قصور
کشمیریوں کی آہوں اور سسکیوں نے عرش الہٰی کو ہلا کر رکھ دیا ہے کشمیر کے لاک ڈاؤن کو نظر انداز کرنے پر اللّٰہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کی طرف دھکیل دیا ہے مسلمان حکمران اگر اب بھی متحد نہ ہوئے تو مزید ذلیل وخوار ہوتے رہیں گے ان خیالات کا اظہار امیدوار برائے ممبر پنجاب بار( قصور سیٹ) چوہدری امجد اقبال خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ مظلوم کی آہیں عرش الہٰی کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں مظلوم کی حمایت کرنے سے اجر عظیم ملتا ہے ستر سال سے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اقوام متحدہ نے بھی آج تک مسلمانوں کی حمایت میں کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا اقوام متحدہ کفار کی ایجنٹ بنی ہوئی ہے کشمیر، فلسطین، افغانستان، یمن اور شام وغیرہ میں ظلم و ستم اقوام متحدہ کو کبھی نظر نہیں آیا کشمیر میں مودی کی طرف سے کئے جانے والا لاک ڈاؤن اقوام متحدہ اور دیگر نام نہاد آزادیِ کے علمبرداروں کو نظر نہیں آیا گزشتہ نو ماہ سے کشمیریوں کی زندگی کو عزاب بنا رکھا ہے بے شمار نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہے اور لاتعداد نوجوانوں کو عقوبت خانوں میں ڈال کر لا پتہ کر دیا گیا ہے کشمیریوں کی آہوں اور سسکیوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے عرش عظیم کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کی طرف دھکیل دیا ہے ہم سب کو چاہئیے کہ اپنے گناہوں کی اللّٰہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور دنیا بھر میں جہاں بھی کسی پر ظلم ہو تو مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے
Tag: کشمیر
-

کشمیریوں کی آہ پوری دنیا کو لے ڈوبی
-

کیا ریاض نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہوئی؟ تحریر :غنی محمود قصوری
گزشتہ سال 5 اگست سے تاحال مقبوضہ وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے جس کی بدولت کشمیریوں کا کاروبار زندگی معطل ہے انٹرنیٹ و موبائل سروس بند ہے کرونا کی وجہ سے پچھلے ماہ انٹرنیٹ کی بحالی چند علاقوں میں بطور مجبوری کی گئی تھی جسے اب ریاض نائیکو کی شہادت پر پھر بند کر دیا گیا ہے
اس وقت مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں تقریںا 10 لاکھ انڈین فوج و پولیس تعینات ہے جبکہ مقبوضہ وادی کی آبادی 80 لاکھ ہے یعنی ہر 8 کشمیریوں پر ایک قابض ہندو فوجی مسلط ہے اور یوں وادی کشمیر جنت نظیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے
90 کی دہائی سے غیور کشمیری انڈین فوج کے ساتھ مسلح نبرد آزما ہیں جس کی بابت ہندو آئے دن کرفیو لگائے رکھتا ہے مگر موجودہ مودی گورنمنٹ نے وادی میں طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے
اس لاک ڈاؤن سے قبل انڈین فورسز سے لشکر طیبہ،حرکت المجاہدین،البدر،جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی مسلح جہادی تنظمیں ہی متحرک تھیں مگر حیرت انگیز طور پر جب سے انڈیا نے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کرکے طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہے تب سے مسلح جہادی تنظیموں میں اضافہ ہوا ہے ان نئی تنظیموں میں تحریک ملت اسلامی جموں و کشمیر ،جموں و کشمیر غزنوی فورس،دی جوائنٹ کشمیر فرنٹ اور دی ریزیڈنس فرنٹ نامی مسلح جہادی تنظمیں بھی بڑی تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہیں
رواں سال جنوری سے اب تک انڈین فورسز نے ظلم و بربریت کو برقرار رکھتے ہوئے 27 بڑے آپریشن کئے ہیں جن میں 64 مجاہدین شہید اور 25 گرفتار ہوئے ہیں اور یہ شہادتیں اور گرفتاریاں تاریخی لحاظ سے اب تک سب سے زیادہ ہیں
6 مئی 2020 کو حزب المجاہدین کے ٹاپ کمانڈر ریاض نائیکو بھی انڈین فورسز کیساتھ جھڑپ میں شہید ہو گئے ہیں جس سے تحریک آزادی کشمیر سے پیار کرنے والے خاص طور پر فکر مند ہو گئے ہیں مگر جانتے ہیں کیا واقعی نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہو گی؟
33 سال قبل پلوامہ کے گاؤں بیگ پور میں اسد اللہ نائیکو کے گھر ریاض نائیکو نے آنکھ کھولی ریاض نائیکو تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریاضی ٹیچر مقرر ہوئے مگر ان کا خواب انجینئر بننا تھا مگر ان کے اندر کا ریاضی دان ہر وقت انڈین فورسز کے ظلم کو بھی جمع کرتا رہا 2003 میں ریاض نائیکو کی والدہ کے کزن کو انڈین فورسز نے جعلی مقابلے میں شہید کر دیا اور وقت فوقتاً ریاض نائیکو کے گھرانے کو بھی تلاشی کے بہانے تنگ کیا جاتا رہا جس پر نائیکو سخت نالاں تھے اور بالآخر 21 مارچ 2010 کو حزب المجاہدین سے اپنی مسلح زندگی کا آغاز کیا اور بہت جلد نائیکو نے ایک ماہر ریاضی دان ہونے کے ناطے انڈین فورسز کی مشکلات میں جمع کا اضافہ کیا 2016 میں ٹاپ کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ان کو حزب المجاہدین کا آپریشنل چیف مقرر کیا گیا اور جلد ہی نائیکو کی صلاحیتوں سے انڈین فورسز بوکھلا گئیں اور ان کے سر کی قیمت 12 لاکھ روپیہ مقرر کر دی گئی وانی کی شہادت کے بعد وہ سب سے معتبر اور زندہ ٹاپ کمانڈر تھے جنہیں ڈھونڈنے کیلئے انڈین فورسز نے کئی آپریشن کئے مگر ہر بار ناکام رہی 2 مئی کو انڈین فورسز اپنے ایک کرنل،میجر اور سپیشل آپریشنل گروپ کے کمانڈو کی ہلاکت کے بعد سخت ہواس باختہ ہو گئی ایسے میں 6 مئی کو گزشتہ 6 ماہ سے ایجنسیوں کے سپیشل ٹارگٹ ریاض نائیکو کی اطلاع سکیورٹی فورسز کو ملی جنہوں نے اپنی حال ہی میں بنی درگت کا بدلہ لینے کیلئے بہت بڑا آپریشن کیا مگر نائیکو کو زندہ پکڑنے میں ناکام ہونے پر نائیکو کے پناہ حاصل کئے ٹھکانے کو بارود سے اڑا کر نائیکو کو شہید کر دیا گیا ان کیساتھ اور مجاہد بھی شہید ہوئے نائیکو کی شہادت پر انڈین فوج نے ایک تاریخی خوشی محسوس کی اور ایسے اظہار کیا جیسے اب تحریک آزادی کمزور ہو جائے گی مگر وہ بھول گئے ہیں کہ ابو قاسم کی شہادت سے برہان وانی ابھر کر سامنے آیا تھا پھر اس کے بعد ریاض نائیکو انڈین فورسز کیلئے ڈراؤنا خواب بن گیا تھا حالانکہ اس وقت تک پہلے والی فریڈم فائٹرز تنظیمیں ہی تھیں جبکہ اب 4 مذید نئی مسلح عسکری تنظیمیں بھارت کے مدمقابل ہیں اور ان کے سربراہان انڈین فورسز کیلئے اپنے ویڈیو پیغام بھی جاری کر چکے ہیں جو کہ انڈین فورسز کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں
نائیکو کی شہادت سے نئے نوجوان تحریک آزادی کیلئے میدانوں میں اتریں گے جیسے نائیکو اترا تھا سو یہ تحریک آزادی مذید تقویت کیساتھ انڈین فورسز کیلئے سر درد بنے گی اور تقویت پائے گی کیونکہ تاریخ گواہ ہے کشمیریوں نے نا اپنے ارادے بدلے ہیں اور نا ہی اپنے نعرے اب ہر آنے والے دن میں کشمیریوں کے دلوں میں جذبہ آزادی ابھر رہا ہے
شہید کی جو موت ہے قوم کی وہ حیات ہے -

ہیلتھ ایمرجنسی نفاذ کے بعد سول ڈیفنس رضاکار و اہلکار متعینہ علاقوں میں خدمات سر انجام دے سکیں گے، حکم نامہ جاری
مظفرآباد: ڈپٹی کمشنر مظفرآبادنے بطور کنٹرولر شہری دفاع دوران لاک ڈاونCOVID-19 عوامی مفاد میں 52 رضاکاران سول ڈیفنس کو 8 سیکٹرز میں تعینات کرنے کا حکم جاری کردیا حکم نامہ کے مطابق ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ رضاکاران واہلکاران متعینہ علاقوں میں خدمات سر انجام دیں گے کوئی رضاکار جائے تعیناتی سے ہٹ کر دوسرے ایریا میں ڈیوٹی نہیں کرسکے گا.
حکم نامہ کے مطابق عوامی شکایات کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر نے رضاکاروں مطلع کیا ہے کہ وہ اپنے مختص شدہ علاقے میں ہی کام کرسکیں گے کسی دوسرے شخص کو سول ڈیفنس کی شرٹ پہننے کی اجازت نہیں دیں گے اور کوئی اجازت کے بغیر کام نہیں کرسکے گا خلاف ورزی پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی.
ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری حکم نامہ کے مطابق یہ رضا کار اپر اڈہ, عید گاہ روڈ, پوسٹ گریجویٹ بوائز کالج, ڈی سی آفس,امبور,نلوچھی,کامسر,پلیٹ لاہوری ہوٹل اور چہلہ میں خدمات سرانجام دیں گے اور مختلف ایریاز کے انچارج سینئر رضا کار ایڈیشنل چیف وارڈن, ڈویژنل وارڈن,ڈپٹی چیف وارڈن, سیکٹر وارڈن, پوسٹ وارڈن,گروپ وارڈن, گروپ وارڈن انچارج اور ڈپٹی پوسٹ وارڈن شامل ہیں.
حکم نامہ کے مطابق دوسرے علاقوں میں رضا کاران کی ضرورت پڑنے پر مطابقاً رضاکار شفٹ کئیے جائیں گے مگر از خود کوئی یہ عمل نہیں کرسکے گا. -

طاقت کے نشے میں دھت "انڈیا” نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم سے باز نہ آیا، حکومت پاکستان اس عالمی دہشت گرد کو نکیل ڈالنے میں بری طرح ناکام ھے. سروے
نیلم آزاد کشمیر (عطاءالرحمن) دنیا کرونا کی وباء سے پریشان ہے مگر طاقت کے نشے میں دھت "انڈیا” نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم سے باز نہ آیا. پچھلے تین روز سے نیلم میں عالمی دہشتگرد بھارت کی جانب سے آئے روز فائرنگ معمول بن گیا ھے۔ایک طرف پوری دنیا کرونا جیسے عالمی وبا سے خوفزدہ ہیں اور اس سے لڑ رہے ہیں۔دوسری جانب دنیا جہاں کا کمینہ بزدل گھس بیٹھیا بھارت آے روز کشمیر کے معصوم شہریوں پہ گولے برسا رہا ہے بارود اور دھویں کے اس کھیل میں دونوں جانب معصوم کشمیریوں کی زندگیاں عزاب بنای جا رہی ہیں۔
لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بناے گئے 10×10 فٹ کے مورچوں میں جاتے ہیں کہ گولہ بارود سے خود کو بچا سکیں مگر دس پندرہ افراد کا اکٹھا رہنا کرونا آیٕسولیشن کے حفاظتی قانون کو توڑ دیتا ہے ۔جس طرف بھاگیں موت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی اور دکھای دے رہی ھے۔ہر لحاظ سے موجودہ حکومت بری طرح ناکام ہے وفاقی حکومت تو اس عالمی دہشت گرد کو نکیل ڈالنے میں بری طرح ناکام ھے خارجہ پالیسی صفر ھے مفاہمتی دم ہلانے والی پالیسی پہ عمل پیرا ہے مگ ریاستی حکومت بھی بری طرح ناکام وہ دفاہی حکمت عملی ہو یا کرونہ ہر لحاظ سے ناکام ھے ۔
کئی بار بارڈر پہ رہنے والے بے گناہ معصوم و مظلوم لوگوں کے لیے آر۔سی۔سی بنکر کے اعلانات ہوے مگر عمل وفاقی حکومت کی طرح جھوٹے سپنے ہی نکلے۔برداشت کی سب حدیں اب پار ہو چکی ہیں.
اور اگر حکومتی سطح پر اس بزدل خونخوار وحشی درندے کو نکیل نہیں ڈالی جا سکتی اور امن کو بحال نہیں کیا جا سکتا تو عوام آخری حد تک جا سکتی ہے لاک ڈاون توڑنا پڑے گا یا پھر امن کے لیٕے حکومتیں وفاقی اور ریاستی حکومت مل کر کوی حکمت عملی بنإیں تاکہ روز روز کے اس عزاب سے جان چھوٹ جائے۔
مشرف کے دور میں اگر سیز فإیر ہو سکتا ہے تو اب کیوں نہیں۔ مگر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے والا اور دشمن کو اسی کے لہجے میں سمجھانے والا اب شاید کوی نہیں۔مشرف سے لاکھ اختلاف مگر وہ ہمارا ہیرو ھے۔اس کے دور میں نیلم ویلی سمیت پورے کشمیر کے بارڈر پر امن رہے اور لوگوں نے سکون دیکھا. -
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آبادکاری تحریر عدنان عادل
ایسے وقت میں جب ساری دنیا کورونا وبا سے مقابلہ میں مصروف ہے ‘ بھارتی ریاست نے اپنی روایتی مکاری سے کام لیتے ہوئے مقبوضہ جمو ں کشمیر ریاست کو ہڑپ کرنے کی طرف ایک اور بڑا قدم اُٹھایا ہے۔ چند روز پہلے بھارتی حکومت نے ایک نیا ڈومیسائل قانون جاری کیا جس کے تحت مقبوضہ ریاست میں بھارت کے دیگر باشندوں کو بڑے پیمانے پر آباد کیا جاسکے گاجیسے اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں دنیا بھر کے یہودیوں کو آباد کیا ہے۔مقصد یہ ہے کہ جموں کشمیر ریاست میں زمینی حقائق تبدیل کردیے جائیں‘ اُسکے کشمیری تشخص ‘اُسکی مخصوص تہذیب کو تحلیل کردیا جائے اوراس خطّہ میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کو بتدریج اقلیت بنا دیا جائے۔ آٹھ ماہ پہلے پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیرریاست کو اپنے ملک کے آئین میں آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور کشمیری عوام کے ردّعمل سے بچنے کی خاطر کشمیر وادی کا لاک ڈاؤن کردیا تھا جو اب تک جاری ہے۔
کشمیریوں کے ٹیلی فون ‘ انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی پابندی ہے تاکہ کشمیری باہر کی دنیا سے رابطہ نہ کرسکیں ‘ اپنی حالت ِزار کے بارے میں دنیا کو آگاہ نہ کرسکیں۔آزاد ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میںپانچ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج‘ ایک لاکھ پولیس اور تیس ہزار خصوصی پولیس تعینات ہے تاکہ کشمیری عوام بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاج نہ کرسکیں۔مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے تحت ریاست کو اپنا جھنڈا رکھنے‘ اپنے قوانین نافذ کرنے کی اجازت تھی۔ کشمیر سے تعلق نہ رکھنے والے بھارتی یہاں کا ڈومیسائل حاصل نہیں کرسکتے تھے ‘ نہ ریاست میں زمین‘ جائیداد خرید سکتے تھے۔خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد جموں کشمیر کے یہ تمام حقوق اُن سے چھین لیے گئے جن کے وعدہ پر شیخ عبداللہ ایسے کشمیری رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ ملنا قبول کیا تھا ۔ اب کشمیریوں کے حقوق کو مزید پامال کرنیکی غرض سے بھارتی حکومت نے ڈومیسائل کا جو نیا قانون نافذ کیا ہے اسے جموںو کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 کا نام دیا گیا ہے۔ اسکے مطابق ہر وہ بھارتی شخص جو پندرہ سال مقبوضہ کشمیر میں رہ چکا ہو، اسے کشمیر کا مستقل رہائشی تسلیم کیا جائے گا‘ ہر وہ شخص جو سات سال تک مقبوضہ کشمیر کے کسی تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کرتا رہا ہو یا اس نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان یہاں کے بورڈ سے پاس کیا ہو وہ بھی کشمیری ڈومیسائل حاصل کرسکے گا۔ اِس قانون کے مطابق بھارت کی مرکزی حکومت کے ملازمین جو اس علاقہ میں دس سال تک تعینات رہے ہوں وہ جموں کشمیر کا ڈومیسائل لینے کے اہل ہوں گے۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے بھارت کے تمام شہریوں کو جموں کشمیر میں سرکاری ملازمت کرنے کا حق دیدیا گیا ہے جو پہلے صرف ریاست کے مستقل باشندوں کو حاصل تھا۔ صرف درجہ چہارم کی ملازمتوں پرمستقل باشندوں کا خصوصی حق رہنے دیا گیا ہے۔نئے قانون کے تحت وہ ہندو اور سکھ جو قیام پاکستان کے بعدہجرت کرکے جموں کشمیر ریاست میں جا کر آباد ہوگئے تھے انہیں بھی مقبوضہ ریاست کا ڈومیسائل مل جائے گا۔بھارت کے مسلمانوں کی غالب اکثریت غریب ہے ‘ وہ تو کشمیر میں جاکر زمین‘ جائیداد نہیں خرید سکتے۔صرف دولت مند ہندو جموںکشمیر میں زمین خریدیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر پر پالیسی بنانے میں بھارت کا اُستاد اسرائیل ہے ۔ کشمیر پر اپنا غیرقانونی قبضہ جاری رکھنے کی خاطر بھارت ہر وہ کام کررہا ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لیے ستّر برسوں سے کرتا آرہا ہے۔ اس نے نیا قانو ن بھی اُن اسرائیلی قوانین کی طرز پر بنایا ہے۔نئے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آزاد کشمیریا پاکستان آجانے والے مہاجر بھی اپنی کشمیری شہریت سے محروم ہوجائیں گے جیسے لاکھوں فلسطینی مہاجر ۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی یہودی بستیاں آباد کرکے جو غاصبانہ قبضہ کیا ہے وہی کام بھارت مقبوضہ کشمیر میں شروع کرنے جارہا ہے۔ ان اقدامات کے بعد کشمیر کے باشندے اپنی شناخت‘ تعلیم کے مواقع‘زمین کی ملکیت کے حقوق کے بارے میں ایک نئی تشویش اور اضطراب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
کشمیری رہنماؤں اور دانشوروں نے ڈومیسائل قانون کی سخت مذ مت کی ہے لیکن طاقت کے نشہ میں بدمست بھارتی ریاست پر اسکا کوئی اثر نہیں۔ بھارت کی پالیسی ہے کہ طویل عرصہ تک طاقت کے زور پر کشمیر کی مزاحمت کو دبائے رکھو تاکہ کشمیری بالآخر تھک ہار کر بیٹھ جائیں ۔ بھارت کاخیال ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کورونا کی وبا سے نپٹنے میں لگے ہوئے ہیں‘ ایسے موقع پر عالمی برادری کشمیر کے معاملہ پر زیادہ توجہ نہیں دے گی ۔ یوں بھی جب بھارت نے کشمیر کا خصوصی آئینی درجہ ختم کیا تھا تو عالمی برادری نے اس کے خلاف کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی تھی۔ حتی کہ پاکستان‘ ترکی اور ملائشیا کے سواتمام مسلمان ملکوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی تھی۔ایران نے بھی صرف لاک ڈاؤن کی سختی پر تنقیدکی تھی‘ خصوصی حیثیت ختم کرنے پر نہیں۔ اب بھی بین الاقوامی برادری سے کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی مؤثر امداد کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔دنیا کوبھارت سے وابستہ اپنے معاشی مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ ہلکی پھلکی بیان بازی بھی ہوجائے تو غنیمت ہے‘ اسکے لیے بھی پاکستان کو ایک زوردار سفارتی مہم چلانا پڑے گی۔ کشمیری اپنی آزادی اورحقوق کے تحفظ کی جنگ میںاس وقت تنہا ہیں۔پاکستان کو ان کی ہر ممکن مد دکے لیے آگے بڑھناچاہیے کیونکہ بھارتی جارحیت کا یہ سلسلہ رُکے گا نہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگلے مرحلہ میں بھارت طاقت کے زور پرمقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کشمیر کے طرف ہجرت کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جس سے ایک نیا بحران جنم لے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تازہ اقدامات خود پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
عدنان عادل

-

سرگودھا:ایس ایچ او تھانہ بھاگٹانوالہ کی کارروائی، قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری مجرم گرفتار
سرگودھا:ایس ایچ او تھانہ بھاگٹانوالہ کی کارروائی، قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری مجرم گرفتار
سرگودھا: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمارہ اطہر کی ہدایت پراشتہاری مجرمان کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ بھاگٹانوالہ خرم شہزاد نے سب انسپکٹر محمد اکرم پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ کارروائی کے دوران قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری مجرم خرم ولد سیف اللہ سکنہ چک نمبر87جنوبی کو گرفتارکرلیا ہے۔ گرفتارملزم نے مئی 2014میں معمولی تلخ کلامی پر اپنے دیگر دوساتھیوں کے ساتھ ملکر محمد نعیم کو ناحق قتل کر دیا اور گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہوگیا جس کو ایس ایچ او تھانہ بھاگٹانوالہ اور انکی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتارکر کے حسب ضابطہ کارروائی شروع کر دی ہے مزید تفتیش جاری ہے۔ -

لاک ڈاؤن بمقابلہ لاک ڈاؤن !!! تحریر: محمد طارق
ابھی سندھ، پنجاب ، آزاد کشمیر، کے پی اور گلگت بلتستان میں لاک ڈائون کو صرف 3 دن ہوئے ہیں پاکستان کے کسی بھی حصے میں لاک ڈائون کے دوران نہ تو کسی کو غدار قرار دے کر گولی مارنے کا حکم ہے اور نہ ہی ضروریات زندگی کی اشیاء کی تمام دوکانیں بند ہیں، نہ گلی گلی بندوق بردارکھڑے ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو فکر ہے کہ لاک ڈائون کے دوران کیا ہو گا عوام تو عوام اربوں کھربوں ڈالر اور بے پناہ طاقت کے وسائل رکھنے والی پاکستانی حکومت بھی پریشان ہے کہ 14 دن کے لاک ڈائون کے نتائج کیا ہوں گے؟ دوسری طرف 7 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے لاک ڈائون کر رکھا ہے جس کو دل چاہا اور جس شہر یا چوک میں چاہا غدار قرار دے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا، 7 ماہ سے 8 لاکھ ظالم فوج 80 لاکھ کشمیری مسلمانوں پر بندوق تانے کھڑی ہے گھر سے باہر جیسے ہی قدم رکھا جاتا ہے درجنوں گولیاں جسم کے آر پار کر دی جاتی ہے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں اور جوان مسلمان لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر بے آبرو کر دیا جاتا ہے، درجنوں والدین کی روزانہ شہادت سے سینکڑوں بچے یتیم ہو رہے ہیں لیکن اس لاک ڈائون پر نہ کسی کی زبان ہلی، نہ کوئی آنکھ نم ہوئی۔ نہ کوئی محمد بن قاسم آیا اور نہ ہی دنیا میں امن کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کی نیٹو نے بھارتی فوج کا ہاتھ روکا۔ غرض یہ کہ دنیا میں کشمیری قوم تن تنہا بھارتی فوج کا ظلم برداشت کر رہی ہے۔ ہر مذہب (مسلمان، ہندو، عیسائی، بدھ مت اور غیر مذہب) نے ان کو تنہا چھوڑ دیا لیکن نہیں چھوڑا تو میرے پروردگار آللہ تعالیٰ کی ذاتِ نے ان کو تنہا نہیں چھوڑا،
میرے دوستو مجھے اجازت دو تو میں آج کہہ دینا چاہتا ہوں کہ شائد کشمیری اللہ تعالیٰ کو اتنے پیارے لگے ہیں کہ ان پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر چپ رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے کرونا وائرس کا لاک ڈائون سب سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت چین سے ہوا۔ خودساختہ سپر پاور امریکہ بھی شکنجے میں جکڑا گیا۔ بھارت کا یار ایران بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھرا ہے جانوروں کے حقوق پر جلوس نکالنے والا یورپ اور کشمیر میں لاکھوں شہادتوں پر چپ رہنے والے یورپ کا حال دیکھ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اب مظلوم قوم کا ہمسائے ملک پاکستان کی بھی حالت تشویشناک اور قابل رحم ہوتی جا رہی ہے دنیا میں کرونا وائرس کے نام پر ہونے والے لاک ڈائون اور اس کے بعد والے حالات سے لاکھوں بلکہ کروڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
میں یہاں پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر دنیا چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کرے اور دنیا وائرس سے محفوظ ہو جائے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا لاک ڈائون ختم کرنا ہو گا اور ساتھ ساتھ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے والے گناہ پر توبہ کرنی ہو گی ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے لاک ڈائون کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرتے ہوئے دنیا میں کرونا وائرس کا لاک ڈائون ختم کر دے۔ -

ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی تحریر: غنی محمود قصوری
ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوا اس 90 سالہ بزرگ کا بچپن ،جوانی اور اب بڑھاپا بھی ہندو کے ظلم و جبر میں گزرا اور اب بھی اتنی بزرگی میں ہونے کے باوجود اپنی ہی وادی کشمیر جنت نظیر میں اپنے ہے گھر میں ہندو کی نظر بندی میں زندگی بسر کر رہے ہیں
5 اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد پوری حریت قیادت کی طرح سید علی گیلانی صاحب بھی اپنے گھر سوپور میں نظر بند ہیں مسلسل 7 ماہ سے زائد کی نظر بندی کی بدولت ان کی صحت انتہائی متاثر ہوئی ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بن جانے سے انہیں تکلیف کا سامنا ہے سید صاحب کی صحت انتہائی تشویشناک ہے جس پر پوری کشمیری قوم کیساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ان کی صحت و تندرستی کیلئے دعا گو ہے
سید علی گیلانی صاحب الحاق پاکستان کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فوجوں کے خلاف پاکستان اپنی فوجیں مقبوضہ وادی کشمیر میں داخل کرے اور انڈیا کی طرف سے اقوام متحدہ کی نا مانی جانے والی قرار دادوں پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروا کر تنازعہ کشمیر کو حل کروایا جائے
سید علی گیلانی صاحب کی 90 سالہ عمر کا زیادہ حصہ انڈین جیلوں اور نظر بندیوں میں گزرا ہے
جب انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاءون کرنے کیساتھ انٹرنیٹ و موبائل سروس بند کرکے کرفیو لگایا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تب گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا کہ کشمیر کیلئے تب کچھ کرو گے جب ہم مٹ جائینگے
سید صاحب نے شروع سے ہی اس نظریے کے حامی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراد دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور اپنی فوجیں کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دے جس کی بدولت سید صاحب کو ہمیشہ سے پابندیوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ سید صاحب 90 سال سے زائد العمر ایک معمر اور ضعیف شحض ہیں مگر پھر بھی ان کی ایک آواز پر ان کی تحریک حریت و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ پوری وادی جموں و کشمیر کے لوگ سر پر کفن باندھ کر لبیک کہتے ہیں جس کے خوف سے انڈیا نے اس عظیم حریت لیڈر کو نظر بند کیا ہوا ہے جو کہ انٹرنیشنل لاء کے سخت خلاف ہے مگر افسوس کے انڈیا کو کوئی پوچھنے والا نہیں مگر اب پوری دنیا کو سید علی گیلانی صاحب کے موقف کا احساس ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال کے بغیر حل نہیں ہو گا جس کی تازہ مثال 5 اگست 2019 سے اب تک پوری وادی کشمیر کا لاک ڈاءون، انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش کے علاوہ سخت ترین کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کی انڈین قابض فوج کے ہاتھوں شہادتیں و کشمیری ماءوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دریوں پر پوری دنیا کے دباؤ پر بھی انڈیا کا کان نا دھرنا اور کشمیریوں کے مصائب میں مذید اضافہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بموقف عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کشمیر بزور شمشیر ہی آزاد ہوگا
دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم حریت قائد سید علی گیلانی صاحب کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی عطا فرما کر انہیں طلوع آزادی کشمیر دیکھنا نصیب فرمائے آمین -

مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا
کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
محمد عبداللہ کی تحریرمقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.
-
5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد!!! تحریر: غنی محمود قصوری
ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جا رہا ہے مگر ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو دن ہم منا رہے ہیں اس کا مقصد کیا ہے اور تاریخ میں اس کی کیا اہمیت ہے
ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریبا 84000 مربع میل ہے جس میں سے 70 فیصد پر انڈیا 1947 سے قابض ہے جبکہ باقی 30 فیصد کا علاقہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ سے زیادہ ہے
80 لاکھ سے زاہد باشندے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو کی غلامی و ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 25 لاکھ کے قریب ریاست آزاد جموں و کشمیر کے آزاد و خودمختار شہری ہیں
1846 میں مسلمانوں کے دشمن انگریز پلید نے ریاست جموں و کشمیر کو غدار ڈوگرہ راجہ غلام سندھ کو اس وقت کے 75 ہزار کے عیوض بیچ دیا تھا پھر تقسیم ہند کے بعد جبکہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں
مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے
عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر
اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں
سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا