Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • سسکتی وادی کشمیر کا واحد مسیحا پاکستان ہے‘ ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی

    سسکتی وادی کشمیر کا واحد مسیحا پاکستان ہے‘ ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی

    فتح جنگ: گورنمنٹ ہائی سکول نمبر1فتح جنگ کے کانفرنس ہال میں منعقدہ کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں سیدہ آسیہ اندرابی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کہا کہ کشمیری پاکستان کا نام لے کر جیتے ہیں‘ زندگی بھر اسی نام کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی نام کی پکار کے ساتھ جان دیتے ہیں، پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کا مقروض ہے، کشمیر کے لئے آواز اٹھانا ہم سب پر فرض ہے‘

    ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں 68روز سے کرفیو کی وجہ سے زندگی اجیرن بنادی گئی ہے، عالمی ادارے ابھی تک خاموش تماشائی ہیں، انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کیلئے کوئی اقوام متحدہ یا امریکہ معنی نہیں رکھتا، ان کی نظریں صرف اور صرف پاکستان پر ہیں، پاکستان نے ہی کشمیری عوام کو آزادی دلانے کا وعدہ وفا کرنا ہے،

    ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے بتایا کہ گزشتہ68روز سے صرف ایک بار ماموں سے رابطہ ہوااور 20سیکنڈ کی گفتگو میں صرف یہ سن سکا کہ ہم ابھی زندہ ہیں۔کانفرنس سے ملک منہاج الدین احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں جب سید علی گیلانی کا نام آتا ہے تو ہم چومتے ہیں، طلبہ کشمیر کے بارے میں کلاسز میں سوال کرتے ہیں اور فکر مند رہتے ہیں،

    جناب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نسل پرستی کے سخت خلاف تھے،عیسائی مفکر

    کشمیر کانفرنس کے سیکرٹری جنرل کشمیر یوتھ الائنس رضی طاہر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوتھ الائنس ملک کے کونے کونے میں یہ پیغام لے کر جارہی ہے کہ پاکستان کے ہر ذی النفس نے کشمیر کا سفیر بننا ہے، کشمیری یہ نعرہ لگاتا ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں بازو کھول کر انہیں کہنا ہے ہاں تم پاکستانی ہو،

    سابق سیکریٹری پر جنسی ہراسگی کی وجہ سے پابندی لگ گئی

    کشمیر کانفرنس سے سینئر صحافی سلطان سکندر، ریڈیو براڈ کاسٹر مہوش ناز اور قاضی خضرالزمان ضیاء نے بھی خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا، کانفرنس میں قاضی محمد صفدر،ملک کامران خاکی، سید وجاہت علی شاہ،ملک رفاقت اعوان، ملک عابد داؤد،عابد حبیب، طارق قادری، حاجی اعظم،عادل خانزادہ، ملک افتخار خاری خان، ملک سفیر، قاضی محمود الحسن،خضر حیات نیازی،ممتاز چیئرمین،ساجد لنگڑیال، ملک ارشد،علی عمران سمیت صحافی و سماجی قائدین، عوام اور طلبہ کی کثیر تعداد شریک تھی، آخر میں کشمیری عوام کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔

    پانی کے بغر زندہ رہنےوالی مچھلی ، دیکھتے ہی ماردو ، جارجیائی ماہرین کی تجویز

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 69 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 69 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    سری نگر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 69 واں روز ہے، وادی میں اسکول کالج تجارتی مراکز بند ہیں، مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے۔اطلاعات کے مطابق فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے، کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، بزدل قابض فوج نے کشمیریوں کو 69 روز سے گھروں میں بند کررکھا ہے۔

    سپر مارکیٹ میں مصنوعی گوشت ، تیار خلا میں فروخت زمین پر

    مقبوضہ وادی میں اسکول، کالج، تجارتی مراکز بند، ٹرانسپورٹ سروس معطل ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔غدا کی قلت، بھوک سے بلکتے بچوں اور مریضوں کی اکھڑتی سانسوں سے مجبور کشمیری باہر نکلیں تو ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری رہنماؤں، نوجوانوں سمیت بچے بھی جیلوں میں قید ہیں، 3 ماہ سے کشمیریوں کو نمازجمعہ مساجد میں ادا کرنے نہیں د ی جا رہی۔

    چین یغورمسلمانوں کے قبرستانوں کو مسمار کرکے نشانات مٹانے لگا

    مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کی جانب سے بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال دی گئی ہے۔دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حیران ہوں عالمی میڈیا ہانگ کانگ احتجاج کی کوریج کر رہا ہے کشمیرکی نہیں۔انہوں نے کہا کہ 3 ماہ سے کشمیرمیں مواصلاتی نظام کا مکمل بلیک آؤٹ ہے، کشمیری رہنماؤں ، بچوں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں میں ہیں۔

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

    اقرا عزیز نے اپنا یوٹیوب چینل متعارف کرادیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے.ملیحہ لودھی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بند کیے گئے مواصلاتی نظام کی قیمت بیماروں کو کس طرح ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تین ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

  • "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    کشمیر کی حسین وادی لولاب کے ایک گاؤں کا رہائشی منان وانی جو ایک کالج لیکچرار بشیر وانی کے گھر میں پیدا ہونے ہوا اور پروان چڑھا. تعلیمی مدارج کو طے کرتا ہوا علی گڑھ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے ریسرچ کر رہا تھا. وہ تھا تو سائنس کا طالب علم لیکن کشمیر کی صورتحال اور بھارتی افواج کے مظالم نے اس کو شعلہ جوالا بنا دیا تھا اور اس نے تقریر و تحریر کے ذریعے بھارتی افواج کے کشمیر پر ظالمانہ قبضے کے خلاف جہاد شروع کردیا. شاندار تعلیمی ریکارڈ اور مختلف ادبی ایوارڈ رکھنے والے اس منان وانی نے جب دیکھا کہ اس کی تقریر و تحریر خاطر خواہ نتائج نہیں دے رہی اور بھارتی افواج کے مظالم روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں تو علی گڑھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے اس اسکالر نے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑا اور باقاعدہ طور گن اٹھاکر کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگیا. اپنی ممتاز حیثیت اور شخصیت کی بنا پر کشمیری حریت پسندوں کی تنظیم حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر بنا اور بھارتی افواج کو بزور قوت سبق سکھانے لگا. کشمیر کی آزادی کی اس جنگ میں وہ مسلسل بھارتی مسلح افواج کے مقابل برسر پیکار رہا اور بالآخر گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو ہندواڑہ میں ایک جنگل میں بھارتی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش. تین جنوری دو ہزار اٹھارہ سے گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ تک کے اس نو ماہ اور نو دن کے مسلح جدو جہد آزادی کے اس سفر میں منان وانی شہید نے بھارتی افواج کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا.
    منان وانی کی شہادت پر اس وقت کی کٹھ پتلی حکومت بھی چپ نہ رہ سکی اور اس شہادت کو قومی نقصان قرار دیا. کپواڑہ کے رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے منان وانی کی شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا :’منان کی قلم بندوق سے خاموش کردی گئی، اور اس طرح نئی دلی نے منان کے قیمتی افکار کے آگے سرینڈر کردیا۔’
    منان وانی شہید نے دو خط لکھے جو کشمیر کے مقدمے کی سی حیثیت رکھتے ہیں. اس میں سے ایک خط کے مندرجات ملاحضہ کریں.

    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    غیر قانونی تسلط کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،یہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی رجحان ہے۔ دہائیوں پہ محیط،طویل خون ریزتنازعہ نے کشمیری قوم کو اقوام عالم میں سیاسی لحاظ سے، سب سے زیادہ مدبر اقوام کی صف میں لاکھڑا کردیا ہے۔
    وقت کے ساتھ ہم سب نے کسی حد تک اس غیرقانونی تسلط کے پیچیدہ طر یق کار،ساخت اور مشینری کو سمجھ لیا ہے۔بھارت بحیثیت نو آبادیاتی ریاست،آہستہ آہستہ مگر مسلسل کشمیر میں اپنی نوآبادیاتی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہورہی ہے۔مگر،غیر قانونی تسلط سرطان کی طرح ہوتا ہے، اس لئے بحیثیت قوم اور سماج ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم بھارتی نوآبادیاتی ریاست کی عسکری، ذہنی اور سیاسی شاطرانہ چالوں سے باخبر رہیں۔ ممکن ہے آپ حیرت زدہ ہوں گے کہ اس شخص نے قلم کے بجائے بندوق کوچن لیا، کیوں؟ لکھنے کا فیصلہ کیا۔ہاں چند ایسی چیزیں ہیں جنہوں نے میرے لئے خاموش رہنا سخت مشکل بنا دیا۔
    سادہ لوح، بھولے بھالے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر غداروں نے آج کل حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرکے اندھیرا کیاہے تاکہ وہ بھارت کے غیر قانونی تسلط، جبری قبضے اور ظلم و جبر کو سند جواز فراہم کریں۔
    حقوق البشر کے محافظین تجارتی دیو بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس تنازعہ کو ظلم وجبر سے دبائے گئے لوگوں کے دکھ اور درد کو نمایاں کرکے تجارت کا ذریعہ بنادیا ہے۔ اس تمام فعالیت اور سرگرمیوں کو براہ راست دہلی کے مصور خانوں سے ہدایات جاری ہوتی ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ
    پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک، ہر ایک، چاہے وہ ظالم ہے یا مظلوم، اس نے ہمیں آڑھے ہاتھوں لینے، لتاڑنے یا سرزنش کرنے کے لیے چنا ہے۔ چاہئے ہمارا راستہ اور طریقہ کار ہو، نظریات اور خیالات ہوں، وہ ہمیں بدروح، شیطانی صفت انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    تیسرا نکتہ جس نے مجھے خاموشی توڑنے پر مجبور کیا وہ یہ ہے، وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں جبراًبندوق کے بجائے امن کی شاخ زیتون تھما دی گئی، تاکہ مزاحمت کے پرامن طریقوں کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ جب انہوں نے اپنی سوچ اور منطق کے مطابق ہمارے مزاحمتی طریقہ کار کو جواز فراہم کیا،حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں اور ہمارے نظریات کو رد کیا۔
    اور بالآخر جب ایک پولیس اہلکار جو کہ بعد میں انسانی حقوق کا محافظ بنا، جس نے اپنے دور میں بیکارانہ طریقے سے لوگوں کی جائز خواہشات کو کچلنے کی کوشش کی اب بددلانہ اور غیر منطقی دلائل کے ذریعے سے انسانیت اور اعتدال پسندی کا مبلغ بننے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جواب دینا لازم بنتا ہے۔ یوں مجھ جیسے شخص(جس کے پاس وسائل ہیں نہ متذکرہ بالا لوگوں کی طرح آرام و آسائش ہے) جس نے پہلے ہی قلم کے بجائے بندوق کو چنا ہے، کے لیے اُسی زبان میں جواب دینا لازم بنتا ہے، تاکہ ہم اپنے نکتہ نظر کو پیش کرسکیں۔
    میرا ماننا ہے کہ یہ بے حد ضروری ہے کوئی اندر کا واقف کار بھی اپنا نکتہ نظر سامنے رکھے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔ میں جبری قبضے کی طویل تاریخ میں نہیں جاؤ ں گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک جبری قبضے سے متعلق بخوبی آگاہ ہے، کیسے شروع ہوا،وجوہات کیا تھیں اور اس کے اثرات کیا ہیں۔ مزاحمت کا نیا دور 2008 کے تلاطم کے بعد شروع ہوا، تب سے مزاحمت کے طریقے سختی سے اور مثبت انداز میں تبدیل ہوئے۔ مزاحمت کے طریقوں میں تبدیلی کے ساتھ ظلم و زیادتی کے ہتھکنڈوں نے بھی نشود نما پائی۔
    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    بھارت کو اس بات کا شدید احساس ہوا کہ وہ اب کشمیریوں کو زیادہ دیر بڑے بوٹوں کی غلامی تلے خاموش رکھ سکیں گے اور نہ ہی اپنے غیر قانونی قبضے کو جواز فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لیے بھارت جان بوجھ کر کشمیر کے تاریخی اور سیاسی حقائق کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
    ہر دن، ہروقت، نئے مکالے، تذکرے، مباحثے اور خیالات کو میڈیا میں مختلف افراد اور ایجنسیوں کے ذیعے پھیلایا جارہا ہے۔ بھارت بہت ہوشیاری اور چالاکی سے ایک ایسے بیانیہ کی صنعتکاری سے لوگوں کو الجھائے،پریشان کرنا چاہتے ہیں، جو فوج کی موجودگی اور ظلم و جور کے ہتھکنڈوں کے موافق ہو اورریاست جموں کشمیر کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہو۔ بعض افراد کو طاقت ور اور وسائل سے بھرپور مقام اس لئے تفویض کئے گئے، کہ وہ ایسے بے محل اور غیرمتعلق بیانیہ، مقالہ جات سامنے لائیں، جسے لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے اور پرانے، حقیقی اور اصل بیانیہ فرسودہ اور بے جوڑ لگے۔
    ایک دن ایک بیوروکریٹ (سرکاری ملازم) لکھتا ہے کہ "صرف بھارت ہی کشمیریوں کے پاس ایک معقول دانشمندانہ انتخاب وچناو ہے” اور دوسرے دن ایک سیاستدان نے سوال کیا "کیوں عسکریت پسند موت کو گلے لگانے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں؟” میں یہاں کوشش کروں گا کہ ان مبہم دلائل کو مسمار کرکے ان کے پیچھے چھپی منافقت کو بے نقاب کروں۔ "ہم سپاہی ہیں، ہم مرنے کے لیے نہیں، بلکہ جیتنے، سرخ رو ہونے کے لیے لڑتے ہیں۔ موت کے بجائے ہم بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ سپر ہونے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔ بھارتی عسکری طاقت، ظلم و جبر، استبداد، بھارت کے ہم کاریوں اور سب سے بڑھ کر اُس کے غرور اور گھمنڈ، جب ہم اس تمام کے خلاف لڑتے ہوئے جاں کی بازی ہار جاتے ہیں، تو ایسی جانثاری پر ہم عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔” ہم سے میرا مطلب تمام کشمیری اور کشمیری سے میرا مطلب ریاست جموں کشمیر کے وہ تمام شہری جوبھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے برسر جدوجہد ہیں، نہ کہ صرف وہ جو بندوق بردار ہیں۔
    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    ایک اُستاد، چاہئے وہ سکول، کالج یا جامعہ کا ہو، جو ایمان داری اوردیانت داری کے ساتھ بچوں کو تعلیم دیتا ہے یا ایک ڈاکٹر جو ہر وقت اپنے مریضوں کے ساتھ نیک دلی اور ہمدردی کا برتاؤکرتا ہے۔ ایک طالب علم جو آبرومندانہ طریقے سے غیرقانونی قبضے کے نتیجے میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتا ہے یا ایک سنگباز جو قابض افواج کی جانب پتھر پھینکتا ہے جبکہ بدلے میں اُسے گولیاں سہنی پڑتی ہیں۔ ایک کالم نویس، تبصرہ نگارجو بے خوف ہوکے لکھتا ہے یا ایک صحافی جو موقع پہ حقائق کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ وہ شخص جو غیر قانونی قبضے، تسلط کے خلاف فقط بولتا ہی ہے یا ایک وکیل جو عدالت میں قانونی جنگ لڑتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم جو اپنے فرائض منصبی اخلاص کے ساتھ انجام دیتا ہے یا وہ پولیس والا جو لوگوں کو (قتل کرنے، دہشت زدہ کرنے، معذور کرنے اور مقامی لوگوں پر تشدد کرنے) کے بغیر فقط امن و امان قائم رکھنے کی اپنی اصل ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ہم سب مزاحمتی سپاہی ہیں۔
    مزاحمت میں خلیج اور سوسائٹی کے حصے بخرے کرنے کی غرض سے نئی شناختیں اور تقسیم پیدا کی جارہی ہے۔2016سے پہلے بھارت کے خلاف تلا طم کو دانستہ طور صرف شہراور قصبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا تھااور عسکریت کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ چند ان پڑھ،بھٹکے ہوئے دیہی لڑکوں کی کاروائی ہے۔اب احتجاجوں کوجنوبی کشمیرکے دیہاتیوں،(جنہیں معیشت کی کوئی سوج بوجھ نہیں) کے ساتھ منسلک کیا جاتاہے۔ اگرچہ لوگوں نے ایسے بیانیہ کو،مزاحمتی تحریک کے تئیں بھرپور حمایت دکھا کر بارہا مسترد کیا ہے۔
    ہمیں اس امر سے خبردار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ کیسے بھارتی تسلط لوگوں کو احمقانہ گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے سے جداکرتے ہیں۔ کبھی ذیلی علاقائی (نارتھ اور ساؤتھ) اورکبھی فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف دونوں، سماجی اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک سخت مضبوط مہم جاری ہے۔ وہ لوگ جو غیرقانونی قبضے، تسلط کے خلاف برسر پیکار ہیں اُنہیں متعصب،جنونی، بنیادپرست اور اُن کا پسندیدہ لفظ دہشت گرد کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ بخوبی حقائق سے آ گاہ ہیں مگر لوگوں کو بیوقوف بنانے کا یہ وہ کام ہے جو اُنہیں سپرد کیا گیا ہے۔
    بارہویں کلاس کے لیے بھارتی NCERT کی پولیٹکل سائنس کی نصابی کتاب "دہشت گرد” کی یوں تعریف کرتی ہے "جو کوئی بھی،کسی شہری کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے اندھادھند نشانہ بناتا ہے ” دہشت گرد کی اس تعریف سے ایک انسان واضح طور پر یہ سمجھ سکتا ہے کون دہشت گرد ہونے کے قابل اور اہل ہے۔ جب سے ہماری کاروائیوں سے ہر ایک باخبر ہے۔ بھارت کے برعکس ہم عام شہریوں،چاہئے وہ کشمیری ہو یا بھارتی،اور غیر محارب قتل نہیں کرتے۔وہ لوگ جو ہمیں دہشت گر د کہہ کر پکارتے ہیں ٹیکسٹ بک کو تبدیل کریں یااپنے علم بدیع و معانی کو۔
    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    بھارتی حکومت اپنے لوگوں کو یہ سکھاتی ہے کہ کشمیری عسکریت و آزادی پسند ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ جو 72حوروں کی لالچ میں عسکریت میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح مر جانے سے وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ اس میں کوئی انکار نہیں کہ اسلام ہمارے کسی کام کے کرنے کا محرک اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے اور اسلام فی الحقیقت کسی بھی طریقے اور ذرائع سے ظلم و زیادتی کے خلاف لڑنے پر جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔ مگر جس طرح میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ہم سپاہی ہیں، ہم جنگ میں صرف اس لئے نہیں کودے کہ جان دیکر جنت میں چلے جائیں بلکہ دشمن کے خلاف لڑ کر اُسے شکست دینے کے لیے میدان میں آئے ہیں.
    ایک مجاہد اپنا سب کچھ قربان کرنے کے باوجود جنت کا دعویٰ،استحقاق یا مطالبہ،نہیں کرسکتا۔جنت اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے اور کسی کے جنتی ہونے کا فیصلہ صرف ان حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوگا کہ وہ میدان قتال میں لڑکر جان دے چکا ہے بلکہ جنت میں داخلے کے لیے کثیر معیار ہیں۔اس کے علاوہ،ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے ہیں کہ اسلام خاص طور پر ہم سے تعلق رکھتا ہے،لیکن یہ سچ ہے کہ ان ظالموں کی، مذہب کے نام پرلوگوں کو استعمال کرنے کی طویل ترین تاریخ ہے۔وہ ہمیشہ اسلام کا ایک مخصوص حصہ منتخب کرکے،اُسے اپنی مرضی کا مطلب و معنیٰ اخذ کرکے اپنے جبری قبضے کو جواز بخشنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہم ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں. غیرقانونی قبضے اور تسلط پر عذر خواہی کرنے والے بھارتی فوجی طاقت، کثیر فوج اور میزائل ٹیکنالوجی کی شان و شوکت دکھاتے ہیں۔ ہاتھوں میں زنگ آلود کلاشنکوف لئے چند سو نوجوان لڑکوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دس لاکھ فوج کا آپس میں موزانہ کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تازہ ترین فوجی تاریخ، چاہے وہ امریکہ ویت نام میں، یو ایس ایس آر افغانستان میں یا نیٹو افغانستان میں ہو، ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ جنگیں کثیر فوج اور جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں جیتی جاتیں۔ کیوں بھارت کو ایک بھاری بجٹ کے ساتھ بارہ لاکھ فوج کی ضرورت پڑتی ہے ان چند مٹھی بھر نوجوانوں سے لڑنے کے لیے؟ ایسے ہر ایک سوال کا جواب یہی ہے کہ بھارت پہلے ہی کشمیرمیں جنگ ہار چکا ہے۔
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ایک وقت تھا جب لڑائی ایک بندوق برداراور ہزاروں بھارتی فوجیوں کے درمیان ہوتی تھی لیکن اب ایک مجاہد تک رسائی سے پہلے قابض فورسز کو ہزاروں غیرمسلح آزادی کی جنگ لڑنے والوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے. وہ لوگ جو فریڈم فائٹر نوجوانوں کی مدد کے لیے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر انکاونٹرزکی جگہ کا رخ کرتے ہیں، تو اس سے ہمیں لوگوں کے خواہشات اور جذبات کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
    کشمیری مجاہدین اور آزادی پسندوں کو دہشت گرد گردان کر اور یہ کہہ کر کہ یہ ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں ممکن ہے بھارت اپنے شہریوں اور دنیا کو بیوقوف بنالے مگر بھارت کہاں سے یہ جواز فراہم یا تلاش کرسکتا ہے کہ اُ س کے خلاف لڑنے والی پوری قوم کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ بھارت سراسر مایوسی کی کیفیت میں ہے! ہر رات اُن کی ٹیلی ویژن چینلز پہ یہ عیاں ہوتا ہے۔ بھارتی سرکار کشمیر کے خلاف میڈیا پر نفرت سے بھری، زہریلا، کینہ پرور پرپیگنڈا مہم چلا کر اپنی ناکامیوں کو چھپاتی ہے۔ ایک شخص آسانی سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ کس درجہ اور سطح کی مایوسی ہے.
    مقبوضہ کشمیرمیں حکومتی خفیہ اداروں کی جانب سے کالجز اور جامعات کے معلموں کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ طالب علم مسلسل نگرانی میں رکھے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کو حکماً خاموش کیا گیا ہے۔ قوانین بنائے گئے ہیں جن کی روح سے سرکاری ملازمین سے یہ کہا گیا کہ وہ سرکاری پالیسی (حکمت عملی) کے خلاف تنقید سے احتراز کریں گے۔ کیسے ایک عذر خواہی کرنے والا، جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا ایک حصہ ہے، اس بیان کو واضح کرے گا.
    اکثر اوقات اس پر بحث و تمحیص کی جاتی ہے کہ ہمیں پرامن ذرائع سے بھارت کے جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلاشبہ،طریقہ کار اور کاغذات کی حد تک بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے،مگر عملی بنیادوں پر جمہوریت کے لیے اہل نہیں۔ کیسے آپ ایک ایسی قوم سے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی آواز پر کان دھرے، جس کا نام نہاد جمہوری طریقے سے منتخب وزیر اعظم فرقہ وارانہ فسادات کا بنیادی معمار ہو۔ جہاں الیکشن ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑے جاتے ہوں. جہاں آبروریزی کرنے والا، بلاتکاری اور پیشہ ور مجرم ہی قانون بنانے والے ہوں، جہاں ذرائع ابلاغ کو برسراقتدار حکومت ہی چلاتی ہو۔ جہاں ایک نسل کی ہر ایک آواز اور ہر ایک نکتہ چیں، تنقید کرنے والے کو موت کی نیند سلاکر یا کسی اور طریقے سے خاموش کیا جاتا ہے۔جہاں حکومت پر اعتراض کرنے والے ہر شخص کو قوم دشمن قراردیا جاتاہے اور الیکشن کو(Populism) یعنی اشخاص کے انفرادی مفادات کو مدنظر رکھ کر، اور چالاکیوں کی بنیاد پر جیتا جاتا ہے۔ جہاں حکومتی ایجنسیوں کو مخالفوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں اقلیت کو اپنے وجود کے خطرے کا سامنا ہے، جہاں ہر ایک اختلافی آواز کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔جہاں ایک مسلمان کو فقط فریج میں گوشت رکھنے کی پاداش میں دن کی روشنی میں زیر چوب لاکر ہلاک کیا جاتا ہے۔جہاں سر پر ٹوپی رکھنے والا اور برقعے میں ملبوس ہر ایک عورت مشکوک دہشت گرد ہے، جہاں طالب علموں کو سرکاری حکمت عملی کے خلاف احتجاج پر جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔جہاں ماہرین تعلیم اور صحافیوں کومحض اس بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں۔لہٰذا،کشمیر میں کتنے لوگ مرتے ہیں،بھارتی سیاستدانوں کے لیے بھارت میں ووٹ حاصل کرنے والی پالیسی کے سوا کچھ نہیں۔
    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
    ہندوستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کے اطمینان کے لیے ایک کشمیری کی لاش کو الیکشن مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔فوجی، معصوموں کو گولیوں کا نشانہ بنانے اورخواتین کی آبرو ریزی میں فخر محسوس کرتے ہیں،اور بھارت کے عام عوام کو جنگ جو میڈیاکے بیانیہ کے ذریعے سے اس طرح اور اس حد تک ذہن سازی کی جاتی ہے، جیسے اُنہیں کوئی عقیدہ سکھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حقیقت میں اس تمام کی حمایت کرتے ہیں۔یہ صرف کشمیر تک محدود نہیں، جو حالات بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں،نکسلی علاقوں اور سرزمین بھارت کے قبائلی حصوں کے ہیں، ان حالات کے مقابلے میں اچھے نہیں۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں آبروریزی، قتل و غارت گری، ظلم و تشدداور انسانی حقوق کی پامالیاں وہاں بھی بہت عام ہیں۔ مقامی حلیفوں کو استعمال کرکے، افسپا،ڈی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کی پناہ میں جاکر کشمیر میں ہمیشہ جمہوریت کو غیرقانونی قبضے،تسلط کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
    ستم ظریفی یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے وقت سے لیکر ان بھارت نواز سیاستدان کو ہمیشہ بھارتی جبری قبضے اور بھارتی مفادات کے لیے توپ کے ایندھن کے طور استعمال کئے گئے۔ اگر کبھی بھی انہوں نے کوئی مطالبہ کیا یا لوگوں کے حقوق کے لیے لب کشائی کئی تو ان حاشیہ برداروں کو بعد میں ایسے پھینکا گیا جس طرح ٹیشو پیپرکو استعمال کرکے پھینکا جاتا ہے۔
    حال ہی میں بھارت نواز جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کو اس کے اتحادی نے، نام نہاد وزیر اعلیٰ کو بتائے بغیر جس طرح گرادیا،ایک متعلقہ مثال ہے۔ یہ ایک کم تر، مگر کشمیر میں جمہوریت کا ایک اہم،بامعنیٰ مظاہرہ ہے۔ سیاسی محاذ پر، موجودہ گورنمنٹ اپنے سابقین کی مانند متکبرانہ اندازمیں کام کرتی ہے اور مکمل طورپر مخالف انصاف پسند علاقائی آوازوں کو نظر انداز کرکے بھارت کے چپے چپے کو زعفرانی رنگ(ہندتوا) میں رنگنا چاہتے ہیں۔ سرزمین بھارت اور مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں، پہلے سے موجود علٰحیدگی پسند اور آزادی پسند جذبات بالترتیب ان حالات سے شدت اختیار کرتے ہیں۔ یہ چند خیالی اور لفاظانہ دعوے نہیں؛حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ خالصتان تحریک کے احیاء کے ساتھ "دراویدستان ” کے لیے بھی آوازیں اُٹھی ہیں۔ذات پات،جو تاریخی اعتبار سے بھارت کی سب زیادہ گہری فالٹ لائن ہے اب مزید وسیع ہوتی جارہی ہے۔ جب یہ سب چیزیں ہورہی ہیں؛اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت نے تباہ ہونا ہی ہے اور کشمیر کی مزاحمتی تحریک اس سارے عمل کا پیش خیمہ ہے۔
    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ
    موجودہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی پوری تاریخی بنیاد کو بگاڑنے اور تبدیل کرنے کے مشن پر ہے اور ایسا کرنے کی کوشش میں وہ جب مسئلہ کشمیر کو اُٹھاتے ہیں تو اپنے متعصبانہ فسطائی سیاسی خیالات کی نظر سے اُٹھاتے ہیں۔ مگر مسئلہ کشمیر کی، سراسر مختلف بنیادیں اور تاریخی سیاق و سباق ہے۔ اکثر ملاحظہ کیا گیا ہے کہ ایک طرف کشمیر کے لوگوں کو چیزیں پیش کی جاتی ہیں کہ وہ کشمیر کی تاریخی اور سیاسی حقیقت کو بھول جائیں اور دوسری طرف اُنہیں ہندوستانی فوجی قوت کی نمود و نمائش کے ذریعے دھمکایا جاتا ہے۔مقامی آبادی کو روزانہ سیز اینڈ سرچ آپریشنز "CASOs” ، جوانوں کی شبانہ گرفتاری، ہر ایک آزادی پسند آواز کو پس دیوار زنداں کرنا، احتجاجیوں پرچھروں اور اشک آور گیس کی بارش کرکے ہر غیر مسلح اور پرامن احتجاج کو محدود کرنا، حقیقی ” ہندوستان کے تصور” اور اُس کی جمہوریت کی ایک چھوٹی سے جھلک ہے۔
    کرفیو کے نفاذ کے ذریعے تمام آبادی کو اپنے گھروں میں مقید کرکے،مزاحمت کے پرامن طریقوں کا استقبال ہمیشہ گولیوں،چھروں اور اشک آور گیس سے کرکے کشمیر میں امن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ ہر ایک قوم ترقی، تعلیم اور دیگر دوسری چیزیں چاہتی ہے مگر اپنی عزت ووقار اور آزادی کی قیمت پر نہیں۔ وہ لوگ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں جو کھیل کود اور تعلیم کو کشمیر کی تاریخ کے عوض بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ان حقائق پر شاہد ہے کہ جنگوں میں قوموں کو شکست تو دی گئی لیکن اُنہیں اپنی تاریخ بھولنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا۔
    یہاں تک کہ اگر کشمیر میں مسلح مزاحمت ختم ہوجاتی ہے،اور بالکل کوئی آزادی کی تحریک نہیں رہتی،لوگ آج نہیں تو کل اپنی حق آزادی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کریں گے۔ تاریخی حقائق اور انصاف پر مبنی تحاریک اور خیالات و نظریات،مخصوص افراد کی ملکیت ہوتی ہے نہ اس نمائندگی کرتے ہیں۔چاہئے وہ شخصیات کسی بھی قدوقامت کے کیوں نہ ہوں۔ ایک شخض،چاہئے کتنا ہی بڑا قائد کیوں نہ ہو، (مرد/خاتون)صرف تحریک کا حصہ ہے بذات خود تحریک نہیں۔اگر ایک راہنماکسی بھی بنیادپر اپنے مؤقف کو تبدیل کرکے راہ مفاہمت پہ چل نکلتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک ہی خراب اور بدعنوان ہے؟شیخ عبداللہ کشمیر کا سب سے مشہور اور بلند پایہ لیڈر تھا۔ مگر کس چیز نے اُس کی قبر کوبرصغیر کی سب سے زیادہ غیر محفوظ اور پُر حفاظت قبر بنادیا؟ وہ لوگ جو انفرادی شخصیات کو نمایاں،اُجاگر کرکے ہمیں تحریک کی بدعنوانی اور غیر قانونیت دکھانا چاہتے ہیں اُنہیں اس بات پر غور و فکر کرنا چاہئے۔ لوگوں کے لیے صرف وہی لیڈر(مرد/خاتون) مستنداورقابل قبول،جو مسئلہ کشمیر کے حقیقی تاریخی سیاسی بیانیہ کے ساتھ کھڑا، قائم رہے۔حکومت صرف ظلم و زیادتی کی تدابیرکی نشود ونما کرسکتی ہے مگر وہ وقت پر ان پالیسیوں سے اجتناب کرکے تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس لیے بھارتی قبضے کے لیے عذر خواہی کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ،ہمیں بحیثیت انسان دیکھیں جو عظمت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔مگر، اُنہیں ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ غیر قانونی قبضے،تسلط کے سایے تلے زندگی گزارنے میں کوئی عظمت و وقار نہیں۔مظلومین کی حیثیت سے ہم پابند ہیں کہ ہم ہر قسم کی ناانصافی،ظلم اور جبر کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کریں۔ اور غیر قانونی قبضہ، تسلط کے زیر سایہ زندگی گزارنے سے بڑھ کر کون سی ناانصافی، ظلم اور جبر ہوسکتا ہے؟ ہمارے لوگوں کی مزاحمت نے قابضین کو اس حدتک مایوس کردیا،یہاں تک کہ وہ اُن لوگوں کو بھی برداشت نہیں کرسکتے،جو مقامی آ بادی کے غالب بیانیہ کی تائید تک نہیں کرتے۔مثال قائم کرنے کے لیے وہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں،امن کے سفیروں کو بھی پابند سلاسل یا قتل کرتے ہیں، بصورت دیگر جنہوں نے کبھی بھی ناجائز قبضے کے خلاف زبان نہیں کھولی۔ ہمیں اور ہمارے مقاصد کی سرزنش کے لیے مذہبی گفتگو کو سامنے لانے سے مسائل کے حل میں کبھی بھی آسانی پیدا نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اس حقیقت کے بارے میں یہ واضح ہونا چاہئے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ مذہب جس کی ہم پیروی کرتے ہیں رسومات اور عبادات کاسیٹ کے بجائے ایک نظام زندگی ہے۔ اس لئے ایک انسان کا اپنی سوچ، اصول اور نظریات اسی سسٹم سے اخذ کرنا قدرتی امر ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر ایک کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ظلم وجبر اور جارحیت کے خلاف بندوق اُٹھائے۔ مگر یہ ہر ایک کے لیے فرض ہے کہ وہ ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہوجائے۔ اور آخری بات، بحیثیت مسلم جو ایمان رکھتا ہے کہ اسلام انسانیت کے مکمل نظام حیات ہے، سماجی، اقتصادی اور سیاسی سسٹم کا احاط کرتا ہے، ہماری بھی تمنا ہے کہ اسی سسٹم کی حکمرانی ہو، مگر یہ سسٹم، نظام دھونس اور زور زبردستی کے ساتھ نافذالعمل نہیں لایا گیا، چاہئے حالات کیسے بھی تھے۔ ہمارا مقصد خاص یہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو بیرونی غیرقانونی تسلط، جارحیت سے آزاد کرنا چاہتے ہیں،اور یوں ہم ایک امن اور انصاف کا ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر ایک سوچ اور نظریہ پہ مباحثہ ہوگااور لوگوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ منتخب کریں جو کچھ بھی وہ پسند کریں۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ رہی ہے کہ جہاں بھی لوگوں نے حقیقی آزادی میں زندگی گزاری، اور اسلام کو حق حکمرانی دیا گیا،لوگوں نے نہ صرف اس کو خوش آمدید کہا بلکہ انصاف اور امن کا دوردورہ دیکھا۔ جیسا کہ ایک عظیم انقلابی میکولم ایکس کہتے ہیں؛ ہماری کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں، قرآن ہمیں خاموش ہوکے ظلم و جور برداشت کرنا سکھاتا۔ ہمارا مذہب ہمیں عاقل اور ہوشیار بن کررہنے کی تلقین کرتا ہے۔
    (منان وانی، سابق پی ایچ ڈی،سکالر،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ مجاہد حزب المجاہدین).
    ان خطوط نے منان وانی شہید کی شخصیت کا قد مزید بڑا کردیا اور ان کو کشمیر کے ایک وکیل کی سی حیثیت سے متعارف کروادیا ہے. کشمیر کے پوسٹر بوائے کے طور پر مشہور ہونے والے برہان مظفر وانی شہید کے بعد منان وانی شہید کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ہیرو بن چکے ہیں اور نوجوان ان کی طرح تعلیمی سلسلے کو ادھورا چھوڑ کر منان وانی شہید کا رستہ اختیار کر رہے.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مقبوضہ کشمیربدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 68 واں دن ، ظلم جاری مگر کب تک؟

    مقبوضہ کشمیربدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 68 واں دن ، ظلم جاری مگر کب تک؟

    مقبوضہ وادی میں کرفیو کا68 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔یاد رہے کہ بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

    مقبوضہ وادی سے آنے والی اطلاعات کےمطابق بھارتی ظلم کا شکار کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی، چپے چپے پر تعینات بھارتی فوج کی وجہ سے وادی اوپن ائیر جیل بن چکی ہے۔ کشمیری روز مرہ کی اشیاء کے لیے ترس کر رہ گئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی میں صحافی، سیاسی رہنما سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 284 لوگ وادی کی صورتحال پر پٹیشن دائر کرچکے ہیں۔

    لاتوں ، گھونسوکی بارش ، لیڈی ڈینگی ورکرپرتشدد کی انتہا،ایسا کیوں ہوا؟

    مسجدیں 68 روز سے نمازیوں کے لیے بند ہیں، شہری دکانیں، بزنس، تعلیمی ادارے اور پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم ہیں۔ سری نگر کے ہسپتال میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کرفیو کی وجہ سے مریض ہسپتال نہیں پہنچ پا رہے، اب تک درجنوں بیمار افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، ادویات کی قلت اور پابندیوں کی وجہ سے 50 فیصد آپریشن تعطل کا شکار ہیں۔

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

    تعلیم میں سیاست برداشت نہیں،سیاست کرنے والے اساتذہ کے دن برےآگئے

    بھارتی فوج کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود کشمیری نوجوانوں کا احتجاج جاری ہے۔ صورہ میں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف زبردست احتجاج کیا جس میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بھارتی فوج نے حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 6 ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    کاشف آفریدی کے بیہمانہ قتل کے واقعہ کا نوٹس، قاتل بچ نہیں پائیں‌ گے،اجمل وزیر

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل دو ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 64 واں دن ، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری بے حس ، مگر کب تک؟

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 64 واں دن ، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری بے حس ، مگر کب تک؟

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 64 واں دن ، بھارتی مظالم جاری ، عالمی برادری بے حس ، مگر کب تک؟ اطلاعات کےمطابق آج مقبوضہ وادی میں کرفیو کا64 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    دوسری طرف کشمیریوں کی آہ وبکا اور ظلم وتشدد سے بھرپور ایک ایک لمحہ سننے اور جاننے کے باوجود عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔یہ بھی یاد رہےکہ بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔بھارتی فوج کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود کشمیری نوجوانوں کا احتجاج جاری ہے۔ صورہ میں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف زبردست احتجاج کیا جس میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بھارتی فوج نے حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 6 ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔بھارتی فوج نےکم عمر بچوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے سے اب تک گرفتار افراد کی تعداد چالیس ہزار ہو سکتی ہے۔

    بھارت مزید مشکلات کا شکار: ناگالینڈ علیحدگی پسند تنظیم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی…

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو دو ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔پیلٹ گن سے زخمی کشمیری نوجوان گرفتاری کے خوف سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ امریکی اخبار نے وادی کی صورتحال کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔

    تدبیریں‌ناکام ، ڈینگی نے پنجاب میں پنجے گاڑ لیے، مزید 2 مریض جاں بحق،

    بھارتی فوج گھر سے نکلنے والے کشمیریوں کو گولی مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ کشمیری ہسپتال، سکول اور کام پر نہیں جا سکتے۔ وادی میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کو شاٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمی کشمیری گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے۔

    افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کو پاکستان سے متعلق مہذب الفاظ استعمال کرنے پر سخت…

    قابض فوج گرفتار کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ وادی میں حالات نارمل ہونےکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے باعث ایک اور نوجوان شہید ہو گیا، ستمبر کے دوران 16 نوجوان شہید ہوئے، بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے

  • مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 62 واں روز۔بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیری پوچھتے ہیں‌یہ کب تک جاری رہیں گے

    مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 62 واں روز۔بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیری پوچھتے ہیں‌یہ کب تک جاری رہیں گے

    سری نگر :مقبوضہ وادی میں کرفیو کا62 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہےکشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 6 ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔بھارتی فوج نے نو سال کے کم عمر بچوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے سے اب تک گرفتار افراد کی تعداد چالیس ہزار ہو سکتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو دو ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔پیلٹ گن سے زخمی کشمیری نوجوان گرفتاری کے خوف سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ امریکی اخبار نے وادی کی صورتحال کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تسلط کو دو ماہ ہونے کو ہیں۔ مودی سرکار نے وادی میں چپے چپے پر فوج تعینات کررکھی ہے۔بھارتی فوج گھر سے نکلنے والے کشمیریوں کو گولی مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ کشمیری ہسپتال، سکول اور کام پر نہیں جا سکتے۔ وادی میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔

    اخبار کے مطابق مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کو شاٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمی کشمیری گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے۔قابض فوج گرفتار کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ وادی میں حالات نارمل ہونےکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔

    بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے باعث تین اور نوجوان شہید ہوچکے ہیں‌، ستمبر کے دوران 16 نوجوان شہید ہوئے، بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے،

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نےکارروائیوں کے دوران پچھلے چار دنوں میں‌ 12 نوجوانوں کو شہید کیا۔ شہید ہونے والوں میں نوجوانوں کو گھروں میں تلاشی کے دوران شہید کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ کے مطابق بھارتی قابض فوج کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کے دوران زیر حراست نام نہاد ان کاؤنٹر کے ذریعے 6 نوجوانوں کو شہید کیا گیا، 281 کے قریب زخمی ہوئے، ان زخمیوں میں زیادہ تر افراد ان لوگوں کی ہے جنہیں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے ذریعے زخمی کیا جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ حریت رہنماؤں کے 175 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 25 گھروں سمیت سمیت قیمتی اشیاء کو آتش گیر مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا، ایک خاتون کو بیوہ کیا، دو بچے یتیم ہوئے، 4 خواتین کے ریپ کے کیسز سامنے آئے۔

    دریں اثناء وادی بھر میں ہو کا عالم ہے، انٹر نیٹ، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں، ہسپتال ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیکل سٹوروں پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، انسانی بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے، 62 ویں روز بھی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر بھارتی فوج موجود ہے جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بزنس بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے۔

  • وزیراعظم کے بعد وزیر داخلہ نے کشمیریوں کے لیے اپیل کردی ، کیا ہے یہ اپیل خبر آگئی

    وزیراعظم کے بعد وزیر داخلہ نے کشمیریوں کے لیے اپیل کردی ، کیا ہے یہ اپیل خبر آگئی

    اسلام آباد:وزیراعظم کے بعد وزیر داخلہ نے کشمیریوں کے لیے اپیل کردی ، کیا ہے یہ اپیل خبر آگئی ، اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں عوام سے اپیل کی ہے کہ کل بروز جمعہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ یک جہتی کے لیے ریلیاں نکالی جائیں۔

    “کیسا ‌ظالم باپ ،اپنی ہی بیٹیوں‌ پر چھریاں چلادیں‌،ظالم باپ نے چھریاں چلانے کی وجہ بھی بتادی” لاک ہے

    کیسا ‌ظالم باپ ،اپنی ہی بیٹیوں‌ پر چھریاں چلادیں‌،ظالم باپ نے چھریاں چلانے کی وجہ بھی بتادی

    تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور ظلم کو کل 60 دن ہو جائیں گے، عوام ریلیاں نکال کر مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں۔کشمیر کی تحریک آزادی بہت جلد اپنی منزل حاصل کرنے والی ہے، انہوں‌نے کہا کہ کشمیری بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں‌

    “ایل ڈی اے نے نیاپاکستان ہاوسنگ پراجیکٹ کے لیے جگہ دینے سے انکار کیوں کردیا ، میاں محمود الرشید کا کردار بھی سامنے آگیا” لاک ہے

    ایل ڈی اے نے نیاپاکستان ہاوسنگ پراجیکٹ کے لیے جگہ دینے سے انکار کیوں کردیا ، میاں محمود الرشید کا کردار بھی سامنے آگیا

    کشمیر اور کشمیریوں کی ازادی کے لیے ہر پاکستانی اپنا کردار ادا کرے ، ہمیں‌اس وقت کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے، اعجاز شاہ کا کہنا تھا مودی سرکار کا شدت پسند چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، ہم ایک پرامن قوم ہیں اور حق کے لیے آواز اٹھانے کا شعور رکھتے ہیں، وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں بھی خطاب میں یہی پیغام دیا۔

    “ڈاکٹر شعیب سڈل نے72 سال بعد قائد اعظم کے بارے میں ایسے جملے کہہ دیئے کہ ہرکوئی حیران ہوگیا” لاک ہے

    ڈاکٹر شعیب سڈل نے72 سال بعد قائد اعظم کے بارے میں ایسے جملے کہہ دیئے کہ ہرکوئی حیران ہوگیا

  • مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 59 واں روز ، کشمیریوں پر بھارتی مظالم جاری ، مگر کب تک ؟

    مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 59 واں روز ، کشمیریوں پر بھارتی مظالم جاری ، مگر کب تک ؟

    مقبوضہ وادی میں کرفیو کا59 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،یاد رہے کہ بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے، سیّد علی گیلانی نے پولیس اہلکاروں کو کہا ہے کہ اپنے مادر وطن کو بچائیں جبکہ ایک اور امریکی خاتون کانگریس رہنما نے مظلوم کشمیریوں کیلئے آواز بلند کر دی ہے۔

    میں ہمیشہ شادی کے خیال سے بھاگتا تھا ، دوبول میں‌ مقبول ” حرا” ایک آئینہ ہے ، کس اداکار نے راز کی باتیں افشاں کردیں‌ ؟

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میںقابض فوج نے ضلع گندر بل میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران ایک نوجوان کو شہید کیا، ضلع میں شروع ہونیوالا آپریشن بھارتی قابض فوج کی طرف سے شروع کیا گیا ہے، ایک ہفتے قبل بھارتی قابض فوج نے اسی ضلع گندر بل اور ضلع رمبن میں کارروائی کرتے ہوئے 7 نوجوانوں کو شہید کیا۔ شہید ہونے والوں میں نوجوانوں کو گھروں میں تلاشی کے دوران شہید کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ کے مطابق بھارتی قابض فوج کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کے دوران گزشتہ ماہ ستمبر کے دوران 16 کشمیری شہری شہید ہوئے، زیر حراست نام نہاد ان کاؤنٹر کے ذریعے 6 نوجوانوں کو شہید کیا گیا، 281 کے قریب زخمی ہوئے، ان زخمیوں میں زیادہ تر افراد ان لوگوں کی ہے جنہیں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے ذریعے زخمی کیا جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ حریت رہنماؤں کے 157 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 25 گھروں سمیت سمیت قیمتی اشیاء کو آتش گیر مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا، ایک خاتون کو بیوہ کیا، دو بچے یتیم ہوئے، 4 خواتین کے ریپ کے کیسز سامنے آئے۔

    “یااللہ میری توبہ ! خطرناک گٹکے کے 3 لاکھ 62 ہزار 106 پیکٹس پکڑلیے گئے ، فوڈ اتھارٹی کی کامیاب کاروائی” لاک ہے

    یااللہ میری توبہ ! خطرناک گٹکے کے 3 لاکھ 62 ہزار 106 پیکٹس پکڑلیے گئے ، فوڈ اتھارٹی کی کامیاب کاروائی

    دوسری طرف بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کے عزم توڑنے کے لیے مزید دباؤ بڑھانے لگی ہے، بھارت کی خفیہ تحقیقاتی ادارے نے حریت رہنماؤں کو جعلی کیسز میں پھنسانے کے لیے ضمنی چارج شیٹ تیار کر لی ہے جن حریت رہنماؤں کے خلاف کیسز تیار کیے جا رہے ہیں ان میں حریت رہنما محمد یٰسین ملک، دختر ملت محترمہ آسیہ آندرابی، مسرت عالم بٹ شامل ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل کی انتظامیہ نے حریت رہنما یٰسین ملک کو غیر قانونی نظر بندی کیس میں انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا۔ ان پر سابق بھارتی وزیرداخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیا سعید کو اغواء کرنے کا نام نہاد الزام لگایا گیا ہے، دوسرا الزام بھارت کے چار سابق ایئر فورس کے اہلکاروں کو قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔

    “بریکنگ : پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، بزدار حکومت اقدامات کی بجائے اختیارات استعمال کرنے لگی” لاک ہے

    بریکنگ : پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ، بزدار حکومت اقدامات کی بجائے اختیارات استعمال کرنے لگی

    دریں اثناء وادی بھر میں ہو کا عالم ہے، انٹر نیٹ، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں، ہسپتال ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیکل سٹوروں پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، انسانی بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے، 58 ویں روز بھی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر بھارتی فوج موجود ہے جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بزنس بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ جنوبی کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں بدترین تشدد کے 19 کیسز سامنے لے آیا، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر میں 25 سالہ یاسین بھٹ 6 اگست کو رات گئے گھر سے نکلا، مرکزی سڑک پر اس نے درجنوں فوجی دیکھے۔ ایک فوجی نے کشمیر کی خود مختاری کی منسوخی سے متعلق اس کی رائے پوچھی، خوفزدہ بھٹ نے جواب میں اسے اچھا اقدام قرار دیا۔

    اس پر فوجی افسر نے کہا کہ جھوٹ نہ بولو، پھر اسے بیچ سڑک پر کپڑے اتارنے کا حکم دیا۔ کئی فوجیوں نے اسے زمین پر لٹایا اور موٹی تار سے اس کی کمر اور ٹانگوں پر ضربیں لگائیں۔ پھر اس کے سینے اور حساس اعضا پر تاریں رکھ کر انہیں بیٹری سے جوڑ دیا اور کرنٹ کے جھٹکوں سے اس کا برا حال کر دیا۔ بھٹ نے بتایا کہ اسے لگا کہ یہ اس کی زندگی کی آخری رات ہو گی۔

    یاسین بھٹ ان 19 افراد میں شامل ہے جن کے جنوبی کشمیر کے مختلف قصبوں و دیہات میں واشنگٹن پوسٹ نے انٹرویو کئے۔ ان سب نے کریک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوج پر تشدد کے ا لزامات لگائے۔ بھٹ سمیت دو افراد بھارتی فوج کی انتقامی کارروائی سے خوفزدہ مگر اپنے ساتھ ہونیوالا سلوک ریکارڈ پر لانا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے چھڑیوں، لوہے کے راڈ اور موٹے تاروں سے تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ بجلی کے جھٹکے بھی دیئے گئے، کئی کئی گھنٹے الٹا بھی لٹکایا گیا۔

    اخبار کے تشدد کا نشانہ بننے والوں کے اہل خانہ کے علاوہ عینی شاہدین سے بھی بات کی، چھ کیسز میں ہسپتال کے ریکارڈ یا زخمیوں کی تصاویر کا جائزہ بھی لیا۔ یاسین بھٹ کی تصویر میں کمر اور ٹانگوں پر گہرے زخمیوں کے نشان دیکھے۔ ترجمان بھارتی وزارت دفاع کرنل آنند نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہ کیا بلکہ تشدد کےواقعات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ واقعات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا

    وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا

    نئی دہلی :وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے بھارت کو بہت زخم دے دیئے ، بھارت نے اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دے دیا،بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی پالیسی کا اظہار کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے وزیر اعظم کے خطاب کے بعد ردعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کی فرسٹ آفیسر ودیشا میترا نے کہا کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں نفرت اور تشدد کو ہوا دی۔بھارتی مندوب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے جب ایک عالمی لیڈر نے اس فورم پر خون کی ندیاں، نسلی تعصب، ہتھیار اٹھانے، آخر تک لڑنے جیسے الفاظ استعمال کیے ہوں۔

    اھلاوسھلا :کامیاب سفارتقاری کے بعدوزیراعظم عمران خان وطن واپسی کیلئے نیویارک سے روانہ

    ودیشا میترا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گرد کیمپ موجود نہ ہونے کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے عالمی مبصرین کو اس ضمن میں دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے اب انہیں اپنے وعدے پر قائم رہنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ 21 ویں صدی اور مہذب معاشروں میں ایسے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    “بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب” لاک ہے

    بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب

    بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ کیا پاکستان اس کی تردید کر سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئی 25 تنظیموں اور 130 دہشت گردوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران امن کا پیغام دیا تاہم پاکستانی وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے ذریعے نفرت کی آگ کو بھڑکایا۔

    وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ، بھارت پر خوف کے سائے

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں لگ بھگ 50 منٹ تک خطاب کیا تھا۔ عمران خان نے ماحولیاتی تبدیلیوں، منی لانڈرنگ، اسلاموفوبیا اور کشمیر کے معاملے پر اظہار خیال کیا تھا،خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی جنگ شروع ہو گئی تو اس کا اثر پوری دنیا محسوس کرے گی۔

  • مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 57 واں روز۔بھارتی ظالم افواج نے 6 کشمیری شہید کردیئے ، جگہ جگہ جھڑپیں‌ اور مظاہرے جاری

    مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 57 واں روز۔بھارتی ظالم افواج نے 6 کشمیری شہید کردیئے ، جگہ جگہ جھڑپیں‌ اور مظاہرے جاری

    سری نگر : مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 57 واں روز۔بھارتی ظالم افواج نے 6 کشمیری شہید کردیئے ، جگہ جگہ جھڑپیں‌ اور مظاہرے جاری ، تفصیلات کےمطابق مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں میں گاندر بل اور رمبان ضلع میں چھ کشمیری شہریوں کو شہید کر دیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے گاندربل کے علاقے ناراناگ میں سرچ آپریشن کے دوران تین کشمیریوں کو شہید کر دیں۔ تین نوجوانوں کو جموں کے ضلع رامبن کے باٹوٹ علاقے میں شہید کیا گیا۔بھارتی فوج کا سرچ آپریشن ابھی جاری ہے۔

    بھارتی فوج نے جموں کے ضلع ڈوڈا میں بھی اسی طرح کا آپریشن شروع کیا ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد کشمیری گھروں سے باہر نکل آئے اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی.

     

    بھارت نے حملہ کرکے کشمیر پر قبضہ کیا ، اقوام متحدہ کی قراردادیں‌ بولتی ہیں‌کہ یہ قبضہ غلط ہے ، مہاتیر محمدکا جنرل اسمبلی میں خطاب

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے صورہ میں کشمیری نوجوانوں نے سڑکوں پر آ کر کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے، کشمیری نوجوانوں نے پاکستان کے پرچم اٹھا رکھے تھے مقبوضہ وادی میں کرفیو کا57 واں روز ہے اور عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،

    بھارتی فوج نے 5 اگست سے وادی میں، مارکیٹ، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھا ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے۔کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج نے6 کشمیری نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بناکر شہید کردیا۔وادی میں خوراک اور ادویات کا بحران سنگین ہوگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی زیر حراست معصوم بچوں کی تعداد تیرہ ہزار سے تجاوز کرگئی

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی قابض فوج نے ضلع گاندربل میں محاصرہ کیا اور گھر گھر تلاشی لی۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع ڈوڈا اور رام بن میں بھی بھارتی فوج کا محاصرہ اور گھر گھر تلاشی جاری ہے۔واضح رہے کہ آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل پچپن ویں روز بھی وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور بھارتی فورسز کی جبری پابندیاں جاری رہیں۔

    وزیراعظم پاکستان کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ، بھارت پر خوف کے سائے

    گذشتہ روز بھارتی فورسز کی کڑی پابندیوں کے باوجود کشمیری نماز جمعہ کے بعد سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی تسلط کے خلاف مظاہرہ کیا، مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔بھارتی فورسز نے مظاہرین پر پیلٹ گنوں سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے متعدد کشمیری زخمی ہوگئے۔

    مسلسل کرفیو کی وجہ سے زندگی ابتر ہو چکی ہے،مریض تڑپ رہے ہیں، بچے بلک رہے ہیں، ہسپتالوں میں دوائی موجود نہ بازاراروں سے کھانے پینے کی اشیا دستیاب، ہر طرف بھارتی درندے بندوقیں اٹھائے دندنا رہے ہیں، موبائل انٹرنیٹ ابھی تک بند ہیں۔ کاروبار زندگی معطل ہے۔

    کشمیری اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے، بھارتی فوج نے کپواڑا میں گھر پر دھاوا بول دیا اور سامان کی توڑ پھوڑ کی، پلواما میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے کرفیو نافذ ہے، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہے۔لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند ہے، تمام حریت اور سیاسی رہنماؤں کو گھر اور جیلوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔

    اھلاوسھلا :کامیاب سفارتقاری کے بعدوزیراعظم عمران خان وطن واپسی کیلئے نیویارک سے روانہ

    بھارتی فوج طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔ ہر گلی اور سڑک پر بھارتی فوج تعینات ہے، کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا، مارکیٹ، دکانیں، ٹرانسپورٹ بند ہیں، کمیونی کیشن سسٹم بند جبکہ ٹی وی چینلز تک رسائی نہیں، مودی سرکار بھارتی سیاسی رہنماؤں کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔