Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج

    کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج

    مظفرآباد :کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیرمیں نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت اور کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کیخلاف آج مظفر آباد میں ایک بڑی بھارت مخالف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

    بڑی تعداد میں مظاہرین نے گریڈ سٹیشن چوک سے سنٹرل پریس کلب بنک روڈ تک مارچ کیا ۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر جموں وکشمیر کی بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کے حق میں نعرے درج تھے ۔

    ریلی کی قیادت پاسبان حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین عزیراحمد غزالی اور چوہدری مشتاق، شوکت جاوید میر اوردیگر نے کی ۔اس موقع پر فلک شگاف بھارت مخالف نعرے بھی بلند کئے گئے ۔ مقررین نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیری نوجوانوں کو قتل کر کے کشمیری مسلمانوں کی منظم نسل کشی کر رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام ،انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، اور دیگر مظالم پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔مقررین نے کہاکہ بھارت مقبوضہ علاقے میں کھلے عام جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

    انہوں نے بھارتی تسلط سے آزادی تک جدوجہد آزادی کشمیر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کو انکا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلانے اور بھارتی ظلم و تشدد بند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں

    سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں

    سرینگر:سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں ،اطلاعات کےمطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے سوپور قصبے میں بھارتی فوج کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی ۔

    قابض حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سوپورقصبے کی اقبال مارکیٹ کے قریب واقع سی آر پی ایف کیمپ میں آگ لگنے سے متعلقہ عمارت کو نقصان پہنچاہے۔انہوں نے کہا کہ آگ پر فوری طور پر قابو پالیا گیا ہے ۔ فوری طورپرکسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جارہی ہے۔

    غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع پلوامہ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کردیا جس سے جمعرات سے شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوگئی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے چارسو میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔علاقے میں یہ کارروائی بھارتی فوج، سینٹرل ریزروپولیس فورس اور بھارتی پولیس نے مشترکہ طورپر شروع کی ہے ۔اس سے قبل بھارتی فوجیوں نے پلوامہ میں دو اور گاندربل اور کپواڑہ میں ایک ایک نوجوان کو شہید کردیاتھا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے

    مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے،اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آزادی صحافت سے متعلق پریس کونسل آف انڈیا کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے نتائج کو مقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافیوں اور صحافتی اداروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں مودی حکومت کے خلاف ایک فرد جرم قرار دیا ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ تنویر صادق نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ کس طرح مقبوضہ کشمیر خصوصا وادی کشمیرمیں اخبارات اور نیوز چینلوں سمیت ذرائع ابلاغ کی آواز کو بڑے پیمانے پر پابندیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس نے مقبوضہ کشمیرمیں آزادی صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پرہمیشہ اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے نتائج نے علاقے میں قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافت کو کنٹرول کرنے کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا ہے۔قابض انتظامیہ کی طر ف سے کشمیر میں تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانا روز کا معمول بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر عائد پابندیوں کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں معلومات تک رسائی کو روکا جارہا ہے ۔تنویرصادق نے کہا کہ آزادی صحافت پر پابندیوں کی وجہ سے مختلف مقامی اخبارات قابض حکام کی ناراضگی کے خوف سے مجبوراعوامی اہمیت کے مختلف مسائل کی کوریج نہیں کر رہے ہیں۔

    قابض انتظامیہ کی بے حسی اور تنازعہ کی صورت حال میں رپورٹنگ پر اندرونی دبائو کی وجہ سے کشمیر میں صحافتی برادری شدید خوف میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض ادا کر رہی ہے ۔ پارٹی رہنما نے کمیٹی کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بھارت میں لبرل اور جمہوری قوتوں کوجموں و کشمیر کی زمینی صورتحال سے آگاہ کیاجائے گا۔انہوں نے پریس کونسل آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں قید تمام صحافیوں کی رہائی کیلئے بھارتی حکومت پر دبائوڈالے۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے مختلف علاقوں میں اپنی تلاشی اور محاصرے کی پر تشدد کارروائیاں اورگھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھااورلوگوں کو خوف و دہشت کا نشانہ بنایا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے سرینگر، گاندربل، بڈگام، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، اسلام آباد، شوپیاں، کولگام، پلوامہ،راجوری،پونچھ، کشتواڑ،ادھمپور اور دیگر اضلاع کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں کیں اور گھروں پر چھاپے مارے۔ متعدد علاقوں کے رہائشیوں نے میڈیا کو بتایا کہ فوجیوں نے ان کے گھروں میں زبردستی داخل ہو کر خواتین اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

    ادھر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی نے بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کے ہمراہ وادی کشمیر میں مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کی۔ این آئی اے نے چھاپوں کے دوران موبائل، لیپ ٹاپس، کمپیوٹر اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور بھارتی فورسز کے اہلکاروں اور ایجنسیوں کی طرف سے کشمیریوں کی گرفتاریوں کا مقصدکشمیریوں کو خوفزدہ کرنا اور ان کے جذبہ حریت کو کمزور کرنا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اورمقبوضہ کشمیر میں اس کی انتظامیہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اپنی وحشیانہ کارروائیوں اور فوجی پالیسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہی ہیں اور بھارت مستقبل میں بھی اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہو گا۔

    دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماء شیخ عبدالمتین نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں بارہمولہ سب جیل میں نظربند کشمیریوں کے ساتھ جیل حکام کے غیر انسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام کشمیری نظربندوںکو مناسب خوراک اور علاج معالجے جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نظربند جیل حکام کے غیر انسانی رویے کے خلاف گزشتہ دو روز سے بھوک ہڑتال پرہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مختلف جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا نوٹس لیں اور ان کی رہائی میں کردار ادا کریں۔

  • کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    برسلز: کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق اراکین یورپی پارلیمنٹ نے کشمیری رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے 21 ممبران نے بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی سمیت بھارتی اعلیٰ حکام کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے۔اراکین یورپی پارلیمنٹ کا خط میں کہنا تھا کہ خرم پرویز اور دیگر اسیران کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ آئندہ یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس سنگین صورتحال پربحث کرنے کی درخواست کریں گے کہ نئی دہلی یو این جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی مکمل پاسداری کرے۔

    واضح رہے کہ کشمیری کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی کارکن خرم پرویز اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کی رہائی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔

    دوسری جانب علی رضا سید نے یورپی پارلیمنٹ کے 21 ارکان کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ بھارتی حکام کو لکھے گئے کھلے خط کو بھی سراہا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے طلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

  • اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:الطاف وانی

    نیویارک: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بھارت کیخلاف کارروائی کرے:اطلاعات کے مطابق کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنزکے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کے بارے میں عدم فعالیت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارتی حکومت کی نہتے کشمیریوں پر ظلم وتشدد جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

    الطاف وانی نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم 2 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے ہائی کمشنر کے دفتر کی تعریف کی کہ وہ آج دنیا کو درپیش اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کونسل بھارتی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکی ہے جس کی افواج مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو گزشتہ 33 برس سے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی طرف کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اپنے مکینوں کے لیے جہنم بن چکا ہے جہاں بھارتی حکومت نے کشمیریوں سے ان کے تمام بنیادی حقوق حتی کہ زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔الطاف وانی نے کہاکہ وہ گزشتہ تیس برس سے انسانی حقو ق کونسل اور اس سے قبل کمیشن برائے انسانی حقوق میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریوں پر مظالم 2018اور 2019میںعالمی اداے نے اس وقت کچھ توجہ مبذول کی جب انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں دو رپورٹیںجاری کی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مساوات اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔الطاف وانی نے کہاکہ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی گزشتہ 33 بر س سے نہتے کشمیریوں کے خلاف برسر پیکار ہیں تاہم انسانی حقوق کونسل نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،جس سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن آف انکوائری تشکیل دے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی ،اطلاعات کے مطابق آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے تاہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے کشمیر ی خواتین پرڈھائے جانیوالے مظالم اور انہیں درپیش مشکلات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اوروہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ہزاروں خواتین سمیت 95ہزار981شہریوں کو شہید کیا ۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم681خواتین کو شہید کیا۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بھارت کی جاری ریاستی دہشت گردی کے دووران 22ہزار 943 خواتین بیوہ ہوئی ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے11ہزار 250خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی آبروریزی اور شوپیاں کی سترہ سالہ آسیہ جان اور اس کی بھابھی نیلو فر بھی شامل ہیں جنہیں بے حرمتی کے بعد قتل کردیاگیا تھا۔بھارتی پولیس کے اہلکارنے جنوری 2018میں کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا ۔

    بھارتی فوجیوں نے 10 فروری2021 کو ضلع بانڈی پورہ کے علاقے چیو اجس میں ایک بچی کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں ڈالا جب وہ اپنی بہن کے ساتھ اپنے باغ میں کام کررہی تھی ۔ اس کی بہن کی چیخ و پکار پرمقامی لوگوں نے موقع پر پہنچ کر بچی کو بچایا ۔ متاثرہ خاندان نے اجس پولیس اسٹیشن میں مقدمہ در ج کرایا تھاتاہم بھارتی فوجیوںنے مقدمہ واپس لینے کیلئے مذکورہ خاندان کو حراساں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میںبھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںنے ہزاروں خواتین کے بیٹوں، شوہروں اوربھائیوںکو حراست کے دوران لاپتہ اورقتل کر دیا ہے ۔دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ34برس کے دوران 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیاگیا ہے ۔

    رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ہزاروں کشمیری نوجوان ، طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر گولیوں اورپیلٹ گنوں کے وحشیانہ استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے 19ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار، دو سالہ نصرت جان ، سترہ سالہ الفت حمید ، انشا مشتاق،افرہ شکور ، شکیلہ بانو،تمنا،شبروزہ میر،شکیلہ بیگم اور رافعہ بانو سمیت سینکڑوں بچے اور بچیاں اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں ۔ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی پولیس کے ایک کانسٹیبل اور ایس اپی او نے جموں کے علاقے ڈنسل میں ایک دلت بچی کی اجتماعی آبروریزی کی

    بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی اور ہراسانی کو جنگی ہتھیار کے بطور استعمال کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی درندگی اور بربریت سے بیواوں اور آدھ بیواوں کی بڑی تعداد موجود ہے،بھارتی سفاکوںنے اپنی وحشیانہ کاروائیوں میں معصوم اور بیگناہ کشمیریوں کا خون بیدردی کے ساتھ بہا نے کے علاوہ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتاریوں کے بعد لاپتہ بھی کیا،جس کے باعث جہاں ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں وہیں ہزاروں کی تعداد میںایسی خواتین بھی ہیں جو آدھ بیوہ کہلاتی ہیں، خواتین کا عالمی دن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی افواج کے جرائم کو بے نقاب کیا جائے۔

    کشمیری خواتین کی مشکلات کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی،جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہے۔ جہاں تک خواتین کی آبروریزی اور دیگر جرائم کا تعلق ہے، بھارت خواتین کے حوالے سے دنیا کا ایک بدترین ملک ہے۔ خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیموں کو پورے بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین کی حالت زار پر خاموش تماشائی نہیں بلکہ بھارت کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔بھارت اور پورے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے خلاف بھارتی تشدد پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کو بیدار ہونا چاہیے۔

    عالمی یوم خواتین کے موقع پر دنیا کو اس صدمے کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری بیوائیں اور آدھ بیوائیں بھارتی مظالم اور سفاکیت گزشتہ تین دہائیوں سے برداشت کر رہی ہیں، یہ وقت ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں خواتین کے خلاف ہونے والے بڑے پیمانے پر جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ خواتین کا عالمی دن دنیا کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ وہ کشمیری خواتین کو سفاک بھارتی فوجیوں کے مظالم اور درندگی سے بچانے کے لیے آگے آئے۔

  • خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    نئی دلی:
    بھارتی ریاست میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے جو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے گورنر بھی رہ چکے ہیں کہاہے کہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید نہ کریں کیونکہ اگر وہ خاموش رہیں تو انہیں ملک کا صدر یا نائب صدر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ انہیں ان عہدوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

    ستیہ پال ملک نے یہ انکشاف جنڈ کے گائوں کنڈیلا میں کنڈیلا کھاپ اور ماجرا کھاپ کے زیر اہتمام کسان سمان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین سمیت متعدد معاملات پر بی جے پی کی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں ۔ جنوری میں ستیہ پال ملک نے دعویٰ کیاتھا کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے معاملے پر وزیرا عظم سے ملنے گئے تھے ۔

    تاہم انہوں نے کہاکہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ پی ایم مودی نے انہیں کیا جواب دیا، لیکن یہ بہت تکلیف دہ ملاقات تھی اور مودی نے اس موقع پر ان سے لڑائی کی ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں آخر تک بات کریں گے ۔ستیہ پال نے کہاکہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیاتھا کہ اگر آپ خاموش رہیں تو انہیں صدر یا نائب صدر بنایاجا سکتاہے۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان عہدوں کو لات مارتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سارے واقعے سے ناراض ہوکر انہوں نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اورکسانوں کی تحریک میں حصہ لینے کا سوچا۔ وہ بھارتی حکومت کے ایک وزیر کے پاس یہ بتانے کیلئے بھی گیا کہ وہ استعفی دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان سے کہا کہ وہ یہ غلطی نہ کریں، کسانوں کے لیے بولیں، ان کے لیے لڑیں، دھرنے پر بیٹھیں لیکن تب تک استعفیٰ نہ دیں جب ان سے اس بارے میں کہاجائے۔

    ستیہ پال ملک نے کسانوں پرنئی دلی میں حکومت کی تبدیلی کیلئے متحدہونے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ وہ اب سڑکوں پر بیٹھنا اور دھرنا دینا بند کریں۔ اپنی حکومت بنائیں، حکومت بدلیں، کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2سال بعد لوک سبھا کے انتخابات ہیں۔ اگر کسان متحد ہو کر ووٹ دیں گے تو یہ سارے لیڈر دہلی سے بھاگ جائیں گے اور وہاں کسانوں کی حکومت ہوگی۔

  • مقبوضہ کشمیر:قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے

    مقبوضہ کشمیر:قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مظاہرے

    سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں کے عارضی ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں جموں میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔جموں وکشمیر کیجول لیبررز یونائیٹڈ فرنٹ کے بینر تلے بڑی تعداد میں ملازمین نے پریس کلب جموں کے قریب جمع ہوکر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

    احتجاج کرنے والے ملازمین باقاعدہ کرنے، کم از کم اجرت ایکٹ کے نفاذ اور زیر التوا اجرت کے اجراءکا مطالبہ کر رہے تھے۔دیہات دفاعی کمیٹیوں(وی سی ڈی) کے خصوصی پولیس افسروں نے جموں خطے کے ضلع ڈوڈہ میں بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں انہیں کمیٹیوں کے دیگر اراکین کے برابر لایا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 25 برس سے وی ڈی سی میں بطور ایس پی او خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن انہیں تمام مراعات سے محروم رکھا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئے فیصلے کے مطابق ان کی تنزلی کی گئی ہے اور ان کا اعزازیہ کم کر کے 4500 سوروپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محکمہ پولیس کے مستقل ملازمین میں شامل کرنے کے بجائے رضاکاروں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نےکل ضلع شوپیا ں میں تین کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ نے اشفاق احمد ڈار، ندیم رفیق راتھر اور رئوف مشتاق نجار نامی نوجوانوں کو ضلع کے علاقے Khudpora میں ایک چوکی سے گرفتار کیا۔ پولیس نے نوجوانوں کو مجاہد تنظیم کے کارکن قراردے دیا ہے ۔

  • ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا

    ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا

    نئی دہلی :ہندو انتہا پسندوں کا پادری پر تشدد، جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پادری نے کہاہے کہ نامعلوم افراد کے ایک گروپ نے انہیں مارا پیٹا گیا، ان کی تذلیل کی اور جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا ۔

    یہ واقعہ رواں برس 25 فروری کو جنوبی دہلی کے علاقے فتح پوری بیری میں پیش آیا تھا لیکن پادریKelom Tet نے واقعے کی دو دن بعد میدان گڑھی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ۔

    دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اسے 27 فروری کی شام کو پادری کی شکایت موصول ہوئی تھی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شکایت کی تحقیقات کر رہی ہے۔پینتیس سالہ پادری جو گزشتہ 18 برس سے جنوبی دہلی کے اسولا میں مقیم ہے، نے کہا کہ انہیں کہ 15 سال قبل بھی دہلی کی سنجے کالونی میں ایک نامعلوم گروہ نے نشانہ بنایا تھا۔

    ادھر بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ایک درگاہ میں پوجا کااہتمام کرنے کی مذموم کوشش کے بعد پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرنے کے بجائے 150سے زائد مسلمانوںکو گرفتار کر لیا ہے۔

    ریاست کے ضلع کالبرگی کے قصبے کا الند میں اس وقت کشیدگی شروع ہوئی جب ایک بدنام زمانہ ہندو انتہا پسند گروپ سری راما سین نے لاڈلے مشک درگاہ میں پوجا کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا۔تاہم حکام نے امتناعی احکامات جاری کرتے ہوئے گروپ کو درگاہ جانے سے روکنے کی کوشش کی لیکن مرکزی وزیر بھتوانت کھویاسمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں کی قیادت میں لوگوں کا ایک گروپ درگاہ پہنچا اور پوجا شروع کی جس کے باعث علاقے میں تناو پیدا ہو گیا۔

    الند کے سابق کانگریس ایم ایل اے بی آر پاٹل نے ایک بیان میں کہا کہ حکام احکامات کو نافذ کرنے میں ناکام رہے اور بی جے پی رہنماﺅں کو درگاہ پہنچنے کی اجازت دی جس کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی۔مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پولیس تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انہیں گرفتار کر رہی ہے حالانکہ تمام اشتعال انگیزی ہندو دائیں بازو کے گروپ سے وابستہ لوگوں کی طرف سے کی گئی تھی۔