Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ

    مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ

    نئی دہلی :مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں ہندو زیر اعلیٰ لانے کیلئے انتخابات سے قبل دھاندلی میں مصروف ہے ۔دوسری طرف کشمیری مودی کی ان سازشوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‌

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مسلم اکثریتی مقبوضہ کشمیر میں ایک ہندو وزیر اعلیٰ لانا ہندوتوا طاقتوں کا دیرینہ خواب رہا ہے کیونکہ مقبوضہ علاقے میں ہمیشہ ایک مسلمان ہی کسی منتخب حکومت کا سربراہ رہا ہے۔ آر ایس ایس اوربی جے پی کا کٹھ جوڑ مقبوضہ علاقے میں انتخابات کے ذریعے اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اور اس کے ساتھی مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے حلقہ بندی کمیشن کو استعمال کر رہے ہیں اور حلقہ بندیوںکا مقصد ہندو اکثریتی خطے جموں کو زیادہ سیٹیں دینا ہے۔بی جے پی کی بھارتی حکومت نے جموںو کشمیرمیں آبادی کا تناسب بگاڑنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں آر ایس ایس کے حمایت یافتہ ہندوتوا نظریہ کو فروغ دینے کیلئے لاکھوں غیر کشمیریوں کوڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے ہیں اور ووٹرلسٹوں میں ان کا اندراج کیاگیا ہے ۔

    بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں مسلمانوں سے منسوب اہم مقامات کو ہندوئوں کے ناموں سے بدل رہی ہے ۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مودی حکومت کا واحد مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانا اور وہاں ہندو تہذیب قائم کرنا ہے ۔رپورٹ کے مطابق کشمیری عوام کو مودی حکومت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے ہوشیار رہنا چاہیے ۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے مزیدکہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا طاقتوں کے احکامات کی تکمیل کیلئے سرگرم لوگ کشمیریوں سے غداری کر رہے ہیں۔کشمیری عوام مقبوضہ علاقے میںہندوتوا کے عزائم کو آگے بڑھانے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور وہ بھارت اور اس کے آلہ کاروں کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے۔

  • بھارتی فوج کےہاتھوں کشمیریوں کاقتل عام:عالمی برادری   کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:حریت کانفرنس

    بھارتی فوج کےہاتھوں کشمیریوں کاقتل عام:عالمی برادری کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:حریت کانفرنس

    سرینگر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام:عالمی برادری کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:،اطلاعات کے مطابق کشمیرعوام کی نمائندہ اور ترجمان تحریک آزادی کشمیر کی روح روں‌ جماعت حریت کانفرنس نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظالم افواج کی طرف سے کشمیریوں کا قتل عام جاری ہےاور دوسری طرف عالمی برادری کو پرواہ تک نہیں ، حریت کانفرنس کا کہنا ہےکہ اگریہ بے حسی رہی تو پریہ یقینی نظرآرہا ہے کہ بہت جلد جنوبی ایشیا میں جوہری تصادم ہوگا پھرکوئی بھی بچ نہیں سکے گا ،

    اس حوالے سے مزید حریت کانفرنس قیادت کا کہنا تھا کہ اپنا ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت مانگنے پرآزادی پسند کشمیری عوام کے خلاف سفاک بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری وحشیانہ فوجی کارروائیاں کسی بڑے تصادم کے طرف جارہےہیں جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے توپھراس کا خاتمہ بھی اسی زورسے ہوتا ہے ، ۔ کشمیریوں کو ان کے اس حق کی ضمانت اقوام متحدہ نے فراہم کر رکھی ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی قابض فوجیوں کی طرف سے جاری کشمیریوں کے قتل عام نے پورے جنوبی ایشیا کو جوہری تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے پر بھارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شوپیان اور سرینگر کے علاقوں لاوے پورہ، بمنہ، حیدر پورہ، رام باغ اور رنگریٹ میں کشمیریوںکے حالیہ دن دیہاڑے دوران حراست قتل سے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی منظم ریاستی دہشت گردی کاپتہ چلتا ہے ۔

    حریت ترجمان نے تحریک آزادی کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں بھارتی فوج کے گھنائونے جنگی جرائم کے باوجود نڈر کشمیری عوام کبھی بھی بھارتی فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی جدوجہد آزادی بھارت کی اجازت سے نہیں شروع کی ہے اور نہ ہی ہم نے اس سے کسی رعایت کی درخواست کی ہے ۔

    حریت ترجمان نے شہدائے کشمیر کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے کشمیریوں کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپنااہم کردار ادا کریں ۔

    ادھربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ضلع پونچھ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کی ۔
    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے پیرا ملٹری اور اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں کے ہمراہ ضلع میں سرنکوٹ کے مختلف علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی پر تشدد کارروائیاں شروع کیں۔ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوزیں بھی سنی گئی ہیں۔

    ادھر بھارتی فوجیوں نے تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران سرینگر کے علاقے زیون پنتھہ چوک میں ایک نوجوان کو گولی مار کر زخمی کر دیا ۔

  • بریکنگ، سرینگر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر حملہ

    بریکنگ، سرینگر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر حملہ

    بریکنگ، سرینگر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر حملہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے سرینگر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 3 اہلکار ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے ہیں

    سرینگر کے علاقے پنتھ چوک کے قریب بھارتی سیکورٹی فورسزی کی بس پر حملہ ہوا ہے، جموں کشمیر کی نویں بٹالین کے اہلکاروں کو لے جانے والی بس پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، بس حملے کے نتیجے میں 11 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، واقعہ کے بعد علاقے کا گھیراؤ کر لیا گیا، بھارتی سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے ، بھارتی فوج نے گھر گھر آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے حکام کے مطابق تمام زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہان انکا علاج جاری ہے

    بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر حملہ ایسے وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل پلوامہ میں بھارتی فوج نے ایک کشمیری نوجوان کو عسکریت پسند کہہ کر شہید کر دیا تھا، کشمیری نوجوان کی شناخت سمیر احمد سکنہ بارگام کے طور پر ہوئی تھی

    مقبوضہ کشمیر میں بھی بوسنیا کی طرح قتل عام کا خدشہ ہے،وزیراعظم

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

  • بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    پٹنہ :بھارت:آج پھرانتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمار کر قتل کر دیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع ارریہ میں ہندو تو ہجوم نے ایک مسلمان شخص کو مویشی چوری کرنے کا الزام لگا کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 52سالہ محمد صدیقی کو بدھ کے روز ضلع کے گاوں بھوانی پور میں ایک ہجوم نے مویشی چوری کرنے کے الزام میں قتل کر دیا۔ اس بہیمانہ حملے کی ویڈیو جمعہ کوسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدواقعے کے بارے میں پتہ چلا۔

    پھولکاہ تھانے کی انسپکٹر نگینہ کمار نے بتایا کہ محمدصدیقی کو لاٹھیاں اور مکے مارے گئے اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے تاہم تاحال کوئی گرفتار عمل میں نہیں آئی ہے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کتھر نے کھلی ج ہوںپر نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیر اعلیٰ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ کھلی جگہوں پر نماز کے لیے دیے گئے تمام سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ اب عوامی مقامات پر نماز ادا نہیں کی جائے گی۔

    انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے کوئی تناﺅ نہیں ہونا چاہئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم وقف بورڈ کی اسکی جگہوں کو تجاوزات سے پاک کرانے میں مدد کریں گے اور اس وقت تک لوگوں کو اپنے گھروں وغیرہ میں نماز ادا کرنی چاہیے۔

    دریں اثنا ریاست ہریانہ کے گڑگاوں میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ارکان نے مسلمانوں کو جمعہ کو ایک مرتبہ پھر کھلی جگہوں پر نماز کی اجازت نہیں دی۔گڑگاﺅں کے سیکٹر 37 میں نماز کی ادائیگی کو روکنے کے لیے آٹھ دسمبر کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر فوجی جوانوں کے لیے تعزیتی اجلاس منعقد کیے گئے ۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے سیکٹر 44 میں واقع ایک پارک میں بھی نماز جمعہ میں خلل ڈالا۔

  • حکومت مودی کے مظالم کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے.رحمان ملک

    حکومت مودی کے مظالم کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے.رحمان ملک

    حکومت مودی کے مظالم کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے.رحمان ملک

    سینیٹر رحمان ملک نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کیا ہے

    تقریب کا انعقاد آئی آئی سی آر، آئی آر آر اور ایل ایف کے زیر اہتمام ہوا، تقریب سے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سفیر ہیسم بو سعد، جسٹس علی نواز چوہان، ناصر قادری، ڈاکٹر فرزانہ، مختار بابا، صباء اسلم و دیگر نے شرکت کی، رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سیمینار کا مقصد عوام میں تمام انسانوں کی برابری کا شعور اجاگر کرنا ہے،ہر سال 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے،اس دن کا مقصد لوگوں کے سماجی، ثقافتی اور جسمانی حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے، نسل، رنگ، مذہب، جنس، زبان، سیاسی یا دیگر تفریق کے ہر ایک کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے، ہم سب نے ملکر معاشرے سے تفرقہ بازی، لسانیت، تعصب اور عدم مساوات کے خاتمے کیلئے کوششیں کرنی ہیں،بدقسمتی سے اقوام متحدہ خود مساوات کے اصولوں پر عمل نہیں کر رہا ہے،عالمی قوتوں کو ویٹو کا اختیار دیا گیا ہے جو کہ امتیازی ہے، اقوم متحدہ میں بڑی طاقت کے حق میں منظور ہونے والی قراردادوں پر فوری عمل درآمد کیا جاتا ہے،چھوٹی و کمزور قوموں کے حق میں قرارداد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے،امتیازی سلوک کے ساتھ کوئی انصاف ممکن نہیں ہے، کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے، کشمیر و فلسطین میں قتل و غارت اور انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے، کشمیر و فلسطین پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں خاموش تماشائی ہیں،

    رحمان ملک کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے رپورٹ کیمطانق 1989 سے 2018 تک 94,700 کشمیریوں کو قتل کیا گیا، بھارتی افواج نے 11,050 کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی،اقوام متحدہ بالائے امتیاز و تفریق کے سب مظلوم و مغلوب اقوام کے مسائل حل کریں،میں اس فورم سے آج بھارتی مظالم کیخلاف قرارداد پیش کرتا ہوں،میں نے وزیراعظم پاکستان کو کئی خطوط لکھے ہیں کہ مودی کے مظالم کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے، میں نے کشمیریوں کی مظلومیت اور مودی مظالم پر دو کتابیں لکھے ہیں،مودی نے خود پلواما حملہ کیا کہ مسلمانوں کیخلاف جذبات بھڑکایا جائے،

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا ک

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    ایف اے ٹی ایف اجلاس ،سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا؟

    سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کوووٹ دیا یا نہیں؟ طاہر اشرفی نے حقیقت بتا دی

  • بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اورعالمی برادری خاموش تماشائی بنی بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید

    بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اورعالمی برادری خاموش تماشائی بنی بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید

    اسلام آباد:بھارتی ظالم ، قابض افواج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہیں اورعالمی برادری خاموش تماشائی بن بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید اطلاعات کے مطابق آج جب دنیا بھر میں آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہےجبکہ دوسری طرف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں۔

    آج انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 دسمبر 1948 کا انسانی حقوق کاعالمی اعلامیہ بےشک ایک سنگ میل تھا لیکن کشمیریوں کےانسانی حقوق کی خلاف ورزیاںمسلسل جاری ہیں۔رپورٹ میں کہا کہ انسانی حقوق کےعالمی اعلامیے میں درج 30 بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک بھی بھارت کےغیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں موجود نہیں ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی قابض فورسز گزشتہ 74 برسوں سے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں بلا لحاظ عمر و جنس کشمیریوں کو بے رحمانہ طریقے سے قتل، گرفتار کر رہی ہیں او انہیں تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں جنوری 1989 سے اب تک 95ہزار9سو25 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے 7 ہزار 2سو15کو زیر حراست شہید کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان شہادتوں کے نتیجے میں 22ہزار 9سو39 خواتین بیوہ اور 1لاکھ7ہزار8سو55 بچے یتیم ہوئے۔بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 11ہزار2سو46 خواتین کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا اور 1لاکھ10ہزار4سو45 رہائشی مکانات اور دیگرعمارتوںکو نقصان پہنچایا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے اس عرصے میں 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں کی طرف سے سے چلائے گئے پیلٹ چھروں سے سکول جانے والے ہزاروں کشمیری لڑکے اور اور لڑکیاں زخمی ہوئے جبکہ 19 ماہ کی حبہ جان، دس سالہ آصف احمد شیخ ، سولہ سالہ عاقب ظہور ، سترہ سالہ الفت حمید ، سترہ سالہ بلال احمد بٹ، انشاءمشتاق، انیس سالہ طارق احمد گوجری اور انیس سالہ فیضان اشرف تانترے سمیت درجنوں بچے پیلٹ لگنے سے مکمل طور پر اپنی بصارت سے محروم ہو گئے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے رواں برس( 2021 ) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما محمد اشرف صحرائی اور بارہ کے لگ بھگ خواتین سمیت 484 کشمیریوں کو شہید کیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوںنے زیادہ تر کشمیریوں کو محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوںکے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔فوجیوں نے رواں برس 1ہزار48 گھروں اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور 118 خواتین کی بے حرمتی کی جبکہ بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، صحافیوں، معمر خواتین اور لڑکوں سمیت 17ہزار سے زائد افراد کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا۔ اس عرصے میں مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی 10ہزار 5سو کارروائیاں کی گئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی حکام نے رواں برس سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اورعلاقے کی کئی دیگر بڑی مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام نےعوام کو اس عرصے کے دوران محرم اور عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس جیسے مذہبی اجتماعات کے انعقاد سے بھی کشمیریوںکو روک دیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی بری طرح متاثر ہے اور بھارتی فوجی محاصرے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ظہور وٹالی، غلام محمد بٹ، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، محمد یوسف فلاحی، ظہور احمد بٹ، انجینئر رشید، حیات احمد بٹ، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی آصف سلطان سمیت حریت رہنماوں، کارکنوں، نوجوانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کالے قوانین کے تحت مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو 5اگست 2019سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا رہی حتیٰ کہ انہیں جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کرنے اور وہاں لوگوں سے خطاب کرنے سے بھی روکا جا رہا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری آگے آئے اور مقبوضہ جموںوکشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرانے اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے۔

    دریں اثنا حریت رہنماوں نے اپنے بیانات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیمیں علاقے میں بھیجیں۔

  • تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    تنازعہ کشمیر،اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے.وزیر خارجہ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’پرامن اور خوش حال جنوبی ایشیا کے عنوان سے ’اسلام آباد کا نکلیو۔2021‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ’انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز‘ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے آج اس مجلس کا اہتمام کیا ہے۔ یہ لائق تحسین اقدام ہے۔ ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے ’وژن 2023‘ پر عمل درآمد کے ضمن میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ’اسلام آباد کانکلیو‘ ان کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو ’انسٹی ٹیوٹ‘ نے تحقیق اور مکالمے کے ذریعے پاکستان کے نکتہ نظر کے فروغ دینے کے لئے اٹھائے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’اسلام آباد کانکلیو‘ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے پانچ مراکز_ فضیلت (Centers of Excellence) کی پانچ سالہ کاوشوں کا نکتہ عروج ہے۔ اس کے ذریعے ممتاز پاکستانی و بین الاقوامی ماہرین کو دو روزہ مکالمے کے لئے جمع کیاگیا ہے جو مختلف نشستوں میں شرکت اور اظہار خیال فرمائیں گے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہوگی کہ عالمی اور علاقائی منظر نامے کے وسیع بیانیہ کو آپ کی خدمت میں عرض کروں اور پھر امن وترقی کے لئے پاکستان کی سوچ اور بصیرت کا خاکہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ ہماری دنیا تبدیل ہورہی ہے۔ کثیرالقومیت کے نظریہ کو تنہائی پسندی یا یک طرفہ سوچ کی قوتیں توڑ رہی ہیں۔ ممالک قوم پرستانہ ایجنڈوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ طاقت کا اظہار ایک نیا معمول بنتا جارہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور کشمکش بڑھتی جارہی ہے جو تصادم کی طرف کھنچ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں نئی مخالفتیں اور رقابتیں جنم لے سکتی ہیں اور دنیا کو پھر سے ’دھڑوں‘ کی سیاست کی نذر کررہی ہیں۔ ایک نئی سردجنگ کا ظہور ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ ہتھیاروں کے انباروں میں اضافہ اور نئی ابھرتی ہوئی جنگی ٹیکنالوجی سے حربی امور کے بنیادی تقاضے ہی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ جارحانہ جنگی نظاموں کے منظر عام پر آنے، اشتعال انگیز نظریات کی رونمائی اور جارحانہ جنگی قوت کا اظہار، کشدگیوں کو بڑھانے اور فوجی مہم جوئی جیسے عوامل، پہلے سے سٹرٹیجک عدم استحکام کے شکار ہمارے خطے کے لئے مزید خطرات کا موجب بن رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں سٹرٹیجک استحکام کے لئے جوہری صلاحیتوں سے متعلق متفقہ طور پر طے شدہ پابندیاں اور روایتی افواج ناگزیر ہیں۔ جنوبی ایشیاءدنیا کی تقریباً ایک چوتھائ آبادی کا مسکن ہے جہاں ’نیٹ سکیورٹی پروائیڈر‘ جیسے نظریات کا فروغ پانا، خطے کے دیگر ممالک کے جائز سیاسی، معاشی اور سلامتی کے مفادات سے کلیتاً صرف نظر کرنا ہے۔یہاں کے عوام کے درمیان استوار تاریخی، ثقافتی، لسانی، نسلی اور جغرافیائی رابطوں سے قطع نظر، جنوبی ایشیاءتنازعات، جنگی جنون اور عدم اعتماد میں پھنسا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر تنازعہ جموں وکشمیر ایک دیرینہ اور قدیم ترین مسئلے کے طورپر موجود ہے جو تا حال کشمیر کے بہادر عوام کی امنگوں کے مطابق حل کا منتظر ہے۔ اس قضیہ کی آگ جوہری "فلیش پوائنٹ” میں بدلنے کا احتمال رکھتی ہے جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لئے تباہ کن ہوگا۔یہ خطہ چین اور بھارت کے درمیان جنگی محاذ آرائی، نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعے اور بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ کا مشاہدہ بھی کرچکا ہے۔ سری لنکا نے اپنی تاریخ کے 25 سال میں خونریز بغاوت کا سامنا کیا ہے۔ افغانستان چار دہائیوں سے تنازعے سے گزرتا آرہا ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں قومی سلامتی حکمت عملی میں انسانی سلامتی کو مرکزیت دینے کی ضرورت ہے۔ یعنی سلامتی پر مبنی پالیسیز سے خطے میں ترقی اور خوش حالی کی طرف جانا ہوگا۔ یہ ہے وہ حقیقی چیلنج جس کا آج جنوبی ایشیاء سامنا کررہا ہے۔ پاکستان نے اپنی توجہ تبدیل کرکے جیواکنامکس کی طرف مبذول کی ہے۔ خطے کو جوڑنا آج کا وہ لفظ ہے جسے مرکزیت و مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ہمیں قومی اور علاقائی ترقی کے لئے بے پناہ مواقع فراہم کرسکتا ہے۔پاکستان کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے چین کے مغربی حصوں اور وسط ایشیائی جمہوریتوں کی عالمی سمندروں تک رسائی کا مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کی سدا بہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری کا طرہ امتیاز ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ (سی پیک) رابطوں کی استواری کا ایک بہترین اور مثالی منصوبہ ہے۔ پاکستان کی معاشی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ’سی پیک‘ خطے کو جوڑنے کیلئے بھی ایک اہم راستہ ہے۔جنوبی ایشیاء کی خوش حالی کے لئے خطے میں علاقائی تعاون لازم ہے۔ سارک کو تنگ نظر سیاسی ایجنڈوں سے آزاد کرکے زندہ وفعال کرنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے خطے کے اندر تجارت انتہائی کم ہے، تجارت، شاہراتی نظام اور رابطوں میں حائل رکاوٹیں اور پابندیاں دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے کسی عالمی یا علاقائی تنازعے کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور صرف امن وترقی میں شریک کار رہنے کی راہ منتخب کی ہے۔ پاکستان اجتماعیت اور تعاون کی حامل سوچ وفکر پر مبنی وسیع تر معاشی واقتصادی شراکت داری پر زور دے رہا ہے۔

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت سارے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو معاشی سٹرکچرل وجوہات سے پیدا ہونے والے بہت سارے غیرروایتی سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے جن میں ماحولیاتی تغیر، غذا، توانائی اور آبی بحران، آبادی میں اضافے، بے محابہ شہروں کے بڑھنے اور غربت جیسے مسئلے شامل ہیں۔ نہایت فوری نوعیت کی تشویش کا باعث بننے والا مسئلہ، ماحولیاتی تغیر کا ہے جس کے براہ راست اثرات غذا اور آبی سلامتی پر ہوتے ہیں۔ عمران خان حکومت قومی سلامتی کے لیے، لاحق اس سنگین خطرے کا اداراک کرتے ہوئے ان اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ تجارت وسرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی، انرجی سکیورٹی، زراعت، سیاحت میں تعاون اور عوامی رابطوں میں اضافہ ہماری ترجیحات ہیں۔ ہماری بنیادی دلچسپی پرامن اور مستحکم ’عالمی نظم‘ (انٹرنیشنل آرڈر) ہے جو سب کو اعتماد میں لے کر چلے۔پاکستان پرامن بقائے باہمی، تعاون پر مبنی کثیرالقومیت اور اتفاق رائے کی حامل فیصلہ سازی کے اصولوں کے عزم پر کاربند ہے۔ خطے اور دنیا میں امن، ترقی اور خوش حالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے ہم اجتماعیت کے حامل عالمی نظام (گلوبل آرڈر) کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم بیانیوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ پاکستان کے بیانیوں کی تشکیل اور ان کا فروغ ہم سب کے لئے ایک قومی ذمہ داری ہے۔ فیصلہ سازوں اور محقیقین کے درمیان خلیج کو پاٹنا ہوگا اور اتفاق رائے کے حامل بیانیوں کو پیش کرنا ہوگا، ’اسلام آباد کانکلیو‘ جیسے فورمز اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ میں اس مجلس سے سامنے آنے والی سفارشات سے استفادہ کے لئے منتظر ہوں۔

  • مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے مثال قائم کردی

    مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے مثال قائم کردی

    سری نگر :مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے حیران کردیا،اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے بیگام گاؤں میں مقامی مسلمانوں نے مذہبی ہم آہنگی، انسانیت اور کشمیریت کی عمدہ مثال قائم کی ہے جہاں وہ ایک عمر رسیدہ راجپوت ہندو خاتون کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔

    تفصیلات کے مطابق عمر رسیدہ راجپوت ہندو خاتون لاجونتی دیوی کا جوں ہی انتقال ہوا تو یہ خبر سُنتے ہی مقامی مسلمان غمزدہ کنبوں کی ڈھارس بندھانے پہنچ گئے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب مذکورہ خاتون کی موت واقع ہونے کی خبر گاؤں میں پھیل گئی تو گاؤں کے سارے لوگ ان کے گھر پر جمع ہوئے اور رات بھر وہیں ٹھہرے رہے تاکہ لواحقین کی ڈھارس بندھائیں’۔

    مقامی مسلمانوں نے انہیں تنہا ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ پورا گاؤں رات بھر ہمارے ساتھ تھا۔مقامی لوگوں نے ہی خاتون کی آخری رسومات انجام دینے کے لیے سارے انتظامات کئے۔ واضح رہے کہ مقامی مسلمانوں نے ہندو خاتون کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر دنیا کو پیغام دیا کہ وہ ہندو مسلم بھائی چارے کی شمع بھی فروزاں رہے

  • بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن ہر ملک کے مفاد میں ہے، اسی نیت سے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ مودی سمجھتا ہے کہ ہم کمزور ہیں، ہمیں بھارت میں ایک آئیڈیولوجی کا سامنا تھا جس کا نام آر ایس ایس ہے ، اس آئیڈیولوجی کے ساتھ بھارتی سرکار کیساتھ گفت و شنید انتہائی مشکل ہے مودی کا نظریہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں بلکہ خود ہندوستان کے عوام کیلئے بھی بد قسمتی ہے جو لوگ جنگوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تاریخ سے نا واقف ہوتے ہیں اور دوسرا انہیں اپنے ہتھیاروں پر بہت غرور ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے بعد مسائل چند لمحوں یا ہفتوں میں حل ہو جائیں گے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہی سوچ لے کر امریکہ افغانستان میں آیا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ چند ہفتوں کیلئے شروع کی جانے والی جنگ دو دہائیوں پر پھیل گئی افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے میں ماحولیات کے اس المیے سے ہم لوگ بیس سال پہلے آگاہ تھے مگر دنیا نےچشم پوشی کئے رکھی پاکستان میں تو کبھی سوچا ہی نہیں گیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے بھی کوئی فرق پڑے گا ملک میں 1960 کی دہائی میں معیاری منصوبہ بندی کمیشن بنا تھا ملک میں اس طرح کے تھنک ٹینک کی بہت ضروری ہے باہر امریکی تھینک ٹینک پاکستان پر گفتگو کر رہے ہیں نہ وہ یہاں کی تاریخ جانتے ہیں نہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں کچھ علم رکھتے ہیں مگر وہ باہر بیٹھے پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ یہ ایک انتہا پسند ملک ہے اور ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم موقف بھی بیان نہیں کرتے

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 25 سال پہلے تحریک انصاف شروع کی تو ہمارا منشور واضح تھا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے احساس راشن رعایت پروگرام کے اجراء سے شہریوں کو آٹا، گھی، تیل اور دالوں کی خریداری پر30 فیصدرعایت ملے گی احساس راشن پروگرام کی کل لاگت 120ارب روپے ہے، پروگرام کے تحت 2 کروڑ خاندان اور تقریبا 13 کروڑ افراد مستفید ہوں گے جو ملک کی کل آبادی کا تقریبا 53 فیصد ہے، ماہانہ 50 ہزار سے کم آمدن والے خاندان اس پروگرام سے استفادے کے اہل ہوں گے ۔ اہل صارفین کو کل خریداری پر 30 فیصد رعایت ملے گی،یہ رعایت آٹا، گھی یا تیل اور دالوں پرملے گی

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

  • کسان احتجاج :خالصتان تحریک کو نشانہ بنانے کیلئے بھارت کے جعلی سوشل میڈیا نیٹ ورک کا پردہ فاش

    کسان احتجاج :خالصتان تحریک کو نشانہ بنانے کیلئے بھارت کے جعلی سوشل میڈیا نیٹ ورک کا پردہ فاش

    نئی دہلی :مکار بھارت کا چہرہ پھر بے نقاب :کسان احتجاج :خالصتان تحریک کو نشانہ بنانے کیلئے بھارت کے جعلی سوشل میڈیا نیٹ ورک کا پردہ فاش ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں قائم سینٹر فار انفارمیشن ریزیلینس (سی آئی آر) نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں بھارت کے جعلی سوشل میڈیا نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے جسے کسانوں کے احتجاج اور خالصتان تحریک کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق سی آئی آر نے ” انالیسز آف دی رئیل سکھ انفلنس آپریشن “کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام پر 80 اکاونٹس کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے جن میں سکھوں کے نام استعمال کیے گئے جبکہ وہ انتہا پسند ہندو چلا تے تھے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر ایک مربوط و منظم طریقے سے جعلی اکاﺅنٹس کا استعمال کیا جار ہا ہے تاکہ آزادی کے سکھوں کے مطالبے کو بدنام کیا جا سکے، سکھوں کے سیاسی مفادات کو انتہا پسند قرار دیا جا سکے، بھارت اور بین الاقوامی برادری میں ثقافتی کشیدگی کو ہوا دی جا سکے اور بھارتی حکومت کے بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جعلی اکاونٹس نے جنہوں نے حقیقی سکھ ہونے کا دعویٰ کیا ، ایسا متن اور مواد تیار کیا جس کا مقصد کسانوں کی تحریک کو غیر قانونی قرار دینا اور متنازعہ زرعی قوانین کے بارے میں بحث و مباحثے کو ختم کرنا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اکاونٹس کے ذریعے فروغ دیا جانے والا بیانیہ کسانوں کے احتجاج کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماوں اورمقامی نیوز چینلز کے بیانات سے ملتا جلتا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جعلی نیٹ ورک کے کچھ پیغامات میں اس طرح کے بیانات شامل ہیں جیسے کہ ”بھارتی قوم پرستوں کو خاموشی نہیں برتنی چاہیے اورانہیں بھارت کو بچانے کے لیے سکھوں کی تحریک کا مقابلہ کرنے اور ان کو بے نقاب کرنے کیلئے آگے آنا چاہیے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس جعلی نیٹ ورک نے بھارت میں کسانوں کے احتجاج کے آغاز کے بعد اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں اور اس نے کسانوں کے احتجاج اور خالصتان تحریک کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ۔ ان اکاونٹس کے ذریعے تیار کردہ مواد کی مختلف تصدیق شدہ اکاونٹس نے بھی توثیق کی جنہوں نے ان اکاونٹس کے ساتھ کام کیا اور اسے مربوط حکومتی حمایت بھی حاصل ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے ہائی پروفائل اکاونٹس” سکھز فار جسٹس“ کے جنرل کونسلGurpatwant Singh Pannun کو نشانہ بنانے میں ملوث پائے گئے جو بھارت سے پنجاب کی علیحدگی کے لیے خالصتان ریفرنڈم مہم چلا رہے ہیں۔ ان تمام اکاونٹس نے انہیں پاکستانی ایجنٹ، جعلی سکھ اور بھارت اور سکھوں کا دشمن قرار دیا۔رپورٹ کے مصنف اور سی آئی آرکے تفتیشی ڈائریکٹر Benjamin Strick نے اپنی تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس جعلی نیٹ ورک نے ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر اپنی پیغام رسانی کو ان اکاونٹس کے بنیادی نیٹ ورک کے ذریعے بڑھایا جس میں مشہور شخصیات کے سوشل میڈیا اکاونٹس سے چوری کی گئی تصاویر کا استعمال کیا گیا۔