعنا ایوب نے لندن میں یکم اپریل کو صحافیوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنائے جانے اور دھمکانے کے موضوع پر آئی سی ایف جے میں خطاب کرنا تھا ۔ اسی دن انہیں دی گارڈین اخبار کی ایڈیٹر کیتھرین وینر کی دعوت پر اخبار کے دفتر بھی جانا تھا۔6 اور 7اپریل کو انہیں اٹلی میں انٹرنیشنل جرنلزم فیسٹیول میں شرکت کرنے تھی ۔

    انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس نے بھارتی حکام کی طرف سے رعنا ایوب کو کھلے عام ہراساں کیے جانے پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔عالمی ادارے نے بھارتی حکومت سے رعنا ایوب کے خلاف الزامات واپس لینے اور ان پر جاری حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے بھی رعنا ایوب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔انسٹیٹیوٹ نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ رعنا ایوب کو یورپ کا دورہ کرنے کی اجازت دے جہاں انہوں نے متعد د بین الاقوامی ایونٹس میں آن لائن ہراسگی کے پر بات کرنی تھی ۔ممبئی پریس کلب نے رعنا ایوب کو بھارت میں صحافیوں کوہراساں کئے جانے کے بارے میں خطاب کیلئے لندن جانے سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام صحافیوںکو ہراساں کرنے کے مترادف ہے ۔

    دی بیورو کے گلوبل ایڈیٹر اور مصنف جیمز بال ،دی سٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولس ڈیوس ،ممتاز بھارتی صحافی اور دی وائر کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے اپنے ٹویٹس میں رعنا ایوب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ رعنا ایوب کے پیغام کو سرحد پر روکا نہیں جا سکتا اور بھارت میں آزادی صحافت کے بارے میں ان کے انتباہات کو پابندی لگانے کی کوششوں سے روکا نہیں جاسکتا ۔ٹویٹس میں مزید کہاگیا کہ اس ہراسگی سے بھار تی جمہوریت کی حالت ظاہر ہوتی ہے اور پتہ چلتاہے کہ دنیا آہستہ آہستہ جاگ رہی ہے۔رعنا ایوب نے اپنے خلاف ای ڈی کے تمام الزامات کومضحکہ خیزاور جھوٹ پر مبنی قراردیا ہے ۔

  • سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کرخاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا

    سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کرخاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا

    سرینگر:سرینگر:آگ لگنےسے22مکان جل کر خاکستر ہو گئے:امریکہ نے اپنے شہریوں کوخبردارکردیا،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ شب سرینگر شہر میں آتشزدگی کے بھیانک واقعے میں 22مکان جل کر خاکستر ہو گئے۔
    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق شہر کے علاقے گتاکالونی نور باغ میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے سے املاک کو بھاری نقصان پہنچا اور فائر بریگیڈ کے رکن سمیت چار افراد جھلس گئے۔فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایاہے کہ 22مکانات جن میں 33خاندان رہائش پذیر تھے آگ لگنے سے جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں ایک فائر فائٹر اور تین شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ایک مقامی شخص شکیل احمد نے بتایاہے کہ آگ لگنے سے کروڑوں روپے مالیت کی املاک تباہ ہو گئی ہے ۔

    ادھر سرینگر کے علاقے راجوری کدل میں بھی آگ لگنے سے ایک مکان کو نقصان پہنچاہے۔

    ادھرامریکہ نے حملوں اور عوامی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی تازہ ترین ٹریول ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کومقبوضہ کشمیر کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حملوں اور عوامی احتجاجی مظاہروں کا خدشہ ہے ۔

    تاہم سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری مشرقی لداخ کا دورہ کرسکتے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہاہے کہ کنٹرول لائن کے ساتھ واقع علاقوں اور سرینگر ، گلمرگ اورپہلگام کے سیاحتی مقامات سمیت وادی کشمیر میں تشدد کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان: فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی

    مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان: فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:ٹرانسپورٹروں کا بدھ سے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا اور ادھر گولگام میں‌ فوجی اپنی رائفل سے گولی چلنے سے زخمی غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ٹرانسپورٹروں نے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف کل بدھ سے پورے مقبوضہ علاقے میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر ٹرانسپورٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے ایک بیان میںپہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے جو کہ مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں کا اتحاد ہے ۔ ایسوسی ایشن اور دیگر فریقوں نے 7فروری کے قابض انتظامیہ کے ظالمانہ احکامات کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے جن کے تحت کمرشل گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ مدت استعمال مقررکی گئی ہے ۔

    انہوں نے کمرشل گاڑیوں کی 25برس تک استعمال کی مدت برقراررکھنے کا مطالبہ کیاتھا ۔تا ہم نئے حکم کے تحت جموں اور سرینگر میں 20برس کے بعد کمرشل گاڑیاں قابل استعمال نہیں رہیں گی۔ کشمیر ٹرانسپورٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن نے اس حکمنامے کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسافر گاڑیوں میں ٹریکنگ کا نظام نصب کرنے پر زوردیاہے۔

    ایسوسی ایشن نے مسافر ٹیکس کی وصولی کے حکم کی بھی منسوخی کا مطالبہ کیا جو کہ روٹ پرمٹ کی تجدید سے وابستہ ہے ۔

    واضح رہے کہ کشمیر ی ٹرانسپورٹروں نے اس سے قبل قابض انتظامیہ کے متعددظالمانہ احکامات کا متنازعہ زرعی قوانین سے موازنہ کرتے ہوئے ان کے خلاف بدھ سے بھوک ہڑتال اور9 اپریل سے عام ہڑتال کا اعلان کیا تھا ۔

    غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک بھارتی فوجی اپنی رائفل گولی چلنے سے زخمی ہو گیا ہے۔ضلع کے علاقے بہی میں واقع بھارتی فوج کی 34راشٹریہ رائفلز کے کیمپ میں اپنی سروس رائفل سے گولی چلنے سے زخمی ہو گیا ۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ فوجی نے دانستہ طورپر خود کو گولی مارکر زخمی کیا یا بندوق سے حادثاتی طورپر گولی چلنے سے وہ زخمی ہوا ہے کیونکہ بھارتی فوجیوں خاص طورپر مقبوضہ کشمیرمیں تعینات فوجیوں میں اعصابی تنائو کی وجہ سے خودکشی کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے علاقے نوشہرہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزار جل کر خاکستر ہوگیا۔

    ایک سرکاری عہدیدارنے بتایا کہ آگ نے سید سخی رحم اللہ علیہ کے مزار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کچھ ہی عرصے میں یہ عمارت جو بنیادی طور پر لکڑی کی بنی ہوئی تھی، جل کرخاکستر ہوگئی۔مقامی لوگوں کی کوششوں کے باوجود جنہیں بعد میں آگ بجھانے والے عملے نے مدد فراہم کی، ڈھانچے کو نہیں بچایا جاسکا۔

    سرکاری عہدیدار نے بتایا تاہم مشترکہ کوششوں سے آگ کو قریبی عمارتوں تک پھیلنے سے روکا گیا۔ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے اتوار کو جیل میں نظربند انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خرم پرویزکوجو سرینگر میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر ہیں، بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے گزشتہ سال 22نومبر کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا۔

    قابض حکام نے بتایا کہ این آئی اے کے اہلکاروں نے پہلے سے درج ایک کیس کے سلسلے میں سرینگر کے علاقے سوناوار میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔تحقیقاتی ادارے کو بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسزکی مدد حاصل تھی۔

    اس سے قبل نئی دہلی میںاین آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج پروین سنگھ نے خرم پرویز کو ایک جھوٹے مقدمے میں عدالتی تحویل میں دیکر جیل بھیج دیاتھا۔

  • عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس

    عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس

    اسلام آباد: عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استعماری ایجنڈے کا نوٹس لے:ورلڈمسلم کانگریس نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی برادری سے اپیل کردی ،اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور ورلڈ مسلم کانگریس کے زیر اہتمام ایک ویبینار میں مقررین نے عالمی برادری پر زور دیاہے کہ وہ مقبوضہ جموںو کشمیر میں بھارت کے استعماری ایجنڈے کا سنجیدگی سے نوٹس لے جو ہر طرح سے کشمیریوں اور انکے وسائل کو کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔

    این ایچ سی آر کے49ویں اجلاس کے موقع پرمنعقد کیے جانے والے ویبنار میں مصنف اور صحافی رابرٹ فاتینا ، ڈائریکٹر سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیزسید محمد علی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قائم مقام ڈین ڈاکٹر اویس بن وصی ، یوتھ فار کشمیر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد قریشی سمیت انسانی حقوق کے ممتاز کارکنوں، بین الاقوامی قانون کے ماہرین، ماہرین تعلیم اور دیگر نے شرکت کی ۔تقریب کی نظامت کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کی۔

    مقررین نے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ خطے جموں و کشمیر میں آبادی کاری کے نوآبادیاتی بھارتی ایجنڈے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تعمیر و ترقی کے نام پر علاقے کو مزید نوآبادیاتی بنایا گیا۔انہوں نے5 اگست 2019 کے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کے سیاسی، ثقافتی اور قومی تشخص کو مٹانے کے لیے پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت ریاستی آلات کو بے شرمی سے استعمال کر رہا۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا بھارت کی مقبوضہ علاقے کو نوآبادیاتی بنانے کی طویل تاریخ کا ایک اور قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آباد کاری کے بھارتی استعماری ایجنڈے کا مقصد نام نہاد ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پر کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنا ہے۔ویبنار کے مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی سازشوں اورچالوں کا موثر نوٹس لے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپناکردار ادا کرے۔

     

  • اوآئی سی کانفرنس:کشمیریوں کیلیےآوازاٹھانےکیخلاف بھارتی پراپیگنڈہ مستردکرتےہیں:دفترخارجہ

    اوآئی سی کانفرنس:کشمیریوں کیلیےآوازاٹھانےکیخلاف بھارتی پراپیگنڈہ مستردکرتےہیں:دفترخارجہ

    اسلام آباد:اوآئی سی کا انعقاداورکشمیریوں کےلیےآوازاٹھانے پربھارت کی طرف سے پراپیگنڈہ مہم نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ بھارت کو باورکراناچاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے مقصد میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹےگا،ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ او آئی سی کانفرنس پر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مکمل طور پر ناقابل قبول اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

     

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی امت مسلمہ کی اجتماعی آواز ہے اور اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے۔

     

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کے 57 ارکان اور 6 مبصر ممالک ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برخلاف کشمیر پر غیرقانونی قبضہ جمائے بیٹھا ہے، بھارت نے کئی دہائیوں سے طاقت کے وحشیانہ اور اندھا دھند استعمال کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔

    ترجمان نے کہا کہ بھارت نےغیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں کیں، اس کے علاوہ، بی جے پی، آر ایس ایس سے متاثر “ہندوتوا” نظریہ نے اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے جگہ کو محدود کر دیا ہے۔

     

    دفتر خارجہ نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ظلم و ستم آج کے ہندوستان میں ایک معمول بن گیا ہے، اس کے مطابق او آئی سی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے اور ایک بار پھر مضبوطی سے بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد کے اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔

     

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف صریح اور وسیع امتیازی سلوک، عدم برداشت اور تشدد کی بھی مذمت کی، او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی آزادی سمیت ان کے حقوق کو یقینی بنائے، او آئی سی نے 9 مارچ کو بھارت کی جانب سے پاکستان کی سرزمین پر داغے گئے سپرسونک میزائل پر تشویش اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔