Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر میں‌بھارتی مظالم جاری ، وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 53 واں روز، کشمیری پرامید ، بھارت پریشان

    مقبوضہ کشمیر میں‌بھارتی مظالم جاری ، وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 53 واں روز، کشمیری پرامید ، بھارت پریشان

    سری نگر : بھارتی مظالم رکے نہیں ، ابھی تک بھارتی افواج کشمیریوں‌کی تحریک آزادی کو دبانے میں‌ ناکام رہے ، اور کشمیر ی تمام تر مظالم کے باوجود ابھی بھی پرامید ہیں‌کہ آزادی کی منزل بہت قریب ہے، بھارت پریشان ہےکہ جبر اور ظلم کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں‌ہوئے ، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ وادی میں کرفیو کا53 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    ویسے تو بھارت نے ہمیشہ ہی مقبوضہ کشمیر میں‌ فوجی بالادستی قائم رکھنےکی کوشش کی لیکن جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ بہت ہی درد ناک ہے، ، یاد رہےکہ بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔مسلسل کرفیو کی وجہ سے زندگی ابتر ہو چکی ہے،مریض تڑپ رہے ہیں، بچے بلک رہے ہیں، ہسپتالوں میں دوائی موجود نہ بازاراروں سے کھانے پینے کی اشیا دستیاب، ہر طرف بھارتی درندے بندوقیں اٹھائے دندنا رہے ہیں، موبائل انٹرنیٹ ابھی تک بند ہیں۔ کاروبار زندگی معطل ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں‌کہ کشمیری اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے، بھارتی فوج نے کپواڑا میں گھر پر دھاوا بول دیا اور سامان کی توڑ پھوڑ کی، پلواما میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے کرفیو نافذ ہے، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہے۔لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند ہے، تمام حریت اور سیاسی رہنماؤں کو گھر اور جیلوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔تمام تر بھارتی مظالم کے باوجود لوگوں کا حوصلہ بلند ہے، مسلسل کرفیو کے باوجود مظاہرے اور جگہ جگہ احتجاج جاری ہے۔

    مقبوضہ وادی سے اطلاعات کےمطابق وادی میں تعینات بھارتی فوج نے خوف کا ماحول بنا دیا، کشمیری اپنے گھروں میں قید ہوگئے، لوگ روزمرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ، بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔وادی میں مارکیٹ، دکانیں، بزنس اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سے سیب کی پکی فصلیں خراب ہونے لگیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فصلیں مارکیٹوں تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔

    عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں‌بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماؤں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی ، تحریر جویریہ رزاق

    "کشمیر ”
    وہ خطہء جس کا نام لکھتے ہوئے دل غم سے پھٹنے لگے
    لکھتے ہوئے الفاظ بھی ساتھ نہ دیں
    کہنے کو میری جنتِ ارضی لیکن حقیقت میں شعلوں کی لپیٹ میں جلتی ہوئی جہنم بن چکی ہے بلکہ بنا دی بھارت کی سفاک درندہ فوج نے
    چناروں کی وادی کوہساروں کی وادی جہنم بنا دی گئی
    ظلم و بربریت کی ایسی المناک دردناک داستانیں کہ اللہ کا عرش بھی ہل گیا ہوگا
    جہاں کے چنار رو رہے ہیں
    جہاں آبشاروں اور جھیلوں میں پانی نہیں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے
    ظلم و ستم کا یہ قصہ کب سے چلتا آ رہا ہے
    جہاں معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے
    ماؤں کی گودیں اجاڑیں جاتی ہیں
    سہاگنوں سے سہاگ چھین لئے جاتے ہیں
    لیکن قربان جاؤں اسلام کی ان شہزادیوں پر جن کے حوصلے گودیں اجاڑ کر جگر کے ٹکڑے قربان کر کے
    سہاگ لٹا کر بھی حوصلے پست نہیں ہوتے
    مسلمان غلامی کبھی بھی قبول نہیں کرتا
    تبھی تو
    ہاں تبھی تو
    آزادی کے یہ پروانے اسلام کے بیٹے کشمیر کے بیٹے ماؤں کے گھبرو جوان لختِ جگر دیوانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں
    آگ اگلتی بندوقوں کے سامنے کشمیر کے دلیر بیٹے نہتے ہی پاکستان کا پرچم سینوں پہ لپیٹے ہوئے آتے ہیں
    اس شعر کی مصداق

    "ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں”

    اور پھر سفاک بھیڑیوں کی گولی اسلام کے بیٹوں کے جگر چھلنی کرتی چلی جاتی ہے
    لیکن پاکستان کی محبت پاکستان کا پرچم شہادت کے بعد بھی ان کے سینے سے جڑا رہتا ہے
    جنازوں پہ پاکستان کے پرچم اور پھر قبروں پر بھی پاکستان کے پرچم اس بات کی گواہی ہیں کہ ہمیں شہید تو کیا جا سکتا ہے لیکن ارض پاکستان سے کبھی بھی الگ نہیں کیا جا سکتا
    ایک بیٹا ابھی ماں دلہا بنا کر جنت کی طرف بھیجنے کو تیاری کر رہی ہوتی ہے کہ دوسرے جوان بیٹے کی میت سبز ہلالی پرچم میں لپٹی گھر آ جاتی ہے
    ایک ہی وقت میں ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اُٹھ رہے ہیں
    اللہ اکبر
    جنکی صبح بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے رات بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے
    پاکستانیوں کیا کبھی سوچا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟
    کیا ہم اپنی ہی دنیا میں مست تو نہیں؟؟
    کیا ہم بھی ان کے لئے اتنی ہی محبت رکھتے ہیں ؟؟
    کیا ہمارے دل بھی ان کے لئے یوں ہی ڈھڑک رہے ہیں ؟؟
    اگر نہیں تو خدارا سنبھل جائیے کہ یہ وقت سونے کا نہیں ہے
    خدا نہ کرے غفلت کی نیند میں سوتے رہنے سے ظلم و بربریت کا یہ سیلاب ہمارے دروازوں تک آ جائے
    اللہ نہ کرے ایسا ہو تو اس پہلے جاگ جائیے
    کہ کلمہ کی بنیاد پر اسلام کی نسبت سے وہ کوئی غیر نہیں ہمارے ہی بیٹے بچے جوان قربان ہو رہے ہیں
    ہماری ہی مائیں بہنیں بیٹیاں عصمتیں لٹا رہی ہیں
    کیا جرم ہے انکا صرف لا الہ الا اللہ
    کلمہ انکا جرم بن گیا
    اسلام کی نسبت سے پاکستان سے محبت انکا جرم بن گئی
    یوں اسلام پورا ہی کفر کی نظر میں مجرم ہے
    آج نہ ہم جاگے تو یہ آگ کے شعلے ہمیں بھی لپیٹ سکتے ہیں
    خدرا جاگ جائیے
    اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے لئے آواز تو بلند کر سکتے ہیں
    ہر جگہ ہر محفل میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کی سفاکیت کا پول تو کھول سکتے ہیں
    ہم انکی آواز تو بن سکتے ہیں نا
    کہ جہاں سے اب انکی دلدوز چیخیں بھی سنائی نہیں دے سکتیں
    موبائل سروس, انٹر نیٹ سب بند کئیے ہوئے نہ جانے ان پہ کیا قیامت بیت رہی ہوگی
    الغرض کشمیر کا چپہ چپہ لہو رنگ ہے کہ بھارت کی درندگی بیان سے باہر ہے
    آخر میں سوال ہے میرا
    عالمی حقوق کی کھوکھلی تنظیموں سے
    "ہاں تم ہی بتاؤ
    انسانوں سے ان کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے کیا عدل و انصاف کے یہ پیمانے ہیں ؟؟”

  • مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم جاری بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 49 واں روز، کشمیری چیخ رہے ہیں جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی

    مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم جاری بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 49 واں روز، کشمیری چیخ رہے ہیں جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا کشمیرکو ہتھیانے کے بعد ظلم کا جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کو بھی آج 49 واں دن ہوچکا ہے ، کشمیری بھارتی مظالم کی وجہ سے چیخ رہے ہیں‌ ، نام نہاد عالمی برادری کو چپ لگ گئی ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو کا49 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    دنیا بھر کا میڈیا بھارتی افواج کے کشمیر میں‌مظالم کو جس طرح بیان کررہا ہے اس سے پہلے ایسی سنگینی کو بیان نہیں کیا ، بھارت کی طرف سے 5 اگست کو کشمیر کو ہتھیانے کے بعد سے لے کر اب تک کشمیری اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے، بھارتی فوج نے کپواڑا میں گھر پر دھاوا بول دیا اور سامان کی توڑ پھوڑ کی، پلواما میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہے۔

    لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند ہے، تمام حریت اور سیاسی رہنماؤں کو گھر اور جیلوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔وادی میں مارکیٹیں ، دکانیں، بزنس اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سے سیب کی پکی فصلیں خراب ہونے لگیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فصلیں مارکیٹوں تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔

    آزادی کے حق میں اور مودی سرکار کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے نہتے افراد پر قابض فوج نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور گولیاں برسائیں جس سے متعدد کی حالت غیر ہوگئی۔ وادی بھر میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں‌، بھارتی مظالم کے خلاف بارہمولا، کپواڑا، باندی پورہ، پلوامہ اور شوپیاں سمیت مختلف اضلاع میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

    مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی فوج نے خوف کا ماحول بنا دیا، کشمیری اپنے گھروں میں قید ہوگئے، لوگ روزمرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ، بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔وادی میں تمام مساجد کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، اب تک ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے

    بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماؤں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

    ایک طرف بھارتی افواج کشمیریوں پر اس قدر مظالم کررہے ہیں کہ جن کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی جانے لگی ہے ، اس کے باوجود تمام تر بھارتی مظالم کے کشمیری مسلمانوں کا حوصلہ بلند ہے، مسلسل کرفیو کے باوجود مظاہرے اور جگہ جگہ احتجاج جاری ہے۔

  • دل تو یہی کرتا ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سے ملاقات نہ کروں، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دل کی بات کہہ دی

    دل تو یہی کرتا ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سے ملاقات نہ کروں، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دل کی بات کہہ دی

    واشنگٹن:پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےدل کی بات کرتے ہوئے کہا ہےکہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی وجہ سے ں بھارتی ہم منصب سے ملنے کو دل نہیں کرتا ،پاکستان کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر چکا ہے جبکہ مسئلہ کشمیر سیکیورٹی کونسل اور ہیومن رائٹس میں بھی زیر بحث آچکا ہے۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) مسئلہ کشمیر پر اپنا مؤقف لے چکی ہے۔ اب دنیا کو مسئلہ کشمیر بتانا ہے۔ کیا مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دنیا خاموش رہے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 48 دن ہو چکے ہیں اور معمولات زندگی مفلوج ہے۔ ہندوستان اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خطے کے معاملات کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے۔

    وزیر اعظم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتوں کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم ضرور ملاقات کرتے کشمیر یوں کا مقدمہ پیش کریں گے، اس کے علاوہ تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی ان کی ملاقاتیں ہوں گی، یہاں کے دو معروف تھینک ٹینکس ایشیا سوسائٹی اور کونسل فار فارن ریلیشنز سے بھی وزیراعظم ملیں گے اور تبادلہ خیال کریں گے۔

  • مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 48 واں روز، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری کی خاموشی جاری

    مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 48 واں روز، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری کی خاموشی جاری

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 48 واں روز، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری کی خاموشی جاری سری نگر سے اطلاعات کےمطابق مقبوضہ وادی میں کرفیو کا48 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،سری نگر کی جامع مسجد میں‌ 5 اگست کے بعد جمعہ کی نماز نہ ہوسکی

    مقبوضہ کشمیرکی صورت حال اس قدر بگڑ گئی ہے کہ وادی میں تعینات بھارتی فوج نے خوف کا ماحول بنا دیا، کشمیری اپنے گھروں میں قید ہوگئے، لوگ روزمرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ، بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔وادی میں تمام مساجد کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، اب تک ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے

    وادی میں مارکیٹ، دکانیں، بزنس اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سے سیب کی پکی فصلیں خراب ہونے لگیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فصلیں مارکیٹوں تک پہنچانے میں ناکام ہیں۔تمام تر بھارتی مظالم کے باوجود لوگوں کا حوصلہ بلند ہے، مسلسل کرفیو کے باوجود مظاہرے اور جگہ جگہ احتجاج جاری ہے۔

    بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماؤں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

  • مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ  کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مدینہ منورہ: پاکستان کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیرکے باسیوں کے دل آواز بن گئی ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دیکھ کر کشمیر مسلمان اُن کے پاس آیا اور اپنی پریشانی بیان کی کہ پلوامہ میں والدین سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے، کشمیر جلد آزاد ہوگا‘۔

    مقبوضہ کشمیر میں‌ہونے والے مظالم سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں کشمیری مسلمان نے بتایا کہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے نوجوان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ جارہے ہیں جہاں کشمیریوں اور کشمیر کا مقدمہ نہ صرف عالمی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا بلکہ ہم اس مقدمے کو اچھے سے لڑیں گے، دعا ہے کہ کشمیریوں کو جلد آزادی ملے، پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

    وزیراعظم پاکستان دو روزہ دورے پر اپنی اہلیہ اور پاکستانی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے عمرہ ادائیگی، روضہ رسول پر حاضری دی اور سعودی حکمرانوں سے بھی خصوصی ملاقاتیں کیں، سعودی عرب سے عمران خان امریکا روانہ ہوگئے ہیں‌۔

  • مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    (ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا، باغی ٹی وی کی ٹیم the quint کی مشکور ہے کہ انہوں نے یہ آرٹیکل شائع کیا )
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
    مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:
    ۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
    ۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
    ۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘
    مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
    ۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
    ۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
    ۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
    ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
    سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
    مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
    تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔
    جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
    جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
    اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
    متحدہ قومیت:
    جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
    متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
    متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
    مدینہ کی مثال:
    حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
    میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
    جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
    جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
    مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
    دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
    لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
    ….گومگو کا شکارمسلمان:
    مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
    سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
    ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
    مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
    مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
    عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
    ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
    آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
    تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
    مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
    باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
    مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
    بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
    ۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
    ۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
    ۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
    ۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
    ۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
    ۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
    ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
    آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
    (ترجمہ رانامحمدآصف)

  • بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    عہد نبوی مبارک ہے،مدینہ منورہ میں بنو قینقاع کا بازار سج چکا ہے،بازار میں ایک یہودی سنار کی دکان ہے،یہودی تاجر کی دکان میں اس کے چند یہودی دوست گپیں ہانک رہے ہیں،اسی دوران ایک مسلمان عورت دکان پر آتی ہے،یہودی تاجر کی شیطانیت جاگ جاتی ہے وہ مسلمان عورت سے چہرے کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتا ہے مسلمان عورت سختی سے منع کرتی ہے،نظریں بچا کر مکار یہودی مسلمان بہن کا آنچل کسی کیل کے ساتھ باندھ دیتا ہے جب وہ جانے کے لئے اٹھتی ہے تو بے پردہ ہو جاتی ہے وہ چیخنے چلانے لگتی ہیں دکان میں بیٹھے یہودیوں کے قہقہے پورے بازار میں سنائی دیتے ہیں دکان کے سامنے سے گزرتا ایک راہ گیر مسلمان یہ منظر دیکھ کر دکان کے اندر چلا آتا ہے اس کی ایمانی غیرت جاگ اٹھتی ہے اور وہ یہودی دکاندار کو قتل کر دیتا ہے،یہودی مل کر اس مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے شہید کر دیتے ہیں،یہ خبر رسول خدا تک پہنچتی ہے آپ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ یہودی بستی کا محاصرہ کرتے ہیں عہد شکنی کے باعث ان سب کو مدینہ منورہ سے نکال باہر کرتے ہیں،انہیں جلاوطن کرتے ہیں.

    ایک مسلمان شخص ایک مسلمان بہن کے لئے جان تک سے گزر جاتا ہے جسے وہ جانتا بھی نہیں ہے کہ کون تھی،رسول خدا نے ان کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ مظلوم کی آواز پر لبیک کہنا ہے،ایک مسلمان بہن کی پکار پر رسول پاک
    خود اس بستی کا محاصرہ کرتے ہیں.

    90 ہجری ہے،حجاج بن یوسف فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں ہیں،خصوصی ایلچی یہ پیغام لیکر داخل ہوتا ہے کہ شاہ جزیرہ یاقوت نے جو تحفے تحائف اور مسلمان عورتیں بھیجا تھا انہیں دیبل کے قریب بحری قزاقوں نے قیدی بنایا ہے ان قیدی عورتوں میں سے ایک نے آپ کو پکارا ہے کہ اے حجاج ہماری مدد کرو،ہمیں اس جہنم سے چھڑاؤ،حجاج بن یوسف اپنی نشست سے اٹھتے ہیں ان کی آنکھوں میں خون اترتا ہے،ان کا چہرہ غصے سے لال ہوتا ہے،اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو بلاتے ہیں ایک مسلمان بہن کی پکار پر بیس ہزار فوجیوں کا لشکر دے کر محمد بن قاسم کو دیبل کی طرف روانہ کرتے ہیں،اس ایک مسلمان بہن کی پکار راجہ داہر کی بادشاہت و تخت کا خاتمہ اور سندھ کی فتح کا سبب بن جاتی ہے.

    223 ہجری ہے،عباسی خلیفہ معتصم باللہ اپنے شاہی تخت پر فروکش ہیں،خدام چاک و چوبند کھڑے ہیں،نبیذ کا دور چل رہا ہے،شاہی ایلچی نے آ کر خبر دی کہ عموریہ میں ایک مسلمان بہن رومیوں کی قید میں ہے وہ چیخ چیخ کر مسلمانوں کے خلیفہ کو پکار رہی ہے وامعتصماه !
    معتصم باللہ کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے نبیذ کے گلاس کو پھینک دیتے ہیں لبیک اے میری بہن کہتے ہوئے وہ تخت سے اٹھ جاتے ہیں،فوج کے سپہ سالار کو بلاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ رومیوں کا سب سے مضبوط شہر کون سا ہے کہا جاتا ہے عموریہ نا قابل تسخیر شہر ہے،معتصم باللہ مسلمانوں کا لشکر لیکر عموریہ کی طرف بڑھتے ہیں پچپن دن کے طویل اور سخت معاصرے کے بعد شہر کو فتح کرتے ہیں،اس مسلمان بہن کو رومیوں کی قید سے نکالتے ہیں،ایک مسلمان بہن کی پکار مضبوط قلعوں کو شکست دینے اور شہر کا شہر فتح کرنے کا سبب بن جاتی ہے.

    یہ ہمارا عہد رفتہ تھا کہ کیا بنو قینقاع بازار کا فرد تنہا کیا دیبل کی اینٹ سے اینٹ بجاتا جواں اور کیا عباسی بادشاہ ایک مسلمان بہن کی پکار پر سب نے لبیک کہا.

    مگر

    آج کشمیر کی کتنی مظلوم بہنیں اور کتنی بیٹیاں مدد کے لیے پکار رہی ہیں،اس آس میں کہ ان کے دینی بھائی مسلم دنیا کے غیرت مند حکمران ان کی آواز پر لبیک کہیں گے،لیکن ان کی پکار قید خانوں زندانوں اور گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ جاتی ہے انہیں کوئی جواب نہیں ملتا ہے کہ لبیک میری بہنا!

    ہندو آرمی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرکے ان کے گھروں میں داخل ہوتی ہے.

    وہ چاند چہرے جو کبھی آسمان کے چاند نے بھی نہیں دیکھے تھے ان چہروں پر ہندو فوجیوں کی ناپاک اور حیوانیت بھری نظریں پڑتی ہیں.

    عصمتیں پامال اور آنچل لٹ رہے ہیں،گھروں میں کھانا نہ پینا،بچوں کے لئے دوا نہ علاج،چھ ہفتوں سے کشمیر ایک جیل خانہ بن چکا ہے،میڈیا اور امدادی تنظیموں کے لئے رسائی بند ہے،کرفیو ہے اور موت کا سناٹا ہے،مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے پروگرام چل رہے ہیں،شیوسینا اور آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر پہنچ چکے ہیں.

    کیا ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں ایک بھی محمد بن قاسم نہیں کیا ساٹھ سے زائد مسلمان بادشاہوں میں ایک بھی معتصم باللہ نہیں؟ ایک بھی حجاج بن یوسف نہیں؟

    کشمیری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے،ہماری منتظر ہے،لیکن یہ انتظار لمبا نہیں ہوگا.یہ قانون قدرت ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآں نہ ہوئے تو اللہ پاک ہماری جگہ کسی اور قوم کو یہ کام سونپ دیں گے.
    تحریر فردوس جمال

  • میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    کشمیر میں آج کرفیو لگے چھیالیس روز ہو چکے ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ۔وہ جس وادی کو ہم جنت نظیر کہتے تھے- وہاں خون کی ندیاں بہتے آج کئی برس بیت گئے۔ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اپنی آزادی کی جنگ اکیلے لڑ رہے ہیں۔ حق خوارادیت کے لیے جان دے رہے ہیں۔ہماری مائیں روز اپنے بیٹوں کو قربان کر رہی ہیں۔
    بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ۔بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    پچھلے 72 سال سے مسلسل آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی آزادی کا وقت آ ہی گیا۔
    وہ مسلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ٹیبل کے کسی دراز میں پڑا تھا ۔
    وہ جس کو قرار داد کے طور پر فائل سے نکال کے چائے کے ٹیبل پے رکھ کر ایک دفعہ اسپیکر میں پڑھ لیا گیا تھا۔
    اس مسلے کو پچھلے چھیالیس روز سے بھارت ہوا دے رہا ہے۔ اب اگر ہوا دے ہی دی گئی تو اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ۔

    اب تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا سے اٹھنے والی ایک ہی آواز ہے کہ

    ایک نعرہ ایک آواز۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔
    کشمیر سے پنجاب تک ۔۔۔
    سب بنے گا پاکستان۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔

    اب ہم کیوں انتظار کریں کسی اور مسیحا کا؟؟؟
    کیوں انتظار کریں بڑی عالمی برادری کا؟؟؟

    ہم کمزور نہیں ۔۔۔۔
    اور جن کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت ساتھ ہو ۔۔۔
    وُہ کمزور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ہمیں بھروسہ ہے اپنی طاقت ور فوج پے ۔ہمیں بھروسہ ہے اپنے مجاہدوں پر۔۔۔
    وہ فوج جس نے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی۔
    جو نا کسی سے ڈرنے والے نا کسی کے آگے جھکنے والے۔
    جن کی اڑان کو آج تک کوئی اور طاقت شکست نا دے پائی۔

    راستے کٹھن بھی ہوں تو سینہ تان کے چلتے ہیں

    ہماری عادت نہیں مشکل راستوں سے منہ موڑنا

    پوری دنیا سن لے کہ ہم ایسی بہادر نڈر فوج کے مالک ہیں جو پہلے کئی طوفانوں کا رخ موڑ چکی ہے۔
    اب بھارت کی باری ہے ۔بھارت سن لے کے ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔پاک فوج کے جوان ہر پل جام شہادت کے لیے تیار ہیں۔ہمارے مجاہد تیار ہیں اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔

    اب ہمارے کشمیری مسلمان اکیلے نہیں اُن کے ساتھ پاکستان کی مصلح افواج کھڑی ہے۔
    پورا پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔
    اب اگر دنیا کی بڑی طاقتیں انڈیا کو نہیں روک سکتیں ۔تو ہم خود اب اس طوفان کا رُخ موڑیں گے۔
    اب وہ ہی طریقہ اپنائیں گے جس کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے
    جس کی اجازت ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔
    جس کا حکم ہماری دو جہاں کی مقدس کتاب قرآن مجید میں ہے ۔
    ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی مددّ کرو۔۔۔

    اب ہمیں کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
    اب ہم جائیں گے کشمیر میں ۔۔۔۔جہاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا رہی ہیں۔خون سے تر وادی ہمیں بولا رہی ہے کہ کوئی تو آئے ہمیں ان درندوں سے نجات دلائے۔۔

    اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ اپنی فوج اور مجاہدوں کو اِک بار کشمیر کے لیے لڑنے کی اجازت دے۔
    پھر ہمیں کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں کشمیر ان شاء اللہ آزاد ہو گا۔
    یہ خواب جلد پورا ہو گا
    ہمارے خواب کی تعبیر ہماری پاک فوج کی صورت میں آئے گی۔

    اور پھر کشمیر بنے گا پاکستان۔۔
    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔