Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • بھارتی ناظم الامور حاضر ہوجائے، دفتر خارجہ طلبی

    بھارتی ناظم الامور حاضر ہوجائے، دفتر خارجہ طلبی

    اسلام آباد:بھارت پھر شرارت سے باز نہیں آرہا ، پاک فوج نے شرارت کی سزا بھی دے اور دوسری طرف بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرنے پر پاکستان نے بھارتی ناظم امور کو دفترخارجہ طلب کرلیا۔

    اسلام آباد سے ترجمان دفترخارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا، بھارتی فائرنگ سے بےگناہ شہریوں کی شہادت پر پاکستان نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔پاکستان نے بھارت کو پیغام بھی بھیج دیا ہے کہ وہ آئندہ ایسی کسی شرانگیزی سے باز رہے

    دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی اشتعال انگیزیوں کا بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔ اس قبل بھی متعدد بار بھارتی حکام پاکستان دفترخارجہ طلب کیے جاچکے ہیں، تاہم اس کے باوجود بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    بھارتی شرانگیزی کے ردعمل میں جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے شاہ کوٹ، نوسیری اور جوڑا سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس پر پاک فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 9 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک کردیے۔

    ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اس جوابی کارروائی میں دو بھارتی بنکرز تباہ اور کئی بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے۔ جبکہ بھارتی فائرنگ سے ایک جوان لانس نائیک زاہد اور 5شہری شہید گئے

  • کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر دنیا امن کو ترسے گی ، لندن کی فضاوں میں اعلان

    کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر دنیا امن کو ترسے گی ، لندن کی فضاوں میں اعلان

    لندن : کشمیرکے مسئلہ کا حل نہ ہوا تو پھر دنیا امن کو ترسے گی ، لندن میں کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، عالمی برادری کشمیر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔

    مسلم ہولوکاسٹ جموں 1947—از….انشال راؤ

    تفصیلات کے مطابق صدر آزاد کشمیر مسعود خان نے پاکستانی ہائی کمیشن لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر علاقائی امن کے لیے مستقل خطرہ ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانیہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ کشمیر کے تنازعے کو عالمی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔

    صادق سنجرانی صدر مملکت مقرر، نوٹی فکیشن جاری

    صدر آزاد کشمیر نے کہ عالمی ذرائع ابلاغ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور کرفیو کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کی یکطرفہ منسوخی کو مسترد کرتے ہوئے سول نافرمانی کی تحریک شروع کردی ہے۔

    مولانا فضل الرحمن مان گئے؟ اہم خبر آگئی

  • مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 77 واں دن،مظالم رکے نہیں، کشمیری تھکے نہیں،آزادی کی جنگ جاری

    مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 77 واں دن،مظالم رکے نہیں، کشمیری تھکے نہیں،آزادی کی جنگ جاری

    سری نگر: بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 77واں روز ہے، وادی میں تاحال زندگی مفلوج ہے۔11 ہفتے سے مسلسل لاک ڈاؤن سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔

    جدید اسلحے سے لیس بھارتی فوجی نہتے کشمیریوں سے خوفزدہ ہیں۔ قابض فوج نے سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں بلٹ پروف بنکرز تعمیر کرلیے۔ مختلف سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا۔

    مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک ہزاروں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں کے 132 طلبا اور اساتذہ نے مودی سرکار کو مقبوضہ وادی سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔لیکن مودی کی ظالم سرکار نے ان کی درخواست سننےکی بجائے اسے رد ی کی ٹوکری میں ڈال دیا

    خط میں کہا گیا تھا کہ تقریباََ 80 لاکھ کشمیری 2 ماہ سے لاک ڈاؤن کا شکار ہیں اور ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، موبائل فون اور انٹرنیت سروس بھی بند ہے۔عالمی ضمیر ابھی بھی بے حس ہے جو کشمیریوں کے ان مصائب پر نہ تو آواز بلند کر رہا ہے اور نہ ہی بھارت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عالمی برادری تاحال کشمیریوں کو جینے کا حق دلوانے میں ناکام ہے، کشمیری پانچ اگست سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

    اپوزیشن مطلب صرف اپوزیشن کرنا—از— انشال راؤ

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہےکشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 8ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔بھارتی فوج نے نو سال کے کم عمر بچوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے سے اب تک گرفتار افراد کی تعداد چالیس ہزار ہو سکتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو تین ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔پیلٹ گن سے زخمی کشمیری نوجوان گرفتاری کے خوف سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ مودی سرکار نے وادی میں چپے چپے پر فوج تعینات کررکھی ہے۔بھارتی فوج گھر سے نکلنے والے کشمیریوں کو گولی مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ کشمیری ہسپتال، سکول اور کام پر نہیں جا سکتے۔ وادی میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔

    صادق سنجرانی صدر مملکت مقرر، نوٹی فکیشن جاری

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کو شاٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمی کشمیری گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے۔قابض فوج گرفتار کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ وادی میں حالات نارمل ہونےکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔

    بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے باعث تین اور نوجوان شہید ہوچکے ہیں‌، ستمبر کے دوران 16 نوجوان شہید ہوئے، بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے،

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نےکارروائیوں کے دوران پچھلے چار دنوں میں‌ 7 نوجوانوں کو شہید کیا۔ شہید ہونے والوں میں نوجوانوں کو گھروں میں تلاشی کے دوران شہید کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ کے مطابق بھارتی قابض فوج کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کے دوران زیر حراست نام نہاد ان کاؤنٹر کے ذریعے 7 نوجوانوں کو شہید کیا گیا، 480 کے قریب زخمی ہوئے، ان زخمیوں میں زیادہ تر افراد ان لوگوں کی ہے جنہیں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے ذریعے زخمی کیا جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ حریت رہنماؤں کے 213 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 32 گھروں سمیت سمیت قیمتی اشیاء کو آتش گیر مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا، 6 خواتین کو بیوہ کیا، 25 بچے یتیم ہوئے، 9 خواتین کے ریپ کے کیسز سامنے آئے۔

    مولانا فضل الرحمن مان گئے؟ اہم خبر آگئی

    دریں اثناء وادی بھر میں ہو کا عالم ہے، انٹر نیٹ، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں، ہسپتال ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیکل سٹوروں پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، انسانی بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے،77 ویں روز بھی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر بھارتی فوج موجود ہے جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بزنس بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے۔

     

    ادھر آج وفاقی دارالحکومت میں کشمیر ملین مارچ ہورہا ہےہیں جہاں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لوگ ڈی چوک جمع ہونے شروع ہوچکے ہیں، سکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں طالب علم بھی اظہاریکجہتی کررہے ہیں، اس کشمیر ملین مارچ میں دنیا کا سب سے بڑا جھنڈا بھی لہرایا جارہاہے، جو کہ کم از کم 5 کلومیٹر لمبا ہے،

     

     

  • کشمیر کانفرنس، ملین مارچ کرکے بھارت کو پیغام کا وقت آگیا،ڈاکٹرسیدمجاہدگیلانی

    کشمیر کانفرنس، ملین مارچ کرکے بھارت کو پیغام کا وقت آگیا،ڈاکٹرسیدمجاہدگیلانی

    اسلام آباد:کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام گورنمنٹ کالج ایف 10 اسلام آباد میں کشمیر کانفرنس، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر ملین مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔

    ذرائع کے مطابق کشمیر یوتھ الائنس کی طرف سے کشمیر ملین مارچ کے حوالے سے تفیصلات بتائی گئی ہیں ان کے مطابق اس میں 2ہزار کے قریب نوجوان شرکت کریں گے ،ذرائع کے مطابق اس میں ملک بھر کی 42 یونیورسٹیوں کے 1500سے زائد وفود شرکت کریں ، گللگت بلتستان اور کشمیر سمیت چاروں صوبوں سے نمائندگی بھی ہوگی جس میں بڑی تعداد میں نوجوان اکٹھے ہوں گے ، پوری دنیا کو امن کا پیغام دیں گے ، کشمیر کے لیے امن ریلی بھی منعقد کی جائے

    جس میں بھارتی فوج کے نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم اور دو ماہ سے زائد کرفیو کی توجہ بے حس دنیا اور نام نہاد انسانی حقوق کے علم بردارون کی توجہ مبذول کرانے کے لئے 20اکتوبر دن ڈیڑھ بجے Dچوک اسلام آباد میں یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں ایک عظیم الشان‘‘کشمیر ملین مارچ’’کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں کشمیر یوتھ الائنس، سول سوسائٹی، اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات شرکت کریں

  • بھارتی خفیہ ایجنسیاں کشمیری رہنماوں کو غائب کرنے لگیں

    بھارتی خفیہ ایجنسیاں کشمیری رہنماوں کو غائب کرنے لگیں

    سری نگر: بھارتی خفیہ ایجنسیاں کشمیری رہنماوں کو غائب کرنے لگیں ، اطلاعات کے مطابق بھارتی افواج کی طرف سے کشمیری حریت رہنماوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقامات پر پہنچاکر خوف و ہراس پھیلارہی ہیں‌ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈین سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے حریت رہنما جاوید احمد میر کو سری نگر سے گرفتار کرلیا جبکہ جامع مسجد میں مسلسل گیارھویں ہفتے بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سی بی آئی نے جاوید احمد میر کو گھر میں چھاپے کے دوران گرفتار کیا اور مقبوضہ وادی سے لے کر گئے۔سی بی آئی نے جاوید احمد میر کو 25 جنوری 1990 کو سری نگر کے مضافات میں ایک حملے میں بھارتی فضائیہ کے 4 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے ایک جعلی مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘جاوید احمد میر کو آئی اے ایف اہلکار کے قتل میں گرفتار کرلیا گیا ہے اور انہیں جموں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے’جاوید میر کے علاوہ کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو متعدد جعلی مقدمات میں بھارتی قابض فورسز نے نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں قید کر رکھا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی بی آئی کی درخواست پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہائی کورٹ نے رواں برس 13 مارچ کو مذکورہ مقدمے کے علاوہ 8 دسمبر 1989 کو اس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے کو منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔

    خیال رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کو بھارتی اقدامات کے ساتھ ہی پوری سیاسی قیادت کو غیر قانونی طور پر گرفتار یا نظر بند رکھا گیا ہے جس میں سابق وزرا اعلیٰ فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے علاوہ حریت رہنما بھی شامل ہیں۔

    سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کے علاوہ حریت کانفرنس کے ہزاروں کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن میں سیکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔یہ بھی معلوم ہواہےکہ دوردراز علاقوں سے بھی کشمیری نوجوانوں کی گرفتار کیا جارہا ہے

  • کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

    خبر اور تصاویر گردش میں ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے شہر کٹھوعہ میں بھارتی ریاستی جبر کیخلاف کشمیریوں نے سیبوں پر نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    تفصیلات کچھ یہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر، مہینوں پر محیط جاری لاک ڈاؤن اور مکمل تاریکی کے ماحول میں مظلوم کشمیریوں نے مزاحمت کے اظہار کا نیا راستہ اختیار کرتے ہوئے سیبوں پر بھارت مخالف اور پاکستان کے حق میں نعرے لکھ کر بھارت بھیج دیئے۔

    وقوعہ کے مطابق تاجروں کو حالیہ موصول ہونیوالے سیبوں پر جو نعرے لکھے گئے تھے ان میں

    "ہم کیا چاہتے آزادی”،

    "میری جان عمران خان”،

    "پاکستان زندہ باد”،

    "میں برہان وانی سے محبت کرتا ہوں”،

    "موسیٰ واپس آجاؤ شامل ہیں”،

    "جس نے ہلچل مچا دی ہے”۔

    ایک مقامی تاجر کے مطابق جب وہ صبح فروٹ منڈی گئے اور وہاں سے سیب لے کر آئے اور لڑکوں کو دکان پر سیب لگانے کو کہا تو جب انہوں نے سیبوں کے کریٹ کھولے تو ان پر نعرے لکھے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے فروٹ منڈی اور پورے بازار میں دہشت اور خوف کا ماحول بنا ہوا ہے، جس سے خریداروں کا رش کم ہو گیا ہے۔

    یہ تو تھی خبر اور اس کی تفصیل جس کو ہم نے من حیث القوم بلکل لائٹ موڈ پر لیا جیسے ستر سالوں سے ہم کشمیر کو لائٹ موڈ پر لے رہے ہیں پر صاحبان ذرا تصور کیجیئے کہ آپ کا مکمل سماجی, سیاسی اور سفارتی ناطقہ بند ہو اور آپ کو اپنی آواز دنیا کی سماعتوں تک پہنچانی ہو تو کیسے کیسے جتن کرنے پڑتے ہیں اور کتنی بے بسی اور معذوری دیکھنی پڑتی ہے۔

    کشمیری ہمارے بغیر ایک شاندار زندگی کے مزے لینا چاہیں تو ان کے لیئے یہ بات چنداں مشکل نہیں کہ وہ بھارت کو بخوشی تسلیم کرکے اس کا حصہ بن جائیں اور خصوصی مراعات سے کم از کم ان کی ایک سے دو نسلیں دنیا میں فیضیاب ہوجائیں پر ایسا نہ تو ہوا ہے اور نہ ہورہا ہے باوجود بھارت اور اسکے تمام دیدہ و نادیدہ ہمنواؤں کی محنت سے۔ ۔ ۔

    کیوں؟

    پاکستان آکر پتہ چلاکہ خاندان کیا ہوتا ہے ،شہزادی کیٹ

    کیونکہ اسلام اور پاکستان کے رشتے سے وہ خود کو کشمیری بعد میں جبکہ مسلمان اور پاکستانی پہلے تسلیم کرتے, کرواتے اور کہلواتے ہیں۔

    —کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں,

    —ان کے کفن سبز ہلالی پرچم میں ڈھکے جاتے ہیں اور ان کی قبروں پر وہی پرچم لہرائے جاتے ہیں,

    —ان کی عید شبرات رمضان نیا سال سب ہمارے فیصلوں اور اعلانات سے مشروط ہے,

    —ان کی ہر نظر پاکستان کی معاشی, اقتصادی, دفاعی اور سفارتی اڑان پر ہے,

    —ان کے لبوں پر آزادی کے نعرے اور دعائیں بعد میں لیکن پاکستان کے استحکام اور اس کی مضبوطی کے نعرے اور دعائیں اول ہیں,

    —کشمیری ہماری خوشیوں میں خوش اور ہمارے غموں میں غمگین ہوتے ہیں,

    —جتنا پاکستان ہمارا ہے اتنا ہی پاکستان کشمیریوں کا ہے جو اس کا اظہار جموں و کشمیر کی گلی گلی میں اپنے لہو کی قربانی دے کر کرتے ہیں۔

    کتنا دل دکھا اور آپ پزمردہ ہوئے اس خبر کو پڑھ سن کر کہ کشمیری اپنی بے بسی کے باوجود ہم سے محبت, بھائی چارے, امید, یقین اور یکجہتی کا اظہار کے لیئے سیبوں کا استعمال کررہے اور دنیا کو واضح پیغام دے رہے کہ کشمیر کل بھی پاکستان تھا, آج بھی پاکستان ہے اور کل بھی پاکستان ہی رہے گا ان شاء ﷲ بیشک ہندو غاصب فوج جتنا مرضی دبالے اور منہ بند کردے۔

    مولانا فضل الرحمن کی نگری”ملازئی ” میں 14 افراد دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے

    سیبوں پر لکھے نعرے اور محبت نامے تو بھارت اور دنیا کو بتانے اور سنانے کے لیئے تھے کہ بھارت اور دنیا جان لے کہ

    "کسی غلط فہمی میں مت پڑنا ہم مرتے دم تک پاکستان اور آزادی کی کوہار بلند کرتے رہیں گے”۔

    جبکہ سیب۔ ۔ ۔

    مجسم سیب کشمیریوں کا پاکستان اور امت مسلمہ کے پڑھے لکھے, انٹلیکچوئیل اور ٹیلینٹڈ نوجوانوں بلخصوص ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو واضح اور صاف صاف پیغام ہے کہ

    "بھائیو ہم تو اپنے حصے کی محنت اور مشقت کر رہے ہیں, ہم تو ایسی سخت صورتحال میں بھی اپنی آواز بلند کررہے ہیں خواہ ایپل (سیب) کا آئی فون نہیں ہاتھ میں پر اللہ کی نعمت سیب (ایپل) کو اپنا ذریعہ مواصلات بنا کر آزادی آزادی, پاکستان پاکستان اور عمران عمران کررہے ہیں تاکہ دنیا جان لے کہ ہمارے مقصد میں ایک انچ بھی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ہم پہلے سے زیادہ پر عزم اور پرجوش ہیں۔

    دوستو تمہارے لیئے تو ہماری آواز بننا اور دنیا کو جگانا مشکل نہیں کہ تمہارے پاس آزادی اور ایپل آئی فونز وغیرہ ہیں کہ ہم تو سیبوں تک محدود ہوکر بھی بھارت اور دنیا کو حریت کی آواز سنا رہے اور بھارتیوں کا سینہ جلا رہے اور ان کو خوف ذدہ کررہے ہیں تو تم بھی مایوس مت ہونا اور ہمیں بھولنا مت کہ ہم تو ہاتھ, منہ, کان اور زبان بندی کے باوجود تمہیں نہیں بھولے اور ہمارا یہ نعرہ سر بلند ہے کہ ہم کیا چاہتے آزادی اور پاکستان زندہ آباد لہذا اپنے اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز کا وہی استعمال کرو جو ہم یہاں اپنے باغات کے ایپلز کا کررہے۔”

    واللہ مجھے تو سیبوں پر لکھے نعرے پڑھ کر کشمیریوں کی اس ادا پر پیار اور ترس آیا لیکن سیب دیکھ کو شرمندگی ہوئی کہ دیکھو وہ بیچارے کس طرح ہماری خاطر کیسے کیسے حربے اختیار کررہے اور ہم یہاں اپنی سیاسی و مسلکی اور عصبی بحثوں میں الجھ کر انہیں فراموش کیئے جارہے ہیں۔

    ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    کشمیر کے سیب پاکستانی نوجوانوں کو سیکھ اور سبق دے رہے وہ بلکل واضح ہے کہ حق اور حریت کی آواز بلند کرنی ہو تو وسائل کوئی مسئلہ نہیں جن کا رونا رویا جائے بلکہ حق اور حریت تو سیبوں کے ذریعے بھی بیان کیئے جاسکتے ہیں۔

    صاحبان کشمیری حریت پسند پاکستانیوں نے تو اپنے باغات کے سیبوں (ایپلز) کا استعمال کرلیا اور دنیا کو پیغام دے دیا, اب ہمارے باری ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں میں موجود ایپلز (سیب) کا جارحانہ استعمال کریں کشمیریوں کی آواز بننے کے لیئے۔

    یاد رہے کہ ستر سالوں کی کسک ہے یہ کوئی دو چار مہینےکی بات نہیں, کشمیری پاکستان کے نام پر جیتے ہیں اور پاکستان کے نام پر مرتے ہیں, وہ سبز ہلالی پرچم کی حرمت ہم سے زیادہ جانتے ہیں تو اے پاکستانیوں اب تم بھی ان کے خون کی حرمت سمجھو اور خدارا تیرے میرے کی سیاست سے نکل کر کشمیریوں کی آواز بنو۔

    آزادیات

    کشمیر, تحریک آزادی اور ایپل (سیب)۔ ۔ ۔از بلال شوکت آزاد

  • بہت جلد کشمیری بھارت سے آزادی حاصل کرلیں گے ، یکجہتی کشمیرکانفرنس سے قائدین کا خطاب

    بہت جلد کشمیری بھارت سے آزادی حاصل کرلیں گے ، یکجہتی کشمیرکانفرنس سے قائدین کا خطاب

    اسلام آباد : ہم سب کشمیری ہیں اور کشمیر ہمارا ہے ، بھارت یہ بھول جائے کہ ہم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بدلہ نہیں لیں گے ، بہت جلد کشمیر آزاد ہونے والا ہے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام یکجتی کشمیر کانفرنس سے ملی قائدین نےکیا

    فیصل واڈا کو ترس آگیا

    اسلام آباد میں ہونے والی یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر سردار فاروق حیدر نے کہا کہ بھارت تحریک آزادی کودبانا چاہتا ہے لیکن وہ نامراد لوٹے گا ، کشمیری کبھی بھی بھارت کی غلامی کو قبول نہیں کریں گے ، سردار فاروق حیدر نے کہا کہ اگر یہی کوششیں پہلے کی ہوتی تو آج تک کشمیر آزاد ہوچکا ہوتا ، وزیراعظم عمران خان نے سفیر کشمیر بن کر پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے

    وزیراعلٰی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن نے اپنی تقریر میں کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو ہتھیانے کے بعد گلگت بلتستان کی طرف دیکھ رہا ہے لیکن بھارت کو شاید یہ علم نہیں کہ اس نے کشمیریوں کو آزادی دلانے میں خود ہی ان کی مدد کردی بہت جلد بھارت کشمیر سے رسوا ہوکر نکلے گا

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیری اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں ساری پاکستانی قوم ان کی آزادی کے لیے کوشاں ہے ، وزیراعظم نے کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کرکے بہت اچھا کیا ،ہم کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی مدد جاری رکھیں گے

    تحریک نوجوان پاکستان و کشمیر کے چیئرمین عبداللہ گل نے اپنی تقریر میں‌کہا کہ بھارت بہت جلد کشمیر کو اپنے ہاتھ سےکھودے گا آج سارے کشمیری بھارتی مظالم کےخلاف اکھٹے ہوگئے ہیں‌، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپنی کوششیں‌جاری رکھیں قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے ،

    14-اکتوبر1092یوم وفات نظام الملک طوسی—-از— تاریخ کے سنہری اوراق سے

    یکجہتی کشمیر کانفرنس سے دیگر خطاب کرنے والوں میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد میں یکجہتی کشمیرکانفرنس کل ہوگی ، ،صدرملی یکجہتی کونسل ابوالخیرزبیر،، سید ضیا للہ شاہ بخاری ، علامہ ساجدنقوی ،راجہ ناصرعباس،لیاقت بلوچ ،حافظ عاکف سعید، پیر عبدالرحیم نقشبندی، مولانا عبدالمالک،پیرہارون علی گیلانی،عبدالرشید ترابی، مولانا عبدالغفارروپڑی، سمیت دیگرمذہبی وسیاسی قائدین نے خطاب کیا اور کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عہد بھی کیا

  • مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    مقبوضہ کشمیر: کرفیوکا 71 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم ، کشمیریوں کی مزاحمت جاری

    سری نگر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 71 واں روز ہے، وادی میں اسکول کالج تجارتی مراکز بند ہیں، مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے۔اطلاعات کے مطابق فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے، کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، بزدل قابض فوج نے کشمیریوں کو 71 روز سے گھروں میں بند کررکھا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض علاقوں میں بھارتی فوج کشمیریوں کو ان کے گھرروں سے نکال کر شناخت پریڈ کروا رہی ہے ، اس کی وجہ یہ سامنے آئی ہےکہ فوج پر کشمیریوں کی طرف سے حملوں میں تیزی آگئی ہے

    ترک افواج نے 500 سے زائد کردباغی ماردیئے

    ذرائع کے مطابق آج بھی سارا دن مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ کشمیریوں نے بھارتی افواج کے مظالم کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے بھرپور مزاحمت کی ہے، مقبوضہ وادی میں اسکول، کالج، تجارتی مراکز بند، ٹرانسپورٹ سروس معطل ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔غدا کی قلت، بھوک سے بلکتے بچوں اور مریضوں کی اکھڑتی سانسوں سے مجبور کشمیری باہر نکلیں تو ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری رہنماؤں، نوجوانوں سمیت بچے بھی جیلوں میں قید ہیں، 3 ماہ سے کشمیریوں کو نمازجمعہ مساجد میں ادا کرنے نہیں د ی جا رہی۔

    مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کی جانب سے تمام کمشیری نوجوانوں کی یہ پیغام دیا جارہا ہےکہ گھبرائیں نہیں منزل بہت قریب ہے بھارت نے جو ظلم کیا ہے وہ اسے برداشت کرنا پڑے گا ۔دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حیران ہوں عالمی میڈیا ہانگ کانگ احتجاج کی کوریج کر رہا ہے کشمیرکی نہیں۔انہوں نے کہا کہ 3 ماہ سے کشمیرمیں مواصلاتی نظام کا مکمل بلیک آؤٹ ہے، کشمیری رہنماؤں ، بچوں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں میں ہیں۔

    رواں ماہ کے آخر میں زندگی کا اہم اعلان کروں گا‘‘حمزہ علی عباسی

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے.ملیحہ لودھی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بند کیے گئے مواصلاتی نظام کی قیمت بیماروں کو کس طرح ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

    دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تین ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 70 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا 70 واں روز، نظام زندگی مفلوج،ظلم وتشدد جاری

    سری نگر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 70 واں روز ہے، وادی میں اسکول کالج تجارتی مراکز بند ہیں، مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے۔اطلاعات کے مطابق فاشسٹ مودی حکومت نے جنت نظیر وادی کشمیر کو جیل میں بدل دیا ہے، کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، بزدل قابض فوج نے کشمیریوں کو 70 روز سے گھروں میں بند کررکھا ہے۔

    جناب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نسل پرستی کے سخت خلاف تھے،عیسائی مفکر

    مقبوضہ وادی میں اسکول، کالج، تجارتی مراکز بند، ٹرانسپورٹ سروس معطل ہے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔غدا کی قلت، بھوک سے بلکتے بچوں اور مریضوں کی اکھڑتی سانسوں سے مجبور کشمیری باہر نکلیں تو ان پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری رہنماؤں، نوجوانوں سمیت بچے بھی جیلوں میں قید ہیں، 3 ماہ سے کشمیریوں کو نمازجمعہ مساجد میں ادا کرنے نہیں د ی جا رہی۔

    مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کی جانب سے بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی کال دی گئی ہے۔دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حیران ہوں عالمی میڈیا ہانگ کانگ احتجاج کی کوریج کر رہا ہے کشمیرکی نہیں۔انہوں نے کہا کہ 3 ماہ سے کشمیرمیں مواصلاتی نظام کا مکمل بلیک آؤٹ ہے، کشمیری رہنماؤں ، بچوں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں میں ہیں۔

    سسکتی وادی کشمیر کا واحد مسیحا پاکستان ہے‘ ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی

    دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔ وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے.ملیحہ لودھی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بند کیے گئے مواصلاتی نظام کی قیمت بیماروں کو کس طرح ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

    چونیاں: درندہ صفت انسان نے خود ہی حقائق سے پردے اٹھادیئے

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل تین ماہ سے جاری کرفیو کے دوران موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو 3 ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah