اسلام آباد (چنگیز خان جدون و اقراء لیاقت علی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس امر کو یقینی نہ بنایا جائے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔یہ اظہارِ یکجہتی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ حق خودارادیت کی فراہمی کا وعدہ ایفا نہیں ہو جاتا۔شاہ نے کہا کہ آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل، 5 اگست 2019 کو بھارت نے جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات اٹھائے تو اسے یہ غلط فہمی تھی کہ کشمیری انہیں قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے۔اسے یہ غلط فہمی تھی کہ وہ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائے گا۔بھارت کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ کشمیریوں کو ان خوداردایت کے جائز حق سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔لیکن ایسا نہ ہو سکا اور نہ ہی ہو سکے گا۔ انشاء اللہ۔ بھارت کو اس کے مذموم مقاصد میں ہمیشہ ناکامی ہو گی۔آج کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کرنے والے ہندوستان کا چہرہ، عالمی برادری کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے وہاں کی نام نہاد جمہوریت کی قلعی کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر مذمت کے باوجود بھارت نے اپنی روش تبدیل نہیں کی اور بھارت آج ایک طرف غیرقانونی طورپر اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کےغیرقانونی طورپر تناسب میں تبدیلی کے ذریعے غاصبانہ تسلط کو طول دینے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب اس کی سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگل رہی ہے ۔
یورپی یونین ڈس انفولیب کی رپورٹ نے پاکستانی موقف کی توثیق کردی ہے کہ بھارت۔جھوٹی اطلاعات پھیلا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش میں ملوث ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے عرصہ دراز سے مظلوم کشمیریوں کو اپنے جبرو استبداد کا نشانہ بنا رہا ہے قابض بھارتی اقواج نے غیر انسانی ہتھکنڈوں سے 80 لاکھ کشمیریوں کا محاصرہ کررکھا ہے۔نہتے کشمیری ایسے کمیونیکیشن بلیک آو¿ٹ،کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی مثال موجودہ دور میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ نام نہاد ”محاصروں، چھاپوں اور تلاشی “ کی کارروائی اور جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل، معمول بن چکا ہے۔کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو غصب کیا جا رہا ہے، انہیں ان کے زندہ رہنے،بنیادی آزادیوں،تعلیم سمیت دیگر حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔پرامن مظاہرین پر پیلٹ گنز کا وحشیانہ استعمال کیا جاتا ہے ، کشمیریوں کو اجتماعی طور پر سبق سکھانے کیلئے ان کے گھروں کو مسمار اور املاک کو تباہ کیا جاتا ہے۔بھارت، غیر قانونی طور پراپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اپنے غاصبانہ تسلط کوطول دینے کیلئے، غیر کشمیریوں کو غیرقانونی طریقے سے کشمیر میں آباد کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے مظالم کی پردہ پوشی کیلئے بھارت کالے قوانین کا سہارا لے رہا ہے نہتے کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔جب بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں لاکھوں کشمیریوں کی نسل کشی کا خطرہ لاحق ہو تو عالمی برادری صورت حال سے نظریں نہیں چرا سکتی۔میں یہ بات وزیر خارجہ کے طورپر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ حقیت ’جینو ا۔سائیڈ ۔واچ ‘جیسے غیر جانبدار مبصر ین بیان کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ’الرٹ‘ بھی جاری ہو چکا ہے۔قریشی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کا انکار، عالمی برادری کی توہین کے مترادف ہے۔تنازعہ جموں وکشمیر کے حل کے حوالے سے، عالمی برادری کی ترجمان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں موجود ہیںجنہیں بھارت ماننے سے مسلسل انکاری ہے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اجتماعی عالمی ضمیر کیلئے لمحہ ءفکریہ ہے۔ہندوستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اس متنازعہ علاقے میں وہ جو بھی کرے گا، وہ اسکا اندرونی معاملہ ہو گا۔عالمی برادری نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔قریشی نے کہا کہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی علاقائی و عالمی تنظیموں، میڈیا، سول سوسائٹی اور دنیا کی اہم پارلیمانوں کی جانب سے اس حوالے سے سامنے آنیوالی مذمت مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے سامنے آنا والا ردعمل اہمیت کا حامل ہے لیکن محض یہ ردعمل نا کافی ہے۔عالمی برادری کا کوئی بھی ردعمل اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہو گا جب تک ہندوستان کو انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔کوئی ردعمل اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کشمیریوں کو ”خودارادیت“ کا ان کا جائز حق نہیں دلایاجاتا۔ہم ایک دفعہ پھر عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر زور دے کہ:مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلاجواز طورپر جاری مسلسل محاصرے کو فی الفور ختم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے۔کمیونیکیشن (مواصلاتی روابط) بلیک آئوٹ، نقل و حرکت اور پرامن اجتماعات پر عائد پابندیوں ختم کرے۔بھارتی جیلوں میںبلاجواز قید کشمیری قیادت فی الفور رہا کی جائے اور انہیں کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی سے نہ روکا جائے۔تمام گرفتار کشمیری نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے نافذ کئے گئے غیرقانونی ڈومیسائل قوانین واپس لے اور غیر کشمیریوں کو جاری ہونے والے ڈومیسائل منسوخ کئے جائیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعینات بھارتی قابض فوج کے جرائم کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے نافذ کردہ کالے قوانین کالعدم کرے۔حقائق کا جائزہ لینے کیلئے اقوام متحدہ کے مبصرین، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور بین الاقوامی میڈیا کومقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔جنگ بندی کے معاہدوں اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردوں بند کی جائے۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور شفاف استصواب رائے کے ذریعے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دیا جائے
آخر میں، میں’ ایلس۔ ولز‘ کے اس معروف قول کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ”ہمیں مظلوم کی حمایت کرنی چاہئے کیونکہ ہماری خاموشی مظلوم کا نہیں بلکہ ظالم کا حوصلہ بڑھاتی ہے“ آخر میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئیے۔ یکجہتی کشمیر کے اس دن کے موقع پر ہم عہد کریں کہ بھارتی مظالم کا شکار نہتے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔
Tag: کشمیر
-

کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کرنے کا وزیر خارجہ نے کیا دنیا سے مطالبہ
-

کشمیر کے بارے میں نیند میں بھی غلطی نہیں کرسکتا,آخر کس عظیم رہنما کے تاریخی الفاظ
پانچ فروری ، کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کا دن، کشمیر بنے گا پاکستان۔ محمد ہمایوں خان
پشاور( سٹاف رپورٹر ) پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختون خواہ کے صدر محمد ہمایوں خان نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کشمیر ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف کشمیریوں کے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی یہ شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، اس سلسلے میں پانچ فروری کا دن کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر دراصل تقسیم ہند کا ایسا حل طلب مسئلہ ہے، جو بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی و ظلم و ناانصافی کے باعث تاحال حل نہیں کیا جا سکا اس دوران کشمیری مسلمانوں نے آزادی کشمیر اور اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے لاتعداد قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے، جو مسئلے کے حل ہونے و کشمیر کے آزاد ہونے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عوام کے اپیل پر پاکستان بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا اور اس دن سے ہر سال سے دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور محکوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس کے علاوہ جلسہ عام سے خطاب کیا اور کشمیریوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے مہاجرین کشمیر کی آباد کاری کا وعدہ کیا، تب سے اس دن کو ہر برس سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر قاٸد عوام شہید ذولفقارعلی بھٹو کا تاریخی الفاظ ۔میں بھی انسان ہو مجھ سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن کشمیر کے بارے میں میں نیند میں بھی علطی نہیں کرسکتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان، پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانا اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستانی اور کشمیری عوام یک جان دو قالب ہیں،کشمیر کی آزادی کیلئے پیپلز پارٹی تمام تر وسائل بروئے کار لائی گی. -

مجلس وحدت مسلمین کا ہفتہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان
کراچی۔مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں کی پریس کلب میں نیوز کانفرنس. مجلس وحدت مسلمین کا ہفتہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان. ہفتہ یکجہتی کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں آواز بلند کرنا ہے۔علامہ باقر عباس زیدی.مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ باقر زیدی،ڈپٹی سیکرٹری جنرل علی حسین نقوی نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کی مرکزی قیادت نے ہفتہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار اور کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں آواز بلند کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے خلاف مودی حکومت کے متعصبانہ اقدامات نے ملک کی سالمیت و بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔سکھ کمیونٹی کی طرف سے بھارتی دارالحکومت دہلی میں لال قلعے پر مذہبی پرچم لہرایا جانا مودی حکومت کے خلاف بغاوت اور نفرت کا کھلم کھلا اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی بڑھتی ہوئی بربریت کشمیری عوام کے حوصلوں کو پسپا نہیں کر سکتی۔آزادی اس ریاست کے عوام کا مقدر ہے جو بہت جلد حاصل ہو کر رہے گی۔یوم یکجہتی کشمیر پر پوری قوم بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ کشمیری عوام کے حق کے لیے آواز بلند کرے گی۔ مظلومین کشمیر کی حمایت میں تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کی جانب سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ہمراہ 4فروری کو آل پارٹیز کانفرنس کراچی پریس کلب میں منعقد کی جائے گی۔5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے سندھ اور کراچی بھر کے مختلف اضلاع میں جمعہ نماز کے بعد دعائیہ اجتماع اوراحتجاجی مظاہرے ریلیاں نکالی جائیں گی مرکزی احتجاجی مظاہرہ ریلی جامع مسجد نور ایماں کراچی میں منعقد کی جائے گی۔ایسی طرح 5فروری کی شام نمائش چورنگی پر کشمیر عوام سے اظہار یکجہتی شہدائے کی یاد میں دعائیہ اجتماع اور شمع روشن کی جائیں گی۔ رہنماوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت نے مظالم کی انتہا کر رکھی ہے۔ بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف بولتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیداروں کی زبان پر چھالے پڑتے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے صرف یہود و نصاری کے حقوق کے تحفظ کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔انہیں عالم اسلام کو درپیش مسائل سے کوئی غرض نہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اقلیتوں کے خلاف ظلم کے جو پہاڑ توڑ رکھے ہیں وہ اس کے اقتدار اور ملک کو بڑی تیزی سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔بھارت کے خلاف سر اٹھانے والی قومیں بہت جلد ایک توانا آواز اور ناقابل شکست مدمقابل کے طور پر سامنے آئیں گی۔بھارت کی ٹکڑوں میں تقسیم اس کی قسمت میں لکھی جا چکی ہے۔رہنماوں نے کہا بھارت کی تاریخ کا سب سے متعصب وزیر اعظم مودی ہے جسے عوام کی پسند و ناپسند سے کوئی غرض نہیں۔اس کے ہاتھ ہزاروں بے گناہ افراد کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔بھارت خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔بھارت کا جدید ہتھیاروں کے حصول اور خطے میں حکمرانی کا جنون کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم بند کرے۔آئے روز بے گناہ نوجوانوں کی شہادت اور خواتین کی عصمت دری کے واقعات ہندوستان کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔رہنماوں نے عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کرنے کے لیے بھارت پر زور ڈالے۔رہنماوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ حیات ہے۔یہ بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزاد ہوکر رہے گا۔کانفرنس میں علامہ صادق جعفری،علامہ علی انور جعفری، علامہ مبشرحسن،میر تقی ظفر، نا صر الحسینی و دیگر رہنما موجود تھے۔
-

پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو انتہائی مؤثر انداز میں اٹھایا ہے،۔ شاہ محمود قریشی
ملتان : پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ کو انتہائی مؤثر انداز میں اٹھایا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا گیا تو ہی انٹرنیشنل کمیونٹی حرکت میں آئی ہےسینٹ کی خارجہ کمیٹی میں حکومتی مؤقف رکھا جس کو اپوزیشن ارکان نے سراہا۔ ڈینیل پرل کے قتل پر انکے خاندان کو انصاف فراہمی کے خواہاں ہیں۔ مہنگائی کی وجوہات سب کے سامنے ہیں۔. ڈالر کو کنٹرول کو ڈالر مارکیٹ میں بھیجے گئے ۔ شاہ محمود قریشی
-

اوکاڑہ بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا گیا۔ شہر اور مضافات سے یکجہتی ریلیاں نکالی گئیں۔
اوکاڑہ(علی حسین) ضلع بھر میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ریلیوں اور پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آفس اوکاڑہ سے ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس سے سول سوسائٹی، وکلاء، سیاسی اور سماجی شخصیات نے خطاب کیا۔ دیپالپور ، بصیر پور، صدر گوگیرہ، رینالہ خورد اور دیگر علاقوں میں بڑی اور چھوٹی ریلیاں نکالی گئیں۔ ضلع اوکاڑہ میں صحافی طبقے نے بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پروگرامز منعقد کیے۔
-
چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب
چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب
آج سے ڈیڑھ سال قبل ملک کی ایک بڑی دعوتی، فلاحی ، دفاعی جماعت کی قیادت و اثاثے بھارتی و بین الاقوامی دباؤ پر بند کر دئیے گئے ، ملکی ناقص معاشی صورتحال کی وجہ سے تحویل میں لیے گئے جماعت کے اداروں کا بوجھ اٹھانا حکومت کیلئے مسئلہ بن چکا ہے ، لاکھوں غرباء مساکین بے آسرا ہو گئے محض اس بات پر کہ شاید عالمی قوتیں اور بھارت خوش ہو جائے ، شاید ہمارے وجود کو تسلیم کر لیا جائے، شاید ہم اچھے ہمسائے بن جائیں ، شاید معاشی پابندیاں کم ہو جائیں،شاید ایف اے ٹی ایف کوئی رعایت کر دے مگر مہینوں گزرنے کے بعد بھی۔۔۔۔۔
5 اگست سے کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن اور سینکڑوں جوانوں کی شہادت ، ایل او سی پر مسلسل فائرنگ اور آزاد کشمیر کے شہریوں کی شہادتیں، بلوچستان میں آرمی پر حملے اور فوجی جوانوں کی شہادتیں، چند دن قبل کراچی کی طرف بھارتی فضائیہ کی اڑانیں، بھارتی قیادت کی مسلسل پاکستان پر حملے کی دھمکیاں۔۔۔۔۔۔
اور دشمن کی چہار اطراف جارحیت کے مقابل ماشاءاللہ دفاعی حکمت عملی میں پہلے جماعت کے سربراہ اور اب باقیماندہ قیادت کو سزائیں و جرمانے۔
اللہ ہمارے فیصلہ سازوں پر رحم کرے اور درست فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ آمین
-
کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب
تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔
آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔
کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔
چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔
-

طیارے کےالمناک حادثہ پربھارتی ہندووں کا انتہائی شرمناک رویہ
پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والےدنیا کےسب سے بڑے دہشت گرد ریندر مودی کے ملک بھارت کے عوام کی ذہنیت بھی مودی کی طرح دہشت گردانہ ہو چکی ہے.

کشمیر میں ہونے والے ظلم و بربریت کی طرف دھیان نہ کرنے والے بھارتی گھٹیا ذہنیت کی مالک عوام نے پاکستان میں ہونے والے المناک طیارے کے حادثہ پر انتہائی شرمناک رویہ اختیار کیا ہے سوشل میڈیا پرجتنے گھٹیا کمنٹس بھارتی عوام نے دئے دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی. اگر آج ہٹلر زندہ ہوتا تو اس کا سر بھی شرم سے جھک جاتا. دنیا کے کسی بھی مذہب میں انسانیت پر کسی بھی طرح کے سانحہ گزرنے پردکھ اور افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن بھارتی مودی کے ہندوتوا کا پرچار کرنے والے عوام کو شرم نہیں آئی.