ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوا اس 90 سالہ بزرگ کا بچپن ،جوانی اور اب بڑھاپا بھی ہندو کے ظلم و جبر میں گزرا اور اب بھی اتنی بزرگی میں ہونے کے باوجود اپنی ہی وادی کشمیر جنت نظیر میں اپنے ہے گھر میں ہندو کی نظر بندی میں زندگی بسر کر رہے ہیں
5 اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد پوری حریت قیادت کی طرح سید علی گیلانی صاحب بھی اپنے گھر سوپور میں نظر بند ہیں مسلسل 7 ماہ سے زائد کی نظر بندی کی بدولت ان کی صحت انتہائی متاثر ہوئی ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بن جانے سے انہیں تکلیف کا سامنا ہے سید صاحب کی صحت انتہائی تشویشناک ہے جس پر پوری کشمیری قوم کیساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ان کی صحت و تندرستی کیلئے دعا گو ہے
سید علی گیلانی صاحب الحاق پاکستان کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فوجوں کے خلاف پاکستان اپنی فوجیں مقبوضہ وادی کشمیر میں داخل کرے اور انڈیا کی طرف سے اقوام متحدہ کی نا مانی جانے والی قرار دادوں پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروا کر تنازعہ کشمیر کو حل کروایا جائے
سید علی گیلانی صاحب کی 90 سالہ عمر کا زیادہ حصہ انڈین جیلوں اور نظر بندیوں میں گزرا ہے
جب انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاءون کرنے کیساتھ انٹرنیٹ و موبائل سروس بند کرکے کرفیو لگایا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تب گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا کہ کشمیر کیلئے تب کچھ کرو گے جب ہم مٹ جائینگے
سید صاحب نے شروع سے ہی اس نظریے کے حامی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراد دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور اپنی فوجیں کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دے جس کی بدولت سید صاحب کو ہمیشہ سے پابندیوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ سید صاحب 90 سال سے زائد العمر ایک معمر اور ضعیف شحض ہیں مگر پھر بھی ان کی ایک آواز پر ان کی تحریک حریت و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ پوری وادی جموں و کشمیر کے لوگ سر پر کفن باندھ کر لبیک کہتے ہیں جس کے خوف سے انڈیا نے اس عظیم حریت لیڈر کو نظر بند کیا ہوا ہے جو کہ انٹرنیشنل لاء کے سخت خلاف ہے مگر افسوس کے انڈیا کو کوئی پوچھنے والا نہیں مگر اب پوری دنیا کو سید علی گیلانی صاحب کے موقف کا احساس ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال کے بغیر حل نہیں ہو گا جس کی تازہ مثال 5 اگست 2019 سے اب تک پوری وادی کشمیر کا لاک ڈاءون، انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش کے علاوہ سخت ترین کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کی انڈین قابض فوج کے ہاتھوں شہادتیں و کشمیری ماءوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دریوں پر پوری دنیا کے دباؤ پر بھی انڈیا کا کان نا دھرنا اور کشمیریوں کے مصائب میں مذید اضافہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بموقف عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کشمیر بزور شمشیر ہی آزاد ہوگا
دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم حریت قائد سید علی گیلانی صاحب کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی عطا فرما کر انہیں طلوع آزادی کشمیر دیکھنا نصیب فرمائے آمین
Tag: کشمیر
-

ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی تحریر: غنی محمود قصوری
-

مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا
کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
محمد عبداللہ کی تحریرمقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.
-
5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد!!! تحریر: غنی محمود قصوری
ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے مگر ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو دن ہم منا رہے ہیں اس کا مقصد کیا ہے اور تاریخ میں اس کی کیا اہمیت ہے
ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریبا 84000 مربع میل ہے جس میں سے 70 فیصد پر انڈیا 1947 سے قابض ہے جبکہ باقی 30 فیصد کا علاقہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ سے زیادہ ہے
80 لاکھ سے زاہد باشندے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو کی غلامی و ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 25 لاکھ کے قریب ریاست آزاد جموں و کشمیر کے آزاد و خودمختار شہری ہیں
1846 میں مسلمانوں کے دشمن انگریز پلید نے ریاست جموں و کشمیر کو غدار ڈوگرہ راجہ غلام سندھ کو اس وقت کے 75 ہزار کے عیوض بیچ دیا تھا پھر تقسیم ہند کے بعد جبکہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں
مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے
عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر
اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں
سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا -

پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!! تحریر: غنی محمود قصوری
ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ایک نبی آخرالزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور جو ہمارے پیارے نبی نے فرما دیا وہ کبھی جھوٹ نہیں ہو سکتا میرے نبی نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اپنے اصحاب کی جماعت بنائی اور اس کی خالص نبوی منہج پر تربیت کی اور پھر اسی جماعت اصحاب نے مسلمان تو مسلمان کفار کی بھی مدد کی جس کی بہت واضع اور مشہور مثال حجاج بن یوسف کا اپنے 17 سالہ کمانڈر بتیجھے محمد بن قاسم کو ایک ہندو عورت کی پکار پر عرب سے ہند پر یلغار کیلئے بھیجنا ہے
میرے نبی نے اپنی فتوحات میں کفار کو عام معافیاں دیں اور پھر ان معافیوں کے عیوض بہت سے کفار مسلمان ہو گئے اور کچھ احسان فراموش معافی مانگ کر بوقت جنگ میرے نبی کے مقابلے میں پھر میدان کار زار میں مدمقابل بھی آتے رہے مگر تاریخ گواہ ہے انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی میرے نبی سے زیادہ ان کفار کو کوئی نہیں جانتا اسی لئے فرمان نبوی ہے
الکفر ملت واحدہ یعنی کفر ایک جماعت ہے ایک ملت و واحدت ہے کافر دنیا کے کسی کونے کا ہو یا پھر کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب سے ہو وہ سب یکجان ہو کر مسلمانوں پر ظلم کرتے آئے ہیں اور کر بھی رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال کشمیر میں ہندوستان کا فلسطین میں اسرائیل اور افغانستان ، عراق ،شام غرضیکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اور ظلم بھی مسلمانوں پر ہو اس میں امریکہ کا کردار سرفہرست ہے
ایک بہت مشہور نعرہ ہے رو زمین کے تین شیطان امریکہ ،اسرائیل ہندوستان
اگر دیکھا جائے تو اس نعرے میں رتی بھر بھی شک نہیں کہ درج بالا تینوں ممالک شیطان کے خالص پیروکار اور بے شرمی و بے حیائی میں سب سے اوپر ہیں آج امریکہ بین المذاہبی ہم آہنگی کا نعرہ لگانے والا بھی ہے اور اسی بین المذاہبی ہم آہنگی کو پاش پاش کرنے والا بھی یہی امریکہ ہی ہے آپ دیکھ لیجئے 148 روز سے مظلوم کشمیریوں پر ہندو ظالم کا ظالم جاری ہے کشمیری مسلمان سخت سردی میں بغیر ادویات و خوراک کے اپنے گھروں میں محصور ہیں تمام حریت قیادت جیلوں میں ہے
کاروبار زندگی معطل ہے سکول و کالجز بند ہیں مذید ستم کہ لینڈ لائن و موبائل فون سروس کیساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے مگر کیا مجال امریکہ منافق کی کہ جو منہ سے پھوٹا ہو کہ یہ ظلم ہے یہ شدت پسندی و دہشت گردی ہے مگر اس کے برعکس ظالم ہندو فوج سے برسربیکار مجاھدین کی راہ میں جب بھی رکاوٹ ڈالی اسی امریکہ نے ڈالی امریکہ کے علاوہ اسرائیل بھی انڈیا کیساتھ مل کر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے کئی بار اسرائیلی بلیک کیٹ کمانڈوز کی مقبوضہ وادی کشمیر میں موجودگی کا انکشاف ہوا اور 27 فروی کو پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک طیارے کا پائلٹ بھی اسرائیلی تھا
یہ ظالم کافر جب بھی کسی مسلمان ملک پر ظلم کرتے ہیں سب مل کر کرتے ہیں مگر افسوس تو عالم اسلام پر ہے کہ جو حیرت انگیز طور پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں چند بول ہی بول سکے ورنہ عملا تو کچھ بھی نہیں حالانکہ میرے پیارے نبی کریم کا ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں یعنی جب جسم کے کسی حصے کو دکھ درد ہوگا تو دوسرا حصہ بھی وہ دکھ درد محسوس کرے گا مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے درد کو محسوس کرنا صرف بیان بازی سمجھ لیا حالانکہ میرے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے عرب اسرائیل جنگ میں اپنی فضائیہ کی مدد سے اسرائیل کے اندر گھس کر اس کا خواب چکنا چور کیا پھر 80 کی دہائی میں روس کے خلاف لڑ کر روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے عالم اسلام کو بتایا کہ مسلمان کس طرح ایک جسم کی مانند ہیں ابھی حال ہی میں ایک بار پھر امریکہ کی افغانستان میں قبر بنا کر عالم اسلام کو بتایا کہ ایک جسم کی مانند ایسے ہوتے ہیں خالی نعروں للکاروں سے نہیں بلکہ عملا کچھ کرنا پڑتا ہے یاد رکھوں عالم اسلام کے حکمرانوں کل روز قیامت کشمیریوں کی بے بسی پر تمہاری مجرمانہ خاموشی تمہیں لے ڈوبے گی مگر بفضل تعالی پاکستان نے کل 48 میں بھی کشمیریوں کی مدد کیلئے اپنی افواج چڑھائی تھی پھر 65،71 کی جنگیں بھی انڈیا نے پاکستان سے اس لئے لڑیں کیونکہ پوری دنیا میں اللہ کے بعد کشمیریوں کا مددگار پاکستان ہی ہے پھر 1999 میں پاکستان نے کشمیری کی آزادی کیلئے ہی کارگل جنگ کی اب رواں سال 27 فروری 2019 میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے بعد بھارت کے گھر میں گھس کر اسے مارنا بھی آزادی کشمیر کی آزادی کی طرف ایک کاوش ہی ہے
سنو عالم اسلام کے حکمرانوں پاکستان نے نبی ذیشان کے فرمان ،مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، پر عمل کرتے ہوئے امریکہ،اسرائیل ہندوستان کے علاوہ روس تک کو بتلا دیا کہ ہم اپنے نبی کے فرمان پر جان بھی قربان کرنے والے ہیں مگر فلسطین ،شام و افغانستان اور خصوصی طور پر اہلیان مقبوضہ کشمیر تم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم ایک جسم ہیں پھر تم درد محسوس کیوں نہیں کرتے ؟ اور روز قیامت تمہیں جواب دینا ہوگا اپنی چپ کا حساب دینا ہوگا ان شاءاللہ پاکستان تو عملا جان و مال پیش کر چکا اور کر بھی رہا ہے تم اپنی عیاشیوں سے نکل کر دیکھو تم نے کیا کرنا ہے اور کیا کر چکے اسلام کے نام لیوا کھوکھلے مسلمان حکمرانوں دیکھ لو آج اسرائیل و امریکہ کو پاکستان سے صرف یہی عداوت ہے اس ارض مقدس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی خاطر اسرائیل و امریکہ سے ٹکر لی بلکہ حال ہی میں محمد بن قاسم کی طرح خطے کے لئے بہت بڑے خطرے تامل ٹائیگرز کو ختم کرکے غیر مذہب کی بھی مدد کی
افسوس عرب کے عیاش حکمرانوں تم محمد بن قاسم کی نسل سے ہوکر بھی ہند کے کشمیر کی مظلوم بیٹیوں کی پکار نا سن سکے ہاں مگر ابن قاسم کی سنت زندہ کرنے کیلئے پاکستان ہے ان شاءاللہ -
دارلحکومت میں ٹیلی نار، زونگ اور یوفون کی ناقص سروسز، دن میں کئی دفعہ سگنل غائب، صارفین سر پکڑ کر بیٹھ گئے
مظفرآباد (نمائندہ باغی ٹی وی) آزاد کشمیر بھر میں موبائل کمپنیوں کی ناقص سروسز سے اہل کشمیر بدترین اذیت سے دوچار، دن میں کئی دفعہ نیٹ ورک غائب ہو جاتا ہے۔ ٹیلی نار، زونگ اور یوفون کی سروسز میں صارفین کو مشکلات کا سامنا۔
تفصیلات کے مطابق مظفرآباد اور گردونواح میں بھی ہر آدھے گھنٹے بعد سروس نہیں آتی، اکاؤنٹ میں موجود بیلنس اچانک کٹ جاتا ہے بار بار شکایت کرنے کے باوجود کوئی بھی کمپنی اس کو حل کرنے سے گریزاں ہے، صارفین کی شکایات عوامی حلقوں کا پی ٹی اے سے بروقت کاروائی کرنے اور سروسز کو بہتر کروانے کا مطالبہ -

بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!! تحریر غنی محمود قصوری
آج 20 نومبر ہے اور پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد بچوں پر ظلم و تشدد روکنا ان کی تعلیم و تربیت و صحت کا خیال کرنا ،ان سے جنسی زیادتی رکوانا اور بچوں سے محنت و مشقت رکوانا ہے
یہ دن عالمی طور پر 20 نومبر 1989 سے ہر سال منایا جا رہا ہے تاہم 14 دسمبر 1954 کو اقوام متحدہ میں اس دن کو منانے کیلئے شفارشات پیش کی گئی تھیں
آج ساری دنیا میں بچوں کے نام پر بڑے بڑے لوگ اور تنظیمیں اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گی انسانوں تو انسانوں جانوروں کے بچوں کے حقوق کا بھی رونا روئیں گیں مگر افسوس کہ آج عالم اسلام اور بالخصوص مقبوضہ وادی کشمیر کے بچوں کو یکسر نظر انداد کیا جائے گا حالانکہ اس دن کا مقصد ہی بچوں پر ظلم و تشدد رکوانا اور ان کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے انہیں آزاد زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کرنا تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے مگر صرف مسلمانوں کے بچوں کے لئے ایسا ہر گز ہر گز نہیں
اقوام متحدہ کہ جس نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا آج وہی تقریبا 4 ماہ سے کشمیری محصور بچوں پر ہونے والے تشدد پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں پوری دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں چیخ چیخ کر اقوام متحدہ کو بتا رہی ہیں کہ کشمیری بچے سینکڑوں دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہے ان کے پاس کھانے کو خوراک نہیں سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے نہیں بیمار ہونے پر دوا نہیں میسر نہیں اور نومولودوں کیلئے دودھ بھی نہیں مگر افسوس صد افسوس کہ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ بھارت کو کچھ کہنا تو دور کی بات اپنے طور پر بھی ان مظلوم و مجبور محصور کشمیری بچوں کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے حالانکہ یہی لوگ کتوں اور بلیوں کے بچوں کے تحفظ کی خاطر اربوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور کسی بھی جنگلی جانور کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں اور ان بقاء و سلامتی کیلئے ان طیارے ان کے ہیلی کاپٹر تک کئی کئی دن ریسکیو کرتے رہتے ہیں
مگر افسوس ان کو ہندو فوجیوں کی پیلٹ گنوں سے زخمی و نابینا ہوتے بچے اور ہندو ناپاک کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی آصفہ بانو جیسی معصوم بچیاں نا پچھلے 73 سالوں سے نظر آ رہے تھے اور نا اب نظر آ رہے ہیں وجہ صرف ان بچوں کا مسلمان ہونا ہے تاریخ گواہ ہے اقوام متحدہ کا کردار بھارت کی لونڈی کا سا ہے پچھلے 73 سالوں سے ان کشمیری بچوں کے والدین جبکہ وہ خود بچے تھے اب ان کے بچوں کے بھی بچے ہو چکے وہ تب سے اس اقوام متحدہ کو یاد کروا رہے ہیں کہ ہم کشمیریوں پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے ہندو ہمارے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے ، ہمارے معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانا بنایا جا رہا ہے اور جانوروں پر استعمال کرنے والی پیلٹ گن ہمارے بچوں پر استعمال کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد عالمی حقوق کی علمبردار درحقیقت عالم کفر کی راکھیل اقوام متحدہ سب کچھ سن دیکھ کر خاموش ہے اور اس کی خاموشی اس کے انسانی حقوق کے نعروں کی نفی کر رہی ہے -
مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم ،جبراورکرفیوکا106واں دن ، کشمیربنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتا رہا
لاہور:مقبوضہ کشمیر:بھارتی مظالم ،جبر،قہراورکرفیوکا106 واں روز،کشمیربنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا مقبوضہ وادی سے اطلاعات کے مطابق وادی میں کرفیو کا106 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،
تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے کھلم کھلا کشمیری نوجوانوں کے قتل اور خواتین کی عصمت دری کے عزائم سامنے آنے لگے ہیں، جب کہ مقبوضہ وادی میں ایک سو چھ دن سے کرفیو نافذ ہے۔
عالمی طاقتوں نے مکمل طور پر چپ سادھ لی ہے، پاکستانی حکومت کی بھرپور کوششوں کے بعد عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کی پہلی بار طاقت ور گونج پیدا ہوئی، تاہم انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور چھوٹے ممالک کو مجبور کرنے والی طاقتیں کشمیر پر خاموش دکھائی دے رہی ہیں۔106 روز گزرنے کے بعد بھی عالمی طاقتیں جموں و کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن ختم نہیں کروا سکیں۔
ادھر مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، موبائل سروس، ٹرانسپورٹ بدستور بند ہیں، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی کے تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور دکانیں بھی بند پڑی ہوئی ہیں۔
بھارتی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، بھارت نے کشمیری رہنماؤں غلام نبی خان، ظفر حسین بٹ کی جائیداد سیل کر دی ہے، کے ایم ایس کے مطابق وادی میں شدید سردی پڑ رہی ہے، دوسری طرف کھانے پینے اور ادویات کی قلت ہے جس کی وجہ سے کشمیری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی بے رحمانہ پامالی، کرفیو، لاک ڈائون، گھر گھر تلاشی کے دوران کشمیری نوجوانوں کی جانوں سے کھیلنے، مساجد میں نماز پڑھنے پر پابندی اور اشیائے خوردنی و ادویات کی قلت کو 103دن گزر گئے ہیں مگر زبانی جمع خرچ سے زیادہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ان ظالمانہ اقدامات کو روکنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

منگل کو گاندربل میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں مزید تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ اس طرح گزشتہ 24گھنٹے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 5ہو گئی۔ اسی دوران ریاست کا اسلامی تشخص مٹانے کے لئے اہم عمارتوں، اسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ گرائونڈز اور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی پر بھی عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری اس تنازعے میں اس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔

لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بحال کرنے، سڑکوں پر سے رکاوٹیں ہٹانے اور کرفیو میں نرمی جیسے اقدامات کا دعوی کیا ہے ، جن کا مقصد علاقے کے حالات کو تشدد کی جانب جانے سے بچانا تھا۔

بھارتی حکومت کے اس اقدام سے قبل ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریبا مفلوج ہو چکے ہیں۔پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

ان 100 دنوں میں سخت پابندیوں کے دوران دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی کشمیر کی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ حکومت نے کشمیر کے بیرونی دنیا سے زیادہ تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہیں۔ یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کہا ، چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے ، لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کنگن کے گنڈ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی تنظیم نو قانون 2019 کے اطلاق کے بعد سرکاری زبان ‘اردو’ بحیثیت سرکاری زبان اپنا تشخص کھو نے والی ہے۔تنظیم نو قانون 2019 میں حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے۔

اردو زبان و ادب کے ماہر پاکستانی صحافی محمد ہارون عباس کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ اسٹیڈیمزاور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوںکے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق اس سلسلے میں غور و خوض کیاجارہا ہے اور توقع ہے کہ 15نومبر تک کوئی فیصلہ کر لیا جائیگا۔

بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد وادی میں ٹرین سروس منگل سے دوبارہ شروع ہوگئی۔جموں و کشمیر ریلوے انتظامیہ نے ٹرین سروس بحال کرنے سے قبل ریلوے کی پٹریوں کا معائنہ کیا اور سرینگر سے بارہمولہ تک ٹرائل ٹرین چلائی۔جموں و کشمیر ریلوے کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرین نمبر 74619 صبح 10.05 بجے سرینگر سے روانہ ہوئی اور 11.45 بجے بارہمولہ پہنچی۔ٹرین نمبر74618 ، 11.55 بجے بارہمولہ سے روانہ ہوکر 1.40 بجے سرینگر پہنچی۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ٹرین سروس کو مرحلہ وار شروع کیا جائے گا اور چند روز کے بعد بارہمولہ سے بانیہال کا ٹریک بھی شروع کر دیا جائے گا۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی مذمت کے لئے مقبوضہ برطانیہ کے علاقے برٹن کے ہزاروں افراد نے لندن میں بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔اس مظاہرے کا اہتمام ایک کشمیری تنظیم کشمیر فورم نے کیا تھا۔کشمیر فورم کے ترجمان نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ احتجاج کشمیر کی صورتحال پر بیداری پیدا کرنے اور ان ‘غیر انسانی’ حالات کو اجاگر کرنے کے لئے کیا گیا تھا جن کا فی الحال کشمیری عوام سامنا کر رہے ہیں۔برٹن میں کشمیر فورم کے چیئرمین خادم ٹھٹھال نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لندن کی گلیوں میں بڑے پیمانے پر اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برٹن برادری اس میں شامل ہو رہی ہے اور کشمیریوں کے لئے اپنی حمایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔

ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر کی شناخت ، تہذیب وتمدن، ثقافت کے خا تمے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کشمیر یوں کی شناخت بچانے کیلئے موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو انہیں یہ حق دینا ہوگا۔ لندن میں مقیم ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ سمیت گرفتار تمام سیاسی رہنماوںکی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو حراست سے آزاد کیا جائے اور جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بحال کی جائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین کی حراست غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ ہائیکورٹ کے سکریٹری رتن لال گپتا نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ تمام قائدین کو رہا کردیا جائے اور دیگر افراد کو جو 5 اگست سے زیرحراست ہیں، رہا کردیا جائے۔ جموں و کشمیر سے دستور ہند کی دفعہ 370 کی معطلی کے بعد یہ حراستیں عمل میں آئی تھیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں منگل کے روز ایک مسافر گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس سے بارہ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈوڈہ ، ممتاز احمد نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ حادثہ ضلع کے مرمت کے علاقے کے قریب ہوا۔اس افسر نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ گاڑی کھلینی سے مرمت کے گووا گاؤں جارہی تھی جب اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی۔

جموں سرینگر قومی شاہراہ آمد و رفت کے لیے بحال کر دی گئی ۔جموں سرینگر قومی شاہراہ چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے بند تھی جہاں منگل کو دو روز بعد گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی۔دو روز قبل رامبن میں ڈیگڈول کے قریب قومی شاہراہ پر زمین اور چٹانیں کھسک گئی تھی جس کی وجہ سے شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدو رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ٹریفک پولیس کے سربراہ نے ساؤتھ ایشین وائرکو بتایاکہ گذشتہ روز 270 کلو میٹر لمبی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر بھاری چٹانیں کھسکنے سے سڑک نقل و حرکت کے لیے دوبارہ بند ہو گئی تھی جس کی وجہ سے تقریبا دو ہزار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔ پھنسی ہوئی گاڑیوں کو اب جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں منگل کو ایک تیندوے نے 18 سالہ لڑکے کوہلاک کر دیا۔ایک پولیس عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ پیرشوتم کمار پر پیر کی رات دیر گئے رامکوٹ کے علاقے مکوال گاؤں میں اپنی رہائش گاہ کولوٹتے ہوئے تیندوے کے حملے میں ہلاک ہوا۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی لاش جھاڑیوں سے برآمد ہوئی ہے اور قانونی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد آخری رسومات کے لئے اس کے اہل خانہ کے حوالے کردی گئی۔اس واقعے نے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے ۔

حریت کانفرنس کے معمر رہنما سید علی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک اہم خط میں اس صورتحال کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ کئے جانے والے تمام معاہدے توڑ ڈالے ہیں، اس لئے پاکستان بھی تاشقند، شملہ اور لاہور معاہدوں سمیت تمام سمجھوتوں سے قطع تعلق کا اعلان کر دے، لائن آف کنٹرول کو دوبارہ جنگ بندی لائن کا نام دے اور ایل او سی پر باڑ کے معاملہ پر نظر ثانی کرے،
پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری اس تنازعے میں اس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔
لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بحال کرنے، سڑکوں پر سے رکاوٹیں ہٹانے اور کرفیو میں نرمی جیسے اقدامات کا دعوی کیا ہے ، جن کا مقصد علاقے کے حالات کو تشدد کی جانب جانے سے بچانا تھا۔
بھارتی حکومت کے اس اقدام سے قبل ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریبا مفلوج ہو چکے ہیں۔پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
ان 103 دنوں میں سخت پابندیوں کے دوران دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی کشمیر کی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ حکومت نے کشمیر کے بیرونی دنیا سے زیادہ تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہیں۔ یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کہا ، چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے ، لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کنگن کے گنڈ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی تنظیم نو قانون 2019 کے اطلاق کے بعد سرکاری زبان ‘اردو’ بحیثیت سرکاری زبان اپنا تشخص کھو نے والی ہے۔تنظیم نو قانون 2019 میں حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے۔
اردو زبان و ادب کے ماہر پاکستانی صحافی محمد ہارون عباس کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ اسٹیڈیمزاور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوںکے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق اس سلسلے میں غور و خوض کیاجارہا ہے اور توقع ہے کہ 15نومبر تک کوئی فیصلہ کر لیا جائیگا۔
بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی مذمت کے لئے مقبوضہ برطانیہ کے علاقے برٹن کے ہزاروں افراد نے لندن میں بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔اس مظاہرے کا اہتمام ایک کشمیری تنظیم کشمیر فورم نے کیا تھا۔کشمیر فورم کے ترجمان نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ احتجاج کشمیر کی صورتحال پر بیداری پیدا کرنے اور ان ‘غیر انسانی’ حالات کو اجاگر کرنے کے لئے کیا گیا تھا جن کا فی الحال کشمیری عوام سامنا کر رہے ہیں۔برٹن میں کشمیر فورم کے چیئرمین خادم ٹھٹھال نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لندن کی گلیوں میں بڑے پیمانے پر اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برٹن برادری اس میں شامل ہو رہی ہے اور کشمیریوں کے لئے اپنی حمایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔
ایک کشمیری تھنک ٹینک کشمیرشماریات مرکز(KSC) اور کشمیری صحافیوں کی تنظیم ایسوسی ایشین آف کشمیری ڈس پلیسڈ جرنلسٹس(AKDJ) کے زیر انتظام آج 15نومبرسہہ پہر تین بجے اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینارمنعقد کیا جارہا ہے جس کا عنوان ‘تنازعہ کشمیر : بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، بھارتی تسلط اور ہندوتوا ۔ امن اور انسانیت کے لئے چیلنج اور خطرہ’ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وفاقی وزیربرائے امور کشمیر علی امین گنڈا پورکے علاوہ ڈاکٹر محمد فیصل ترجمان دفترخارجہ ، سابق سفیر عبدالباسط ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ایم ایس شیخ تجمل الاسلام ، ڈاکٹر ماریہ سلطان چیئرپرسن / ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ (SASSI) یونیورسٹی، چیئرمین تنظیم امن و ثقافت مشعال حسین ملک اورماہربین الاقوامی قانون بیرسٹر افضل حسین جعفری اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر کی شناخت ، تہذیب وتمدن، ثقافت کے خا تمے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کشمیر یوں کی شناخت بچانے کیلئے موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو انہیں یہ حق دینا ہوگا۔ لندن میں مقیم ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ سمیت گرفتار تمام سیاسی رہنماوںکی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو حراست سے آزاد کیا جائے اور جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بحال کی جائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین کی حراست غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ ہائیکورٹ کے سکریٹری رتن لال گپتا نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ تمام قائدین کو رہا کردیا جائے اور دیگر افراد کو جو 5 اگست سے زیرحراست ہیں، رہا کردیا جائے۔ جموں و کشمیر سے دستور ہند کی دفعہ 370 کی معطلی کے بعد یہ حراستیں عمل میں آئی تھیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں منگل کے روز ایک مسافر گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس سے بارہ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈوڈہ ، ممتاز احمد نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ حادثہ ضلع کے مرمت کے علاقے کے قریب ہوا۔اس افسر نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ گاڑی کھلینی سے مرمت کے گووا گاؤں جارہی تھی جب اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی۔
-
مقبوضہ کشمیر:کرفیو،بھارتی مظالم اورقتل عام کا 102 واں دن،کشمیری جھکے نہیں،آزادی کی جنگ جاری
سری نگر:مقبوضہ وادی میں کرفیو کا102 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں
https://www.youtube.com/watch?v=gB6fgim3mg8
پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری اس تنازعے میں اس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔
لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بحال کرنے، سڑکوں پر سے رکاوٹیں ہٹانے اور کرفیو میں نرمی جیسے اقدامات کا دعوی کیا ہے ، جن کا مقصد علاقے کے حالات کو تشدد کی جانب جانے سے بچانا تھا۔
بھارتی حکومت کے اس اقدام سے قبل ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریبا مفلوج ہو چکے ہیں۔پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
ان 100 دنوں میں سخت پابندیوں کے دوران دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی فوجی کشمیر کی سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ حکومت نے کشمیر کے بیرونی دنیا سے زیادہ تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہیں۔ یہاں تک کہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے تاشقند ، شملہ اور لاہور معاہدوں کو تحلیل کرنے کی اپیل کی ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کہا ، چونکہ بھارت نے تمام باہمی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے ، لہذا پاکستان کو بھی معاہدہ تاشقند ، شملہ اور لاہور کی تمام شقوں سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہئے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق گیلانی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی طرف سے جاری خط میں کہاکہ پاکستان کو بھی کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دیناچاہئے کیونکہ ہندوستان نے اس صورتحال کو پھر سے1947-48 کی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے وسطی ضلع گاندربل کے کنگن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق کنگن کے گنڈ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کرتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید کر دیا ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی تنظیم نو قانون 2019 کے اطلاق کے بعد سرکاری زبان ‘اردو’ بحیثیت سرکاری زبان اپنا تشخص کھو نے والی ہے۔تنظیم نو قانون 2019 میں حکومت نے واضح طور کہا ہے کہ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی کے پاس اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت سے تبدیل کرنے کے اختیارات ہیں۔نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس قانون کی دفعہ 27 (1) کے مطابق قانون ساز اسمبلی ایک یا ایک سے زیادہ زبانوں، جو یونین ٹیریٹری میں لاگو ہیں، یا ہندی کو بطور سرکاری زبان استعمال میں لا سکتی ہے۔
اردو زبان و ادب کے ماہر پاکستانی صحافی محمد ہارون عباس کا کہنا ہے کہ اردو صدیوں سے سابق ریاست کے تینوں خطوں میں مختلف زبانیں بولنے والے باشندوں کے درمیان ایک پل کے علاوہ تینوں خطوں کی عوام کے لیے رابطے کی زبان ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کہا کہ اردو کشمیر کی پہچان، تہذیب اور شناخت ہے۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں، ہوائی اڈوں، کرکٹ اسٹیڈیمزاور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوںکے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق اس سلسلے میں غور و خوض کیاجارہا ہے اور توقع ہے کہ 15نومبر تک کوئی فیصلہ کر لیا جائیگا۔
بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد وادی میں ٹرین سروس منگل سے دوبارہ شروع ہوگئی۔جموں و کشمیر ریلوے انتظامیہ نے ٹرین سروس بحال کرنے سے قبل ریلوے کی پٹریوں کا معائنہ کیا اور سرینگر سے بارہمولہ تک ٹرائل ٹرین چلائی۔جموں و کشمیر ریلوے کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرین نمبر 74619 صبح 10.05 بجے سرینگر سے روانہ ہوئی اور 11.45 بجے بارہمولہ پہنچی۔ٹرین نمبر74618 ، 11.55 بجے بارہمولہ سے روانہ ہوکر 1.40 بجے سرینگر پہنچی۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ٹرین سروس کو مرحلہ وار شروع کیا جائے گا اور چند روز کے بعد بارہمولہ سے بانیہال کا ٹریک بھی شروع کر دیا جائے گا۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کی مذمت کے لئے مقبوضہ برطانیہ کے علاقے برٹن کے ہزاروں افراد نے لندن میں بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔اس مظاہرے کا اہتمام ایک کشمیری تنظیم کشمیر فورم نے کیا تھا۔کشمیر فورم کے ترجمان نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ احتجاج کشمیر کی صورتحال پر بیداری پیدا کرنے اور ان ‘غیر انسانی’ حالات کو اجاگر کرنے کے لئے کیا گیا تھا جن کا فی الحال کشمیری عوام سامنا کر رہے ہیں۔برٹن میں کشمیر فورم کے چیئرمین خادم ٹھٹھال نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لندن کی گلیوں میں بڑے پیمانے پر اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برٹن برادری اس میں شامل ہو رہی ہے اور کشمیریوں کے لئے اپنی حمایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔
ایک کشمیری تھنک ٹینک کشمیرشماریات مرکز(KSC) اور کشمیری صحافیوں کی تنظیم ایسوسی ایشین آف کشمیری ڈس پلیسڈ جرنلسٹس(AKDJ) کے زیر انتظام15نومبرسہہ پہر تین بجے اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینارمنعقد کیا جارہا ہے جس کا عنوان ‘تنازعہ کشمیر : بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، بھارتی تسلط اور ہندوتوا ۔ امن اور انسانیت کے لئے چیلنج اور خطرہ’ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وفاقی وزیربرائے امور کشمیر علی امین گنڈا پورکے علاوہ ڈاکٹر محمد فیصل ترجمان دفترخارجہ ، سابق سفیر عبدالباسط ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ایم ایس شیخ تجمل الاسلام ، ڈاکٹر ماریہ سلطان چیئرپرسن / ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ (SASSI) یونیورسٹی، چیئرمین تنظیم امن و ثقافت مشعال حسین ملک اورماہربین الاقوامی قانون بیرسٹر افضل حسین جعفری اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون کے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر کی شناخت ، تہذیب وتمدن، ثقافت کے خا تمے کا عمل شروع کر دیا ہے ۔کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کشمیر یوں کی شناخت بچانے کیلئے موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حق خودارادیت کشمیریوں کا حق ہے اور بھارت کو انہیں یہ حق دینا ہوگا۔ لندن میں مقیم ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر مزمل ایوب ٹھاکر اور کشمیری خاتون رہنما شائستہ صفی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ سمیت گرفتار تمام سیاسی رہنماوںکی رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو حراست سے آزاد کیا جائے اور جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بحال کی جائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قائدین کی حراست غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔ ہائیکورٹ کے سکریٹری رتن لال گپتا نے کہاکہ یہ ضروری ہے کہ تمام قائدین کو رہا کردیا جائے اور دیگر افراد کو جو 5 اگست سے زیرحراست ہیں، رہا کردیا جائے۔ جموں و کشمیر سے دستور ہند کی دفعہ 370 کی معطلی کے بعد یہ حراستیں عمل میں آئی تھیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں منگل کے روز ایک مسافر گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس سے بارہ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈوڈہ ، ممتاز احمد نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہ حادثہ ضلع کے مرمت کے علاقے کے قریب ہوا۔اس افسر نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ گاڑی کھلینی سے مرمت کے گووا گاؤں جارہی تھی جب اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی۔
جموں سرینگر قومی شاہراہ آمد و رفت کے لیے بحال کر دی گئی ۔جموں سرینگر قومی شاہراہ چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے بند تھی جہاں منگل کو دو روز بعد گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی گئی۔دو روز قبل رامبن میں ڈیگڈول کے قریب قومی شاہراہ پر زمین اور چٹانیں کھسک گئی تھی جس کی وجہ سے شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدو رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ٹریفک پولیس کے سربراہ نے ساؤتھ ایشین وائرکو بتایاکہ گذشتہ روز 270 کلو میٹر لمبی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر بھاری چٹانیں کھسکنے سے سڑک نقل و حرکت کے لیے دوبارہ بند ہو گئی تھی جس کی وجہ سے تقریبا دو ہزار گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔ پھنسی ہوئی گاڑیوں کو اب جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں منگل کو ایک تیندوے نے 18 سالہ لڑکے کوہلاک کر دیا۔ایک پولیس عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ پیرشوتم کمار پر پیر کی رات دیر گئے رامکوٹ کے علاقے مکوال گاؤں میں اپنی رہائش گاہ کولوٹتے ہوئے تیندوے کے حملے میں ہلاک ہوا۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی لاش جھاڑیوں سے برآمد ہوئی ہے اور قانونی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد آخری رسومات کے لئے اس کے اہل خانہ کے حوالے کردی گئی۔اس واقعے نے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے ۔
-
مقبوضہ کشمیر: دو نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا
سرینگر:بھارتی افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری وساری ہے، اور دوسری طرف کشمیری بھی آزادی کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، اطلاعات کے مطابق جموں و کشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پورہ میں گذشتہ روز سے جاری سرچ آپریشن میں دو نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بانڈی پورہ کے لوڈارہ علاقے میںاتوار کے روز سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی مہم شروع کی گئی۔ تلاشی کارروائی کے دوران ایک نوجوان کو کل رات اور ایک کو پیر کی صبح شہید کر دیا گیا۔شہید نوجوانوں کی شناخت نہیں ہو سکی
دوسری طرف ان دوکشمیریوں کی شہادت کےخلاف بانڈی پورہ میں لوگ احتجاج کرتے ہوئے اپنے گھروں سے نکل آئے بھارتی افواج کے خلاف زبردست نعرے بازی کی، اس موقع پر کشمیری خواتین نے بھی کشمیربنے گا پاکستان کے نعرے لگاکر بھارت کو اپنے آخری اورحتمی فیصلے سے آگاہ کردیا
-
جوکشمیریوں کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا
لندن:جوکشمیریوں کا حامی ہو اسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا ، اطلاعات کے مطابق 12 دسمبر کو برطانیہ میں ہونے والے انتخابات سے پہلے ، بی جے پی کابیرون ملک ایک حامی گروپ ،بھارتی باشندوں کو لیبر پارٹی کو کو ووٹ نہ دینے اورقدامت پسندوں کی حمایت کرنے پر مجبور کررہا ہے۔
کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم…
اوورسیز فرینڈز آف بی جے پی کے صدر کلدیپ سنگھ شیخوات نے سردیوں کے انتخابات میں "لیبر پارٹی کو ووٹ نہ ڈالنے” کے لئے مندروں ، گرودواروں اور کمیونٹی تنظیموں کے توسط سے ہندوستانی باشندوں کو متحرک کرنے کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔القمرآن لائن کے مطابق لیبر پارٹی نے 25 ستمبر اپنی پارٹی کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں "کشمیر میں بین الاقوامی مداخلت اور اقوام متحدہ کے زیرقیادت رائے شماری کے مطالبے کی حمایت کی گئی تھی۔”
کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان
ذرائع کے مطابق وریندر شرما اور بیری گارڈنر جیسے لیبر ارکان اسمبلی نے ان کی پارٹی کے اس اقدام پر "مایوسی” کا اظہار کیا۔ ہندوستانی لیبر ارکان پارلیمنٹ اور ہندوستانی باشندوں نے اس معاملے پر "تشویش” کا اظہار کیا ہے۔شیخوات نے کہا کہ اب ہم کنزرویٹو کی حمایت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہے ۔ برمنگھم میں مقیم تحریک کشمیر یوکے کے صدرراجہ فہیم کیانی نے کہا کہ ان کے نزدیک ، "مسئلہ کشمیر یہاں انتخابات کا فیصلہ کن عنصر ہے۔”
ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوںکی محبت ہفتوں میں ختم